আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭১৭ টি

হাদীস নং: ৮০৫৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس نے کہا کہ اس کا اطلاق صرف اس پر ہے جو رمضان میں صحبت کر بیٹھے
(٨٠٥١) سعیدبن مسیب فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اپنے بال نوچ رہا تھا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! میں رمضان میں اپنی بیوی پاس آیاہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کفارہ ظہار ادا کرنے کا حکم دیا۔
(۸۰۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعِیدِ بْنِ الأَصْبَہَانِیِّ حَدَّثَہُمْ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- وَہُوَ یَنْتِفُ شَعْرَہُ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَیْتُ أَہْلِی فِی رَمَضَانَ فَأَمَرَہُ أَنْ یُکَفِّرَ کَفْارَۃَ الظِّہَارِ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَامِرٍ الْقُرَشِیِّ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৫৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس نے کہا : یہ حدیث مطلق افطار کے بارے میں جماع کی قید کے بغی رہے اور الفاظ سے اختیار ظاہر ہوتا ہے نہ کہ ترتیب
(٨٠٥٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ افطار کرلیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے غلام آزاد کرنے کا حکم دیا ۔ یا دو مہینے کے روزے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا تو اس نے کہا : میں نہیں پاتا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لے اور صدقہ کر۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں اپنے سے زیادہ محتاج کسی کو نہیں پاتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیے حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے فرمایا : تم کھالو۔
(۸۰۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً أَفْطَرَ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِعِتْقِ رَقَبَۃٍ أَوْ صِیَامِ شَہْرَیْنِ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّینَ مِسْکِینًا قَالَ : إِنِّی لاَ أَجِدُ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ : ((خُذْ ہَذَا فَتَصَدَّقْ بِہِ))۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا أَجِدُ أَحْوَجَ مِنِّی فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی بَدَتْ ثَنَایَاہُ ثُمَّ قَالَ : ((کُلْہُ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عِیسَی عَنْ مَالِکٍ وَبِبَعْضِ مَعْنَاہُ رَوَاہُ أَیْضًا ابْنُ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৫৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس نے کہا : یہ حدیث مطلق افطار کے بارے میں جماع کی قید کے بغی رہے اور الفاظ سے اختیار ظاہر ہوتا ہے نہ کہ ترتیب
(٨٠٥٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو حکم دیا جس نے رمضان میں افطار کیا تھا کہ وہ گردن آزاد کرے یادومہینے کے متواتر روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ امام مسلم نے محمد بن رافع سے صحیح میں نقل کیا اور متتابعین نہیں کہا۔

او رزہری سے منقول ہے کہ وہ وطی کے ساتھ مقید ہے صاحب شرع کے الفاظ کو نقل کرتے ہوئے اور یہی بات قبول کرنے کے لائق ہے من وعن حدیث کی ادائیگی کے لیے۔
(۸۰۵۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنِی ابْنُ شِہَابٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَ رَجُلاً أَفْطَرَ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ بِأَنْ یُعْتِقَ رَقَبَۃً أَوْ صِیَامَ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ أَوْ إِطْعَامَ سِتِّینَ مِسْکِینًا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَلَمْ یَقُلْ مُتَتَابِعَیْنِ وَبِمَعْنَاہُمَا رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَرِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ عَنِ الزُّہْرِیِّ مُقَیَّدَۃٌ بِالْوَطْئِ نَاقِلَۃٌ لِلَفْظِ صَاحِبِ الشَّرْعِ أَوْلَی بِالْقَبُولِ لِزِّیَادَۃِ حِفْظِہِمْ وَأَدَائِہِمُ الْحَدِیثَ عَلَی وَجْہِہِ کَیْفَ وَقَدْ رَوَی حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَۃَ ہَذَا الْحَدِیثَ عَنْ مَالِکٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ نَحْوَ رِوَایَۃِ الْجَمَاعَۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৫৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس نے کہا : یہ حدیث مطلق افطار کے بارے میں جماع کی قید کے بغی رہے اور الفاظ سے اختیار ظاہر ہوتا ہے نہ کہ ترتیب
(٨٠٥٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ بیشک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آدمی کے بارے میں کہا جو رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر بیٹھا تھا کہ غلام آزادکر، اس نے کہا : میں نہیں پاتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو مہینے کے روزے رکھ، اس نے کہا : میں طاقت نہیں رکھتا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔
(۸۰۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ فِی رَجُلٍ وَقَعَ عَلَی أَہْلِہِ فِی رَمَضَانَ فَقَالَ : ((أَعْتِقْ رَقَبَۃً))۔ قَالَ : مَا أَجِدُہَا قَالَ : ((فَصُمْ شَہْرَیْنِ))۔ قَالَ : مَا أَسْتَطِیعُ قَالَ : ((فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا))۔ [صحیح۔ مضیٰ کثیرا]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৫৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس روایت کا بیان جس میں ہے کہ اس صورت میں ایک دن کے روزے کی قضا ہے
(٨٠٥٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا۔
(۸۰۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لَہُ : ((اقْضِ یَوْمًا مَکَانَہُ))۔

وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ الدَّرَاوَرْدِیِّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ وَإِبْرَاہِیمُ سَمِعَ الْحَدِیثَ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَلَمْ یَذْکُرْ عَنْہُ ہَذِہِ اللَّفْظْۃَ فَذَکَرَہَا عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔

وَرَوَاہَا أَیْضًا أَبُو أُوَیْسٍ الْمَدَنِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৫৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس روایت کا بیان جس میں ہے کہ اس صورت میں ایک دن کے روزے کی قضا ہے
٨٠٥٦۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو ایک روزے کی قضا کا حکم دیا جس نے رمضان میں روزہ توڑا تھا۔
(۸۰۵۶) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَہُ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ حَدَّثَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَ الَّذِی یُفْطِرُ فِی رَمَضَانَ أَنْ یَصُومَ یَوْمًا مَکَانَہُ۔

وَرَوَاہُ أَیْضًا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ الأَیْلِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ دارقطنی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৬০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس روایت کا بیان جس میں ہے کہ اس صورت میں ایک دن کے روزے کی قضا ہے
(٨٠٥٧) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا جو بال نوچ رہا تھا اور سینہ پیٹ رہا تھا کہ بندہ ہلاک ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہلاکت کس وجہ سے ؟ اس نے کہا : آج میں اپنی بیوی سے صحبت کر بیٹھا اور یہ رمضان ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تیرے پاس غلام ہے کہ تو اسے آزاد کرے ؟ اس نے کہا : نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو دو مہینے کے متواتر روزے رکھ سکتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاسکتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ پھر وہ آدمی پلٹ گیا تو لوگوں میں سے ایک اپنے مال کا صدقہ لے کر کھجوروں کا بڑا ٹوکرا لے کر آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سائل کہاں ہے ؟ انھوں نے کہا : وہ پھر گیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے میرے پاس لاؤ۔ ایک آدمی اسے لایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لے لو اور صدقہ کردو جو تو نے کیا اس کا کفارہ ہوجائے گا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا مجھ سے زیادہ محتاج پر ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں اور میرے گھر والوں سے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھیں نظر آگئیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لے لو اور اپنے اہل کو کھلادو اور اس کی ایک دن کی قضاکرو۔
(۸۰۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یَنْتِفُ شَعَرَ رَأْسِہِ وَیَدُقُّ صَدْرَہُ وَیَقُولُ : ہَلَکَ الأَبْعَدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ہَلاَکًا مَاذَا؟))۔ قَالَ: إِنِّی وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی الْیَوْمَ وَذَلِکَ فِی رَمَضَانَ قَالَ: ((ہَلْ عِنْدِکَ رَقَبَۃٌ تُعْتِقُہَا؟))۔ قَالَ: لاَ۔ فَقَالَ: ((فَہَلْ تَسْتَطِیعُ صِیَامَ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ؟))۔ قَالَ: لاَ۔ قَالَ: ((فَہَلْ تَسْتَطِیعُ إِطْعَامَ سِتِّینَ مِسْکِینًا؟))۔ قَالَ: لاَ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ بِعَرَقٍ عَظِیمٍ فِیہِ صَدَقَۃُ مَالِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَیْنَ السَّائِلُ؟))۔ قَالُوا: قَدِ انْصَرَفَ قَالَ: عَلَیَّ بِہِ۔ فَجَائَ ہُ الرَّجُلُ فَقَالَ: ((خُذْ ہَذَا فَتَصَدَّقْ بِہِ کَفَّارَۃً لِمَا صَنَعْتَ))۔ قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَعَلَی أَحْوَجَ مِنِّی وَأَہْلِ بَیْتِی وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَحْوَجُ مِنِّی وَمِنْ أَہْلِ بَیْتِی قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ قَالَ : ((فَکُلْ وَأَطْعِمْ أَہْلَ بَیْتِکَ وَاقْضِ یَوْمًا مَکَانَہُ))۔

[حسن لغیرہ۔ اخرجہ دارقطنی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৬১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس روایت کا بیان جس میں ہے کہ اس صورت میں ایک دن کے روزے کی قضا ہے
(٨٠٥٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَعَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ یَنْتِفُ شَعَرَہُ وَیَدْعُو وَیْلَہُ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ( (وَیْحَکَ مَا لَکَ ؟ ) ) ۔ قَالَ : إِنَّ الأَخِرَ وَقَعَ عَلَی امْرَأَتِہِ فِی رَمَضَانَ فَقَالَ لَہُ : ( (أَعْتِقْ رَقَبَۃً ) ) ۔ قَالَ : لاَ أَجِدُہَا قَالَ : ( (فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ) ) ۔ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ قَالَ : ( (فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا) ) ۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : ( (خُذْ ہَذَا فَأَطْعِمْہُ سِتِّینَ مِسْکِینًا) ) ۔ قَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَہْلُ بَیْتٍ أَفْقَرُ إِلَیْہِ مِنَّا۔ قَالَ : ( (کُلْ أَنْتَ وَعِیَالُکَ ) ) ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ احمد ]
(۸۰۵۸) قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ وَعَطَاء ٌ الْخَرَاسَانِیُّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِثْلَہُ۔

(ت) وَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ أَیْضًا فِی حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৬২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس روایت کا بیان جس میں ہے کہ اس صورت میں ایک دن کے روزے کی قضا ہے
(٨٠٥٩) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے، ایک آدمی اپنے بال نوچتا ہوا اور ویل بکتا ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھ پر افسوس تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا : میں وہ رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلام آزاد کر دے۔ اس نے کہا : میں نہیں پاتا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ، اس نے کہا : میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ اس نے کہا : میں نہیں پاتا ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ٹوکرا کھجور کا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لے اور ساٹھ مسکینوں کو کھلادے۔ اس نے کہا : یا نبی اللہ ! ان دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو اور تیرا عیال کھاؤ۔
(۸۰۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَعَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ یَنْتِفُ شَعَرَہُ وَیَدْعُو وَیْلَہُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((وَیْحَکَ مَا لَکَ؟))۔ قَالَ : إِنَّ الأَخِرَ وَقَعَ عَلَی امْرَأَتِہِ فِی رَمَضَانَ فَقَالَ لَہُ : ((أَعْتِقْ رَقَبَۃً))۔ قَالَ : لاَ أَجِدُہَا قَالَ : ((فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ))۔ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ قَالَ : ((فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا))۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : ((خُذْ ہَذَا فَأَطْعِمْہُ سِتِّینَ مِسْکِینًا))۔ قَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَہْلُ بَیْتٍ أَفْقَرُ إِلَیْہِ مِنَّا۔ قَالَ : ((کُلْ أَنْتَ وَعِیَالُکَ))۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৬৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس روایت کا بیان جس میں ہے کہ اس صورت میں ایک دن کے روزے کی قضا ہے
(٨٠٦٠) عمرو بن شعیب (رض) اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے ایسی ہی حدیث نقل فرماتے ہیں۔ ابوہریرہ (رض) کی حدیث بھی اس طرح ہے مگر عمرو نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے ایک دن کی قضاء کا حکم دیا۔

یحییٰ بن ابی طالب نے یزید بن ہارون کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عمروبن شعیب نے ان الفاظ کی زیادتی کی ہے کہ اسے اس کے عوض ایک روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
(۸۰۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمِثْلِ حَدِیثِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ حَدِیثَ الْوَاقِعِ وَزَادَ فِیہِ قَالَ عَمْرٌو : وَأَمَرَہُ أَنْ یَقْضِیَ یَوْمًا مَکَانَہُ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ دارقطنی]

وَرَوَاہُ أَیْضًا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ وَقَالَ : زَادَ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ فِی حَدِیثِہِ فَأَمَرَہُ أَنْ یَصُومَ یَوْمًا مَکَانَہُ۔

وَرَوَاہُ ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ إِلاَّ أَنَّہُ خَالَفَ الْجَمَاعَۃَ فِی إِسْنَادِہِ فَقَالَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৬৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس روایت کا بیان جس میں ہے کہ اس صورت میں ایک دن کے روزے کی قضا ہے
(٨٠٦١) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیاجو رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلام آزاد کر اس نے کہا : میں نہیں پاتا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ، اس نے کہا : میں اس کی قدرت نہیں رکھتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا اور اس نے کہا : میں نہیں پاتا ، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لے لو اور صدقہ کر دو ۔ اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نہیں پاتاجو مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ اس کا محتاج ہو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کھا اور تیرے گھر والے کھائیں، اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھ لینا اور استغفار کر۔
(۸۰۶۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہَ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الزُّبَیْرِیُّ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَاقَعَ أَہْلَہُ فِی رَمَضَانَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((أَعْتِقْ رَقَبَۃً))۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ : ((صُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ))۔ قَالَ : لاَ أَقْدِرُ عَلَیْہِ قَالَ : ((أَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا))۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا فَقَالَ : ((خُذْ ہَذَا فَتَصَدَّقْ بِہِ))۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا أَجِدُ أَحْوَجَ إِلَی ہَذَا مِنِّی وَمِنْ أَہْلِ بَیْتِی فَقَالَ : ((کُلْہُ أَنْتَ وَأَہْلُ بَیْتِکَ وَصُمْ یَوْمًا مَکَانَہُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّہَ))۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ۔

وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔ [منکر الاسناد۔ دارقطنی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৬৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس روایت کا بیان جس میں ہے کہ اس صورت میں ایک دن کے روزے کی قضا ہے
(٨٠٦٢) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا جو اپنے بال نوچ رہا تھا اور سینہ پیٹتا تھا اور کہہ رہا تھا کہ بندہ ہلاک ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا : رمضان میں میں اپنی بیوی کو جا پہنچا اور میں روزے سے تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کہا : کیا تو استطاعت رکھتا ہے کہ غلام آزاد کرے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو استطاعت رکھتا ہے کہ اونٹ کی قربانی دے اس نے کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر بیٹھ جا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے فرمایا : اسے لے جا اور صدقہ کردے۔ اس نے کہا : میں اپنے سے زیادہ کسی کو محتاج نہیں پاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو کھا اور ایک دن کا روزہ رکھ اس کی وجہ سے جو تو نے کیا ہے۔

عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ اس ٹوکرے میں کتنی کھجور تھیں تو انھوں نے کہا : پندرہ سے بیس صاع تک۔ ابوداؤد بن ہند سے بیان کیا ہے وہ دو مہینے کے متواتر روزے ہیں مگر اس میں قضاء اور وزن کا تذکرہ نہیں کیا۔
(۸۰۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : أَتَی أَعْرَابِیٌّ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَنْتِفُ شَعْرَہُ وَیَضْرِبُ نَحْرَہُ وَیَقُولُ : ہَلَکَ الأَبْعَدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَمَا ذَاکَ))۔ قَالَ : أَصَبْتُ أَہْلِی فِی رَمَضَانَ وَأَنَا صَائِمٌ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ہَلْ تَسْتَطِیعُ أَنْ تَعْتَقُ رَقَبَۃً؟))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ((فَہَلْ تَسْتَطِیعُ أَنْ تُہْدِیَ بَدَنَۃً؟))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ((فَاجْلِسْ))۔ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ : ((خُذْ ہَذَا فَتَصَدَّقْ بِہِ))۔ قَالَ : مَا أَجِدُ أَحْوَجَ مِنِّی قَالَ : ((فَکُلْہُ وَصُمْ یَوْمًا مَکَانَ مَا أَصَبْتَ))۔

قَالَ عَطَاء ٌ : فَسَأَلْتُ سَعِیدًا کَمْ فِی ذَلِکَ الْعَرَقِ؟ قَالَ : مَا بَیْنَ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا إِلَی عِشْرِینَ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَطَائٍ۔

وَرَوَاہُ دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عَطَائٍ بِزِیَادَۃِ ذِکْرِ صَوْمِ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یُذْکَرِ الْقَضَائَ وَلاَ قَدْرَ الْعَرَقِ ، وَرُوِیَ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَاخْتُلِفَ عَلَیْہِ فِی لَفْظِ الْحَدِیثِ وَالاِعْتَمِادُ عَلَی الأَحَادِیثِ الْمَوْصُولَۃِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ مالک]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৬৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس نے اس حدیث میں ایسے الفاظ بیان کیے جو اصحاب الحدیث کو پسند نہیں
(٨٠٦٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں ہلاک ہوگیا اور ہلاک کردیا گیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھ پر افسوس تجھے کیا ہوا : اس نے کہا میں اپنی بیوی پر رمضان میں واقع ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو غلام آزاد کر اور حدیث پوری بیان کی۔

(ہمارے شیخ ابو عبداللہ نے ان الفاظ کے حدیث میں ہونے پر استدلال کیا ہے کہ یہ خطأ ہے کیونکہ انھوں نے معلی بن منصور کی کتاب الصوم میں مشہور خط کے ساتھ دیکھا تو انھوں نے یہ حدیث ان الفاظ کے علاوہ میں پائی ہے اور سفیان کے بہت سے ساتھیوں نے اس کے علاوہ بیان کیا ہے۔
(۸۰۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو أَحْمَدَ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ التَّمِیمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ الأَرْغِیَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَۃَ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ ابْنُ الْمُسَیَّبِ وَحَدَّثَنِی عَبْدُ السَّلاَمِ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الْحَمِیدِ أَخْبَرَنَا عُمَرُ وَالْوَلِیدُ قَالُوا أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ : بَیْنَا أَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکْتُ وَأُہْلِکْتُ قَالَ : ((وَیْحَکَ وَمَا شَأْنُکَ؟))۔ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی رَمَضَانَ قَالَ : ((فَأَعْتِقْ رَقَبَۃً۔۔۔))۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔

ضَعَّفَ شَیْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رَحِمَہُ اللَّہُ ہَذِہِ اللَّفْظَۃَ (وَأُہْلِکْتُ) وَحَمَلَہَا عَلَی أَنَّہَا أُدْخِلَتْ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ الأَرْغِیَانِیِّ فَقَدْ رَوَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ بِالإِسْنَادِ الأَوَّلِ دُونَ ہَذِہِ اللَّفْظَۃِ ، وَرَوَاہُ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَلْقَمَۃَ دُونَ ہَذِہِ اللَّفْظَۃِ ، وَرَوَاہُ دُحَیْمٌ وَغَیْرُہُ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ دُونَہَا ، وَرَوَاہُ کَافَّۃُ أَصْحَابِ الأَوْزَاعِیِّ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ دُونَہَا وَلَمْ یَذْکُرْہَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ الزُّہْرِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ إِلاَّ مَا رُوِیَ عَنْ أَبِی ثَوْرٍ عَنْ مُعَلَّی بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ وَکَانَ شَیْخُنَا یَسْتَدِلُّ عَلَی کَوْنِہَا فِی تِلْکَ الرِّوَایَۃِ أَیْضًا خَطَأٌ بِأَنَّہُ نَظَرَ فِی کِتَابِ الصَّوْمِ تَصْنِیفُ الْمُعَلَّی بْنِ مَنْصُورٍ بِخِطٍّ مَشْہُورٍ فَوَجَدَ فِیہِ ہَذَا الْحَدِیثَ دُونَ ہَذِہِ اللَّفْظَۃِ۔ وَأَنَّ کَافَّۃَ أَصْحَابِ سُفْیَانَ رَوَوْہُ عَنْہُ دُونَہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ دارقطنی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৬৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس نے اس حدیث میں ایسے الفاظ بیان کیے جو اصحاب الحدیث کو پسند نہیں
(٨٠٦٤) عباس بن ولید فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبردی کہ اوزاعی سے کہ اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے تو انھوں نے فرمایا : ان دونوں پر ایک ہی کفارہ ہے، سوائے روزے کے مگر روزہ ان دنوں پر ہے انھیں کہا گیا کہ اگر عورت نہ چاہتی ہو تو انھوں نے فرمایا : پھر مرد اکیلے پر روزہ ہے۔
(۸۰۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزِیدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ : سُئِلَ الأَوْزَاعِیُّ عَنْ رَجُلٍ جَامَعَ امْرَأَتَہُ فِی رَمَضَانَ قَالَ : عَلَیْہِمَا کَفَّارَۃٌ وَاحِدَۃٌ إِلاَّ الصِّیَامَ۔ فَإِنَّ الصِّیَامَ عَلَیْہِمَا جَمِیعًا قِیلَ لَہُ : فَإِنِ اسْتَکْرَہَہَا قَالَ عَلَیْہِ الصِّیَامُ وَحْدَہُ۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৬৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس پر سختی کا بیان جس نے رمضان کے مہینے میں جان بوجھ کر بلا عذر روزہ نہ رکھا
(٨٠٦٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے رمضان کا ایک روزہ بلا عذر چھوڑاجو اللہ تعالیٰ نے اسے رخصت اور وہ اس کی قضا نہیں دے سکتا اگرچہ پور اسال روزے رکھے۔

امام ترمذی فرماتے : میں نے امام بخاری سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : ابو المطوس کا نام یزید بن المطوس ہے، وہ حدیث میں متفرد ہے۔ اور مجھے معلوم نہیں کہ ان کے والد نے ابوہریرہ سے سنا یا نہیں۔
(۸۰۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَۃَ بْنَ عُمَیْرٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی الْمُطَوِّسِ قَالَ حَبِیبٌ وَقَدْ رَأَیْتُ أَبَا الْمُطَوِّسِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ أَفْطَرَ یَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ فِی غَیْرِ رُخْصَۃٍ رَخَّصَہَا اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ لَمْ یَقْضِ عَنْہُ وَإِنْ صَامَ الدَّہْرَ کُلَّہُ))۔

وَفِیمَا بَلَغَنِی عَنْ أَبِی عِیسَی التِّرْمِذِیِّ أَنَّہُ قَالَ : سَأَلْتُ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ أَبُو الْمُطَوِّسِ اسْمُہُ یَزِیدُ بْنُ الْمُطَوِّسِ وَتَفَرَّدَ بِہَذَا الْحَدِیثِ وَلاَ أَدْرِی سَمِعَ أَبُوہُ مِنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَمْ لاَ ، وَقَدْ أَخْرَجَ الْبُخَارِیُّ مَتْنَہُ فِی تَرْجَمَۃِ الْبَابِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৬৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس پر سختی کا بیان جس نے رمضان کے مہینے میں جان بوجھ کر بلا عذر روزہ نہ رکھا
(٨٠٦٦) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے رمضان کا ایک روزہ عذر کے بغیر چھوڑا تو اس کو پوری زندگی کے روزے فائدہ نہیں دیں گے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ اگر وہ چاہے تو اسے معاف کردے اگر چاہے تو اسے عذاب کرے۔
(۸۰۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ : ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبْغَدَادَ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُجَشِّرٍ حَدَّثَنَا عَبِیدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ وَاصِلٍ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْیَشْکُرِیِّ قَالَ : حُدِّثْتُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ أَفْطَرَ یَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ عِلَّۃٍ لَمْ یُجْزِہِ صِیَامُ الدَّہْرِ حَتَّی یَلْقَی اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ شَائَ غَفَرَ لَہُ وَإِنْ شَائَ عَذَّبَہُ۔

وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ اون نخرا]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৭০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس پر سختی کا بیان جس نے رمضان کے مہینے میں جان بوجھ کر بلا عذر روزہ نہ رکھا
(٨٠٦٧) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے رمضان میں ایک روزہ جان بوجھ کر چھوڑا پھر لمباعرصہ اسے قضا کرتا رہا تو اس سے قبول نہیں ہوگا۔
(۸۰۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ الثَّقَفِیُّ عَنْ عَرْفَجَۃَ قَالَ

قَالَ عَبْدُاللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ: مَنْ أَفْطَرَ یَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مُتَعَمِّدًا مِنْ غَیْرِ عِلَّۃٍ، ثُمَّ قَضَی طُولَ الدَّہْرِ لَمْ یُقْبَلْ مِنْہُ۔

عَبْدُ الْمَلِکِ ہَذَا أَظُنُّہُ ابْنَ حُسَیْنٍ النَّخَعِیَّ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৭১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس پر سختی کا بیان جس نے رمضان کے مہینے میں جان بوجھ کر بلا عذر روزہ نہ رکھا
(٨٠٦٨) ابراہیم اور یعلی سعیدبن جبیر سے اس شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں : جس نے رمضان میں ایک دن کا روزہ عمداً افطار کیا ہم نہیں جانتے کہ اس کا کفارہ کیا ہے کہ وہ اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھے اور توبہ استغفار کرے۔
(۸۰۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ یَعْنِی ابْنَ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ وَیَعْلَی عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : فِی رَجُلٍ أَفْطَرَ فِی رَمَضَانَ یَوْمًا مُتَعَمِّدًا قَالاَ : مَا نَدْرِی مَا کَفَّارَتُہُ یَصُومُ یَوْمًا مَکَانَہُ وَیَسْتَغْفِرُ اللَّہُ۔

وَرُوِیَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ وَالشَّعْبِیِّ نَحْوَ قَوْلِ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَإِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ فِی أَنْ لاَ کَفَّارَۃَ عَلَیْہِ۔ فَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৭২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس پر سختی کا بیان جس نے رمضان کے مہینے میں جان بوجھ کر بلا عذر روزہ نہ رکھا
(٨٠٦٩ اسماعیل بن سالم مجاہد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو حکم دیا : جس نے رمضان میں ایک دن کا روزہ چھوڑا کہ اس کا کفارہ ظہار کا کفارہ ہے۔
(۸۰۶۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا یَحْیَی الْحِمَّانِیُّ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ عَنْ مُجَاہِدٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَرَ الَّذِی أَفْطَرَ فِی رَمَضَانَ یَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ بِکَفَّارَۃِ الظِّہَارِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن عبدالبر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৭৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس پر سختی کا بیان جس نے رمضان کے مہینے میں جان بوجھ کر بلا عذر روزہ نہ رکھا
(٨٠٧٠) حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی جیسی حدیث اختصار کے ساتھ نقل فرماتے ہیں۔

جریرنے اس حدیث کو ابوہریرہ (رض) کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ اس میں رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہونے والے واقعے کی تفسیر کو بیان کیا ہے اور دوسری سند سے بھی اسی قصے جو واضح بیان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے روزہ توڑنے والے کے کھانے میں کچھ ثابت نہیں۔
(۸۰۷۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا لَیْثٌ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِثْلَہُ فَہَذَا اخْتِصَارٌ وَقَعَ مِنْ ہُشَیْمٍ لِلْحَدِیثِ۔

فَقَدْ رَوَاہُ جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ وَمُوسَی بْنُ أَعْیَنَ وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ لَیْثٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مُفَسَّرًا فِی قِصَّۃِ الْوِاقِعِ عَلَی أَہْلِہِ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ۔

وَہَکَذَا کُلُّ حَدِیثٍ رُوِیَ فِی ہَذَا الْبَابِ مِنْ وَجْہٍ مُطْلَقًا فَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مُبَیَّنًا مُفَسَّرًا فِی قِصَّۃِ الْوِقَاعِ وَلاَ یَثْبُتُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الْمُفْطِرِ بِالأَکْلِ شَیْئٌ۔ [ضعیف۔ انظرقبلہ]
tahqiq

তাহকীক: