আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭১৭ টি

হাদীস নং: ৮৪৯৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم جمعہ کو رو زے کے ساتھ خاص کرنے کی ممانعت
(٨٤٩١) سیدہ جویریہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آئے جمعہ کے دن اور وہ روزے سے تھیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے کل کا روزہ رکھا ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو آنے والی کل کا روزہ رکھے گی ؟ میں نے کہا : نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : پھر روزہ افطار کرلے۔
(۸۴۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ عَنْ جُوَیْرِیَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- دَخَلَ عَلَیْہَا یَوْمَ جُمُعَۃِ وَہِیَ صَائِمَۃٌ فَقَالَ : ((صُمْتِ أَمْسِ؟))۔ فَقُلْتُ : لاَ۔ قَالَ : ((فَتَصُومِینَ غَدًا؟))۔ قُلْتُ : لاَ۔ قَالَ : ((فَأَفْطِرِی))۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৯৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم جمعہ کو رو زے کے ساتھ خاص کرنے کی ممانعت
(٨٤٩٢) مسدد یحییٰ سے اور وہ شعبہ سے اسی سند سے حدیث بیان کرتے ہی ایسی ہی۔
(۸۴۹۲) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ شُعْبَۃَ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ۔ [صحیحٖ۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৯৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہفتے کے دن کے روزے کی ممانعت کا بیان
(٨٤٩٣) عبداللہ بن بسراپنی بہن سے بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہفتے کے دن روزہ نہ رکھو۔ اگر تم میں سے کوئی کھانے کے لیے کچھ نہ پائے تو وہ لکڑی ہی چبالے۔
(۸۴۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی طَاہِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ثَوْرُ بْنُ یَزِیدَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْبَاغَنْدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أُخْتِہِ الصَّمَّائِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ تَصُومُوا یَوْمَ السَّبْتِ وَإِنْ لَمْ یَجِدْ أَحَدُکُمْ إِلاَّ عُودًا فَلْیَمْضُغْہُ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ الدَّقَّاقِ۔

وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ عَبْدَانَ : ((لاَ یَصُومَنَّ أَحَدُکُمْ یَوْمَ السَّبْتِ إِلاَّ فِیمَا افْتُرِضَ عَلَیْہِ ، وَإِنْ لَمْ یَجِدْ إِلاَّ لِحَائَ شَجَرَۃٍ فَلْیَمْضُغْہُ))۔ وَرَوَاہُ أَیْضًا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَغَیْرُہُ عَنْ ثَوْرٍ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ۔

[مضطرب۔ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৯৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہفتے کے دن کے روزے کی ممانعت کا بیان
(٨٤٩٤) عبداللہ بن بسر (رض) اپنے باپ سے اور وہ اپنی پھوپھی صما سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہفتے کے روزے سے منع کیا اور فرمایا : اگر تم میں سے کوئی سوائے تازہ لکڑی کے کچھ نہیں پاتا تو اسی کو چبا لے اور افطار کرلے۔
(۸۴۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَمَّتِہِ الصَّمَّائِ أَنَّہَا کَانَتْ تَقُولُ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ صَوْمِ یَوْمِ السَّبْتِ۔ وَیَقُولُ : ((إِنْ لَمْ یَجِدْ أَحَدُکُمْ إِلاَّ عُودًا أَخْضَرَ فَلْیُفْطِرْ عَلَیْہِ))۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৯৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہفتے کے دن کے روزے کی ممانعت کا بیان
(٨٤٩٥) لیث بن شہاب (رض) سے بیان کرتے ہیں : جب ان کے سامنے ہفتے کے روزوں کے بارے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا : یہ حدیث حمصی ہے۔
(۸۴۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ اللَّیْثِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ سَمِعْتُ اللَّیْثَ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ : أَنَّہُ کَانَ إِذَا ذُکِرَ لَہُ أَنَّہُ نُہِیَ عَنْ صِیَامِ یَوْمِ السَّبْتِ۔ قَالَ ہَذَا حَدِیثٌ حِمْصِیُّ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৯৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہفتے کے دن کے روزے کی ممانعت کا بیان
(٨٤٩٦) اوزاعی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ہمیشہ چھپاتا رہا مگر میں نے دیکھا کہ یہ بات لکھ چکی ہے یعنی ابن بسر کی حدیث جو ہفتے کے روزے کے بارے میں ہے۔

(جویریہ بنت حارث کی حدیث اس سے پہلے باب میں گذر چکی ہے جو ہفتے کے دن کے روزے کے جواز میں ہے گویا منع کرنے کا مقصد اس دن کا روزہ تعظیماً رکھتا ہے۔ )
(۸۴۹۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ قَالَ : مَا زِلْتُ لَہُ کَاتِمًا ثُمَّ رَأَیْتُہُ انْتَشَرَ یَعْنِی حَدِیثَ ابْنِ بُسْرٍ ہَذَا فِی صَوْمِ یَوْمِ السَّبْتِ۔

وَقَدْ مَضَی فِی حَدِیثِ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی الْبَابِ قَبْلَہُ مَا دَلَّ عَلَی جَوَازِ صَوْمِ یَوْمِ السَّبْتِ ، وَکَأَنَّہُ أَرَادَ بِالنَّہْیِ تَخْصِیصَہُ بِالصَّوْمِ عَلَی طَرِیقِ التَّعْظِیمِ لَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہفتے کے دن کے روزے کی ممانعت کا بیان
(٨٤٩٧) ابن عباس (رض) کلے غلام کر یپ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس اور اصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے کچھ لوگوں نے انھیں اُم سلمہ (رض) کے پاس بھیجا کہ وہ ان ایام کے بارے پوچھیں جن میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر روزہ رکھتے تھے تو انھوں نے کہا : ہفتہ اور اتوار۔ پھر میں ان کے پاس پلٹ آیا اور انھیں یہ خبر دی تو گویا وہ اسے عجیب تصور کررہے تھے تو وہ سب ان کے پاس چلے گئے کہ ہم نے اس مسئلے کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا تھا اور یہ کہتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات کہی ہے تو انھوں نے کہا : اس نے سچ کہا ہے کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر ہفتے اور اتوار کا روزہ رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے یہ مشرکین کے عید کے ایام تھے اور میں ان کی مخالفت کرنا چاہتا ہوں۔
(۸۴۹۷) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِیمٍ الْمَرْوَزِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ کُرَیْبًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بَعَثُونِی إِلَی أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَسْأَلُہَا عَنْ أَیِّ الأَیَّامِ کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَکْثَرَ لَہَا صِیَامًا؟ فَقَالَتْ : یَوْمُ السَّبْتِ وَالأَحَدِ فَرَجَعْتُ إِلَیْہِمْ فَأَخْبَرْتُہُمْ فَکَأَنَّہُمْ أَنْکَرُوا ذَلِکَ۔ فَقَامُوا بِأَجْمَعِہِمْ إِلَیْہَا فَقَالُوا : إِنَّا بَعَثْنَا إِلَیْکَ ہَذَا فِی کَذَا وَکَذَا فَذَکَرَ أَنَّکِ قُلْتِ : کَذَا وَکَذَا۔ فَقَالَتْ : صَدَقَ۔ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَکْثَرُ مَا کَانَ یَصُومُ مِنَ الأَیَّامِ یَوْمُ السَّبْتِ وَالأَحَدِ وَکَانَ یَقُولُ : ((إِنَّہُمَا یَوْمَا عِیدٍ لِلْمُشْرِکِینَ وَأَنَا أُرِیدُ أَنْ أُخَالِفَہُمْ))۔ [حسن۔ اخرجہ ابن حبان]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت نفلی روزہ نہ رکھے بغیر اجازت جب اس کا خاوند موجود ہو
(٨٤٩٨) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورت روزہ نہ رکھے اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر جب اس کا خاوند موجود نہ ہو۔
(۸۴۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ : ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ تَصُومُ الْمَرْأَۃُ وَبَعْلُہَا شَاہِدٌ إِلاَّ بِإِذْنِہِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت نفلی روزہ نہ رکھے بغیر اجازت جب اس کا خاوند موجود ہو
(٨٤٩٩) ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور ہم آپکے پاس تھے تو اس نے کہا : یا رسول اللہ ! جب میں نماز پڑھتی ہوں تو میرا خاوند صفوان بن معطل مجھے مارتا ہے۔ جب میں روزہ رکھتی ہوں تو وہ افطار کروا دیتا ہے اور خود فجر کی نماز بھی نہیں پڑھتا حتیٰ کہ سورج طلوع ہوجاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں : صفوان بھی پاس ہی تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا جو عورت نے کہا تھا تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جو یہ بات کرتی ہے کہ میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مارتا ہے تو وہ یہ بات ہے وہ سورتیں پڑھتی ہے جن سے میں نے منع کیا ہے اور میں کہتا ہوں اگر تو ایک ہی سورة پڑھ لے تو سب کو کافی ہو اور اس کا یہ کہنا کہ جب میں روزے رکھتی ہوں تو وہ افطار کروا دیتا ہے تو یہ روزے ہی رکھتی چلی جاتی ہے اور میں نوجوان ہوں صبر نہیں کرپاتا۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عورت نہ روزہ رکھے مگر خاوند کی اجازت سے اور اس کا یہ کہنا کہ میں سورج طلوع ہونے کے بعد نماز فجر ادا کرتا ہوں تو جس خاندان سے میرا تعلق ہے وہ مشہور ہے کہ ہم سورج کے طلوع ہونے سے قبل بیدار ہو نہیں سکتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو بیدار ہو تو نماز پڑھ لیا کر۔
(۸۴۹۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَنَحْنُ عِنْدَہُ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ زَوْجِی صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ یَضْرِبُنِی إِذَا صَلَّیْتُ ، وَیُفَطِّرُنِی إِذَا صُمْتُ ، وَلاَ یُصَلِّی صَلاَۃَ الْفَجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ وَصَفْوَانُ عِنْدَہُ فَسَأَلَہُ عَمَّا قَالَتْ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمَّا قَوْلُہَا یَضْرِبُنِی إِذَا صَلَّیْتُ فَإِنَّہَا تَقْرَأُ بِسُورَتَیْنِ نَہَیْتُہَا عَنْہُمَا۔ وَقُلْتُ لَوْ کَانَتْ سُورَۃً وَاحِدَۃً لَکَفَتِ النَّاسَ ، وَأَمَّا قَوْلُہَا یُفَطِّرُنِی إِذَا صُمْتُ فَإِنَّہَا تَنْطَلِقُ وَتَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلاَ أَصْبِرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَئِذٍ : ((لاَ تَصُومُ امْرَأَۃٌ إِلاَّ بِإِذْنِ زَوْجِہَا))۔ وَأَمَّا قَوْلُہَا بِأَنِّی لاَ أُصَلِّی حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ فَإِنَّا أَہْلُ بَیْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاکَ لاَ نَکَادُ نَسْتَیْقِظُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ قَالَ : فَإِذَا اسْتَیْقَظْتَ فَصَلِّ ۔

[صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی فضیلت اور اختصار کے ساتھ روزے رکھنے کے فضیلت
(٨٥٠٠) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔
(۸۵۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہَبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ ابْنِ أَبِی أَنَسٍ : أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا جَائَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَہَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّیَاطِینُ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ بْنِ یَحْیَی عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی فضیلت اور اختصار کے ساتھ روزے رکھنے کے فضیلت
(٨٥٠١) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو مردو شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بھی نہیں کھولا جاتا ہے۔ مگر جنتوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتا اور اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے : اے نیکی کے متلاشی تو آگے بڑھ اور برائی کے متلاشی تو کم کر کہ (رُک جا) اور اللہ تعالیٰ جہنم سے آزاد بھی کرتے ہیں۔
(۸۵۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السِّمَاکِ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا کَانَ أَوَّلُ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّیَاطِینُ مَرَدَۃُ الْجِنِّ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ یُفْتَحْ مِنْہَا بَابٌ ، وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجِنَّانِ فَلَمْ یُغْلَقُ مِنْہَا بَابٌ ، وَنَادَی مُنَادٍ : یَا بَاغِیَ الْخَیْرِ أَقْبِلْ ، وَیَا بَاغِیَ الشَّرِّ أَقْصِرْ وَلِلَّہِ عُتَقَائُ مِنَ النَّارِ))۔ [حسن۔ اخرجہ الترمذی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی فضیلت اور اختصار کے ساتھ روزے رکھنے کے فضیلت
(٨٥٠٢) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم پر رمضان کا مہینہ سایہ فگن ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسمیہ بات کہی کہ مسلمانوں پر اس سے بہتر کوئی مہینہ نہیں گزرا اور نہ ہی منافقین پر کوئی مہینہ جو اس سے زیادہ ان کے لیے برا ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حلفیہ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس میں داخل ہونے سے پہلے اس کا نوافل کا اجر لکھ لیتا ہے۔ اس کے گناہ اس کی بد بختیاں بھی اس کے داخل ہونے سے پہلے لکھتا ہے۔ وہ اس لیے کہ مومن اس کی عبادت کا اہتمام کرتا ہے اور منافق مسلمانوں کی غفلت کا اہتمام کرتا ہے اور ان کے عیوب کے پیچھے چلتا ہے سو وہ مومن کے لیے غنیمت ہے اور فاجر اسے ضائع کرلیتا ہے۔
(۸۵۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ

(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ تَمِیمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَظَلَّکُمْ شَہْرُ رَمَضَانَ بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّہِ مَا مَضَی عَلَی الْمُسْلِمِینَ شَہْرٌ خَیْرٌ لَہُمْ مِنْہُ ، وَلاَ بِالْمُنَافِقِینَ شَہْرٌ شَرٌّ لَہُمْ مِنْہُ بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّہِ۔ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَکْتُبُ أَجْرَہُ وَنَوَافِلَہُ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَدْخُلَ ، وَیَکْتُبُ وِزْرَہُ وِشَقَائَ ہُ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ ، وَذَلِکَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ یُعِدُّ لَہُ النَّفَقَۃَ لِلْعِبَادَۃِ ، وَأَنَّ الْمُنَافِقَ یُعِدُّ فِیہِ غَفَلاَتِ الْمُسْلِمِینَ وَاتِّبَاعَ عَوْرَاتِہِمْ فَہُوَ غُنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ یَغْتَنِمُہُ الْفَاجِرُ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی فضیلت اور اختصار کے ساتھ روزے رکھنے کے فضیلت
(٨٥٠٣) عمر بن تمیم (رض) اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ انھوں اس حدیث کو اسی طرح بیان کیا سوائے اس کے کہ یہ کہا کہ فاجر کے لیے نقصان ہے۔
(۸۵۰۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْوَرَّاقُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَی عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ کَثِیرِ بْنِ زَیْدٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ تَمِیمٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : ((وَنِقْمَۃٌ لِلْفَاجِرِ))۔ [ضعیف۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی فضیلت اور اختصار کے ساتھ روزے رکھنے کے فضیلت
(٨٥٠٤) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر چڑھے تو فرمایا : آمین ‘ آمین ‘ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا کہ آپ ایسا تو نہیں کرتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے جبرائیل امین نے کہا : اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس پر رمضان کا مہینہ داخل ہوا۔ پھر اس نے بخشش نہ کروائی تو میں نے کہا : آمین ۔ پھر اس نے کہا : اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تذکرہ کیا گیا اور اس نے آپ پر درود نہ پڑھاتو میں نے کہا : آمین ۔ پھر اس نے کہا کہ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے والدین دونوں یا ایک کو پایا۔ پھر ان کی وجہ سے جنت میں داخل نہ ہوا تو میں نے کہا : آمین۔
(۸۵۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ سُلَیْمَانَ یَعْنِی ابْنَ بِلاَلٍ عَنْ کَثِیرِ بْنِ زَیْدٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا الْقَاضِی أَبُو عُمَرَ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْہَیْثَمِ الْبِسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ خَرْزَاذَ الْقَاضِی بِالأَہْوَازِ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ کَثِیرِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ارْتَقَی الْمِنْبَرَ فَقَالَ : آمِینَ آمِینَ آمِینَ ۔ فَقِیلَ لَہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا کُنْتَ تَصْنَعُ ہَذَا؟ فَقَالَ : ((قَالَ لِی جَبْرَئِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ دَخَلَ عَلَیْہِ رَمَضَانُ فَلَمْ یُغْفَرْ لَہُ فَقُلْتُ آمِینَ، ثُمَّ قَالَ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ ذُکِرْتَ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْکَ فَقُلْتُ آمِینَ، ثُمَّ قَالَ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ أَدْرَکَ وَالِدَیْہِ أَوْ أَحَدَہُمَا فَلَمْ یَدْخُلِ الْجَنَّۃَ فَقُلْتُ آمِینَ))۔

لَفْظُ حَدِیثِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، وَفِی رِوَایَۃِ سُلَیْمَانَ رَقِیَ الْمِنْبَرَ وَقَالَ : رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ أَوْ بَعُدَ ۔

[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی فضیلت اور اختصار کے ساتھ روزے رکھنے کے فضیلت
(٨٥٠٥) ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اپنی حدود وقیودکوجانا اور اس قدر حفاظت کی جو اس کے بس میں تھا تو اس کے پہلے گناہ مٹ گئے۔
(۸۵۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ حَلِیمِ بْنِ مُحَمَّدِ الدِّہْقَانُ بِمَرْوٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ قُرْطٍ أَنَّ عَطَائَ بْنَ یَسَارٍ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ یَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَعَرَفَ حُدُودَہُ وَتَحَفَّظَ لَہُ مَا یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَتَحَفََّظَ فِیہِ کَفَّرَ مَا قَبْلَہُ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی فضیلت اور اختصار کے ساتھ روزے رکھنے کے فضیلت
(٨٥٠٦) سیدنا ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کسی نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور طلب ثواب کی نیت سے اس کے پہلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
(۸۵۰۶) حَدَّثَنَا أَبُومُحَمَّدٍ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوسَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی فضیلت اور اختصار کے ساتھ روزے رکھنے کے فضیلت
(٨٥٠٧) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزہ کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دونگا مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے کہ روزے دار کی منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔

(صحیح مسلم میں ابن وھب کی حدیث حرملہ کے حوالے سے بیان کی گئی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ابن آدم کا ہر عمل۔ )
(۸۵۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمَّ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُرَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ ہُوَ لَہُ إِلاَّ الصِّیَامَ ہُوَ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَقَالَ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ : کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫১১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی فضیلت اور اختصار کے ساتھ روزے رکھنے کے فضیلت
(٨٥٠٨) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ہے کستوری کی خوشبو سے کہ وہ اپنی خواہشات کھانے اور پینے کو چھوڑتا ہے میری وجہ سے اور روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دونگا اور ہر نیکی دس گنا سے ساتھ سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے اور میں ہی اس کی جزاء دونگا۔
(۸۵۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ۔ إِنَّمَا یَتْرُکُ شَہْوَتَہُ وَطَعَامَہُ وَشَرَابَہُ مِنْ أَجْلِی ، وَالصِّیَامُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ کُلُّ حَسَنَۃٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا إِلَی سَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ إِلاَّ الصِّیَامَ فَہُوَ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫১২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی فضیلت اور اختصار کے ساتھ روزے رکھنے کے فضیلت
(٨٥٠٩) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ابن آدم کا ہر عمل بڑھا دیا جاتا ہے کہ ہر نیکی دس سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے۔ اللہ سبحانہ نے فرمایا : سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور اس کی جزاء بھی دونگا کیونکہ وہ کھانے پینے اور شہوت کو ترک دیتا ہے میری وجہ سے اور روزے دار کے لیے دوخوشیاں ہونگی : ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت البتہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو کستوری سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ روزہ ڈھال ہے روزہ ڈھال ہے۔
(۸۵۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ أَبُو الْفَضْلِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ یُضَاعَفُ۔ الْحَسَنَۃُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا إِلَی سَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ۔ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: إِلاَّ الصَّوْمَ فَإِنَّہُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ۔ یَدَعُ طَعَامَہُ وَشَہْوَتَہُ مِنْ أَجْلِی لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہِ، وَفَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَائِ رَبِّہِ۔ وَلَخَلُوفُ فِیہِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ۔ الصَّوْمُ جُنَّۃٌ الصَّوْمُ جُنَّۃٌ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الأَشَجِّ عَنْ وَکِیعٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫১৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی فضیلت اور اختصار کے ساتھ روزے رکھنے کے فضیلت
(٨٥١٠) اسحاق بن ایوب واسطی (رض) اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک آدمی کوسنا جو سفیان بن عینیہ سے کہہ رہا تھا : اے محمد ! اس کے متعلق بیان کریں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب سے بیان کرتے ہیں کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں ہی دونگا تو ابن عینیہ نے کہا : یہ اعلیٰ احادیث میں سے ہے اور محکم ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ اپنے بندے کا حساب لے گا اور جس قدر مظالم اس پر ہوں گے انھیں اد اکردیگا۔ اس کے تمام اعمال سے حتیٰ کہ صرف روزہ باقی ہوگا جو باقی ماندہ مظالم ہوں گے ۔ اللہ اسے ہٹا دے گا اور روزے کے ساتھ جنت میں داخل کردے گا۔
(۸۵۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو الطِّیبِ الْمُظَفَّرِ بْنُ سَہْلٍ الْخَلِیلِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَیُّوبَ بْنِ حَسَّانَ الْوَاسِطِیُّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلاً سَأَلَ سُفْیَانَ بْنَ عُیَیْنَۃَ فَقَالَ : یَا أَبَا مُحَمَّدٍ فِیمَا یَرْوِیہِ النَّبِیُّ -ﷺ- عَنْ رَبِّہِ عَزَّ وَجَلَّ : ((کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَہُ إِلاَّ الصَّوْمَ فَإِنَّہُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ))۔

فَقَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ : ہَذَا مِنْ أَجْوَدِ الأَحَادِیثِ وَأَحْکَمِہَا إِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ یُحَاسِبُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدَہُ وَیُؤَدِّی مَا عَلَیْہِ مِنَ الْمَظَالِمِ مِنْ سَائِرِ عَمَلِہِ حَتَّی لاَ یَبْقَی إِلاَّ الصَّوْمُ فَیَتَحَمَّلُ اللَّہُ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ مِنَ الْمَظَالِمِ وَیُدْخِلُہُ بِالصَّوْمِ الْجَنَّۃَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ المؤلف]
tahqiq

তাহকীক: