আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭১৭ টি

হাদীস নং: ৮৩৯৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی کے لیے عرفہ کا روزہ چھوڑنے میں اختیار ہے
(٨٣٩١) عبیداللہ بن کریز (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بہترین دعا و عائے عرفہ ہے اور سب سے بہتر بات جو میں نے یا پہلے انبیاء نے کہی وہ ہے ( (لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ) )
(۸۳۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ زِیَادٍ مَوْلَی ابْنِ عَیَّاشٍ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ کُرَیْزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((أَفْضَلُ الدُّعَائِ دُعَائُ یَوْمِ عَرَفَۃَ ، وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا والنَّبِیُّونَ مِنْ قَبْلِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ))۔ ہَذَا مُرْسَلٌ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ مالک]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشرہ ذالحجہ میں اعمال صالحہ کے متعلق
(٨٣٩٢) سعید بن جبیربن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کو نسا عمل ہے جو عام ایام میں افضل و بہترین ہو عشرہ ذولحجہ سے۔ کوئی عمل نہیں جو عام ایام میں افضل ہوعشرہ ذی الحجہ سے۔ انھوں نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جہاد فی سبیل اللہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ ہی جھاد فی سبیل اللہ الا کہ وہ نکلا مال ونفس (جان) کے ساتھ مگر ان دونوں میں سے کوئی چیز واپس نہ پلٹی۔

ابو معاویہ کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی ایسے ایام نہیں جن میں کیا ہوا کوئی عمل صالح اللہ کو ان ایام سے زیادہ محبوب ہو۔
(۸۳۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِینِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ مُسْلِمَ الْبَطِینَ یُحَدِّثُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((مَا الْعَمَلُ فِی أَیَّامٍ أَفْضَلَ مِنْہُ فِی عَشْرِ ذِی الْحِجَّۃِ))۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَلاَ الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ؟۔ قَالَ : ((وَلاَ الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ۔ إِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ، ثُمَّ لاَ یَرْجِعُ مِنْ ذَلِکَ بِشَیْئٍ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ شُعْبَۃَ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی مُعَاوِیَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا مِنْ أَیَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِیہَا أَحَبُّ إِلَی اللَّہِ مِنْ ہَذِہِ الأَیَّامِ))۔ یَعْنِی أَیَّامَ الْعَشْرٍ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشرہ ذالحجہ میں اعمال صالحہ کے متعلق
(٨٣٩٣) ہنیدبن خالد بعض ازواج النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نو ذوالحج کا روزہ رکھا کرتے تھے اور عاشور کا بھی اور تین روزے ہر مہینے کے اسی طرح ہر مہینے سے پیر اور خمس جمعرات کا۔
(۸۳۹۳) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ الْخَلِیلِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّیَّاحِ عَنْ ہُنَیْدَۃَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ امْرَأَتِہِ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَصُومُ تِسْعَ ذِی الْحِجَّۃِ ، وَیَوْمَ عَاشُورَائَ وَثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ أَوَّلَ اثْنَیْنِ مِنَ الشَّہْرِ وَالْخَمِیسَ۔ تَعْنِی وَیَوْمًا آخَرَ، وَرَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُسَدَّدٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشرہ ذالحجہ میں اعمال صالحہ کے متعلق
(٨٣٩٤) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دس دنوں میں روزے رکھتے نہیں دیکھا۔

(امام مسلم صحیح میں اسحاق بن ابراہیم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ اثبات والی بات فقی سے زیادہ بہتر اور صحیح ہے حدیث بن عباس (رض) کے حوالے سے۔ )
(۸۳۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَائِمًا فِی الْعَشْرِ قَطُّ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ۔

وَالْمُثْبِثُ أَوْلَی مِنَ النَّافِی مَعَ مَا مَضَی مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے روزے کی قضا عشرہ ذوالحجہ میں جائز ہے
(٨٣٩٥) اسود بن قیس اپنے باپ سے اور وہ عمر (رض) سے بیان کرتے ہیں : کوئی ایسے ایام نہیں جن کا عمل میرے نزدیک زیاد ہ محبوب ہو ان دنوں سے ۔ نہ کوئی ایام نہیں جن میں رمضان کی قضا دینا مجھے زیادہ محبو ب ہو عشرہ ذو الحجہ سے۔
(۸۳۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَا مِنْ أَیَّامٍ أَحَبَّ إِلَیَّ أَنْ أَقْضِیَ فِیہَا شَہْرَ رَمَضَانَ مِنْ أَیَّامِ الْعَشْرِ۔

قَالَ وَحَدَّثَنَا سُفْیَان حَدَّثَنَی عُثْمَانُ بْنُ مَوْہَبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ وَسَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنَّ عَلَیَّ رَمَضَانَ وَأَنَا أُرِیدُ أَنْ أَتَطَوَّعَ فِی الْعَشْرِ قَالَ : لاَ بَلِ ابْدَأْ بِحَقِّ اللَّہِ فَاقْضِہِ ثُمَّ تَطَوَّعْ بَعْدُ مَا شِئْتَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے روزے کی قضا عشرہ ذوالحجہ میں جائز ہے
(٨٣٩٦) سفیان ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ علی (رض) نے کہا : نہ قضا دو رمضان کی عشرہ ذی الحجہ میں اور نہ ہی صرف جمعے کے دن کا روزہ رکھو اور نہ سنگی لگواؤ روزے کی حالت میں۔

(اس عشرے میں قضائی دینا علی (رض) ناپسند کرتے کیونکہ وہ قضا کو متواتر جانتے ہیں۔ سو جب قضائے وجوب نو سے زیادہ ہوجائے تو اس کا تو اتر یوم النحر اور ایام تشریق کو ختم ہوجائے گا۔ )
(۸۳۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ تَقْضِ رَمَضَانَ فِی ذِی الْحِجَّۃِ ، وَلاَ تَصُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ أَظُنُّہُ مُنْفَرِدًا ، وَلاَ تَحْتَجِمْ وَأَنْتَ صَائِمٌ۔

وَرُوِیَ أَیْضًا عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی کَرَاہِیَۃِ الْقَضَائِ فِی الْعَشْرِ۔

وَہَذَا لأَنَّہُ کَانَ یَرَی قَضَائَ ہُ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ مُتَتَابِعًا۔

فَإِذَا زَادَ مَا وَجَبَ عَلَیْہِ قَضَاؤُہُ عَلَی تَسْعَۃِ أَیَّامٍ انْقَطَعَ تَتَابُعُہُ بِیَوْمِ النَّحْرِ وَأَیَّامِ التَّشْرِیقِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشور کی فضیلت
(٨٣٩٧) عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینے آئے تو یہود مدینہ کو دیکھا کہ وہ یوم عاشور کا روزہ رکھتے ہیں تو ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کون سا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو۔ انھوں نے کہا : یہ عظیم دن ہے جس میں اللہ نے موسیٰ اور قوم موسیٰ کو فرعون سے نجات دلائی تھی اور فرعون اور قوم فرعون کو غرق کیا تھا تو موسیٰ نے شکر کرتے ہوئے یہ روزہ رکھا اور ہم روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم زیادہ حق دار ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے تم سے اور زیادہ قریبی ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ رکھا اور اس کے روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
(۸۳۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَوَجَدَ الْیَہُودَ صِیَامًا یَوْمَ عَاشُورَائَ ۔ فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا ہَذَا الْیَوْمُ الَّذِی تَصُومُونَہُ؟))۔ فَقَالُوا : ہَذَا یَوْمٌ عَظِیمٌ أَنْجَی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ مُوسَی وَقَوْمَہُ وَغَرَّقَ فِیہِ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَہُ۔ فَصَامَہُ مُوسَی شُکْرًا فَنَحْنُ نَصُومُہُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَی بِمُوسَی مِنْکُمْ))۔ فَصَامَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَمَرَ بِصِیَامِہِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ عَنْ سُفْیَانَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشور کی فضیلت
(٨٣٩٨) عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نہیں دیکھا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہ آپ تلاش کرتے ہوں کسی دن کا روزہ جسے فضیلت دی جائے دوسرے روزے پر سوائے اس دن کے یعنی یوم عاشور اور رمضان کے مہینے کے۔
(۸۳۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَتَحَرَّی صِیَامَ یَوْمٍ یَلْتَمِسُ فَضْلَہُ عَلَی غَیْرِہِ إِلاَّ ہَذَا الْیَوْمَ یَوْمَ عَاشُورَائَ وَشَہْرَ رَمَضَانَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، وأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشور کی فضیلت
(٨٣٩٩) ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے سوال کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس روزے کا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناراض ہوگئے اور غصہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے ظاہر ہورہا تھا تو عمر بن خطاب (رض) کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم راضی ہوگئے اللہ کے رب ہونے پر اور سلا م کے دین ہونے پر اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی ہونے پر میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اللہ اور رسول کے غصے سے تو عمر (رض) یہ بات بار بار لوٹاتے رہے حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے تو کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس آدمی کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں جو پورا سال روزہ رکھتا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ افطار کیا اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بارے میں کیا ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے۔ فرمایا : کون ہے جو اس کی طاقت رکھتا ہے۔ پھر انھوں نے کہا : وہ کیسا ہے جو دو دن افطار کرتا ہے اور ایک دن روزہ رکھتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں سمجھتا ہوں کہ میں اس کی طاقت رکھتا ہوں ۔ پھر انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیر کے روزے کے بارے کیا کہتے ہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ وہ دن ہے جس میں میں پیدا ہوا اور مجھ پر شریعت نازل ہوئی ۔ انھوں نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اس شخص کے بارے کیا کہتے ہیں جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ میرے بھائی داؤد کا روزہ ہے۔ پھر انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یوم عاشور کے روزے کے بارے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا فرماتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ پر امید رکھتا ہوں کہ وہ ایک سال کے گناہ معاف کردیگا۔ پھر انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جس نے یوم عرفہ کا روزہ رکھا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ پہلے سا ل کے گناہ اور آنے والے سال کے گناہ معاف فرمادیں گے۔
(۸۳۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ وَہِشَامٌ وَمَہْدِیٌّ قَالَ حَمَّادٌ وَمَہْدِیٌّ عَنْ غَیْلاَنَ بْنِ جَرِیرٍ وَقَالَ ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ غَیْلاَنَ بْنِ جَرِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِیِّ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ أَعْرَابِیًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ صَوْمِہِ فَغَضِبَ حَتَّی عُرِفَ ذَلِکَ فِی وَجْہِہِ۔ فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : رَضِینَا بِاللَّہِ رَبًّا ، وَبِالإِسْلاَمِ دِینًا ، وَبِکَ نَبِیًّا۔ أَعُوذُ بِاللَّہِ مِنْ غَضَبِ اللَّہِ وَغَضَبِ رَسُولِہِ۔ فَلَمْ یَزَلْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُرَدِّدُ ذَلِکَ حَتَّی سَکَنَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا تَقُولُ فِی رَجُلٍ یَصُومُ الدَّہْرَ کُلَّہُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ)) أَوْ قَالَ ((مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ))۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ بِمَنْ یَصُومُ یَوْمَیْنِ وَیُفْطِرُ یَوْمًا؟ فَقَالَ : ((وَمَنْ یُطِیقُ ذَلِکَ؟))۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ بِمَنْ یُفْطِرُ یَوْمَیْنِ وَیَصُومُ یَوْمًا؟ فَقَالَ : ((لَوَدِدْتُ أَنِّی طُوِّقْتُ ذَلِکَ))۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَمَا تَقُولُ فِی صَوْمِ یَوْمِ الاِثْنَیْنِ؟ فَقَالَ : ((ذَلِکَ یَوْمٌ وُلِدْتُ فِیہِ وَأُنْزِلَ عَلَیَّ فِیہِ))۔ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَمَا تَقُولُ فِی رَجُلٍ یَصُومُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمًا؟ فَقَالَ : ((ذَلِکَ صَوْمُ أَخِی دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ))۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَمَا تَقُولُ فِی صَوْمِ یَوْمِ عَاشُورَائَ ؟ قَالَ : ((إِنِّی لأَحْتَسِبُ عَلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یُکَفِّرَ السَّنَۃَ))۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَمَا تَقُولُ فِی مَنْ یَصُومُ یَوْمِ عَرَفَۃَ؟ قَالَ : ((إِنِّی لأَحْتَسِبُ عَلَی اللَّہِ أَنْ یُکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِی قَبْلَہَا وَالسَّنَۃَ الَّتِی بَعْدَہَا))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ، وَمِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَہْدِیِّ بْنِ مَیْمُونٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم عاشور کی فضیلت
(٨٤٠٠) اسود بن یزید (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نہیں دیکھا کسی کو جو علی (رض) اور ابوموسیٰ سے زیادہ یوم عاشور کے روزے کا حکم دینے والاہو۔
(۸۴۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ: مَا رَأَیْتُ أَحَدًا کَانَ آمَرَ بِصِیَامِ یَوْمِ عَاشُورَائَ مِنْ عَلِیٍّ وَأَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔

[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شبیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نویں دن کا روزہ رکھنا
(٨٤٠١) عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یومِ عاشور کا روزہ رکھا تو اس کے روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ انھوں نے کہا کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ وہ دن جس کی یہودی تعظیم کرتے ہیں تو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب آئندہ سال آئے گا تو ہم انشاء اللہ نو تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ آئندہ سال نہ آیا مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے ہی وفات پا گئے۔
(۸۴۰۱) حَدَّنَثَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدُوَیْہِ بْنِ سَہْلٍ الْمُطَّوِّعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حَمَّادٍ الآمُلِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ

(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَیُّوَیْہِ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ أُمَّیَّۃَ : أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِیفٍ یَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ حِینَ صَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ عَاشُورَائَ وَأَمَرَ بِصِیَامِہِ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہُ یَوْمٌ تُعَظِّمُہُ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((فَإِذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ صُمْنَا یَوْمَ التَّاسِعَ إِنْ شَائَ اللَّہُ))۔ قَالَ فَلَمْ یَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّی تُوُفِّیَ النَّبِیُّ -ﷺ-۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الْحُلْوَانِیِّ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نویں دن کا روزہ رکھنا
(٨٤٠٢) عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں آئندہ سلامت رہا تو ضرور میں نو تاریخ کا روزہ رکھوں گا۔

(احمد بن یونس ابن ابی ذئب کے حوالے سے متن میں بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” اگر میں زندہ رہا تو انشاء اللہ نو تاریخ کا روزہ بھی رکھوں گا اس خوف سے کہ یوم عاشورنہ رہ جائے)
(۸۴۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ قَاضَی مِصْرَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((لَئِنْ سَلِمْتُ إِلَی قَابِلٍ لأَصُومَنَّ یَوْمَ التَّاسِعَ))۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ وَکِیعٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ۔

وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَقَالَ فِی مَتْنِہِ : إِنْ عِشْتُ إِنْ شَائَ اللَّہُ صُمْتُ الْیَوْمَ التَّاسِعَ ۔ مَخَافَۃَ أَنْ یَفُوتَہُ یَوْمُ عَاشُورَائَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نویں دن کا روزہ رکھنا
(٨٤٠٣) حکیم بن اعرج بیان کرتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کے پاس گیا تو وہ اپنی چادر کا تکیہ بنائے زمزم کے پاس بیٹھے تھے میں ان کے پاس بیٹھ گیا وہ بہترین مجلس تھی میں نے کہا کہ تم کس صورت میں پوچھتے ہو۔ میں نے کہا : روزے کے متعلق کہ ہم کس دن کا روزہ رکھیں۔ انھوں نے کہا : جب محرم کا چاند دیکھو تو اسے شمار کرو۔ جب تم صبح کرو تو روزے کی حالت میں صبح کرو۔ وہ کہتے ہیں : میں نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوں ہی روزہ رکھا کرتے تھے ۔ انھوں نے کہا : ہاں۔
(۸۴۰۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرَۃَ : بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ قَاضَی مِصْرَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَکَمَ بْنَ الأَعْرَجِ قَالَ : انْتَہَیْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَائَ ہُ عِنْدَ زَمْزَمَ قَالَ فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ وَکَانَ نِعْمَ الْجَلِیسُ فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِی عَنْ یَوْمِ عَاشُورَائَ ۔ فَاسْتَوَی قَاعِدًا ، ثُمَّ قَالَ : عَنْ أَیِّ حَالِہِ تَسْأَلُ؟ قُلْتُ : عَنْ صِیَامِہِ أَیَّ یَوْمِ نَصُومُ؟ قَالَ : إِذَا رَأَیْتَ ہِلاَلَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعِہِ فَأَصْبِحْ صَائِمًا قَالَ قُلْتُ : کَذَلِکَ کَانَ یَصُومُ مُحَمَّدٌ -ﷺ-؟ قَالَ : نَعَمْ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ وَکِیعٍ عَنْ حَاجِبٍ وَکَأَنَّہُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرَادَ صَوْمَہُ مَعَ الْعَاشِرِ وَأَرَادَ بِقَوْلِہِ فِی الْجَوَابِ نَعَمْ مَا رُوِیَ مِنْ عَزْمِہِ -ﷺ- عَلَی صَوْمِہِ۔ وَالَّذِی یُبَیِّنُ ہَذَا۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نویں دن کا روزہ رکھنا
(٨٤٠٤) عطاء بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ابن عباس (رض) سے سنا کہ وہ کہتے تھے نو اور دس تاریخ کا روزہ رکھو یہودیوں کی مخالفت کرو۔
(۸۴۰۴) مَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَطَاء ٌ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : صُومُوا التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ وَخَالِفُوا الْیَہُودَ۔

وَرَوَاہُ أَیْضًا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی یَزِیدَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ کَذَلِکَ مَوْقُوفًا۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نویں دن کا روزہ رکھنا
(٨٤٠٥) داؤدبن علی (رض) اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں وہ اپنے دادا سے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں باقی رہا تو میں حکم دونگا ایک دن پہلے اور ایک دن بعد میں روزہ رکھنے کا یوم عاشورکا۔
(۸۴۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((لَئِنْ بَقِیتُ لآمُرَنَّ بِصِیَامِ یَوْمٍ قَبْلَہُ أَوْ یَوْمٍ بَعْدَہُ)) یَوْمَ عَاشُورَائَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ حمیری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نویں دن کا روزہ رکھنا
(٨٤٠٦) عبداللہ بن بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوم عاشورہ کے روزے رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔ ان سے پہلے ایک دن روزہ رکھو یا ایک دن اس کے بعد۔

(ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دن سے پہلے روزہ رکھے یا اس کے بعد ایک دن۔ )
(۸۴۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((صُومُوا یَوْمَ عَاشُورَائَ وَخَالِفُوا فِیہِ الْیَہُودَ، صُومُوا قَبْلَہُ یَوْمًا أَوْ بَعْدَہُ یَوْمًا))۔

ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ الْمُقْرِئِ ، وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ عَبْدَانَ : ((صُومُوا قَبْلَہُ یَوْمًا وَبَعْدَہُ یَوْمًا))۔

وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ أَبُو شِہَابٍ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی قَبْلَہُ وَبَعْدَہُ۔ [ضعیف۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے سمجھا کہ صوم عاشورہ واجب تھے، پھر اس کا وجوب منسوخ ہوگیا
(٨٤٠٧) سلمہ بن اکوع فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلم قبیلہ میں سے ایک آدمی کو اس کی قوم کی طرف بھیجا یوم عاشور کو تاکہ وہ انھیں حکم دے کہ وہ اس دن کا روزہ رکھیں۔ اس نے کہا : میر انھیں خیال کہ میں ان کے پاس جاؤں تو وہ کھانا کھاچکے ہوں گے ۔ پھر فرمایا : (نہیں آیا تھا میں ان کے پاس حتیٰ کہ وہ کھانا کھاچکے تھے۔ ) جوان میں سے کھانا کھاچکے تو وہ باقی دن کا روزہ رکھے۔
(۸۴۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی طَاہِرٍ الدَّقَاقُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ الْخَرْقِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- بَعَثَ رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ یَوْمَ عَاشُورَائَ إِلَی قَوْمِہِ یَأْمُرُہُمْ فَلْیَصُومُوا ہَذَا الْیَوْمَ۔ فَقَالَ : مَا أُرَی آتِیہِمْ حَتَّی یَطْعَمُوا قَالَ : ((مَنْ طَعِمَ مِنْہُمْ فَلْیَصُمْ بَقِیَّۃَ یَوْمِہِ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَکِّیِّ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪১১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے سمجھا کہ صوم عاشورہ واجب تھے، پھر اس کا وجوب منسوخ ہوگیا
(٨٤٠٨) ربیع بنت معوذ بن عفراء بیان کرتے ہیں کہ عاشوراء کی صبح کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایلچی بھیجا انصار کی ان بستیوں کی طرف جو مدینے کے اردگرد تھے جس نے صبح کی روزے کی حالت میں اسے چاہیے کہ وہ روزہ پوراکرے اور جس نے مضطر کی حیثیت سے صبح کی تو وہ باقی دن پورا کرے۔ وہ کہتی ہیں : ہم اس کے بعد روزہ رکھا کرتے اور ہم چھوٹے بچوں کو بھی روزے رکھوایا کرتے تھے اور ان کے لیے کھجور کی شاخوں سے کھلونے بناتے اور انھیں مسجد لے جاتے تو جب ان میں سے کوئی کھانے کی وجہ سے روتا تو ہم اسے وہ دیتے حتیٰ کہ افطار کو پہنچ جاتے۔
(۸۴۰۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَکْوَانَ عَنِ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَائَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَتْ : أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَبِیحَۃَ عَاشُورَائَ إِلَی قُرَی الأَنْصَارِ الَّتِی حَوْلَ الْمَدِینَۃِ: ((مَنْ کَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ ، وَمَنْ کَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْیُتِمَّ بَقِیَّۃَ یَوْمِہِ))۔ قَالَتْ : وَکُنَّا نَصُومُہُ بَعْدَ ذَلِکَ ، وَنُصَوِّمُ صِبْیَانَنَا الصِّغَارَ وَنَجْعَلُ لَہُمُ اللُّعْبَۃَ مِنَ الْعِہْنِ ، وَنَذْہَبُ بِہِمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَإِذَا بَکَی أَحَدُہُمْ عَلَی الطَّعَامِ أَعْطَیْنَاہُ ذَلِکَ حَتَّی یَکُونَ عِنْدَ الإِفْطَارِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ، وَأَخَرْجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪১২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے سمجھا کہ صوم عاشورہ واجب تھے، پھر اس کا وجوب منسوخ ہوگیا
(٨٤٠٩) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں : عاشور اء کا دن ایسا تھا کہ اس میں قریش روزہ رکھتے تھے دور جاہلیت میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی روزہ رکھا کرتے تھے نبوت سے قبل۔ سو جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ طیبہ آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ رکھا اور اس کے روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔ سو جب رمضان فرض ہوگیا تو وہ فرض ہوگیا اور یوم عاشور کو چھوڑ دیا گیا۔ سو جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔
(۸۴۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ یَوْمُ عَاشُورَائَ یَوْمًا تَصُومُہُ قُرَیْشٌ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَصُومُہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ صَامَہُ وَأَمَرَ بِصِیَامِہِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ کَانَ ہُوَ الْفَرِیضَۃَ وَتُرِکَ یَوْمُ عَاشُورَائَ، فَمَنْ شَائَ صَامَہُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَہُ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ : عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔

[صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪১৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے سمجھا کہ صوم عاشورہ واجب تھے، پھر اس کا وجوب منسوخ ہوگیا
(٨٤١٠) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوم عاشور اء کے روزے کا حکم دیا کرتے تھے رمضان کے فرض ہونے سے پہلے جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو پھر جو چاہتا روزہ رکھتا اور جو چاہتا افطار کرتا۔
(۸۴۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ

عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَ بِصِیَامِ یَوْمِ عَاشُورَائَ قَبْلَ أَنْ یُفْرَضَ رَمَضَانُ فَلَمَّا فُرِضَ صِیَامُ شَہْرِ رَمَضَانَ کَانَ مَنْ شَائَ صَامَ عَاشُورَائَ ، وَمَنْ شَائَ أَفْطَرَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ وَیُونُسَ بْنِ یَزِیدَ عَنِ الزُّہْرِیِّ ، وأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عُرْوَۃَ وَلَیْسَ فِی حَدِیثِہِمَا عَنْ عُرْوَۃَ مَا فِی حَدِیثِ ہِشَامٍ مِنْ لَفْظِ التَّرْکِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক: