আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭১৭ টি

হাদীস নং: ৮০১৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا حکم جس نے کھایا اور سمجھا کہ سورج غروب ہوچکا ہے ، پھر اسے علم ہوا کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا
(٨٠١١) حضرت اسماء (رض) فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ایک بادل کے دن میں روزہ افطار کیا، پھر سورج نکل آیا تو میں نے ہشام سے کہا : پھر انھیں قضاکا حکم دیا گیا یہی اس کا حل ہے۔
(۸۰۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ فَاطِمَۃَ عَنْ أَسْمَائَ قَالَتْ : أَفْطَرْنَا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی یَوْمِ غَیْمٍ ثُمَّ بَدَتْ لَنَا الشَّمْسُ فَقُلْتُ لِہِشَامٍ فَأُمِرُوا بِالْقَضَائِ قَالَ فَبُدٌّ مِنْ ذَلِکَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০১৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا حکم جس نے کھایا اور سمجھا کہ سورج غروب ہوچکا ہے ، پھر اسے علم ہوا کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا
(٨٠١٢) زید بن مسلم اپنے بھائی خالد بن اسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے رمضان میں ایک بادلوں کے دن میں روزہ افطار کیا۔ انھوں نے سمجھا کہ شام ہوچکی ہے اور سورج غروب ہوچکا ہے ، پھر ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : اے امیر المومنین ! سورج نکل آیا ہے تو عمر (رض) نے کہا : فرق تو تھوڑاہی ہے ، ویسے ہم نے اجتھاد کیا تھا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں اس کے عوض ایک دن کی قضاکرے۔
(۸۰۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَخِیہِ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَفْطَرَ فِی رَمَضَانَ فِی یَوْمٍ ذِی غَیْمٍ وَرَأَی أَنَّہُ قَدْ أَمْسَی وَغَابِتِ الشَّمْسُ۔ فَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ عُمَرُ : الْخَطْبُ یَسِیرٌ وَقَدِ اجْتَہَدْنَا۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ : یَعْنِی قَضَائَ یَوْمٍ مَکَانَہُ وَعَلَی ذَلِکَ حَمَلَہُ أَیْضًا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ۔

وَرَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَخِیہِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُمَرَ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ عُمَرَ مُفَسَّرًا فِی الْقَضَائِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০১৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا حکم جس نے کھایا اور سمجھا کہ سورج غروب ہوچکا ہے ، پھر اسے علم ہوا کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا
(٨٠١٣) علی بن حنظلہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم عمر (رض) کے پاس تھے کہ رمضان کے مہینے میں ایک ٹب لایا گیا، موذن نے کہا : ابھی سورج ہے تو انھوں نے کہا : اللہ ہمیں تیرے شر سے محفوظ رکھے ، ہم نے تجھے سورج دیکھنے کے لیے نہیں بھیجا، ہم نے تجھے نماز کی طرف بلانے کے لیے بھیجا ہے۔ پھر فرمایا : اے لوگو ! جس نے تم میں سے روزہ افطار کرلیا ہے وہ ایک دن کی قضا دے یا اپنے روزے کو پوراکرے۔
(۸۰۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَبَلَۃَ بْنِ سُحَیْمٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حَنْظَلَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأُتِیَ بِجَفْنَۃٍ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ الْمُؤَذِّنُ : الشَّمْسُ طَالِعَۃٌ فَقَالَ : أَغْنَی اللَّہُ عَنَّا شَّرَّکَ إِنَّا لَمْ نُرْسِلْکَ رَاعِیًا لِلشَّمْسِ إِنَّمَا أَرْسَلْنَاکَ دَاعِیًا إِلَی الصَّلاَۃِ یَا ہَؤُلاَئَ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ أَفْطَرَ فَقَضَائُ یَوْمٍ یَسِیرٌ وَإِلاَّ فَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی نُعَیْمٍ وَفِی رِوَایَۃِ یَعْلَی : فَأَتَیْنَا بِطَعَامٍ فَأَفْطَرَ وَقَالَ : فَمَا أَیْسَرَ قَضَائَ یَوْمٍ ، وَمَنْ لاَ فَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০১৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا حکم جس نے کھایا اور سمجھا کہ سورج غروب ہوچکا ہے ، پھر اسے علم ہوا کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا
(٨٠١٤) علی بن حنظلہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے والد کا والد عمر (رض) کے دوست تھے۔ وہ کہتے ہیں : میں ایک مرتبہ رمضان میں عمر (رض) کے پاس تھا تو انھوں نے روزہ افطار کیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا پھر موذن اذان کے لیے اُوپر چڑھاتو اس نے کہا : لوگو یہ رہا سورج ابھی تو غروب نہیں ہو اتو عمر (رض) نے کہا : اللہ ہمیں تیرے شر سے کافی ہو، ہم نے تجھے یہ دیکھنے کے لیے نہیں بھیجا۔ پھر عمر (رض) نے کہا : جس نے تم میں سے افطار کرلیا ہے وہ اس کے عوض ایک روزہ رکھے۔
(۸۰۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ جَبَلَۃَ بْنِ سُحَیْمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ حَنْظَلَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ وَکَانَ أَبُوہُ صَدِیقًا لِعُمَرَ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فِی رَمَضَانَ فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ فَصَعِدَ الْمُؤَذِّنُ لِیُؤَذِّنَ فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ہَذِہِ الشَّمْسُ لَمْ تَغْرُبْ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : کَفَانَا اللَّہُ شَرَّکَ إِنَّا لَمْ نَبْعَثْکَ رَاعِیًا ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَنْ کَانَ أَفْطَرَ فَلْیَصُمْ یَوْمًا مَکَانَہُ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ بِمَعْنَاہُ أَبُو إِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حَنْظَلَۃَ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُمَرَ۔

[صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০১৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا حکم جس نے کھایا اور سمجھا کہ سورج غروب ہوچکا ہے ، پھر اسے علم ہوا کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا
(٨٠١٥) بشر بن قیس عمربن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان میں عمر (رض) کے پاس تھا اور اس دن بادل چھائے ہوئے تھے ، انھوں نے سمجھا کہ سورج غروب ہوچکا ہے تو عمر (رض) نے پیا اور مجھے بھی پلایا، پھر انھوں نے اسے پہاڑ کے دامن میں دیکھا تو عمر (رض) نے کہا : کوئی بات نہیں ہم اس کے عوض ایک روزہ رکھیں گے۔

عمربن خطاب (رض) سے ان روایات کا واضح آنا غلطی کی صورت میں قضا کے واجب ہونے کی دلیل ہے اور زید بن وھب کی روایت کے مطابق قضا کے ترک کی ہے۔
(۸۰۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ زِیَادٍ یَعْنِی ابْنَ عِلاَقَۃَ عَنْ بِشْرِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَہُ عَشِیَّۃً فِی رَمَضَانَ وَکَانَ یَوْمَ غَیْمٍ فَظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ غَابَتْ فَشَرِبَ عُمَرُ وَسَقَانِی ، ثُمَّ نَظَرُوا إِلَیْہَا عَلَی سَفْحِ الْجَبَلِ فَقَالَ عُمَرُ : لاَ نَُبالِی وَاللَّہِ نَقْضِی یَوْمًا مَکَانَہُ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْوَلِیدُ بْنُ أَبِی ثَوْرٍ عَنْ زِیَادٍ۔

وَفِی تَظَاہُرِ ہَذِہِ الرِوَایَاتِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْقَضَائِ دَلِیلٌ عَلَی خَطَإِ رِوَایَۃِ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ فِی تَرَکِ الْقَضَائِ ۔ وَہِیَ فِیمَا۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০১৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا حکم جس نے کھایا اور سمجھا کہ سورج غروب ہوچکا ہے ، پھر اسے علم ہوا کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا
(٨٠١٦) زید بن وھب (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم مدینے کی مسجد میں بیٹھے تھے، رمضان کی بات ہے اور آسمانوں پر بادل تھے۔ ہم نے سوچا کہ سورج غروب ہوچکا ہے اور ہم نے شام کرلی تو ہمارے لیے بیت حفصہ سے دودھ کا ایک ٹب نکالا گیا تو عمر (رض) نے پیا اور ہم نے بھی پیا۔ ہم ابھی تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے کہ بادل چھٹ گئے اور سورج نکلا تو ہم میں سے بعض نے کہا ہم قضاکر دیں گے : یہ بات عمر (رض) کو پہنچی تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم اس کی قضا نہیں کریں گے ہم نے یہ گناہ جان بوجھ کر نہیں کیا۔

یہ روایت پہلی روایات کے مخالف ہے۔ زید ثقہ ہیں مگر خطاء سے مامون نہیں ہیں اللہ ہمیں پھیلنے اور غلطی سے بچائے اپنی وسیع رحمت سے۔
(۸۰۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَیْبَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِی مَسْجِدِ الْمَدِینَۃِ فِی رَمَضَانَ وَالسَّمَائُ مُتَغَیِّمَۃٌ فَرَأَیْنَا أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ غَابَتْ وَأَنَّا قَدْ أَمْسَیْنَا فَأُخْرِجَتْ لَنَا عِسَاسٌ مِنْ لَبَنٍ مِنْ بَیْتِ حَفْصَۃَ فَشَرِبَ عُمَرُ وَشَرِبْنَا فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ ذَہَبَ السَّحَابُ وَبَدَتِ الشَّمْسُ فَجَعَلَ بَعْضُنَا یَقُولُ لِبَعْضٍ : نَقْضِی یَوْمَنَا ہَذَا۔ فَسَمِعَ ذَلِکَ عُمَرُ فَقَالَ : وَاللَّہِ لاِ نَقْضِیہِ وَمَا تَجَانَفْنَا لإِثْمٍ۔

کَذَا رَوَاہُ شَیْبَانُ۔

وَرَوَاہُ حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ وَکَانَ یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ الْفَارِسِیُّ یَحْمِلُ عَلَی زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ بِہَذِہِ الرِّوَایَۃِ الْمُخَالِفَۃِ لِلرِّوَایَاتِ الْمُتَقَدِّمَۃِ وَیَعُدُّہَا مِمَا خُولِفَ فِیہِ وَزَیْدٌ ثِقَۃٌ إِلاَّ أَنَّ الْخَطَأَ غَیْرُ مَأْمُونٍ وَاللَّہُ یَعْصِمُنَا مِنَ الزَّلَلِ وَالْخَطَایَا بِمَنِّہِ وَسِعَۃِ رَحْمَتِہِ۔ [منکر۔ اخرجہ الفسوی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০২০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا حکم جس نے کھایا اور سمجھا کہ سورج غروب ہوچکا ہے ، پھر اسے علم ہوا کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا
(٨٠١٧) شعیب بن عمروبن سلیم (رض) انصاری ایک سو پندرہ سال کی عمر میں تھے، فرماتے ہیں کہ ہم نے صہیب کے ساتھ افطار کیا، میں اور میرے والد رمضان کے مہینے میں ایک بارش اور بادلوں کے دن میں ہم رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ سورج ظاہر ہوگیا تو صہیب (رض) نے کہا : یہ اللہ کی طرف سے کھلانا تھا، لہٰذا تم اپنا روزہ رات تک پورا کرو اور اس کی جگہ ایک روزہ کی قضا کرنا۔
(۸۰۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ صَیْفِیِّ بْنِ صُہَیْبٍ صَاحِبِ النَّبِیِّ -ﷺ- حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُلَیْمٍ الأَنْصَارِیُّ وَکَانَ أَتَی عَلَیْہِ مِائَۃٌ وَخَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً قَالَ : أَفْطَرْنَا مَعَ صُہَیْبٍ الْخَیْرِ أَنَا وَأَبِی فِی شَہْرِ رَمَضَانَ فِی یَوْمِ غَیْمٍ وَطَشٍ ، فَبَیْنَا نَحْنُ نَتَعَشَّی إِذْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ۔ فَقَالَ صُہَیْبٌ : طُعْمَۃُ اللَّہِ أَتِمُّوا صِیَامَکُمْ إِلَی اللَّیْلِ وَاقْضُوا یَوْمًا مَکَانَہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০২১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جس پر فجر طلوع ہوگئی اور اس کے منہ میں کچھ تھا اس نے اسے پھینک دیا اور روزہ مکمل کیا
(٨٠١٨) عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : ایک دن میں بیوی کے قریب ہوا اور بوسہ دیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں روزے سے تھا۔ میں نے کہا : میں نے آج بہت بڑا گناہ کیا ہے، کہ میں نے روزے کی حالت میں بوسہ دیا ہی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا کیا خیال ہے اگر تو روزے کی حالت میں پانی سے کلی کرے ۔ وہ کہتے ہیں : میں نے کہا : اس کا کوئی حرج نہیں ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر کس بات سے پریشان ہے۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر بعد فجر لقمہ نگلا ہے تو اس کے عوض ایک دن کی قضاکرے گا
(۸۰۱۸) اسْتِدْلاَلاً بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلاَّبُ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ نَصْرٍ الرَّازِیَّانُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ سُوَیْدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ : قَالَ ہَشِشْتُ یَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَأَتِیتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : صَنَعْتُ الْیَوْمَ أَمْرًا عَظِیمًا قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَرَأَیْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَائٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ))۔ قَالَ فَقُلْتُ : لاَ بَأْسَ بِذَلِکَ قَالَ رَسُولُ اللَّہ صلی اللہ علیہ وسلم- : ((فَفِیمَ))۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَإِنِ ازْدَرَدَہُ بَعْدَ الْفَجْرِ قَضَی یَوْمًا مَکَانَہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ۔ [صحیح۔ اخرجہ الحاکم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০২২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جس پر فجر طلوع ہوگئی اور اس کے منہ میں کچھ تھا اس نے اسے پھینک دیا اور روزہ مکمل کیا
(٨٠١٩) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اتنی دیر نہ رکھے جب تک اس سے اپنی ضرورت پوری نہ کرلے۔
(۸۰۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ النَّرْسِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرِّیَاحِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : ((إِذَا سَمِعَ أَحَدُکُمُ النِّدَائَ وَالإِنَائُ عَلَی یَدِہِ فَلاَ یَضَعْہُ حَتَّی یَقْضِیَ حَاجَتَہُ مِنْہُ))۔ [حسن۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০২৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جس پر فجر طلوع ہوگئی اور اس کے منہ میں کچھ تھا اس نے اسے پھینک دیا اور روزہ مکمل کیا
(٨٠٢٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ مؤذن اذان کہتے جب فجرروشن ہوجاتی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو ضرورت پوری کرلے۔
(۸۰۲۰) قَالَ وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِی عَمَّارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِثْلَہُ۔ قَالَ الرِّیَاحِیُّ فِی رِوَایَتِہِ وَزَادَ فِیہِ : وَکَانَ الْمُؤَذِّنُونَ یُؤَذِّنُونَ إِذَا بَزَغَ الْفَجْرُ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ غَیْرُہُ عَنْ حَمَّادٍ۔

وَہَذَا إِنْ صَحَّ فَہُوَ مَحْمُولٌ عِنْدَ عَوَامِّ أَہْلِ الْعِلْمِ عَلَی أَنَّہُ -ﷺ- عَلِمَ أَنَّ الْمُنَادِیَ کَانَ یُنَادِی قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ بِحَیْثُ یَقَعُ شُرْبُہُ قُبَیْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ وَقَوْلُ الرَّاوِی وَکَانَ الْمُؤَذِّنُونَ یُؤَذِّنُونَ إِذَا بَزَغَ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ خَبَرًا مُنْقَطِعًا مِمَّنْ دُونَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَوْ یَکُونَ خَبَرًا عَنِ الأَذَانِ الثَّانِی وَقَوْلُ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((إِذَا سَمِعَ أَحَدُکُمُ النِّدَائَ وَالإِنَائُ عَلَی یَدِہِ))۔ خَبَرًا عَنِ النِّدَائِ الأَوَّلِ لِیَکُونَ مُوَافِقًا لِمَا۔ [حسن۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০২৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جس پر فجر طلوع ہوگئی اور اس کے منہ میں کچھ تھا اس نے اسے پھینک دیا اور روزہ مکمل کیا
(٨٠٢١) عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کسی کو بلال کی اذان سحری سے نہ روکے ، وہ تو تمہیں نیند سے بیدار کرنے کے لیے اذان کہتا ہے اور قیام کرنے والے کو لوٹاتا ہے۔

جریر فرماتے ہیں کہ انھوں نے لمبائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فجر کی نشاندہی نہیں کی ، بلکہ چوڑائی کی طرف اشارہ کیا کیونکہ وہ لمبائی میں نہیں ہوتی۔
(۸۰۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ یَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْکُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ مِنْ سُحُورِہِ ، فَإِنَّمَا یُنَادِی لِیُوقِظَ نَائِمَکُمْ وَیَرْجِعَ قَائِمَکُمْ))۔

قَالَ جَرِیرٌ فِی حَدِیثِہِ: وَلَیْسَ أَنْ یَقُولَ ہَکَذَا وَلَکِنْ یَقُولُ ہَکَذَا الْفَجْرُ ہُوَ الْمُعْتَرِضُ وَلَیْسَ بِالْمُسْتَطِیلِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ التَّیْمِیِّ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০২৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جس پر فجر طلوع ہوگئی اور اس کے منہ میں کچھ تھا اس نے اسے پھینک دیا اور روزہ مکمل کیا
(٨٠٢٢) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک بلال رات کو اذان کہتا ہے، سو تم کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔
(۸۰۲۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ بِلاَلاً یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ کِلاَہُمَا عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ مقفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০২৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جس پر فجر طلوع ہوگئی اور اس کے منہ میں کچھ تھا اس نے اسے پھینک دیا اور روزہ مکمل کیا
(٨٠٢٣) شیبان (رض) فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور میں نے اذان کہی اور کونے میں بیٹھ گیا تو مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابو یحییٰ ! میں نے کہا : جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریب ہو اور کھالے ۔ میں نے کہا : میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن ہمارے مؤذن کے آنکھ میں برائی ہے یا کچھ اور ہے کہ اس نے طلوع فجر سے پہلے اذان کہہ دی۔

اس حدیث میں اشعت بن سوار اکیلے ہیں۔ اگر یہ صحیح ہے جیسے ابن مکتوم (رض) کی اذان فجر سے پہلے ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھانے سے منع نہیں کیا ، اسی وجہ سے ہم نے اس کا تذکرہ کیا ہے اور تمام اخبار موافق نہیں۔
(۸۰۲۳) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِی ہُبَیْرَۃَ عَنْ جَدِّہِ شَیْبَانَ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَنَادَیْتُ فَتَنَحَّیْتُ فَقَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَبَا یَحْیَی))۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : ((ادْنُہْ ہَلُمَّ الْغَدَائِ))۔ قُلْتُ : إِنِّی أُرِیدُ الصَّوْمَ قَالَ : ((وَأَنَا أُرِیدُ الصَّوْمَ وَلَکِنَّ مُؤَذِّنَنَا فِی بَصَرِہِ سَوْء ٌ أَوْ شَیْء ٌ أَذَّنَ قَبْلَ أَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ))۔ کَذَا رَوَاہُ حَفْصٌ۔

وَرَوَاہُ شَرِیکٌ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادٍ الأَنْصَارِیِّ وَہُوَ أَبُو ہُبَیْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ۔

وَالْحَدِیثُ یَنْفَرِّدُ بِہِ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ فَإِنْ صَحَّ فَکَأَنَّ ابْنَ أُمِّ مَکْتُومٍ وَقَعَ تَأْذِینُہُ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَمْ یَمْتَنِعْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الأَکْلِ وَعَلَی ہَذَا الَّذِی ذَکَرْنَا تَأَتَفِقُ الأَخْبَارُ وَلاَ تَخْتَلِفُ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔

[حسن لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০২৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو جماع کی حالت میں ہو اور فجر طلوع ہوجائے اور وہ روزہ پورا کرے
(٨٠٢٤) نافع فرماتے ہیں : عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے تھے کہ اگر نماز کے لیے اذان ہوجائے اور آدمی اپنی بیوی پر ہو تو یہ عمل اسے نہیں روکتا کہ وہ روزہ رکھے، جب وہ روزے کا ارادہ رکھتا ہو۔ وہ کھڑا ہو غسل کرے اور روزہ پورا کرے۔
(۸۰۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَہُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : لَوْ نُودِیَ بِالصَّلاَۃِ وَالرَّجُلُ عَلَی امْرَأَتِہِ لَمْ یَمْنَعْہُ ذَلِکَ أَنْ یَصُومَ إِذَا أَرَادَ الصِّیَامَ قَامَ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَمَّ صِیَامَہُ۔

[صحیح۔ رجالہ ثقات]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০২৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسے قے آئے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور جس نے خود قے کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا
(٨٠٢٥) ربیع بن سلیمان فرماتے ہیں کہ ہمیں امام شافعی (رح) نے خبر دی کہ جس نے جان بوجھ کر قے کی، اس پر قضا واجب ہے اور جسے قے آجائے اس پر قضا نہیں ہے۔ یہ خبر ہمیں مالک نے دی۔
(۸۰۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ : وَمَنْ تَقَیَّأَ وَہُوَ صَائِمٌ وَجَبَ عَلَیْہِ الْقَضَائُ ، وَمَنْ ذَرَعَہُ الْقَیْئُ فَلاَ قَضَائَ عَلَیْہِ وَبِہَذَا أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ الی الشافعی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০২৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسے قے آئے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور جس نے خود قے کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا
(٨٠٢٦) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جسے خود قے آجائے اس پر قضا نہیں اور جو جان بوجھ کر قے کرے اس پر قضا واجب ہے۔
(۸۰۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّبْعِیُّ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُو نَصْرٍ : مَنْصُورُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْمُفَسِّرُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ : مَنْ ذَرَعَہُ الْقَیْئُ فَلاَ قَضَائَ عَلَیْہِ وَمَنِ اسْتَقَائَ فَعَلَیْہِ الْقَضَائُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৩০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسے قے آئے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور جس نے خود قے کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا
(٨٠٢٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جسے قے آجائے اور وہ روزے سے ہو تو اس پر قضا نہیں اور اگر خود قے کی ہے تو پھر روزے کی قضا ہے جسے ادا کرے۔
(۸۰۲۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو الْحَسَنِ السُّبْعِیُّ وَأَبُو نَصْرٍ : مَنْصُورُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَنَزِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی عِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنْ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ حَکِیمٍ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْخَیْرِ : جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ ذَرَعَہُ الْقَیْئُ وَہُوَ صَائِمٌ فَلَیْسَ عَلَیْہِ قَضاء ٌ وَإِنِ اسْتَقَائَ فَلْیَقْضِ))۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৩১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسے قے آئے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور جس نے خود قے کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا
(٨٠٢٨) حفص بن غیاث فرماتے ہیں کہ ہشام بن حسان نے اسی معنی میں حدیث بیان کی اور ابوہریرہ (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے قے کے بارے میں فرمایا : وہ روزہ توڑتی ہے۔
(۸۰۲۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی دَاوُدَ الْبُرُلُّسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُوسَعِیدٍ: یَحْیَی بْنُ سُلَیْمَانَ الْجُعْفِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ۔

تَفَرَّدَ بِہِ ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِیُّ ، وَقَدْ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ وَبَعْضُ الْحُفَّاظِ لاَ یَرَاہُ مَحْفُوظًا۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ یَقُولُ : لَیْسَ مِنْ ذَا شَیْء ٌ۔ قُلْتُ وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ ضَعِیفٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا ، وَرُوِیَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ قَالَ فِی الْقَیْئِ : لاَ یُفْطِّرُ۔

وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ قَوْلِہِ ۔ [صحیح۔ انظرقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৩২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسے قے آئے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور جس نے خود قے کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا
(٨٠٢٩) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جس نے روزے کی حالت میں بھول کر کھالیا تو وہ رزق ہے جو اللہ نے اسے عطا کیا ہے اور جب وہ روزے کی حالت میں قے کرلے تو اس پر قضا ہے اور جب زبردستی قے آجائے تو پھر قضا نہیں ہے۔
(۸۰۲۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا أَکَلَ الرَّجُلُ نَاسِیًا وَہُوَ صَائِمٌ فَإِنَّمَا ہُوَ رِزْقٌ رَزَقَہُ اللَّہُ إِیَّاہُ ، وَإِذَا تَقَیَّأَ وَہُوَ صَائِمٌ فَعَلَیْہِ الْقَضَائُ ، وَإِذَا ذَرَعَہُ الْقَیْئُ فَلَیْسَ عَلَیْہِ الْقَضَائُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৩৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسے قے آئے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا اور جس نے خود قے کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا
(٨٠٣٠) ابودرداء (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قے کی، پھر افطار کرلیا۔ وہ کہتے ہیں : میں ثوبان سے ملا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غلام تھا دمشق کی مسجد میں تو میں نے ان سے کہا : ابو درداء نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قے کی اور افطارکردیاتو انھوں نے کہ سچ کہا ہے اور میں پانی انڈیل رہاتھا۔

یہ حدیث سند کے لحاظ سے مختلف ہے اگر صحیح ہے تو پھر اس پر محمول ہو کہ اگر قے جان بوجھ کر کی ہے اور آپ کا نفلی روزہ تھا۔
(۸۰۳۰) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ جَنَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِی الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الأَوْزَاعِیُّ عَنْ یَعِیشَ بْنِ الْوَلِیدِ بْنِ ہِشَامٍ حَدَّثَہُ : أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ قَالَ حَدَّثَنِی مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَۃَ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَائَ فَأَفْطَرَ قَالَ فَلَقِیتُ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ لَہُ: إِنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ أَخْبَرَنِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَائَ فَأَفْطَرَ فَقَالَ: صَدَقَ وَأَنَا صَبَبْتُ عَلَیْہِ وَضُوئَ ہُ۔

ہَذَا حَدِیثٌ مُخْتَلَفٌ فِی إِسْنَادِہِ فَإِنْ صَحَّ فَہُوَ مَحْمُولٌ عَلَی مَا لَوْ تَقَیَّأَ عَامِدًا وَکَأَنَّہُ -ﷺ- کَانَ مُتَطَوِّعًا بِصَوْمِہِ۔ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ثَوْبَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক: