আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭১৭ টি
হাদীস নং: ৮৩৫৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٥١) عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب تو صبح کرے اس حال میں کہ تو روزے کی نیت رکھتا تھا تو پھر تو آخری نظر پر ہے۔ اگر چاہے تو روزہ رکھ اگر چاہے تو افطار کر۔
(۸۳۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِذَا أَصْبَحْتَ وَأَنْتَ تَنْوِی الصِّیَامَ فَأَنْتَ بِآخِرِ النَّظَرَیْنِ إِنْ شِئْتَ صُمْتَ ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْطَرْتَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৫৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٥٢) عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے اس میں کہ آدمی نفلی روزہ افطار کرے اور اس کی مثال بیان کرتے تھے کہ ایک آدمی نے سات چکر لگائے مگر اسے پورا نہیں کیا تو اس کے لیے اجر و ہی ہے جو اس نے عمل کیا ایک رکعت پڑھی اور دوسری نہ پڑھی تو اس کے لیے اجر ان کے مطابق ہوگا۔
(۸۳۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ وَعَبْدُ الْمَجِیدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی رَوَّادٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یُفْطِرَ الإِنْسَانُ فِی صِیَامِ التَّطَوُّعِ۔
وَیَضْرِبُ لِذَلِکَ أَمْثَالاً رَجُلٌ طَافَ سَبْعًا وَلَمْ یُوفِہِ فَلَہُ أَجْرُ مَا احْتَسَبَ ، أَوْ صَلَّی رَکْعَۃً وَلَمْ یُصَلِّ أُخْرَی فَلَہُ أَجْرُ مَا احْتَسَبَ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق]
وَیَضْرِبُ لِذَلِکَ أَمْثَالاً رَجُلٌ طَافَ سَبْعًا وَلَمْ یُوفِہِ فَلَہُ أَجْرُ مَا احْتَسَبَ ، أَوْ صَلَّی رَکْعَۃً وَلَمْ یُصَلِّ أُخْرَی فَلَہُ أَجْرُ مَا احْتَسَبَ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৫৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٥٣) عمر بن دینار بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نفلی روزوں کے افطار کرے میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(۸۳۵۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَعَبْدُ الْمَجِیدِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لاَ یَرَی بِالإِفْطَارِ فِی صِیَامِ التَّطَوُّعِ بَأْسًا۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الشافعی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৫৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٥٤) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ نفلی روزہ چھوڑنے میں کو حرج خیال نہیں کرتے تھے۔
(۸۳۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بِالإِفْطَارِ فِی صِیَامِ التَّطَوُّعِ بَأْسًا۔
[ضعیف۔ الشافعی]
[ضعیف۔ الشافعی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৫৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٥٥) سعد بن عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : روزے دار اختیار سے ہے نصف النہار تک۔
(۸۳۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : الصَّائِمُ بِالْخِیَارِ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ نِصْفِ النَّہَارِ۔
وَرُوِیَ ہَذَا مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ مَرْفُوعًا وَلاَ یَصِحُّ رَفْعُہُ۔ [صحیح۔ ابن ابی شبیہ]
وَرُوِیَ ہَذَا مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ مَرْفُوعًا وَلاَ یَصِحُّ رَفْعُہُ۔ [صحیح۔ ابن ابی شبیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৫৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٥٦) انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ صائم اختیار سے ہے آدھے دن تک۔
(۸۳۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوہِیَارَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ أَخْبَرَنَا عَوْنُ بْنُ عُمَارَۃَ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ أَبُو عُبَیْدَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((الصَّائِمُ بِالْخِیَارِ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ نِصْفِ النَّہَارِ))۔ [منکر۔ ابن حبان]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৬০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٥٧) قاسم بیان کرتے ہیں کہ ابو امامہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی ہی حدیث بیان کی۔
(۸۳۵۷) وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ أَخْبَرَنَا عَوْنُ بْنُ عُمَارَۃَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِثْلَہُ۔
تَفَرَّدَ بِہِ عَوْنُ بْنُ عُمَارَۃَ الْعَنْبَرِیُّ وَہُوَ ضَعِیفٌ۔ [منکر۔ انظر قبلہ]
تَفَرَّدَ بِہِ عَوْنُ بْنُ عُمَارَۃَ الْعَنْبَرِیُّ وَہُوَ ضَعِیفٌ۔ [منکر۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৬১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٥٨) ابو ذر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دوست قاسم سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ نفلی روزے رکھنے والا آدھے دن تک اختیار سے ہے۔
(۸۳۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزْازُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ غَیْلاَنَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا سَرِیعُ بْنُ نَبْہَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ یَقُولُ سَمِعْتُ خَلِیلِی أَبَا الْقَاسِمِ -ﷺ- یَقُولُ : ((الصَّائِمُ فِی التَّطَوُّعِ بِالْخِیَارِ إِلَی نِصْفِ النَّہَارِ)) [منکر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৬২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٥٩) حمد بن عبید صفاربیان کرتے ہیں کہ محمد بن فرج ازرق نے اسی سند کے ساتھ ایسی حدیث بیان کی۔
(۸۳۵۹) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الأَزْرَقُ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ مِثْلَہُ۔ إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُزَاحِمٍ وَسَرِیعُ بْنُ نَبْہَانَ مَجْہُولاَنِ۔ [منکر۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৬৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضاء میں اختیار کے متعلق اگرچہ وہ نفلی روزے ہوں
(٨٣٦٠) اُم ھانی بنت ابی طالب (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس آئے ۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے پانی منگوایا تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیا۔ پھر مجھے دے دیا تو میں نے بھی پیا اور میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں تو صائمہ تھی لیکن میں نے نہ چاہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بچا ہوا پانی واپس لوٹاؤں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر رمضان کے مہینے کی قضاء تھی تو پھر اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھ۔ اگر نفلی روزہ تھا پھر تو چاہے تو قضاء دے چاہے اگر چاہے تو قضاء نہ دے۔
(۸۳۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ ہَارُونَ ابْنِ أُمِّ ہَانِئٍ عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَدَعَوْتُ لَہُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ أَوْ قَالَتْ دَعَا بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَنِی فَشَرِبْتُ وَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی کُنْتُ صَائِمَۃً وَلَکِنِّی کَرِہْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنْ کَانَ قَضَائً مِنْ رَمَضَانَ فَصُومِی یَوْمًا مَکَانَہُ ، وَإِنْ کَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِی وَإِنْ شِئْتِ فَلاَ تَقْضِی))۔ [ضعیف۔ معنیٰ لکلام]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৬৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضاء میں اختیار کے متعلق اگرچہ وہ نفلی روزے ہوں
(٨٣٦١) اُم ھانی بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے فتح مکہ کے دن تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا بچا ہوا پانی مجھے دیا تو میں نے اسے پی لیا : پھر میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں تو صائمہ تھی مگر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بچاہوا پانی واپس کرنا پسند نہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر رمضان کے روزوں کی قضاء تھی تو اس کے عوض ایک روزہ رکھ اور نفلی روزہ تھا تو پھر تیری مرضی ہے کہ چاہے تو اس کے عوض ایک روزہ رکھ اور اگر نفلی تھا تو پھر تیری مرضی ہے کہ چاہے تو قضائی دے یا نہ دے۔
(۸۳۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ ہَارُونَ ابْنِ بِنْتِ أُمِّ ہَانِئٍ - أَوِ ابْنِ ابْنِ أُمِّ ہَانِئٍ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ -ﷺ- یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَنَاوَلَنِی فَضْلَ شَرَابِہِ فَشَرِبْتُہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی کُنْتُ صَائِمَۃً وَإِنِّی کَرِہْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَکَ فَقَالَ : ((إِنْ کَانَ قَضَائً مِنْ رَمَضَانَ فَصُومِی یَوْمًا مَکَانَہُ ، وَإِنْ کَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِیہِ ، وَإِنْ شِئْتِ فَلاَ تَقْضِیہِ))۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৬৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضاء میں اختیار کے متعلق اگرچہ وہ نفلی روزے ہوں
(٨٣٦٢) ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کھانا تیار کیا تو میرے پاس اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ آئے۔ جب کھانا رکھا گیا تو قوم میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں روزے سے ہوں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے بھائی نے تمہیں بلایا ہے اور تمہارے لیے تکلف کیا ہے۔ پھر اسے کہا : افطارکر اور اس کے عوض ایک روزہ رکھ لینا اگر تو چاہے۔
(۸۳۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمِ بْنِ أَبِی الْفَضْلِ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَیْسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ : صَنَعْتُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- طَعَامًا فَأَتَانِی ہُوَ وَأَصْحَابُہُ فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنِّی صَائِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((دَعَاکُمْ أَخُوکُمْ وَتَکَلَّفَ لَکُمْ))۔ ثُمَّ قَالَ لَہُ : ((أَفْطِرْ وَصُمْ مَکَانَہُ یَوْمًا إِنْ شِئْتَ))۔ وَرُوِیَ ذَلِکَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَدْ أَخْرَجْنَاہُ فِی الْخِلاَفِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الطبرانی فی الاؤسط]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৬৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے خیال کیا مجھ پر قضاء ہے
(٨٣٦٣) ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ سیدہ عائشہ (رض) اور حفصہ (رض) نے روزے کی حالت میں صبح کی نفلی روزے کے ساتھ تو ان کے کھانے کا ھدیہ دیا گیا تو انھوں نے اس کے ساتھ افطار کرلیا تو ان کے پاس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے تو عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ حفصہ (رض) نے بات کرنے میں مجھ سے پہل کی اور وہ اپنے باپ کی بیٹی تھی۔ وہ کہتی ہیں : اے اللہ کے رسول ! میں نے اور عائشہ (رض) نے نفلی روزوں کے ساتھ صبح کی۔ پھر ہمیں کھانے کا ھدیہ ملا تو ہم نے افطار کرلیاتو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے عوض دوسرے دن میں قضا دینا۔
(۸۳۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ عَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَصْبَحَتَا صَائِمَتَیْنِ مُتَطَوِّعَتَیْنِ فَأُہْدِیَ لَہُمَا طَعَامٌ فَأَفْطَرَتَا عَلَیْہِ فَدَخَلَ عَلَیْہِمَا النَّبِیُّ -ﷺ- قَالَتْ عَائِشَۃُ فَقَالَتْ حَفْصَۃُ : وَبَدَرَتْنِی بِالْکَلاَمِ وَکَانَتِ ابْنَۃَ أَبِیہَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَصْبَحْتُ أَنَا وَعَائِشَۃُ صَائِمَتَیْنِ مُتَطَوِّعَتَیْنِ وَأُہْدِیَ لَنَا طَعَامٌ فَأَفْطَرْنَا عَلَیْہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اقْضِیَا مَکَانَہُ یَوْمًا آخَرَ))۔
ہَذَا حَدِیثٌ رَوَاہُ الثِّقَاتُ الْحُفَّاظُ مِنْ أَصْحَابِ الزُّہْرِیِّ عَنْہُ مُنْقَطِعًا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَابْنُ جُرَیْجٍ وَیَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِیدِ الزُّبَیْدِیُّ وَبَکْرُ بْنُ وَائِلٍ وَغَیْرُہُمْ۔ [ضعیف۔ اخرجہ مالک]
ہَذَا حَدِیثٌ رَوَاہُ الثِّقَاتُ الْحُفَّاظُ مِنْ أَصْحَابِ الزُّہْرِیِّ عَنْہُ مُنْقَطِعًا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَابْنُ جُرَیْجٍ وَیَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِیدِ الزُّبَیْدِیُّ وَبَکْرُ بْنُ وَائِلٍ وَغَیْرُہُمْ۔ [ضعیف۔ اخرجہ مالک]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৬৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے خیال کیا مجھ پر قضاء ہے
(٨٣٦٤) عروہ بن زبیر (رض) سیدہ عائشہ (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ وہ کہتی ہیں : میں اور حفصہ روزے سے تھیں کہ ہمیں کھاناھدیہ میں ملا تو ہمارے دل میں کھانے کی چاہت ابھری۔ سو ہم نے کھالیا ۔ پھر ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے تو حفصہ (رض) نے میرے سے پہل کی کہ وہ اپنے باپ کی بیٹی تھی اور ساری بات بیان کردی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ دوسرے دن میں اس کی قضائی دینا۔
(۸۳۶۴) وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کُنْتُ أَنَا وَحَفْصَۃُ صَائِمَتَیْنِ فَعَرَضَ لَنَا طَعَامٌ فَاشْتَہَیْنَاہُ فَأَکَلْنَاہُ فَدَخَلَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَبَدَرَتْنِی حَفْصَۃُ وَکَانَتِ ابْنَۃَ أَبِیہَا فَقَصَّتْ عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اقْضِیَا یَوْمًا آخَرَ))۔
ہَکَذَا رَوَاہُ جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ وَصَالِحُ بْنُ أَبِی الأَخْضَرِ وَسُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَقَدْ وَہِمُوا فِیہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الترمذی]
ہَکَذَا رَوَاہُ جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ وَصَالِحُ بْنُ أَبِی الأَخْضَرِ وَسُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَقَدْ وَہِمُوا فِیہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الترمذی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৬৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے خیال کیا مجھ پر قضاء ہے
(٨٣٦٥) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے اور حفصہ (رض) نے روزے کی حالت میں صبح کی۔ راوی کہتے ہیں : اس بارے میں میں نے عروۃ سے کچھ نہیں سنا لیکن لوگوں نے مجھے سلیمان بن عبدالملک کی خلافت کے بارے کچھ باتیں بیان کیں اور عبدالملک ان میں سے تھا جو سیدہ عائشہ (رض) کے پاس جاتے تھے تو سیدہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نے اور حفصہ (رض) روزے کی حالت میں صبح کی تو ہمیں ہدیہ دیا گیا۔ ہم نے کھالیا ۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے ہمارے پاس تو حفصہ (رض) نے میرے سے پہل کی وہ اپنے باپ کی بیٹی تھی اور انھوں نے یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے عوض ایک دن کی قضائی دو ۔
(۸۳۶۵) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قُلْتُ لَہُ: أَحَدَّثَکَ عُرْوَۃُ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ : أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَۃُ صَائِمَتَیْنِ فَقَالَ : لَمْ أَسْمَعْ مِنْ عُرْوَۃَ فِی ہَذَا شَیْئًا وَلَکِنِّ حَدَّثَنِی نَاسٌ فِی خِلاَفَۃِ سُلَیْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ بَعْضِ مَنْ کَانَ یَدْخُلُ عَلَی عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ : أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَۃُ صَائِمَتَیْنِ فَأُہْدِیَ لَنَا ہَدِیَۃٌ فَأَکَلْنَاہَا فَدَخَلَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَبَدَرَتْنِی حَفْصَۃُ وَکَانَتِ ابْنَۃَ أَبِیہَا فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : ((اقَضِیَا یَوْمًا مَکَانَہُ))۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ ہَمَّامٍ وَمُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ عبدالرزاق]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ ہَمَّامٍ وَمُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ عبدالرزاق]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৬৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے خیال کیا مجھ پر قضاء ہے
(٨٣٦٦) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے اور حفصہ (رض) نے روزے کی حالت میں صبح کی اور ہمیں کھانے کا ہدیہ پیش کیا گیا اور کھانا بھی پرکشش تھا ۔ سو ہم نے اس میں سے کھا لیاتو ہمارے پاس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے تو حفصہ (رض) نے سوال کرنے میں مجھ سے پہل کی اور وہ اپنے باپ کی بیٹی تھی اور کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے روزے کی حالت میں صبح کی تو ہمیں کھانا دیا گیا اور ہم نے اس میں سے کھالیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھنا۔
(۸۳۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الأَبَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ سَمِعْنَاہُ مِنْ صَالِحِ بْنِ أَبِی الأَخْضَرِ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَۃُ صَائِمَتَیْنِ فَأُہْدِیَ لَنَا طَعَامٌ وَالطَّعَامُ مَحْرُوصٌ عَلَیْہِ فَأَکَلْنَا مِنْہُ وَدَخَلَ عَلَیْنَا النَّبِیُّ -ﷺ- فَابْتَدَرَتْنِی حَفْصَۃُ وَکَانَتْ بِنْتَ أَبِیہَا فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَصْبَحْنَا صَائِمَتَیْنِ فَأُہْدِیَ لَنَا طَعَامٌ فَأَکَلْنَا مِنْہُ فَتَبَسَّمَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَقَالَ : ((صُومَا یَوْمًا مَکَانَہُ))۔ قَالَ سُفْیَانُ : فَسَأَلُوا الزُّہْرِیَّ وَأَنَا شَاہِدٌ فَقَالُوا : ہُوَ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ لاَ۔ [ضعیف۔ النسائی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৭০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے خیال کیا مجھ پر قضاء ہے
(٨٣٦٧) سفیان کہتے ہیں : میں نے زھری سے سنا ، وہ سیدہ عائشہ (رض) سے بیان کرتے ہیں اور یہ حدیث مرسل بیان کی ہے۔
(سفیان کہتے ہیں : زھری سے کہا گیا کہ وہ عروہ سے ہے۔ انھوں نے کہا : یہ بات مجلس سے اٹھتے وقت ہوئی اور اقامت نماز ہوچکی تھی۔ زھری نے کہا : یہ عروہ سے نہیں اور ابوبکر جمعہ کہتے ہیں کہ مجھے محمد وغیرہ نے خبر دی اس وقت کی کہ اگر یہ حدیث عروہ سے ہوتی تو میں نہ بھولتا۔ ابن جریح اور سفیان دونوں نے گواہی دی ہے زھری کے خلاف تھے وہ صاحب عدل ہیں کہ انھوں نے عروہ سے نہیں سنا ہے ان کا وصال کے لیے درست ہوسکتا ہے۔ )
(سفیان کہتے ہیں : زھری سے کہا گیا کہ وہ عروہ سے ہے۔ انھوں نے کہا : یہ بات مجلس سے اٹھتے وقت ہوئی اور اقامت نماز ہوچکی تھی۔ زھری نے کہا : یہ عروہ سے نہیں اور ابوبکر جمعہ کہتے ہیں کہ مجھے محمد وغیرہ نے خبر دی اس وقت کی کہ اگر یہ حدیث عروہ سے ہوتی تو میں نہ بھولتا۔ ابن جریح اور سفیان دونوں نے گواہی دی ہے زھری کے خلاف تھے وہ صاحب عدل ہیں کہ انھوں نے عروہ سے نہیں سنا ہے ان کا وصال کے لیے درست ہوسکتا ہے۔ )
(۸۳۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْن سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّہْرِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَۃَ فَذَکَرَ ہَذَا الْحَدِیثَ مُرْسَلاً۔
قَالَ سُفْیَانُ فَقِیلَ لِلزُّہْرِیِّ ہُوَ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ : لاَ وَکَانَ ذَلِکَ عِنْدَ قِیَامِہِ مِنَ الْمَجْلِسِ وَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ قَالَ سُفْیَانُ : وَقَدْ کُنْتُ سَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ أَبِی الأَخْضَرِ حَدَّثَنَاہُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ الزُّہْرِیُّ لَیْسَ ہُوَ عَنْ عُرْوَۃَ فَظَنَنْتُ أَنَّ صَالِحًا أُتِیَ مِنْ قِبَلِ الْعَرْضِ قَالَ أَبُو بَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ أَخْبَرَنِی غَیْرُ وَاحِدٍ عَنْ مَعْمَرٍ : أَنَّہُ قَالَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : لَوْ کَانَ مِنْ حَدِیثِ عُرْوَۃَ مَا نَسِیتُہُ فَہَذَانِ ابْنُ جُرَیْجٍ وَسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ شَہِدَا عَلَی الزُّہْرِیِّ وَہُمَا شَاہِدَا عَدْلٍ بِأَنَّہُ لَمْ یَسْمَعْہُ مِنْ عُرْوَۃَ۔ فَکَیْفَ یَصِحُّ وَصْلُ مَنْ وَصَلَہُ
قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ : سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ : لاَ یَصِحُّ حَدِیثُ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ، وَکَذَلِکَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ وَاحْتَجَّ بِحِکَایَۃِ ابْنِ جُرَیْجٍ وَسُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ وَبِإِرْسَالِ مَنْ أُرْسَلَ الْحَدِیثَ عَنِ الزُّہْرِیِّ مِنَ الأَئِمَّۃِ۔
وَقَدْ رُوِیَ عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ۔
وَجَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ وَإِنْ کَانَ مِنَ الثِّقَاتِ فَہُوَ وَاہِمٌ فِیہِ وَقَدْ خَطَّأَہُ فِی ذَلِکَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ وَالْمَحْفُوظُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ مُرْسَلاً۔ [ضعیف۔ اخرجہ الضوی]
قَالَ سُفْیَانُ فَقِیلَ لِلزُّہْرِیِّ ہُوَ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ : لاَ وَکَانَ ذَلِکَ عِنْدَ قِیَامِہِ مِنَ الْمَجْلِسِ وَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ قَالَ سُفْیَانُ : وَقَدْ کُنْتُ سَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ أَبِی الأَخْضَرِ حَدَّثَنَاہُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ الزُّہْرِیُّ لَیْسَ ہُوَ عَنْ عُرْوَۃَ فَظَنَنْتُ أَنَّ صَالِحًا أُتِیَ مِنْ قِبَلِ الْعَرْضِ قَالَ أَبُو بَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ أَخْبَرَنِی غَیْرُ وَاحِدٍ عَنْ مَعْمَرٍ : أَنَّہُ قَالَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : لَوْ کَانَ مِنْ حَدِیثِ عُرْوَۃَ مَا نَسِیتُہُ فَہَذَانِ ابْنُ جُرَیْجٍ وَسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ شَہِدَا عَلَی الزُّہْرِیِّ وَہُمَا شَاہِدَا عَدْلٍ بِأَنَّہُ لَمْ یَسْمَعْہُ مِنْ عُرْوَۃَ۔ فَکَیْفَ یَصِحُّ وَصْلُ مَنْ وَصَلَہُ
قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ : سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ : لاَ یَصِحُّ حَدِیثُ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ، وَکَذَلِکَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ وَاحْتَجَّ بِحِکَایَۃِ ابْنِ جُرَیْجٍ وَسُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ وَبِإِرْسَالِ مَنْ أُرْسَلَ الْحَدِیثَ عَنِ الزُّہْرِیِّ مِنَ الأَئِمَّۃِ۔
وَقَدْ رُوِیَ عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ۔
وَجَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ وَإِنْ کَانَ مِنَ الثِّقَاتِ فَہُوَ وَاہِمٌ فِیہِ وَقَدْ خَطَّأَہُ فِی ذَلِکَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ وَالْمَحْفُوظُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ مُرْسَلاً۔ [ضعیف۔ اخرجہ الضوی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৭১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے خیال کیا مجھ پر قضاء ہے
(٨٣٦٨) ابوبکر اٹرم بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ احمد بن حنبل سے کہا : کیا آپ یحییٰ سے اس حدیث کو جانتے ہیں جو انھوں نے عمرہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ (رض) سے بیان کی کہ وہ کہتی ہیں میں نے اور حفصہ (رض) اور روزے کی حالت میں صبح کی تو انھوں نے اس بات کا انکار کیا اور کہا کہ کس نے بیان کیا ہے میں نے کہا : جریربن حازم نے ۔ انھوں نے کہا : جریر کی احادیث وہم ہوتی ہیں۔
(۸۳۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ بُنْدَارٍ الصَّیْرَفِیُّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَیْرٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرٍ الأَثْرَمَ یَقُولُ قُلْتُ لأَبِی عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ تَحْفَظُہُ عَنْ یَحْیَی عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَۃُ صَائِمَتَیْنِ۔ فَأَنْکَرَہُ وَقَالَ : مَنْ رَوَاہُ؟ قُلْتُ جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ فَقَالَ : جَرِیرٌ کَانَ یُحَدِّثُ بِالتَّوَہُّمِ۔ [صحیح۔ ابن جریر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৭২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے خیال کیا مجھ پر قضاء ہے
(٨٣٦٩) احمد بن منصور رمادی کہتے ہیں کہ میں نے علی بن مدینی سے کہا : اے ابو الحسن ! آپ یحییٰ بن سعید سے حدیث جانتے ہیں جو انھوں نے عمرہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ (رض) سے بیان کی کہ وہ کہتی ہیں میں نے اور حفصہ (رض) نے روزے کی حالت میں صبح کی تو انھوں نے مجھے کہا : یہ کون ہے ؟ میں نے کہا : ابن وہب جریر بن حازم سے بیان کرتے ہیں تو وہ مسکرادے اور وہی بات کہی جو انھوں نے کہی تھی۔
(۸۳۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ مُظَفَّرٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی الْخَلاَّلُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ قَالَ قُلْتُ لِعَلِیِّ ابْنِ الْمَدِینِیِّ : یَا أَبَا الْحَسَنِ تَحْفَظُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : أَصْبَحْتُ أَنَا وَحَفْصَۃُ صَائِمِتَیْنِ۔ فَقَالَ لِی مَنْ ہَذَا قُلْتُ ابْنُ وَہْبٍ عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : فَضَحِکَ ثُمَّ قَالَ مِثْلُکَ یَقُولُ مِثْلَ ہَذَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَنَّ عَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ أَصْبَحَتَا صَائِمِتَیْنِ۔
وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ۔ [صحیح]
وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৭৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے خیال کیا مجھ پر قضاء ہے
(٨٣٧٠) عروہ بن زبیر (رض) سیدہ عائشہ (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ مجھے اور حفصہ کو کھانے کا تحفہ دیا گیا اور ہم روزے سے تھیں تو ان میں سے ایک نے اپنی سہیلی سے کہا : کیا تو افطار کرے گی ؟ اس نے کہا : ہاں تو ان دونوں نے افطار کرلیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس داخل ہوئے تو انھوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمیں ھدیہ دیا گیا۔ ہم نے اسے بہت پسند کیا اور ہم نے روزہ افطار کرلیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں تم پر روزہ اس دن کے عوض۔
(۸۳۷۰) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی حَیْوَۃُ وَعُمَرُ بْنُ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ الْہَادِ قَالَ حَدَّثَنِی زُمَیْلٌ مَوْلَی عُرْوَۃَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ : أُہْدِیَ لِی وَلِحَفْصَۃَ طَعَامٌ وَکُنَّا صَائِمَتَیْنِ فَقَالَتْ إِحْدَاہُمَا لِصَاحِبَتِہَا : ہَلْ لَکِ أَنْ تُفْطِرِی؟ قَالَتْ : نَعَمْ فَأَفْطَرَتَا ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتَا لَہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا أُہْدِیَ لَنَا ہَدِیَّۃٌ فَاشْتَہَیْنَاہُ فَأَفْطَرْنَا فَقَالَ : ((لاَ عَلَیْکُمَا صُومَا یَوْمًا آخَرَ مَکَانَہُ))۔
أَقَامَ إِسْنَادَہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَقَالَ بَعْضُہُمْ عَنْ أَبِی زُمَیْلٍ وَلَم یَذْکُرْ بَعْضُہُمْ عُرْوَۃَ فِی إِسْنَادِہِ۔
[ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد]
أَقَامَ إِسْنَادَہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَقَالَ بَعْضُہُمْ عَنْ أَبِی زُمَیْلٍ وَلَم یَذْکُرْ بَعْضُہُمْ عُرْوَۃَ فِی إِسْنَادِہِ۔
[ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد]
তাহকীক: