আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭১৭ টি

হাদীস নং: ৭৯৯৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جس نے ناپاکی کی حالت میں رمضان میں صبح کی
(٧٩٩١) سیدہ عائشہ (رض) اور اُم سلمہ (رض) فرماتی ہیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی ہیں کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جماع سے جنبی حالت میں صبح کرتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ رکھتے۔[صحیح۔ اخرجہ مالک ]
(۷۹۹۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِیمَا قَرَأَ عَلَیْہِ عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ عَائِشَۃَ وَأُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجَیِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُمَا قَالَتَا : إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لَیُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَیْرِ احْتِلاَمٍ ثُمَّ یَصُومُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৯৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جس نے ناپاکی کی حالت میں رمضان میں صبح کی
(٧٩٩٢) ابن بکر فرماتے ہیں کہ مالک نے ایسی ہی حدیث بیان کی اور اس کے متن میں اضافہ یہ کیا (فِی رَمَضَانَ ثُمَّ یَصُومُ ) کہ رمضان میں ایسا ہوتا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ رکھتے تھے۔
(۷۹۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔ زَادَ فِی مَتْنِہِ : ((فِی رَمَضَانَ ثُمَّ یَصُومُ))

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَذَکَرَ قَوْلَہُ فِی رَمَضَانَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৯৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جس نے ناپاکی کی حالت میں رمضان میں صبح کی
٧٩٩٣۔ ابابکر بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ مروان نے اسے اُم سلمہ (رض) کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھیں جو صبح جنبی حالت میں کرتا ہے کہ کیا وہ روزہ رکھے ؟ تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنبی حالت میں صبح کرتے اور جنبی احتلام سے نہیں بلکہ جماع سے ہوتے ، پھر نہ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ چھوڑتے اور نہ ہی قضا دیتے۔
(۷۹۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ مُہَاجِرٍ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سَعِیدٍ الأَیْلِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبٍ الْحِمْیَرِیِّ أَنَّ أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَہُ : أَنَّ مَرْوَانَ أَرْسَلَہُ إِلَی أُمِّ سَلَمَۃَ یَسْأَلُہَا عَنِ الرَّجُلِ یُصْبِحُ جُنُبًا أَیَصُومُ؟ فَقَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ لاَ حُلُمٍ ، ثُمَّ لاَ یُفْطِرُ وَلاَ یَقْضِی۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৯৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جس نے ناپاکی کی حالت میں رمضان میں صبح کی
(٧٩٩٤) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رمضان میں فجر آلیتی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بغیر احتلام کے جنبی ہوتے ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔
(۷۹۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ وَأَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُدْرِکُہُ الْفَجْرُ فِی رَمَضَانَ وَہُوَ جُنُبٌ مِنْ غَیْرِ حُلُمٍ فَیَغْتَسِلُ وَیَصُومُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَۃَ کِلاَہُمَا عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৯৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جس نے ناپاکی کی حالت میں رمضان میں صبح کی
(٧٩٩٥) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے صبح جنبی حالت میں کی تو وہ اس دن افطار کرے تو مروان نے کہا : اے عبدالرحمن ! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو میرے ساتھ اُم المومنین عائشہ (رض) کے پاس جائے گا اور ام المومنین اُم سلمہ (رض) کے پاس بھی۔ ابوبکر کہتے ہیں کہ پھر عبدالرحمن گیا اور میں اس کے ساتھ تھا یہاں تک کہ ہم سیدہ عائشہ (رض) کے پاس آگئے تو عبدالرحمن نے سلام پیش کیا اور کہا : اے اُم المومنین ! ہم مروان کے پاس تھے اور تمام بات بیان کی گئی کہ ابوہریرہ (رض) نے کہا : جس نے صبح جنبی حالت میں کی تو وہ اس دن افطار کرے تو سیدہ عائشہ (رض) نے کہا : ایسے نہیں ہے جیسے ابوہریرہ (رض) نے کہا ہے، اے عبدالرحمن ! کیا تم اس سے بےرغبتی کرتے ہو جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ؟ تو عبدالرحمن نے کہا : نہیں اللہ کی قسم یہ بات نہیں ہے تو سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح جنبی حالت میں کرتے بغیر احتلام کے جماع کے ساتھ۔ پھر اس دن کا روزہ رکھتے تھے ۔ پھر ہم نکلے اور سیدہ اُم سلمہ (رض) کے پاس گئے اور ان سے پوچھا تو انھوں نے بھی وہی کچھ کہا جو سیدہ عائشہ (رض) نے کہا تھا، پھر ہم مروان کے پاس آئے اور عبدالرحمن نے کہا : میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو میری سواری پر سوار ہو کر میرے ساتھ ابوہریرہ (رض) کے پاس چلے گا۔ پھر عبدالرحمن سوار ہوا اور میں بھی سوار ہوا ہم ابوہریرہ (رض) کے پاس آئے پھر عبدالرحمن نے ان کے ساتھ کچھ دیر تک گفتکو کی۔ پھر یہ بات ابوہریرہ (رض) کو بتائی تو ابوہریرہ (رض) نے کہا : مجھے اس بات کا کوئی علم نہیں، مجھے تو بتانے والے نے بتایا ہے۔
(۷۹۹۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ سُمَیٍّ مَوْلَی أَبِی بَکْرٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَقُولُ : کُنْتُ وَأَبِی عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ وَہُوَ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ فَذُکِرَ لَہُ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِکَ الْیَوْمَ فَقَالَ مَرْوَانُ : أَقْسَمْتُ عَلَیْکَ یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَتَذْہَبَنَّ إِلَی أُمَّیِ الْمُؤْمِنِینَ عَائِشَۃَ وَأُمِّ سَلَمَۃَ فَلَتَسْأَلَنَّہُمَا عَنْ ذَلِکَ۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَذَہَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَذَہَبْتُ مَعَہُ حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی عَائِشَۃَ فَسَلَّمَ عَلَیْہَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّا کُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ فَذُکِرَ لَہُ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ : مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِکَ الْیَوْمَ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : لَیْسَ کَمَا قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَتَرْغَبُ عَمَّا کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَفْعَلُہُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : لاَ وَاللَّہِ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : فَأَشْہَدُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِنْ کَانَ لَیُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَیْرِ احْتِلاَمٍ ، ثُمَّ یَصُومُ ذَلِکَ الْیَوْمَ قَالَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ فَسَأَلَہَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَتْ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَۃُ فَخَرَجْنَا حَتَّی جِئْنَا مَرْوَانَ۔ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا قَالَتَا فَقَالَ مَرْوَانُ : أَقْسَمْتُ عَلَیْکَ یَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَتَرْکَبَنَّ دَابَّتِی بِالْبَابِ فَلَتَأْتِیَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ فَلتُخَبِرَنَّہُ بِذَلِکَ ، فَرَکِبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَرَکِبْتُ مَعَہُ حَتَّی أَتَیْنَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ فَتَحَدَّثَ مَعَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَاعَۃً ، ثُمَّ ذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : لاَ عِلْمَ لِی بِذَلِکَ إِنَّمَا أَخْبَرَنِی مُخْبِرٌ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ مُدْرَجًا فِی رَوَایَتِہِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ عَنْ شُعَیْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِمَعْنَی ہَذَا الْحَدِیثُِ إِلاَّ أَنَّ فِی حَدِیثِہِ فَقَالَ : کَذَلِکَ حَدَّثَنِی الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَہُوَ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ ھذالفظ مالک]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৯৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جس نے ناپاکی کی حالت میں رمضان میں صبح کی
(٧٩٩٦) ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ ابوہریرہ (رض) فرماتے تھے کہ جس نے صبح جنبی حالت میں کی تو وہ روزہ نہ رکھے۔ تو میں نے یہ بات عبدالرحمن سے کہی تو انھوں نے انکار کردیا، پھر عبدالرحمن اور میں سیدہ عائشہ (رض) اوراُم سلمہ (رض) کے پاس آئے اور عبدالرحمن نے ان سے یہ بات پوچھی تو ان دونوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے تھے بغیر احتلام کے جماع کے ساتھ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ رکھتے۔ پھر ہم مروان کے پاس آئے اور عبدالرحمن نے انھیں تمام بات بتائی تو مردان (رض) نے کہا : میں اس بات پر قائم ہوں۔ مگر تو ابوہریرہ (رض) کی طرف جا اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں : پھر ہم ابوہریرہ (رض) کے پاس آئے اور ابوبکر تمام معاملے میں ہمارے ساتھ تھا تو عبدالرحمن نے یہ بات ابوہریرہ (رض) کے سامنے بیان کی تو ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : میں نے یہ بات فضل بن عباس (رض) سے سنی ہے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہیں سنی تو ابوہریرہ (رض) جو کہا کرتے تھے اس سے رجوع کرلیا۔ میں نے عبدالملک سے کہا : ان دونوں نے کہا : رمضان میں وہ صبح کرتے اس حال میں کہ بغیر احتلام کے جنبی ہوتے پھر روزہ رکھتے۔
(۷۹۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی بَکْرٍ یَعْنِی أَبَاہُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ فِی قَصَصِہِ : مَنْ أَدْرَکَہُ الْفَجْرُ جُنُبًا فَلاَ یَصُمْ قَالَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ لأَبِیہِ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ۔ فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَانْطَلَقْتُ مَعَہُ حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی عَائِشَۃَ وَأُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَسَأَلَہُمَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ ذَلِکَ قَالَ فَکِلْتَاہُمَا قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَیْرِ حُلُمٍ ، ثُمَّ یَصُومُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی مَرْوَانَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ مَرْوَانُ : عَزَمْتُ عَلَیْکَ إِلاَّ مَا ذَہَبْتَ إِلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَرَدَدْتَ عَلَیْہِ مَا یَقُولُ قَالَ فَجِئْنَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ وَأَبُو بَکْرٍ حَاضِرٌ ذَلِکَ کُلَّہُ قَالَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : سَمِعْتُ ذَلِکَ مِنَ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ أَسْمَعْہُ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ فَرَجَعَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ عَمَّا کَانَ یَقُولُ فِی ذَلِکَ قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِکِ قَالَتَا : فِی رَمَضَانَ قَالَ : کَذَلِکَ یُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَیْرِ حُلُمٍ ثُمَّ یَصُومُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ۔ [صحیح۔ ھذا لفظ المسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جس نے ناپاکی کی حالت میں رمضان میں صبح کی
(٧٩٩٧) قتادہ سعید بن مسیب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) نے موت سے پہلے ہی اپنے اس قول سے رجوع کرلیا۔
(۷۹۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ ہُوَ ابْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ یَعْنِی ابْنَ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَجَعَ عَنْ قَوْلِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جس نے ناپاکی کی حالت میں رمضان میں صبح کی
(٧٩٩٨) عمر بن قیس مکی (رض) فرماتے ہیں کہ عطاء نے کہا : ابوہریرہ (رض) نے جنبی کے بارے میں بہت اچھا رجوع کیا کہ جب وہ اس حالت میں صبح کرتے اور غسل نہ کرے۔

ابوبکر بن منذر فرماتے ہیں : اس سلسلے میں سب سے اچھی بات وہ ہے جو میں نے سنی ہے کہ یہ نسخ پر محمول ہے۔ دراصل ابتدائے اسلام میں سو جانے کے بعد کھانے پینے کی طرح جماع بھی حرام تھا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے جماع کو طلوعِ فجر تک جائز قرار دیا تو جنبی کے لیے یہ بھی جائز ہوگیا کہ وہ اس دن غسل کرنے سے پہلے روزہ رکھ لے، اس لیے کہ مم نوعیت ختم ہوگئی تھی۔ ابوہریرہ (رض) اسی کے مطابق فتوی دیتے تھے۔ جو انھوں نے فضل بن عباس (رض) سے سنا تھا اور انھیں منسوخ ہونے کا علم نہ تھا، پھر جب انھوں نے حضرت عائشہ اور ام سلمہ کی حدیث سنی تو اس کی طرف رجوع کرلیا۔
(۷۹۹۸) قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ قَیْسٍ الْمَکِّیُّ قَالَ قَالَ عَطَاء ٌ : رَجَعَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ عَنْ قَوْلِہِ رُجُوعًا حَسَنًا یَعْنِی فِی الْجُنُبِ إِذَا أَصْبَحَ وَلَمْ یَغْتَسِلْ۔

وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ الْمُنْذِرِ أَنَّہُ قَالَ : أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِی ہَذَا أَنْ یَکُونَ ذَلِکَ مَحْمُولاً عَلَی النَّسْخِ وَذَلِکَ أَنَّ الْجِمَاعَ کَانَ فِی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ مُحْرِمًا عَلَی الصَّائِمِ فِی اللَّیْلِ بَعْدَ النَّوْمِ کَالطَّعَامِ وَالشَّرَابِ ، فَلَمَّا أَبَاحَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ الْجِمَاعَ إِلَی طُلُوعِ الْفَجْرِ جَازَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَصْبَحَ قَبْلَ یَغْتَسِلَ أَنْ یَصُومَ ذَلِکَ الْیَوْمَ لاِرْتِفَاعِ الْحَظْرِ۔ فَکَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ یُفْتِی بِمَا سَمِعَہُ مِنَ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ عَلَی الأَمْرِ الأَوَّلِ وَلَمْ یَعْلَمْ بِالنَّسْخِ ، فَلَمَّا سَمِعَ خَبَرَ عَائِشَۃَ وَأُمِّ سَلَمَۃَ صَارَ إِلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس وقت کا بیان جس میں روزے دار پر کھانا حرام ہوجاتا ہے
(٧٩٩٩) عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت { کُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الفَجْرِ } نازل ہوئی تو میں نے دو دھاگے لیے ایک سفید اور ایک سیاہ اور انھیں اپنے تکیے کے نیچے رکھ دیا ، پھر میں رات کو اُٹھ کر دیکھ لیتا تو وہ میرے لیے واضح نہ ہوئے، جب میں نے صبح کی تو میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اپنا عمل بتایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیے اور فرمایا : تیرا تکیہ بہت چوڑا ہے۔ بیشک اس سے دن کی سفیدی کا رات کے اندھیرے سے جدا ہونامراد ہے۔
(۷۹۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَقِیہُ بِالطَّابِرَانِ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ حُصَیْنٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ {کُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الفَجْرِ} الآیَۃَ عَمَدْتُ إِلَی عِقَالَیْنِ عِقَالٍ أَبْیَضَ وَعِقَالٍ أَسْوَدَ فَجَعَلْتُہُمَا تَحْتَ وِسَادَتِی فَجَعَلْتُ أَقُومُ مِنَ اللَّیْلِ فَأُنْظُرُ فَلاَ یَتَبَیَّنُ لِی فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ فَضَحِکَ وَقَالَ : ((إِنْ کَانَ وِسَادُکَ لَعَرِیضًا ، إِنَّمَا ذَاکَ بَیَاضُ النَّہَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّیْلِ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ عَنْ ہُشَیْمٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ حُصَیْنٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس وقت کا بیان جس میں روزے دار پر کھانا حرام ہوجاتا ہے
(٨٠٠٠) سہل بن سعد (رض) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت { وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَدِ } نازل ہوئی اور من الفجر کے لفظ نازل نہ ہوئے تو لوگ جب روزے کا اراد ہ کرتے تو اپنی ٹانگ کے ساتھ دو سیاہ وسفید دھاگے باندھ لیتے ۔ پھر وہ کھاتے پیتے رہتے جب تک ان کی رنگت واضح نہ ہوجاتی۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا : من الفجر۔ پھر انھیں علم ہوا کہ اس سے مراد تو رات اور دن ہے۔
(۸۰۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنِی أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَدِ} وَلَمْ یَنْزِلْ {مِنَ الْفَجْرِ} قَالَ : وَکَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُہُمْ فِی رِجْلَیْہِ الْخَیْطَ الأَسْوَدَ وَالْخَیْطَ الأَبْیَضَ ، فَلاَ یَزَالُ یَأْکُلُ وَیَشْرَبُ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَہُ زِیُّہُمَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی بَعْدَ ذَلِکَ {مِنَ الْفَجْرِ} فَعَلِمُوا أَنَّہُ إِنَّمَا یَعْنِی بِذَلِکَ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ۔

قَالَ ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ وَحَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ بِنَحْوِہِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ بِالإِسْنَادَیْنِ جَمِیعًا ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَہْلٍ وَأَبِی بَکْرِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ بِالإِسْنَادِ الأَوَّلِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس وقت کا بیان جس میں روزے دار پر کھانا حرام ہوجاتا ہے
(٨٠٠١) سمرہ بن جندب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سحری کے وقت تمہیں بلال کی اذان دھوکا نہ دے، کیونکہ اس وقت سفیدی کناروں میں نہیں پھیلتی ، بلکہ وہ اس طرح لمبی ہوتی ہے جب تک اس طرح نہ پھیل جائے۔
(۸۰۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الدَّقَاقُ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَوَادَۃَ الْقُشَیْرِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَغُرَّنَّکُمْ مِنْ سَحُورِکُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ وَلاَ بَیَاضُ الأُفُقِ الْمُسْتَطِیلُ ہَکَذَا حَتَّی یَسْتَطِیرَ ہَکَذَا))۔ وَحَکَی حَمَّادٌ بِیَدِہِ قَالَ یَعْنِی مُعْتَرِضًا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس وقت کا بیان جس میں روزے دار پر کھانا حرام ہوجاتا ہے
(٨٠٠٢) عبدالرحمن بن ثوبان (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوفجریں ہوتی ہیں جو فجر کاذب ہوتی ہے وہ بھیڑیے کی دم کی طرح ہوتی ہے وہ کسی چیز کو حرام کرتی ہے اور نہ حلال کرتی ہے، لیکن وہ جو کناروں میں پھیلی ہوتی ہے وہ کھانے کو حرام کرتی ہے اور نماز کو جائز کرتی ہے۔
(۸۰۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((ہُمَا فَجْرَانِ فَأَمَّا الَّذِی کَأَنَّہُ ذَنَبُ السِّرْحَانِ فَإِنَّہُ لاَ یُحِلُّ شَیْئًا وَلاَ یُحَرِّمُہُ ، وَأَمَّا الْمُسْتَطِیلُ الَّذِی یَأْخُذُ بِالأُفُقِ فَإِنَّہُ یُحِلُّ الصَّلاَۃَ وَیُحَرِّمُ الطَّعَامَ))۔ ہَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِیَ مَوْصُولاً بِذِکْرِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ فِیہِ۔[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شبیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس وقت کا بیان جس میں روزے دار پر کھانا حرام ہوجاتا ہے
(٨٠٠٣) ابن عباس (رض) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فجر دو طرح کی ہوتی ہے : جو پہلی ہے وہ نہ کھانا حرام کرتی ہے اور نہ ہی نماز کو جائز کرتی ہے، لیکن جو دوسری فجر ہے وہ کھانے کو حرام اور نماز کو جائز کرتی ہے۔
(۸۰۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ : سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الشُّعَیْبِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ جَعْفَرٍ الْبَزَّازُ الزَّیْنَبِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَرْزُوقِ بْنِ أَبِی عَوْفٍ حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحْرِزٍ الْبَغْدَادِیُّ بِالْفُسْطَاطِ بِخَبَرٍ غَرِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الْفَجْرُ فَجْرَانِ فَأَمَّا الأَوَّلُ فَإِنَّہُ لاَ یُحَرِّمُ الطَّعَامَ وَلاَ یُحِلُّ الصَّلاَۃِ ، وَأَمَّا الثَّانِی فَإِنَّہُ یُحَرِّمُ الطَّعَامَ وَیُحِلُّ الصَّلاَۃَ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ مُحْرِزٍ وَفِی رِوَایَۃِ عَمْرٍو النَّاقِدِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((الْفَجْرُ فَجْرَانِ فَجْرٌ یَحِلُّ فِیہِ الطَّعَامُ وَتَحْرُمُ فِیہِ الصَّلاَۃُ ، وَفَجْرٌ تَحِلُّ فِیہِ الصَّلاَۃُ وَیَحْرُم فِیہِ الطَّعَامُ))۔ أَسْنَدَہُ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ وَرَوَاہُ غَیْرُہُ عَنِ الثَّوْرِیِّ مَوْقُوفًا عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابن خزیمہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس وقت کا بیان جس میں روزے دار کو افطار کرنا جائز ہوجاتا ہے
(٨٠٠٤) ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی کہ میں نے عاصم بن عمر (رض) سے سنا وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب رات ادھر سے آجائے اور دن ادھر کو چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ دار روزہ افطار کرے گا۔
(۸۰۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((إِذَا أَقْبَلَ اللَّیْلُ مِنْ ہَا ہُنَا وَأَدْبَرَ النَّہَارُ مِنْ ہَا ہُنَا وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس وقت کا بیان جس میں روزے دار کو افطار کرنا جائز ہوجاتا ہے
(٨٠٠٥) عبداللہ بن ابی اوفیٰ فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اور رمضان کا مہینہ تھا۔ جب سورج غروب ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فلاں ! اُتر اور ہمارے لیے ستو بنا ۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابھی تو دن ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اتر اور ہمارے لیے ستو بنا ، پھر وہ اترا اور ستو بنا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیا، پھر اپنے ہاتھ سے فرمایا (اشارہ کیا) جب سورج ادھر غائب ہوجائے اور ادھر سے رات آجائے تو روزہ دار افطار کرلے۔
(۸۰۰۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنِ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی أَوْفَی قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی سَفَرٍ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ : یَا فُلاَنُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ عَلَیْکَ نَہَارًا۔ قَالَ : ((انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا))۔ فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَہُ فَأَتَاہُ فَشَرِبَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- ثُمَّ قَالَ بِیَدِہِ : ((إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنْ ہَا ہُنَا وَجَائَ اللَّیْلُ مِنْ ہَا ہُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی ، وَأَخْرجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوَجْہٍ أُخَرَ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غروبِ شمس سے پہلے افطار کرنے پر وعید کا بیان
(٨٠٠٦) ابو امامہ باہلی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ ایک دفعہ میں سو رہا تھا تو میرے پاس دو آدمی آئے اور انھوں نے مجھے کندھوں سے پکڑا اور جبل احد پر لے آئے اور مجھ سے کہنے لگے : اس پر چڑھ ، میں نے کہا : میں اس پر چڑھنے کی طاقت نہیں رکھتاہوں ۔ انھوں نے کہا : ہم آپ کے لیے اس کو آسان کردیں گے تو میں اس پر چڑھا حتیٰ کہ جب میں پہاڑپر آیا تو میں نے شدید آوازیں سنیں تو میں نے کہا : یہ آوازیں کیسی ہیں ؟ انھوں نے کہا : یہ جہنمیوں کی چیخ و پکار ہے۔ پھر مجھے آگے لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایک ایسی قوم کے پاس تھا جو اُلٹے لٹکائے ہوئے تھے اور ان کی باچھیں چیری ہوئی تھیں اور ان سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے کہا : یہ کون لوگ ہیں ؟ تو انھوں نے کہا : یہ وہ لوگ ہیں جو افطار کے جائز ہونے سے پہلے افطار کرلیتے تھے۔
(۸۰۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ سُلَیْمِ بْنِ عَامِرٍ أَبِی یَحْیَی الْکَلاَعِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِی رَجُلاَنِ فَأَخَذَا بِضَبْعَیَّ فَأَتَیَا بِی جَبَلاً وَعْرًا فَقَالاَ لِیَ : اصْعَدْ فَقُلْتُ : إِنِّی لاَ أُطِیقُہُ فَقَالاَ : إِنَّا سَنُسَہِّلُہُ لَکَ فَصَعِدْتُ حَتَّی إِذَا کُنْتُ فِی سَوَائِ الْجَبَلِ إِذَا أَنَا بَأَصْوَاتٍ شَدِیدَۃٍ فَقُلْتُ : مَا ہَذِہِ الأَصْوَاتُ قَالُوا : ہَذَا عُوَائُ أَہْلِ النَّارِ ، ثُمَّ انْطُلِقَ بِی فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِینَ بِعَرَاقِیبِہِمْ مُشَقَّقَۃٌ أَشْدَاقُہُمْ تَسِیلُ أَشْدَاقُہُمْ دَمًا قَالَ قُلْتُ : مَنْ ہَؤُلاَئِ قَالَ : ہَؤُلاَئِ الَّذِینَ یُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّۃِ صَوْمِہِمْ))۔ [صحیح۔ اخرجہ الحاکم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جو کھاتا رہا اور سمجھا کہ فجر طلوع نہیں ہوئی ، پھر اسے معلوم ہوا کہ فجر طلوع ہوچکی تھی
(٨٠٠٧) یحییٰ بن جزار فرماتے ہیں کہ ابن مسعود (رض) سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے سحری کی اور سمجھا کہ ابھی رات ہے۔ جب کہ فجر طلوع ہوچکی ہو تو انھوں نے کہا : جس نے دن کے شروع میں کھایا وہ اس کے آخر میں بھی کھائے۔
(۸۰۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَمَنْصُورٌ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ یَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنْ رَجُلٍ تَسَحَّرَ وَہُوَ یَرَی أَنَّ عَلَیْہِ لَیْلاً وَقَدْ طَلَعَ الْفَجْرُ؟ فَقَالَ : مَنْ أَکَلَ مِنْ أَوَّلِ النَّہَارِ فَلْیَأْکُلْ مِنْ آخِرِہِ۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০১১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جو کھاتا رہا اور سمجھا کہ فجر طلوع نہیں ہوئی ، پھر اسے معلوم ہوا کہ فجر طلوع ہوچکی تھی
(٨٠٠٨) ہشیم منصور سے روایت فرماتے ہیں کہ ابن سرین نے ایسے ہی بیان کیا۔
(۸۰۰۸) قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ أَنَّہُ قَالَ مِثْلَ ذَلِکَ۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০১২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جو کھاتا رہا اور سمجھا کہ فجر طلوع نہیں ہوئی ، پھر اسے معلوم ہوا کہ فجر طلوع ہوچکی تھی
(٨٠٠٩) یحییٰ بن جزار بیان کرتے ہیں کہ حسن نے کہا : وہ روزہ پورا کرے اور اس پر کوئی حرج نہیں۔
(۸۰۰۹) قَالَ وَقَالَ الْحَسَنُ : یُتِمُّ صَوْمَہُ وَلاَ شَیْئَ عَلَیْہِ ۔ [صحیح۔ تقدم سندہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০১৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا حکم جو کھاتا رہا اور سمجھا کہ فجر طلوع نہیں ہوئی ، پھر اسے معلوم ہوا کہ فجر طلوع ہوچکی تھی
(٨٠١٠) مکحول فرماتے ہیں : ابو سعید خدری (رض) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے سحری کی اور وہ سمجھا کہ رات ہے حالانکہ فجر طلوع ہوچکی ہو تو انھوں نے فرمایا : اگر رمضان کا مہینہ تھا تو وہ روزہ پورا کرے گا اور قضا بھی دے گا۔ اگر رمضان کے علاوہ کی بات ہے تو وہ اس کے آخر میں بھی کھائے جس نے شروع میں کھایا۔

سعید بن جبیر (رض) سے ابن سرین کی سی بات بیان کی گئی ہے کہ اس کا قضا دینا زیادہ صحیح ہے اس اعتبار سے جو دلائل گزر چکے ہیں طلوع فجر کے وقت روزہ واجب ہونیکے۔
(۸۰۱۰) قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ مِنْ أَہْلِ دِمَشْقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ الْغَسَّانِیِّ عَنْ مَکْحُولٍ قَالَ : سُئِلَ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ عَنْ رَجُلٍ تَسَحَّرَ وَہُوَ یَرَی أَنَّ عَلَیْہِ لَیْلاً وَقَدْ طَلَعَ الْفَجْرُ قَالَ : إِنْ کَانَ شَہْرَ رَمَضَانَ صَامَہُ وَقَضَی یَوْمًا مَکَانَہُ ، وَإِنْ کَانَ مِنْ غَیْرِ شَہْرِ رَمَضَانَ فَلْیَأْکُلْ مِنْ آخِرِہِ فَقَدْ أَکَلَ مِنْ أَوَّلِہِ۔

وَرُوِّینَا عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ سِیرِینَ وَعَنْ مُجَاہِدٍ مِثْلَ قَوْلِ الْحَسَنِ ، وَقَوْلُ مَنْ قَالَ یَقْضِی أَصَحُّ لِمَا مَضَی مِنَ الدِّلاَلَۃِ عَلَی وُجُوبِ الصَّوْمِ مِنْ وَقْتِ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَعَ مَا رُوِّینَا فِی ہَذَا الْبَابِ مِنَ الأَثَرِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: