আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭১৭ টি

হাদীস নং: ৮৩৩৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے شام کو مسواک کرنا ناپسند کیا روزے کی حالت میں اس وجہ سے جو مستحب جانا گیا روزے دار کی بوکو
(٨٣٣١) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں ہی دونگا کہ وہ اپنی خواہش کو ترک کردیتا ہے کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے میری وجہ سے اور روزہ ڈھال ہے اور روزے دار کے لیے دوخوشیاں ہیں : ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب کی ملاقات کے وقت ہوگی اور اس کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری سے بھی عمدہ ہے۔
(۸۳۳۱) حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ : سَعِیدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِیُّ الْہَرَوِیُّ فِی الرَّوْضَۃِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی أَبِی عَلِیٍّ الرَّفَّائِ قُلْتُ لَہُ أَخْبَرَکُمْ عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَقُولُ اللَّہُ الصَّوْمُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ یَدَعُ شَہْوَتَہُ وَأَکْلَہُ وَشُرْبَہُ مِنْ أَجْلِی ، وَالصَّوْمُ جُنَّۃٌ ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَۃٌ حِینَ یُفْطِرُ ، وَفَرْحَۃٌ حِینَ یَلْقَی اللَّہَ ، وَلَخُلُوفُ فِیہِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ [صحیح۔ معنیٰ قریباً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৩৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے شام کو مسواک کرنا ناپسند کیا روزے کی حالت میں اس وجہ سے جو مستحب جانا گیا روزے دار کی بوکو
(٨٣٣٢) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابن آدم کے ہر عمل کو بڑھایا جاتا ہے۔ ایک نیکی کو دس گنا سے سات سو گنا تک ۔ سوائے روزے کے بیشک وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی اجزا دونگا کہ میری وجہ سے اپنی خواہش اور کھانے پینے کو چھوڑتا ہے۔ روزے دار کے لیے دو شادمانیاں ہیں ایک شادمانی افطار کے وقت اور دوسری رب کی ملاقات کے وقت ہوگی اور روزے دار کی منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری سے بھی اطیب و عمدہ ہے اور روزہ ڈھال ہے روزہ ڈھال ہے۔
(۸۳۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ وَأَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ حُشَیْشٍ التَّمِیمِیُّ الْمُقْرِئُ بِالْکُوفَۃِ قَالَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ یُضَاعَفُ الْحَسَنَۃُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا إِلَی سَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ۔ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ : إِلاَّ الصَّوْمَ فَإِنَّہُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ ، یَدَعُ طَعَامَہُ وَشَہْوَتَہُ مِنْ أَجْلِی ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہِ ، وَفَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَائِ رَبِّہِ ، وَلَخُلُوفُ فِیہِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ ، الصَّوْمُ جُنَّۃٌ الصَّوْمُ جُنَّۃٌ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الأَشَجِّ عَنْ وَکِیعٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৩৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے شام کو مسواک کرنا ناپسند کیا روزے کی حالت میں اس وجہ سے جو مستحب جانا گیا روزے دار کی بوکو
(٨٣٣٣) ابوہریرہ (رض) اور ابو سعید (رض) دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزاء بھی میں دونگا اور یہ کہ روزے دار کے لیے دوخوشیاں ہیں جب وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اس کی جزا اسے خوش کردے گی اور روزے دار کی منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو کستوری سے بھی زیادہ پسند ہے۔
(۸۳۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّی

(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِیطٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَأَبِی سَعِیدٍ قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ : الصَّوْمُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ ، وَإِذَا لَقِیَ رَبَّہُ فَجَزَاہُ فَرِحَ ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَلِیطٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৩৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے شام کو مسواک کرنا ناپسند کیا روزے کی حالت میں اس وجہ سے جو مستحب جانا گیا روزے دار کی بوکو
(٨٣٣٤) یزید بن بلال علی (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ شام کے وقت روزے دار مسواک نہ کرے لیکن رات کو کرے ۔ بیشک صائم کے ہونٹوں کا خشک ہونا قیامت کے دن اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور کا باعث ہوگا۔ (ضعیف) الطبرانی
(۸۳۳۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَقُولُ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یَقُولُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ کَیْسَانَ أَبِی عُمَرَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ بِلاَلٍ مَوْلاَہُ وَکَانَ قَدْ شَہِدَ مَعَ عَلِیٍّ صِفِّینَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ یَسْتَاکُ الصَّائِمُ بِالْعَشِیِّ ، وَلَکِنْ بِاللَّیْلِ فَإِنَّ یُبُوسَ شَفَتَیِ الصَّائِمِ نُورٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৩৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے شام کو مسواک کرنا ناپسند کیا روزے کی حالت میں اس وجہ سے جو مستحب جانا گیا روزے دار کی بوکو
(٨٣٣٥) سفیان بن عتیبہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ اے ابو محمد وہ روایت جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب سے بیان کرتے ہیں کہ بنوآدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں دونگا۔
(۸۳۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو الطِّیبِ : الْمُظَفَّرُ بْنُ سَہْلٍ الْخَلِیلِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَیُّوبَ بْنِ حَسَّانَ الْوَاسِطِیُّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلاً سَأَلَ سُفْیَانَ بْنَ عُیَیْنَۃَ فَقَالَ : یَا أَبَا مُحَمَّدٍ فِیمَا یَرْوِیہِ النَّبِیُّ -ﷺ- عَنْ رَبِّہِ عَزَّ وَجَلَّ : ((کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَہُ إِلاَّ الصَّوْمَ فَإِنَّہُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ))۔ فَقَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ : ہَذَا مِنْ أَجْوَدِ الأَحَادِیثِ وَأَحْکَمِہَا إِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ یُحَاسِبُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدَہُ وَیُؤَدِّی مَا عَلَیْہِ مِنَ الْمَظَالِمِ مِنْ سَائِرِ عَمَلِہِ حَتَّی لاَ یَبْقَی إِلاَّ الصَّوْمُ فَیَتَحَمَّلُ اللَّہُ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ مِنَ الْمَظَالِمِ وَیُدْخِلُہُ بِالصَّوْمِ الْجَنَّۃَ۔ [ضعیف۔ الظفر بن سھل]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৩৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے شام کو مسواک کرنا ناپسند کیا روزے کی حالت میں اس وجہ سے جو مستحب جانا گیا روزے دار کی بوکو
(٨٣٣٦) یزید بن بلال علی (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : جب تم روزہ رکھو تو صبح کے وقت مسواک کرو شام کے وقت مسواک نہ کرو وہ اس لیے کہ روزے دار کے ہونٹ نہیں خشک ہوتے شام کے وقت مگر وہ قیامت کے دن اس کی آنکھوں کے درمیان نور کا باعث ہوں گے ۔
(۸۳۳۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ : الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو خُرَاسَانَ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّکَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْقَصَّابُ : کَیْسَانُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : إِذَا صُمْتُمْ فَاسْتَاکُوا بِالْغَدَاۃِ وَلاَ تَسْتَاکُوا بِالْعَشِیِّ فَإِنَّہُ لَیْسَ مَنْ صَائِمٍ تَیْبَسُ شَفَتَاہُ بِالْعَشِیِّ إِلاَّ کَانَتَا نُورًا بَیْنَ عَیْنَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ [ضعیف۔ مضیٰ تخریحہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৪০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے شام کو مسواک کرنا ناپسند کیا روزے کی حالت میں اس وجہ سے جو مستحب جانا گیا روزے دار کی بوکو
(٨٣٣٧) عمر وبن عبدالرحمن (رض) خباب (رض) سے اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں۔
(۸۳۳۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو خُرَاسَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا کَیْسَانُ أَبُو عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ خَبَّابٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِثْلَہُ۔

قَالَ عَلِیٌّ : کَیْسَانُ أَبُو عُمَرَ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ وَمَنْ بَیْنَہُ وَبَیْنَ عَلِیٍّ غَیْرُ مَعْرُوفٍ۔ [منکر۔ اخرجہ دارقطنی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৪১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے شام کو مسواک کرنا ناپسند کیا روزے کی حالت میں اس وجہ سے جو مستحب جانا گیا روزے دار کی بوکو
(٨٣٣٨) عطاء ابوہریرہ (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : مسواک تیرے لیے عصر تک ہے۔ جب تم عصر کی نماز اد ا کرلو تو پھر اسے رکھ دو ۔ بیشک میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے کہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے۔
(۸۳۳۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَیَّاطُ حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : لَکَ السِّوَاکُ إِلَی الْعَصْرِ فَإِذَا صَلَّیْتَ الْعَصْرَ فَأَلْقِہِ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ))۔ [ضعیف۔ دارقطنی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৪২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٣٩) اُم المومنین سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کہا : اے عائشہ ! کیا تیرے پاس کچھ ہے ؟ میں نے کہا : نہیں اللہ کی قسم ! ہمارے پاس کچھ نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں روزے سے ہوں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے تو ہمیں ھدیہ دیا گیا۔ ہمارے پاس جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پلٹے تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمیں ھدیہ دیا گیا ہے اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کچھ چھپالیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ کیا ہے ؟ میں نے کہا : وہ حریسہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس لاؤ ۔ میں لائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھالیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ویسے صبح میں نے روزے کی نیت کی تھی۔

امام مسلم بیان کرتے ہیں کہ اضافے کے ساتھ طلحہ (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے یہ حدیث مجاہد کے سامنے بیان کی تو انھوں نے کہا : یہ صدقہ کرنے والے آدمی کی طرح ہے جو اپنے مال میں سے نکالتا ہے۔ اگر چاہے تو نکالے چاہے تو روک لے۔
(۸۳۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ

(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا طَلْحَۃُ بْنُ یَحْیَی بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ بِنْتُ طَلْحَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ قَالَتْ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ : ((یَا عَائِشَۃُ ہَلْ عِنْدَکِ شَیْئٌ؟))۔ قَالَتْ قُلْتُ : لاَ وَاللَّہِ مَا عِنْدَنَا شَیْء ٌ۔ قَالَ : ((إِنِّی صَائِمٌ))۔ قَالَتْ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأُہْدِیَتْ لَنَا ہَدِیَّۃٌ أَوْ جَائَ نَا زَوْرٌ ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُہْدِیَتْ لَنَا ہَدِیَّۃٌ أَوْ جَائَ نَا زَوْرٌ وَقَدْ خَبَأْتُ لَکَ شَیْئًا قَالَ : ((مَا ہُوَ؟))۔ قُلْتُ : حَیْسٌ قَالَ : ((ہَاتِیہِ))۔ فَجِئْتُ بِہِ فَأَکَلَ ، ثُمَّ قَالَ : ((قَدْ کُنْتُ أَصْبَحْتُ صَائِمًا))۔

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ لَفْظُ الْعَقَدِیِّ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کَامِلٍ الْجَحْدَرِیِّ ، وَزَادَ فِیہِ قَالَ طَلْحَۃُ : فَحَدَّثْتُ مُجَاہِدًا بِہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ : ذَاکَ بِمَنْزِلَۃِ الرَّجُلِ یُخْرِجُ الصَّدَقَۃَ مِنْ مَالِہِ فَإِنْ شَائَ أَمْضَاہَا وَإِنْ شَائَ أَمْسَکَہَا۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৪৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٤٠) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس آئے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حریسہ چھپایا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ویسے میں تو روزے کا ارادہ رکھتا تھا مگر تو اسے قریب کر۔
(۸۳۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی عَنْ عَمَّتِہِ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : إِنَّا خَبَأْنَا لَکَ حَیْسًا فَقَالَ : ((أَمَا إِنِّی کُنْتُ أُرِیدُ الصَّوْمَ وَلَکِنْ قَرِّبِیہِ))۔

ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ ، وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی لَمْ یَذْکُرْ أَحَدٌ مِنْہُمُ الْقَضَائَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৪৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٤١) عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حریسہ چھپاکے رکھا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرا ارادہ تو روزے کا تھا مگر تو اسے میرے قریب کر اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے عوض ایک دن کی قضا کی۔
(۸۳۴۱) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ جَمِیلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی عَنْ عَمَّتِہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقُلْتُ : خَبَأْنَا لَکَ حَیْسًا فَقَالَ : ((إِنِّی کُنْتُ أُرِیدُ الصَّوْمَ وَلَکِنْ قَرِّبِیہِ وَأَقْضِی یَوْمًا مَکَانَہُ))۔

وَکَانَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیُّ رَحِمَہَ اللَّہُ تَعَالَی یَحْمِلُ فِی ہَذَا اللَّفْظِ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاہِلِیِّ ہَذَا وَیَزْعُمُ : أَنَّہُ لَمْ یَرْوِہِ بِہَذَا اللَّفْظِ غَیْرُہُ وَلَمْ یُتَابَعْ عَلَیْہِ وَلَیْسَ کَذَلِکَ فَقَدْ حَدَّثَ بِہِ ابْنُ عُیَیْنَۃَ فِی آخِرِ عُمُرِہِ وَہُوَ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ غَیْرُ مَحْفُوظٍ۔ [انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৪৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٤٢) سفیان نے اس حدیث کو بیان کیا ان الفاظ میں جو ربیع کی حدیث کے ہیں اور اس کے آخر میں یہ بیان کیا کہ عنقریب اس کے عوض میں روزہ رکھوں گا۔
(۸۳۴۲) أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأُرْمَوِیُّ حَدَّثَنَا شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ سَلاَمَۃَ حَدَّثَنَا الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَ ہَذَا الْحَدِیثَ بِاللَّفْظِ الَّذِی رَوَاہُ الرَّبِیعُ وَزَادَ فِی آخِرِہِ: ((سَأَصُومُ یَوْمًا مَکَانَہُ))۔ قَالَ الْمُزَنِیُّ سَمِعْتُ الشَّافِعِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ سُفْیَانَ عَامَّۃَ مُجَالَسَتِہِ لاَ یَذْکُرُ فِیہِ: ((سَأَصُومُ یَوْمًا مَکَانَہُ))۔ ثُمَّ عَرَضْتُہُ عَلَیْہِ قَبْلَ أَنْ یَمُوتَ بِسَنَۃٍ فَأَجَابَ فِیہِ: ((سَأَصُومُ یَوْمًا مَکَانَہُ))۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَرِوَایَتُہُ عَامَّۃَ دَہْرِہِ لِہَذَا الْحَدِیثِ لاَ یَذْکُرُ فِیہِ ہَذَا اللَّفْظَ مَعَ رِوَایَۃِ الْجَمَاعَۃِ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی لاَ یَذْکُرُہُ مِنْہُمْ أَحَدٌ مِنْہُمْ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَشُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ وَوَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَیَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ وَیَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ وَغَیْرُہُمْ تَدُلُّ عَلَی خَطَإِ ہَذِہِ اللَّفْظَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَۃَ لَیْسَ فِیہِ ہَذِہِ اللَّفْظَۃُ۔ [ضعیف۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৪৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٤٣) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس آئے اور فرمایا : کیا تیرے پاس کچھ ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر میں روزہ رکھتا ہوں۔ سیدہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دوسرے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تیرے پاس کچھ ہے ؟ تو میں نے کہا : جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر میں آج افطار کرلیتا ہوں اگرچہ آج میں نے روزے کو واجب کرلیا تھا۔
(۸۳۴۳) حَدَّثَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ : ((أَعِنْدَکِ شَیْئٌ؟))۔ قُلْتُ : لاَ۔ قَالَ : ((إِذًا أَصُومَ))۔ قَالَتْ : وَدَخَلَ عَلَیَّ یَوْمًا آخَرَ فَقَالَ : ((أَعِنْدَکِ شَیْئٌ؟))۔ قُلْتُ : نَعَمْ۔ قَالَ : ((إِذاً أُفْطِرَ وَإِنْ کُنْتُ فَرَضْتُ الصَّوْمَ))۔

وَہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ۔ [صحیح۔ اخرجہ الطیالسی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৪৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٤٤) عون بن ابی محیط اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے سلمان اور ابودرداء میں بھائی چارہ قائم کیا۔ ایک دن سلمان نکلے تو اُم درداء کو پراگندہ حالت میں دیکھا اور کہا : اُم درداء ! تجھے کیا ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھائی ابودرداء صبح روزہ رکھتا ہے۔ رات کو قیام کرتا ہے اور اسے دنیا داری کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ ابو درداء آئے تو انھوں نے کہا : میں صائم ہوں ۔ وہ کہنے لگے : میں تجھ پر قسم ڈالتا ہوں کہ آپ ضرور افطار کریں گے تو انھوں نے اس کے ساتھ کھانا کھایا : پھر ان کے پاس رات گذاری۔ جب رات کا آخری وقت ہوا تو ابو درداء نے قیام کرنا چاہا مگر سلمان نے منع کردیا اور ان سے کہا اے ابو درداء ! تجھ پر تیرے جسم کا حق ہے اور تیرے رب کا حق ہے اور تیری بیوی کا حق ہے لہٰذا تو روزہ رکھ اور کبھی چھوڑدے اور نماز پڑھ اور اپنی بیوی کی خبر لے اور حق والے کو اس کا حق دے ۔ جب صبح قریب ہوئی تو اس نے کہا : اٹھو اگر چاہت ہو تو اب قیام کرو۔ وہ کہتے ہیں : پھر وہ کھڑے ہوئے وضو کیا دورکعات پڑھیں اور مسجد کی طرف نکل گئے ۔ ابودرداء رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوئے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دیں جو کچھ سلمان نے کہا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو درداء ! تجھ پر تیرے جسم کا حق ہے ایسے ہی جیسے سلمان نے کہا ہے۔
(۸۳۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی وَقَالَ الْقَاضِی حَدَّثَنِا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْن عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَیْسٍ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- آخَی بَیْنَ سَلْمَانَ وَبَیْنَ أَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ فَجَائَ ہُ سَلْمَانُ یَزُورُہُ فَإِذَا أُمُّ الدَّرْدَائِ مُتَبَذِّلَۃٌ فَقَالَ : مَا شَأْنُکِ یَا أُمَّ الدَّرْدَائِ ؟ قَالَتْ : إِنَّ أَخَاکَ أَبَا الدَّرْدَائِ یَقُومُ اللَّیْلَ وَیَصُومُ النَّہَارَ وَلَیْسَ لَہُ فِی شَیْئٍ مِنَ الدُّنْیَا حَاجَۃٌ۔ فَجَائَ أَبُو الدَّرْدَائِ فَرَحَّبَ بِہِ وَقَرَّبَ إِلَیْہِ طَعَامًا فَقَالَ لَہُ سَلْمَانُ : اطْعَمْ قَالَ : إِنِّی صَائِمٌ۔ قَالَ : أَقْسَمْتُ عَلَیْکَ لَتُفْطِرَنَّہْ قَالَ : مَا أَنَا بِآکِلٍ حَتَّی تَأْکُلَ فَأَکَلَ مَعَہُ ، ثُمَّ بَاتَ عِنْدَہُ فَلَمَّا کَانَ مِنَ اللَّیْلِ أَرَادَ أَبُو الدَّرْدَائِ أَنْ یَقُومَ فَمَنَعَہُ سَلْمَانُ وَقَالَ لَہُ : یَا أَبَا الدَّرْدَائِ إِنْ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا ، وَلِرَبِّکَ عَلَیْکَ حَقًّا ، وَلأَہْلِکَ عَلَیْکَ حَقًّا۔ صُمْ وَأَفْطِرْ ، وَصَلِّ وَأْتِ أَہْلَکَ ، وَأَعْطِ کُلَّ ذِی حَقٍّ حَقَّہُ۔ فَلَمَّا کَانَ فِی وَجْہِ الصُّبْحِ قَالَ : قُمِ الآنَ إِنْ شِئْتَ قَالَ - فَقَامَا فَتَوَضَّآ ثُمَّ رَکَعَا ثُمَّ خَرَجَا إِلَی الصَّلاَۃِ فَدَنَا أَبُو الدَّرْدَائِ لِیُخُبِرَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِالَّذِی أَمَرَہُ سَلْمَانُ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((یَا أَبَا الدَّرْدَائِ إِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا مِثْلَ مَا قَالَ لَکَ سَلْمَانُ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ بُنْدَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৪৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٤٥) جویریہ بنت حارث (رض) بیان کرتی ہیں کہ جمعہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس آئے تو میں روزے سے تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے کل روزہ رکھا تھا۔ انھوں نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آنیوالی کل کا روزہ رکھے گا ؟ انھوں نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو افطار کردے۔
(۸۳۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ عَنْ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَأَنَا صَائِمَۃٌ فَقَالَ : ((صُمْتِ أَمْسِ؟))۔ قَالَتْ : لاَ قَالَ : ((تَصُومِینَ غَدًا؟))۔ قَالَتْ : لاَ قَالَ : ((فَأَفْطِرِی))۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৪৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٤٦) ابو صالح ام ھانی (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی طلب کیا اور اسے پی لیا اور اپنا بچا ہوا مجھے دیا تو میں صائمہ تھی مگر میں نے پی لیا ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے ایک کام کیا ہے معلوم نہیں میں نے درست کیا یا غلط ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنا بچا ہوا پانی دیا اور میں روزے سے تھی مگر میں نے پی لیا اس لیے کہ میں نے واپس کرنا ناپسند سمجھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بچا ہوا لوٹا لاؤں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے نفلی روزہ رکھا یا رمضان کی قضاء کا ؟ میں نے کہا : نفلی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نفلی روزہ مرضی سے ہے چاہو تو رکھ لو چاہو تو افطار کرلو۔
(۸۳۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو ذَرٍّ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْقَاسِمِ الْمُذَکِّرُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَکِ الْمُسْتَمْلِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِی صَغِیرَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَاسْتَسْقَی فَشَرِبَ فَنَاوَلَنِی سُؤْرَہُ وَأَنَا صَائِمَۃٌ فَشَرِبْتُ سُؤْرَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَعَلْتُ شَیْئًا لاَ أَدْرِی أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ نَاوَلْتَنِی سُؤْرَکَ وَأَنَا صَائِمَۃٌ فَکَرِہْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((أَمُتَطَوِّعَۃٌ أَمْ قَضَائٌ مِنْ رَمَضَانَ؟))۔ قُلْتُ : مُتَطَوِّعَۃٌ قَالَ : ((الْمُتَطَوِّعُ بِالْخِیَارِ إِنْ شَائَ صَامَ ، وَإِنْ شَائَ أَفْطَرَ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ الترمذی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৫০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٤٧) اُم ھانی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نفلی روزے رکھنے والا اپنی مرضی کا مالک ہے۔ اگر چاہے تو روزہ رکھے چاہے تو افطار کرلے۔
(۸۳۴۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو یُونُسَ : حَاتِمُ بْنُ أَبِی صَغِیرَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ

عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَقُولُ : ((الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِیرُ نَفْسِہِ إِنْ شَائَ صَامَ وَإِنْ شَائَ أَفْطَرَ))۔ [ضعیف۔ انظرقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৫১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٤٨) سماک اُم ھانی (رض) کے پوتے سے بیان کرتے ہیں اور وہ اپنی دادی سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے ان سے سنا ، وہ کہتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پانی لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پی لیا ۔ پھر مجھے دے دیا تو میں نے اس سے پی لیا حالانکہ میں روزے سے تھی ۔ میں نے ناپسند کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بچے ہوئے کو لوٹاؤں۔ پھر میں نے کہا : اے اللہ کی رسول ! میں تو روزے سے تھی تو میں نے ناپسند جانا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بچے ہوئے کو واپس لوٹاؤں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا : کیا تو قضاء کررہی تھی اپنی طرف سے ؟ میں نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر کوئی نقصان نہیں۔

(ابو ولید کہتے ہیں کہ ہارون نے اُم ھانی کے حوالے سے کہا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا : کیا تو کسی کی قضاء دے رہی تھی ؟ انھوں نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تجھے کوئی نقصان نہیں ہے۔ )
(۸۳۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُومُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ سِمَاکٍ عَنِ ابْنِ ابْنِ أُمِّ ہَانِئٍ عَنْ جَدَّتِہِ أَنَّہُ سَمِعَہُ مِنْہَا قَالَتْ : أُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِشَرَابٍ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَنِی فَشَرِبْتُ وَکُنْتُ صَائِمَۃً فَکَرِہْتُ أَنْ أَرُدَّ فَضْلَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی کُنْتُ صَائِمَۃً فَکَرِہْتُ أَنْ أَرُدَّ فَضْلَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہَا : أَکُنْتِ تَقْضِینَ عَنْکِ شَیْئًا۔ فَقُلْتُ: لاَ قَالَ: فَلاَ یَضُرُّکِ۔ ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ إِبْرَاہِیمَ، وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی الْوَلِیدِ قَالَ ہَارُونَ: ابْنِ ابْنِ أُمِّ ہَانِئٍ عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ زَعَمَ أَنَّہُ سَمِعَہُ مِنْہَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لَہَا: ((أَکُنْتِ تَقْضِینَ عَنْکِ شَیْئًا؟))۔ قَالَتْ: لاَ قَالَ: ((فَلاَ یَضُرُّکِ))۔ قَالَ أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا حَدِیثَ سِمَاکٍ مِنْ کِتَابِہِ۔ [ضعیف۔ انظرقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৫২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٤٩) شعبہ کہتے ہیں : مجھے ام ھانی (رض) کے بیٹوں میں سے ایک نے ام ھانی سے حدیث بیان کی کہ ان کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پانی دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیا ۔ پھر وہ اُم ھانی کو دیا اور انھوں نے بھی پی لیا اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! میں تو روزے سے تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نفلی روزہ کا رکھنے والا امین و مختار ہوتا ہے چاہے تو رکھے چاہے تو افطار کرلے۔
(۸۳۴۹) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنَا جَعْدَۃُ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ وَہُوَ ابْنُ أُمِّ ہَانِئٍ وَکَانَ سِمَاکُ یُحَدِّثُہُ فَیَقُولُ أَخْبَرَنِی ابْنَا أُمِّ ہَانِئٍ قَالَ شُعْبَۃُ : فَلَقِیتُ أَنَا أَفْضَلَہُمَا جَعْدَۃَ فَحَدَّثَنِی عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- دَخَلَ عَلَیْہَا فَنَاوَلَتْہُ شَرَابًا فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَہَا فَشَرِبَتْ فَقَالَتْ : یا رَسُولَ اللَّہِ کُنْتُ صَائِمَۃً فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِینُ أَوْ أَمِیرُ نَفْسِہِ إِنْ شَائَ صَامَ ، وَإِنْ شَائَ أَفْطَرَ))۔

قَالَ شُعْبَۃُ فَقُلْتُ لِجَعْدَۃَ أَسَمِعْتَہُ أَنْتَ مِنْ أُمِّ ہَانِئٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَہْلُنَا وَأَبُو صَالِحٍ مَوْلَی أُمِّ ہَانِئٍ عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ۔ [ضعیف۔ انظرقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৫৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی روزوں کے متعلق اور مکمل ہونے پہلے نکلنے کا بیان
(٨٣٥٠) اُم ھانی (رض) بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن فاطمہ آئی اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بائیں جانب بیٹھ گئی اور اُم ھانی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دائیں جانب تو ایک بچی برتن میں پانی لائی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکڑادیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے پیا اوراُم ھانی کو دے دیا تو انھوں نے اس میں سے پیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میں تو روزے سے تھی۔ میں نے افطار کرلیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کہا : کیا تو قضاء دے رہی ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تجھے کوئی نقصان نہیں اگر نفل تھا۔
(۸۳۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ قَالَتْ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ جَائَ تْ فَاطِمَۃُ فَجَلَسَتْ عَنْ یَسَارِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأُمُّ ہَانِئٍ عَنْ یَمِینِہِ قَالَ فَجَائَ تِ الْوَلِیدَۃُ بِإِنَائٍ فِیہِ شَرَابٌ فَنَاوَلَتْہُ فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَہُ أُمَّ ہَانِئٍ فَشَرِبَتْ مِنْہُ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ أَفْطَرْتُ وَکُنْتُ صَائِمَۃً۔ فَقَالَ لَہَا: ((أَکُنْتِ تَقْضِینَ شَیْئًا؟))۔ قَالَتْ: لاَ قَالَ: فَلاَ یَضُرُّکِ إِنْ کَانَ تَطَوُّعًا۔[ضعیف۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক: