আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

رضاعت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৩ টি

হাদীস নং: ১৫৬৯১
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت رضاعت میں عورت سے جماع کرنے کا بیان
(١٥٦٨٥) عامر بن سعد بن ابو وقاص سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید نے اس کے والدسعد بن ابی وقاص کو خبر دی اور کہا کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں۔ آپ نے اس کو کہا : یہ کس لیے کرتا ہے ؟ اس نے کہا : اپنی اولاد پر شفقت کرتے ہوئے۔ آپ نے فرمایا : اگر اسی طرح ہوتا تو یہ فارس اور روم کو نقصان دیتی ، یعنی اس نے فارس اور روم کو نقصان نہیں دیا۔

اس کو مسلم نے ابن نمیر اور اس کے علاوہ نے مقری سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
(۱۵۶۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ الْفَقِیہُ الْفَامِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الصَّوَّافُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ أَخْبَرَنِی عَیَّاشُ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِی النَّضْرِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ أَنَّ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ أَخْبَرَ وَالِدَہُ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَّاصٍ فَقَالَ لَہُ : إِنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ إِنِّی أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِی۔ فَقَالَ : لِمَ؟ ۔ فَقَالَ : شَفَقًا عَلَی وَلَدِہَا۔ قَالَ : إِنْ کَانَ کَذَلِکَ فَلاَ مَا ضَرَّ ذَلِکَ فَارِسَ وَالرُّومَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ نُمَیْرٍ وَغَیْرِہِ عَنِ الْمُقْرِئِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৬৯২
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت رضاعت میں عورت سے جماع کرنے کا بیان
(١٥٦٨٦) عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفرہ کو ناپسند کرتے تھے، یعنی خلوق کو (مراد ایسی خوشبو جس میں زرد رنگ ہو) اور سفید بالوں کے اکھاڑنے کو ناپسند فرماتے اور شلوار یا تہبند یا چادر وغیرہ کے لٹکانے کو ناپسند فرماتے اور ایڑھیوں کے نشانات کا اور زینت خوبصورتی کو ظاہر کرنے کو اور محرم کے علاوہ بچوں کے فساد کو ناپسند فرماتے تھے۔ یوسف کہتے ہیں : ہمیں علی بن عبداللہ نے اسی اسناد کے ساتھ حدیث بیان کی اور اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔
(۱۵۶۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ الرُّکَیْنَ قَالَ أَنْبَأَنِی الْقَاسِمُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ عَمِّہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَکْرَہُ الصُّفْرَۃَ یَعْنِی الْخَلُوقَ وَتَغْیِیرَ الشَّیْبِ یَعْنِی نَتْفَ الشَّیْبِ وَجَرَّ الإِزَارِ وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّہَبِ وَالضَّرْبَ بِالْکِعَابِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّینَۃِ وَإِفْسَادَ الصَّبِیِّ غَیْرَ مُحَرِّمِہِ۔

قَالَ یُوسُفُ وَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৬৯৩
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دودھ پیتے بچے کو دبانا منع ہے
(١٥٦٨٧) ام قیس بنت محصن (رض) فرماتی ہیں : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنے بچے کے ساتھ داخل ہوئی اور میں نے عذرۃ بیماری سے اس کے کے گلے کو دبایا ہواتھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس دبانے سے عذرہ بیماری کا علاج کیوں کرتے ہو۔ تم عودہندی استعمال کرو۔ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہیعذرہ سے سعوط کا طریقہ اختیار کرو اور ذات الحنب سے لدود کا طریقہ اختیار کرو۔

اس کو بخاری نے علی بن عبداللہ اور اس کے علاوہ سے صحیح میں روایت کیا ہے اور مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ اور اس کے علاوہ ان تمام نے سفیان بن عیینہ سے صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو یونس بن یزید نے ابن شہاب زہری سے روایت کیا ہے اور اس میں زیادہ کیا ہے یعنی کست۔ اور بعض نے کہا قسط۔ کستوری کے الفاظ ہیں۔
(۱۵۶۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أُمِّ قَیْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِابْنٍ لِی وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَیْہِ مِنَ الْعُذْرَۃِ فَقَالَ: عَلَی مَا تَدْغَرْنَ أَوْلاَدَکُنَّ بِہَذَا الْعِلاَقِ عَلَیْکُنَّ بِہَذَا الْعُودِ الْہِنْدِیِّ فَإِنَّ فِیہِ سَبْعَۃَ أَشْفِیَۃٍ یُسْعَطُ بِہِ مِنَ الْعُذْرَۃِ وَیُلَدُّ بِہِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ۔

وَرَوَاہُ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ وَزَادَ فِیہِ یَعْنِی الْکُسْتَ وَقَالَ بَعْضُہُمُ الْقُسْطَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক: