আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭১৭ টি

হাদীস নং: ৮১৯৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا بیان جس نے چاند کی رؤیت میں صرف دو عادل لوگوں کی گواہی قبول کی
(٨١٩١) ابو وائل (رض) فرماتے ہیں کہ ہم پر رمضان کا چاند طلوع ہوا اور ہم خانقین میں تھے تو ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے افطار کیا تو عمر (رض) کی تحریر ہمارے پاس آئی کہ جب تم دن میں چاند دیکھو پھر افطار نہ کرو حتیٰ کہ دو آدمی گواہی نہ دیں کہ انھوں نے چاند دیکھا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد رمضان کے آخر کا چاند ہے۔
(۸۱۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ : أَہْلَلْنَا ہِلاَلَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِخَانِقِینَ فَمِنَّا مَنْ صَامَ ، وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ قَالَ فَجَائَ نَا کِتَابُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِذَا رَأَیْتُمُ الْہِلاَلَ نَہَارًا فَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّی یَشْہَدَ شَاہِدَانِ مُسْلِمَانِ أَنَّہُمَا رَأَیَاہُ بِالأَمْسِ۔ قَالَ الشَّیْخُ : یُرِیدُ بِہِ ہِلاَلَ آخِرِ رَمَضَانَ۔

[صحیح۔ اخراجہ ابن البعد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮১৯৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا بیان جس نے چاند کی رؤیت میں صرف دو عادل لوگوں کی گواہی قبول کی
(٨١٩٢) حضرت ابو وائل (رض) فرماتے ہیں کہ عمر (رض) نے ہماری طرف خط لکھا اور ہم خانقین میں تھے کہ بیشک چاند ایک دوسرے سے بڑا ہوتا ہے، سو جب تم چاند دن کے شروع میں دیکھو تو افطار نہ کرو حتیٰ کہ دوعادل لوگ گواہی نہ دے دیں کہ انھوں نے کل چاند دیکھا ہے۔
(۸۱۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُہُسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ : کَتَبَ إِلَیْنَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَنَحْنُ بِخَانِقِینَ : إِنَّ الأَہِلَّۃَ بَعْضُہَا أَعْظَمُ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا رَأَیْتُمُ الْہِلاَلَ أَوَّلَ النَّہَارِ فَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّی یَشْہَدَ شَاہِدَانِ ذَوَا عَدْلٍ أَنَّہُمَا رَأَیَاہُ بِالأَمْسِ۔ ہَذَا أَثَرٌ صَحِیحٌ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔

[صحیح۔ انظرقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮১৯৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا بیان جس نے چاند کی رؤیت میں صرف دو عادل لوگوں کی گواہی قبول کی
(٨١٩٣) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ میں براء بن عازب (رض) اور عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ بقیع میں ساتھ تھا انھوں نے چاند کی طرف دیکھا ، اتنے میں ایک سوار آیا۔ عمر (رض) اس سے ملے اور اس سے پوچھا : تو کہاں سے آیا ہے ؟ اس نے بتایا : مغرب سے تو عمر (رض) نے اسے کہا : کیا تو نے چاند دیکھا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں تو عمر (رض) نے کہا : اللہ اکبر بیشک مسلمانوں کو یہی آدمی کافی ہے۔ پھر عمر (رض) کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، پھر مغرب کی نماز پڑھائی ۔ پھر کہا : میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔
(۸۱۹۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی دَاوُدَ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا وَرْقَائُ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی الثَّعْلَبِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی قَالَ : کُنْتُ مَعَ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ وَعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بِالْبَقِیعِ فَنَظَرَ إِلَی الْہِلاَلِ فَأَقْبَلَ رَاکِبٌ فَتَلَقَّاہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : مِنْ أَیْنَ جِئْتَ؟ قَالَ : مِنَ الْمَغْرِبِ قَالَ : أَہْلَلْتَ قَالَ : نَعَمْ قَالَ عُمَرُ : اللَّہُ أَکْبَرُ إِنَّمَا یَکْفِی الْمُسْلِمِینَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : ہَکَذَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَنَعَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮১৯৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا بیان جس نے چاند کی رؤیت میں صرف دو عادل لوگوں کی گواہی قبول کی
(٨١٩٤) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ میں عمر (رض) کے ساتھ تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : میں نے شوال کا چاند دیکھا ہے تو عمر (رض) نے کہا : اے لوگو ! افطار کرو۔ پھر موزوں پر مسح کرنے تک حدیث بیان کی۔
(۸۱۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ بْنُ یُونُسَ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی الثَّعْلَبِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی قَالَ : کُنْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: رَأَیْتُ الْہِلاَلَ ہِلاَلَ شَوَّالَ فَقَالَ عُمَرُ : أَیُّہَا النَّاسُ أَفْطِرُوا ، ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ۔

[ضعیف۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮১৯৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا بیان جس نے چاند کی رؤیت میں صرف دو عادل لوگوں کی گواہی قبول کی
(٨١٩٥) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ عمر (رض) نے ایک آدمی کی گواہی کو عید الفطر یا اضحیٰ کا چاند دیکھنے کے لیے جائز قرار دیا ۔

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ عمر (رض) کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے نہیں دیکھا ۔ میں نے ان سے کہا : جو حدیث بیان کی گئی ہے اس میں ہے کہ ہم عمر (رض) کے ساتھ تھے اور چاند کو دیکھ رہے تھے تو انھوں نے فرمایا : کچھ بھی نہیں تھا۔
(۸۱۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَجَازَ شَہَادَۃَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فِی رُؤْیَۃِ الْہِلاَلِ فِی فِطْرٍ أَوْ أَضْحًی۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ قَالَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْوَرَّاقُ قُلْتُ لأَبِی نُعَیْمٍ سَمِعَ ابْنُ أَبِی لَیْلَی مِنْ عُمَرَ قَالَ : لاَ أَدْرِی۔

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ قُلْتُ لِیَحْیَی بْنِ مَعِینٍ : سَمِعَ ابْنُ أَبِی لَیْلَی مِنْ عُمَرَ فَلَمْ یُثْبِتْ ذَاکَ

قَالَ عَلِیٌّ : عَبْدُ الأَعْلَی ہُوَ ابْنُ عَامِرٍ الثَّعْلَبِیُّ غَیْرُہُ أَثْبَتُ مِنْہُ وَحَدِیثُ أَبِی وَائِلٍ أَصَحُّ إِسْنَادًا عَنْ عُمَرَ مِنْہُ رَوَاہُ الأَعْمَشُ وَمَنْصُورٌ عَنْ أَبِی وَائِلٍ۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ قَالَ : سُئِلَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ عُمَرَ فَقَالَ لَمْ یَرَہُ فَقُلْتُ لَہُ : الْحَدِیثُ الَّذِی یُرْوَی کُنَّا مَعَ عُمَرَ نَتَرَایَا الْہِلاَلَ فَقَالَ لَیْسَ بِشَیْئٍ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮১৯৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطر کے چاند کی رؤیت کی گواہی زوال کے بعد ثابت ہوجانے کا حکم
(٨١٩٦) عمیر بن انس نقل فرماتے ہیں جو صحابی تھے کہ اہل مدینہ نے ایک صبح روزے کی حالت میں کی رمضان کے آخری دنوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں۔ دن کے اخیر میں ایک قافلہ آیا اور انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گواہی دی کہ انھوں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو افطار کا حکم دیا اور وہ صبح عیدگاہ پہنچیں۔
(۸۱۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ أَبِی عُمَیْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَۃٍ لَہُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : أَصْبَحَ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ صِیَامًا فِی آخِرِ یَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَدِمَ رَکْبٌ مِنْ آخِرِ النَّہَارِ فَشَہِدُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّہُمْ رَأَوُا الْہِلاَلَ بَالأَمْسِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- النَّاسَ أَنْ یُفْطِرُوا وَیَغْدُوا إِلَی مُصَلاَّہُمْ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ بِمَعْنَاہُ شُعْبَۃُ وَہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ عَنْ أَبِی بِشْرٍ : جَعْفَرِ بْنِ أَبِی وَحْشِیَّۃَ وَہُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ وَأَبُو عُمَیْرٍ رَوَاہُ عَنْ عُمُومَۃٍ لَہُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَأَصْحَابُ النَّبِیِّ -ﷺ- کُلُّہُمْ ثِقَاتٌ فَسَوَاء ٌ سُمُّوا أَوْ لَمْ یُسَمَّوْا۔ [حسن۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২০০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطر کے چاند کی رؤیت کی گواہی زوال کے بعد ثابت ہوجانے کا حکم
(٨١٩٧) انس (رض) اپنے انصار چچاؤں سے نقل فرماتے ہیں کہا کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چاند دیکھنے کی گواہی دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا کہ کل عید کے لیے نکلیں۔
(۸۱۹۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ عُمُومَۃً لَہُ مِنَ الأَنْصَارِ شَہِدُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی رُؤْیَۃِ الْہِلاَلِ فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَخْرُجُوا لِعِیدِہِمْ مِنَ الْغَدِ۔

تَفَرَّدَ بِہِ سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَغَلِطَ فِیہِ إِنَّمَا رَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی بِشْرٍ ۔ [منکر الاسناد۔ اخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطر کے چاند کی رؤیت کی گواہی زوال کے بعد ثابت ہوجانے کا حکم
٨١٩٨۔ عمیر بن انس اپنے چچاؤں سے نقل فرماتے ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک قافلہ آیا اور انھوں نے چاند کے دیکھنے کی گواہی دی کہ ہم نے کل چاند دیکھا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں افطارکاحکم دیا اور یہ کہ کل عید گاہ کی طرف نکلیں ۔ شعبہ کہتے ہیں : یہ دن کا آخر تھا۔
(۸۱۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الطَّابَرَانِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ أَبِی عُمَیْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَتِہِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: جَائَ رَکْبٌ إِلَی نَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- فَشَہِدُوا أَنَّہُمْ رَأَوْہُ بَالأَمْسِ یَعْنِی الْہِلاَلَ فَأَمَرَہُمْ أَنْ یُفْطِرُوا ، وَأَنْ یَخْرُجُوا مِنَ الْغَدِ۔ قَالَ شُعْبَۃُ : أُرَاہُ مِنْ آخِرِ النَّہَارِ۔

[حسن۔ معنیٰ آنفاً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فطر کے چاند کی رؤیت کی گواہی زوال کے بعد ثابت ہوجانے کا حکم
(٨١٩٩) ربعی بن حراش ایک صحابی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رمضان کے آخری دن میں لوگوں نے اختلاف کیا تو دودیہاتی آئے، انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گواہی دی کہ انھوں نے کل چاند دیکھا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو افطار کا حکم دے دیا اور یہ کہ کل عیدگاہ آئیں۔
(۸۱۹۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : اخْتَلَفَ النَّاسُ فِی آخِرِ یَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ فَقَدِمَ أَعْرَابِیَّانِ فَشَہِدَا عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- بِاللَّہِ لأَہَلاَّ الْہِلاَلَ أَمْسِ عَشِیَّۃً فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- النَّاسَ أَنْ یُفْطِرُوا وَأَنْ یَغْدُوا إِلَی مُصَلاَّہُمْ۔ [صحیح۔ معنیٰ قریباً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے سو ان کے روزے پورے کیے جائیں
(٨٢٠٠) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم ان پڑھ لوگ ہیں، نہ ہم لکھ سکتے ہیں اور نہ ہی حساب کرسکتے ہیں اور مہینہ ایسے ایسے ہوتا ہے، یعنی تیس دن کا ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسے ، ایسے ، ایسے ہوتا ہے اور اپنے انگوٹھے کو بند کرلیا ، یعنی انتیس کا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ اُنتیس دن اور دوسری مرتبہ تیس دن کا فرمایا۔
(۸۲۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ قَیْسٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ عَمْرٍو یَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّا أُمَّۃٌ أُمِّیَّۃٌ لاَ نَکْتُبُ وَلاَ نَحْسُبُ۔ الشَّہْرُ ہَکَذَا وَہَکَذَا وَہَکَذَا))۔ یَعْنِی ثَلاَثِینَ ثُمَّ قَالَ : ((وَہَکَذَا وَہَکَذَا وَہَکَذَا))۔ وَضَمَّ إِبْہَامَہُ یَعْنِی تِسْعًا وَعِشْرِینَ یَقُولُ مَرَّۃً ثَلاَثِینَ ، وَمَرَّۃً تِسْعًا وَعِشْرِینَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے سو ان کے روزے پورے کیے جائیں
( ٨٢٠١) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ مجھ سے کہا گیا : اے اُم المومنین ! کیا رمضان کا مہینہانتیس دن کا ہوتا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تیس دن سے زیادہ انتیس دن کے روزے رکھے ہیں۔
(۸۲۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ فِیمَا قَرَأْتُ عَلَیْہِ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ بِبْغَدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ سَہْلٍ الثَّغْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ : مَالِکُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَ قِیلَ لَہَا : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ أَیَکُونُ شَہْرُ رَمَضَانَ تِسْعًا وَعِشْرِینَ؟ فَقَالَتْ : مَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تِسْعًا وَعِشْرِینَ أَکْثَرُ مِمَّا صُمْتُ ثَلاَثِینَ۔

وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ مِثْلَ ہَذَا۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے سو ان کے روزے پورے کیے جائیں
٨٢٠٢۔ عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تیس روزوں سے زیادہ انتیس دن کے روزے رکھے ہیں۔
(۸۲۰۲) حَدَّثَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ الزَّاہِدُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ دِینَارٍ حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّہُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ یَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ : مَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تِسْعًا وَعِشْرِینَ أَکْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَہُ ثَلاَثِینَ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے سو ان کے روزے پورے کیے جائیں
(٨٢٠٣) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ انتیس دن کے روزے تیس روزوں سے زیادہ رکھے ہیں۔
(۸۲۰۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ سُوَیْدٍ وَخَالِدًا الْحَذَّائَ یُحَدِّثَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((شَہْرَا عِیدٍ لاَ یَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحَجَّۃِ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَیْمَانَ۔

وَالْمُرَادُ بِالْحَدِیثِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّہُمَا وَإِنْ خَرَجَا تِسْعًا وَعِشْرِینَ فَہُمَا کَامِلاَنِ فَیمَا یَتَعَلَّقُ بِہِمَا مِنَ الأَحْکَامِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر مہینہ اٹھائیس دن کا ہو تو ایک دن کی قضا کریں ابن عمر (رض) کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے جو گزر چکی ہے
(٨٢٠٤) حمید فرماتے ہیں کہ انھوں نے ولید سے سنا کہ ہم نے علی (رض) کے دور میں اٹھائیس روزے رکھے تو انھوں نے ہمیں ایک دن کی قضاکا حکم دیا۔
(۸۲۰۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ اللَّہِ الأَصَمَّ الْکُوفِیَّ سَمِعَ الْوَلِیدَ قَالَ : صُمْنَا عَلَی عَہْدِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثَمَانِیَۃً وَعِشْرِینَ یَوْمًا فَأَمَرَنَا بِقَضَائِ یَوْمٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاند ایک علاقے (ملک) میں نظر آیا مگر دوسرے میں نہیں تو پھر کیا حکم ہے
(٨٢٠٥) کر یب (رض) فرماتے ہیں کہ ام الفضل بنت حارث نے انھیں شام میں معاویہ (رض) کے پاس بھیجا، فرماتے ہیں : میں شام آیا۔ اپنی حاجت پوری کی کہ رمضان آگیا اور میں شام میں ہی تھا ۔ میں نے جمعہ کی رات کو چانددیکھا ، پھر میں مہینے کے آخر میں مدینے آیا تو مجھ سے عبداللہ بن عباس (رض) نے چاند کے بارے میں پوچھا کہ تم نے چاند دیکھا ؟ میں نے کہا : ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا ۔ انھوں نے روزہ رکھا اور معاویہ (رض) نے بھی روزہ رکھا تو انھوں نے کہا : مگر ہم نے تو ہفتے کو دیکھا ہے، ہم توا بھی روزے رکھتے رہیں گے حتیٰ کہ تیس دن پورے کریں یا چاند دیکھ لیں، میں نے کہا : کیا آپ کو معاویہ کا دیکھنا کافی نہیں ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایسے ہی حکم دیا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ ابن عباس (رض) کا ارادہ وہ ہو جو دوسرے قصے میں بیان کیا گیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے دیکھنے تک مدت کو بڑھا دیایا پھر تعداد کو مکمل کرنے کے لیے ان کے نزدیک دوسرے ملک کی گواہی ثابت نہیں دو کی گواہی کے ساتھ حتیٰ کہ تعداد مکمل ہوجائے دیکھنے سے بھی اور اس خبر میں ایک ہیں اسی لیے قبول نہیں کیا۔
(۸۲۰۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی حَرْمَلَۃَ عَنْ کُرَیْبٍ : أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْہُ إِلَی مُعَاوِیَۃَ بِالشَّامِ قَالَ فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَیْتُ حَاجَتُہَا فَاسْتُہِلَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَیْتُ الْہِلاَلَ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فِی آخِرِ الشَّہْرِ فَسَأَلَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الْہِلاَلَ فَقَالَ : مَتَی رَأَیْتُمُ الْہِلاَلَ قُلْتُ : رَأَیْنَاہُ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ قَالَ أَنْتَ رَأَیْتَہُ قُلْتُ : نَعَمْ وَرَئَ اہُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِیَۃُ فَقَالَ : لَکِنَّا رَأَیْنَاہُ لَیْلَۃَ السَّبْتِ فَلاَ نَزَالُ نَصُومُ حَتَّی نُکْمِلَ ثَلاَثِینَ أَوْ نَرَاہُ فَقُلْتُ : أَوَلاَ نَکْتَفِی بِرُؤْیَۃِ مُعَاوِیَۃَ قَالَ : لاَ ہَکَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی ۔

وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَرَادَ مَا رُوِیَ عَنْہُ فِی قِصَّۃٍ أُخْرَی : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَدَّہُ لِرُؤْیَتِہِ أَوْ تُکْمَلُ الْعِدَّۃُ ، وَلَمْ یَثْبُتْ عِنْدَہُ رُؤْیَتُہُ بِبَلَدٍ آخَرَ بِشَہَادَۃِ رَجُلَیْنِ حَتَّی تُکْمَلَ الْعِدَّۃُ عَلَی رُؤْیَتِہِ لاِنْفِرِادِ کُرَیْبٍ بِہَذَا الْخَبَرِ فَلَمْ یَقْبَلْہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگ اگر چاند دیکھنے میں غلطی کر بیٹھیں
(٨٢٠٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے، سو نہ تم روزہ رکھو حتیٰ کہ اسے دیکھ نہ لو اور جب تک دیکھ نہ لو افطار بھی نہ کرو۔ اگر تم پر بادل وغیرہ چھاجائیں تو تیس کی تعداد پوری کرو ۔ تمہاری عیدالفطر کا دن وہی ہوگا جس دن تم افطار کرو گے اور تمہارے اضحی کا دن وہ ہے جس دن قربانی کرو گے اور تمام عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے اور سارمنیٰ نحر کی جگہ ہے اور مکہ کی ہر گلی نحر کی جگہ ہے۔
(۸۲۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ

(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَلِیٌّ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا أَیُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : إِنَّمَا الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلاَ تَصُومُوا حَتَّی تَرَوْہُ ، وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّی تَرَوْہُ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَتِمُّوا الْعِدَّۃَ ثَلاَثِینَ فِطْرُکُمْ یَوْمَ تُفْطِرُونَ وَأَضْحَاکُمْ یَوْمَ تُضَحُّونَ ، وَکُلُّ عَرَفَۃَ مَوْقِفٌ ، وَکُلُّ مِنًی مَنْحَرٌ وَکُلُّ فِجَاجِ مَکَّۃَ مَنْحَرٌ۔

وَقَدْ رُوِّینَاہُ مِنْ حَدِیثِ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ مَرْفُوعًا وَتَابَعَہُ عَبْدُ الْوَارِثِ وَرُوحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ مَرْفُوعًا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگ اگر چاند دیکھنے میں غلطی کر بیٹھیں
(٨٢٠٧) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے نظر آنے پر روزہ رکھو ، پھر ایسے ہی آخر تک حدیث بیان کی اور اس کا تذکرہ نہیں کیا کہ مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے۔
(۸۲۰۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنَ قَزْعَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا أَزْہَرُ بْنُ جَمِیلٍ حَدَّثَنَا ابْنُ سَوَائٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ ۔ ثُمَّ ذَکَرَا مِثْلَہُ إِلَی آخِرِہِ وَلَمْ یَذْکُرَا (الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ)۔

وَرُوِیَ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২১১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگ اگر چاند دیکھنے میں غلطی کر بیٹھیں
(٨٢٠٨) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے روزے کا دن وہی ہے جس میں تم روزہ رکھتے ہو اور تمہاری قربانی کا دن وہ ہے جس میں قربانی کرتے ہو۔
(۸۲۰۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الشَّیْخِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ مَوْلَی بَنِی ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِیُّ عَنْ عُثْمَانَ الأَخْنَسِیِّ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((صَوْمُکُمْ یَوْمَ تَصُومُونَ وَأَضْحَاکُمْ یَوْمَ تُضَحُّونَ))۔ [حسن۔ اخرجہ الترمذی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২১২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگ اگر چاند دیکھنے میں غلطی کر بیٹھیں
(٨٢٠٩) مسروق فرماتے ہیں کہ یوم عرفہ کو میں سیدہ عائشہ کے پاس گیا تو انھوں نے فرمایا : مسروق کو ستو پلاؤ اور میٹھا زیادہ ڈالنا، فرماتے ہیں : میں نے کہا کہ انھوں نے مجھے اس دن کے روزے سے منع نہیں کیا ، مگر میں ڈرا کہ شاید آج یوم نحر ہو تو عائشہ (رض) نے فرمایا : نحر وہ ہے جس دن لوگ قربانی کرتے ہیں اور فطر وہ ہے جس دن لوگ افطار کرتے ہیں۔
(۸۲۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ النَّحْوِیُّ بِبْغَدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْحُنَیْنِ حَدَّثَنَا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَنِیفَۃَ یُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ دِینَارٍ قَالَ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ الأَقْمَرِ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ یَوْمَ عَرَفَۃَ فَقَالَتِ اسْقُوا مَسْرُوقًا سَوِیقًا وَأَکْثِرُوا حَلْوَاہُ۔ قَالَ فَقُلْتُ : إِنِّی لَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أَصُومَ الْیَوْمَ إِلاَّ أَنِّی خِفْتُ أَنْ یَکُونَ یَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : النَّحْرُ یَوْمَ یَنْحَرُ النَّاسُ ، وَالْفِطْرُ یَوْمَ یُفْطِرُ النَّاسُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২১৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان میں روزہ چھوڑنے والا دوسرے رمضان تک قضا کو مؤخر کرسکتا ہے
(٨٢١٠) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضاء ہوتی مگر میں ان کی قضا نہ کرپاتی مگر شعبان میں۔ یحییٰ نے کہا : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مصروفیت کی وجہ سے تھا۔
(۸۲۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: کَانَ یَکُونُ عَلَیَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِیعُ أَنْ أَقْضِیَہُ إِلاَّ فِی شَعْبَانَ قَالَ یَحْیَی الشُّغْلُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ ، وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক: