আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭১৭ টি
হাদীস নং: ৮০৯৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے لیے بوسہ حرام ہے جس کی شہوت کو بوسہ بھڑکا دے
( ٨٠٩١) اسود بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ سے کہا : کیا روزہ دا رمباشرت کرسکتا ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں، میں نے کہا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مباشرت نہیں کیا کرتے تھے ؟ انھوں نے کہا : وہ اپنی قوت پر قابو رکھتے تھے۔
(۸۰۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَۃَ : أَیُبَاشِرُ الصَّائِمُ ؟ قَالَتْ : لاَ قُلْتُ : أَلَیْسَ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُبَاشِرُ؟ قَالَتْ : کَانَ أَمْلَکَکُمْ لإِرْبِہِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ النسائی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৯৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے لیے بوسہ حرام ہے جس کی شہوت کو بوسہ بھڑکا دے
(٨٠٩٢) عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نیند میں دیکھا مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے نہیں دیکھ رہے تھے۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا کیا معاملہ ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف دیکھا اور فرمایا : مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ! جب تک میں زندہ رہا میں نے عورت کو روزے کی حالت میں بوسہ نہیں دیا۔
عمر بن محمد فرماتے ہیں : اگر یہ بات درست ہے تو عمربن خطاب (رض) اس پر طاقت رکھتے ہیں ان لوگوں سے جنہیں بوسہ شہوت پر ابھارتا ہے۔
عمر بن محمد فرماتے ہیں : اگر یہ بات درست ہے تو عمربن خطاب (رض) اس پر طاقت رکھتے ہیں ان لوگوں سے جنہیں بوسہ شہوت پر ابھارتا ہے۔
(۸۰۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا سَالِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْمَنَامِ فَرَأَیْتُہُ لاَ یَنْظُرُنِی فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا شَأْنِی؟ فَالْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ : أَلَسْتَ الْمُقَبِّلَ وَأَنْتَ الصَّائِمُ ۔ فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لاَ أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ امْرَأَۃً مَا بَقِیتُ۔
تَفَرَّدَ بِہِ عُمَرُ بْنُ حَمْزَۃَ فَإِنْ صَحَّ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ قَوِیًا مِمَّا یُتَوَہَّمُ تَحْرِیکُ الْقُبْلَۃِ شَہْوَتَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن ابی شبیہ]
تَفَرَّدَ بِہِ عُمَرُ بْنُ حَمْزَۃَ فَإِنْ صَحَّ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ قَوِیًا مِمَّا یُتَوَہَّمُ تَحْرِیکُ الْقُبْلَۃِ شَہْوَتَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن ابی شبیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৯৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بوسے کی اجازت اس کے لیے ہے جس کی شہوت نہیں بھڑکتی یا وہ اپنی شہوت پر قابو رکھ سکتا ہے
(٨٠٩٣) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کی حالت میں بوسہ دیا کرتے تھے اور تم سب سے زیادہ اپنی قوت کو قابو میں رکھنے والے تھے۔
(۸۰۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ سَنَۃَ خَمْسٍ وَعِشْرِینَ وَثُلاَثِ مِائَۃٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُقَبِّلُ وَہُوَ صَائِمٌ ، وَکَانَ أَمْلَکَکُمْ لإِرْبِہِ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ بِہَذَا اللَّفْظِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ بِہَذَا اللَّفْظِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৯৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بوسے کی اجازت اس کے لیے ہے جس کی شہوت نہیں بھڑکتی یا وہ اپنی شہوت پر قابو رکھ سکتا ہے
(٨٠٩٤) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کی حالت میں بوسہ دیا کرتے تھے، پھر تھوڑی دیر خاموش ہوگئیں پھر فرمایا : ہاں۔
(۸۰۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ : أَسَمِعْتَ أَبَاکَ یُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یُقَبِّلُہَا وَہُوَ صَائِمٌ فَسَکَتَ سَاعَۃً ، ثُمَّ قَالَ : نَعَمْ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ ھذا لفظ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ ھذا لفظ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৯৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بوسے کی اجازت اس کے لیے ہے جس کی شہوت نہیں بھڑکتی یا وہ اپنی شہوت پر قابو رکھ سکتا ہے
(٨٠٩٥) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ازواج کو روزے کی حالت میں بوسہ دیتے تھے ، پھر وہ مسکرادیں۔ راوی کہتا ہے : عروہ نے کہا : میں نے نہیں دیکھا کہ بوسہ بھلائی کی دعوت دیتا ہے۔
(۸۰۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ : إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لَیُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِہِ وَہُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَضْحَکُ۔ وَقَالَ قَالَ عُرْوَۃُ : لَمْ أَرَ الْقُبْلَۃَ تَدْعُو إِلَی خَیْرٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৯৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بوسے کی اجازت اس کے لیے ہے جس کی شہوت نہیں بھڑکتی یا وہ اپنی شہوت پر قابو رکھ سکتا ہے
( ٨٠٩٦) مالک ہشام بن عروہ (رض) سے ایسی ہی حدیث نقل فرماتے ہیں، مگر انھوں نے عروہ کے قول کا تذکرہ نہیں کیا۔
(۸۰۹۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَ عُرْوَۃَ فِی رِوَایَتِنَا وَقَدْ ذَکَرَہُ فِی الْمَبْسُوطِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ عَنْ مَالِکٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ ہِشَامٍ۔
[صحیح۔ انظر قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ عَنْ مَالِکٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ ہِشَامٍ۔
[صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১০০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بوسے کی اجازت اس کے لیے ہے جس کی شہوت نہیں بھڑکتی یا وہ اپنی شہوت پر قابو رکھ سکتا ہے
( ٨٠٩٧) علقمہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) سے روزے دار کے بوسے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کی حالت میں بوسہ دیا کرتے تھے اور وہ اپنی قوت کو قابو میں رکھنے والے تھے۔
(۸۰۹۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ : أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا سُئِلَتْ عَنِ الْقُبْلَۃِ لِلصَّائِمِ فَقَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یُقَبِّلُ وَہُوَ صَائِمٌ ، وَکَانَ أَمْلَکَکُمْ لإِرْبِہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بوسے کی اجازت اس کے لیے ہے جس کی شہوت نہیں بھڑکتی یا وہ اپنی شہوت پر قابو رکھ سکتا ہے
(٨٠٩٨) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے سے ہوتے اور میرے چہرے پر جہاں چاہتے بوسہ دیتے یہاں تک کہ افطار کرلیتے۔
(۸۰۹۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبِیدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِیفٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لَیَظَلُّ صَائِمًا فَیُقَبِّلُ أَیْنَ شَائَ مِنْ وَجْہِیَ حَتَّی یُفْطِرَ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بوسے کی اجازت اس کے لیے ہے جس کی شہوت نہیں بھڑکتی یا وہ اپنی شہوت پر قابو رکھ سکتا ہے
( ٨٠٩٩) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان میں روزے کی حالت میں بوسہ دیا کرتے تھے۔
(۸۰۹۹) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبْغَدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ یَعْنِی أَبَا عَاصِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّہْشَلِیُّ عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُقَبِّلُ فِی رَمَضَانَ وَہُوَ صَائِمٌ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ بَہْزِ بْنِ أَسَدٍ عَنْ أَبِی بَکْرٍ النَّہْشَلِیِّ۔ [صحیح۔ لفظ مسلم]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ بَہْزِ بْنِ أَسَدٍ عَنْ أَبِی بَکْرٍ النَّہْشَلِیِّ۔ [صحیح۔ لفظ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بوسے کی اجازت اس کے لیے ہے جس کی شہوت نہیں بھڑکتی یا وہ اپنی شہوت پر قابو رکھ سکتا ہے
(٨١٠٠) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کے مہینے میں بوسہ دیا کرتے تھے۔
(۸۱۰۰) وَرَوَاہُ أَبُو الأَحْوَصِ سَلاَّمُ بْنُ سُلَیْمٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ الأَوْدِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُقَبِّلُ فِی شَہْرِ الصَّوْمِ۔
حَدَّثَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا سَلاَّمٌ فَذَکَرَہُ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ جَمَاعَۃٍ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
حَدَّثَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا سَلاَّمٌ فَذَکَرَہُ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ جَمَاعَۃٍ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بوسے کی اجازت اس کے لیے ہے جس کی شہوت نہیں بھڑکتی یا وہ اپنی شہوت پر قابو رکھ سکتا ہے
(٨١٠١) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بوسہ دینا چاہا تو میں نے کہا : میں روزے سے ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور میں بھی روزے سے ہوں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بوسہ دیا۔
(۸۱۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْمَرٍ التَّیْمِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : أَرَادَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یُقَبِّلَنِی فَقُلْتُ : إِنِّی صَائِمَۃٌ فَقَالَ : ((وَأَنَا صَائِمٌ)) ثُمَّ قَبَّلَنِی۔
[صحیح۔ احمد]
[صحیح۔ احمد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بوسے کی اجازت اس کے لیے ہے جس کی شہوت نہیں بھڑکتی یا وہ اپنی شہوت پر قابو رکھ سکتا ہے
(٨١٠٢) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کی حالت میں بوسہ لیا کرتے تھے اور زبان چوس لیا کرتے تھے۔ عفان نے زیادہ کیا کہ اسے ایک آدمی نے کہا : تو نے سعد سے سنا ہے ؟ تو انھوں نے کہا : ہاں۔
(۸۱۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِینَارٍ الْبَصْرِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِینَارٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ مِصْدَعٍ : أَبِی یَحْیَی زَادَ یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ خَتَنُ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُقَبِّلُہَا وَہُوَ صَائِمٌ وَیَمُصُّ لِسَانَہَا۔ زَادَ عَفَّانُ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : سَمِعْتَہُ مِنْ سَعْدٍ قَالَ : نَعَمْ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِینَارٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ مِصْدَعٍ : أَبِی یَحْیَی زَادَ یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ خَتَنُ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُقَبِّلُہَا وَہُوَ صَائِمٌ وَیَمُصُّ لِسَانَہَا۔ زَادَ عَفَّانُ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : سَمِعْتَہُ مِنْ سَعْدٍ قَالَ : نَعَمْ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بوسے کی اجازت اس کے لیے ہے جس کی شہوت نہیں بھڑکتی یا وہ اپنی شہوت پر قابو رکھ سکتا ہے
(٨١٠٣) زینب بنت ابی سلمہ اپنے والد سے نقل فرماتی ہیں کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک چادر میں تھی تو میں حائضہ ہوگئیں، پھر میں وہاں سے کھسک گئی اور حیض کے کپڑے حاصل کیے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا اور اپنے ساتھ چادر میں داخل کرلیا ، فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہی برتن سے جنابت کا غسل کیا کرتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کی حالت میں بوسہ دیا کرتے ۔
(۸۱۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ ہِشَامِ بْنِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّہَا قَالَتْ : بَیْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْخَمِیلَۃِ إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِیَابَ حِیْضَتِی۔ فَقَالَ : مَا لَکِ أَنُفِسْتِ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ فَدَعَانِی فَدَخَلْتُ مَعَہُ فِی الْخَمِیلَۃِ قَالَتْ : وَکَانَتْ ہِیَ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَائٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَکَانَ یُقَبِّلُہَا وَہُوَ صَائِمٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بوسے کی اجازت اس کے لیے ہے جس کی شہوت نہیں بھڑکتی یا وہ اپنی شہوت پر قابو رکھ سکتا ہے
( ٨١٠٤) سیدہ حفصہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کی حالت میں بوسہ دیا کرتے تھے۔
(۸۱۰۴) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ شُتَیْرِ بْنِ شَکَلٍ عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُقَبِّلُ وَہُوَ صَائِمٌ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بوسے کی اجازت اس کے لیے ہے جس کی شہوت نہیں بھڑکتی یا وہ اپنی شہوت پر قابو رکھ سکتا ہے
( ٨١٠٥) عمر بن ابوسلمہ حمیری نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : کیا روزے دار بوسہ دے سکتا ہے تو اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ بات اُم سلمہ (رض) سے پوچھ تو انھوں نے خبردی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے کیا کرتے تھے تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کے پہلے گناہ معاف کردیے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تقویٰ اختیار کرنے والا ہوں۔
(۸۱۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ حُسْنِ بْنِ مُہَاجِرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مِہْرَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سَعِیدٍ الأَیْلِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبٍ الْحِمْیَرِیِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ الْحِمْیَرِیِّ : أَنَّہُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَیُقَبِّلُ الصَّائِمُ؟ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((سَلْ ہَذِہِ))۔ لأُمِّ سَلَمَۃَ فَأَخْبَرَتْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَصْنَعُ ذَلِکَ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ غَفَرَ اللَّہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَمَا وَاللَّہُ إِنِّی لأَتْقَاکُمْ لِلَّہِ وَأَخْشَاکُمْ لَہُ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ الأَیْلِیِّ وَرُوِّینَا فِی إِبَاحَتِہَا عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ وَجَمَاعَۃٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ الأَیْلِیِّ وَرُوِّینَا فِی إِبَاحَتِہَا عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ وَجَمَاعَۃٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بوسہ لیا اور انزال ہوگیا تو اس پر قضا واجب ہے
(٨١٠٦) ھزھاز فرماتے ہیں کہ ابن مسعود (رض) نے فرمایا : روزے دار کے بوسہ دینے میں سخت قول ہے کہ وہ ان کے عوض ایک دن کا روزہ رکھے ۔ ہمارے نزدیک یہ تب ہے جب بوسہ دیا اور انزال ہوگیا۔
(۸۱۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ ہِلاَلاً یَعْنِی ابْنَ یَسَافٍ یُحَدِّثُ عَنِ الْہَزْہَازِ : أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ فِی الْقُبْلَۃِ لِلصَّائِمِ قَوْلاً شَدِیدًا یَعْنِی یَصُومُ یَوْمًا مَکَانَہُ وَہَذَا عِنْدَنَا فِیہِ : إِذَا قَبَّلَ فَأَنْزَلَ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بوسہ لیا اور انزال ہوگیا تو اس پر قضا واجب ہے
( ٨١٠٧) ابو میسرہ فرماتے ہیں کہ ابن مسعود (رض) دن کے وقت اپنی بیوی سے روزے کی حالت میں مباشرت کرتے۔ مجاھد فرماتے ہیں کہ ابن مسعود (رض) اور ابن عباس (رض) روزے دار کی مباشرت میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے تو ابن مسعود (رض) کی بات سے مراد یہ ہے کہ پہلی روایت کے ظاہر پر استدلال درست نہیں۔
(۸۱۰۷) فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو مَیْسَرَۃَ : أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ کَانَ یُبَاشِرُ امْرَأَتَہُ بِنِصْفِ النَّہَارِ وَہُوَ صَائِمٌ۔
وَرُوِّینَا عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُمَا کَانَا لاَ یَرَیَانِ بِمُبَاشَرَۃِ الصَّائِمِ بَأْسًا۔
وَفِی ہَذَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الْمُرَادَ بِالرِّوَایَۃِ الأُولَی غَیْرُ مَا دَلَّ عَلَیْہِ ظَاہِرُہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[ضعیف]
وَرُوِّینَا عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُمَا کَانَا لاَ یَرَیَانِ بِمُبَاشَرَۃِ الصَّائِمِ بَأْسًا۔
وَفِی ہَذَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الْمُرَادَ بِالرِّوَایَۃِ الأُولَی غَیْرُ مَا دَلَّ عَلَیْہِ ظَاہِرُہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১১১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس پر روزے میں غشی طاری ہوگئی تو اس کا روزہ درست نہیں اگرچہ وہ کچھ نہ بھی کھائے
( ٨١٠٨) سیدنا عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور یقیناً انسان کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی ۔ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوگی اور جس نے دنیا کو حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت دنیا کی طرف ہے یا عورت کے لیے ہجرت کی کہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت اس کی طرف ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔
(۸۱۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الأَعْمَالُ بِالنِّیَّۃِ وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَی ، فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَی رَسُولِہِ فَہِجْرَتُہُ إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ ، وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی دُنْیَا یُصِیبُہَا أَوِ امْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُہَا فَہِجْرَتُہُ إِلَی مَا ہَاجَرَ إِلَیْہِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১১২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس پر روزے میں غشی طاری ہوگئی تو اس کا روزہ درست نہیں اگرچہ وہ کچھ نہ بھی کھائے
(٨١٠٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا کہ وہ اپنی شہوت اور کھانے پینے کو میری وجہ سے چھوڑتا ہے اور روزہ ڈھال ہے اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں : ایک خوشی افطار کے وقت ہوگی اور ایک خوشی رب سے ملاقات کے وقت اور اس کے منہ کی بو اللہ کے کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ محبوب ہے۔
(۸۱۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْن أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ فِرَاسٍ بِمَکَّۃَ حَرَسَہَا اللَّہُ تَعَالَی قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ : عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْجُمَحِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ : الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّوْمُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ یَدَعُ شَہْوَتَہُ وَأَکْلَہُ وَشُرْبَہُ مِنْ أَجْلِی ، وَالصَّوْمُ جُنَّۃٌ ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَۃٌ عِنْدَ إِفْطَارِہِ وَفَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَائِ رَبِّہِ ، وَلَخُلُوفُ فِیہِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১১৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس پر روزے میں غشی طاری ہوگئی تو اس کا روزہ درست نہیں اگرچہ وہ کچھ نہ بھی کھائے
(٨١١٠) نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) نفلی روزہ رکھتے تھے اور ان پر غشی طاری ہوجاتی تو وہ افطار نہیں کیا کرتے تھے۔ شیخ فرماتے ہیں : یہ بات دلالت کرتی ہے کہ دوران روزہ بیہوش ہوجاناروزے کو فاسد نہیں کرتا۔
(۸۱۱۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ الإِسْفَرَائِنِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْحَذَّائُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیُّ قَالَ سَمِعْتُ عُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَصُومُ تَطَوُّعًا فَیُغْشَی عَلَیْہِ فَلاَ یُفْطِرُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : ہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّ الإِغْمَائَ خِلاَلَ الصَّوْمِ لاَ یُفْسِدُہُ۔ [صحیح۔ دارقطنی]
قَالَ الشَّیْخُ : ہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّ الإِغْمَائَ خِلاَلَ الصَّوْمِ لاَ یُفْسِدُہُ۔ [صحیح۔ دارقطنی]
তাহকীক: