আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭১৭ টি

হাদীস নং: ৮০৭৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بھول کر کھایا یا پیا تو وہ روزہ پورا کرے اور اس پر کوئی قضا نہیں
(٨٠٧١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی بھول کر کھا پی لے اور وہ روزے سے ہو تو وہ روزہ پوراکرے۔ بیشک اللہ ہی نے اسے کھلایا اور پلایا ہے۔
(۸۰۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ وَأَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا نَسِیَ أَحَدُکُمْ فَأَکَلَ أَوْ شَرِبَ وَہُوَ صَائِمٌ فَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَہُ اللَّہُ وَسَقَاہُ))۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ کِلاَہُمَا عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৭৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بھول کر کھایا یا پیا تو وہ روزہ پورا کرے اور اس پر کوئی قضا نہیں
(٨٠٧٢) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی ایک دن کا روزہ رکھے اور وہ بھول گیا اور اس نے کھا پی لیا تو وہ روزہ پورا کرے ، بیشک اللہ ہی نے اسے کھلایا اور پلایا ہے۔
(۸۰۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْکَرَابِیسِیُّ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِیُّ حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ خِلاَسٍ وَمُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا صَامَ أَحَدُکُمْ یَوْمًا وَنَسِیَ فَأَکَلَ وَشَرِبَ فَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَہُ اللَّہُ وَسَقَاہُ))۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ أَبِی أُسَامَۃَ عَنْ عَوْفٍ۔[صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৭৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بھول کر کھایا یا پیا تو وہ روزہ پورا کرے اور اس پر کوئی قضا نہیں
(٨٠٧٣) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : میں نے بھول کر کھا پی لیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اپنا روزہ پورا کر۔ بیشک اللہ نے تجھے کھلایا اور پلایا ہے۔
(۸۰۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا قُرَیْشُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ حَبِیبِ بْنِ الشَّہِیدِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : إِنِّی أَکَلْتُ وَشَرِبْتُ نَاسِیًا فَقَالَ : أَتِمَّ صَوْمَکَ فَإِنَّ اللَّہَ أَطْعَمَکَ وَسَقَاکَ ۔

رَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَیُّوبَ وَحَبِیبٍ وَہِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ بِہَذَا اللَّفْظِ ، وَرُوِیَ أَیْضًا عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৭৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بھول کر کھایا یا پیا تو وہ روزہ پورا کرے اور اس پر کوئی قضا نہیں
(٨٠٧٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے رمضان میں بھول کر روازہ افطار کرلیا اس پر قضا نہیں اور نہ ہی کفارہ ہے۔ مجاہد اور حسن سے اس بارے میں اور بھول کر جماع کرنے کے بارے میں منقول ہے کہ اس پر قضا نہیں ہے اور عطا فرماتے تھے : غلطی سے جماع کرنے پر قضا واجب ہے۔
(۸۰۷۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ التَّاجِرُ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ أَفْطَرَ فِی رَمَضَانَ نَاسِیًا فَلاَ قَضَائَ عَلَیْہِ ، وَلاَ کَفَّارَۃَ))۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِیُّ عَنِ الأَنْصَارِیِّ وَہُوَ مِمَّا تَفَرَّدَ بِہِ الأَنْصَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو وَکُلُّہُمْ ثِقَاتٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ، وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِہِمَا قَالَ الدَّارَقُطِنِیُّ : یَرْوِیہِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، وَقَدْ رَوَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی حَاتِمٍ ، وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ مُجَاہِدٍ وَالْحَسَنِ فِی ذَلِکَ وَفِی الْجِمَاعِ نَاسِیًا لاَ قَضَائَ عَلَیْہِ وَکَانَ عَطَاء ٌ یَقُولُ فِی الْجِمَاعِ نَاسِیًا : عَلَیْہِ الْقَضَائُ۔ [حسن۔ اخرجہ دارقطنی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৭৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بیوی سے لذت حاصل کی حتیٰ کہ اسے انزال ہوگیا اس نے اپنا روزہ فاسد کرلیا اور اگر انزال نہ ہوا تو فاسد نہیں ہوا
(٨٠٧٥) ابراہیم فرماتے ہیں کہ علقمہ اور شریح بن ارطاۃ دونوں سیدہ عائشہ (رض) کے پاس تھے، ایک نے دوسرے سے کہا : ان سے روزے دار کے بوسے کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا : میں اُم المومنین کے پاس بیہودہ بات نہیں کروں گا تو انھوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بوسہ دیا کرتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے سے ہوتے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مباشرت کرتے اور روزے سے ہوتے مگر اپنی قوت پر بہت زیادہ اختیار رکھتے تھے۔
(۸۰۷۵) اسْتِدْلاَلاً بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ : ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ شُعْبَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ : أَنَّ عَلْقَمَۃَ وَشُرَیْحَ بْنَ أَرْطَاۃَ رَجُلٌ مِنَ النَّخَعِ کَانَا عِنْدَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہِ : سَلْہَا عَنِ الْقُبْلَۃِ لِلْصَّائِمِ فَقَالَ : مَا کُنْتُ لأَرْفُثَ عِنْدَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ فَقَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُقَبِّلُ وَہُوَ صَائِمٌ وَیُبَاشِرُ وَہُوَ صَائِمٌ وَکَانَ أَمْلَکَکُمْ لإِرْبِہِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ سُلَیْمَانَ وَحَدِیثُ أَبِی دَاوُدَ قَرِیبٌ مِنْہُ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ أَبِی عَدِیٍّ قَالَ عَنْ عَلْقَمَۃَ وَشُرَیْحِ بْنِ أَرْطَاۃَ أَنَّہُمَا ذَکَرَا عِنْدَ عَائِشَۃَ الْقُبْلَۃَ لِلْصَّائِمِ ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৭৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بیوی سے لذت حاصل کی حتیٰ کہ اسے انزال ہوگیا اس نے اپنا روزہ فاسد کرلیا اور اگر انزال نہ ہوا تو فاسد نہیں ہوا
(٨٠٧٦) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بوسہ دیا کرتے اور مباشرت کیا کرتے تھے اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے سے ہوتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم سب سے زیادہ اپنی شہوت پر قابو رکھنے والے تھے۔
(۸۰۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوعَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوقُرَیْشٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یُقَبِّلُ وَیُبَاشِرُ وَہُوَ صَائِمٌ وَکَانَ أَمْلَکَکُمْ لإِرْبِہِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ ہَکَذَا وَہُوَ غَرِیبٌ فَرِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ عَنْ شُعْبَۃَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ وَشُرَیْحٍ کَمَا مَضَی ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ ، وَمَنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ وَعَلْقَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৮০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاملہ اور دودھ پلانے والی اگر بچے کے بارے میں ڈرتی ہوں تو افطار کرلیں اور ہر دن گندم سے ایک صدقہ کریں پھر قضا کریں
(٨٠٧٧) سعید بن جبیر (رض) ابن عباس (رض) سے فرماتے ہیں کہ بوڑھے بزرگ ور بوڑھی عورت کو اس میں رخصت دی گئی ہے اگرچہ وہ دونوں روزے کی طاقت رکھتے ہوں، انھیں افطار کی رخصت ہے اگر وہ چاہیں تو ہر دن کے عوض مسکین کو کھلائیں۔ پھر یہ اجازت منسوخ کردی گئی۔ اس آیت سے { فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ }۔ پھر بوڑھے مرد اور عورت کے لیے اجازت رہ گئی، جب وہ روزے کی طاقت نہ رکھیں، حاملہ اور دودھ پلانے والی جب ڈر محسوس کریں تو افطار کرلیں اور ہر دن کے عوض مسکین کو کھلائیں۔ ایک روایت میں ہے حبلی کے الفاظ ہیں۔
(۸۰۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبْغَدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : رُخِّصَ لِلشَّیْخِ الْکَبِیرِ وَالْعَجُوزِ الْکَبِیرَۃِ فِی ذَلِکَ وَہُمَا یُطِیقَانِ الصَّوْمَ أَنْ یُفْطِرَا إِنْ شَائَ ا وَیُطْعِمَا مَکَانَ کُلِّ یَوْمٍ مِسْکِینًا ، ثُمَّ نُسِخَ ذَلِکَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ {فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} وَثَبَتَ لِلشَّیْخِ الْکَبِیرِ وَالْعَجُوزِ الْکَبِیرَۃِ : إِذَا کَانَا لاَ یُطِیقَانِ الصَّوْمَ ، وَالْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا مَکَانَ کُلِّ یَوْمٍ مِسْکِینًا۔ لَفْظُ حَدِیثِ مَکِّیٍّ وَفِی رِوَایَۃِ رَوْحٍ وَالْحُبْلَی وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا وَالْبَاقِی سَوَائٌ۔[صحیح۔ اخرجہ ابن جارود]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৮১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاملہ اور دودھ پلانے والی اگر بچے کے بارے میں ڈرتی ہوں تو افطار کرلیں اور ہر دن گندم سے ایک صدقہ کریں پھر قضا کریں
(٨٠٧٨) محمد بن ابو عدی سعید سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے حدیث میں بیان کیا کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی جب اپنے بچوں کے بارے میں ڈریں تو افطار کرلیں اور مساکین کو کھلادیں۔
(۸۰۷۸) وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ سَعِیدٍ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : وَالْحُبْلَی وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا عَلَی أَوْلاَدِہِمَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ سَعِیدٍ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৮২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاملہ اور دودھ پلانے والی اگر بچے کے بارے میں ڈرتی ہوں تو افطار کرلیں اور ہر دن گندم سے ایک صدقہ کریں پھر قضا کریں
(٨٠٧٩) نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) سے حاملہ کے بارے میں پوچھا گیا کہ جب وہ اپنے بچے کے بارے میں ڈرے تو انھوں نے کہا : افطار کرے اور ہر دن کے عوض مسکین کو کھلادے اور حسن فرماتے ہیں کہ دودھ پلانے والی جب ڈرے گی تو افطار کرے گی اور مسکین کو کھلائے گی مگر حاملہ جب ڈرے گی تو افطار کرے گی اور قضاکرے گی مریضہ کی طرح۔

(امام شافعی اور مالک فرماتے ہیں کہ اور اہل علم بھی کہتے ہیں کہ اس پر قضا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیضًا أَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِنْ أَیَّامٍ أُخَرَ } شیخ فرماتے ہیں کہ انس بن عیاضی عبداللہ بن عمرو کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ایک عورت نے روزہ رکھا اور اسے پیاس لگی ، اس کے متعلق ابن عمر (رض) سے پوچھا گیا تو انھوں نے افطار کا حکم دیا اور ایک مسکین کو کھلانے کا۔
(۸۰۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَۃِ الْحَامِلِ إِذَا خَافَتْ عَلَی وَلَدِہَا فَقَالَ : تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ مَکَانَ کُلِّ یَوْمٍ مِسْکِینًا مُدًّا مِنْ حِنْطَۃٍ۔ زَادَ أَبُو سَعِیدٍ فِی حَدِیثِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ مَالِکٌ : وَأَہْلُ الْعِلْمِ یَرَوْنَ عَلَیْہَا مَعَ ذَلِکَ الْقَضَائَ قَالَ مَالِکٌ : عَلَیْہَا الْقَضَائُ لأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیضًا أَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِنْ أَیَّامٍ أُخَرَ}

قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ رَوَی أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ لَبِیبَۃَ أَوِ ابْنِ أَبِی لَبِیبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ أَنَّ امْرَأَۃً صَامَتْ حَامِلاً فَاسْتَعْطَشَتْ فِی رَمَضَانَ فَسُئِلَ عَنْہَا ابْنُ عُمَرَ فَأَمَرَہَا أَنْ تُفْطِرَ وَتُطْعِمَ کُلَّ یَوْمٍ مِسْکِینًا مُدًّا ، ثُمَّ لاَ یَجْزِیہَا فَإِذَا صَحَّتْ قَضَتْہُ۔

ذَکَرَہُ أَبُو عُبَیْدٍ فِی کِتَابِ النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ عِیَاضٍ ، وَہَذَا قَوْلُ مُجَاہِدٍ تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ وَتَقْضِی۔

وَفِی رِوَایَۃِ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ تُفْطِرَانِ وَتَقْضِیَانِ ، وَفِی رِوَایَۃِ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ : الْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتْ أَفْطَرَتْ وَأَطْعَمَتْ ، وَالْحَامِلُ إِذَا خَافَتْ عَلَی نَفْسِہَا أَفْطَرَتْ وَقَضَتْ کَالْمَرِیضِ۔

[صحیح۔ اخرجہ مالک]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৮৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ اور دودھ پلانے والی روزے کی قدرت نہیں رکھتی تو مریض کی طرح افطار کرلیں اور قضا کریں ان پر کفار نہیں
(٨٠٨٠) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ قشیر کے بھائی بنو عبدالاشہل کے ایک شخص نے کہا : ہم پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لشکر نے حملہ کردیا تو میں ان کے پاس گیا ، میں نے پایا کہ وہ کھانا کھا رہے تھے تو انھوں نے کہا : قریب ہو اور کھا۔ میں نے کہا : میں روزے سے ہوں تو انھوں نے کہا : بیٹھ میں تمہارے ساتھ روزے کے متعلق گفتگو کرتا ہوں یا انھوں نے کہا : روزوں کے بارے میں۔ پھر انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر سے کچھ نماز معاف کردی ہے اور مسافر ، حاملہ اور مریضہ سے روزے کو۔ اللہ کی قسم ! انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، دونوں سے یا ایک سے، پھر انھوں نے کہا : مجھے اپنے پر افسوس ہے، کاش ! میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کھانا کھالیتا۔
(۸۰۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُوحٍ النَّخَعِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی وَأَبُو نُعَیْمٍ عَنْ أَبِی ہِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَوَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ إِخْوَۃِ قُشَیْرٍ قَالَ : أَغَارَتْ عَلَیْنَا خَیْلُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَتَیْتُہُ فَوَجَدْتُہُ یَأْکُلُ فَقَالَ : ((ادْنُ فَکُلْ))۔ قُلْتُ : إِنِّی صَائِمٌ قَالَ : ((اجْلِسْ أُحَدِّثْکَ عَنِ الصَّوْمِ أَوْ عَنِ الصِّیَامِ-)) قَالَ: ((إِنَّ اللَّہَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلاَۃِ ، وَعَنِ الْمُسَافِرِ وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ أَوِ الصِّیَامَ))۔ وَاللَّہِ لَقَدْ قَالَہُمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- کِلاَہُمَا أَوْ أَحَدَہُمَا فَیَا لَہْفَ نَفْسِی أَلاَّ کُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَالَ غَیْرُہُ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبٍ إِخْوَۃِ بَنِی قُشَیْرٍ

کَذَا رَوَاہُ أَبُو ہِلاَلٍ الرَّاسِبِیُّ دُونَ ذِکْرِ أَبِیہِ فِیہِ۔ وَرَوَاہُ وُہَیْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَوَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ [حسن۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৮৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ اور دودھ پلانے والی روزے کی قدرت نہیں رکھتی تو مریض کی طرح افطار کرلیں اور قضا کریں ان پر کفار نہیں
(٨٠٨١) عبداللہ بن سوادہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انس بن مالک جو انھیں میں سے ایک تھے، فرماتے ہیں کہ ان کے اونٹ گم گئے اور وہ ان کی تلاش میں مدینہ آئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھانا کھا رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آؤ کھانا کھاؤ تو اس نے کہا : میں روزے دار ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک روزہ مسافر ، حاملہ اور مریضہ پر معاف ہے اور نماز کی مسافر سے تخفیف کردی گئی ہے۔
(۸۰۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبْغَدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَوَادَۃَ الْقُشَیْرِیُّ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَجُلٌ مِنْہُمْ قَالَ : أُصِیبَتْ إِبِلٌ لَہُ فَأَتَی الْمَدِینَۃَ فِی طَلَبِ إِبِلِہِ فَدَخَلَ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَوَافَقَہُ وَہُوَ یَتَغَدَّی فَقَالَ : ((ہَلُمَّ إِلَی الْغَدَائِ))۔ فَقَالَ : إِنِّی صَائِمٌ فَقَالَ : ((إِنَّ الصِّیَامَ وُضِعَ عَنِ الْمُسَافِرِ وَشَطْرَ الصَّلاَۃِ وَعَنِ الْحُبْلَی وَالْمُرْضِعِ))۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৮৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ اور دودھ پلانے والی روزے کی قدرت نہیں رکھتی تو مریض کی طرح افطار کرلیں اور قضا کریں ان پر کفار نہیں
(٨٠٨٢) ابو قلابہ بنو عامر کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ ایوب کہتے ہیں : میں ان سے ملا اور پوچھا کہ ان سے ایک آدمی نے حدیث بیان کی ہے کہ وہ اونٹ کی تلاش میں مدینے آئے تھے۔ پھر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے ۔۔۔آگے اسی طرح حدیث بیان کی۔
(۸۰۸۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عَامِرٍ قَالَ أَیُّوبُ فَلَقِیتُہُ فَسَأَلْتُہُ فَحَدَّثَنِیہِ عَنْ رَجُلٍ مِنْہُمْ : أَنَّہُ أَتَی الْمَدِینَۃَ فِی طَلَبِ إِبِلٍ لَہُ فَدَخَلَ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمِثْلِہِ۔

وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسِ بْن مَالِکٍ الْکَعْبِیِّ۔

وَرَوَاہُ مَعْمَرٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عَامِرٍ أَنَّ رَجُلاً یُقَالُ لَہُ أَنَسٌ حَدَّثَہُ۔

وَرَوَاہُ خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ وَیَزِیدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عَامِرٍ أَنَّ رَجُلاً مِنْہُمْ أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-۔

وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی أُمَیَّۃَ أَوْ أَبِی الْمُہاجِرِ عَنْ أَبِی أُمَیَّۃَ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ أَبُو أُمَیَّۃَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الْکَعْبِیُّ۔ [حسن۔ اخرجہ نسائی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৮৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے لیے بوسہ حرام ہے جس کی شہوت کو بوسہ بھڑکا دے
(٨٠٨٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روزے دا رکی مباشرت کے بارے میں پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے رخصت دی ، پھر دوسرا آیا تو اس نے بھی پوچھا ، مگر آپ نے اسے منع کردیا۔ سو جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رخصت دی وہ بوڑھا تھا اور جسے منع کردیاوہ جوان تھا۔
(۸۰۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی الْعَنْبَسِ عَنِ الأَغَرِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ -ﷺ- عَنِ الْمُبَاشَرَۃِ لِلصَّائِمِ فَرَخَّصَ لَہُ وَأَتَاہُ آخَرُ فَسَأَلَہُ فَنَہَاہُ۔ فَإِذَا الَّذِی رَخَّصَ لَہُ شَیْخٌ وَالَّذِی نَہَاہُ شَابٌّ ۔

[حسن۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৮৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے لیے بوسہ حرام ہے جس کی شہوت کو بوسہ بھڑکا دے
(٨٠٨٤) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بوڑھے کو روزے کی حالت میں بوسے کی اجازت دی اور نوجوان کو اسی سے منع کیا اور فرمایا کہ بوڑھا اپنی قوت پر قابو رکھ سکتا اور نوجوان اپنا روزہ فاسد کرلیتا ہے۔
(۸۰۸۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَیْرِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ حَدَّثَنِی أَبَانُ الْبَجَلِیُّ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- رَخَّصَ فِی الْقُبْلَۃِ لِلشَّیْخِ وَہُوَ صَائِمٌ ، وَنَہَی عَنْہَا الشَّابَّ وَقَالَ : ((الشَّیْخُ یَمْلِکُ إِرْبَہُ ، وَالشَّابُّ یُفْسِدُ صَوْمَہُ))۔

قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا عَنْ إِسْرَائِیلَ عَنْ أَبِی الْعَنْبَسِ عَنِ الأَغَرِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِثْلَہُ۔ [حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৮৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے لیے بوسہ حرام ہے جس کی شہوت کو بوسہ بھڑکا دے
(٨٠٨٥) ابن ابی سلمہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک بوڑھے نے ابوہریرہ (رض) سے روزے کی حالت میں بوسے کے بارے میں پوچھاتو انھوں نے اسے رخصت دے دی اور نوجوان کو اس سے منع کردیا۔
(۸۰۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنِ ابْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : سَأَلَ شَیْخٌ أَبَا ہُرَیْرَۃَ عَنِ الْقُبْلَۃِ وَہُوَ صَائِمٌ فَرَخَّصَ لَہُ وَنَہَی عَنْہَا شَابًّا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৮৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے لیے بوسہ حرام ہے جس کی شہوت کو بوسہ بھڑکا دے
(٨٠٨٦) مجاہدابن عباس (رض) سے ایسی ہی حدیث بیان کرتے ہیں۔
(۸۰۸۶) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ حَبِیبٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِکَ۔

[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৯০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے لیے بوسہ حرام ہے جس کی شہوت کو بوسہ بھڑکا دے
(٨٠٨٧) عطا بن یسار (رض) فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) سے روزے کی حالت میں عورت کے بوسے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بوڑھے کو اجازت دے دی اور نوجوان کے لیے ناپسند کیا۔
(۸۰۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنِ الْقُبْلَۃِ لِلصَّائِمِ فَأَرْخَصَ فِیہَا لِلشَّیْخِ ، وَکَرِہَہَا لِلشَّابِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৯১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے لیے بوسہ حرام ہے جس کی شہوت کو بوسہ بھڑکا دے
(٨٠٨٨) عطاء فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس (رض) سے روزے دار کے بوسہ کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : کوئی حرج نہیں، جب وہ بوسہ تک رُک جائے تو آدمی نے کہا : اس کی پنڈلی کو پکڑا تو انھوں نے کہا : پھر بھی روزے سے درگزر کرو۔
(۸۰۸۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْقُبْلَۃِ لِلصَّائِمِ فَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ إِذَا انْتَہَی إِلَیْہِ۔ وَقَالَ : رَجُلٌ قَبَضَ عَلَی سَاقِہَا قَالَ أَیْضًا أَعْفُوا الصِّیَامَ۔

[صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৯২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے لیے بوسہ حرام ہے جس کی شہوت کو بوسہ بھڑکا دے
(٨٠٨٩) نافع فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) روزے دار کے لیے بوسے کو ناپسند کیا کرتے تھے اور مباشرت کو بھی۔
(۸۰۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ الْقُبْلَۃَ، وَالْمُبَاشَرَۃَ لِلصَّائِمِ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৯৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے لیے بوسہ حرام ہے جس کی شہوت کو بوسہ بھڑکا دے
(٨٠٩٠) یحییٰ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ ایک نوجوان نے ابن عمر (رض) سے روزے کی حالت میں بوسہ کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : نہیں۔ ایک بوڑھا جو ان کے پاس تھا اس نے کہا : آپ لوگوں پر تنگی اور حرج کیوں کرتے ہیں، اللہ کی قسم ! اس میں کوئی حرج نہیں تو انھوں نے فرمایا : تو بوسہ دے کیونکہ تیری رانوں میں کچھ نہیں۔
(۸۰۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ فَتًی سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْقُبْلَۃِ وَہُوَ صَائِمٌ فَقَالَ : لاَ۔ فَقَالَ شَیْخٌ عِنْدَہُ : لِمَ تُحْرِجُ النَّاسَ وَتُضَیِّقُ عَلَیْہِمْ؟ وَاللَّہِ مَا بِذَلِکَ بَأْسٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَمَّا أَنْتَ فَقَبِّلْ فَلَیْسَ عِنْدَ اسْتِکَ خَیْرٌ۔ [حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক: