আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২ টি

হাদীস নং: ১২১৩৫
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستے میں پڑی چیز کا اٹھانا اور اس کا ترک کرنا جائز نہیں ہے کہ ضائع ہوجائے
(١٢١٣٠) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں لوگوں میں سے مومنوں کے زیادہ قریب ہوں، اللہ کی کتاب میں۔ پس تم میں جو کوئی قرض چھوڑے یا کوئی چیز ضائع کر بیٹھے تو مجھے بتاؤ میں اس کا ولی ہوں اور جو تم میں سے مال چھوڑے تو وہ اپنا مال اپنے رشتہ داروں کے لیے وقف کرے۔
(۱۲۱۳۰) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ بَالُوَیْہِ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِینَ فِی کِتَابِ اللَّہِ فَأَیُّکُمْ مَا تَرَکَ دَیْنًا أَوْ ضَیْعَۃً فَادْعُونِی فَإِنِّی وَلِیُّہُ وَأَیُّکُمْ مَا تَرَکَ مَالاَ فَلْیُؤْثِرْ بِمَالِہِ عَصَبَتَہُ مَنْ کَانَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৩৬
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستے میں پڑی چیز کا اٹھانا اور اس کا ترک کرنا جائز نہیں ہے کہ ضائع ہوجائے
(١٢١٣١) معرور بن سوید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے قصہ بیان کیا، پھر قرآن پاک کی یہ آیت پڑھی : بیشک اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانوں، مالوں کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے، پھر دونوں ہاتھوں کو جوڑا اور کہا : اللہ کی قسم ! اگر اللہ نے اپنی طرف سے خزانوں کو نہ کھولاہوتا تو میں آدمی سے اس کے اور اس کے گھر والوں سے زائد مال لے لیتا اور مہاجرین فقراء کے درمیان تقسیم کردیتا۔
(۱۲۱۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ عُمَرَ فِی قِصَّۃٍ ذَکَرَہَا قَالَ ثُمَّ قَرَأَ عُمَرُ ہَذِہِ الآیَۃَ { إِنَّ اللَّہَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنْفُسَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ بِأَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ} الآیَۃَ فَجَعَلَ لَہُمُ الصَّفْقَتَیْنِ جَمِیعًا وَاللَّہِ لَوْلاَ أَنَّ اللَّہَ أَمَدَّکُمْ بِخَزَائِنَ مِنْ قِبَلِہِ لأَخَذْتُ فَضْلَ مَالِ الرَّجُلِ عَنْ نَفْسِہِ وَعِیَالِہِ فَقَسَمْتُہُ بَیْنَ فُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৩৭
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستے میں پڑی چیز کا اٹھانا اور اس کا ترک کرنا جائز نہیں ہے کہ ضائع ہوجائے
(١٢١٣٢) جراد بن طارق فرماتی ہیں : میں صبح کی نماز کے وقت حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ آیا۔ ابھی بازار میں تھے کہ ایک مولود بچے کی آواز سنی وہ رو رہا تھا۔ اس کے پاس کھڑے ہوئے تو دیکھا کہ اس کی ماں بھی اس کے پاس ہے۔ اس سے کہا۔ تیرا کیا معاملہ ہے ؟ اس عورت نے کہا : میں اس بازار میں کسی کام کی غرض سے آئی تھی تو مجھے حمل نے آلیا ، میں نے بچے کو جنم دیا۔ راوی کہتے ہیں : وہ عورت بازار میں لوگوں کے گھر کے پاس تھی۔ عمر (رض) نے کہا : کیا اس گھر والوں نے تیری خبر لی ہے اور کہا اللہ اس گھر والوں کو برباد نہ کرے۔ اگر مجھے علم ہوجائے کہ ان کو تیری خبر ملی پھر انھوں نے تجھے کوئی فائدہ نہ دیا ہو تو میں ان کے ساتھ کچھ معاملہ کرتا۔ پھر ستو والا پانی منگوایا اور کہا : اسے پی، یہسانس کی بیماری کو دور کر دے گا، آنتوں کو صاف اور وریدوں کو صحیح کر دے گا، پھر ہم نے مسجد میں داخل ہو کر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔

ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اگر مجھے علم ہو کہ انھوں نے تیری خبر لی لیکن تجھے نفع نہ دیا تو ان کو آگ لگا دیتا۔
(۱۲۱۳۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ بَیَانٍ حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ عَنْ فِیلِ بْنِ عَرَادَۃَ عَنْ جَرَادِ بْنِ طَارِقٍ قَالَ : جِئْتُ أَوْ أَقْبَلْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ صَلاَۃِ الْغَدَاۃِ حَتَّی إِذَا کَانَ فِی السُّوقِ فَسَمِعَ صَوْتَ صَبِیٍّ مَوْلُودٍ یَبْکِی حَتَّی قَامَ عَلَیْہِ فَإِذَا عِنْدَہُ أُمُّہُ فَقَالَ لَہَا : مَا شَأْنُکِ؟ قَالَتْ : جِئْتُ إِلَی ہَذَا السُّوقِ لِبَعْضِ الْحَاجَۃِ فَعَرَضَ لِی الْمَخَاضُ فَوَلَدَتُ غُلاَمًا قَالَ وَہِیَ إِلَی جَنْبِ دَارِ قَوْمٍ فِی السُّوقِ فَقَالَ : ہَلْ شَعُرَ بِکِ أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ ہَذِہِ الدَّارِ وَقَالَ : مَا ضَیَّعَ اللَّہُ أَہْلَ ہَذِہِ الدَّارِ أَمَا إِنِّی لَوْ عَلِمْتُ أَنَّہُمْ شَعَرُوا بِکِ ثُمَّ لَمْ یَنْفَعُوکِ فَعَلْتُ بِہِمْ وَفَعَلْتُ ثُمَّ دَعَا لَہَا بِشُرْبَۃِ سَوَیْقٍ فَقَالَ : اشْرَبِی ہَذِہِ تَقْطَعُ الْحَشَا وَتَعْصِمُ الأَمْعَائَ وَتُدِرُّ الْعُرُوقَ ثُمَّ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَصَلَّی بِالنَّاسِ۔ [حسن]

قَالَ الصَّعْقُ حَدَّثَنِی أَزْہَرُ عَنْ فِیلٍ قَالَ: وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّہُمْ شَعَرُوا بِکِ ثُمَّ لَمْ یَنْفَعُوکِ بِشَیْئٍ لَحَرَّقْتُ عَلَیْہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৩৮
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستے میں پڑی چیز کا اٹھانا اور اس کا ترک کرنا جائز نہیں ہے کہ ضائع ہوجائے
(١٢١٣٣) بنو سلیم کے ایک آدمی ابوجمیلہ سے روایت ہے کہ اس نے حضرت عمر (رض) کے دور میں کوئی گری ہوئی چیز پائیتو وہ اسے سیدنا عمر بن خطاب (رض) کے پاس لے گیا۔ آپ نے کہا : تجھے اس جان کو اٹھانے پر کسی نے ابھارا ؟ اس نے کہا : میں نے اسے ضائع ہوتے ہوئے پایا تو میں نے اسے پکڑ لیا۔ ان کو میرے قبیلے کے سردار نے کہا : اے امیرالمومنین ! وہ نیک آدمی ہے، عمر (رض) نے کہا : واقعی ایسے ہے ؟ اس نے کہا : ہاں، حضرت عمر (رض) نے کہا : تو جا پس وہ آزاد ہے اور تیرے لیے اس کی ولاء ہے اور ہم پر اس کا خرچ ہے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اس کو ایک بچہ ملا، وہ حضرت عمر (رض) کے پاس لے آئے، عمر (رض) نے اسے کہا : وہ آزاد ہے اور اس کی ولاء تیرے لیے ہے اور اس کا خرچ ہم پر ہے، بیت المال سے۔
(۱۲۱۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سُنَیْنٍ أَبِی جَمِیلَۃَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ أَنَّہُ وَجَدَ مَنْبُوذًا زَمَانَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَجَائَ بِہِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : مَا حَمَلَکَ عَلَی أَخْذِ ہَذِہ النَّسَمَۃِ۔ فَقَالَ : وَجَدْتُہَا ضَائِعَۃً فَأَخَذْتُہَا فَقَالَ لَہُ عَرِیفِی : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّہُ رَجُلٌ صَالِحٌ قَالَ: أَکَذَلِکَ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ عُمَرُ : اذْہَبْ فَہُوَ حُرٌّ وَلَکَ وَلاَؤُہُ وَعَلَیْنَا نَفَقَتُہُ۔

لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ وَحَدِیثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مُخْتَصَرٌ أَنَّہُ الْتَقَطَ مَنْبُوذًا فَجَائَ بِہِ إِلَی عُمَرَ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : ہُوَ حُرٌّ وَوَلاَؤُہُ لَکَ وَنَفَقَتُہُ عَلَیْنَا مِنْ بَیْتِ الْمَالِ۔ [صحیح۔ الموطا ۱۴۴۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৩৯
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستے میں پڑی چیز کا اٹھانا اور اس کا ترک کرنا جائز نہیں ہے کہ ضائع ہوجائے
(١٢١٣٤) ابو جمیلہسنیننے حضرت عمر (رض) کی خلافت میں ایک بچہ راستے سے پایا، اس نے اسے پکڑ لیا اور اس نے کہا : میرے قبیلے کے سردار نے بتایا کہ جب حضرت عمر (رض) نے مجھے دیکھا تو فرمایا : ایسا نہ ہو کہ یہ غار آفت کا غار ہو۔ عمر (رض) نے کہا : تجھے یہ جان اٹھانے پر کس نے ابھارا ؟ وہ کہتے ہیں : میں نے کہا : میں نے اسے ضائع ہوتے ہوئے پایا تو میں نے اٹھا لیا، میرے قبیلے کے سردار نے کہا : وہ نیک آدمی ہے، عمر (رض) نے کہا : کیا واقعی ایسے ہے ؟ اس نے کہا : ہاں۔ عمر (رض) نے کہا : تو جا، وہ آزاد ہے اور تیرے لیے اس کی ولاء ہے اور ہم پر اس کا خرچ ہے۔
(۱۲۱۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ قَالَ قَالَ یَحْیَی أَخْبَرَنِی ابْنُ شِہَابٍ أَنَّ سُنَیْنًا أَبَا جَمِیلَۃَ أَخْبَرَہُ قَالَ وَنَحْنُ مَعَ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ جُلُوسٌ قَالَ وَزَعَمَ أَبُو جَمِیلَۃَ أَنَّہُ أَدْرَکَ النَّبِیَّ -ﷺ- : أَنَّہُ کَانَ خَرَجَ مَعَہُ عَامَ الْفَتْحِ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ وَجَدَ مَنْبُوذًا فِی خِلاَفَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَخَذَہُ قَالَ فَذَکَرَ ذَلِکَ عَرِیفِی فَلَمَّا رَآنِی عُمَرُ قَالَ : عَسَی الْغُوَیْرُ أَبْؤُسًا مَا حَمَلَکَ عَلَی أَخْذِکَ ہَذِہِ النَّسَمَۃِ قَالَ قُلْتُ : وَجَدْتُہَا ضَائِعَۃً فَأَخَذْتُہَا فَقَالَ عَرِیفِی: إِنَّہُ رَجُلٌ صَالِحٌ قَالَ: کَذَلِکَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ : فَاذْہَبَ بِہِ فَہُوَ حُرٌّ وَلَکَ وَلاَؤُہُ وَعَلَیْنَا نَفَقَتُہُ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৪০
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا کہ لقیط (راستے میں پڑا بچہ) آزاد ہے اس پر ولاء نہیں ہے

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : ولاء اس کے لیے ہے جس نے آزاد کیا۔
(١٢١٣٥) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے لقیط کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وہ آزاد ہے اور یہ آیت تلاوت کی۔ پھر انھوں نے اسے تھوڑی قیمت چند گنتی کے درہموں کے بدلے میں بیچ ڈالا اور وہ اس (یوسف) میں بےرغبتی کرنے والے تھے۔
(۱۲۱۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ السَّرَّاجُ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ وَابْنُ کَثِیرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ قَضَی فِی اللَّقِیطِ أَنَّہُ حُرٌّ وَقَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ { وَشَرَوْہُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاہِمَ مَعْدُودَۃٍ وَکَانُوا فِیہِ مِنَ الزَاہِدِینَ } ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৪১
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا کہ لقیط (راستے میں پڑا بچہ) آزاد ہے اس پر ولاء نہیں ہے

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : ولاء اس کے لیے ہے جس نے آزاد کیا۔
(١٢١٣٦) جہیر بن یزید عبدی فرماتی ہیں : میں نے حسن (رض) سے سنا، ان سے لقیط کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا اسے بیچا جاسکتا ہے ؟ انھوں نے کہا : اللہ نے اس سے انکار کیا ہے، کیا آپ نے سورة یوسف نہیں پڑھی۔
(۱۲۱۳۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا جُہَیْرُ بْنُ یَزِیدَ الْعَبَدِیُّ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ وَسُئِلَ عَنِ اللَّقِیطِ أَیُبَاعُ فَقَالَ : أَبَی اللَّہُ ذَلِکَ أَمَا تَقْرَأُ سُورَۃَ یُوسُفَ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৪২
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچہ کفر میں اپنے والدین کے تابع ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک اسلام لے آئے تو بچہ اسلام میں اس کا تابع ہوتا ہے
(١٢١٣٧) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے والدین اسے یہودی بنالیں یا نصرانی بنالیں۔ جس طرح اونٹ صحیح بچہ جنم دیتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی کان کٹا دیکھا ہے ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کا کیا خیال ہے جو بچپن میں ہی فوت ہوجائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ان کو بہتر جانتا ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔
(۱۲۱۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ وَیُنَصِّرَانِہِ کَمَا تَنَاتَجُ الإِبِلُ مِنْ بَہِیمَۃٍ جَمْعَائَ ہَلْ تُحِسُّ ِنْ جَدْعَائَ ۔قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَفَرَأَیْتَ مَنْ یَمُوتُ وَہُوَ صَغِیرٌ؟ قَالَ : اللَّہُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عَامِلِینَ۔ [بخاری ۱۳۵۸۔ مسلم ۲۶۵۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৪৩
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچہ کفر میں اپنے والدین کے تابع ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک اسلام لے آئے تو بچہ اسلام میں اس کا تابع ہوتا ہے
(١٢١٣٨) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بنی آدم کا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنالیں۔ جس طرح جانور صحیح بچہ جنم دیتا ہے۔ کیا تم اس میں کان کٹا محسوس کرتے ہو ؟ پھر ابوہریرہ (رض) نے کہا : اگر تم چاہتے ہو تو پڑھو، اللہ کی فطرت (اختیار کرو) جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا اللہ کی پیدائش کو تبدیل نہ کرو، یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
(۱۲۱۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الأَخْرَمُ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنِ الزُّبَیْدِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ کَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَا مِنْ مَوْلُودٍ فِی بَنِی آدَمَ إِلاَّ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ حَتَّی یَکُونَ أَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ کَمَا تُنْتَجُ الْبَہِیمَۃُ بَہِیمَۃً جَمْعَائَ ہَلْ تُحِسُّونَ فِیہَا مِنْ جَدْعَائَ ۔ ثُمَّ یَقُولُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ وَاقْرَئُ وا إِنْ شِئْتُمْ (فِطْرَۃَ اللَّہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا لاَ تَبْدِیلَ لِخَلْقِ اللَّہِ ذَلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُونَ)

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْوَلِیدِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ وَرَوَاہُ یُونُسُ بْنُ یَزِیِدَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৪৪
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچہ کفر میں اپنے والدین کے تابع ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک اسلام لے آئے تو بچہ اسلام میں اس کا تابع ہوتا ہے
(١٢١٣٩) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین اسے یہودی بنادیتے ہیں۔ پھر حدیث بیان کی۔
(۱۲۱۳۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی نَصْرٍ الدَّارَبُرْدِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ عَنْ یُونُسَ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ أَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمِثْلِ حَدِیثِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُثْمَانَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৪৫
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچہ کفر میں اپنے والدین کے تابع ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک اسلام لے آئے تو بچہ اسلام میں اس کا تابع ہوتا ہے
(١٢١٤٠) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بھی بچہ پیدا ہو وہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی بنالیں۔ جس طرح جانور بچے جنتے ہیں، کیا تم اس میں کبھی کان کٹا پاتے ہو ؟ یہاں تک کہ تم خود اسے کاٹتے ہو، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کا کیا خیال ہے، جو بچپن میں فوت ہوجائے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ بہتر جانتا ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔
(۱۲۱۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ وَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ یُولَدُ یُولَدُ عَلَی ہَذِہِ الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ وَیُنَصِّرَانِہِ کَمَا تُنْتَجُونَ الْبَہِیمَۃَ فَہَلْ تَجِدُونَ فِیہَا مِنْ جَدْعَائَ حَتَّی تَکُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَہَا ۔

قَالُوا : یَا رَسُولُ اللَّہِ أَفَرَأَیْتَ مَنْ یَمُوتُ وَہُوَ صَغِیرٌ؟ قَالَ : اللَّہُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عَامِلِینَ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ إِسْحَاقَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৪৬
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچہ کفر میں اپنے والدین کے تابع ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک اسلام لے آئے تو بچہ اسلام میں اس کا تابع ہوتا ہے
(١٢١٤١) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ہے کوئی بچہ مگر اس ملت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ واضح کر دے اس سے اس کی زبان۔ پس اس کے والدین اسے یہودی بنا لیتے ہیں یا عیسائی یا مشرک یا مجوسی، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جو اس سے پہلے ہی فوت ہوجائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ جانتا ہے جو وہ اعمال کرنے والے تھے۔
(۱۲۱۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَیْسَ مِنْ مَوْلُودٍ یُولَدُ إِلاَّ عَلَی ہَذِہِ الْمِلَّۃِ حَتَّی یُبِنْ عَنْہُ لِسَانُہُ فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُشَرِّکَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ ۔ قَالَ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَکَیْفَ بِمَنْ کَانَ قَبْلَ ذَلِکَ یَعْنِی مَاتَ قَالَ : اللَّہُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عَامِلِینَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔

وَاخْتُلِفَ فِیہِ عَلَی الأَعْمَشِ فَقَالَ عَنْہُ جَرِیرٌ إِلاَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ وَکَذَلِکَ قَالَہُ عَنْہُ جَمَاعَۃٌ وَقَالَ عَنْہُ حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَلَی الإِسْلاَمِ وَکَانَ الأَعْمَشُ یَرْوِی ہَذَا الْحَدِیثَ عَلَی الْمَعْنَی عِنْدَہُ لاَ عَلَی اللَّفْظِ الْمَرْوِیِّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৪৭
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچہ کفر میں اپنے والدین کے تابع ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک اسلام لے آئے تو بچہ اسلام میں اس کا تابع ہوتا ہے
(١٢١٤٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر انسان کو اس کی ماں فطرت پر پیدا کرتی ہے اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنالیتے ہیں۔ اگر وہ دونوں مسلمان ہوں تو وہ بھی مسلمان ہوگا، ہر انسان کو جب اس کی ماں جنتی ہے تو شیطان اسے چوکے لگاتا ہے، اس کی پسلیوں میں مگر مریم اور اس کا بیٹا۔
(۱۲۱۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : ابْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : کُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُہُ أُمُّہُ عَلَی الْفِطْرَۃِ أَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ فَإِنْ کَانَا مُسْلِمَیْنِ فَمُسْلِمٌ کُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُہُ أُمُّہُ یَلْکُزُہُ الشَّیْطَانُ فِی حِضْنَیْہِ إِلاَّ مَرْیَمَ وَابْنَہَا ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৪৮
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچہ کفر میں اپنے والدین کے تابع ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک اسلام لے آئے تو بچہ اسلام میں اس کا تابع ہوتا ہے
(١٢١٤٣) اسود بن سریع سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کو پھیرلیا جائے۔ اسے اس کے والدین یہودی بنالیتے ہیں یا عیسائی۔

امام شافعی (رح) کا قدیم قول یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بنایا کہ جب تک وہ واضح نہ کردی جائے بات کے ساتھ۔ پس وہ اختیار کرلیں دونوں قولوں ایمان اور کفر میں سے کسی کو۔ ان پر کوئی حکم فی نفسہ نہیں ہے، لیکن ان کے لیے ان کے آباء والا حکم ہے۔ جس دن وہ پیدا کیے گئے تھے، پس وہ اسی حال میں ہوں گے۔ اگر وہ مومن تھے تو مومن ہوں گے، اگر وہ کافر تھے تو وہ کفر پر ہوں گے۔
(۱۲۱۴۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِیعٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ حَتَّی یُعْرِبَ عَنْ نَفْسِہِ ۔ زَادَ فِیہِ غَیْرُہُ : فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ وَیُنَصِّرَانِہِ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ البَغْدَادِیِّ عَنْہُ قَوْلُ النَّبِیِّ -ﷺ- : کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ الَّتِی فَطَرَ اللَّہُ عَلَیْہَا الْخَلْقَ ۔ فَجَعَلَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَا لَمْ یُفْصِحُوا بِالْقَوْلِ فَیَخْتَارُوا أَحَدَ الْقَوْلَیْنِ الإِیمَانَ أَوِ الْکُفْرَ لاَ حُکْمَ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ إِنَّمَا الْحُکْمُ لَہُمْ بِآبَائِہِمْ فَما کَانَ آبَاؤُہُمْ یَوْمَ یُولَدُونَ فَہُوَ بِحَالِہِ إِمَّا مُؤْمِنٌ فَعَلَی إِیمَانِہِ أَوْ کَافِرٌ فَعَلَی کُفْرِہِ۔ [صحیح۔ احمد ۱۵۷۸۔ الدارمی۲۴۶۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৪৯
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچہ کفر میں اپنے والدین کے تابع ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک اسلام لے آئے تو بچہ اسلام میں اس کا تابع ہوتا ہے
(١٢١٤٤) حجاج بن منہال فرماتے ہیں : میں نے حماد بن سلمہ سے سنا وہ حدیث کی تفسیر فرما رہے تھیکہہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، فرمایا : یہ اس وقت سے ہمارے ہاں ہے۔ جب سے اللہ نے ان کے آباء کی پشتوں سے وعدہ لیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے کہا : کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انھوں نے کہا : ہاں۔
(۱۲۱۴۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ قَالَ سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَۃَ یُفَسِّرُ حَدِیثَ : کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلی الْفِطْرَۃِ ۔قَالَ : ہَذَا عِنْدَنَا حَیْثُ أَخَذَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْہِمُ الْعَہْدَ فِی أَصْلاَبِ آبَائِہِمْ حَیْثُ قَالَ {أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلَی}

[صحیح۔ ابوداود ۴۷۱۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৫০
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچہ کفر میں اپنے والدین کے تابع ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک اسلام لے آئے تو بچہ اسلام میں اس کا تابع ہوتا ہے
(١٢١٤٥) حضرت ابوہریرہ (رض) نی فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔

امام اوزراعی (رح) فرماتے ہیں : وہ دونوں اللہ کے علم سے نہ نکال سکتے ہیں اور نہ داخل کرسکتے ہیں۔
(۱۲۱۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ: إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنِی الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ حَدَّثَنِی حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ وَیُنَصِّرَانِہِ وَیُمَجِّسَانِہِ ۔

قَالَ الأَوْزَاعِیُّ : لاَ یُخْرِجَانِہِ مِنْ عِلْمِ اللَّہِ وَإِلَی عِلْمِ اللَّہِ یَصِیرُونَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৫১
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اپنے والدین کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوا یا دونوں میں سے ایک کے اسلام کی وجہ سے صحابہ کرام (رض) کی اولاد میں سے
(١٢١٤٦) عروہ بن زبیر (رض) نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا : جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے تو میں نے اپنے والدین کو اسلام پر ہی پایا ہے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس دن صبح اور شام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے گھر نہ آئے ہوں۔

امام احمد (رح) فرماتے ہیں : سیدہ عائشہ (رض) اسلام پر پیدا ہوئیں اس لیے کہ ان کے والدین ابتدائً اسلام پر تھے اور سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب ان سے شادی کی تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب رخصتی ہوئی اس وقت ٩ سال تھی اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے اس وقت آپ (رض) کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ لیکن اسماء بنت ابی بکر جاہلیت میں پیدا ہوئیں۔ پھر اپنے باپ کی وجہ سے مسلمان ہوئی، اس لیے کہ اس نے جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کی۔ اس وقت وہ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کے ساتھ حاملہ تھیں۔ اسماء نے اس (ابن زبیر) کو قباء میں جنم دیا۔ اسے دودھ نہ پلایا یہاں تک کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے تالو کو کوئی چیز لگائی (گھٹی دی) اور اس کے لیے دعا کی اور وہ اسلام کے پہلے بچے تھے جو مدینہ آنے کے بعد پیدا ہوئے۔
(۱۲۱۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُکْرَمٍ الطَّسْتِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِیکٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنٍ شِہَابٍ أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ : وَاللَّہِ مَا عَقَلْتُ أَبَوَیَّ قَطُّ إِلاَّ یَدِینَانِ الدِّینَ وَمَا مَرَّ عَلَیْنَا یَوْمٌ قَطُّ إِلاَّ یَأْتِینَا فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بُکْرَۃً وَعَشِیًّا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ۔ [بخاری ۴۷۶]

قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَعَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وُلِدَتْ عَلَی الإِسْلاَمِ لأَنَّ أَبَاہَا أَسْلَمَ فِی ابْتِدَائِ الْمَبْعَثِ وَثَابِتٌ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- تَزَوَّجَہَا وَہِی ابْنَۃُ سِتٍّ وَبَنَی بِہَا وَہِیَ ابْنَۃُ تِسْعٍ وَمَاتَ عَنْہَا وَہِی ابْنَۃُ ثَمَانَ عَشْرَۃَ لَکِنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِی بَکْرٍ وُلِدَتْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ثُمَّ أَسْلَمَتْ بِإِسْلاَمِ أَبِیہَا لأَنَّہَا ہَاجَرَتْ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہِیَ حُبْلَی بِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ فَوَضَعَتْہُ بِقُبَائٍ فَلَمْ تُرْضِعْہُ حَتَّی أَتَتْ بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَحَنَّکَہُ وَدَعَا لَہُ وَکَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِی الإِسْلاَمِ بَعْدَ مَقْدَمِہِ الْمَدِینَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৫২
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اپنے والدین کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوا یا دونوں میں سے ایک کے اسلام کی وجہ سے صحابہ کرام (رض) کی اولاد میں سے
(١٢١٤٧) حضرت اسماء (رض) فرماتی ہیں کہ میں عبداللہ بن زبیر (رض) کے ساتھ مکہ میں حاملہ تھیں جب میں نکلی تو مکمل مدت والی تھی، میں مدینہ میں قباء پہنچی تو میں نے اسے جنم دیا۔ پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اپنی گود میں رکھا۔ پھر کھجور منگوائی اسے چبایا اور عبداللہ کے منہ میں رکھا اور تھوک بھی ڈالا۔ پس پہلی چیز جو عبداللہ کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لعاب تھا، پھر اس کے لیے دعا کی اور برکت کی دعا کی اور یہ اسلام میں پہلے بچے تھے جو پیدا ہوئے۔
(۱۲۱۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَسْمَائَ : أَنَّہَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ بِمَکَّۃَ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ فَأَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ فَنَزَلْتُ بِقُبَائٍ فَوَلَدْتُہُ بِقُبَائٍ ثُمَّ أَتَیْتُ َسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَوَضَعَہُ فِی حَجْرِہِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَۃٍ فَمَضَغَہَا ثُمَّ تَفَلَ فِی فِیہِ فَکَانَ أَوَّلَ شَیْئٍ دَخَلَ جَوْفَہُ رِیقُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ حَنَّکَہُ ثُمَّ دَعَا لَہُ وَبَرَّکَ عَلَیْہِ وَکَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِی الإِسْلاَمِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ زَادَ فِیہِ عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ ہِشَامٍ فَلَمْ تُرْضِعْہُ حَتَّی أَتَتْ بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ-۔

وَفِیمَا ذَکَرَ أَبُو عَبْدِاللَّہِ بْنُ مَنْدَۃَ حِکَایَۃً عَنِ ابْنِ أَبِی الزِّنَادِ: أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِی بَکْرٍ کَانَتْ أَکْبَرُ مِنْ عَائِشَۃَ بِعَشْرِ سِنِینَ قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَإِسْلاَمُ أُمِّ أَسْمَائَ تَأَخَّرَ قَالَتْ أَسْمَائُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : قَدِمَتْ عَلَیَّ أُمِّی وَہِیَ مُشْرِکَۃٌ فِی حَدِیثٍ ذَکَرَتْہُ وَہِیَ قُتَیْلَۃُ مِنْ بَنِی مَالِکِ بْنِ حِسْلٍ وَلَیْسَتْ بِأُمِّ عَائِشَۃَ فَکَانَ إِسْلاَمُ أَسْمَائَ بِإِسْلاَمِ أَبِیہَا دُونَ أُمِّہَا وَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ فَکَأَنَّہُ کَانَ بَالِغًا حِینَ أَسْلَمَ أَبَوَاہُ فَلَمْ یَتْبَعْہُمَا فِی الإِسْلاَمِ حَتَّی أَسْلَمَ بَعْدَ مُدَّۃٍ طَوِیلَۃٍ وَکَانَ أَسَنَّ أَوْلاَدِ أَبِی بَکْرٍ۔[بخاری ۳۹۰۹۔ مسلم ۲۱۴۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৫৩
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اپنے والدین کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوا یا دونوں میں سے ایک کے اسلام کی وجہ سے صحابہ کرام (رض) کی اولاد میں سے
(١٢١٤٨) حضرت داؤد بن حصین فرماتے ہیں : میں ام سعد بنت ربیع کے پاس پڑھتا تھا، اور وہ ابوبکر (رض) کے پاس یتیمی کی حالت میں رہ چکی تھیں، میں نے آیت پڑھی : { وَالَّذِینَ عَاقَدَتْ أَیْمَانُکُمْ } انھوں نے کہا : اس طرح نہ پڑھ بلکہ { وَالَّذِینَ عَقَدَتْ أَیْمَانُکُمْ } ہے، یہ آیت حضرت ابوبکر اور ان کے بیٹے عبدالرحمن (رض) کے بارے میں نازل ہوئی جب عبدالرحمن نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا تو ابوبکر (رض) نے قسم اٹھائی کہ وہ اسے وراثت سے محروم کردیں گے، جب وہ مسلمان ہوا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو حکم دیا کہ اس کا حصہ اسے دے دیں۔

ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ وہ اسلام پر آمادہ تلوار کے ساتھ ہوا تھا۔

امام احمد (رح) فرماتے ہیں واقدی کا خیال ہے کہ عبدالرحمن حدیبیہ کی صلح کے وقت مسلمان ہوا اور علی بن زید کا خیال ہے کہ اس نے قریش کے نوجوانوں کے ساتھ مل کر فتح مکہ سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کی تھی اور ابوعبید کا خیال ہے کہ جاہلیت میں عبدالرحمن کا نام عبدالعزیٰ تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا نام عبدالرحمن رکھا اور مصعب بن عبداللہ کا خیال ہے کہ ام عبدالرحمن، عائشہ، ام رومان بنت عامر اسلام لائیں اور ان کا اسلام بہترین ہے۔
(۱۲۱۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ یَحْیَی الْمَعْنَی قَالَ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ قَالَ: کُنْتُ أَقْرَأُ عَلَی أُمِّ سَعْدٍ بِنْتِ الرَّبِیعِ وَکَانَتْ یَتِیمَۃً فِی حَجْرِ أَبِی بَکْرٍ فَقَرَأْتُ {وَالَّذِینَ عَاقَدَتْ أَیْمَانُکُمْ} فَقَالَتْ : لاَ تَقْرَأْ {وَالَّذِینَ عَقَدَتْ أَیْمَانُکُمْ} إِنَّمَا نَزَلَتْ فِی أَبِی بَکْرٍ وَابْنِہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حِینَ أَبَی الإِسْلاَمَ فَحَلَفَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ لاَ یُوَرِّثَہُ فَلَمَّا أَسْلَمَ أَمَرَہُ نَبِیُّ اللَّہُ -ﷺ- أَن یُؤْتِیَہُ نَصِیبَہُ زَادَ عَبْدُ الْعَزِیزِ وَمَا أَسْلَمَ حَتَّی حُمِلَ عَلَی الإِسْلاَمِ بِالسَّیْفِ۔

قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَزَعَمَ الْوَاقِدِیُّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْلَمَ فِی ہُدْنَۃِ الْحُدَیْبِیَۃِ وَزَعَمَ عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ أَنَّہُ ہَاجَرَ فِی فَتِیَۃٍ مِنْ قُرَیْشٍ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- قَبْلَ الْفَتْحِ وَزَعَمَ أَبُو عُبَیْدَۃَ أَنَّ اسْمَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ عَبْدُ الْعُزَّی فَسَمَّاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَزَعَمَ مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الزُّبَیْرِیُّ أَنَّ أُمَّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَائِشَۃَ أَمُّ رُومَانَ بِنْتُ عَامِرٍ أَسْلَمْتْ وَحَسُنَ إِسْلاَمُہَا۔ [ضعیف۔ ابوداود ۲۹۲۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৫৪
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اپنے والدین کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوا یا دونوں میں سے ایک کے اسلام کی وجہ سے صحابہ کرام (رض) کی اولاد میں سے
(١٢١٤٩) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر (رض) اسلام لائے تو لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے اور کہنے لگے : عمر بےدین ہوگیا اور میں گھر کی چھت پر تھا، عاص بن وائل میرے پاس آئے جو ریشم کی قبا پہنے ہوئے تھے، کہنے لگے : عمر بےدین ہوگئے لیکن میں نے اسے پناہ دی ہوئی ہے۔ ابن عمر (رض) کہتے ہیں : لوگ بکھر گئے، میں نے بڑا تعجب کیا اس دن آپ کی عزت پر۔

عمر بن خطاب (رض) اسلام لائے اور عبداللہ بن عمر (رض) ابھی بچے تھے، وہ بھی عمر (رض) کی وجہ سے مسلمان ہوئے اور یہ اس حدیث کی بنا پر ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے، ابن عمر (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن مجھے پیش کیا اور میں اس وقت (١٤) چودہ سال کا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے چھوٹا خیال کیا اور کہا گیا ہے کہ حفصہ اور عبداللہ دونوں اپنے باپ سے پہلے مسلمان ہوئے اور عبداللہ اس وقت چھوٹے تھے، ان کا اسلام باپ کے اسلام کی وجہ سے ہوا۔

اور عباس بن عبدالمطلب (رض) بدر کے دن مشرکوں کے ساتھ نکلے اور قیدی بنا لیے گئے، یہاں تک کہ فدیہ دیا اور اسلام قبول کرلیا۔
(۱۲۱۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ عِیسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَیْہِ قَالُوا صَبَأَ عُمَرُ صَبَأَ عُمَرُ وَأَنَا عَلَی ظَہْرِ بَیْتٍ فَجَائَ الْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ وَعَلَیْہِ قَبَائُ دِیبَاجٍ مُکَفَّفَۃٌ بِحَرِیرٍ فَقَالَ صَبَأَ عُمَرُ فَمَہْ أَنَا لَہُ جَارٌ قَالَ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ قَالَ : فَعَجِبْتُ مِنْ عِزِّہِ یَوْمَئِذٍ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [بخاری ۳۸۶۸]

فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَسْلَمَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ صَبِیٌّ فَصَارَ مُسْلِمًا بِإِسْلاَمِہِ وَذَلِکَ لِمَا فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : عَرَضَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ سَنَۃً فَاسْتَصْغَرَنِی۔ وَقَدْ قِیلَ إِنَّ حَفْصَۃَ وَعَبْدَ اللَّہِ أَسْلَمَا قَبْلَ أَبِیہِمَا وَعَبْدُ اللَّہِ کَانَ صَغِیرًا حِینَئِذٍ فَإِنَّمَا تَمَّ إِسْلاَمُہُ بِإِسْلاَمِ أَبِیہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

وَأَمَّا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَإِنَّہُ خَرَجَ إِلَی بَدْرٍ مَعَ الْمُشْرِکِینَ وَأُسِرَ حَتَّی فَدَی نَفْسَہُ وَأَسْلَمَ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۸۶۵]
tahqiq

তাহকীক: