আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭১৭ টি

হাদীস নং: ৮২১৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفطر کے لیے ممکن ہے کہ روزہ کی قضا کرے پھر دوسرا رمضان آجائے
(٨٢١١) عبداللہ بن عباس اس آدمی کے بارے میں فرماتے ہیں جس کو رمضان نے پالیا جب کہ اس کے دوسرے رمضان کے روزے باقی تھے تو وہ اس رمضان کے روزے رکھے اور پچھلے رمضان کے ہر دن کے عوض مسکین کو کھانا کھلادے اور قضا کرے۔
(۸۲۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : فِی رَجُلٍ أَدْرَکَہُ رَمَضَانُ وَعَلَیْہِ رَمَضَانُ آخَرُ قَالَ : یَصُومُ ہَذَا وَیُطْعِمُ عَنْ ذَاکَ کُلَّ یَوْمٍ مِسْکِینًا وَیَقْضِیہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ اہل الجمہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২১৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفطر کے لیے ممکن ہے کہ روزہ کی قضا کرے پھر دوسرا رمضان آجائے
(٨٢١٢) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ وہ اس رمضان کے روزے رکھے گا جو حاضر ہے اور دوسرے کی قضاکرے گا اور ہر دن کے عوض مسکین کو کھلائے گا۔

ابن جریج عطاء کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ ہر مسکین کے لیے گندم کا ایک مد ہے۔
(۸۲۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ : سُئِلَ سَعِیدٌ ہُوَ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ رَجُلٍ تَتَابَعَ عَلَیْہِ رَمَضَانَانِ وَفَرَّطَ فِیمَا بَیْنَہُمَا فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ صَالِحٍ أَبِی الْخَلِیلِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ قَالَ : یَصُومُ الَّذِی حَضَرَ وَیَقْضِی الآخَرَ وَیُطْعِمُ لِکُلِّ یَوْمٍ مِسْکِینًا۔

قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ بِمِثْلِہِ۔

وَرَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَقَالَ : مُدًّا مِنْ حِنْطَۃٍ لِکُلِّ مِسْکِینٍ۔ [صحیح۔ ابن عرویہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২১৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفطر کے لیے ممکن ہے کہ روزہ کی قضا کرے پھر دوسرا رمضان آجائے
(٨٣١٢) عطاء فرماتے ہیں کہ انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ انھوں نے مریض کے بارے میں کہا جو بیمار ہوتا ہے اور رمضان کا روزہ نہیں رکھتا ۔ پھر وہ تندرست ہوجاتا ہے اور روزے نہیں رکھتا حتیٰ کہ دوسرا رمضان آجاتا ہے۔ انھوں نے کہا : پھر وہ اس رمضان کے روزے رکھے گا جو موجود ہے بعد میں دوسرے کے رکھے گا اور ہر رات کے عوض مسکین کو کھانا کھلائے گا۔

ابن عمر (رض) اور ابوہریرہ (رض) سے اس کے بارے میں منقول ہے جو دوسرے رمضان تک صحیح نہیں ہوتا کہ وہ کھانا کھلائے اور اس پر قضا نہیں۔ حسن طاؤس اور نخعی فرماتے ہیں کہ قضا ہے لیکن کفارہ نہیں اور ہم کہتے ہیں اللہ کے فرمان کے تحت : { فَعِدَّۃٌ مِنْ أَیَّامٍ أُخَرَ }
(۸۲۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبْغَدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی الشَّوَارِبِ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ بَکَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ رَقَبَۃَ قَالَ : زَعَمَ عَطَاء ٌ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ فِی الْمَرِیضِ یَمْرَضُ وَلاَ یَصُومُ رَمَضَانَ ، ثُمَّ یَبْرَأُ وَلاَ یَصُومُ حَتَّی یُدْرِکَہُ رَمَضَانُ آخَرُ قَالَ : یَصُومُ الَّذِی حَضَرَہُ وَیَصُومُ الآخَرَ وَیُطْعِمُ لِکُلِّ لَیْلَۃٍ مِسْکِینًا۔

وَرَوَی ہَذَا الْحَدِیثَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ نَافِعٍ الْجَلاَّبُ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُوسَی بْنِ وَجِیہٍ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا وَلَیْسَ بِشَیْئٍ ۔

إِبْرَاہِیمُ وَعُمَرُ مَتْرُوکَانِ : وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ فِی الَّذِی لَمْ یَصِحَّ حَتَّی أَدْرَکَہُ رَمَضَانُ آخَرُ : یُطْعِمُ وَلاَ قَضَائَ عَلَیْہِ ، وَعَنِ الْحَسَنِ وَطَاوُسٍ وَالنَّخَعِیِّ : یَقْضِی وَلاَ کَفَّارَۃَ عَلَیْہِ۔ وَبِہِ نَقُولُ لِقَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی {فَعِدَّۃٌ مِنْ أَیَّامٍ أُخَرَ} [صحیح۔ رجالہ ثقات]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২১৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مریض روزہ افطار کرتا ہے پھر وہ تندرست نہیں ہوتا حتیٰ کہ وہ فوت ہوجاتا ہے تو اس پر کچھ بھی نہیں

رُوِیَ ذَلِکَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ ۔

وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ( (إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ) ) ۔
(٨٢١٤) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : جب میں تمہیں حکم دوں کچھ کرنے کا تو جس قدر طاقت ہے عمل کرو۔ چھوڑ دو اس میں جس میں تمہیں چھوڑا ہے۔ بیشک تم سے پہلے لوگ کثرت سوال کی وجہ سے ہلاک کیے گئے اور انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے۔ سو جب میں تمہیں کسی کام سے منع کردوں تو تم اسے چھوڑ دیا کرو اور جب تمہیں کسی کام کا کرنے کا حکم دوں تو جس قدر تم میں طاقت ہے اسے کرو۔
(۸۲۱۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبْغَدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ذَرُونِی مَا تَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا ہَلَکَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلاَفِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِمْ ، فَإِذَا نَہَیْتُکُمْ عَنْ شَیْئٍ فَاجْتَنِبُوہُ ، وَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِالأَمْرِ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২১৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس سے ادائیگی میں تقصیر ہوئی حتیٰ کہ وہ فوت ہوگیا تو اس کی طرف سے ہر دن کے عوض ایک مسکین کو ایک مد کھانا کھلایا جائے
(٨٢١٥) نافع فرماتے ہیں کہ جب ابن عمر (رض) سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہوگیا اور اس کے ذمے رمضان یا نذر وغیرہ کے روزے تھے تو وہ فرماتے ہیں کہ کوئی کسی کی طرف سے روزے نہ رکھے لیکن اس کے مال میں سے صدقہ دو ۔ ہر دن کے روزے کے عوض ایک مسکین۔
(۸۲۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ الْقَاسِمِ وَنَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یَمُوتُ وَعَلَیْہِ صَوْمٌ مِنْ رَمَضَانَ أَوْ نَذْرٌ یَقُولُ : لاَ یَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ وَلَکِنْ تَصَدَّقُوا عَنْہُ مِنْ مَالِہِ لِلصَّوْمِ لِکُلِّ یَوْمٍ مِسْکِینًا۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২১৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس سے ادائیگی میں تقصیر ہوئی حتیٰ کہ وہ فوت ہوگیا تو اس کی طرف سے ہر دن کے عوض ایک مسکین کو ایک مد کھانا کھلایا جائے
(٨٢١٦) نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ کہا کرتے تھے : جس نے رمضان میں مرض کی وجہ سے کچھ دن افطار کیا۔ پھر وہ قضا سے پہلے ہی فوت ہوگیا تو اس کی جانب سے ہر د ن کے عوض ایک مسکین کو ایک مد کھانا دیا جائے، ان تمام دنوں کے عوض۔ اگر اسے آئندہ رمضان آئے اس کے روزے رکھنے سے پہلے اور وہ اس کے روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے تو جو گزر چکے ہیں، ان کے عوض مسکین کو ایک مد گندم دے اور جو رمضان گزر رہا ہے اس کے روزے رکھے۔
(۸۲۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَاشِمٍ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنِی جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ کَانَ یَقُولُ : مَنْ أَفْطَرَ فِی رَمَضَانَ أَیَّامًا وَہُوَ مَرِیضٌ ، ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ یَقْضِیَ فَلْیُطْعِمْ عَنْہُ مَکَانَ کُلِّ یَوْمٍ أَفْطَرَہُ مِنْ تِلْکَ الأَیَّامِ مِسْکِینًا مُدًّا مِنْ حِنْطَۃٍ ، فَإِنْ أَدْرَکَہُ رَمَضَانُ عَامَ قَابِلٍ قَبْلَ أَنْ یَصُومَہُ فَأَطَاقَ صَوْمَ الَّذِی أَدْرَکَ فَلْیُطْعِمْ عَمَّا مَضَی کُلَّ یَوْمٍ مِسْکِینًا مُدًّا مِنْ حِنْطَۃٍ وَلْیَصُمِ الَّذِی اسْتَقْبَلَ۔

ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحِ مَوْقُوفٌ عَلَی ابْنِ عُمَرَ ، وَقَدْ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ نَافِعٍ فَأَخْطَأَ فِیہِ۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২২০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس سے ادائیگی میں تقصیر ہوئی حتیٰ کہ وہ فوت ہوگیا تو اس کی طرف سے ہر دن کے عوض ایک مسکین کو ایک مد کھانا کھلایا جائے
(٨٢١٧) ابن عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ جو فوت ہوگیا اور اس کے ذمے رمضان کے وہ روزے ہیں جس کی قضا نہیں کر سکاتو ہر دن کے عوض مسکین کو نصف صاع کھانا دیا جائے۔

یہ دو لحاظ سے غلط ہی ایک یہ کہ اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً بیان کیا جب کہ وہ ابن عمر (رض) کا قول ہے۔ دوسری یہ کہ وہ آدھا صاع ہے جب کہ ابن عمر (رض) نے فرمایا : گندم کا ایک مد۔ دوسری روایت ابن ابی لیلیٰ سے ہے جس میں صاع کا تذکرہ نہیں۔
(۸۲۱۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ الْبَخْتَرِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِیکٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْن عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الَّذِی یَمُوتُ وَعَلَیْہِ رَمَضَانُ وَلَمْ یَقْضِہِ قَالَ : یُطْعَمُ عَنْہُ لِکُلِّ یَوْمٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ۔

ہَذَا خَطَأٌ مِنْ وَجْہَیْنِ

أَحَدُہُمَا رَفْعُہُ الْحَدِیثَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَإِنَّمَا ہُوَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ

وَالآخَرُ قَوْلُہُ نِصْفُ صَاعٍ ، وَإِنَّمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ : مُدًّا مِنْ حِنْطَۃٍ ، وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی لَیْسَ فِیہِ ذِکْرُ الصَّاعِ۔ [منکر۔ ابن ابی لیلٰی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২২১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس سے ادائیگی میں تقصیر ہوئی حتیٰ کہ وہ فوت ہوگیا تو اس کی طرف سے ہر دن کے عوض ایک مسکین کو ایک مد کھانا کھلایا جائے
(٨٢١٨) نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) نے فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جوفوت ہوگیا اور اس کے ذمے مہینے کے روزے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ ان کی طرف سے ہر دن کے عوض مسکین کو کھلائے۔
(۸۲۱۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبْغَدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَامِلٍ الْقُرْقُسَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْبَجَلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ عَنْ مُحَمَّدِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سُئِلَ النَّبِیُّ -ﷺ- عَنْ رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَیْہِ صَوْمُ شَہْرٍ قَالَ :

( (یُطْعَمُ عَنْہُ کُلَّ یَوْمٍ مِسْکِینٌ))۔ [منکر۔ اخرجہ الترمذی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২২২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس سے ادائیگی میں تقصیر ہوئی حتیٰ کہ وہ فوت ہوگیا تو اس کی طرف سے ہر دن کے عوض ایک مسکین کو ایک مد کھانا کھلایا جائے
(٨٢١٩) ثوبان (رض) فرماتے ہیں : ابن عباس (رض) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہوگیا اور اس کے ذمے رمضان کے مہینے کے روزے ہوں اور دوسرے مہینے میں نذر کے روزے ہوں تو انھوں نے کہا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔
(۸۲۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبْغَدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامُ شَہْرِ رَمَضَانَ وَعَلَیْہِ نَذْرُ صِیَامِ شَہْرٍ آخَرَ۔ قَالَ : یُطْعِمُ سِتِّینَ مِسْکِینًا۔

کَذَا رَوَاہُ ابْنُ ثَوْبَانَ عَنْہُ فِی الصِّیَامَیْنِ جَمِیعًا۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২২৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس سے ادائیگی میں تقصیر ہوئی حتیٰ کہ وہ فوت ہوگیا تو اس کی طرف سے ہر دن کے عوض ایک مسکین کو ایک مد کھانا کھلایا جائے
(٨٢٢٠) میمون بن مہر ان فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) سے ایسی عورت یا مرد کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہوگیا اور اس پر مہینہ بھر کے رمضان یا نذر کے روزے تھے تو ابن عباس (رض) نے کہا : اس کی طرف سے ہر دن کے عوض مسکین کو کھانا دیا جائے گا یا پھر اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے ۔
(۸۲۲۰) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : فِی امْرَأَۃٍ تُوُفِّیَتْ أَوْ رَجُلٍ وَعَلَیْہِ رَمَضَانُ وَنَذْرُ شَہْرٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : یُطْعِمُ عَنْہُ مَکَانَ کُلِّ یَوْمٍ مِسْکِینًا أَوْ یَصُومُ عَنْہُ وَلِیُّہُ لِنَذْرِہِ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২২৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے
(٨٢٢١) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص فوت ہوگیا اور اس کے ذمے روزے بھی تھے تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے۔
(۸۲۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سَعِیدٍ الأَیْلِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامٌ صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہُ))۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مُوسَی بْنِ أَعْیَنَ عَنْ عَمْرٍو، ثُمَّ قَالَ تَابَعَہُ ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرٍو، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ وَأَحْمَدَ بْنِ عِیسَی قَالَ الْبُخَارِیُّ: وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِی جَعْفَرٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২২৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے
(٨٢٢٢) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص فوت ہوگیا اور اس کے ذمے روزے تھے تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے گا۔
(۸۲۲۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِیعِ بْنِ طَارِقٍ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مِنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامٌ صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہُ))۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২২৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے
(٨٢٢٣) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہا : میری ماں فوت ہوگئی ہے اور اس کے ذمے مہینے کے روزے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا کیا خیال ہے کہ اگر اس کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تو ادا کرتی تو اس نے کہا : ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔
(۸۲۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِینِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَتْ : إِنَّ أُمِّی مَاتَتْ وَعَلَیْہَا صَوْمُ شَہْرٍ فَقَالَ : ((أَرَأَیْتِ لَوْ کَانَ عَلَیْہَا دَیْنٌ أَکُنْتِ تَقْضِینَہُ؟))۔ فَقَالَتْ : نَعَمْ فَقَالَ : ((دَیْنٌ اللَّہِ أَحَقُّ بِالْقَضَائِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔

وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ وَجَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ وَرَوَاہُ زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২২৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے
(٨٢٢٤) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میری ماں فوت ہوچکی ہے اور اس کے ذمے مہینے کے روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے قضاکروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تیری ماں پر قرض ہوتا تو کیا ادا کرتا ؟ اسے کہا : جی ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر اللہ کا قرض زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔
(۸۲۲۴) کَمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَبِیبٍ الْفَامِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِینِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أُمِّی مَاتَتْ وَعَلَیْہَا صَوْمُ شَہْرٍ أَفَأَقْضِیہِ عَنْہَا؟ قَالَ : ((لَوْ کَانَ عَلَی أُمِّکَ دَیْنٌ أَکُنْتَ قَاضِیَہُ؟))۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : ((فَدَیْنُ اللَّہِ أَحَقُّ أَنْ یُقْضَی))۔ قَالَ سُلَیْمَانُ قَالَ الْحَکَمُ وَسَلَمَۃُ وَنَحْنُ جُلُوسٌ حِینَ کَانَ مُسْلِمٌ یُحَدِّثُ بِہَذَا فَقَالاَ سَمِعْنَا مُجَاہِدًا یَذْکُرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ہَذَا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیمِ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَمْرٍو ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ حُسَیْنٍ الْجُعْفِیِّ عَنْ زَائِدَۃَ۔

وَرَوَاہُ أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২২৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے
(٨٢٢٥) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میری بہن فوت ہوگئی ہے اور اس کے ذمے دو ماہ کے متواتر روزے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تیری بہن پر قرض ہوتا تو کیا ادا کرتی ؟ اس نے کہا : جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر اللہ کا حق ادائیگی کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
(۸۲۲۵) کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبْغَدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَحَمَّدٍ : دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْجَارُودِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ الْحَکَمِ وَمُسْلِمٍ الْبَطِینِ وَسَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَمُجَاہِدٍ وَعَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أُخْتِی مَاتَتْ وَعَلَیْہَا صِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ قَالَ: ((أَرَأَیْتِ لَوْ کَانَ عَلَی أُخْتِکِ دَیْنٌ أَکُنْتِ تَقْضِینَہُ))۔ قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : ((فَحَقُّ اللَّہِ أَحَقُّ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدٍ الأَشَجِّ ، وَقَالَ الْبُخَارِیُّ : وَیُذْکَرُ عَنْ أَبِی خَالِدٍ فَذَکَرَہُ۔

[صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২২৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے
(٨٢٢٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میری بہن نے ایک مہینے کے روزوں کی نذر مانی تھی، وہ سمندر پر سفر کررہی تھی تو فوت ہوگئی اور اس نے وہ روزے نہیں رکھے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کہا : اپنی بہن کی طرف سے روزے رکھ۔ یہ الفاظ اس کی طرف سے روزہ رکھنے کی دلیل ہیں۔
(۸۲۲۶) وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِینَ یُحَدِّثُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَتْ لَہُ: أَنَّ أُخْتَہَا نَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَہْرًا ، وَإِنَّہَا رَکِبَتِ الْبَحْرَ فَمَاتَتْ وَلَمْ تَصُمْ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((صُومِی عَنْ أُخْتِکِ))۔

فَہَذَا اللَّفْظُ نَصٌّ فِی الصَّوْمِ عَنْہَا۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ زَیْدُ بْنُ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : إِنَّ أُمِّی مَاتَتْ۔

[صحیح۔ اخرجہ السطانی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے
(٨٢٢٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی : میری ماں فوت ہوچکی ہے اور اس کے ذمے نذر کے روزے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو اس کا قرض اد ا کرتی اگر اس کے ذمے قرض ہوتا ؟ تو اس نے کہا : جی ہاں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو اس کی طرف سے روزے رکھ۔
(۸۲۲۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَبْدُ الْبَاقِی بْنُ قانعٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْہَرِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَتْ : إِنَّ أُمِّی مَاتَتْ وَعَلَیْہَا صَوْمُ نَذْرٍ فَقَالَ : ((أَکُنْتِ قَاضِیَۃً عَنْہَا دِینًا لَوْ کَانَ عَلَی أُمِّکِ؟))۔ قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : ((فَصُومِی عَنْہَا))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے
( ٨٢٢٨) زکریا بن عدی فرماتے ہیں اور متن میں اضافہ کیا کہ کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بتا اگر اس کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تو اپنی ماں کا قرض ادا کرتی ؟ اس نے کہا : جی ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر اپنی ماں کی طرف سے روزے رکھ۔
(۸۲۲۸) عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ وَابْنِ أَبِی خَلَفٍ عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ عَدِیٍّ وَزَادَ فِی مَتْنَہِ : أَفَأَصُومُ عَنْہَا؟ قَالَ : ((أَرَأَیْتِ لَوْ کَانَ عَلَی أُمِّکِ دِینٌ فَقَضَیْتِہِ أَکَانَ یُؤَدِّی ذَلِکَ عَنْہَا؟))۔ قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : ((فَصُومِی عَنْ أُمِّکِ))۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مَحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ وَأَبُو أَحْمَدَ بْنُ عِیسَی قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنِی إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَابْنُ أَبِی خَلَفٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَیْدٍ قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِی زَکَرِیَّا بْنُ عَدِیٍّ فَذَکَرَہُ۔

وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ حِکَایَۃً عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ۔

وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ : جَعْفَرُ بْنُ أَبِی وَحْشِیَّۃَ عَنْ سَعِیدٍ نَصًّا فِی جَوَازِ الصَّوْمِ عَنْہَا۔

[صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے
(٨٢٢٩) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے نذر مانی اور وہ سمندر میں تھی کہ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھے گی مگر وہ روزے رکھنے سے پہلے فوت ہوگئی ۔ اس کی کوئی قرابت دار (بہن یا بیٹی) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور خبر دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی طرف سے روزے رکھ۔
(۸۲۲۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی وَحْشِیَّۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ امْرَأَۃً نَذَرَتْ وَہِیَ فِی الْبَحْرِ إِنْ نَجَّاہَا اللَّہُ أَنْ تَصُومَ شَہْرًا فَأَنْجَاہَا اللَّہُ وَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَصُومَ فَجَائَ تْ ذَاتُ قَرَابَۃٍ لَہَا إِمَّا أُخْتُہَا أَوِ ابْنَتُہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرَتْہُ فَقَالَ : ((صَوْمِی عَنْہَا))۔

تَابَعَہُ ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ فِی الصَّوْمِ ، وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ وَأَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ فِی الْحَجِّ دُونَ الصَّوْمِ ، وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ السُّؤَالُ وَقَعَ عَنْہُمَا فَنَقَلاَ أَحَدَہُمَا وَنَقَلَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَہُشَیْمٌ الآخَرَ فَقَدْ رَوَاہُ عِکْرِمَۃُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی الصَّوْمِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے
(٨٢٣٠) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی کہ میری ماں فوت ہوگئی ہے اور اس کے پندرہ روزے تھے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اس پر قرض ہوتا تو کیا تو ادا کرتی ؟ اس نے کہا : جی ہاں ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی ماں کا قرض ادا کر۔ یہ خثعم کی عورت تھی۔

شیخ نے نقل فرمایا بریدہ بن حصیب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روزے اور حج دونوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں سلمان بن برید ہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : ایک مہینے کے روزے ۔ سو اس حدیث سے میت کی طرف سے روزے رکھنے کا جوا ز ہے۔ امام شافعی نے اپنی پرانی کتاب میں کہا : جو میت کی طرف سے روزہ رکھنے کے متعلق فرمایا : اگر اس کی طرف سے ثابت ہو تو جیسے حج کیا جاسکتا ہے۔ روزہ بھی رکھا جاسکتا ہے۔ لیکن نئی کتاب میں جو ہے تو ان سے پوچھا گیا تو فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کو دوسرے کی طرف سے روزے کا حکم دیا۔
(۸۲۳۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی الْفُضَیْلِ عَنْ أَبِی حَرِیزٍ : فِی امْرَأَۃٍ مَاتَتْ وَعَلَیْہَا صَوْمٌ قَالَ حَدَّثَنِی عِکْرِمَۃُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَتَتِ امْرَأَۃٌ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أُمِّی مَاتَتْ وَعَلَیْہَا صَوْمُ خَمْسَۃَ عَشَرَ یَوْمًا۔ قَالَ : ((أَرَأَیْتِ لَوْ أَنَّ أُمَّکِ مَاتَتْ وَعَلَیْہَا دَیْنٌ أَکُنْتِ قَاضِیَتَہُ))۔ قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : ((اقْضِی دِینَ أُمِّکِ))۔ وَہِیَ امْرَأَۃٌ مِنْ خَثْعَمٍ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ أَبُو حَرِیزٍ حَدَّثَنِی عِکْرِمَۃُ فَذَکَرَہُ۔

قَالَ الشَّیْخُ وَرَوَاہُ بُرَیْدَۃُ بْنُ حُصَیْبٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الصَّوْمِ وَالْحَجِّ جَمِیعًا۔

[صحیح۔ اخرجہ ابن خزیمہ]
tahqiq

তাহকীক: