আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২ টি
হাদীস নং: ১২০৭৫
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لقطہ میں سے کیا لینا جائز ہے اور کیا جائز نہیں
(١٢٠٧٠) جارود سے روایت ہے کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کوئی گمشدہ اونٹ پاؤں تو اسے چھوڑ دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا انگارہ ہے۔
(۱۲۰۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَلِیٍّ الْخُطَبِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ عَنْ أَبِی مُسْلِمٍ عَنِ الْجَارُودِ قَالَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ تَأْتِی عَلَی ضَالَّۃِ الإِبِلِ فَأَتْرُکُہَا فَقَالَ: ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ۔وَکَذَلِکَ رَوَاہُ قَتَادَۃُ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ۔ [ضعیف]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ۔وَکَذَلِکَ رَوَاہُ قَتَادَۃُ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৭৬
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لقطہ میں سے کیا لینا جائز ہے اور کیا جائز نہیں
(١٢٠٧١) جارود سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کی گمشدہ چیز آگ کا انگارہ ہے۔
(۱۲۰۷۱) أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ عَنْ أَبِی مُسْلِمٍ عَنِ الْجَارُودِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ حَرَقُ النَّارِ ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ: یَزِیدَ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ۔[ضعیف]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ: یَزِیدَ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৭৭
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لقطہ میں سے کیا لینا جائز ہے اور کیا جائز نہیں
(١٢٠٧٢) جارود سے روایت ہے کہ ہم ایک دبلے اونٹ پر تھے، ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم جرف مقام سے گزرے۔ ہم نے وہاں اونٹ پایا، لہٰذا ہم اس پر سوار ہوگئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا انگار ہے۔
(۱۲۰۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ أَبِی مُسْلِمٍ عَنِ الْجَارُودِ قَالَ : أَتَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَنَحْنُ عَلَی إِبِلٍ عِجَافٍ فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا نَمُرُّ بِالْجَرْفِ فَنَجِدُ إِبِلاً فَنَرْکَبُہَا فَقَالَ : ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ ۔وَقِیلَ عَنْہُ عَنْ یَزِیدَ عَنْ أَخِیہِ مُطَرِّفٍ عَنِ الْجَارُودِ۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৭৮
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لقطہ میں سے کیا لینا جائز ہے اور کیا جائز نہیں
(١٢٠٧٣) جارود عبدی سے مرفوعاً منقول ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا انگارہ ہے اسے اپنے قریب نہ کرو۔
(۱۲۰۷۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنِ الْجَارُودِ الْعَبَدِیِّ یَرْفَعُہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَلاَ تَقْرَبَنَّہَا ۔
وَقَدْ قِیلَ عَنْہُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِی مُسْلِمٍ عَنِ الْجَارُودِ۔وَقَدْ قِیلَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ أَبِیہِ ۔ [منکر]
وَقَدْ قِیلَ عَنْہُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِی مُسْلِمٍ عَنِ الْجَارُودِ۔وَقَدْ قِیلَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ أَبِیہِ ۔ [منکر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৭৯
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لقطہ میں سے کیا لینا جائز ہے اور کیا جائز نہیں
(١٢٠٧٤) مطرف بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں : ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ ہم کوئی پیاسا اونٹ پالیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان یا مومن کی گمشدہ چیز آگ کا انگارہ ہے۔
(۱۲۰۷۴) أَخْبَرَنَا الأَسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الإِسْفَرَائِینِیُّ أَخْبَرَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ سَلاَّمٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّا نُصِیبُ ہَوَامِیَ الإِبِلِ فَقَالَ : ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ أَوِ الْمُؤْمِنِ حَرَقُ النَّارِ ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৮০
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لقطہ میں سے کیا لینا جائز ہے اور کیا جائز نہیں
(١٢٠٧٥) سعید بن مسیب سے منقول ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا اور وہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے کہ جو گمشدہ چیز اٹھاتا ہے ، وہ گمراہ ہے۔
(۱۲۰۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَہُوَ مُسْنِدٌ ظَہْرَہُ إِلَی الْکَعْبَۃِ : مَنْ أَخَذَ ضَالَّۃً فَہُوَ ضَالٌّ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৮১
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لقطہ میں سے کیا لینا جائز ہے اور کیا جائز نہیں
(١٢٠٧٦) ابوالجویرہ سے روایت ہے کہ میں نے بنی سلیم کے ایک دیہاتی سے سنا اس نے ابن عباس (رض) سے گمشدہ چیز کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : جس نے گمشدہ چیز سے کھایا وہ گمراہ ہے پھر وہ آدمی خاموش ہوگیا اور ابن عباس (رض) لوگوں میں فتویٰ دینے میں مصروف ہوگئے، ابوالجویریہ کہتے ہیں : وہ بہت زیادہ فتوے دیتے تھے، جنہیں میں یاد نہیں رکھ سکا۔ دیہاتی نے کہا : میں خیال کرتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے علاوہ لوگوں کو روکا ہوا ہے، آپ کے خیال میں میرے لیے توبہ ہے ؟ ابن عباس (رض) نے کہا : تیری ہلاکت ہو اس بارے سوال نہ کر اور کہا : تیرا مسئلہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں جب سے میں نے یہ کام کیا، ابن عباس (رض) نے کہا : کیا تو جانتا ہے یہ آیت کس بارے نازل ہوئی : اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں نقصان پہنچے۔ جب آیت پڑھ کر فارغ ہوئے تو کہا : لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مذاقاً سوال کرتے تھے، آدمی کہتا : میرا باپ کون ہے ؟ یا کہتا میری اونٹنی گم ہوگئی ہے، میری اونٹنی کہاں ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
(۱۲۰۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجُوَیْرِیَۃِ قَالَ سَمِعْتُ أَعْرَابِیًّا مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ سَأَلَہُ یَعْنِی ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الضَّوَالِّ فَقَالَ : مَا تَرَی فِی الضَّوَالِّ قَالَ : مَنْ أَکَلَ مِنَ الضَّوَالِّ فَہُو ضَالٌّ۔ قَالَ : مَا تَرَی فِی الضَّوَالِّ قَالَ : مَنْ أَکَلَ مِنَ الضَّوَالِّ فَہُو ضَالٌّ ثُمَّ سَکَتَ الرَّجُلُ وَأَخَذَ ابْنُ عَبَّاسٍ یُفْتِی النَّاسَ یَقُولُ أَبُو الْجُوَیْرِیَۃِ فَتْوًی کَثِیرَۃً لاَ أَحْفَظُہَا فَقَالَ الأَعْرَابِیُّ : أَرَاکَ قَدْ أَصْدَرْتَ النَّاسَ غَیْرِی أَفَتُرَی لِی تَوْبَۃً قَالَ : وَیْلَکَ لاَ تَسْأَلْ ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ قَالَ : وَمَا أَشَدَّ مَسْأَلَتَکَ قَالَ : أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ وَأَجْلَ مَا صَنَعْتُ۔ قَالَ : أَتَدْرِی مَا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ (یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْیَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ) حَتَّی فَرَغَ مِنَ الآیَۃِ کُلِّہَا قَالَ : کَانَ قَوْمٌ یَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- اسْتِہْزَائً فَیَقُولُ الرَّجُلُ : مَنْ أَبِی وَیَقُولُ الرَّجُلُ تَضِلُّ نَاقَتَہُ أَیْنَ نَاقَتِی؟ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ ہَذِہِ الآیَۃَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ سَہْلٍ عَنْ أَبِی النَّضْرِ مُخْتَصَرًا۔ [بخاری ۴۶۲۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ سَہْلٍ عَنْ أَبِی النَّضْرِ مُخْتَصَرًا۔ [بخاری ۴۶۲۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৮২
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لقطہ میں سے کیا لینا جائز ہے اور کیا جائز نہیں
(١٢٠٧٧) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گمشدہ اونٹ کو چھپانے پر اس جیسا اونٹ اور اس کی مثل اس کے ساتھ دینا ہوگا۔
(۱۲۰۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ أَحْسِبُہُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ضَالَّۃُ الإِبِلِ الْمَکْتُومَۃِ غَرَامَتُہَا وَمِثْلُہَا مَعَہَا ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৮৩
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو گمشدہ چیز پاتا ہے اور وہ لوٹانے کا ارادہ رکھتا ہے نہ کہ کھانے کا
(١٢٠٧٨) زید بن خالد جہنی (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو گمشدہ چیز کو پناہ دے تو وہ گمراہ ہیجب تک اس کا اعلان نہ کرے۔
(۱۲۰۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ عَنْ أَبِی سَالِمٍ الْجَیْشَانِیِّ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : مَنْ آوَی ضَالَّۃً فَہُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ یُعَرِّفْہَا ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৮৪
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو گمشدہ چیز پاتا ہے اور وہ لوٹانے کا ارادہ رکھتا ہے نہ کہ کھانے کا
(١٢٠٧٩) حضرت ثابت بن ضحاک نے ایک اونٹ پایا، وہ اسے حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس لے کر آئے، آپ نے اسے حکم دیا کہ اس کا اعلان کرے۔ پھر وہ عمر (رض) کی طرف لوٹے اور کہا : مجھے میرے کام نے مصروف کردیا تھا، حضرت عمر (رض) نے اسے کہا : جا اور جہاں سے اسے پکڑا تھا وہاں چھوڑ دے۔
(۱۲۰۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رِبْحٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ : أَنَّہُ وَجَدَ بَعِیرًا فَأَتَی بِہِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَمَرَہُ أَنْ یُعَرِّفَہُ ثُمَّ إِنَّہُ رَجَعَ إِلَی عُمَرَ فَقَالَ : إِنَّہُ قَدْ شَغَلَنِی عَنْ عَمَلِی فَقَالَ لَہُ : اذْہَبْ فَأَرْسَلَہُ مِنْ حَیْثُ أَخَذْتَہُ۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَلَیْسَ فِیہِ مَا یَدُلُّ عَلَی سُقُوطِ الضَّمَانِ عَنْہُ إِذَا أَرْسَلَہَا فَہَلَکَتْ۔ [صحیح]
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَلَیْسَ فِیہِ مَا یَدُلُّ عَلَی سُقُوطِ الضَّمَانِ عَنْہُ إِذَا أَرْسَلَہَا فَہَلَکَتْ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৮৫
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو گمشدہ چیز پاتا ہے اور وہ لوٹانے کا ارادہ رکھتا ہے نہ کہ کھانے کا
(١٢٠٨٠) ابن شہاب کہتے ہیں : حضرت عمربن خطاب (رض) کے زمانہ میں گمشدہ اونٹ جفتی کے لیے تھے، ان کو کسی نے نہ پکڑا یہاں تک کہ جب حضرت عثمان (رض) کا زمانہ آیا تو آپ نے ان کے اعلان کا حکم دیا ۔ پھر ان کو بیچ دیا گیا ۔ جب ان کا مالک آیا تو اسے اس کی قیمت دی گئی۔
(۱۲۰۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ شِہَابٍ یَقُولُ : کَانَتْ ضَوَالُّ الإِبِلِ فِی زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِبِلاً مُؤَبَّلَۃً تَنَاتَجُ لاَ یَمَسُّہَا حَتَّی إِذَا کَانَ زَمَانُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَرَ بِمَعْرِفَتِہَا وَتَعْرِیفِہَا ثُمَّ تُبَاعُ فَإِذَا جَائَ صَاحِبُہَا أُعْطِیَ ثَمَنَہَا۔ [صحیح۔ مالک ۱۴۸۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৮৬
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت دار کو گری پڑی چیز پکڑنے یا نہ پکڑنے کا احتیار ہے
(١٢٠٨١) حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں : میں زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ کے ساتھ نکلا، میں نے عذیب نامی جگہ سے کوڑا اٹھایا۔ ان دونوں نے کہا : اسے چھوڑ دو ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اسے نہیں چھوڑوں گا، درندے اسے کھا لیں گے، میں اس سے فائدہ اٹھالوں گا۔ میں ابی بن کعب کے پاس گیا اور میں نے ان کے سامنے یہ ذکر کیا تو انھوں نے کہا : تو نے اچھا کیا، تو نے اچھا کیا، مجھے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ایک تھیلی ملی، اس میں سو دینار تھا، میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک سال تک اعلان کر۔ میں نے ایک سال تک اعلان کیا، پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : ایک سال تک اور اعلان کر۔ تین دفعہ کے بعد جب میں آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نی فرمایا : اس کی تعداد اور سر بندھن کو اچھی طرح پہچان لو ۔ اگر کوئی آئے اور وہ اس کی تعداد کی خبر دے اور اس کے بندھن کی بھی تو اسے دے دینا ورنہ اس سے فائدہ اٹھا۔
(۱۲۰۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ زَیْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِیعَۃَ فَالْتَقَطْتُ سَوْطًا بِالْعُذَیْبِ فَقَالاَ : دَعْہُ دَعْہُ قُلْتُ : وَاللَّہِ لاَ أَدَعُہُ تَأْکُلُہُ السِّبَاعُ لأَسْتَمْتِعَنَّ بِہِ فَقَدِمْتُ عَلَی أُبَیَّ بْنِ کَعْبٍ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ إِنِّی وَجَدْتُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- صُرَّۃً فِیہَا مِائَۃُ دِینَارٍ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : عَرِّفْہَا حَوْلاً ۔ فَعَرَّفْتُہَا حَوْلاً ثُمَّ أَتَیْتُہُ فَقَالَ : عَرِّفْہَا حَوْلاً ۔ فَعَرَّفْتُہَا حَوْلاً ثُمَّ أَتَیْتُہُ فَقَالَ : عَرِّفْہَا حَوْلاً۔ فَأَتَیْتُ بِہَا بَعْدُ أَحْوَالٍ ثَلاَثَۃٍ فَقَالَ : اعْرِفْ عَدَدَہَا وَوِکَائَ ہَا وَوِعَائَ ہَا فَإِنْ جَائَ أَحَدٌ یُخْبِرُکَ بِعَدَدِہَا وَوِکَائِہَا فَادْفَعْہَا إِلَیْہِ وَإِلاَّ فَاسْتَمْتِعْ بِہَا ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ۔ [بخاری۔ مسلم ۱۷۲۳]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ۔ [بخاری۔ مسلم ۱۷۲۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৮৭
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت دار کو گری پڑی چیز پکڑنے یا نہ پکڑنے کا احتیار ہے
(١٢٠٨٢) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ تم اسے زمین سے نہ اٹھاؤ۔ میں اس بارے میں کسی چیز کے حق میں نہیں یعنی گری پڑی چیز کے بارے میں۔
(۱۲۰۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ: عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِی ظَبْیَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لاَ تَرْفَعُہَا مِنَ الأَرْضِ لَسْتُ مِنْہَا فِی شَیْئٍ یَعْنِی اللُّقَطَۃَ وَقَوْلُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فِی ذَلِکَ قَدْ مَضَی فِی الْمَسْأَلَۃِ الأُولَی۔ [ضعیف۔ ابن ابی شیبہ ۲۱۶۶۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৮৮
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز کی تعریف اور اس کی پہچان اور اس پر گواہ مقرر کرنا
(١٢٠٨٣) زید بن خالد سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو دے دو ورنہ وہ تیرے لیے ہے۔
(۱۲۰۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ أَنَّہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ : اعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا ثُمَّ عَرِّفْہَا سَنَۃً فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَإِلاَّ فَشَأْنَکَ بِہَا ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ رَبِیعَۃَ وَیَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ یَزِیدَ۔ [صحیح]
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ رَبِیعَۃَ وَیَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ یَزِیدَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৮৯
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز کی تعریف اور اس کی پہچان اور اس پر گواہ مقرر کرنا
(١٢٠٨٤) ربیعہ سے روایت ہے کہ اس کا ایک سال تک اعلان کرو، پھر اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو۔ پھر اسے اپنے خرچے میں شامل کرلو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دینا۔
(۱۲۰۸۴) وَرَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ رَبِیعَۃَ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : عَرِّفْہَا سَنَۃً ثُمَّ اعْرِفْ وِکَائَ ہَا وَعِفَاصَہَا ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِہَا فَإِنْ جَائَ رَبُّہَا فَأَدِّہَا إِلَیْہِ ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ فَذَکَرَہُ وَقَدْ مَضَی بِطُولِہِ۔وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ رَبِیعَۃَ کَمَا۔ [صحیح]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ فَذَکَرَہُ وَقَدْ مَضَی بِطُولِہِ۔وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ رَبِیعَۃَ کَمَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৯০
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز کی تعریف اور اس کی پہچان اور اس پر گواہ مقرر کرنا
(١٢٠٨٥) زید بن خالد (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نی فرمایا : ایک سال تک اس کا اعلان کر، پھر اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لینا اور اس کو یاد رکھنا۔ اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دینا ورنہ اپنے خرچ میں شامل کرلے اور اس سے فائدہ اٹھا۔ اس نے گمشدہ بکری کے بارے میں سوال کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یابھیڑیی کے لیے ہے، اس نے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ سرخ ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے اس میں کیا ہے ؟ اس کے ساتھ اس کا جوتا اور مشکیزہ ہے، وہ پانی پی سکتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے، اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کا مالک مل جائے۔
(۱۲۰۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ : عَرِّفْہَا سَنَۃً ثُمَّ اعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا وَوِعَائَ ہَا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَادْفَعْہَا إِلَیْہِ وَإِلاَّ فَاسْتَنْفِقْہَا أَوِ اسْتَمْتِعْ بِہَا ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ضَالَّۃُ الْغَنَمِ فَقَالَ : إِنَّمَا ہِیَ لَکَ أَوْ لأَخِیکَ أَوْ لِلذِّئْبِ ۔ فَسَأَلَہُ عَنْ ضَالَّۃِ الإِبِلِ فَتَغَیَّرَ وَجْہُہُ وَقَالَ : مَا لَکَ وَلَہَا مَعَہَا حِذَاؤُہَا وَسِقَاؤُہَا تَرِدُ الْمَائَ وَ تَأْکُلُ الشَّجَرَ دَعْہَا حَتَّی تَلْقَی رَبَّہَا ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنِ الثَّوْرِیِّ دُونَ قَوْلِہِ وِعَائَ ہَا وَقَالَ : فَإِنْ جَائَ أَحَدٌ یُخْبِرُکَ بِہَا وَإِلاَّ فَاسْتَنْفِقْہَا۔ [صحیح]
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ : عَرِّفْہَا سَنَۃً ثُمَّ اعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا وَوِعَائَ ہَا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَادْفَعْہَا إِلَیْہِ وَإِلاَّ فَاسْتَنْفِقْہَا أَوِ اسْتَمْتِعْ بِہَا ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ضَالَّۃُ الْغَنَمِ فَقَالَ : إِنَّمَا ہِیَ لَکَ أَوْ لأَخِیکَ أَوْ لِلذِّئْبِ ۔ فَسَأَلَہُ عَنْ ضَالَّۃِ الإِبِلِ فَتَغَیَّرَ وَجْہُہُ وَقَالَ : مَا لَکَ وَلَہَا مَعَہَا حِذَاؤُہَا وَسِقَاؤُہَا تَرِدُ الْمَائَ وَ تَأْکُلُ الشَّجَرَ دَعْہَا حَتَّی تَلْقَی رَبَّہَا ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنِ الثَّوْرِیِّ دُونَ قَوْلِہِ وِعَائَ ہَا وَقَالَ : فَإِنْ جَائَ أَحَدٌ یُخْبِرُکَ بِہَا وَإِلاَّ فَاسْتَنْفِقْہَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৯১
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز کی تعریف اور اس کی پہچان اور اس پر گواہ مقرر کرنا
(١٢٠٨٦) زید بن خالد (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جسے کوئی گری پڑی چیز ملے، وہ اس کا ایک سال تک اعلان کرے۔ اگر اس کا مالک آجائے تو دے دے ورنہ اس کی تعداد گن لے اور اس کے بندھن کو پہچان لے، پھر اسے کھالے۔ اگر اس کا مالک آجائے تو اسے لوٹا دینا۔
روایت کے الفاظ ہیں اگر وہ پہچان لی جائے تو اسے دے دینا ورنہ اس کی تھیلی، بندھن اور تعداد کو پہچان لینا۔
روایت کے الفاظ ہیں اگر وہ پہچان لی جائے تو اسے دے دینا ورنہ اس کی تھیلی، بندھن اور تعداد کو پہچان لینا۔
(۱۲۰۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ سَالِمٍ أَبِی النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَۃً فَلْیُعَرِّفْہَا سَنَۃً فَإِنْ جَائَ رَبُّہَا وَإِلاَّ فَلْیَعْرِفْ عَدَدَہَا وَوِکَائَ ہَا ثُمَّ لِیَأْکُلْہَا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَلْیَرُدَّہَا عَلَیْہِ ۔ [صحیح]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی بَکْرٍ الْحَنَفِیِّ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی مَتْنِہِ : فَإِنِ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّہَا وَإِلاَّ فَاعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا وَعَدَدَہَا ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی بَکْرٍ الْحَنَفِیِّ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی مَتْنِہِ : فَإِنِ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّہَا وَإِلاَّ فَاعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا وَعَدَدَہَا ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৯২
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز کی تعریف اور اس کی پہچان اور اس پر گواہ مقرر کرنا
(١٢٠٨٧) حدیث نمبر ١٢٠٥٥ والا ترجمہ ہے۔
(۱۲۰۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ یَعْنِی الأَزْرَقَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ قَالَ سَمِعْتُ سُوَیْدَ بْنَ غَفَلَۃَ : أَنَّہُ کَانَ فِی غَزْوَۃٍ فَوَجَدَ سَوْطًا فَأَخَذَہُ فَقَالَ زَیْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِیعَۃَ : اطْرَحْہُ قَالَ فَأَبَیْتُ عَلَیْہِمَا فَقَضَیْنَا غَزَاتَنَا ثُمَّ حَجَجْتُ فَمَرَرْتُ بِالْمَدِینَۃِ فَأَتَیْتُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : إِنِّی وَجَدْتُ صُرَّۃً عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِیہَا مِائَۃُ دِینَارٍ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : عَرِّفْہَا حَوْلاً ۔ فَعَرَّفْتُہَا حَوْلاً فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا یَعْرِفُہَا فَعُدْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ : احْفَظْ عِدَّتَہَا وَوِعَائَ ہَا وَوِکَائَ ہَا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَإِلاَّ فَاسْتَمْتِعْ بِہَا ۔ قَالَ : فَاسْتَمْتَعْتُ بِہَا قَالَ سَلَمَۃُ : لاَ أَدْرِی عَرَّفَہَا حَوْلاً إِلَی ثَلاَثَۃِ أَحْوَالٍ أَوْ فِی الْحَوْلِ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৯৩
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز کی تعریف اور اس کی پہچان اور اس پر گواہ مقرر کرنا
(١٢٠٨٨) سوید بن غفلہ سے منقول ہے کہ ہم حج کر رہے تھے، میں نے کوڑا پایا۔۔۔ پھر حدیث ذکر کی۔ زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ناموں کے علاوہ آخر میں کہا : میں نے اس کا اعلان کیا، انھوں نے کہا : اس سے فائدہ اٹھاؤ اور یاد رکھنا اس کی تھیلی اور سربند کو اور اس کی تعداد شمار کرلینا۔
(۱۲۰۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنِ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ قَالَ : کُنَّا حُجَاجًّا فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَذَکَرَ الْحَدِیثَ دُونَ تَسْمِیَۃِ زَیْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِیعَۃَ وَقَالَ فِی آخِرِہِ فَقُلْتُ : قَدْ عَرَّفْتُہَا قَالَ : انْتَفِعْ بِہَا وَاحْفَظْ وِعَائَ ہَا وَخِرْقَتَہَا وَأَحْصِ عَدَدَہَا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৯৪
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گری پڑی چیز کی تعریف اور اس کی پہچان اور اس پر گواہ مقرر کرنا
(١٢٠٨٩) عیاض بن حمارمجاشعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو گری پڑی چیز پائے وہ ایک یا دو عدل والے آدمی گواہ بنا لے اور نہ چھپائے اور نہ کچھ غائب کرے۔ اگر اس کا مالک مل جائے تو دے دے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے۔
(۱۲۰۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ وَجَدَ لُقَطَۃً فَلْیُشْہِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوَیْ عَدْلٍ وَلاَ یَکْتُمْ وَلاَ یُغَیِّبْ فَإِذَا وَجَدَ صَاحِبُہَا فَلْیَرُدَّہَا عَلَیْہِ وَإِلاَّ فَہِیَ مَالُ اللَّہِ یُؤْتِیہِ مَنْ یَشَائُ۔
[صحیح۔ احمد ۷۶۲۰۔ ابوداود ۱۷۰۹]
[صحیح۔ احمد ۷۶۲۰۔ ابوداود ۱۷۰۹]
তাহকীক: