আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭১৭ টি
হাদীস নং: ৮০৩৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسے قے آئے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور جس نے خود قے کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا
(٨٠٣١) ابو شبیہ مصری فرماتے ہیں کہ ہم نے ثوبان (رض) سے کہا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حدیث بیان کرو تو انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قے کی اور پھر افطار کردیا۔
(۸۰۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی الْجُودِیِّ عَنْ بَلْجٍ عَنْ أَبِی شَیْبَۃَ الْمَہْرِیِّ قَالَ قُلْنَا لِثَوْبَانَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَائَ فَأَفْطَرَ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৩৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسے قے آئے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور جس نے خود قے کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا
(٨٠٣٢) فضالہ بن عبید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزے کی حالت میں صبح کی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قے کی اور افطار کرلیا ، اس کے متعلق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے خود قے کی تھی۔
(۸۰۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ لَہِیعَۃَ وَالْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أَبِی مَرْزُوقٍ عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ : أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَائِمًا فَقَائَ فَأَفْطَرَ فَسُئِلَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : إِنِّی قِئْتُ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ وَہُوَ أَیْضًا مَحْمُولٌ عَلَی الْعَمْدِ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৩৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسے قے آئے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور جس نے خود قے کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا
(٨٠٣٣) زید بن اسلم (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے قے کی وہ افطار نہ کرے اور نہ ہی وہ جسے احتلام ہوجائے اور نہ ہی وہ جو سینگی لگوائے۔
(۸۰۳۳) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِہِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یُفْطِرُ مَنْ قَائَ ، وَلاَ مَنِ احْتَلَمَ ، وَلاَ مَنِ احْتَجَمَ))۔
فَہَذَا مَحْمُولٌ إِنْ ثَبَتَ عَلَی مَا لَوْ ذَرَعَہُ الْقَیْئُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد]
فَہَذَا مَحْمُولٌ إِنْ ثَبَتَ عَلَی مَا لَوْ ذَرَعَہُ الْقَیْئُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৩৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسے قے آئے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور جس نے خود قے کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا
(٨٠٣٤) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین چیزیں ایسی ہیں جو روزے دار کا روزہ افطار نہیں کرتیں : قے ، سینگی اور احتلام۔
(۸۰۳۴) وَقَدْ رَوَاہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((ثَلاَثٌ لاَ یُفَطِّرْنَ الصَّائِمَ۔ الْقَیْئُ ، وَالاِحْتِلاَمُ ، وَالْحِجَامَۃُ))۔ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ضَعِیفٌ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاہِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَذَکَرَہُ۔
الْمَحْفُوظُ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ہُوَ الأَوَّلُ۔ [منکر۔ انظر قبلہ]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاہِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَذَکَرَہُ۔
الْمَحْفُوظُ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ہُوَ الأَوَّلُ۔ [منکر۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৩৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا حکم جس نے شک کے دن صبح کی اور روزے کی نیت نہ کی پھر اس نے جانا کہ رمضان کا مہینہ ہے تو وہ باقی دن میں کھانے پینے سے رُک گیا
(٨٠٣٥) سلمہ بن اکوع (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلم قبیلے میں سے ایک آدمی کو بھیجا ان کی قوم کی طرف یوم عاشور میں بھیجا اور فرمایا : انھیں حکم دو کہ وہ اس دن کا روزہ رکھیں تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں اگر وہ کھانا کھا رہے ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ان میں سے کھالیا تو وہ باقی دن میں روزہ رکھیں۔
امام بخاری نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے کہ اس صورت میں اسے قضا کا حکم دیا۔
امام بخاری نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے کہ اس صورت میں اسے قضا کا حکم دیا۔
(۸۰۳۵) اسْتِدْلاَلاً بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَعَثَ رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ إِلَی قَوْمِہِ یَوْمَ عَاشُورَائَ فَقَالَ : ((مُرْہُمْ فَلْیَصُومُوا ہَذَا الْیَوْمَ))۔ فَقَالَ : یا رَسُولَ اللَّہِ مَا أَرَانِی آتِیَہُمْ حَتَّی یَطْعَمُوا قَالَ : ((مَنْ طَعِمَ مِنْہُمْ فَلْیَصُمْ بَقِیَّۃَ یَوْمِہِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یَزِیدَ۔
وَقَدْ رُوِیَ فِی الْحَدِیثِ : أَنَّہُ أَمَرَ بِالْقَضَائِ وَذَلِکَ فِیمَا۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یَزِیدَ۔
وَقَدْ رُوِیَ فِی الْحَدِیثِ : أَنَّہُ أَمَرَ بِالْقَضَائِ وَذَلِکَ فِیمَا۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৩৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا حکم جس نے شک کے دن صبح کی اور روزے کی نیت نہ کی پھر اس نے جانا کہ رمضان کا مہینہ ہے تو وہ باقی دن میں کھانے پینے سے رُک گیا
(٨٠٣٦) عبدالرحمن بن مسلمہ (رض) اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ یوم عاشور میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے آج کے دن کا روزہ رکھا ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بقیہ دن کا روزہ مکمل کرو اور اس کی قضا کرو۔
(۸۰۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْلَمَۃَ عَنْ عَمِّہِ : أَنَّ أَسْلَمَ أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- یَوْمَ عَاشُورَائَ فَقَالَ : ((صُمْتُمْ یَوْمَکُمْ ہَذَا؟))۔ قَالُوا : لاَ قَالَ : ((فَأَتِمُّوا بَقِیَّۃَ یَوْمِکُمْ وَاقْضُوہُ))۔
رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمِنْہَالِ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو قِلاَبَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمِنْہَالِ عَنْ یَزِیدَ عَنْ شُعْبَۃَ۔
وَوَقَعَ ذَلِکَ فِی بَعْضِ النُّسَخِ سَعِیدٌ۔
وَقَدْ رَوَاہُ أَیْضًا سَعِیدٌ فَخَالَفَ شُعْبَۃَ فِی الإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ۔ [منکر۔ اخرجہ ابوداؤد]
رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمِنْہَالِ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو قِلاَبَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمِنْہَالِ عَنْ یَزِیدَ عَنْ شُعْبَۃَ۔
وَوَقَعَ ذَلِکَ فِی بَعْضِ النُّسَخِ سَعِیدٌ۔
وَقَدْ رَوَاہُ أَیْضًا سَعِیدٌ فَخَالَفَ شُعْبَۃَ فِی الإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ۔ [منکر۔ اخرجہ ابوداؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৪০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے روزہ لوٹانے کا کہا، اگرچہ اس نے کھایا پیانہ ہو
(٨٠٣٧) سیدہ حفصہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے رات سے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں۔
(۸۰۳۷) وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّرَّاجُ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ حَفْصَۃَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ لَمْ یُجْمِعِ الصِّیَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَلاَ صِیَامَ لَہُ))۔[صحیح۔ مضی تخریجہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৪১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کھاتے ہوئے طلوعِ فجر میں شک کررہا ہو
(٨٠٣٨) ابو الضحیٰ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس سے کہا : میں سحری کب ترک کروں تو آدمی نے کہا : جب تجھے شک ہونے لگے ۔ پھر ابن عباس (رض) نے کہا : تو کھا۔ میں شک نہیں کہتا حتٰی کہ وہ واضح نہ ہوجائے۔
(۸۰۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیْدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی الأَعْمَشُ وَالْحَسَنُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی الضُّحَی أَنَّ رَجُلاً قَالَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : مَتَی أَدَعُ السَّحُورَ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : إِذَا شَکَکْتَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : کُلْ مَا شَکَکْتَ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکَ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৪২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کھاتے ہوئے طلوعِ فجر میں شک کررہا ہو
(٨٠٣٩) حبیب ابن ابی ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس (رض) نے دو آدمیوں کو بھیجا کہ وہ فجر کو دیکھیں تو ان میں سے ایک نے تو نے صبح کرلی اور دوسرے نے کہا : تو نے صبح نہیں کی۔ انھوں نے کہا : تم اختلاف کرتے ہو میرے لیے پانی لاؤ۔
(۸۰۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ قَالَ : أَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلَیْنِ یَنْظُرَانِ إِلَی الْفَجْرِ فَقَالَ أَحَدُہُمَا : أَصْبَحْتَ وَقَالَ الآخَرُ : لاَ قَالَ : اخْتَلَفْتُمَا أَرِنِی شْرَابِی۔
وَرُوِیَ فِی ہَذَا عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ وَعُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ [ضعیف]
وَرُوِیَ فِی ہَذَا عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ وَعُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৪৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان میں روزے کی حالت میں دن کے وقت بیوی سے جماع کرنے کے کفارے کا بیان
(٨٠٤٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! میں ہلاک ہوگیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس نے تجھے ہلاک کردیا ؟ اس نے کہا : رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھاہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تیرے پاس استطاعت ہے کہ تو غلام آزاد کرے۔ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو متواتر دو مہینوں کے روزے رکھ سکتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا آپ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ گے ؟ اس نے کہا : نہیں ، پھر وہ بیٹھ گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا صدقہ کردے ، پھر اس نے کہا : اس وادی میں مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیے۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا : جا اپنے اہل و عیال کو کھلادے۔
(۸۰۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : ہَلَکْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : ((وَمَا أَہْلَکَکَ؟))۔ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِی فِی رَمَضَانَ۔ قَالَ : ((فَہَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَۃً))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ((فَہَلْ تَسْتَطِیعُ أَنْ تَصُومَ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : فَہَلْ تَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ثُمَّ جَلَسَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ تَمْرٌ فَقَالَ : ((تَصَدَّقْ بِہَذَا))۔ فَقَالَ : أَفْقَرُ مِنَّا فَمَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا بَیْتٌ أَحْوَجُ إِلَیْہِ مِنَّا فَضَحِکَ النَّبِیُّ -ﷺ- حَتَّی بَدَتْ أَنْیَابُہُ ، ثُمَّ قَالَ لَہُ : ((اذْہَبْ فَأَطْعِمْہُ أَہْلَکَ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سُفْیَانَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سُفْیَانَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৪৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان میں روزے کی حالت میں دن کے وقت بیوی سے جماع کرنے کے کفارے کا بیان
(٨٠٤١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : ایک آدمی نے اپنی بیوی سے رمضان میں صحبت کرلی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا : کیا تو پاتا ہے جس کے ساتھ غلام آزاد کردے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو دو مہینے کے متواتر روزے رکھ سکتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو پاتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجورں کا ایک ٹوکرا لایا گیا اور وہ بڑا ٹوکرا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اپنی طرف سے کھلادے تو اس نے کہا : ان دونوں پہاڑوں میں کوئی گھر ہم سے زیادہ محتاج نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر اپنے اہل کو ہی کھلادے۔
محمد بن مسلم فرماتے ہیں : یہ رخصت اسی کے لیے تھی۔ جس کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آئے تو وہ اس طرح کرلے جس طرح حکم ہے۔
محمد بن مسلم فرماتے ہیں : یہ رخصت اسی کے لیے تھی۔ جس کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آئے تو وہ اس طرح کرلے جس طرح حکم ہے۔
(۸۰۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الإِسْفَرَائِنِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُوالرَّبِیعِ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ الأَخِرَ وَقَعَ عَلَی امْرَأَتِہِ فِی رَمَضَانَ فَقَالَ لَہُ: ((أَتَجِدُ ما تُحَرِّرُ رَقَبَۃً؟))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ((فَہَلْ تَسْتَطِیعُ أَنْ تَصُومَ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ؟))۔ قَالَ: لاَ قَالَ: ((فَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّینَ مِسْکِینًا؟))۔ قَالَ: لاَ قَالَ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ تَمْرٌ وَہُوَ الزِّنْبِیلُ فَقَالَ : ((أَطْعِمْ ہَذَا عَنْکَ))۔ فَقَالَ : مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَہْلُ بَیْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا قَالَ : ((أَطْعِمْہُ أَہْلَکَ))۔ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ إِنَّمَا کَانَت رُخْصَۃً لِہَذَا فَمَنْ أَصَابَ مِثْلَ مَا أَصَابَ فَلْیَصْنَعْ مَا أُمِرَ بِہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ جَرِیرٍ۔
[صحیح۔ انظر قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ جَرِیرٍ۔
[صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৪৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان میں روزے کی حالت میں دن کے وقت بیوی سے جماع کرنے کے کفارے کا بیان
(٨٠٤٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا رمضان میں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دومہینے کے روزے رکھ اس نے کہا : میں استطاعت نہیں رکھتا، پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا، اس نے کہا : میں نہیں پاتا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجور کے پندرہ صاع تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لے اور اپنی طرف سے کھلادے، اس نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دونوں پہاڑوں میں کوئی گھر ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لے جا اور اپنے اہل کو کھلا۔
اور ٹوکرے میں کھجور کے پندرہ صاع تھے۔
عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ جس کو شبہ ہوا ہے کہ ٹوکرہ پندرہ صاع کا ہے وہ زھری کی روایت ہے۔
اور ٹوکرے میں کھجور کے پندرہ صاع تھے۔
عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ جس کو شبہ ہوا ہے کہ ٹوکرہ پندرہ صاع کا ہے وہ زھری کی روایت ہے۔
(۸۰۴۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو ذَرِّ بْنُ أَبِی الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْقَاسِمِ الْمُذَکِّرُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو الصَّیْرَفِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : أَحْمَدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِیدِ الأَنْصَارِیُّ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی وَقَعْتُ بِامْرَأَتِی فِی رَمَضَانَ ۔ فَقَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَۃً ۔ قَالَ : لاَ أَجِدُہَا قَالَ : ((صُمْ شَہْرَیْنَ مُتَتَابِعَیْنِ))۔ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ قَالَ : ((فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا))۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِمِکْتَلٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ قَالَ : ((خُذْہَا فَأَطْعِمْہُ عَنْکَ))۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَہْلُ بَیْتٍ أَحْوَجُ إِلَیْہِ مِنَّا۔ قَالَ : ((خُذْہُ فَأَطْعِمْہُ أَہْلَکَ))۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ قَالَ فِی الْحَدِیثِ : بِمِکْتَلٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَذَکَرَہُ۔
وَرَوَاہُ الأَوْزَاعِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِی حَفْصَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ ہَکَذَا ، وَذَکَرَہُ ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مِثْلَہُ
وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَجَعَلَ ہَذَا التَّقْدِیرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ فَالَّذِی یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ تَقْدِیرُ الْمِکْتَلِ بِخَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ رِوَایَۃِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ قَالَ فِی الْحَدِیثِ : بِمِکْتَلٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَذَکَرَہُ۔
وَرَوَاہُ الأَوْزَاعِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِی حَفْصَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ ہَکَذَا ، وَذَکَرَہُ ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مِثْلَہُ
وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَجَعَلَ ہَذَا التَّقْدِیرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ فَالَّذِی یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ تَقْدِیرُ الْمِکْتَلِ بِخَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ رِوَایَۃِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৪৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان میں روزے کی حالت میں دن کے وقت بیوی سے جماع کرنے کے کفارے کا بیان
٨٠٤٣۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک آدمی نے کہا : اپنی بیوی سے میں نے رمضان میں صحبت کرلی ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فتویٰ چاہا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو غلام پاتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دومہینے کے متواتر روزے رکھ سکتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔
ابن بکیرنے متتابعین کا لفظ اضافی بیان کیا ہے۔
ابن بکیرنے متتابعین کا لفظ اضافی بیان کیا ہے۔
(۸۰۴۳) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ وَابْنُ مِلْحَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا لَیْثٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوالْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْہَاشِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّ رَجُلاً وَقَعَ بِامْرَأَتِہِ فِی رَمَضَانَ فَاسْتَفْتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : ((ہَلْ تَجِدُ رَقَبَۃً؟))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ((فَہَلْ تَسْتَطِیعُ صِیَامَ شَہْرَیْنِ؟))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ((فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا))۔ زَادَ ابْنُ بُکَیْرٍ فِی رِوَایَتِہِ : ((مُتَتَابِعَیْنِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوالْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْہَاشِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّ رَجُلاً وَقَعَ بِامْرَأَتِہِ فِی رَمَضَانَ فَاسْتَفْتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : ((ہَلْ تَجِدُ رَقَبَۃً؟))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ((فَہَلْ تَسْتَطِیعُ صِیَامَ شَہْرَیْنِ؟))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ((فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا))۔ زَادَ ابْنُ بُکَیْرٍ فِی رِوَایَتِہِ : ((مُتَتَابِعَیْنِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৪৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان میں روزے کی حالت میں دن کے وقت بیوی سے جماع کرنے کے کفارے کا بیان
(٨٠٤٤) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور گویا ہوا کہ میں ہلاک ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ کیسے ؟ تو اس نے کہا : میں رمضان میں بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو غلام پاتا ہے ؟ اس نے : کہا نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو متواتر دو مہینے روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے ؟ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لے جاکر صدقہ کردے۔ اس نے کہا : اپنے سے زیادہ محتاج پر ؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، ہم سے زیادہ محتاج ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی نہیں۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیے ، پھر فرمایا : اسے اپنے اہل و عیال کے پاس لے جا۔
(۸۰۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکْتُ قَالَ: ((وَمَا ذَاکَ؟))۔ قَالَ : أَصَبْتَ أَہْلِی فِی رَمَضَانَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: ((أَتَجِدُ رَقَبَۃً؟))۔ قَالَ: لاَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ: ((أَفَتَسْتَطِیعُ أَنْ تَصُومَ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ))۔ قَالَ : لاَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : ((أَفَتَسْتَطِیعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّینَ مِسْکِینًا؟))۔ قَالَ : لاَ أَجِدُہُ قَالَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ تَمْرٌ قَالَ : اذْہَبْ فَتَصَدَّقْ بِہَذَا ۔ فَقَالَ : عَلَی أَفْقَرَ مِنِّی وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَہْلُ بَیْتٍ أَحْوَجُ إِلَیْہِ مِنَّا قَالَ : فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ قَالَ : ((اذْہَبْ بِہِ إِلَی أَہْلِکَ))۔ قَالَ الزُّہْرِیُّ وَإِنَّمَا کَانَ ہَذَا رُخْصَۃً لِلرَّجُلِ وَحْدَہُ وَلَوْ أَنَّ رَجُلاً أَصَابَ أَہْلَہُ فِی رَمَضَانَ الْیَوْمَ لَمْ یَکُنْ لَہُ إِلاَّ أَنْ یُکَفِّرَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ مَعْمَرٍ وَبِمَعْنَی ہَؤُلاَئِ رَوَاہُ أَکْثَرُ أَصْحَابِ الزُّہْرِیِّ إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ وَعُقَیْلُ بْنُ خَالِدٍ وَغَیْرُہُمَا۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عِرَاکُ بْنُ مَالِکٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ مَعْمَرٍ وَبِمَعْنَی ہَؤُلاَئِ رَوَاہُ أَکْثَرُ أَصْحَابِ الزُّہْرِیِّ إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ وَعُقَیْلُ بْنُ خَالِدٍ وَغَیْرُہُمَا۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عِرَاکُ بْنُ مَالِکٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৪৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان میں روزے کی حالت میں دن کے وقت بیوی سے جماع کرنے کے کفارے کا بیان
(٨٠٤٥) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا کہ وہ ہلاک ہوگیا تو لوگوں نے اسے پوچھا : تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا : رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجور کا ٹوکرا لایا گیا جسے عرق کہا جاتا ہے، اس میں کھجور تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ ہلاک ہونے والا کہاں ہے ؟ ایک آدمی کھڑا ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے صدقہ کردو۔
(۸۰۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ أَخْبَرَہُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَنَّہُ سَمِعَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّہُ احْتَرَقَ فَسَأَلَہُ مَا لَہُ فَقَالَ : أَصَبْتُ أَہْلِیَ فِی رَمَضَانَ قَالَتْ : فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِمِکْتَلٍ یُدْعَی الْعَرَقُ فِیہِ تَمْرٌ فَقَالَ : ((أَیْنَ الْمُحْتَرِقُ؟))۔ فَقَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ : ((تَصَدَّقْ بِہَذَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُنِیرٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیِّ وَاللَّیْثِ بِنْ سَعْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُنِیرٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیِّ وَاللَّیْثِ بِنْ سَعْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৪৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان میں روزے کی حالت میں دن کے وقت بیوی سے جماع کرنے کے کفارے کا بیان
(٨٠٤٦) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہاڑ کے سائے میں تشریف فرماتھے کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا جو بنو رضاعہ میں سے تھا ، کہنے لگا : میں ہلاک ہوگیا کہ رمضان کے مہینے میں بیوی پر واقع ہوگیا ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلام آزاد کر ، اس نے کہا میں نہیں پاتا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ اس نے کہا : میرے پاس نہیں ہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا، جس میں بیس صاع تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا صدقہ کر ۔ اس نے کہا : ہمارے پاس آج رات کا کھانا نہیں ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر اپنے اہل پر لوٹادے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں جو زیادہ بیانات ہیں وہ ابوہریرہ (رض) کے حافظے کی صحت پر دال ہیں۔ اس قصے کے علاوہ بھی انھوں نے کہا : کہ بیس صاع تھے ۔ یہ ایک بات جو محمد بن جعفر تک پہنچی محمد بن جعفر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے بیان کیا گیا کہ وہ صدقہ بیس صاع کھجور تھا جب کہ ابوہریرہ (رض) نے پندرہ صاع زیادہ بیان کیے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں جو زیادہ بیانات ہیں وہ ابوہریرہ (رض) کے حافظے کی صحت پر دال ہیں۔ اس قصے کے علاوہ بھی انھوں نے کہا : کہ بیس صاع تھے ۔ یہ ایک بات جو محمد بن جعفر تک پہنچی محمد بن جعفر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے بیان کیا گیا کہ وہ صدقہ بیس صاع کھجور تھا جب کہ ابوہریرہ (رض) نے پندرہ صاع زیادہ بیان کیے۔
(۸۰۴۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُہَیْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ فَارِسٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنِی الأُوَیْسِیُّ حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبَّادٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- جَالِسًا فِی ظِلِّ فَارِعٍ فَجَائَ ہُ رَجُلٌ مِنْ بَنِی بَیَاضَۃَ فَقَالَ : احْتَرَقْتُ وَقَعْتُ بِامْرَأَتِی فِی رَمَضَانَ فَقَالَ: ((أَعْتِقْ رَقَبَۃً))۔ قَالَ: لاَ أَجِدُ قَالَ: ((أَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا))۔ قَالَ: لَیْسَ عِنْدِی فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ فِیہِ عِشْرُونَ صَاعًا فَقَالَ : ((تَصَدَّقَ))۔ فَقَالَ : مَا نَجْدُ عَشَائَ لَیْلَۃٍ قَالَ : ((فَعُدْ بِہِ عَلَی أَہْلِکَ))۔
قَالَ الشَّیْخُ : الزِّیَادَاتُ الَّتِی فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ تَدُلُّ عَلَی صِحَّۃِ حِفْظِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَمَنْ دُونِہِ لِتِلْکَ القِصَّۃِ وَقَوْلُہُ فِیہِ عِشْرُونَ صَاعًا بَلاَغٌ بُلِّغَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ۔
وَقَدْ رَوَی الْحَدِیثَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بِبَعْضٍ مِنْ ہَذَا یَزِیدُ وَیَنْقُصُ وَفِی آخِرِہِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : فَحُدِّثْتُ بَعْدُ أَنَّ تِلْکَ الصَّدَقَۃَ کَانَتْ عِشْرِینَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ وَقَدْ رُوِیَ فِی حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا وَہُوَ أَصَحُّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن۔ البخاری]
قَالَ الشَّیْخُ : الزِّیَادَاتُ الَّتِی فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ تَدُلُّ عَلَی صِحَّۃِ حِفْظِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَمَنْ دُونِہِ لِتِلْکَ القِصَّۃِ وَقَوْلُہُ فِیہِ عِشْرُونَ صَاعًا بَلاَغٌ بُلِّغَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ۔
وَقَدْ رَوَی الْحَدِیثَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بِبَعْضٍ مِنْ ہَذَا یَزِیدُ وَیَنْقُصُ وَفِی آخِرِہِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : فَحُدِّثْتُ بَعْدُ أَنَّ تِلْکَ الصَّدَقَۃَ کَانَتْ عِشْرِینَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ وَقَدْ رُوِیَ فِی حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا وَہُوَ أَصَحُّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৫০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس نے کہا کہ اس کا اطلاق صرف اس پر ہے جو رمضان میں صحبت کر بیٹھے
(٨٠٤٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں ہلاک ہوگیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے فرمایا : کیا ہوا ؟ اس نے کہا : روزے کی حالت میں میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو غلام رکھتا ہے کہ اسے آزاد کر دے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو دو مہینے کے متواتر روزے رکھنے کی استطاعت رکھتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی گنجائش ہے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے ۔ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : ہم ابھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہی تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کہا : یہ لے لو اور صدقہ کردے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھ سے زیادہ محتاج کون ہے ؟ اللہ کی قسم ! ان دونوں پہاڑوں کے درمیان میرے اہل سے زیادہ محتاج کوئی نہیں۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں اور فرمایا : جا اپنے اہل کو کھلادے۔
(۸۰۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُوالْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکْتُ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا لَکَ؟))۔ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِی وَأَنَا صَائِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ہَلْ تَجِدُ رَقَبَۃً تُعْتِقُہَا؟))۔ فَقَالَ : لاَ فَقَالَ : ((فَہَلْ تَسْتَطِیعُ أَنْ تَصُومَ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ؟))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ((فَہَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّینَ مِسْکِینًا؟))۔ قَالَ : لاَ فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَبَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ أُتِیَ بِعَرَقٍ فِیہِ تَمْرٌ وَالْعَرَقُ الْمِکْتَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَیْنَ السَّائِلُ آنِفًا خُذْ ہَذَا التَّمْرَ فَتَصَدَّقْ؟))۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : أَعَلَی أَفْقَرَ مِنْ أَہْلِّی یَا رَسُولَ اللَّہِ فَوَ اللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا یُرِیدُ الْحَرَّتَیْنِ أَہْلُ بَیْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَہْلِ بَیْتِی قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی بَدَتْ أَنْیَابُہُ ، ثُمَّ قَالَ : ((أَطْعِمْہُ أَہْلَکَ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ ھذا لفظ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ ھذا لفظ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৫১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس نے کہا کہ اس کا اطلاق صرف اس پر ہے جو رمضان میں صحبت کر بیٹھے
٨٠٤٨۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ہلاک ہوگیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھ پر افسوس ! وہ کیسے ؟ تو اس نے کہا : میں رمضان کے مہینے میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلام آزاد کر۔ اس نے کہا : میں نہیں پاتا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر دو مہینے کے متواتر روزے رکھ۔ اس نے کہا : میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر اساٹھ مسکینوں کو کھلادے ، اس نے کہا میں نہیں پاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجور کا ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع ہوں گے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لے جا اور صدقہ کر۔ اس نے کہا : اپنے اہل سے زیادہ محتاجوں پرا للہ کی قسم ! ان دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لے اور استغفار کر اور اپنے اہل کو ہی کھلادے۔ ابن عباس (رض) نے پندرہ صاع ذکر فرمائے ہیں۔
(۸۰۴۸) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الإِسْکَنْدَرَانِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ ہَاشِمِ بْنِ مَرْثَدٍ حَدَّثَنَا دُحَیْمٌ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ یَعْنِی ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکْتُ قَالَ : ((وَیْحَکَ وَمَا ذَاکَ؟))۔ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی یَوْمٍ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ قَالَ : ((أَعْتِقْ رَقَبَۃً))۔ قَالَ : مَا أَجِدُہَا قَالَ : ((فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ))۔ قَالَ : مَا أَسْتَطِیعُ قَالَ : ((أَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا))۔ قَالَ : ما أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ تَمْرٌ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ : ((خُذْہُ فَتَصَدَّقَ بِہِ))۔ قَالَ : عَلَی أَفْقَرَ مِنْ أَہْلِی فَوَاللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیِ الْمَدِینَۃِ أَحْوَجُ مِنْ أَہْلِی قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی بَدَتْ أَنْیَابُہُ قَالَ : ((خُذْہُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّہَ وَأَطْعِمْہُ أَہْلَکَ))۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ وَالْہِقْلُ بْنُ زِیَادٍ وَمَسْرُورُ بْنُ صَدَقَۃَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ غَیْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُبَارَکِ جَعَلَ قَوْلَہُ ((خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا)) مِنْ رِوَایَۃِ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبِ ، وَأَدْرَجَہُ ہِقْلٌ وَمَسْرُورٌ فِی الْحَدِیثِ کَمَا أَخْرَجَہُ دُحَیْمٌ عَنِ الْوَلِیدِ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ وَالْہِقْلُ بْنُ زِیَادٍ وَمَسْرُورُ بْنُ صَدَقَۃَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ غَیْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُبَارَکِ جَعَلَ قَوْلَہُ ((خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا)) مِنْ رِوَایَۃِ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبِ ، وَأَدْرَجَہُ ہِقْلٌ وَمَسْرُورٌ فِی الْحَدِیثِ کَمَا أَخْرَجَہُ دُحَیْمٌ عَنِ الْوَلِیدِ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৫২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس نے کہا کہ اس کا اطلاق صرف اس پر ہے جو رمضان میں صحبت کر بیٹھے
(٨٠٤٩) عبدلرحمن بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں ہلاک ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھ پر افسوس ! وہ کیسے ؟ اس نے کہا : میں رمضان میں روزے سے تھا اور اپنی بیوی سے صحبت کرلی ہے تو رسوال اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تیرے پاس غلام ہے جو تو آزادکردے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو دو مہینے متواتر روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھلانے کی گنجائش رکھتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے۔ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : ہم اسی حالت میں بیٹھے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجو وروں کا ایک ٹوکرالایا گیا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابھی جو آدمی تھا وہ کہاں ہے ؟ اور فرمایا : یہ لے لو اور صدقہ کردو۔ اس نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو مجھ سے زیادہ محتاج ہیں ان پر، اللہ کی قسم دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیے حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے گھر والوں کو کھلادے۔
زہری فرماتے ہیں کہ راویوں کی جماعت نے اس پر اتفاق کیا ہے۔ اسی وجہ سے اس کا نام بھی ہم نے رکھ دیا اور یہ کہ آدمی کا افطار جماع کرنے کی وجہ سے ہوا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفارے کا حکم ایک ترتیب سے دیا سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ یہ رمضان میں دن کے وقت جماع کرنے کے ساتھ مقید۔
زہری فرماتے ہیں کہ راویوں کی جماعت نے اس پر اتفاق کیا ہے۔ اسی وجہ سے اس کا نام بھی ہم نے رکھ دیا اور یہ کہ آدمی کا افطار جماع کرنے کی وجہ سے ہوا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفارے کا حکم ایک ترتیب سے دیا سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ یہ رمضان میں دن کے وقت جماع کرنے کے ساتھ مقید۔
(۸۰۴۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الزَّاہِدُ أَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْجُنَیْدِ الرَّازِیُّ وَأَنَا سَأَلْتُہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَۃُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِجَادِ بْنِ یَزِیدَ ابْنِ أَخِی یُونُسَ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : أَتَی رَجُلٌ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَیْحَکَ وَمَا ذَاکَ؟))۔ قَالَ : إِنِّی وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِی وَأَنَا صَائِمٌ فِی رَمَضَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ہَلْ تَجِدُ رَقَبَۃً تُعْتِقُہَا؟))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ((فَہَلْ تَسْتَطِیعُ أَنْ تَصُومَ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ))۔ قَالَ : لاَ قَالَ : ((فَہَلْ تَجِدُ طَعَامَ سِتِّینَ مِسْکِینًا؟))۔ قَالَ : لاَ فَسَکَتَ النَّبِیُّ -ﷺ- قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : فَبَیْنَا نَحْنُ عَلَی ذَلِکَ أُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ تَمْرٌ فَقَالَ : ((أَیْنَ الرَّجُلُ آنِفًا خُذْ ہَذَا فَتَصَدَّقْ بِہِ))۔ قَالَ عَلَی أَفْقَرَ مِنْ أَہْلِی یَا رَسُولَ اللَّہِ وَاللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَہْلُ بَیْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا قَالَ : فَضَحِکَ النَّبِیُّ -ﷺ- حَتَّی بَدَتْ أَنْیَابُہُ ، ثُمَّ قَالَ : ((أَطْعِمْہُ أَہْلَکَ))۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ وَصَالِحُ بْنُ أَبِی الأَخْضَرِ وَغَیْرُہُمْ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَاتَّفَقَتْ رِوَایَۃُ جَمَاعَتِہِمْ وَرِوَایَۃُ مَنْ سَمَّینَاہُمْ فِی الْبَابِ قَبْلَہُ عَلَی أَنَّ فِطْرَ الرَّجُلِ وَقَعَ بِجِمَاعٍ وَأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَرَ بِالْکَفَارَۃِ عَلَی اللَّفْظِ الَّذِی یَقْتَضِی التَّرْتِیبِ۔
وَرُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُقَیْدًا بِالْوَطْئِ فِی رَمَضَانَ نَہَارًا۔
[صحیح۔ معنی قریب]
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ وَصَالِحُ بْنُ أَبِی الأَخْضَرِ وَغَیْرُہُمْ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَاتَّفَقَتْ رِوَایَۃُ جَمَاعَتِہِمْ وَرِوَایَۃُ مَنْ سَمَّینَاہُمْ فِی الْبَابِ قَبْلَہُ عَلَی أَنَّ فِطْرَ الرَّجُلِ وَقَعَ بِجِمَاعٍ وَأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَرَ بِالْکَفَارَۃِ عَلَی اللَّفْظِ الَّذِی یَقْتَضِی التَّرْتِیبِ۔
وَرُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُقَیْدًا بِالْوَطْئِ فِی رَمَضَانَ نَہَارًا۔
[صحیح۔ معنی قریب]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৫৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس نے کہا کہ اس کا اطلاق صرف اس پر ہے جو رمضان میں صحبت کر بیٹھے
(٨٠٥٠) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : میں ہلاک ہوگیا ۔ اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیوں بھئی ؟ اس نے کہا : رمضان میں دن کے وقت صحبت کرلی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدقہ کر صدقہ اس نے کہا : میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بیٹھنے کو کہا ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو ٹوکریاں لائی گئیں جن میں کھانا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا صدقہ کرنے کا حکم دیا ایک روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٹھہرنے کا حکم دیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھانے کی ایک ٹوکری آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو صدقہ کردے۔
(۸۰۵۰) أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ إِمْلاَئً مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ : مُوسَی بْنُ سَہْلٍ الْجَوْنِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الرُّمْحِ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: احْتَرَقْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لِمَ؟ ۔ قَالَ : وَطِئْتُ امْرَأَتِی فِی رَمَضَانَ نَہَارًا قَالَ : ((تَصَدَّقَ تَصَدَّقَ))۔ قَالَ : مَا عِنْدِی شَیْء ٌ۔ فَأَمَرَہُ أَنْ یَجْلِسَ فَجَائَ ہُ عَرَقَانِ فِیہِمَا طَعَامٌ فَأَمَرَہُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِہِ۔
لَفْظُ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ الرُّمْحِ ، وَفِی رِوَایَۃِ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ فَأَمَرَہُ أَنْ یَمْکُثَ فَجَائَ ہُ عَرَقٌ مِنْ طَعَامٍ فَأَمَرَہُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الرُّمْحِ وَرِوَایَۃُ ابْنِ بُکَیْرٍ فِی الْعَرَقِ أَصَحُّ لِمُوَافَقَتِہَا سَائِرَ الرِّوَایَاتِ عَنِ اللَّیْثِ وَرِوَایَۃُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیِّ وَیَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ إِمْلاَئً مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ : مُوسَی بْنُ سَہْلٍ الْجَوْنِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الرُّمْحِ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: احْتَرَقْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لِمَ؟ ۔ قَالَ : وَطِئْتُ امْرَأَتِی فِی رَمَضَانَ نَہَارًا قَالَ : ((تَصَدَّقَ تَصَدَّقَ))۔ قَالَ : مَا عِنْدِی شَیْء ٌ۔ فَأَمَرَہُ أَنْ یَجْلِسَ فَجَائَ ہُ عَرَقَانِ فِیہِمَا طَعَامٌ فَأَمَرَہُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِہِ۔
لَفْظُ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ الرُّمْحِ ، وَفِی رِوَایَۃِ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ فَأَمَرَہُ أَنْ یَمْکُثَ فَجَائَ ہُ عَرَقٌ مِنْ طَعَامٍ فَأَمَرَہُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الرُّمْحِ وَرِوَایَۃُ ابْنِ بُکَیْرٍ فِی الْعَرَقِ أَصَحُّ لِمُوَافَقَتِہَا سَائِرَ الرِّوَایَاتِ عَنِ اللَّیْثِ وَرِوَایَۃُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیِّ وَیَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
তাহকীক: