আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২ টি

হাদীস নং: ১২০৯৫
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز کی تعریف اور اس کی پہچان اور اس پر گواہ مقرر کرنا
(١٢٠٩٠) معاویہ بن عبداللہ (رض) کو ان کے والد نے خبر دی کہ وہ شام کے ایک راستے میں اترے وہاں ایک تھیلی پانی جس میں ٨٠ دینار تھے انھوں نے حضرت عمر (رض) کے سامنے ذکر کیا، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مسجد کے دروازوں پر اس کا اعلان کرو اور جو شام سے آئے ایک سال تک اسے بھی بتاؤ، پس جب ایک سال گزر جائے تو وہ تیرے لیے ہے۔
(۱۲۰۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ مُوسَی عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بَدْرٍ أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہ : أَنَّہُ نَزَّلَ مَنْزِلاً بِطَرِیقِ الشَّامِ فَوَجَدَ صُرَّۃً فِیہَا ثَمَانُونَ دِینَارًا فَذَکَرَ ذَلِکَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : عَرِّفْہَا عَلَی أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ وَاذْکُرْہَا لِمَنْ یَقْدَمُ مِنَ الشَّامِ سَنَۃً فَإِذَا مَضَتِ السَّنَۃُ فَشَأْنَکَ بِہَا۔

[ضعیف۔ مالک ۱۴۸۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৯৬
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلان کی مدت کا بیان

سلمہ بن کہیل والی روایت دلالت کرتی ہے کہ تین سال تک اعلان کرو۔ شعبہ کہتے ہیں : میں سلمہ سے مکہ میں ملا اس کے بعد انھوں نے کہا : میں نے نہیں جانتا کہ ایک سال ہے یا تین سال۔
(١٢٠٩١) سلمۃ بن کہیل فرماتی ہیں : میں نے سوید بن غفلہ سے سنا کہ میں غزوہ میں تھا، مجھے ایک کوڑا ملا، میں نے اسے پکڑ لیا۔ مجھے زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نے کہا : اسے پھینک دو ۔ میں نے انکار کر دیاہم نے غزوہ مکمل کیا، پھر میں نے حج کیا اور میں مدینہ سے گزرا تو مجھے ابی بن کعب ملے۔ میں نے یہ قصہ ذکر کیا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سود ینار کی تھیلی ملی، میں وہ لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ آپ نے مجھے کہا : ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ میں نے ایک سال تک اعلان کیا، لیکن میں نے ایسا کوئی نہ پایا جو اسے پہچان لیتا۔ پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ نے کہا : ایک سال اس کا اعلان کرو، میں نے ایسا ہی کیا، پھر واپس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ نے کہا : ایک سال اور اعلان کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا پھر واپس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیاچوتھی دفعہ تو آپ نے کہا : ان کو شمار کرو اور اس کے بندھن کو اچھی طرح یاد کرلو۔ اگر اس کا مالک آئے تو دے دینا ورنہ اس سے فائدہ اٹھا۔ سلمہ کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ آپ نے تین دفعہ اعلان کا کہا یا ایک دفعہ۔
(۱۲۰۹۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ قَالَ سَمِعْتُ سُوَیْدَ بْنَ غَفَلَۃَ یَقُولُ : غَزَوْتُ أَنَا وَزَیْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِیعَۃَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُہُ فَقَالاَ لِی : أَلْقِہِ فَقُلْتُ : لاَ وَلَکِنِّی أُعَرِّفُہُ فَإِنْ وَجَدْتُ مَنْ یَعْرِفُہُ وَإِلاَّ اسْتَمْتَعْتُ بِہِ فَأَبَیْتُ عَلَیْہِمَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مَنْ غَزَاتِنَا قُضِیَ لِی أَنِّی حَجَجْتُ فَأَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ فَلَقِیتُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَأَخْبَرْتُہُ بِشَأْنِ السَّوْطِ وَبِقَوْلِہِمَا فَقَالَ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ : وَجَدْتُ صُرَّۃً فِیہَا مِائَۃُ دِینَارٍ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : عَرِّفْہَا حَوْلاً ۔ فَعَرَّفْتُہَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ یَعْرِفُہَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ : احْفَظْ عَدَدَہَا وَوِکَائَ ہَا وَوِعَائَ ہَا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَإِلاَّ فَاسْتَمْتِعْ بِہَا ۔ قَالَ شُعْبَۃُ فَلَقِیتُ سَلَمَۃَ بَعْدَ ذَلِکَ فَقَالَ : لاَ أَدْرِی ثَلاَثَۃَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلاً وَاحِدًا فَأَعْجَبَنِی ہَذَا الْحَدِیثُ فَقُلْتُ لأَبِی صَادِقٍ : تَعَالَ فَاسْمَعْہُ مِنْہُ۔

وَرَوَاہُ بَہْزُ بْنُ أَسَدٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ قَالَ شُعْبَۃُ : فَسَمِعْتُہُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِینَ یَقُولُ : عَرِّفْہَا عَامًا وَاحِدًا۔

[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৯৭
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلان کی مدت کا بیان

سلمہ بن کہیل والی روایت دلالت کرتی ہے کہ تین سال تک اعلان کرو۔ شعبہ کہتے ہیں : میں سلمہ سے مکہ میں ملا اس کے بعد انھوں نے کہا : میں نے نہیں جانتا کہ ایک سال ہے یا تین سال۔
(١٢٠٩٢) صحیح مسلم میں عبدالرحمن سے روایت ہے کہ سلمہ بن کہیل کو شک تھا، پھر ان کو یاد آگیا، پھر وہ ایک سال پر ثابت قدم رہے۔
(۱۲۰۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا بَہْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ فَذَکَرَہُ

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَکَأَنَّ سَلَمَۃَ بْنَ کُہَیْلٍ کَانَ یَشُکُّ فِیہِ ثُمَّ تَذَکَّرَہُ فَثَبَتَ عَلَی عَامٍ وَاحِدٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৯৮
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلان کی مدت کا بیان

سلمہ بن کہیل والی روایت دلالت کرتی ہے کہ تین سال تک اعلان کرو۔ شعبہ کہتے ہیں : میں سلمہ سے مکہ میں ملا اس کے بعد انھوں نے کہا : میں نے نہیں جانتا کہ ایک سال ہے یا تین سال۔
(١٢٠٩٣) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو ایک دینار ملا، وہ حضرت فاطمہ (رض) کے پاس لے کر آئے۔ اس نے کہا : یہ رزق ہے جو ہمیں اللہ نے دیا ہے۔ اللہ کے لیے تعریف ہے، اس کے ساتھ گوشت اور کھانا خرید لاعلی (رض) کھانا خرید لائے۔ پھر فاطمہ سے کہا : اپنے باپ (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کو اس کی خبر دو ۔ اگر وہ حلال سمجھیں تو ہم کھا لیں گے، جب انھوں نے کھانا بنایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلایا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو انھوں نے آپ سے یہ ذکر کیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اللہ کا رزق ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کھایا اور انھوں نے بھی کھایا ۔ اس کے بعد ایک عورت آئی، وہ ایک دینار گم کر بیٹھی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! دینار اسے دے دو ۔
(۱۲۰۹۳) وَأَمَّا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَیْرَ بْنَ الأَشَجِّ حَدَّثَہُ أَنَّ عُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ مِقْسَمٍ حَدَّثَہُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَجَدَ دِینَارًا فَأَتَی بِہِ فَاطِمَۃَ عَلَیْہِا السَّلاَمُ فَقَالَتْ : ہَذَا رِزْقُ رَزَقَنَا اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِلَّہِ الْحَمْدُ فَاشْتَرِ بِہِ لَحْمًا وَطَعَامًا فَہَیَّأَ طَعَامًا فَقَالَ لِفَاطِمَۃَ عَلَیْہَا السَّلاَمُ : أَرْسِلِی إِلَی أَبِیکِ فَتُخْبِرِیہِ فَإِنْ رَآہُ حَلاَلاً أَکَلْنَا بِہِ فَلَمَّا صَنَعُوا طَعَامًا دَعَوْا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمَّا أَتَی ذَکَرُوا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہُوَ رِزْقُ اللَّہِ ۔ فَأَکَلَ مِنْہُ وَأَکَلُوا فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ أَتَتِ امْرَأَۃٌ تَنْشُدُ الدِّینَارَ أَنْشُدُ اللَّہَ الدِّینَارَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا عَلِیُّ أَدِّ الدِّینَارَ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৯৯
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلان کی مدت کا بیان

سلمہ بن کہیل والی روایت دلالت کرتی ہے کہ تین سال تک اعلان کرو۔ شعبہ کہتے ہیں : میں سلمہ سے مکہ میں ملا اس کے بعد انھوں نے کہا : میں نے نہیں جانتا کہ ایک سال ہے یا تین سال۔
(١٢٠٩٤) سہل بن سعید نے خبر دی کہ حضرت علی (رض) فاطمہ، حسن، حسین کے پاس گئے، وہ دونوں رو رہے تھے، پوچھا : یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں ؟ فاطمہ (رض) نے بتایا : بھوک کی وجہ سے۔ حضرت علی (رض) گھر سے نکلے، بازار میں سے ایک دینار مل گیا، پھر فاطمہ کے پاس آئے، اسے خبر دی، فاطمہ (رض) نے کہا : فلاں یہودی کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے آٹا لے کر آؤ ۔ وہ یہودی کے پاس آئے اس سے آٹا خریدا۔ یہودی نے کہا : تو اس شخص کا داماد ہے جو گمان کرتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے ؟ حضرت علی (رض) نے کہا : ہاں اس نے کہا : دینار بھی لے جاؤ اور آٹا بھی۔ حضرت علی (رض) نکلے اور فاطمہ کے پاس آئے، اسے بتایا، فاطمہ نے کہا : فلاں قصاب کے پاس جاؤ اور درہم کا ہمارے لیے گوشت لے کر آؤ وہ گئے اور دینار ایک درہم گوشت کے بدلے گروی رکھا اور گوشت لے کر آئے، فاطمہ نے آٹا گوندھا اور روٹی پکائی۔ پھر اپنے اباجان (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کو بلایا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے پاس آئے۔ حضرت علی (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں آپ کو بتاتا ہوں اگر آپ ہمارے لیے حلال خیال کریں گے تو ہم کھا لیں گے اور آپ بھی کھا لینا معاملہ بیان کیا، آپ نے فرمایا : اللہ کے نام کے ساتھکھاؤ، میں نے کھایا، وہ ابھی اسی جگہ پر تھے کہ ایک غلام دینار گم ہونے کی صدا لگا رہا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اسے بلایا گیا، اس سے سوال کیا گیا : اس نے کہا : بازار میں میرا دینار گرگیا تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اے علی قصاب کے پاس جاؤ۔ اسے کہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیرے لیے کہا ہے کہ دینار واپس کر دو اور تیرا درہم مجھ پر ہے۔ میں نے دینار بھیج دیاتو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ دینار اسے دے دیا۔

شیخ فرماتے ہیں : علی (رض) والی حدیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ علی (رض) نے اسے اعلان سے پہلے ہی خرچ کرلیا تھا، اور ایک دوسری روایت میں حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا اعلان کرنے کا حکم دیا لیکن کوئی بھی پہچان نہ سکا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کھانے کا حکم دیا اور روایت کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ اس وقت اس کا اعلان کرنا شرط ہے اور ایک سال گزرنے سے پہلے اس کا کھانا جائز ہے اور وہ احادیث جو ایک سال کی شرط کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کہ کھانا جائز ہے زیادہ صحیح ہیں اور یہی اولیٰ ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان کا کھانا مباح ہے۔ ایک سال گزرنے سے پہلے مجبوری کی وجہ سے اور یہ قصہ اسی پر دلالت کرتا ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ تھوڑی چیز پر سال گزرنے کی شرط نہ ہو۔
(۱۲۰۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ یَعْقُوبَ الزَّمَعِیُّ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ دَخَلَ عَلَی فَاطِمَۃَ وَحَسَنٌ وَحُسَیْنٌ عَلَیْہِمُ السَّلاَمُ یَبْکِیَانِ فَقَالَ : مَا یُبْکِیہِمَا؟ قَالَتِ : الْجُوعُ فَخَرَجَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَوَجَدَ دِینَارًا بِالسُّوقِ فَجَائَ إِلَی فَاطِمَۃَ عَلَیْہَا السَّلاَمُ فَأَخْبَرَہَا فَقَالَتِ : اذْہَبْ إِلَی فُلاَنٍ الْیَہُودِیِّ فَخُذْ لَنَا دَقِیقًا فَجَائَ الْیَہُودِیَّ فَاشْتَرَی بِہِ دَقِیقًا فَقَالَ الْیَہُودِیُّ : أَنْتَ خَتَنُ ہَذَا الَّذِی یَزْعُمُ أَنَّہُ رَسُولُ اللَّہِ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَخُذْ دِینَارَکَ وَلَکَ الدَّقِیقُ فَخَرَجَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی جَائَ بِہِ فَاطِمَۃَ عَلَیْہَا السَّلاَمُ فَأَخْبَرَہَا فَقَالَتِ : اذْہَبْ إِلَی فُلاَنٍ الْجَزَّارِ فَخُذْ لَنَا بِدِرْہَمٍ لَحْمًا فَذَہَبَ وَرَہَنَ الدِّینَارَ بِدِرْہَمٍ لَحْمًا فَجَائَ بِہِ فَعَجَنَتْ وَنَصَبَتْ وَخَبَزَتْ فَأَرْسَلَتْ إِلَی أَبِیہَا فَجَائَ ہُمْ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَذْکُرُ لَکَ فَإِنْ رَأَیْتَہُ لَنَا حَلاَلاً أَکَلْنَاہُ وَأَکَلْتَ مِنْ شَأْنِہِ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ : کُلُوا بِاسْمِ اللَّہِ ۔ فَأَکَلُوا فَبَیْنَا ہُمْ مَکَانَہُمْ إِذَا غُلاَمٌ یَنْشُدُ اللَّہَ وَالإِسْلاَمَ الدِّینَارَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَدُعِیَ لَہُ فَسَأَلَہُ فَقَالَ : سَقَطَ مِنِّی فِی السُّوقِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : یَا عَلِیُّ اذْہَبْ إِلَی الْجَزَّارِ فَقُلْ لَہُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ لَکَ أَرْسِلْ إِلَیَّ بِالدِّینَارِ وَدِرْہَمُکَ عَلِیَّ ۔ فَأَرْسَلَ بِہِ فَدَفَعَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَیْہِ۔ [ضعیف]

قَالَ الشَّیْخُ : ظَاہِرُ الْحَدِیثُ عَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ہَذَا الْبَابِ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ أَنْفَقَہُ قَبْلَ التَّعْرِیفِ فِی الْوَقْتِ وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَرَہُ أَنْ یُعَرِّفَہُ فَلَمْ یُعْتَرَفْ فَأَمَرَہُ أَنْ یَأْکُلَہُ وَظَاہِرُ تِلْکَ الرِّوَایَۃِ أَنَّہُ شَرَطَ التَّعْرِیفَ فِی الْوَقْتِ وَأَبَاحَ أَکْلَہُ قَبْلَ مُضِیِّ السَّنَۃِ وَالأَحَادِیثُ الَّتِی وَرَدَتْ فِی اشْتِرَاطِ التَّعْرِیفِ سَنَۃً فِی جَوَازِ الأَکْلِ أَصَحُّ وَأَکْثَرُ فَہِیَ أَوْلَی وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ إِنَّمَا أَبَاحَ لَہُ إِنْفَاقَہُ قَبْلَ مُضِیِّ سَنَۃٍ لِوُقُوعِ الاِضْطِرَارِ إِلَیْہِ وَالْقِصَّۃُ تَدُلُّ عَلَیْہِ وَیُحْتَمَلُ أَنَّہُ لَمْ یَشْتَرِطْ مُضِیَّ سَنَۃٍ فِی قَلِیلِ اللُّقَطَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০০
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلان کی مدت کا بیان

سلمہ بن کہیل والی روایت دلالت کرتی ہے کہ تین سال تک اعلان کرو۔ شعبہ کہتے ہیں : میں سلمہ سے مکہ میں ملا اس کے بعد انھوں نے کہا : میں نے نہیں جانتا کہ ایک سال ہے یا تین سال۔
(١٢٠٩٥) حضرت علی (رض) کو دینار ملا، انھوں نے اس سے آٹا خریداتو آٹے والے نے اسے پہچان لیا اور اس نے دینار لوٹا دیا۔ حضرت علی (رض) نے وہ لے لیا اور دو قیراط کا گوشتخریدا۔
(۱۲۰۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُہَنِیُّ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ بِلاَلِ بْنِ یَحْیَی الْعَبْسِیِّ عَنْ عَلِیٍّ عَلَیْہِ السَّلاَمُ : أَنَّہُ الْتَقَطَ دِینَارًا فَاشْتَرَی بِہِ دَقِیقًا فَعَرَفَہُ صَاحِبُ الدَّقِیقِ فَرَدَّ عَلَیْہِ الدِّینَارَ فَأَخَذَہُ عَلِیٌّ فَقَطَعَ مِنْہُ قِیرَاطَیْنِ فَاشْتَرَی بِہِ لَحْمًا۔ فِی مَتْنِ ہَذَا الْحَدِیثِ اخْتِلاَفٌ وَفِی أَسَانِیدِہِ ضَعْفٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০১
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تھوڑی گری پڑی چیز کا بیان

حضرت زید بن خالد اور عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) والی روایات کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ چیز تھوڑی ہو یا زیادہ اس کا اعلان کرنے کا حکم برابر ہے۔
(١٢٠٩٦) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک کھجورع کے پاس سے گزرے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔
(۱۲۰۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعِجْلِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ زَائِدَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَرَّ بِتَمْرَۃٍ بِالطَّرِیقِ فَقَالَ : لَوْلاَ أَنْ تَکُونَ مِنَ الصَّدَقَۃِ لأَکَلْتُہَا ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَقَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ زَائِدَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ فَذَکَرَہُ۔

[بخاری ۲۰۵۵۔ مسلم ۱۰۷۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০২
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تھوڑی گری پڑی چیز کا بیان

حضرت زید بن خالد اور عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) والی روایات کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ چیز تھوڑی ہو یا زیادہ اس کا اعلان کرنے کا حکم برابر ہے۔
(١٢٠٩٧) حضرت انس سے (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک کھجور کے پاس سے گزرے جو راستے میں پڑی ہوئی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہے تو میں اسے کھا لیتا، راوی کہتے ہیں : ابن عمر (رض) راستے میں پڑی ہوئی ایک کھجور کے پاس سے گزرے تو اسے کھالیا۔

ہم نے ابوہریرہ (رض) کی روایت بیان کی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں گھر میں داخل ہوتا ہوں، اپنے بستر پر پڑی کھجور پاتا ہوں اور ایک روایت میں ہے کہ میں نہیں جانتا یہ کھجور صدقہ کی ہے یا گھر کی ۔ میں اسے چھوڑ دیتا ہوں اور یہ لقطہ کے حکم میں نہیں آتی۔
(۱۲۰۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْحُنَیْنِ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی تَمْرَۃٍ فِی الطَّرِیقِ مَطْرُوحَۃٍ فَقَالَ : لَوْلاَ أَنِّی أَخْشَی أَنْ تَکُونَ مِنَ الصَّدَقَۃِ لأَکَلْتُہَا ۔ قَالَ : وَمَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِتَمْرَۃٍ مَطْرُوحَۃٍ فِی الطَّرِیقِ فَأَکَلَہَا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قَبِیصَۃَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِیِّ دُونَ ابْنِ عُمَرَ۔

وَقَدْ رُوِّینَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : إِنِّی لأَدْخُلُ بَیْتِی أَجِدُ التَّمْرَۃَ مُلْقَاۃً عَلَی فِرَاشِی۔ وَفِی رِوَایَۃٍ : وَلاَ أَدْرِی أَمِنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ أَمْ مِنْ تَمْرِ أَہْلِی فَأَدَعُہَا۔

(ق) وَذَلِکَ لاَ یَتَنَاوَلُ اللُّقَطَۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০৩
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تھوڑی گری پڑی چیز کا بیان

حضرت زید بن خالد اور عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) والی روایات کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ چیز تھوڑی ہو یا زیادہ اس کا اعلان کرنے کا حکم برابر ہے۔
(١٢٠٩٨) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں چھڑی، کوڑا اور رسی اور اس جیسی چیزیں اٹھانے کی اجازت دی کہ آدمی ان کو اٹھالے اور ان سے فائدہ اٹھائے۔
(۱۲۰۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ الْمَکِّیِّ أَنَّہُ حَدَّثَہُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْعَصَا وَالسَّوْطِ وَالْحَبْلِ وَأَشْبَاہِہِ یَلْتَقِطُ الرَّجُلُ یَنْتَفِعُ بِہِ۔

لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ وَفِی رِوَایَۃِ الرَّمْلِیِّ قَالَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ وَالْبَاقِی سَوَائٌ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاہُ النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ عَنِ الْمُغِیرَۃِ أَبِی سَلَمَۃَ بِإِسْنَادِہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَکَأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ شُعَیْبٍ عَنْہُ أَخَذَہُ۔

[حسن۔ ابوداود ۱۷۱۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০৪
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تھوڑی گری پڑی چیز کا بیان

حضرت زید بن خالد اور عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) والی روایات کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ چیز تھوڑی ہو یا زیادہ اس کا اعلان کرنے کا حکم برابر ہے۔
(١٢٠٩٩) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رخصت دی۔۔۔ آپ نے رسی کا ذکر نہیں کیا۔
(۱۲۰۹۹) فَقَد أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبٍ أَخْبَرَنِی رَجُلٌ حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ : الْمُغِیرَۃُ بْنُ زِیَادٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَہُ وَلَمْ یَذْکُرِ الْحَبْلَ۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاہُ شَبَابَۃُ عَنْ مُغِیرَۃَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: کَانُوا لَمْ یَذْکُرِ النَّبِیَّ -ﷺ-

قَالَ الشَّیْخُ : فِی رَفْعِ ہَذَا الْحَدِیثِ شَکٌّ وَفِی إِسْنَادِہِ ضَعْفٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০৫
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تھوڑی گری پڑی چیز کا بیان

حضرت زید بن خالد اور عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) والی روایات کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ چیز تھوڑی ہو یا زیادہ اس کا اعلان کرنے کا حکم برابر ہے۔
(١٢١٠٠) حضرت یعلیٰ بن مرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جسے کوئی ہلکی سی چیز گری ہوئی ملے رسی یا درہم یا اس جیسی کوئی اور چیز تو وہ تین دن تک اس کا اعلان کرے۔ اگر وہ پسند کرے تو چھ دن تک کر دے۔
(۱۲۱۰۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَعْلَی عَنْ جَدَّتِہِ حُکَیْمَۃَ عَنْ یَعْلَی بْنِ مُرَّۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَۃً یَسِیرَۃً حَبْلاً أَوْ دِرْہَمًا أَوْ شِبْہَ ذَلِکَ فَلْیُعَرِّفْہُ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فَإِنْ طَابَ فَوْقَ ذَلِکَ فَلْیَرْفَعْہُ سِتَّۃَ أَیَّامٍ ۔ تَفَرَّدَ بِہِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَعْلَی وَقَدْ ضَعَّفَہُ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَرَمَاہُ جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ وَغَیْرُہُ بِشُرْبِ الْخَمْرِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০৬
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تھوڑی گری پڑی چیز کا بیان

حضرت زید بن خالد اور عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) والی روایات کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ چیز تھوڑی ہو یا زیادہ اس کا اعلان کرنے کا حکم برابر ہے۔
(١٢١٠١) طلحہ کے غلام فروخ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ (رض) سے سنا، ان سے کوڑے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : اپنے بھائی کا کوڑا کسی کو ملے تو وہ اٹھالے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس نے کہا : رسی ؟ ام سلمہ (رض) نے کہا : اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ اس نے پوچھا : کوئی برتن ؟ ام سلمہ (رض) نے کہا : برتن میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، اس میں خرچ ہے اور فائدہ ہے، حضرت حسن سے روایت ہے کہ انھوں نے کوڑے، چھڑی اور چمڑے میں رخصت دی۔ اگر کسی کو مل جائے۔
(۱۲۱۰۱) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی اللَّیْثِ حَدَّثَنَا الأَشْجَعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی الْقُرَشِیِّ عَنْ فَرُّوخٍ مَوْلَی طَلْحَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَۃَ سُئِلَتْ عَنِ الْتَقَاطِ السَّوْطِ فَقَالَتْ : یَلْتَقِطُ سَوْطَ أَخِیہِ یَصِلُ بِہِ یَدَیْہِ مَا أَرَی بَأْسًا قَالَ : وَالْحَبْلُ؟ قَالَتْ: وَالْحَبْلُ۔ قَالَ: وَالْحِذَائُ؟ قَالَتْ: وَالْحِذَائُ۔ قَالَ: فَالْوِعَائُ؟ قَالَتْ: لاَ أُحِلُّ مَا حَرَّمَ اللَّہُ الْوِعَائُ یَکُونُ فِیہِ النَّفَقَۃُ وَیَکُونُ فِیہِ الْمَتَاعُ۔ وَعَنْ سُفْیَانَ عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ صَبِیْحٍ عَنِ الْحَسَنِ: أَنَّہُ رَخَّصَ فِی السَّوْطِ وَالْعَصَا وَالسَّیْرِ یَجِدُہُ یَسْتَمْتِعُ بِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০৭
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھیتی کاٹنا اور جو حاصل ہو اس سے ضرورت پوری کرنے کا بیان
(١٢١٠٢) حضرت ام درداء (رض) فرماتی ہیں : مجھے ابودرداء (رض) نے کہا : کسی چیز کا کسی سے سوال نہ کرنا۔ میں نے کہا : اگر مجھے ضرورت ہو ؟ انھوں نے کہا : تو کھیتوں (درختوں) کو کاٹ جو ان میں سے گرے اسے لے لینا۔ پھر پیس لینا پھر اسے گوند لینا۔ پھر اسے کھا لینا اور کسی سے سوال نہ کرنا۔
(۱۲۱۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ لِی أَبُو الدَّرْدَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ تَسْأَلِی أَحَدًا شَیْئًا قُلْتُ : إِنِ احْتَجْتُ قَالَ : تَتَبَّعِی الْحَصَّادِینَ فَانْظُرِی مَا یَسْقُطُ مِنْہُمْ فَخِذَیْہِ فَاخْبِطِیہِ ثُمَّ اطْحَنِیہِ ثُمَّ اعْجِنِیہِ ثُمَّ کُلِیہِ وَلاَ تَسْأَلِی أَحَدًا شَیْئًا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০৮
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھیتی کاٹنا اور جو حاصل ہو اس سے ضرورت پوری کرنے کا بیان
(١٢١٠٣) اوزاعی فرماتی ہیں : جو کھیتی کاٹنے والے کے ہاتھ سے گرے یا ہل توڑے والے سے گرجائے اس پر کھیتی والے کا کوئی حق نہیں ہے، وہ گزرنے والوں اور مسافروں کے لیے ہے۔
(۱۲۱۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلاَّبُ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِیَّ یَقُولُ: مَا أَخْطَأَتْ یَدُ الْحَاصِدِ أَوْ جَنَتْ یَدُ الْقَاطِفِ فَلَیْسَ لِصَاحِبِ الزَّرْعِ عَلَیْہِ سَبِیلٌ إِنَّمَا ہُوَ لِلْمَارَّۃِ وَأَبْنَائِ السَّبِیلِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০৯
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرنے کا بیان
(١٢١٠٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ جو کسی آدمی کو سنے کہ وہ مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کررہا ہی تو وہ کہے : اللہ تیری طرف اس کو نہ لوٹائے۔ بیشک مسجدیں اس لیے نہیں بنائی گئیں۔
(۱۲۱۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الأَسْوَدِ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مَوْلَی شَدَّادٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ مَوْلَی شَدَّادِ بْنِ الْہَادِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ سَمِعَ رَجُلاً یَنْشُدُ فِی الْمَسْجِدِ ضَالَّۃً فَلْیَقُلْ لاَ أَدَّاہَا اللَّہُ إِلَیْکَ فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِہَذَا ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَعَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ الْمُقْرِئِ۔ [مسلم ۵۶۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১০
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرنے کا بیان
(١٢١٠٥) ابن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دیہاتییا کسی آدمی کو سناوہ کہہ رہا تھا : کون سرخ اونٹ لائے گا ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اسے نہ پائے، یہ مساجد صرف اسی کام کے لیے ہیں جس کے لیے بنائی گئی ہیں۔ یعنیعبادت کے لیے۔
(۱۲۱۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَیْبَۃَ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- سَمِعَ أَعْرَابِیًّا أَوْ رَجُلاً یَقُولُ : مَنْ دَعَا إِلَی الْجَمَلِ الأَحْمَرِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : لاَ وَجَدْتَ إِنَّمَا بُنِیَتْ ہَذِہِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِیَتْ لَہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [مسلم ۵۶۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১১
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو گمشدہ چیز کا اعتراف کرلے
(١٢١٠٦) حضرت ابی بن کعب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گری پڑی چیز کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو یا تین سال تک اس کا اعلان کر اور کہا پہچان اس کی تعداد کو اس کے بندھن اور تھیلی کو اور اس سے فائدہ اٹھا اگر اس کا مالک آجائے اس کی تعداد اور بندھن پہچان لے تو اسے دے دینا۔
(۱۲۱۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی اللُّقَطَۃِ قَالَ فِی التَّعْرِیفِ : عَرِّفْہَا عَامَیْنِ أَوْ ثَلاَثَۃً ۔ وَقَالَ : اعْرِفْ عَدَدَہَا وَوِعَائَ ہَا وَوِکَائَ ہَا وَاسْتَنْفِعْ بِہَا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَعَرَفَ عَدَدَہَا وَوِکَائَ ہَا فَادْفَعْہَا إِلَیْہِ ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَیْسَ یَقُولُ إِلاَّ حَمَّادٌ فَعَرَفَ عَدَدَہَا۔

قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ بَہْزٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ۔وَہَذِہِ اللَّفْظَۃُ قَدْ أَتَی بِمَعْنَاہَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১২
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو گمشدہ چیز کا اعتراف کرلے
(١٢١٠٧) حضرت ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گری پڑی چیز کے بارے میں فرمایا : اس کی تعداد کو پہچان لو اور اس کے بندھن اور تھیلی کو پہچان لو۔ اگر کوئی آئے اور تجھے اس کی تعداد، اس کے بندھن کی خبر دے تو اسے دے دینا ورنہ اس سے فائدہ اٹھا۔
(۱۲۱۰۷) أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی اللُّقَطَۃِ فَقَالَ : اعْرِفْ عَدَدَہَا وَوِکَائَ ہَا وَوِعَائَ ہَا فَإِنْ جَائَ أَحَدٌ یُخْبِرُکَ بِعَدَدِہَا وَوِکَائِہَا فَادْفَعْہَا إِلَیْہِ وَإِلاَّ فَاسْتَمْتِعْ بِہَا ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنِ الثَّوْرِیِّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১৩
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو گمشدہ چیز کا اعتراف کرلے
(١٢١٠٨) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی تعداد، بندھن اور دھاگے کو پہچان لو۔ اگر اس کا مالک آئے اور وہ صفت جانتا ہو تو اسے دے دینا ورنہ اس سے فائدہ اٹھالے۔
(۱۲۱۰۸) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَلَمَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِی آخِرِہِ وَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَحْصِ عَدَدَہَا وَوِکَائَ ہَا وَخَیْطَہَا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَعَرَفَ الصِّفَۃَ فَأَعْطِہِ إِیَّاہَا وَإِلاَّ فَاسْتَنْفِعْ بِہَا ۔

وَبِمَعْنَاہُ رُوِیَ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১৪
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو گمشدہ چیز کا اعتراف کرلے
(١٢١٠٩) حضرت زید بن خالد (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لقطہ والی حدیث میں فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اسے تلاش کرنے والا آجائے تو اگر وہ اس کے بندھن اور تعداد کو پہچان لے تو دے دینا۔
(۱۲۱۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ وَرَبِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی حَدِیثِ اللُّقَطَۃِ قَالَ : فَإِنْ جَائَ بَاغِیہَا فَعَرَفَ عِفَاصَہَا وَعَدَدَہَا فَادْفَعْہَا إِلَیْہِ ۔قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَمَّادٌ أَیْضًا عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِثْلَہُ ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক: