আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭১৭ টি
হাদীস নং: ৮৪৭৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے ناپسندید جانا ہے کہ آدمی نیت کرے ایک ماہ کے روزے کی اسے کئی مہینوں میں پورا کرے
(٨٤٧١) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے رکھا کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے : اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) افطار نہیں کریں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) افطار کیا کرتے تو ہم کہتے : اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے نہیں رکھیں گے ۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکمل مہینے کے روزے رکھے ہوں سوائے رمضان کے اور نہیں دیکھا میں نے آپ کو کسی مہینے میں زیادہ روزے رکھتے ہوئے سوائے شعبان کے۔
(۸۴۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ أَمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَصُومُ حَتَّی نَقُولَ : لاَ یُفْطِرُ ، وَیُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ لاَ یَصُومُ ، وَمَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- اسْتَکْمَلَ صِیَامَ شَہْرٍ قَطُّ إِلاَّ رَمَضَانَ ، وَمَا رَأَیْتُہُ فِی شَہْرٍ أَکْثَرَ صِیَامًا مِنْہُ فِی شَعْبَانَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ أَمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَصُومُ حَتَّی نَقُولَ : لاَ یُفْطِرُ ، وَیُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ لاَ یَصُومُ ، وَمَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- اسْتَکْمَلَ صِیَامَ شَہْرٍ قَطُّ إِلاَّ رَمَضَانَ ، وَمَا رَأَیْتُہُ فِی شَہْرٍ أَکْثَرَ صِیَامًا مِنْہُ فِی شَعْبَانَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے ناپسندید جانا ہے کہ آدمی نیت کرے ایک ماہ کے روزے کی اسے کئی مہینوں میں پورا کرے
(٨٤٧٢) علقمہ کہتے ہیں : میں نے عائشہ (رض) سے کہا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی دن مخصوص بھی کیا کرتے تھے ؟ انھوں نے کہا : نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عمل ہمیشگی کا ہوتا تھا اور تم میں سے کون اس قدر طاقت رکھتا ہے جس قدر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طاقت رکھتے تھے۔
(۸۴۷۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَۃَ : ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَخُصُّ مِنَ الأَیَّامِ شَیْئًا؟ قَالَتْ : لاَ۔ کَانَ عَمَلُہُ دِیمَۃً وَأَیُّکُمْ یُطِیقُ مَا کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُطِیقُ؟
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُسَدَّدٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ جَرِیرٍ عَنْ مَنْصُورٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُسَدَّدٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ جَرِیرٍ عَنْ مَنْصُورٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے سال بھر کے روزے رکھنا ناپسند کیا مگر عبادت میں میانہ روی کو پسند کیا جو اپنے پر کمزوری سے ڈرتا ہے
(٨٤٧٣) عبداللہ بن عمر (رض) عمرو بن عاص (رض) سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا کہ تو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اور ہمیشہ رات کا قیام کرتا ہے۔ میں نے کہا : جی ہاں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو ایسا کرے گا تو تیری آنکھیں دھنس جائیں گی اور تیرا نفس لاغر ہوجائے گا ۔ جس نے سال بھر کے روزے رکھے اس کا کوئی روزہ مقبول نہیں ہوگا تو ہر مہینے کے تین روزے رکھ ۔ یہ پورے سال کے روزے ہیں۔ وہ کہتے ہیں : اس سے زیادہ کی مجھ میں طاقت ہے۔ پھر تو داؤد (علیہ السلام) جیسے روزے رکھا کر وہ ایک دن کا روزہ رکھتا اور ایک دن کا افطار کرتا اور جب دشمن کو ملتے تھے تو بھاگتے نہیں تھے۔
(۸۴۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الْمَکِّیَّ وَکَانَ شَاعِرًا وَکَانَ لاَ یُتَّہَمُ فِی الْحَدِیثِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ یَقُولُ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّکَ تَصُومُ الدَّہْرَ ، وَتَقُومُ اللَّیْلَ؟))۔ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : ((إِنَّکَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِکَ ہَجَمَتْ لَہُ الْعَیْنُ وَنَفِہَتْ لَہُ النَّفْسُ۔ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الدَّہْرَ۔ صُمْ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ مِنَ الشَّہْرِ صَوْمُ الدَّہْرِ کُلِّہِ))۔ قَالَ فَقُلْتُ : فَإِنِّی أُطِیقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ : ((فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ کَانَ یَصُومُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمًا وَلاَ یَفِرُّ إِذَا لاَقَی))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے سال بھر کے روزے رکھنا ناپسند کیا مگر عبادت میں میانہ روی کو پسند کیا جو اپنے پر کمزوری سے ڈرتا ہے
(٨٤٧٤) عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا میں تجھے خبر نہ دوں کہ تو صائم النہار اور قائم الیل ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا : جی ہاں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ایسے ہی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا نہ کر بلکہ تو سو اور قیام کر اور روزہ رکھ اور روزہ افطارکر تجھ پر تیرے جسم کا حق ہے ، تجھ پر تیری آنکھ کا حق ہے ، تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے، تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے تیرے لیے یہ کافی ہے کہ تو ہر ماہ میں تین روزے رکھے اور بیشک ہر نیکی دس گناہ ہے جب تو یہ کرے گا تو صائم الامر ہوگا۔ وہ کہتے ہیں : میں نے سختی کی تو مجھ پر بھی سختی کی گئی ۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھ میں طاقت ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو ہر ہفتے میں تین روزے رکھ۔ وہ کہتے ہیں : میں نے سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں استطاعت رکھتا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو اللہ کے نبی داؤد (علیہ السلام) کے روزے رکھ اور اس سے زیادہ نہ کر۔ وہ کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ کے نبی داؤد (علیہ السلام) کے روزے کیا تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدھا سال۔
(۸۴۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزِیدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِیَّ حَدَّثَنِی یَحْیَی حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ تَصُومُ النَّہَارَ وَتَقُومُ اللَّیْلَ))۔ قَالَ قُلْتُ : بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : ((فَلاَ تَفْعَلْ۔ نَمْ ، وَقُمْ ، وَصُمْ ، وَأَفْطِرْ فَإِنَّ لِجَسَدِکَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِعَیْنَیْکَ عَلَیْکَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِزَوْرِکَ عَلَیْکَ حَقًّا ، وَإِنَّ بِحَسْبِکَ أَنْ تَصُومَ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ۔ فَإِنَّ کُلَّ حَسَنَۃٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا ، وَإِذَا ذَاکَ صِیَامُ الدَّہْرِ کُلِّہِ))۔ قَالَ : فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَیَّ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَجِدُ قُوَّۃً قَالَ : ((فَصُمْ مِنْ کُلِّ جُمُعَۃٍ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ))۔ قَالَ : فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَیَّ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَجِدُ قُوَّۃً۔ قَالَ : ((فَصُمْ صِیَامَ نَبِیِّ اللَّہِ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ، وَلاَ تَزِدْ عَلَی ذَلِکَ))۔ قَالَ فَقُلْتُ : وَمَا کَانَ صِیَامُ نَبِیِّ اللَّہِ دَاوُدَ؟ قَالَ : ((نِصْفَ الدَّہْرِ))۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے سال بھر کے روزے رکھنا ناپسند کیا مگر عبادت میں میانہ روی کو پسند کیا جو اپنے پر کمزوری سے ڈرتا ہے
(٨٤٧٥) ابن المبارک (رض) کہتے ہیں کہ اوزاعی نے ایسے ہی حدیث بیان کی مگر یہ کہ انھوں نے کہا کہ اس سے زیادہ نہ کرنا اور آخر میں اضافہ بھی کیا کہ عبداللہ بن عمر بوڑھے ہونے کے بعد کہا کرتے تھے کاش میں رخصت قبول کرلیتا۔
(۸۴۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِیُّ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : ((وَلاَ تَزِیدَنَّ عَلَیْہِ))۔ وَزَادَ فِی آخِرِہِ قَالَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو یَقُولُ بَعْدَ مَا أَدْرَکَہُ الْکِبَرُ : یَا لَیْتَنِی قَبِلْتُ رُخْصَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ وَحُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ وَحُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے سال بھر کے روزے رکھنا ناپسند کیا مگر عبادت میں میانہ روی کو پسند کیا جو اپنے پر کمزوری سے ڈرتا ہے
(٨٤٧٦) ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا کہ اللہ کے نبی آپ کے روزے کیسے ہیں یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کس طرح رکھتے ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے ۔ اسے کوئی جواب نہ دیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غصہ تھما تو عمر بن خطاب (رض) نے پوچھا : اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیسے روزے رکھتے ہیں اور اس کے متعلق بتائیے جو پورا سال روزے رکھتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ ایسے روزہ رکھا اور نہ افطار کیا ۔ پھر انھوں نے کہا : اللہ کے رسول ! جس نے دو دن روزہ رکھا اور یک افطار کیا اس کے بارے میں بتائیے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! اس کی طاقت کون رکھتا ہے ؟ میں چاہتا ہوں کہ ایسا کروں۔ انھوں نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس نے ایک روزہ رکھا اور ایک افطار کیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ داؤد (علیہ السلام) کا روزہ ہے۔ پھر کہا : اللہ کے رسول ! جس نے یوم عرفہ کا روزہ رکھا اس کی خبر دو ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک سال کے گناہ مٹا دے گا اور ایک سال پہلے کے بھی۔ پھر انھوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس کی خبر دیں جس نے ہر ماہ تین روزے رکھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ سال بھر کے روزے ہیں۔ پھر کہا : اس کی خبر دیں جس نے عاشور اء کا روزہ رکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک سال کے گناہ معاف ہوں گے ۔ پھر کہا : اے اللہ کے رسول ! اس کی خبردیں جس نے پیر کا روزہ رکھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ وہ دن ہے جس میں میں پید ا ہوا اور مجھ پر نبوت نازل کی گئی۔
(۸۴۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا غَیْلاَنُ بْنُ جَرِیرٍ الْمَعْوَلِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِیِّ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ کَیْفَ صَوْمُکَ أَوْ کَیْفَ تَصُومُ؟ قَالَ فَسَکَتَ عَنْہُ النَّبِیُّ -ﷺ- فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ شَیْئًا۔ فَلَمَّا أَنْ سَکَنَ عَنْہُ الْغَضَبُ سَأَلَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَہُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ کَیْفَ صَومُکَ أَوْ کَیْفَ تَصُومُ؟ أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ الدَّہْرَ کُلَّہُ؟ قَالَ : ((لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ)) أَوْ قَالَ ((مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ))۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ یَوْمَیْنِ وَأَفْطَرَ یَوْمًا؟ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((وَمَنْ یُطِیقُ ذَلِکَ یَا عُمَرُ لَوَدِدْتُ أَنِّی فَعَلْتُ ذَلِکَ))۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ یَوْمًا وَأَفْطَرَ یَوْمًا؟ قَالَ : ((ذَاکَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ))۔ فَقَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ یَوْمَ عَرَفَۃَ؟ قَالَ : ((یُکَفِّرُ السَّنَۃَ وَالسَّنَۃَ الَّتِی قَبْلَہَا))۔ قَالَ : أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ ثَلاَثًا مِنَ الشَّہْرِ؟ قَالَ : ((ذَاکَ صَوْمُ الدَّہْرِ))۔ قَالَ : أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ یَوْمَ عَاشُورَائَ ؟ قَالَ : یُکَفِّرُ السَّنَۃَ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ مَنْ صَامَ یَوْمَ الاِثْنَیْنِ؟ قَالَ : ((ذَاکَ یَوْمٌ وُلِدْتُ فِیہِ وَیَوْمٌ أُنْزِلَتْ عَلَیَّ فِیہِ النُّبُوَّۃُ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حَبَّانَ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ یَزِیدَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حَبَّانَ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ یَزِیدَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے مہینے کے اخیر میں روزے رکھنے میں کوئی حرج تصور نہیں کیا جب اسے کمزوری کا اندیشہ ہو اور وہ روزے چھوڑ دیے جن سے منع کیا گیا
(٨٤٧٧) ابوموسیٰ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے پورا سال روزے رکھے اس ہر جہنم کو اس طرح تنگ کردیا جائے گا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نوے کی گرہ لگائی۔
(۸۴۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ یَسَارٍ عَنْ أَبِی تَمِیمَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ رَجَائٍ الأَدِیبُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ یَسَارٍ الْیَشْکُّرِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو تَمِیمَۃَ الْہُجَیْمِیُّ عَنْ أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ صَامَ الدَّہْرَ ضُیِّقَتْ عَلَیْہِ جَہَنَّمُ ہَکَذَا))۔ وَعَقَدَ تِسْعِینَ۔ لَفْظُ أَبِی دَاوُدَ۔ [صحیح۔ اخرجہ الطیالسی]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ رَجَائٍ الأَدِیبُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ یَسَارٍ الْیَشْکُّرِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو تَمِیمَۃَ الْہُجَیْمِیُّ عَنْ أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ صَامَ الدَّہْرَ ضُیِّقَتْ عَلَیْہِ جَہَنَّمُ ہَکَذَا))۔ وَعَقَدَ تِسْعِینَ۔ لَفْظُ أَبِی دَاوُدَ۔ [صحیح۔ اخرجہ الطیالسی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے مہینے کے اخیر میں روزے رکھنے میں کوئی حرج تصور نہیں کیا جب اسے کمزوری کا اندیشہ ہو اور وہ روزے چھوڑ دیے جن سے منع کیا گیا
(٨٤٧٨) حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس نے سال بھر کے روزے رکھے اس پر جہنم کو اس طرح تنگ کردیا جائے گا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نوے کی گرہ لگائی۔
(۸۴۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی تَمِیمَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ : ((مَنْ صَامَ الدَّہْرَ ضُیِّقَتْ عَلَیْہِ جَہَنَّمُ ہَکَذَا)) وَعَقَدَ عَلَی تِسْعِینَ۔ لَمْ یَرْفَعْہُ شُعْبَۃُ۔ [صحیح۔ اخرجہ الطیالسی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے مہینے کے اخیر میں روزے رکھنے میں کوئی حرج تصور نہیں کیا جب اسے کمزوری کا اندیشہ ہو اور وہ روزے چھوڑ دیے جن سے منع کیا گیا
(٨٤٧٩) ابو مالک اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک جنت میں ایک کمرہ ہے جس کے ظاہر سے اس کا باطن دیکھا جاسکتا ہے اور اس کے باطن سے اس کا ظاہر دیکھا جاسکتا ہے۔ اسے اللہ نے ان کے لیے تیار کیا ہے جو نرم کلام کرتے ہیں اور کھانا کھلاتے ہیں اور متواتر روزے رکھتے ہیں اور جب لوگ سو جائیں تو وہ نمازیں پڑھتے ہیں۔
(۸۴۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ ابْنِ مُعَانِقٍ أَوِ أَبِی مُعَانِقٍ عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ غُرْفَۃً یُرَی ظَاہِرُہَا مَنْ بَاطِنِہَا وَبَاطِنُہَا مِنْ ظَاہِرِہَا أَعَدَّہَا اللَّہُ لِمَنْ أَلاَنَ الْکَلاَمَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَتَابَعَ الصِّیَامَ وَصَلَّی بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ))۔
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد]
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے مہینے کے اخیر میں روزے رکھنے میں کوئی حرج تصور نہیں کیا جب اسے کمزوری کا اندیشہ ہو اور وہ روزے چھوڑ دیے جن سے منع کیا گیا
(٨٤٨٠) ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قافلہ بھیجا آگے حدیث بیان کی ۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے ایسا حکم دیں جو میرے لیے مفید ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے پر لازم کر کہ اس کی مثل کوئی عمل نہیں تو پھر ابو امامہ نہیں ملا کرتے تھے مگر روزے کی حالت میں وہ ان کا خادم اور ان کی بیوی بھی۔ جب دن میں ان کے گھر میں دھواں دکھائی دیتا تو ہم سمجھتے کوئی مہمان آیا ہے۔ پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے مجھے ایک بات بتائی مجھے امید ہے اللہ اس میں برکت دیں گے ۔ مجھے کوئی اور بات بتائیے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو جان لے کہ نہیں تو کوئی سجدہ کرتا مگر اس کے ساتھ اللہ درجہ بلند کرتا ہے تیرے لیے لیکن لکھی جاتی ہے اور تیرا گناہ مٹا یا جاتا ہے۔
(۸۴۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ : أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ الضَّبِّیَّ حَدَّثَہُ عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ أَحْسَبُہُ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی سَرِیَّۃٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ ثُمَّ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مُرْنِی بِأَمْرٍ یَنْفَعُنِی اللَّہُ بِہِ۔ قَالَ : عَلَیْکَ بِالصِّیَامِ فَإِنَّہُ لاَ مِثْلَ لَہُ ۔ قَالَ فَکَانَ أَبُو أُمَامَۃَ لاَ یُلْقَی إِلاَّ صَائِمًا ہُوَ وَامْرَأَتُہُ وَخَادِمُہُ ، فَإِذَا رُئِیَ فِی دَارِہِ دُخَانٌ بِالنَّہَارِ قِیلَ : اعْتَرَاہُمْ ضَیْفٌ ، ثُمَّ أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ أَمَرْتَنِی بِأَمْرٍ أَرْجُو اللَّہَ أَنْ یَکُونَ قَدْ بَارَکَ اللَّہُ لِی فِیہِ۔ فَمُرْنِی بِأَمْرٍ قَالَ : ((اعْلَمْ أَنَّکَ لاَ تَسْجُدُ لِلَّہِ سَجْدَۃً إِلاَّ رَفَعَکَ اللَّہُ بِہَا دَرَجَۃً أَوْ کَتَبَ لَکَ بِہَا حَسَنَۃً أَوْ حَطَّ عَنْکَ بِہَا سَیِّئَۃً))۔ تَابَعَہُ مَہْدِیُّ بْنُ مَیْمُونٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ۔
وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ عَنْ أَبِی نَصْرٍ الْہِلاَلِیِّ عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ۔
[صحیح۔ اخرجہ الطبرانی]
وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ عَنْ أَبِی نَصْرٍ الْہِلاَلِیِّ عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ۔
[صحیح۔ اخرجہ الطبرانی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے مہینے کے اخیر میں روزے رکھنے میں کوئی حرج تصور نہیں کیا جب اسے کمزوری کا اندیشہ ہو اور وہ روزے چھوڑ دیے جن سے منع کیا گیا
(٨٤٨١) عبداللہ بن عمرنافع (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ عمربن خطاب (رض) فوت ہونے سے قبل مہینے کے آخری روزے رکھا کرتے تھی۔ اور عبداللہ بن عمر بھی اخیر میں رکھے۔
(۸۴۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدْ کَانَ یَسْرُدُ الصِّیَامَ قَبْلَ أَنْ یَمُوتَ۔ قَالَ نَافِعٌ : وَسَرَدَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ فِی آخِرِ زَمَانِہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے مہینے کے اخیر میں روزے رکھنے میں کوئی حرج تصور نہیں کیا جب اسے کمزوری کا اندیشہ ہو اور وہ روزے چھوڑ دیے جن سے منع کیا گیا
(٨٤٨٢) رزعد بن ثواب کہتے ہیں : میں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے صیام الدھر کے بارے پوچھا تو انھوں نے کہا : ہم انھیں سابقین میں شمار کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں : ایک روزہ رکھتے اور ایک چھوڑنے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : اس سے روزے دارنے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ۔ وہ کہتے ہیں اور ان سے ہر ماہ کے تین روزوں کے بارے پوچھا تو انھوں نے کہا : اس نے پورا سال روزے رکھے اور افطار کیا۔
(۸۴۸۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُوزَکَرِیَّا وَأَبُوبَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرٌ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ جَشِیبٍ أَنَّہُ سَمِعَ زُرْعَۃَ بْنَ ثَوْبٍ یَقُولُ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صِیَامِ الدَّہْرِ قَالَ : کُنَّا نَعُدُّ أُولَئِکَ فِینَا مِنَ السَّابِقِینَ۔ قَالَ : وَسَأَلْتُہُ عَنْ صِیَامِ یَوْمٍ وَفِطْرِ یَوْمٍ۔ قَالَ : لَمْ یَدَعْ ذَلِکَ لِصَائِمٍ مَصَامًا۔ قَالَ : وَسَأَلْتُہُ عَنْ صِیَامِ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ فَقَالَ : صَامَ ذَلِکَ الدَّہْرَ وَأَفْطَرَہُ۔ [ضعیف۔ ابن خزیمہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے مہینے کے اخیر میں روزے رکھنے میں کوئی حرج تصور نہیں کیا جب اسے کمزوری کا اندیشہ ہو اور وہ روزے چھوڑ دیے جن سے منع کیا گیا
(٨٤٨٣) عروہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) سفر اور حضر میں پورے سال کے روزے رکھتی تھیں۔
(۸۴۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ وَحَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ : أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا کَانَتْ تَصُومُ الدَّہْرَ فِی السَّفَرِ وَالْحَضَرِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الطبری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے مہینے کے اخیر میں روزے رکھنے میں کوئی حرج تصور نہیں کیا جب اسے کمزوری کا اندیشہ ہو اور وہ روزے چھوڑ دیے جن سے منع کیا گیا
(٨٤٨٤) قاسم بن محمد (رض) کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) کو سفر میں روزے رکھتے دیکھا تو وہ عصر کے بعد سوار ہونے کے لیے کھڑی ہوئیں مگر تھکاوٹ نے آلیا جس وجہ سے وہ سوار نہ ہوجائیں۔
(۸۴۸۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَیْرًا حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَقُولُ : لَقَدْ رَأَیْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی سَفَرٍ صَائِمَۃً فَقَامَتْ تَرْکَبُ بَعْدَ الْعَصْرِ فَضَرَبَہَا سَمُومٌ حَتَّی لَمْ تُطِقْ تَرْکَبُ۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے مہینے کے اخیر میں روزے رکھنے میں کوئی حرج تصور نہیں کیا جب اسے کمزوری کا اندیشہ ہو اور وہ روزے چھوڑ دیے جن سے منع کیا گیا
(٨٤٨٥) انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں غزوات کی وجہ سے روزے نہیں رکھ پاتے تھے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے تو انھیں کبھی مفطر حالت میں نہیں دیکھا گیا سوائے یوم الفطر اور یوم النحر کے۔
(۸۴۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ البَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : کَانَ أَبُو طَلْحَۃَ لاَ یَصُومُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ أَجْلِ الْغَزْوِ ۔ فَلَمَّا مَاتَ النَّبِیِّ -ﷺ- لَمْ أَرَہُ مُفْطِرًا إِلاَّ یَوْمَ الْفِطْرِ أَوْ یَوْمَ النَّحْرِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے مہینے کے اخیر میں روزے رکھنے میں کوئی حرج تصور نہیں کیا جب اسے کمزوری کا اندیشہ ہو اور وہ روزے چھوڑ دیے جن سے منع کیا گیا
(٨٤٨٦) انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں روزے نہیں رکھا کرتے تھے ۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے تو پھر وہ کبھی بغیر روزے کے نہیں پائے گئے سوائے یوم الفطر اور یوم النحر کے۔
(۸۴۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوالْقَاسِمِ: عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ : کَانَ أَبُو طَلْحَۃَ لاَ یَصُومُ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِیُّ -ﷺ- لَمْ أَرَہُ مُفْطِرًا إِلاَّ یَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًی۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৯০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم جمعہ کو رو زے کے ساتھ خاص کرنے کی ممانعت
(٨٤٨٧) محمد بن عباد (رض) کہتے ہیں : میں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے کہا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعے کے دن کے روزے سے منع کیا ؟ انھوں نے کہا : ہاں ہاں اس گھر کے رب کی قسم۔
(۸۴۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ : الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : ہَلْ نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ؟ قَالَ : إِیْ وَرَبِّ ہَذَا الْبَیْتِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ ، وأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ : زَادَ غَیْرُ أَبِی عَاصِمٍ أَنْ یُفْرَدَ بِصَوْمٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ : ہَذِہِ الزِّیَادَۃُ ذَکَرَہَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَصَّرَ بِإِسْنَادِہِ فَلَمْ یَذْکُرْ فِیہِ عَبْدَ الْحَمِیدِ بْنَ جُبَیْرٍ وَقَدْ رُوِیَتْ ہَذِہِ الزِّیَادَۃُ فِی حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ ، وأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ : زَادَ غَیْرُ أَبِی عَاصِمٍ أَنْ یُفْرَدَ بِصَوْمٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ : ہَذِہِ الزِّیَادَۃُ ذَکَرَہَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَصَّرَ بِإِسْنَادِہِ فَلَمْ یَذْکُرْ فِیہِ عَبْدَ الْحَمِیدِ بْنَ جُبَیْرٍ وَقَدْ رُوِیَتْ ہَذِہِ الزِّیَادَۃُ فِی حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৯১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم جمعہ کو رو زے کے ساتھ خاص کرنے کی ممانعت
(٨٤٨٨) ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے مگر یہ کہ اس سے پہلے یا بعد میں ایک روزہ رکھے۔
(۸۴۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَصُومُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ إِلاَّ أَنْ یَصُومَ قَبْلَہُ یَوْمًا أَوْ بَعْدَہُ یَوْمًا))۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৯২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم جمعہ کو رو زے کے ساتھ خاص کرنے کی ممانعت
(٨٤٨٩) ابو معاویہ (رض) نے حدیث بیان کی اور اسی سند کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ کوئی تم میں سے جمعہ کا روزہ نہ رکھا الا یہ کہ اس سے پہلے یا بعد میں روزہ رکھے۔
(۸۴۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی وَإِسْحَاقُ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ۔ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : ((لاَ یَصُمْ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ إِلاَّ أَنْ یَصُومَ قَبْلَہُ أَوْ یَصُومَ بَعْدَہُ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৯৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم جمعہ کو رو زے کے ساتھ خاص کرنے کی ممانعت
(٨٤٩٠) ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ لیلۃ جمعہ کو قیام کے لیے مخصوص نہ کرو دوسری راتوں کے علاوہ اور نہ ہی جمعہ کو روزے کے ساتھ خاص کرو و دیگر ایام میں سے سوائے اس کے کہ وہ ان روزوں میں سے ہو جو تم پہلے رکھ رہے ہو۔
(۸۴۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ زَائِدَۃَ عَنْ ہِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ تَخْتَصُّوا لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ بِقِیَامٍ مِنْ بَیْنِ اللَّیَالِی ، وَلاَ تَخْتَصُّوا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِصِیَامٍ مِنْ بَیْنِ الأَیَّامِ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ فِی صَوْمٍ یَصُومُہُ أَحَدُکُمْ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
তাহকীক: