আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

قسموں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৮০ টি

হাদীস নং: ১৯৯৩৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے والا قسم اور استثناء کے درمیان تھوڑی دیر آواز یا سانس کے انقطاع کی وجہ سے خاموش ہوجائے
(١٩٩٢٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں قریش سے غزوہ کروں گا، اللہ کی قسم ! میں قریش سے غزوہ کروں گا۔ پھر تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر کہا : ان شاء اللہ۔
(۱۹۹۲۷) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ یَعْنِی الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : وَاللَّہِ لأَغْزُوَنَّ قُرَیْشًا وَاللَّہِ لأَغْزُوَنَّ قُرَیْشًا ۔ ثُمَّ سَکَتَ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَ : إِنْ شَائَ اللَّہُ ۔

[منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৩৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے والا قسم اور استثناء کے درمیان تھوڑی دیر آواز یا سانس کے انقطاع کی وجہ سے خاموش ہوجائے
(١٩٩٢٨) شریک سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ فرماتے ہیں کہ پھر تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا : ان شاء اللہ۔
(۱۹۹۲۸) وَرَوَاہُ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ عَنْ شَرِیکٍ کَذَلِکَ مَوْصُولاً وَقَالَ ثُمَّ سَکَتَ سَکْتَۃً ثُمَّ قَالَ إِنْ شَائَ اللَّہُ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ فَذَکَرَہُ۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৩৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے والا قسم اور استثناء کے درمیان تھوڑی دیر آواز یا سانس کے انقطاع کی وجہ سے خاموش ہوجائے
(١٩٩٢٩) عکرمہ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں قریش سے غزوہ کروں گا۔ اللہ کی قسم ! میں قریش سے غزوہ کروں گا۔ اللہ کی قسم ! میں قریش سے غزوہ کروں گا، پھر فرمایا : ان شاء اللہ۔
(۱۹۹۲۹) وَرَوَاہُ قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ شَرِیکٍ فَأَرْسَلَہُ وَلَمْ یَذْکُرِ السُّکَاتَ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : وَاللَّہِ لأَغْزُوَنَّ قُرَیْشًا وَاللَّہِ لأَغْزُوَنَّ قُرَیْشًا وَاللَّہِ لأَغْزُوَنَّ قُرَیْشًا ۔ ثُمَّ قَالَ : إِنْ شَائَ اللَّہُ ۔

[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৩৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے والا قسم اور استثناء کے درمیان تھوڑی دیر آواز یا سانس کے انقطاع کی وجہ سے خاموش ہوجائے
(١٩٩٣٠) عکرمہ مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں ضرور قریش سے غزوہ کروں گا، پھر فرمایا : ان شاء اللہ۔ پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! میں ضرور قریش سے غزوہ کروں گا، ان شاء اللہ۔ پھر فرمایا : اللہ کی قسم میں ضرور قریش سے غزوہ کروں گا، پھر خاموش رہے پھر فرمایا ان شاء اللہ۔

شیخ فرماتے ہیں : اس میں قسم کے اندر استثناء کا رد نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کا فرمان ہے : { وَلاَ تَقُولَنَّ لِشَیْئٍ إِنِّی فَاعِلٌ ذَلِکَ غَدًا } [الکہف ٢٣] آپ کس کام کے لیے یہ نہ کہہ دے میں کل اس کو کرنے والا ہوں۔
(۱۹۹۳۰) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مِسْعَرٌ عَنْ سِمَاکٍ مُرْسَلاً وَذَکَرَ السُّکَاتَ فِی آخِرِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ أَنْبَأَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ یَرْفَعُہُ قَالَ : وَاللَّہِ لأَغْزُوَنَّ قُرَیْشًا ۔ ثُمَّ قَالَ : إِنْ شَائَ اللَّہُ ۔ ثُمَّ قَالَ : وَاللَّہِ لأَغْزُوَنَّ قُرَیْشًا إِنْ شَائَ اللَّہُ ۔ ثُمَّ قَالَ : وَاللَّہِ لأَغْزُوَنَّ قُرَیْشًا ۔ ثُمَّ سَکَتَ ثُمَّ قَالَ : إِنْ شَائَ اللَّہُ ۔

قَالَ الشَّیْخُ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ -ﷺ- إِنْ صَحَّ ہَذَا لَمْ یَقْصِدْ رَدَّ الاِسْتِثْنَائِ إِلَی الْیَمِینِ وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِکَ لِقَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلاَ تَقُولَنَّ لِشَیْئٍ إِنِّی فَاعِلٌ ذَلِکَ غَدًا} [الکہف ۲۳]۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৩৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے والا قسم اور استثناء کے درمیان تھوڑی دیر آواز یا سانس کے انقطاع کی وجہ سے خاموش ہوجائے
(١٩٩٣١) ابن عباس (رض) استثناء کو صحیح خیال کرتے تھے، اگرچہ وہ ایک سال کے بعد بھی ہو۔ پھر پڑھا : { وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْئٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا ۔ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ وَ اذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ ۔ } [الکہف ٢٣۔ ٢٤] ” یہ نہ کہو کہ یہ کام میں کل کروں گا، ہاں اگر اللہ نے چاہا اور اللہ کا ذکرکیجیے، جب آپ بھول جائیں، یعنی جس وقت یاد آئے۔ “

تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : جب بھی استثناء کرنا یاد آجائے تو کرلے۔
(۱۹۹۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ کَانَ یَرَی الاِسْتِثْنَائَ وَلَوْ بَعْدَ سَنَۃٍ ثُمَّ قَرَأَ {وَلاَ تَقُولَنَّ لِشَیْئٍ إِنِّی فَاعِلٌ ذَلِکَ غَدًا إِلاَّ أَنْ یَشَائَ اللَّہُ وَاذْکُرْ رَبَّکَ إِذَا نَسِیتَ} [الکہف ۲۳-۲۴] قَالَ إِذَا ذَکَرْتَ۔

قَالَ الشَّیْخُ کَذَا قَالَ وَبِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ نَقُولُ فِی ذَلِکَ فِی الأَیْمَانِ وَقَدْ یُحْتَمَلُ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنْ یَکُونَ الْمُرَادُ بِہِ أَنَّہُ یَکُونُ مُسْتَعْمِلاً لِلآیَۃِ وَإِنْ ذَکَرَ الاِسْتِثْنَائَ بَعْدَ حِینٍ فِی مِثْلِ مَا وَرَدَتْ فِیہِ الآیَۃُ لاَ فِیمَا یَکُونُ یَمِینًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৩৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم اٹھانے والا خود ہی اپنے دل میں استثناء کرلے
(١٩٩٣٢) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی کسی بھلائی پر قسم اٹھاتا ہے۔ پھر خود ہی استثناء کرلیتا ہے۔ فرمایا : جب تک استثناء کا اظہار نہ ہو جیسے قسم کا اظہار ہوتا ہے تو اس کا اعتبار نہ ہوگا۔
(۱۹۹۳۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیُّ عَنْ جَدِّہِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الرَّجُلُ یَحْلِفُ عَلَی الْیَمِینِ ثُمَّ یَسْتَثْنِی فِی نَفْسِہِ قَالَ لَیْسَ ذَلِکَ بِشَیْئٍ حَتَّی یُظْہِرَ الاِسْتِثْنَائَ کَمَا یُظْہِرُ الْیَمِینَ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৩৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لغو قسم کا بیان
(١٩٩٣٣) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آدمی کی لغو قسم یہ ہے :” لاَ وَاللَّہِ وَبَلَی وَاللَّہِ “۔
(۱۹۹۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو ہَذَا لَفْظُہُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قُلْتُ لِلشَّافِعِیِّ : مَا لَغْوُ الْیَمِینِ قَالَ اللَّہُ أَعْلَمُ أَمَّا الَّذِی نَذْہَبُ إِلَیْہِ فَمَا قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنْبَأَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : لَغْوُ الْیَمِینِ قَوْلُ الإِنْسَانِ لاَ وَاللَّہِ وَبَلَی وَاللَّہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৪০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لغو قسم کا بیان
(١٩٩٣٤) ہشام اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ (رض) سے اس آیت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں : { لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ } [البقرۃ ٢٢٥] ” اللہ تمہاری لغو قسموں پر مواخذہ نہیں فرماتے۔ “ فرماتی ہیں : آدمی کا کہنا : ” لاَ وَاللَّہِ وَبَلَی وَاللَّہِ “ لغو قسم ہے۔
(۱۹۹۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی الْحِیَرِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا ہِشَامٌ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی ہَذِہِ الآیَۃِ {لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللَّہُ بِاللَّغْوِ فِی أَیْمَانِکُمْ} [البقرۃ ۲۲۵] قَالَتْ ہُوَ قَوْلُ الرَّجُلِ لاَ وَاللَّہِ وَبَلَی وَاللَّہِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ یَحْیَی الْقَطَّانِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۶۶۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৪১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لغو قسم کا بیان
(١٩٩٣٥) ہشام بن عروہ اپنیوالد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ لغو قسم وہ ہوتی ہے جو جھگڑے اور مذاق میں اٹھائی جائے اور وہ بات جس پر دل مطمئن نہ ہو اور کفارہ ہر قسم کا جو آپ نے مذاق یا غصہ کی حالت یا اس کے علاوہ میں کہہ دی کہ آپ ضرور یہ کام کریں گے یا ضرور چھوڑیں گے۔ یہ پختہ قسم ہے جس پر اللہ نے کفارہ کو فرض قرار دیا ہے۔
(۱۹۹۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃُ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا کَانَتْ تَقُولُ : أَیْمَانُ اللَّغْوِ مَا کَانَ فِی الْمِرَائِ وَالْہَزْلِ وَمُزَاحَۃِ الْحَدِیثِ الَّذِی لاَ یُعْقَدُ عَلَیْہِ الْقَلْبُ وَإِنَّمَا الْکَفَّارَۃُ فِی کُلِّ یَمِینٍ حَلَفْتَہَا عَلَی جِدٍّ مِنَ الأَمْرِ فِی غَضِبٍ أَوْ غَیْرِہِ لَتَفْعَلَنَّ أَوْ لَتَتْرُکَنَّ فَذَلِکَ عَقْدُ الأَیْمَانِ الَّتِی فَرَضَ اللَّہُ فِیہَا الْکَفَّارَۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৪২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لغو قسم کا بیان
(١٩٩٣٦) عطاء جھوٹی قسم کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آدمی کا اپنے گھر میں کلام کرنا ” کلا وَاللَّہِ وَبَلَی وَاللَّہِ “۔ یعنی عادتاً قسم اٹھاتا ہے۔
(۱۹۹۳۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ مَسْعَدَۃَ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَیْمُونٍ الصَّائِغُ مِنْ أَہْلِ مَرْوٍ عَنْ عَطَائٍ اللَّغْوُ فِی الْیَمِینِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ہُوَ کَلاَمُ الرَّجُلِ فِی بَیْتِہِ کَلاَّ وَاللَّہِ وَبَلَی وَاللَّہِ ۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَی ہَذَا الْحَدِیثَ دَاوُدُ بْنُ أَبِی الْفُرَاتِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ الصَّائِغِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَوْقُوفًا وَرَوَاہُ الزُّہْرِیُّ وَعَبْدُ الْمَلِکِ وَمَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ کُلُّہُمْ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَوْقُوفًا أَیْضًا

قَالَ الشَّیْخُ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ وَابْنُ جُرَیْجٍ وَہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَوْقُوفًا۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৪৩
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لغو قسم کا بیان
(١٩٩٣٧) عطاء فرماتے ہیں کہ میں اور عبید بن عمیر ثبیرنامی جگہ پر حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئے جہاں پر وہ معتکف تھیں۔ ہم نے ان سے اللہ کے اس قول کے بارہ میں سوال کیا : { لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ } [البقرۃ ٢٢٥] ” اللہ تمہاری لغو قسموں کا مواخذہ نہ کرے گا۔ “ فرماتی ہیں : آدمی کا یہ کہنا : ” لاَ وَاللَّہِ وَبَلَی وَاللَّہِ “۔
(۱۹۹۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو وَابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : ذَہَبْتُ أَنَا وَعُبَیْدُ بْنُ عُمَیْرٍ إِلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَہِیَ مُعْتَکِفَۃٌ فِی ثَبِیرٍ فَسَأَلْنَاہَا عَنْ قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللَّہُ بِاللَّغْوِ فِی أَیْمَانِکُمْ} [البقرۃ ۲۲۵] قَالَتْ : لاَ وَاللَّہِ وَبَلَی وَاللَّہِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ اثنین]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৪৪
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لغو قسم کا بیان
(١٩٩٣٨) عطاء فرماتے ہیں کہ میں اور عبید بن عمیر حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئے۔ وہ بئر میمون پر مسواک کر رہی تھیں اور آواز پردہ کے پیچھے سے آرہی تھی۔ انھوں نے ہماری طرف تکیہ ڈالا۔ کہتے ہیں : ہم نے ان سے چند چیزوں کے متعلق سوال کیا اور ہم نے اس آیت کے متعلق بھی سوال کیا { لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ } [البقرۃ ٢٢٥] کہ اللہ تمہاری لغو قسموں کا مواخذہ نہ فرمائے گا ہم نے کہا : لغو کیا ہے ؟ فرماتی ہیں : وہ لوگوں کی باتیں ہیں کہ اللہ کی قسم ! ہم نے یوں کیا وغیرہ۔
(۱۹۹۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : أَتَیْنَا عَائِشَۃَ أَنَا وَعُبَیْدُ بْنُ عُمَیْرٍ وَہِیَ بِبِئْرِ مَیْمُونٍ نَسْمَعُ صَرِیفَ السِّوَاکِ مِنْ وَرَائِ الْحِجَابِ وَہِیَ تَسْتَاکُ فَأَلْقَتْ إِلَیْنَا وِسَادَۃً قَالَ فَسَأَلْنَاہَا عَنْ أَشْیَائَ وَسَأَلْنَا عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ {لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللَّہُ بِاللَّغْوِ فِی أَیْمَانِکُمْ} [البقرۃ ۲۲۵] فَقُلْنَا لَہَا مَا اللَّغْوُ؟ فَقَالَتْ : ہُوَ أَحَادِیثُ النَّاسِ فَعَلْنَا وَاللَّہِ صَنَعْنَا وَاللَّہِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ باثنین]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৪৫
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لغو قسم کا بیان
(١٩٩٣٩) طاؤس (رح) ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ لغو قسم یہ ہے کہ آپ غصہ کی حالت میں قسم اٹھائیں۔
(۱۹۹۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ وَسِیمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَغْوُ الْیَمِینِ أَنْ تَحْلِفَ وَأَنْتَ غَضْبَانُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৪৬
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لغو قسم کا بیان
(١٩٩٤٠) عکرمہ ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : ” لاَ وَاللَّہِ وَبَلَی وَاللَّہِ “۔
(۱۹۹۴۰) قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِیرٍ عَنْ خُصَیْفٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : ہُوَ لاَ وَاللَّہِ وَبَلَی وَاللَّہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৪৭
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہوئے قسم اٹھاتا ہے پھر وہ اس کو جھوٹا پاتا ہے
(١٩٩٤١) عطاء بن ابی رباح فرماتی ہیں کہ میں اور عبید بن عمیرلیثی حضرت عائشہ (رض) کے پاس تھے کہ عبید بن عمیر نے اللہ کے اس قول : { لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ } (البقرۃ : ٢٢٥) کہ اللہ تمہاری لغو قسموں کا محاسبہ نہ فرمائے گا “ کے متعلق پوچھا تو فرمانے لگیں : انسان اپنے علم کے موافق قسم اٹھاتا ہے ، پھر وہ بات اس طرح نہیں ہوتی تو اس پر کفارہ نہیں ہے۔
(۱۹۹۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ قَالَ : کُنْتُ أَنَا وَعُبَیْدُ بْنُ عُمَیْرٍ اللَّیْثِیُّ عِنْدَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَأَلَہَا عُبَیْدٌ عَنْ قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللَّہُ بِاللَّغْوِ فِی أَیْمَانِکُمْ} قَالَتْ حَلِفُ الرَّجُلِ عَلَی عِلْمِہِ ثُمَّ لاَ یَجِدُہُ عَلَی ذَلِکَ فَلَیْسَ فِیہِ کَفَّارَۃٌ۔ کَذَا رَوَاہُ عُمَرُ بْنُ قَیْسٍ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ عَنْ عَطَائٍ عَلَی الْوَجْہِ الَّذِی مَضَی فِی بَابِ اللَّغْوِ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৪৮
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہوئے قسم اٹھاتا ہے پھر وہ اس کو جھوٹا پاتا ہے
(١٩٩٤٢) عروہ بن زبیر حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں ، وہ اس کی یہ تاویل فرماتی تھیں کہ جس پر وہ قسم اٹھاتا ہے اس پر صرف سچائی کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن اس کے برخلاف ہوجاتا ہے۔
(۱۹۹۴۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ وَأَبُو زَکَرِیَّا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی الثِّقَۃُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہَا کَانَتْ تَتَأَوَّلُ ہَذِہِ الآیَۃَ فَتَقُولُ ہُوَ الشَّیْئُ یَحْلِفُ عَلَیْہِ أَحَدُکُمْ لَمْ یُرِدْ بِہِ إِلاَّ الصِّدْقَ فَیَکُونُ عَلَی غَیْرِ مَا حَلَفَ عَلَیْہِ۔ کَذَلِکَ رُوِیَ بِہَذَا الإِسْنَادِ۔

وَرُوِّینَاہُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَلَی الْوَجْہِ الَّذِی مَضَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৪৯
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہوئے قسم اٹھاتا ہے پھر وہ اس کو جھوٹا پاتا ہے
(١٩٩٤٣) ابن ابی نجیح حضرت مجاہد سے اس آیت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ آدمی قسم اٹھالیتا ہے کہ فلاں چیز اس طرح ہے، حالانکہ وہ ایسے نہیں ہے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔
(۱۹۹۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ قَالَ : أَنْ یَحْلِفَ الرَّجُلُ عَلَی الشَّیْئِ یَرَی أَنَّہُ کَذَلِکَ یَقُولُ ہَذَا فُلاَنٌ وَلَیْسَ بِہِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৫০
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہوئے قسم اٹھاتا ہے پھر وہ اس کو جھوٹا پاتا ہے
(١٩٩٤٤) حضرت حسن (رح) اللہ کے اس قول : { لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ } [البقرۃ ٢٢٥] ” اللہ تمہاری لغو قسموں پر تمہارا محاسبہ نہ فرمائیں گے۔ کے متعلق فرماتے ہیں کہ “ آدمی کسی بات پر قسم اٹھاتا ہے لیکن وہ اس طرح نہیں ہوتی تو اس کی وجہ سے نہ کفارہ ہوگا اور نہ ہی مواخذہ ہوگا، بلکہمواخذہ علم کے ہوتے ہوئے ہے۔
(۱۹۹۴۴) قَالَ وَحَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ عَوْفٍ عَنِ الْحَسَنِ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ {لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللَّہُ بِاللَّغْوِ فِی أَیْمَانِکُمْ} [البقرۃ ۲۲۵] قَالَ اللَّغْوُ فِی الأَیْمَانِ أَنْ تَحْلِفَ عَلَی شَیْئٍ وَتَرَی أَنَّہُ کَذَلِکَ فَلَیْسَ فِیہِ مُؤَاخَذَۃٌ وَلاَ کَفَّارَۃٌ وَلَکِنِ الْمُؤَاخَذَۃُ فِیمَا حَلَفْتَ عَلَی عِلْمٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৫১
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہوئے قسم اٹھاتا ہے پھر وہ اس کو جھوٹا پاتا ہے
(١٩٩٤٥) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ آدمی کہتا ہے کہ اللہ کی قسم ! میں ایسا نہ کروں گا، لیکن بھول کر وہ کام کرلیتا ہے، یہ جھوٹ ہے۔ اللہ سے استغفار کرے، اس پر کفارہ نہیں ہے۔
(۱۹۹۴۵) قَالَ وَحَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ قَالَ : وَاللَّہِ مَا فَعَلْتُ وَقَدْ فَعَلَ نَاسِیًا فَلَیْسَ بِشَیْئٍ ہِیَ کِذْبَۃٌ کَذَبَہَا یَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَلاَ کَفَّارَۃَ عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৫২
قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے کے بعد کفارہ دینے کا بیان
(١٩٩٤٦) عبدالرحمن بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبدالرحمن بن سمرہ ! جب آپ کسی کام پر قسم کھا لیں۔ پھر اس سے بہتر کوئی کام ہو تو وہ کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
(۱۹۹۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنِ الْحَسَنِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ وَحُمَیْدٍ الطَّوِیلِ وَیُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَۃَ إِذَا حَلَفْتَ عَلَی یَمِینٍ فَرَأَیْتَ غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا فَائْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَکَفِّرْ عَنْ یَمِینِکَ ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ۔

[صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক: