আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭১৭ টি
হাদীস নং: ৮১৭৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے سفر میں روزہ کو پسند کیا جب وہ روزوں پر قوت رکھتا ہو لیکن وہ رخصت کے قبول کرنے سے بےرغبتی کرنے والا نہ ہو
(٨١٧١) عثمان بن ابی العاص فرماتے ہیں : میں روزہ رکھتا ہوں، یہ مجھے پسند ہے۔
(۸۱۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا الْکُدَیْمِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ قَالَ الصَّوْمِ فِی السَّفَرِ : أَحَبُّ إِلَیَّ۔
وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَعْنَاہُ۔ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَرَی الْفِطْرَ أَحَبَّ إِلَیْہِ۔ [ضعیف]
وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَعْنَاہُ۔ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَرَی الْفِطْرَ أَحَبَّ إِلَیْہِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے سفر میں روزہ کو پسند کیا جب وہ روزوں پر قوت رکھتا ہو لیکن وہ رخصت کے قبول کرنے سے بےرغبتی کرنے والا نہ ہو
(٨١٧٢) نافع ابن عمر (رض) نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : میرے لیے رمضان کا روزہ رکھناسفر میں رکھنے سے افطار کرنا پسند ہے۔
(۸۱۷۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ: لأَنْ أُفْطِرَ فِی رَمَضَانَ فِی السَّفَرِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَصُومَ۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر مہینے کے کچھ روزے رکھتا ہو اور کچھ افطار کرتا ہو اور صبح سفر میں روزے کے ساتھ کرتا ہے، پھر افطار کردیتا ہے
(٨١٧٣) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان کے مہینے میں سفر پر نکلے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ رکھا حتیٰ کہ کدید مقام پر پہنچ گئے اور روزہ افطار کردیا اور دلیل آخری فعل سے لی جاتی ہے۔
(۸۱۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی شَہْرِ رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّی إِذَا بَلَغَ الْکَدِیدَ أَفْطَرَ ، وَإِنَّمَا یُؤْخَذُ بِالآخِرِ مِنْ فِعْلِہِ -ﷺ-۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر مہینے کے کچھ روزے رکھتا ہو اور کچھ افطار کرتا ہو اور صبح سفر میں روزے کے ساتھ کرتا ہے، پھر افطار کردیتا ہے
(٨١٧٤) عبداللہ بن وھب یونس سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن شہاب نے ایسی ہی حدیث بیان کی۔
ابن شہاب فرماتے ہیں کہ وہ نئی بات کی اتباع کرتے ہیں اور نیا کام ان کا اپنا ہے اس اعتبار سے وہ ناسخ محکم جانتے تھے۔
ابن شہاب فرماتے ہیں کہ وہ نئی بات کی اتباع کرتے ہیں اور نیا کام ان کا اپنا ہے اس اعتبار سے وہ ناسخ محکم جانتے تھے۔
(۸۱۷۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : وَکَانُوا یَتَّبِعُونَ الأَحْدَثَ فَالأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِہِ وَیَرَوْنَہُ النَّاسِخَ الْمُحْکَمَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر مہینے کے کچھ روزے رکھتا ہو اور کچھ افطار کرتا ہو اور صبح سفر میں روزے کے ساتھ کرتا ہے، پھر افطار کردیتا ہے
(٨١٧٥) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے سال رمضان میں نکلے حتیٰ کہ کراع الغمیم پہنچے۔ ہم نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ روزہ رکھا تو لوگوں کو روزے نے مشقت میں ڈا ل دیا اور وہ دیکھتے تھے کہ اب کیا حکم نازل ہوگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز کے بعد پانی کا پیالہ منگوایا اور اسے پیا اور لوگ دیکھ رہے تھے تو لوگوں نے بھی افطار کردیا مگر کچھ نے افطار نہ کیا تو یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ نافرمان ہیں دو مرتبہ کہا۔
(۸۱۷۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ
عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَرَجَ إِلَی مَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ فِی رَمَضَانَ وَصَامَ حَتَّی بَلَغَ کُرَاعَ الْغَمِیمِ یَعْنِی وَصُمْنَا مَعَہُ فَقِیلَ : إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَیْہِمُ الصِّیَامُ وَإِنَّمَا یَنْتَظِرُونَ مَا تَفْعَلُ۔ فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَائٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَشَرِبَ وَالنَّاسُ یَنْظُرُونَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ۔ وَصَامَ بَعْضٌ فَبَلَغَہُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا قَالَ : ((أُولَئِکَ الْعُصَاۃُ أُولَئِکَ الْعُصَاۃُ))۔ مَرَّتَیْنَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ الْہَادِ وَوُہَیْبٌ وَعَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ وَحُمَیْدُ بْنُ الأَسْوَدِ عَنْ جَعْفَرٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَرَجَ إِلَی مَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ فِی رَمَضَانَ وَصَامَ حَتَّی بَلَغَ کُرَاعَ الْغَمِیمِ یَعْنِی وَصُمْنَا مَعَہُ فَقِیلَ : إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَیْہِمُ الصِّیَامُ وَإِنَّمَا یَنْتَظِرُونَ مَا تَفْعَلُ۔ فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَائٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَشَرِبَ وَالنَّاسُ یَنْظُرُونَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ۔ وَصَامَ بَعْضٌ فَبَلَغَہُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا قَالَ : ((أُولَئِکَ الْعُصَاۃُ أُولَئِکَ الْعُصَاۃُ))۔ مَرَّتَیْنَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ الْہَادِ وَوُہَیْبٌ وَعَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ وَحُمَیْدُ بْنُ الأَسْوَدِ عَنْ جَعْفَرٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر مہینے کے کچھ روزے رکھتا ہو اور کچھ افطار کرتا ہو اور صبح سفر میں روزے کے ساتھ کرتا ہے، پھر افطار کردیتا ہے
(٨١٧٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھانا لایا گیا اور آپ مرظہران میں تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر وعمر (رض) کو کہا کہ تم کھاؤ۔ انھوں نے کہا : ہم روزے سے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے ساتھیوں کے لیے کوچ کرو اور اپنے ساتھیوں کے لیے کام کرو، قریب ہوجاؤ اور کھاؤ۔
(۸۱۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ بِبْغَدَادَ وَأَبُو الأَزْہَرِ : أَحْمَدُ بْنُ الأَزْہَرِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أُتِیَ بِطَعَامٍ وَہُوَ بِمَرِّ الظَّہْرَانِ فَقَالَ لأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ : ((کُلاَ))۔ فَقَالاَ : إِنَّا صَائِمَانِ فَقَالَ : ((ارْحَلُوا لِصَاحِبَیْکُمُ، اعْمَلُوا لِصَاحِبَیْکُمُ ادْنُوا فَکُلاَ))۔
تَفَرَّدَ بِہِ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِیُّ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ النسائی]
تَفَرَّدَ بِہِ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِیُّ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ النسائی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر مہینے کے کچھ روزے رکھتا ہو اور کچھ افطار کرتا ہو اور صبح سفر میں روزے کے ساتھ کرتا ہے، پھر افطار کردیتا ہے
(٨١٧٧) ابوالبختری فرماتے ہیں کہ عبیدہ نے کہا : جب آدمی سفر کرے اور رمضان کا روزہ بھی رکھا ہو تو باقی بھی پورا کرلے اور یہ آیت تلاوت کی : { فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ } جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے۔
ابو البختری ابن عباس کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ ہم سے زیادہ سمجھ دار ہیں، سو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطارکرے۔
ابو البختری ابن عباس کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ ہم سے زیادہ سمجھ دار ہیں، سو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطارکرے۔
(۸۱۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ قَالَ عُبَیْدَۃُ : إِذَا سَافَرَ الرَّجُلُ وَقَدْ صَامَ رَمَضَانَ شَیْئًا فَلْیَصُمْ مَا بَقِیَ قَالَ : وَقَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ {فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} قَالَ وَقَالَ أَبُو الْبَخْتَرِیِّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَکَانَ أَفْقَہَ مِنَّا : مَنْ شَائَ صَامَ وَمَنْ شَائَ أَفْطَرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر روزہ افطار ر سکتا ہے اگرچہ طلوع فجر کے بعدنکلے
(٨١٧٨) جعفر بن جبیر فرماتے ہیں : میں ابی بصرہ غفاری کے ساتھ تھا، جو کشتی میں رمضان میں فسطاط کے سفر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا تو انھوں نے لوٹایا، پھر کھانا قریب کرلیا ۔ جعفر نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ وہ گھر سے ابھی دور نہیں گئے تھے کہ انھوں نے سفر کا کھانا منگوالیا اور کہا کہ تو قریب ہو۔ وہ کہتے ہیں : میں نے کہا : کیا تو گھروں کو نہیں دیکھ رہا تو ابو بصرہ نے کہا : کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے اعراض کرتا ہے ؟ جعفر نے اپنی حدیث میں بیان کیا ، پھر انھوں نے کھالیا۔
(۸۱۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ
(ح) وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی الْمَعْنَی عَنْ سَعِیدٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی أَیُّوبَ زَادَ جَعْفَرٌ وَاللَّیْثُ قَالَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ : أَنَّ کُلَیْبَ بْنَ ذُہْلٍ الْحَضْرَمِیَّ أَخْبَرَہُ عَنْ عُبَیْدٍ قَالَ جَعْفَرٌ : ابْنِ جَبْرٍ قَالَ : کُنْتُ مَعَ أَبِی بَصْرَۃَ الْغِفَارِیِّ صَاحِبِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی سَفِینَۃٍ مِنَ الْفُسْطَاطِ فِی رَمَضَانَ فَدَفَعَ ، ثُمَّ قَرَّبَ غَدَائَ ہُ قَالَ جَعْفَرٌ فِی حَدِیثِہِ فَلَمْ یُجَاوِزِ الْبُیُوتَ حَتَّی دَعَا بِالسُّفْرَۃِ قَالَ : اقْتَرِبْ۔ قَالَ قُلْتُ : أَلَیْسَ تَرَی الْبُیُوتَ؟ قَالَ أَبُو بَصْرَۃَ : أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ جَعْفَرٌ فِی حَدِیثِہِ فَأَکَلَ۔
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداؤد]
(ح) وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی الْمَعْنَی عَنْ سَعِیدٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی أَیُّوبَ زَادَ جَعْفَرٌ وَاللَّیْثُ قَالَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ : أَنَّ کُلَیْبَ بْنَ ذُہْلٍ الْحَضْرَمِیَّ أَخْبَرَہُ عَنْ عُبَیْدٍ قَالَ جَعْفَرٌ : ابْنِ جَبْرٍ قَالَ : کُنْتُ مَعَ أَبِی بَصْرَۃَ الْغِفَارِیِّ صَاحِبِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی سَفِینَۃٍ مِنَ الْفُسْطَاطِ فِی رَمَضَانَ فَدَفَعَ ، ثُمَّ قَرَّبَ غَدَائَ ہُ قَالَ جَعْفَرٌ فِی حَدِیثِہِ فَلَمْ یُجَاوِزِ الْبُیُوتَ حَتَّی دَعَا بِالسُّفْرَۃِ قَالَ : اقْتَرِبْ۔ قَالَ قُلْتُ : أَلَیْسَ تَرَی الْبُیُوتَ؟ قَالَ أَبُو بَصْرَۃَ : أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ جَعْفَرٌ فِی حَدِیثِہِ فَأَکَلَ۔
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر روزہ افطار ر سکتا ہے اگرچہ طلوع فجر کے بعدنکلے
(٨١٧٩) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے ابوموسیٰ نے کہا : کیا میں تجھے خبر نہ دوں کہ تو روزے کی حالت میں نکلے اور روزے کی حالت میں داخل ہوا، وہ کہتے ہیں : میں نے کہا : کیوں نہیں تو اس نے کہا : جب تو نکلے تو مفطر کی حالت میں نکل اور جب تو داخل ہوتومفطر کی حالت میں داخل ہو۔
(۸۱۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ لِی أَبُو مُوسَی : أَلَمْ أُنَبَّأْ أَوْ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ تَخْرُجُ صَائِمًا وَتَدْخُلُ صَائِمًا؟ قَالَ قُلْتُ : بَلَی قَالَ : فَإِذَا خَرَجْتَ فَاخْرُجْ مُفْطِرًا ، وَإِذَا دَخَلْتَ فَادْخُلْ مُفْطِرًا ۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر روزہ افطار ر سکتا ہے اگرچہ طلوع فجر کے بعدنکلے
(٨١٨٠) محمد بن کعب فرماتے ہیں کہ میں رمضان میں انس بن مالک کے پاس آیا، وہ سفر انھوں کا ارادہ رکھتے تھے اور ان کی سواری تیار کی جاچکی تھی اور سفر کالباس بھی پہن لیا تھا اور سورج کے غروب کا وقت قریب تھا تو انھوں نے کھانامنگوایا اور اس میں سے کھایا پھر سوار ہوگئے تو میں نے ان سے کہا : یہ سنت ہے تو انھوں نے کہا : جی ہاں۔
(۸۱۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِی زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ قَالَ : أَتَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ فِی رَمَضَانَ وَ ہُوَ یُرِیدُ السَّفَرَ وَقَدْ رُحِلَتْ دَابَّتُہُ وَلَبِسَ ثِیَابَ السَّفَرِ وَقَدْ تَقَارَبَ غُرُوبُ الشَّمْسِ فَدَعَا بِطَعَامٍ فَأَکَلَ مِنْہُ ، ثُمَّ رَکِبَ فَقُلْتُ لَہُ : سُنَّۃٌ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر روزہ افطار ر سکتا ہے اگرچہ طلوع فجر کے بعدنکلے
(٨١٨١) ابو اسحق فرماتے ہیں کہ عمرو بن شرحبیل (رض) سفر کیا کرتے تھے اس حال میں کہ وہ روزے سے ہوتے ، پھر اسی دن افطار کرلیتے۔
(۸۱۸۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ : أَنَّہُ کَانَ یُسَافِرُ وَہُوَ صَائِمٌ فَیُفْطِرُ مِنْ یَوْمِہِ۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا حکم جس نے اکیلے چاند دیکھا اور اپنی رؤیت پر عمل کیا
(٨١٨٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاند کا تذکرہ کیا اور فرمایا : جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھو تو افطار کرو ۔ اگر تم پر بادل چھاجائیں تو تیس دن پورے کرو۔
(۸۱۸۲) اسْتِدَّلاَلاً بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ وَابْنُ نُمَیْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : ذَکَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْہِلاَلَ فَقَالَ : ((إِذَا رَأَیْتُمُوہُ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَیْتُمُوہُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ أُغْمِیَ عَلَیْکُمْ فَعُدُّوا ثَلاَثِینَ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ، وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَقَدْ مَضَی۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ، وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَقَدْ مَضَی۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا حکم جس نے اکیلے چاند دیکھا اور اپنی رؤیت پر عمل کیا
(٨١٨٣) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے نظر آنے پر روزہ رکھو اور اس کے نظر آنے پر افطار کرو۔ اگر تم پر بادل چھاجائیں تو تیس دن کے روزے رکھو۔[صحیح۔ انظر قبلہ ]
(۸۱۸۳) وَحَدَّثَنَا الشَّیْخُ الإِمَامُ أَبُو الطِّیبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ إِمْلاَئً فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَصُومُوا ثَلاَثِینَ))۔
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَصُومُوا ثَلاَثِینَ))۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا حکم جس نے اکیلے چاند دیکھا اور اپنی رؤیت پر عمل کیا
(٨١٨٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ ہم چاند دیکھ کر روزہ رکھیں اور چاند دیکھ کر افطار کریں۔ اگر ہم پر بادل چھاجائیں تو تیس دن پورے کریں۔
(۸۱۸۴) أَخْبَرَنَا عَلَیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی حَرْمَلَۃَ أَخْبَرَنِی کُرَیْبٌ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ نَصُومَ لِرُؤْیَۃِ الْہِلاَلِ وَنُفْطِرَ لِرُؤْیَتِہِ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْنَا أَنْ نُکْمِلَ ثَلاَثِینَ۔
[صحیح۔ اخرجہ مسلم]
[صحیح۔ اخرجہ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا بیان جس نے چاند کی رؤیت میں صرف دو عادل لوگوں کی گواہی قبول کی
(٨١٨٥) حسین بن حارث جدلی فرماتے ہیں کہ امیر م کہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے عہد لیا کہ ہم اسے دیکھ کر قربانی کریں۔ اگر ہم اسے نہ دیکھیں اور دو عادل آدمی گواہی دے دیں تو ان دو کی گواہی پر ہم قربانی کریں گے تو میں نے امیرِ مکہ حسین بن حارث سے پوچھا تو وہ کہنے لگے : میں نہیں جانتا ۔ پھر وہ اس کے بعد مجھے ملے تو انھوں نے کہا : حارث بن حاطب محمد بن حاطب کا بھائی ہے۔ پھر امیر نے کہا : تم میں وہ شخص موجود ہے جو مجھ سے زیادہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات کو جانتا ہے اور اپنے ہاتھ سے اس آدمی کی طرف اشارہ کیا۔ حسین کہتے ہیں : میں نے اس شیخ سے کہا جو میرے پہلو میں تھا : یہ کون ہے جس کی طرف امیر نے اشارہ کیا ؟ اس نے کہا : یہ عبداللہ بن عمر (رض) ہے اور اس نے سچ کہا ۔ واقعۃً وہ اس سے زیادہ علم والے ہیں تو انھوں نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہی حکم دیا ہے۔
(۸۱۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ أَبُو یَحْیَی الْبَزْازُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ یَعْنِی ابْنَ الْعَوَّامِ عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ الْحَارِثِ الْجَدَلِیُّ : جُدَیْلَۃُ قَیْسٍ أَنَّ أَمِیرَ مَکَّۃَ خَطَبَ ، ثُمَّ قَالَ : عَہِدَ إِلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ نَنْسُکَ لِلرُّؤْیَۃِ ، فَإِنْ لَمْ نَرَہُ وَشَہِدَ شَاہِدَا عَدْلٍ نَسَکْنَا بِشَہَادَتِہِمَا فَسَأَلْتُ الْحُسَیْنَ بْنَ الْحَارِثِ مَنْ أَمِیرُ مَکَّۃَ؟ قَالَ : لاَ أَدْرِی ، ثُمَّ لَقِیَنِی بَعْدَ ذَلِکَ فَقَالَ : ہُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ أَخُو مَحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، ثُمَّ قَالَ الأَمِیرُ : إِنَّ فِیکُمْ مَنْ ہُوَ أَعْلَمُ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ مِنِّی وَشَہِدَ ہَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَوْمَی بِیَدِہِ إِلَی رَجُلٍ قَالَ الْحُسَیْنُ فَقُلْتُ لِشَیْخٍ إِلَی جَنْبِی : مَنْ ہَذَا الَّذِی أَوْمَی إِلَیْہِ الأَمِیرُ؟ قَالَ : ہَذَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ۔ وَصَدَقَ کَانَ أَعْلَمَ بِاللَّہِ مِنْہُ فَقَالَ : بِذَلِکَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ [حسن۔ اخرجہ ابوداؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا بیان جس نے چاند کی رؤیت میں صرف دو عادل لوگوں کی گواہی قبول کی
(٨١٨٦) وھب بن حذافہ بن جمع مہاجر ین حبشہ میں تھے ۔ علی بن عمر نے کہا : یہ سند متصل صحیح ہے۔
(۸۱۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ قَالَ لنا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ : سَأَلْتُ إِبْرَاہِیمَ الْحَرْبِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ حَدَّثَنَا بِہِ سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، ثُمَّ قَالَ إِبْرَاہِیمُ ہُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَبِیبِ بْنِ وَہْبِ بْنِ حُذَافَۃَ بْنِ جُمَحَ کَانَ مِنْ مُہَاجِرَۃِ الْحَبَشَۃِ۔
قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ : ہَذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ صَحِیحٌ۔ [صحیح۔ اخرجہ دارقطنی]
قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ : ہَذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ صَحِیحٌ۔ [صحیح۔ اخرجہ دارقطنی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৯০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا بیان جس نے چاند کی رؤیت میں صرف دو عادل لوگوں کی گواہی قبول کی
(٨١٨٧) ربعی بن حراش کسی صحابی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگوں نے تیسویں دن روزے کی حالت میں صبح کی۔
(۸۱۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : أَصْبَحَ النَّاسُ صِیَامًا لِثَلاَثِینَ۔
[صحیح۔ اخرجہ الحکم]
[صحیح۔ اخرجہ الحکم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৯১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا بیان جس نے چاند کی رؤیت میں صرف دو عادل لوگوں کی گواہی قبول کی
(٨١٨٨) ربعی بن حراش کسی صحابی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگوں نے تیسویں دن روزے کی حالت میں صبح کی تو دودیہاتی آئے، انھوں نے گواہی دی کہ ہم نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ افطار کریں۔
(۸۱۸۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِہِ قَالَ : أَصْبَحَ النَّاسُ لِتَمَامِ ثَلاَثِینَ یَوْمًا فَقَدِمَ أَعْرَابِیَّانِ فَشَہِدَا أَنَّہُمَا أَہَلاَّہُ بِالأَمْسِ عَشِیَّۃً فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- النَّاسَ أَنْ یُفْطِرُوا۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن الجارود]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن الجارود]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৯২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا بیان جس نے چاند کی رؤیت میں صرف دو عادل لوگوں کی گواہی قبول کی
(٨١٨٩) ربعی بن حراش کسی صحابی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگوں نے رمضان کے آخری دن میں اختلاف کیا تو دو آدمی آئے اور انھوں نے گواہی دی کہ انھوں نے کل شام چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ افطار کرلیں۔
(۸۱۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : اخْتَلَفَ النَّاسُ فِی آخِرِ یَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ فَقَدِمَ أَعْرَابِیَّانِ فَشَہِدَا عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- بِاللَّہِ لأَہَلاَّ الْہِلاَلَ بِالأَمْسِ عَشِیَّۃً۔ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- النَّاسَ أَنْ یُفْطِرُوا۔ [صحیح۔ انظرقبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৯৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کا بیان جس نے چاند کی رؤیت میں صرف دو عادل لوگوں کی گواہی قبول کی
(٨١٩٠) ابو مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ تیس کی صبح لوگوں نے روزے کی حالت میں کی ۔ پھر دو آدمی آئے اور انھوں نے گواہی دی کہ انھوں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو افطار کرنے کا حکم دے دیا۔
(۸۱۹۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَیْرٍ الْخَلَدِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الطَّالْقَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ قَالَ : أَصْبَحَ النَّاسُ صِیَامًا لِتَمَامِ ثَلاَثِینَ فَجَائَ رَجُلاَنِ فَشَہِدَا أَنَّہُمَا رَأَیَا الْہِلاَلَ بِالأَمْسِ۔ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- النَّاسَ فَأَفْطَرُوا۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
তাহকীক: