আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭১৭ টি

হাদীস নং: ৮২৫৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم فطر، یوم نحر اور ایامِ منیٰ کا روزہ نہ فرض ہے اور نہ نفل
(٨٢٥١) کعب بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اور اوس بن حدثان کو ایام تشریق میں اعلان کے لیے بھیجا کہ سوائے مومن کے کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا اور ایام منیٰ کھانے پینے کے ایام ہیں۔
(۸۲۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْفَقِیہُ بِالطَّابَرَانِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الصَّوَّافُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنِ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ حَدَّثَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَعَثَہُ وَأَوْسَ بْنَ الْحَدَثَانِ أَیَّامَ التَّشْرِیقِ فَنَادَی : إِنَّہُ لا یَدْخُلَ الْجَنَّۃَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ ، وَأَیَّامُ مِنًی أَیَّامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ۔ لَفْظُہُمَا سَوَاء ٌ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوم فطر، یوم نحر اور ایامِ منیٰ کا روزہ نہ فرض ہے اور نہ نفل
(٨٢٥٢) عقیل بن ابو طالب کا غلام بیان کرتا ہے کہ میں اور عبداللہ بن عمر، عمروبن عاص کے پاس گئے یہ بات عید الاضحی کے بعد پہلے یا دوسرے دن کی ہے تو عمر (رض) نے ایک کے سامنے کھانا کیا تو عبداللہ (رض) نے کہا : میں روزے سے ہوں تو اس کو عمر (رض) نے کہا : افطارکرو، یہ ان ایام میں سے ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں افطار کا حکم دیا کرتے تھے اور روزہ رکھنے سے منع کیا کرتے ، تھے پھر عبداللہ نے افطار کرلیا اور کھانا کھایا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ کھایا۔
(۸۲۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ أَبِی مُرَّۃَ مَوْلَی عَقِیلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ : أَنَّہُ دَخَلَ ہُوَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو عَلَی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَذَلِکَ لِلْغَدِ أَوْ بَعْدَ الْغَدِ مِنْ یَوْمِ الأَضْحَی فَقَدَّمَ إِلَیْہِ عَمْرٌو طَعَامًا فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ إِنِّی صَائِمٌ فَقَالَ لَہُ عَمْرٌو : أَفْطِرْ فَإِنَّ ہَذِہِ الأَیَّامُ الَّتِی کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَأْمُرُنَا بِإِفْطَارِہَا وَیَنْہَی عَنْ صِیَامِہَا فَأَفْطَرَ عَبْدُ اللَّہِ وَأَکَلَ وَأَکَلْنَا مَعَہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن خزیمہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ کسی چیز کے کھانے، نہ کھانے ، نگلنے اور حقنہ لگوانے وغیرہ سے ٹوٹ جاتا ہے، جب ایسا جان بوجھ کر کرے اور اپنے پیٹ میں اختیار کے ساتھ کوئی چیز داخل کرے
(٨٢٥٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے پاس کھانے سے وضو اور روزے دار کے پچھنے لگوانے کے بارے میں تذکرہ کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : بیشک وضو اس سے ہے جو چیز نکلتی ہے نہ کہ اس سے جو داخل ہوتی ہے اور اس سے ٹوٹتا ہے جو چیز داخل ہوتے ہے نہ کہ خارج ہوتی ہو۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو مگر روزے کی حالت میں نہیں۔
(۸۲۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ ذُکِرَ عِنْدَہُ الْوُضُوئُ مِنَ الطَّعَامِ قَالَ الأَعْمَشُ مَرَّۃً وَالْحِجَامَۃُ لِلصَّائِمِ فَقَالَ : إِنَّمَا الْوُضُوئُ مِمَّا یَخْرُجُ وَلَیْسَ مِمَّا یَدْخُلُ ، وَإِنَّمَا الْفِطْرُ مِمَّا دَخَلَ وَلَیْسَ مِمَّا خَرَجَ۔

وَرُوِّینَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ لِلَقِیطِ بْنِ صَبِرَۃَ: ((وَبَالِغْ فِی الاِسْتِنَشْاقِ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ صَائِمًا))۔

[صحیح۔ اخرجہ سعید بن منصور]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزے دار کے کسی چیز کو چکھنے کا حکم
(٨٢٥٤) عکرمہ (رض) ، ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں اگر روزے دار کوئی چیز چکھتا ہے، یعنی سالن وغیرہ۔
(۸۲۵۴) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَیْحِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شَرِیکٌ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَتَطَاعَمَ الصَّائِمُ بِالشَّیْئِ یَعْنِی الْمَرَقَۃَ وَنَحْوَہَا۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن الجعد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزے دار کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ نہ کرے مبالغہ میں پانی سریاپیٹ تک پہنچ گیا تو روزہ افطار ہوگیا
(٨٢٥٥) جابر بن عبداللہ (رض) ، عمر بن خطاب (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں نے بو سہ لے لیا اور میں روزے سے تھا۔ پھر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں نے کہا : آج میں نے بہت بڑا کام کیا ہو کہ میں نے روزے کی حالت میں بوسہ دیا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تو روزے کی حالت میں پانی سے کلی کرے ۔ میں نے کہا : کوئی حرج نہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس میں ؟
(۸۲۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ بُکَیْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : ہَشِشْتُ یَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : صَنَعْتُ الْیَوْمَ أَمْرًا عَظِیمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَرَأَیْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِالْمَائِ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟))۔ فَقُلْتُ : لاَ بَأْسَ بِذَلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((فَفِیمَ؟))۔

[صحیح۔ معنیٰ تخریجہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزے دار کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ نہ کرے مبالغہ میں پانی سریاپیٹ تک پہنچ گیا تو روزہ افطار ہوگیا
(٨٢٥٦) عاصم بن لقیط بن صبرۃ (رض) اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی انگلیوں کا خلال کر اور مکمل وضو کر جب ناک جھاڑ تو اس میں مبالغہ کر مگر روزے کی حالت میں نہیں۔
(۸۲۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِیطِ بْنِ صَبِرَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((خَلِّلْ أَصَابِعَکَ وَأَسْبِغِ الْوُضُوئَ وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ صَائِمًا))۔ [صحیح۔ معنیٰ تخریحہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزے دار سرمہ لگائے
(٨٢٥٧) عکرمہ بن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے لیے اثمد (سرمہ) لازم کرو۔ بیشک وہ بصارت کو تیز کرتا ہے اور سر پر بال اگاتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سرمہ دان تھے جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر رات سرمہ لگاتے تھے ایک آنکھ میں تین تین۔
(۸۲۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ یَعْنِی ابْنَ مَنْصُورٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((عَلَیْکُمْ بِالإِثْمِدِ فَإِنَّہُ یَجْلُو الْبَصَرَ ، وَیُنْبِتُ الشَّعَرَ))۔ وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَتْ لَہُ مُکْحُلَۃٌ یَکْتَحِلُ مِنْہَا کُلَّ لَیْلَۃٍ ثَلاَثًا فِی ہَذِہِ ، وَثَلاَثًا فِی ہَذِہِ۔ ہَذَا أَصَحُّ مَا رُوِیَ فِی اکْتِحَالِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [ضعیف۔ اخرجہ الترمذی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزے دار سرمہ لگائے
(٨٢٥٨) عبیداللہ بن ابی رافع اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اثمد سرمہ لگایا کرتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے سے ہوتے۔
(۸۲۵۸) وَقَدْ رُوِیَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یَکْتَحِلُ بِالإِثْمِدِ وَہُوَ صَائِمٌ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْطَاکِیُّ حَدَّثَنَا لُوَیْنٌ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مَعْمَرٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ بِمَعْنَاہُ۔ [منکر۔ اخرجہ الطبرانی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزے دار سرمہ لگائے
(٨٢٥٩) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ بسا اوقات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سرمہ لگاتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کی حالت میں ہوتے۔
(۸۲۵۹) وَرَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ الزُّبَیْدِیُّ صَاحِبُ بَقِیَّۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : رُبَّمَا اکْتَحَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَہُوَ صَائِمٌ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِی الطِّیبِ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ سَعِیدٍ الزُّبَیْدِیِّ فَذَکَرَہُ۔

وَسَعِیدٌ الزُّبَیْدِیُّ مِنْ مَجَاہِیلِ شُیُوخِ بَقِیَّۃَ یَنْفَرِدُ بِمَا لاَ یُتَابَعُ عَلَیْہِ۔

وَرُوِیَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ مَرْفُوعًا بِإِسْنَادٍ ضَعِیفٍ بِمَرَّۃٍ : أَنَّہُ لَمْ یَرَ بِہِ بَأْسًا۔

وَقَدْ رُوِیَ فِی النَّہْیِ عَنْہُ نَہَارًا وَہُوَ صَائِمٌ حَدِیثٌ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی التَّارِیخِ۔ [منکر۔ اخرجہ ابویعلیٰ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزے دار سرمہ لگائے
(٨٢٦٠) ابو نعمان انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ نے میرے دادا سے یہ بات بیان کی اور ان کے دادا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا کرتے تھے اور وہ اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سرپر ہاتھ پھیرا اور فرمایا دن میں سرمہ نہ لگاؤ اور تم روزے سے ہو اور رات کو اثمد سرمہ لگاؤ کہ وہ بصارت کو تیز کرتا ہے اور بالوں کو لگاتا ہے۔
(۸۲۶۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَبُو النُّعْمَانِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّی قَالَ وَکَانَ جَدُّہُ أَتَی بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَمَسَحَ عَلَی رَأْسِہِ فَقَالَ : ((لاَ تَکْتَحِلْ بِالنَّہَارِ وَأَنْتَ صَائِمٌ اکْتَحِلْ لَیْلاً۔ الإِثْمِدُ یَجْلُو الْبَصَرَ وَیُنْبِتُ الشَّعَرَ))۔

قَالَ الشَّیْخُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ ہُوَ ابْنُ النُّعْمَانِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ ہَوْذَۃَ أَبُو النُّعْمَانِ وَمَعْبَدُ بْنُ ہَوْذَۃَ الأَنْصَارِیُّ ہُوَ الَّذِی لَہُ ہَذِہِ الصُّحْبَۃُ۔ [منکر۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزے دار اپنے سر پر پانی بہائے
(٨٢٦١) ابوبکر بن عبدالرحمن بعض اصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے سال سفر میں لوگوں کو افطار کا حکم دیا اور فرمایا : دشمن کے لیے قوت حاصل کرو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ رکھا۔ ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں : مجھے اس نے کہا جس نے حدیث بیان کی : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عرج مقام پر دیکھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے سر پر پانی بہا رہے تھے پیاس کی وجہ سے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے سے تھے۔
(۸۲۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی نَصْرٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سُمَیٍّ مَوْلَی أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَ النَّاسَ فِی سَفَرِہِ بِالْفِطْرِ عَامَ الفَتْحِ وَقَالَ : ((تَقَوَّوْا لِعَدُوِّکُمْ))۔ وَصَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَالَ الَّذِی حَدَّثَنِی : لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِالْعَرْجِ یَصُبُّ عَلَی رَأْسِہِ الْمَائَ وَہُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ قَالَ مِنَ الْحَرِّ۔

[صحیح۔ معنی تخریحہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزے دار اپنے سر پر پانی بہائے
(٨٢٦٢) منذر بن ابی المنذر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) کو دیکھا کہ وہ زمزم کے کنویں سے پانی ڈال رہے تھے سر میں اور وہ روزے سے تھے۔
(۸۲۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللہ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ أَبِی الْمُنْذِرِ قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَکْرَعُ فِی حِیَاضِ زَمْزَمَ وَہُوَ صَائِمٌ۔ [ضعیف۔ الجنۃ بن منذر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر صائم سنگی لگوائے تو روزہ باطل نہیں ہوتا
(٨٢٦٣) ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنگی لگوائی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صائم تھے۔
(۸۲۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ وَابْنُ أَبِی قَمَّاشٍ وَیَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُخَرِّمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- احْتَجَمَ وَہُوَ صَائِمٌ۔ فِی رِوَایَۃِ تَمْتَامٍ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ وَالْبَاقِی سَوَائٌ

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر صائم سنگی لگوائے تو روزہ باطل نہیں ہوتا
(٨٢٦٤) مقسم بن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ و مدینہ کے درمیان سنگی لگوائی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صائم و محرم تھے۔
(۸۲۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَزِیدَ یَعْنِی ابْنَ أَبِی زِیَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ وَہُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ۔

وَرَوَاہُ أَیْضًا مَیْمُونُ بْنُ مِہْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر صائم سنگی لگوائے تو روزہ باطل نہیں ہوتا
(٨٢٦٥) حمید کہتے ہیں : میں نے ثابت بنانی سے سنا اور وہ انس بن مالک (رض) سے پوچھ رہے تھے : کیا تم روزے دار کے لیے سنگی کو ناپسند کرتے تھے ؟ انھوں نے کہا : نہیں مگر کمزوری کی وجہ سے۔
(۸۲۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِیَّ وَہُوَ یَسْأَلُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ أَکُنْتُمْ تَکْرَہُونَ الْحِجَامَۃَ لِلصَّائِمِ؟ قَالَ : لاَ إِلاَّ مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِیَّ قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ۔

وَالصَّحِیحُ مَا رُوِّینَا عَنْ آدَمَ فَقَدْ رَوَاہُ أَبُو النَّضْرِ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ حُمَیْدٍ کَمَا رُوِّینَا۔[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر صائم سنگی لگوائے تو روزہ باطل نہیں ہوتا
(٨٢٦٦) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اصحاب محمد (رض) میں سے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پے درپے روزے اور سنگی لگوانے کو روزے دار کے لیے منع کیا ہے۔ اپنے صحابہ میں اسے باقی رکھا حرام قرار نہیں دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے میرا رب کھلاتا ہے۔
(۸۲۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ -ﷺ- قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الْمُوَاصَلَۃِ وَالْحِجَامَۃِ لِلصَّائِمِ إِبْقَائً عَلَی أَصْحَابِہِ وَلَمْ یُحَرِّمْہُمَا فَقِیلَ لَہُ : إِنَّکَ تُوَاصِلُ فَقَالَ : ((إِنِّی أَظَلُّ فَیُطْعِمُنِی رَبِّی وَیَسْقِینِی))۔

[صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৭০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر صائم سنگی لگوائے تو روزہ باطل نہیں ہوتا
(٨٢٦٧) فتادہ ابی المتوکل سے بیان کرتے ہیں کہ ابو بیعہ کہتے ہیں کہ روزے دار کے لیے سنگی ناپسند کی جاتی ہے کمزوری کے ڈر سے۔
(۸۲۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ : إِنَّمَا کُرِہَتِ الْحِجَامَۃُ لِلصَّائِمِ مَخَافَۃَ الضَّعْفِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن خزیمہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৭১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر صائم سنگی لگوائے تو روزہ باطل نہیں ہوتا
(٨٢٦٨) ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صائم کو بوسہ لینے اور سنگی لگوانے کی اجازت دی۔

ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صائم کو سنگی لگوانے کی اجازت دی۔
(۸۲۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ وَأَبُو عُبَیْدِ بْنُ الْمَحَامِلِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ الدَّوْرَقِیُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ : رَخَّصَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْقُبْلَۃِ لِلصَّائِمِ وَالْحِجَامَۃِ۔

قَالَ عَلِیٌّ : کُلُّہُمْ ثِقَاتٌ وَغَیْرُ مُعْتَمِرٍ یَرْوِیہِ مَوْقُوفًا۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ مَرْفُوعًا۔[صحیح۔ اخرجہ ابن خزیمہ، النسائی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৭২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر صائم سنگی لگوائے تو روزہ باطل نہیں ہوتا
ترجمہ نہیں ہے
(۸۲۶۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ السِّمْنَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعِیدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- رَخَّصَ فِی الْحِجَامَۃِ لِلصَّائِمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৭৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر صائم سنگی لگوائے تو روزہ باطل نہیں ہوتا
(٨٢٧٠) اسحاق ارزق (رض) نے بیان کیا کہ سفیان نے ایسی ہی حدیث بیان کی۔
(۸۲۷۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدِاللَّہِ الْمُعَدَّلُ: أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔

قَالَ عَلِیٌّ : کُلُّہُمْ ثِقَاتٌ۔ وَرَوَاہُ الأَشْجَعِیُّ أَیْضًا وَہُوَ مِنَ الثِّقَاتِ

قَالَ الشَّیْخُ : إِلاَّ أَنَّ الأَشْجَعِیَّ قَالَ فِی حَدِیثِہِ رُخِّصَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক: