আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭১৭ টি

হাদীস নং: ৮২৯৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو روایت حفاظ الحدیث سے پہنچی اس کی وضاحت کا بیان
(٨٢٩١) علی بن سعید یسوی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ تیرے نزدیک کونسی حدیث صحیح ہے حاجم ومحجوم کے مفطر ہونے میں۔ انھوں نے کہاـ: ثوبان کی حدیث یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ احمد بن حنبل سے کہا گیا : پھر رافع بن خدیح کی حدیث کیا ہوئی ؟ تو انھوں نے کہا : اس میں معمر اکیلے ہیں۔
(۸۲۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ سَمِعْتُ أَبَا حَامِدِ الشَّرْقِیِّ یَقُولُ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ سَعِیدٍ النَّسَوِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ سُئِلَ أَیُّمَا حَدِیثٍ أَصَحُّ عِنْدَکَ فِی أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ ۔ فَقَالَ حَدِیثُ ثَوْبَانَ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ فَقِیلَ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ : فَحَدِیثُ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ قَالَ ذَاکَ تَفَرَّدَ بِہِ مَعْمَرٌ۔ قَالَ أَبُو حَامِدٍ : وَقَدْ رَوَاہُ مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلاَّمٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ۔ [صحیح۔ ھذا سناد صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৯৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو روایت حفاظ الحدیث سے پہنچی اس کی وضاحت کا بیان
(٨٢٩٢) علی بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں میں اس حدیث زیادہ صحیح حدیث کوئی نہیں جانتا حاجم ومحجوم کے افطار کی۔
(۸۲۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ أَخْبَرَنا أَبُو أَحْمَدَ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ التَّمِیمِیُّ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرٍ : مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ یَقُولُ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْعَظِیمِ الْعَنْبَرِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ : لاَ أَعْلَمُ فِی أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ حَدِیثًا أَصَحَّ مِنْ ذَا یَعْنِی مِنْ حَدِیثِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ۔

[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৯৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو روایت حفاظ الحدیث سے پہنچی اس کی وضاحت کا بیان
(٨٢٩٣) عثمان بن سعیددلومی بیان کرتے ہیں : میرے نزدیک حاجم ومحجوم کی یہ حدیث زیادہ صحیح ہے حدیث ثوبان و شداد سے۔
(۸۲۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ : أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِیدٍ الدَّارِمِیَّ یَقُولُ : قَدْ صَحَّ عِنْدِی حَدِیثُ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ ۔ بِحَدِیثِ ثَوْبَانَ وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ وَأَقُولُ بِہِ وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ یَقُولُ بِہِ وَیَذْکُرُ أَنَّہُ صَحَّ عِنْدَہُ حَدِیثُ ثَوْبَانَ وَشَدَّادٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৯৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو روایت حفاظ الحدیث سے پہنچی اس کی وضاحت کا بیان
(٨٢٩٤) احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ حاجم ومحجوم کے افطار کی حدیث اور لانکاح الا بولی کی حدیث ایک دوسری سے زیادہ مضبوط ہیں اور میں اسی طرف گیا ہوں۔
(۸۲۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عِصْمَۃَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِی یَحْیَی سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ یَقُولُ : أَحَادِیثُ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ وَ لاَ نِکَاحَ إِلاَّ بِوَلِیٍّ أَحَادِیثُ یَشُدُّ بَعْضُہَا بَعْضًا وَأَنَا أَذْہَبُ إِلَیْہَا۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن عرسی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৯৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو روایت حفاظ الحدیث سے پہنچی اس کی وضاحت کا بیان
(٨٢٩٥) اسحاق بن ابراہیم (رض) کہتے ہیں کہ شداد بن اوس کی حدیث اس سند کے اعتبار سے صحیح ہے اور اسی پر حجت پر قائم ہوئی۔
(۸۲۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَلَمَۃَ یَقُولُ سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ یَقُولُ لِحَدِیثِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ : ہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ تَقُومُ بِہِ الْحُجَّۃُ وَہَذَا الْحَدِیثُ صَحِیحٌ بِأَسَانِیدَ وَبِہِ نَقُولُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৯৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو روایت حفاظ الحدیث سے پہنچی اس کی وضاحت کا بیان
(٨٢٩٦) شداد بن اوس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو دیکھا جو رمضان میں سنگی لگوارہا تھا اور میرے خیال میں دونوں حدیث صحیح ہیں۔
(۸۲۹۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَائِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ قَالَ حَدِیثُ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّہُ رَأَی رَجُلاً یَحْتَجِمُ فِی رَمَضَانَ۔ رَوَاہُ عَاصِمٌ الأَحْوَلُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادٍ ، وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ وَلاَ أَرَی الْحَدِیثَیْنِ إِلاَّ صَحِیحَیْنِ فَقَدْ یُمْکِنُ أَنْ یَکُونَ سَمِعَہُ مِنْہُمَا جَمِیعًا۔ [صحیح۔ ھذالاسناد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو روایت حفاظ الحدیث سے پہنچی اس کی وضاحت کا بیان
(٨٢٩٧) ابوداؤد کہتے ہیں میں نے احمد بن حنبل سے کہا کہ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ کون سی حدیث صحیح ہے ؟ انھوں نے کہا : ابن جریح کی حدیث جو انھوں نے مکحول کے واسطے سے ثوبان سے بیان کی ہے۔
(۸۲۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ قُلْتُ لأَحْمَدَ یَعْنِی ابْنَ حَنْبَلٍ أَیُّ حَدِیثٍ أَصَحُّ فِی أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ؟ قَالَ : حَدِیثُ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ شَیْخٍ مِنَ الْحَیِّ عَنْ ثَوْبَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو روایت حفاظ الحدیث سے پہنچی اس کی وضاحت کا بیان
(٨٢٩٨) ابوعلی حافظ کہتے ہیں کہ میں نے عبداں اھوری سے کہا : یہ درست ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنگی لگوائی روزے کی حالت میں تو انھوں نے کہا : میں نے عباس عنبری سے سنا ، وہ کہتے ہیں : میں نے علی بن مدینی سے سنا وہ کہتے ہیں کہ ابورافع کی حدیث جو انھوں نے ابو موسیٰ سے بیان کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حاجم ومحجوم دونوں نے افطار کیا یہ صحیح ہے۔
(۸۲۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ سَمِعْتُ أَبَا عَلِیٍّ الْحَافِظَ یَقُولُ قُلْتُ لِعَبْدَانَ الأَہْوَازِیِّ : یَصِحُّ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- احْتَجَمَ وَہُوَ صَائِمٌ فَقَالَ سَمِعْتُ عَبَّاسًا الْعَنْبَرِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ الْمَدِینِیِّ یَقُولُ : قَدْ صَحَّ حَدِیثُ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی مُوسَی أَنَّ النَّبِیَّ-ﷺ- قَالَ:((أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ))

وَبَلَغَنِی عَنْ أَبِی عِیسَی التِّرْمِذِیِّ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا زُرْعَۃَ عَنْ حَدِیثِ عَطَائٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا فَقَالَ : ہُوَ حَدِیثٌ حَسَنٌ۔ [صحیح۔ ھذا اسنادہ صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس سے حدیث کے منسوخ ہونے کا استعمال کیا گیا
(٨٢٩٩) شداد بن اوس بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھارہ رمضان یا سترہ رمضان کو ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو سنگی لگوارہا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حاجم ومحجوم نے افطار کیا۔
(۸۲۹۹) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی بْنِ أَبِی قُمَاشٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ ہُشَیْمٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : کُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَامَ الْفَتْحِ فَمَرَّ عَلَی رَجُلٍ لِثَمَانَ عَشْرَۃَ أَوْ لِسَبْعَ عَشْرَۃَ مِنْ رَمَضَانَ یَحْتَجِمُ فَقَالَ : ((أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ))۔ [صحیح۔ معنیٰ تخریجۃ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس سے حدیث کے منسوخ ہونے کا استعمال کیا گیا
(٨٣٠٠) شداد بن اوس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے فتح مکہ کے سال جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ سنگی لگوارہا ہے تب رمضان کے اٹھارہ دن گذر چکے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور فرمایا کہ حاجم ومحجوم نے افطار کرلیا۔
(۸۳۰۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- زَمَانَ الْفَتْحِ فَرَأَی رَجُلاً یَحْتَجِمُ لِثَمَانَ عَشْرَۃَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ فَقَالَ وَہُوَ آخِذٌ بِیَدِی : ((أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ))۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس سے حدیث کے منسوخ ہونے کا استعمال کیا گیا
(٨٣٠١) مقسم بن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احرام اور رمضان میں سنگی لگوائی۔

سو ابن عباس (رض) کی حدیث ناسخ اور شداد کی حدیث منسوخ ہے۔

امام شافعی بیان کرتے ہیں کہ عام الفتح کو ابن عباس (رض) کا سماع نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں کیونکہ اس دن وہ محرم نہیں تھے اسلام کے حج سے پہلے محرم کی حالت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت نہیں ہے اور ابن عباس (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنگی کا تذکرہ سن ١٠ ہجری حجۃ الاسلام کے سال کا کیا ہے جو حدیث ہے یہ آٹھ یعنی حجۃ الاسلام سے دو سال پہلے۔ اگر یہ ثابت ہے تو پھر یہ ناسخ ہے۔ سو اگر کوئی سنگی سے بچتا ہے تو میرے نزدیک احتیاط بہت رہے شاید یہ روزہ کو کمزور کردے اور اسے افطار کرنا پڑے ویسے اگر سنگی لگوائی تو وہ روزے کو افطار نہیں کریگی ابن عباس (رض) کی حدیث ہونے پر وہ افطار نہیں کریگا۔
(۸۳۰۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- احْتَجَمَ مُحْرِمًا صَائِمًا۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ وَسَمَاعُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَامَ الْفَتْحِ وَلَمْ یَکُنْ یَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَلَمْ یَصْحَبْہُ مُحْرِمًا قَبْلَ حَجَّۃِ الإِسْلاَمِ فَذَکَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ حِجَامَۃَ النَّبِیِّ -ﷺ- عَامَ حَجَّۃِ الإِسْلاَمِ سَنَۃَ عَشْرٍ وَحَدِیثُ : ((أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ))۔ سَنَۃَ ثَمَانٍ قَبْلَ حَجَّۃِ الإِسْلاَمِ بِسَنَتَیْنِ۔ فَإِنْ کَانَا ثَابِتَیْنِ فَحَدِیثُ ابْنِ عَبَّاسٍ نَاسِخٌ وَحَدِیثُ ((أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ)) مَنْسُوخٌ

قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَإِسْنَادُ الْحَدِیثَیْنِ مَعًا مُشْتَبِہٌ وَحَدِیثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَمْثَلُہُمَا إِسْنَادًا۔

فَإِنْ تَوَقَّی رَجُلٌ الْحِجَامَۃَ کَانَ أَحَبَّ إِلَیَّ احْتِیَاطًا وَلَئِلاَّ یُعَرِّضَ صَوْمَہُ أَنْ یَضْعَفَ فَیُفْطِرَ فَإِنِ احْتَجَمَ فَلاَ تُفَطِّرُہُ الْحِجَامَۃُ وَمَعَ حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْقِیَاسُ الَّذِی أَحْفَظُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَالتَّابِعِینَ وَعَامَّۃِ الْمَدَنِیِّینِ أَنَّہُ لاَ یُفْطِرُ أَحَدٌ بِالْحِجَامَۃِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس سے حدیث کے منسوخ ہونے کا استعمال کیا گیا
(٨٣٠٢) انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلا شخص جس سے تنگی کو ناپسند کیا گیا وہ جعفر بن ابی طالب (رض) ہیں کہ انھوں نے روزے کی حالت میں سنگی لگوائی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پاس سے گزرہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان دونوں نے افطار کرلیا۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رخصت دے دی روزے دار کو سنگی لگوانے کی اور انس (رض) روزے کی حالت میں سنگی لگواتے تھے۔
(۸۳۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْعَزِیزِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : أَوَّلُ مَا کُرِہَتِ الْحِجَامَۃُ لِلصَّائِمِ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ احْتَجَمَ وَہُوَ صَائِمٌ فَمَرَّ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ : أَفْطَرَ ہَذَانِ۔ ثُمَّ رَخَّصَ النَّبِیُّ -ﷺ- بَعْدُ فِی الْحِجَامَۃِ لِلصَّائِمِ وَکَانَ أَنَسٌ یَحْتَجِمُ وَہُوَ صَائِمٌ۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِیُّ: کُلُّہُمْ ثِقَاتٌ وَلاَ أَعْلَمْ لَہُ عِلَّۃً۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَحَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ بِلَفْظِ التَّرْخِیصِ یَدُلُّ عَلَی ہَذَا فَإِنَّ الأَغْلَبَ أَنَّ التَّرْخِیصَ یَکُونُ بَعْدَ النَّہْیِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ دارقطنی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس سے حدیث کے منسوخ ہونے کا استعمال کیا گیا
(٨٣٠٣) حضرت ثوبان (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو سنگی لگوارہا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حاجم ومحجوم نے افطار کرلیا۔
(۸۳۰۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ رَبِیعَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِرَجُلٍ وَہُوَ یَحْتَجِمُ عِنْدَ الْحَجَّامِ وَہُوَ یَقْرِضُ رَجُلاً فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ))۔ قَوْلُہُ وَہُوَ یَقْرِضُ رَجُلاً لَمْ أَکْتُبْہُ إِلاَّ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ وَغَیْرُ یَزِیدَ رَوَاہُ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ دُونَ ہَذِہِ اللَّفْظَۃِ وَأَبُو أَسْمَائَ الرَّحَبِیُّ رَوَاہُ عَنْ ثَوْبَانَ دُونَ ہَذِہِ اللَّفْظَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[ضعیف جداً۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس سے حدیث کے منسوخ ہونے کا استعمال کیا گیا
(٨٣٠٤) نافع (رض) کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) روزے کی حالت میں سنگی لگوایا کرتے تھے بعد میں ترک کردیا۔ پھر رات کے وقت سنگی لگوایا کرتے تھے۔ میں نہیں جانتا انھوں نے کوئی بات بیان کی یا سنی۔
(۸۳۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبْغَدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ قَالَ قَالَ نَافِعٌ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَحْتَجِمُ وَہُوَ صَائِمٌ ، ثُمَّ تَرَکَہُ بَعْدُ فَکَانَ یَحْتَجِمُ بِاللَّیْلِ فَلاَ أَدْرِی عَنْ شَیْئٍ ذَکَرَہُ أَوْ شَیْئٍ سَمِعَہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس سے حدیث کے منسوخ ہونے کا استعمال کیا گیا
(٨٣٠٥) نافع (رض) ابن عمر (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رمضان میں افطار کے وقت سنگی لگواتے تھے۔
(۸۳۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ ابْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ الْغَازِ وَأَبُو عَمْرُو بْنُ الْعَلاَئِ جَمِیعًا عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ کَانَ یَحْتَجِمُ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ عِنْدَ وَقْتِ الْفِطْرِ۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے روزے دار کے لیے کسی چیز کا چبانا ناپسند کیا
(٨٣٠٦) سعید بن عیسیٰ (رض) اپنی داری سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیوی اُم حبیب (رض) سے سنا ، وہ کہتی تھی کہ روزے دار کسی کڑوی چیز کو نہ چبائے۔
(۸۳۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ عِیسَی عَنْ جَدَّتِہِ أَنَّہَا سَمِعْتَ أُمَّ حَبِیبَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- تَقُولُ : لاَ یَمْضَغُ الْعِلْکَ الصَّائِمُ۔

قَالَ الشَّیْخُ جَدَّتُہُ أُمُّ الرَّبِیعِ وَالْحَدِیثُ مَوْقُوفٌ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن العساکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچے پر روزہ لازم نہیں حتیٰ کہ وہ بالغ ہوجائے اور نہ ہی دیوانے پر جب تک وہ درست نہ ہوجائے
(٨٣٠٧) ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ علی (رض) کا گذر ہوا ایک عورت کے پاس سے جس نے زنا کیا تھا اور اسے سنگسار کیا جارہا تھا تو علی (رض) نے عمر (رض) سے کہا : کیا آپ نے فلانی کے رجم کا حکم فرمایا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں۔ انھوں نے کہا : کیا آپکو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان یاد نہیں ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تین افراد سے قلم کو اٹھالیا گیا ہے۔ سوئے ہوئے سے جب تک بیدار نہ ہو۔ بچے سے جب تک بالغ نہ ہو دیوانے سے جب تک تندرست نہ ہوجائے تو عمر (رض) نے کہا : ہاں تو پھر انھوں نے اس عورت کا راستہ چھوڑدیا۔
(۸۳۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مِہْرَانَ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ عَلِیٌّ بِمَجْنُونَۃٍ بَنِی فُلاَنٍ قَدْ زَنَتْ وَہِیَ تُرْجَمُ فَقَالَ عَلِیٌّ لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَمَرْتَ بِرَجْمِ فُلاَنَۃَ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : أَمَا تَذْکُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّی یَسْتَیْقِظَ ، وَعَنِ الصَّبِیِّ حَتَّی یَحْتَلِمَ ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّی یُفِیقَ)) قَالَ : نَعَمْ فَأَمَرَ بِہَا فَخُلِّی عَنْہَا۔

[صحیح لغیرہ۔ معنیٰ تخریحہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩১১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو رمضان کے درمیان میں اسلام لایا
(٨٣٠٨) سفیان بن عطیہ بیان کرتے ہیں کہ ثقیف میں سے ایک وفد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ ان کے لیے خیمہ نصب کیا گیا اور وہ نصف رمضان میں مسلمان ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا تو انھوں نے آنے والے روزے رکھ لیے اور جو رہ گئے تھے ان کی قضاء کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم نہیں دیا۔
(۸۳۰۸) أَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ إِجَازَۃً أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْعُکْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَانِئٍ وَعَمِّی وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُخْتَارِ الرَّازِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عِیسَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَطِیَّۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ الثَّقَفِیِّ قَالَ : قَدِمَ وَفَدْنَا مِنْ ثَقِیفَ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَضَرَبَ لَہُمْ قُبَّۃً وَأَسْلَمُوا فِی النِّصْفِ مِنْ رَمَضَانَ فَأَمَرَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَامُوا مِنْہُ مَا اسْتَقْبَلُوا مِنْہُ ، وَلَمْ یَأْمُرْہُمْ بِقَضَائِ مَا فَاتَہُمْ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن ماجہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩১২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس صائم کا بیان جو اپنے روزے کو بیہودگی اور گالی گلوچ سے بچاتا ہے
(٨٣٠٩) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تمہارا کوئی روزے سے ہو تو وہ بیہودگی اور جہالت کا کام نہ کرے اگر کوئی اس سے لڑائی کرے یا گالی گلوچ کرے تو اسے کہے میں روزے سے ہوں۔
(۸۳۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْقَاضِی حَدَّثَنَا القَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا القَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((الصِّیَامُ جُنَّۃٌ۔ فَإِذَا کَانَ أَحَدَکُمْ صَائِمًا فَلاَ یَرْفُثْ وَلاَ یَجْہَلْ ، فَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَہُ أَوْ شَاتَمَہُ فَلْیَقُلْ : إِنِّی صَائِمٌ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ القَعْنَبِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩১৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس صائم کا بیان جو اپنے روزے کو بیہودگی اور گالی گلوچ سے بچاتا ہے
(٨٣١٠) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بنی آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزادونگا اور روزہ ڈھال ہے۔ سو جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ اس دن بیہودگی نہ کرے اور نہ ہی گالی گلوچ کرے۔ اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑائی کرے تو اسے کہہ دے کہ میں صائم ہوں۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے کہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن کستوری سے بھی پاکیزہ ہوگی اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جب افطار کرتا ہے تب خوش ہوتا ہے اور اپنے رب سے ملے گا روزے کی وجہ سے خوش ہوگا۔

(ہشام کی حدیث جو پہلی ہے اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے۔ )
(۸۳۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الشَّیْبَانِیُّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہ السَّعْدِیُّ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عِبَادَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَطَاء ٌ عَنْ أَبِی صَالِحٍ الزَّیَّاتِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَہُ إِلاَّ الصِّیَامَ فَإِنَّہُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ۔ وَالصَّوْمُ جُنَّۃٌ فَإِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمِ أَحَدِکُمْ فَلاَ یَرْفُثْ یَوْمَئِذٍ ، وَلاَ یَسْخَبْ ، فَإِنْ سَابَّہُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَہُ فَلْیَقُلْ : إِنِّی امْرُؤٌ صَائِمٌ۔ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ یَفْرَحُ بِہِمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِہِ ، وَإِذَا لَقِیَ رَبَّہُ فَرِحَ بِصَوْمِہِ))۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامِ بْنِ یُوسُفَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔

وَفِی حَدِیثِ ہِشَامٍ فِی أَوَّلِ الْحَدِیثِ قَالَ اللَّہُ : ((کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَہُ))۔ [صحیح۔ قبلہ]
tahqiq

তাহকীক: