আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
رضاعت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৩ টি
হাদীস নং: ১৫৬৫১
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رضاعت کا قلیل ہو یا زیادہ یہ حرمت کو ثابت کرتا ہے
(١٥٦٤٥) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ گود میں حرمت کو ثابت کردیتی ہے۔ ابن شہاب کہتے ہیں : دو مکمل سالوں کے بعد رضاعت نہیں ہے۔ اسی طرح اس بارے میں ابن عباس سے روایت ہے۔
(۱۵۶۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِیٍّ الْمُؤَذِّنُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ الأَیْلِیِّ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یَقُولُ : قَلِیلُ الرَّضَاعِ وَکَثِیرُہُ یُحَرِّمُ فِی الْمَہْدِ۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ یَقُولُ : لاَ رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ
کَذَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [صحیح]
کَذَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৫২
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رضاعت کا قلیل ہو یا زیادہ یہ حرمت کو ثابت کرتا ہے
(١٥٦٤٦) ہمیں ابراہیم بن عقبہ نے حدیث بیان کی کہ میں نے عروہ بن زبیر (رض) سے ایک بارچوسنے اور دو بارچوسنے کے بارے میں سوال کیا تو فرماتے ہیں کہ عائشہ (رض) فرماتی تھیں : ایک بارچوسنا اور دو بارچوسناحرمت کو ثابت نہیں کرتا مگر دس گھونٹ یا اس سے زیادہ۔
فرماتے ہیں : میں سعید بن مسیب کے پاس آیا، میں نے اس سے ایک گھونٹ یا دو گھونٹوں کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا : میں اس کے بارے میں نہیں کہتا مگر اسی طرح جس طرح ابن زبیر اور ابن عباس (رض) نے کہا ہے۔ فرماتے ہیں : میں نے کہا : کیسے ؟ وہ کہتے ہیں : فرمایا : وہ دونوں کہتے ہیں : ایک بارچوسنا اور دو چوسنے حرام نہیں کرتے اور نہ ہی دس گھو نٹوں سے کم حرام کرتی ہیں اور اس کو عبدالعزیز بن محمد نے ابراہیم بن عقبہ سے روایت کیا ہے اور اس کو زہری نے عروہ سے روایت کیا ہے، وہ عائشہ (رض) کے مذہب میں زیادہ صحیح ہے اور عروہ ابن عباس سے اس کے نظریے میں زیادہ صحیح ہے اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔
فرماتے ہیں : میں سعید بن مسیب کے پاس آیا، میں نے اس سے ایک گھونٹ یا دو گھونٹوں کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا : میں اس کے بارے میں نہیں کہتا مگر اسی طرح جس طرح ابن زبیر اور ابن عباس (رض) نے کہا ہے۔ فرماتے ہیں : میں نے کہا : کیسے ؟ وہ کہتے ہیں : فرمایا : وہ دونوں کہتے ہیں : ایک بارچوسنا اور دو چوسنے حرام نہیں کرتے اور نہ ہی دس گھو نٹوں سے کم حرام کرتی ہیں اور اس کو عبدالعزیز بن محمد نے ابراہیم بن عقبہ سے روایت کیا ہے اور اس کو زہری نے عروہ سے روایت کیا ہے، وہ عائشہ (رض) کے مذہب میں زیادہ صحیح ہے اور عروہ ابن عباس سے اس کے نظریے میں زیادہ صحیح ہے اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔
(۱۵۶۴۶) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عُقْبَۃَ : أَنَّہُ سَأَلَ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ عَنِ الْمَصَّۃِ وَالْمَصَّتَیْنِ قَالَ : کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّۃَ وَلاَ الْمَصَّتَیْنِ وَلاَ تُحَرِّمُ إِلاَّ عَشْرًا فَصَاعِدًا۔
قَالَ فَأَتَیْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ فَسَأَلْتُہُ عَنِ الرَّضْعَۃِ وَالرَّضْعَتَیْنِ فَقَالَ أَمَا إِنِّی لاَ أَقُولُ فِیہَا کَمَا قَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ قَالَ قُلْتُ : کَیْفَ کَانَا یَقُولاَنِ؟ قَالَ کَانَا یَقُولاَنِ : لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّۃُ وَلاَ الْمَصَّتَانِ وَلاَ تُحَرِّمُ دُونَ عَشْرِ رَضَعَاتٍ فَصَاعِدًا۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُالْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ۔
وَرِوَایَۃُ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ أَصَحُّ فِی مَذْہَبِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَرِوَایَۃُ عُرْوَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی مَذْہَبِہِ أَصَحُّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
قَالَ فَأَتَیْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ فَسَأَلْتُہُ عَنِ الرَّضْعَۃِ وَالرَّضْعَتَیْنِ فَقَالَ أَمَا إِنِّی لاَ أَقُولُ فِیہَا کَمَا قَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ قَالَ قُلْتُ : کَیْفَ کَانَا یَقُولاَنِ؟ قَالَ کَانَا یَقُولاَنِ : لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّۃُ وَلاَ الْمَصَّتَانِ وَلاَ تُحَرِّمُ دُونَ عَشْرِ رَضَعَاتٍ فَصَاعِدًا۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُالْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ۔
وَرِوَایَۃُ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ أَصَحُّ فِی مَذْہَبِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَرِوَایَۃُ عُرْوَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی مَذْہَبِہِ أَصَحُّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৫৩
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٤٧) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ سہلہ بنت سہل بن عمرو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آئیں، اس نے کہا : میں ابو حذیفہ کے چہرے میں دیکھتی ہوں سالم کے مجھ پر داخل ہونے کی وجہ سے۔ آپ نے فرمایا : تو اس کو دودھ پلا دے۔ اس نے کہا : وہ بڑا آدمی ہے۔ آپ ہنس پڑے اور فرمایا : کیا میں نہیں جانتا، وہ بڑا آدمی ہے۔ فرماتی ہیں : وہ بعد میں بھی آئی اور وہ فرماتی ہیں : میں نے ابو حذیفہ کے چہرے میں اس کے بعد نہیں دیکھا کہ وہ اس کو ناپسند کرتے ہوں۔ اس کو مسلم نے عمروناقد اور ابن ابی عمر سے ابن عیینہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
فقہاء کا خیال ہے بیشک یہاں رضاعت سے مقصود ہے۔ سہلہ بنت سہیل نے اپنا دودھ ایک برتن میں نکال کر اس کو سالم کی طرف بھیجا تاکہ وہ اس کو پی لے اور اس کو بار بار بھیجا : یعنی پانچ بار اور اس کے ساتھ وہ اس پر حرام ہوئی۔
فقہاء کا خیال ہے بیشک یہاں رضاعت سے مقصود ہے۔ سہلہ بنت سہیل نے اپنا دودھ ایک برتن میں نکال کر اس کو سالم کی طرف بھیجا تاکہ وہ اس کو پی لے اور اس کو بار بار بھیجا : یعنی پانچ بار اور اس کے ساتھ وہ اس پر حرام ہوئی۔
(۱۵۶۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : جَائَ تْ سَہْلَۃُ بِنْتُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ : إِنِّی أَرَی فِی وَجْہِ أَبِی حُذَیْفَۃَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَیَّ۔ قَالَ : أَرْضِعِیہِ ۔ قَالَتْ : وَہُوَ رَجُلٌ کَبِیرٌ فَضَحِکَ وَقَالَ : أَلَسْتُ أَعْلَمُ أَنَّہُ رَجُلٌ کَبِیرٌ ۔ قَالَتْ : فَأَتَتْہُ بَعْدُ وَقَالَتْ مَا رَأَیْتُ فِی وَجْہِ أَبِی حُذَیْفَۃَ بَعْدُ شَیْئًا أَکْرَہُہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَابْنِ أَبِی عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔
ویری الفقہاء أن المقصود بالرضاعۃ ہنا أن تفرغ سَہْلَۃُ بِنْتُ سُہَیْلٍ لبنہا فی إناء وترسلہ لسَالِمٍ لیشربہ وتکرر ذلک خمس مرات وبذلک تحرم علیہ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
ویری الفقہاء أن المقصود بالرضاعۃ ہنا أن تفرغ سَہْلَۃُ بِنْتُ سُہَیْلٍ لبنہا فی إناء وترسلہ لسَالِمٍ لیشربہ وتکرر ذلک خمس مرات وبذلک تحرم علیہ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৫৪
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٤٨) ابن شہاب سے روایت ہے کہ مجھے عروہ بن زبیر نے عائشہ (رض) سے خبر دی کہ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیہ بن عبدالشمس (رض) ان لوگوں میں سے تھے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بدر میں اس نے سالم کو اپنا بیٹا بنایا اور اس نے اس کے بھائی کی بیٹی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے شادی کرلی اور وہ انصار کی ایک عورت کا غلام تھا۔ جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید بن حارثہ کو منہ بولا بیٹا بنایا اور جاہلیت میں تھا، جس شخص کو کوئی اپنا منہ بولا بیٹا بناتا۔ اس کو لوگ اس کا بیٹا کہتے اور وہ اس کی وراثت کا وارث بھی بنتاحتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی : { اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَآئَ ھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْکُمْ } [الاحزاب ٥] ” تم ان کو ان کے باپ کے نام سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف والی بات ہے۔ اگر تم ان کے باپوں کو نہیں جانتے تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔ تم ان کو ان کے باپوں کی طرف لوٹا دو ، جو اس کے باپ کو نہ جانتا ہو وہ اس کا دوست ہے یا اس کا دینی بھائی ہے۔ سہلہ بنت سہیل بن عمرو قریشی پھر عامری جو ابو حذیفہ (رض) کی بیوی ہے۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم سالم کو لڑکا خیال کرتے ہیں اور وہ میرے اور ابو حذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہے اور وہ مجھے زائد دیکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں جو نازل کیا ہے وہ آپ جانتے ہیں۔ اے اللہ کے رسول ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس کو دودھ پلا دے۔ اس نے اس کو پانچ بار دودھ پلایا، وہ اس کے رضاعی بیٹے کی جگہ ہوگیا۔ اسی کے ساتھ عائشہ (رض) اپنے بھائی کی بیٹیوں کو حکم دیتیں کہ وہ دودھ پلائیں جس کو عائشہ (رض) پسند کریں کہ وہ اس پر داخل ہو اور وہ اس کو دیکھے پانچ بار دودھ پلائیں۔ وہ اس پر داخل ہوتا اور ام سلمہ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام بیویوں نے انکار کیا ہے کہ ان پر کوئی لوگوں میں سے داخل نہیں ہوتا تھا اس رضاعت کے ساتھ یہاں تک کہ وہ گود میں دودھ پلائیں اور انھوں نے عائشہ (رض) سے کہا : اللہ کی قسم ! ہم اس کو سمجھتی ہیں یہ رخصت اس کو سالم کے لیے خاص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرے لوگوں کے علاوہ دی ہے۔
(۱۵۶۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مِلْحَانَ وَہُوَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: أَنَّ أَبَا حُذَیْفَۃَ بْنَ عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- تَبَنَّی سَالِمًا وَأَنْکَحَہُ ابْنَۃَ أَخِیہِ ہِنْدَ بِنْتَ الْوَلِیدِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ وَہُوَ مَوْلًی لاِمْرَأَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ کَمَا تَبَنَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ وَکَانَ مَنْ تَبَنَّی رَجُلاً فِی الْجَاہِلِیَّۃِ دَعَاہُ النَّاسُ ابْنَہُ وَوَرِثَ مِنْ مِیرَاثِہِ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّہُ فِی ذَلِکَ { ادْعُوہُمْ لآبَائِہِمْ ہُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّہِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَائَ ہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِی الدِّینِ وَمَوَالِیکُمْ } فَرُدُّوا إِلَی آبَائِہِمْ فَمَنْ لَمْ یُعْلَمْ أَبُوہُ کَانَ مَوْلًی وَأَخًا فِی الدِّینِ فَجَائَ تْ سَہْلَۃُ بِنْتُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِیُّ ثُمَّ الْعَامِرِیُّ وَہِیَ امْرَأَۃُ أَبِی حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا کُنَّا نَرَی سَالِمًا وَلَدًا وَکَانَ یَأْوِی مَعِی وَمَعَ أَبِی حُذَیْفَۃَ فِی بَیْتٍ وَاحِدٍ وَیَرَانِی فَضْلاً وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِمْ مَا عَلِمْتَ فَکَیْفَ تَرَی فِیہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَرْضِعِیہِ۔ فَأَرْضَعَتْہُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَکَانَ بِمَنْزِلَۃِ وَلَدِہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ فَبِذَلِکَ کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَأْمُرُ بَنَاتِ أَخِیہَا أَنْ یُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَۃُ أَنْ یَرَاہَا وَیَدْخُلَ عَلَیْہَا خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَیَدْخُلُ عَلَیْہَا وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنْ یُدْخِلْنَ عَلَیْہِنَّ مِنَ النَّاسِ بِتِلْکَ الرَّضَاعَۃِ حَتَّی یُرْضَعْنَ فِی الْمَہْدِ وَقُلْنَ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُا: وَاللَّہِ مَا نَرَی لَعَلَّہَا رُخْصَۃٌ لِسَالِمٍ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- دُونَ النَّاسِ۔ [صحیح]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مِلْحَانَ وَہُوَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: أَنَّ أَبَا حُذَیْفَۃَ بْنَ عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- تَبَنَّی سَالِمًا وَأَنْکَحَہُ ابْنَۃَ أَخِیہِ ہِنْدَ بِنْتَ الْوَلِیدِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ وَہُوَ مَوْلًی لاِمْرَأَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ کَمَا تَبَنَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ وَکَانَ مَنْ تَبَنَّی رَجُلاً فِی الْجَاہِلِیَّۃِ دَعَاہُ النَّاسُ ابْنَہُ وَوَرِثَ مِنْ مِیرَاثِہِ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّہُ فِی ذَلِکَ { ادْعُوہُمْ لآبَائِہِمْ ہُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّہِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَائَ ہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِی الدِّینِ وَمَوَالِیکُمْ } فَرُدُّوا إِلَی آبَائِہِمْ فَمَنْ لَمْ یُعْلَمْ أَبُوہُ کَانَ مَوْلًی وَأَخًا فِی الدِّینِ فَجَائَ تْ سَہْلَۃُ بِنْتُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِیُّ ثُمَّ الْعَامِرِیُّ وَہِیَ امْرَأَۃُ أَبِی حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا کُنَّا نَرَی سَالِمًا وَلَدًا وَکَانَ یَأْوِی مَعِی وَمَعَ أَبِی حُذَیْفَۃَ فِی بَیْتٍ وَاحِدٍ وَیَرَانِی فَضْلاً وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِمْ مَا عَلِمْتَ فَکَیْفَ تَرَی فِیہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَرْضِعِیہِ۔ فَأَرْضَعَتْہُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَکَانَ بِمَنْزِلَۃِ وَلَدِہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ فَبِذَلِکَ کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَأْمُرُ بَنَاتِ أَخِیہَا أَنْ یُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَۃُ أَنْ یَرَاہَا وَیَدْخُلَ عَلَیْہَا خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَیَدْخُلُ عَلَیْہَا وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنْ یُدْخِلْنَ عَلَیْہِنَّ مِنَ النَّاسِ بِتِلْکَ الرَّضَاعَۃِ حَتَّی یُرْضَعْنَ فِی الْمَہْدِ وَقُلْنَ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُا: وَاللَّہِ مَا نَرَی لَعَلَّہَا رُخْصَۃٌ لِسَالِمٍ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- دُونَ النَّاسِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৫৫
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٤٩) زہری سے روایت ہے کہ مجھے عروہ نے عائشہ (رض) سے خبر دی، اس نے اسی کی طرح کی لمبی حدیث بیان کی مگر اس نے کہا : اس کے ساتھ عائشہ (رض) اپنی بہنوں کی بیٹیوں اور اپنے بھائیوں کی بیٹیوں کو حکم دیتی تھیں اور عروہ نے کہا : ام سلمہ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باقی تمام بیویوں نے انکار کیا ہے کہ اس رضاعت کی وجہ سے لوگوں میں سے کوئی ایک شخص بھی ان پر داخل ہو اور باقی اسی طرح ہے۔
اور اس کو بخاری نے یحییٰ بن بکیر اور ابو الیمان سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
اور اس کو بخاری نے یحییٰ بن بکیر اور ابو الیمان سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
(۱۵۶۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَبِذَلِکَ کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَأْمُرُ بَنَاتِ إِخْوَتِہِا وَبَنَاتِ أَخَوَاتِہَا وَقَالَ وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنْ یُدْخِلْنَ عَلَیْہِنَّ بِتِلْکَ الرَّضَاعَۃِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ۔ وَالْبَاقِی مِثْلُہُ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَعَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَعَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৫৬
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٥٠) ابن شہاب سے روایت ہے کہ مجھے ابو عبیدہ بن عبداللہ بن زمیہ نے خبر دی کہ اس کی ماں زینب بنت ابی سلمہ نے اس کو خبر دی کہ اس کی ماں ام سلمہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ فرماتی ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام بیویوں نے انکار کیا ہے کہ ان پر کوئی ایک رضاعت کے سبب داخل ہو اور انھوں نے عائشہ (رض) سے کہا : اللہ کی قسم ! ہم سمجھتی ہیں یہ رخصت اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خاص سالم کو دی تھی۔ وہ کون ہوتا ہے جو ہمارے اوپر اس رضاعت کے ساتھ داخل ہو اور نہ ہی کوئی ہمیں دیکھے۔ اس کو مسلم نے اسی طرح اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں : جب یہ سالم کے لیے خاص ہے تو خاص بھی عام کے حکم سے نکالا ہوتا ہے اور جائز نہیں مگر یہ کہ کبیر کی رضاعت تو حرام نہ کیا جائے۔
امام شافعی فرماتے ہیں : جب یہ سالم کے لیے خاص ہے تو خاص بھی عام کے حکم سے نکالا ہوتا ہے اور جائز نہیں مگر یہ کہ کبیر کی رضاعت تو حرام نہ کیا جائے۔
(۱۵۶۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنِی مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّی حَدَّثَنِی عُقَیْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَمْعَۃَ أَنَّ أُمَّہُ زَیْنَبَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ أُمَّہَا أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- کَانَتْ تَقُولُ : أَبَی سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنْ یُدْخِلْنَ عَلَیْہِنَّ أَحَدًا بِتِلْکَ الرَّضَاعَۃِ وَقُلْنَ لِعَائِشَۃَ : وَاللَّہِ مَا نَرَی ہَذِہِ إِلاَّ رُخْصَۃً أَرْخَصَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِسَالِمٍ خَاصَّۃً فَمَا ہُوَ بِدَاخِلٍ عَلَیْنَا أَحَدٌ بِہَذِہِ الرَّضَاعَۃِ وَلاَ رَائِینَا۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ ہَکَذَا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَإِذَا کَانَ ہَذَا لِسَالِمٍ خَاصَّۃً فَالْخَاصُّ لاَ یَکُونُ إِلاَّ مَخْرَجًا مِنْ حُکْمِ الْعَامَّۃِ وَلاَ یَجُوزُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ رَضَاعُ الْکَبِیرِ لاَ یُحَرِّمُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ ہَکَذَا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَإِذَا کَانَ ہَذَا لِسَالِمٍ خَاصَّۃً فَالْخَاصُّ لاَ یَکُونُ إِلاَّ مَخْرَجًا مِنْ حُکْمِ الْعَامَّۃِ وَلاَ یَجُوزُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ رَضَاعُ الْکَبِیرِ لاَ یُحَرِّمُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৫৭
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٥١) مسروق حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ مجھ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے اور میرے پاس ایک آدمی تھا۔ آپ نے کہا : اے عائشہ ! یہ کون ہے ؟ میں نے کہا : یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔ آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! تو دیکھ لے جو تمہارے رضاعی بھائی ہیں۔ رضاعت تو بھوک کو ختم کرنے سے ہوتی ہے۔ اس کو امام بخاری نے محمد بن کثیر سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور امام مسلم نے دوسری دو سندوں سے سفیان سے صحیح میں اس کو نکالا ہے۔
(۱۵۶۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ح وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ التَّمَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ أَبِی الشَّعْثَائِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَعِنْدِی رَجُلٌ فَقَالَ : یَا عَائِشَۃُ مَنْ ہَذَا؟ ۔ فَقُلْتُ : أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔ فَقَالَ : یَا عَائِشَۃُ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُکُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَۃُ مِنَ الْمَجَاعَۃِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ سُفْیَانَ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ سُفْیَانَ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৫৮
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٥٢) اشعث بن ابو شعثاء اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے مسروق کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عائشہ (رض) فرما رہی تھیں : مجھ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے اور میرے پاس ایک شخص تھا اور میں نے ناپسندیدگی کو آپ کے چہرے میں دیکھا، میں نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بیشک یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔ کہتی ہیں آپ نے فرمایا : تم دیکھو جس نے تم کو دودھ پلایا ہے۔ رضاعت تو بھوک کو ختم کرنے سے ثابت ہوتی ہے اور کہتے ہیں : بشر نے اپنی حدیث میں کہا : تم دیکھو کیا وہ تمہارے بھائی ہیں۔ اس کو بخاری اور مسلم نے شعبہ کی حدیث سے اپنی صحیح میں نکالا ہے۔
(۱۵۶۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ وَبِشْرُ بْنُ عُمَرَ وَوَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِی الشَّعْثَائِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ مَسْرُوقًا یَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقُولُ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَعِنْدِی رَجُلٌ فَرَأَیْتُ الْکَرَاہِیَۃَ فِی وَجْہِہِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : انْظُرُوا مَنْ تُرَاضِعُونَ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَۃُ مِنَ الْمَجَاعَۃِ ۔ وَقَالَ فَقَالَ بِشْرٌ فِی حَدِیثِہِ : انْظُرُوا مَا إِخْوَانُکُمْ؟ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৫৯
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٥٣) عبداللہ بن مسعود کے بیٹے سے روایت ہے کہ ایک شخص کے ساتھ اس کی بیوی بھی تھی اور وہ سفر میں تھا۔ اس نے بچے کو جنم دیا۔ بچہ دودھ نہیں چوس سکتا تھا۔ اس کے خاوند نے پکڑاوہ اس کے دودھ کو چوستا تھا اور وہ اس کو پھینکتا تھا حتیٰ کے اس نے اس کے دودھ کے ذائقے کو اپنے حلق میں محسوس کیا۔ وہ ابو موسیٰ کے پاس آیا ، اس نے اس سے اس معاملے کا ذکر کیا۔ ابو موسیٰ نے کہا : تجھ پر تیری بیوی حرام ہوگئی ہے۔ وہ شخص ابن مسعود کے پاس آیا۔ ابن مسعود نے کہا : تو ہے جس نے اس طرح اور اس طرح فتویٰ دیا ہیحالاں کہ تحقیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رضاعت نہیں ہے مگر جو ہڈیوں کو مضبوط کرے اور گوشت کو بڑھائے۔
(۱۵۶۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ أَسْلَمَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَجُلاً کَانَ مَعَہُ امْرَأَتُہُ وَہُوَ فِی سَفَرٍ فَوَلَدَتْ فَجَعَلَ الصَّبِیُّ لاَ یَمُصُّ فَأَخَذَ زَوْجُہَا یَمُصُّ لَبَنَہَا وَیَمُجُّہُ حَتَّی وَجَدَ طَعْمَ لَبَنِہَا فِی حَلْقِہِ فَأَتَی أَبَا مُوسَی فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : حَرُمَتْ عَلَیْکَ امْرَأَتُکَ۔ فَأَتَی ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ : أَنْتَ الَّذِی تُفْتِی ہَذَا بِکَذَا وَکَذَا وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ رَضَاعَ إِلاَّ مَا شَدَّ الْعَظْمَ وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৬০
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٥٤) عبداللہ بن مسعور (رض) سے روایت ہے کہ رضاعت نہیں ہے مگر جو ہڈیوں کو مضبوط کرے اور گوشت کو بڑھائے۔ ابوموسیٰ فرماتے ہیں : تم مجھ سے سوال نہ کرو جب یہ عالم تمہارے اندر ہو۔
(۱۵۶۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَہَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ مُطَہِّرٍ أَنَّ سُلَیْمَانَ بْنَ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَہُمْ عَنْ أَبِی مُوسَی عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لاَ رَضَاعَ إِلاَّ مَا شَدَّ الْعَظْمَ وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ۔ فَقَالَ أَبُو مُوسَی : لاَ تَسْأَلُونَا وَہَذَا الْحَبْرُ فِیکُمْ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৬১
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٥٥) ابو موسیٰ ہلالی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور وہ عبداللہ بن مسعود (رض) سے اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی کے ہم معنی نقل فرماتے ہیں اور وہ کہتے ہیں : جو ہڈیوں کو بڑھائے۔
(۱۵۶۵۵) قَالَ أَبُودَاوُدَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَنْبَارِیُّ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ أَبِی مُوسَی الْہِلاَلِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَعْنَاہُ وَقَالَ : أَنْشَزَ الْعَظْمَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৬২
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٥٦) ابو عطیہ سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ کی طرف ایک شخص آیا، اس نے کہا : میری بیوی کے پستانوں پر ورم آگیا۔ میں نے اس کو چوسا تو میرے حلق میں کوئی چیز داخل ہوگئی۔ وہ مجھ سے سبقت لے گئی۔ اس پر ابو موسیٰ نے سختی کی ، پھر وہ عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا، انھوں نے کہا : کیا تو نے میرے علاوہ کسی اور سے بھی سوال کیا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ابو موسیٰ سے، اس نے مجھ پر سختی کی ہے۔ وہ ابو موسیٰ کے پاس آیا اور کہا : کیا یہ دودھ پینے والا ہے ؟ (یعنی رضاعی ہے) ابو موسیٰ نے کہا : تم مجھ سے نہ سوال کرو۔ جب تک یہ عالم تمہارے درمیان موجود ہے یا تم میں جب تک یہ ہے۔ اس کو ثوری نے ابو حصین سے روایت کیا ہے اور اس میں عبداللہ سے یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں۔ رضاعت وہ ہے جو گوشت اور خون کو بڑھائے۔
(۱۵۶۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو ہِشَامٍ الرِّفَاعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَصِینٍ عَنْ أَبِی عَطِیَّۃَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی أَبِی مُوسَی فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِی وَرِمَ ثَدْیُہَا فَمَصَصْتُہُ فَدَخَلَ حَلْقِی شَیْئٌ سَبَقَنِی فَشَدَّدَ عَلَیْہِ أَبُو مُوسَی فَأَتَی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ : سَأَلْتَ أَحَدًا غَیْرِی؟ قَالَ : نَعَمْ أَبَا مُوسَی فَشَدَّدَ عَلَیَّ فَأَتَی أَبَا مُوسَی فَقَالَ : أَرَضِیعٌ ہَذَا؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَی : لاَ تَسْأَلُونِی مَا دَامَ ہَذَا الْحَبْرُ فِیکُمْ أَوْ قَالَ بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ۔
وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی حَصِینٍ وَزَادَ فِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ : إِنَّمَا الرَّضَاعُ مَا أَنَبْتَ اللَّحْمَ وَالدَّمَ۔ [حسن]
وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی حَصِینٍ وَزَادَ فِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ : إِنَّمَا الرَّضَاعُ مَا أَنَبْتَ اللَّحْمَ وَالدَّمَ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৬৩
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٥٧) نزال بن سبرہ اور مسروق بن اجدع سے روایت ہے کہ علی (رض) نے فرمایا : دودھ چھڑوانے کے بعد رضاعت ثابت نہیں ہے۔
یہ حدیث موقوف ہے اور یہ مرفوع بھی روایت کی گئی ہے۔
یہ حدیث موقوف ہے اور یہ مرفوع بھی روایت کی گئی ہے۔
(۱۵۶۵۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ جَوَیْبِرٍ عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ مُزَاحِمٍ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَۃَ وَمَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعِ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ رَضَاعَ بَعْدَ فِصَالٍ۔
ہَذَا مَوْقُوفٌ وَقَدْ رُوِیَ مَرْفُوعًا۔ [ضعیف]
ہَذَا مَوْقُوفٌ وَقَدْ رُوِیَ مَرْفُوعًا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৬৪
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٥٨) نزال بن سبرہ علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : طلاق نکاح کے بعد ہے۔ اور مالک بننے سے پہلے آزادی نہیں ہے اور دودھ چھڑوانے کے بعد رضاعت نہیں ہے اور روزوں میں وصال نہیں ہے۔ یعنی نفلی روزے مسلسل بغیر انقطاع کے رکھنا اور نہ تو روزہ رکھ دن کا رات تک ، یعنی دن اور رات کا روزہ نہ رکھ۔
عبدالرزاق کہتے ہیں : سفیان نے معمر سے کہا : جویبر نے ہمیں اسی کے ساتھ کی حدیث بیان کی ہے اور اس کو مرفوع نہیں کیا۔ معمر کہتے ہیں : اور ہمیں اسی طرح حدیث بیان کی اور اس کو مرفوع بیان کیا۔
عبدالرزاق کہتے ہیں : سفیان نے معمر سے کہا : جویبر نے ہمیں اسی کے ساتھ کی حدیث بیان کی ہے اور اس کو مرفوع نہیں کیا۔ معمر کہتے ہیں : اور ہمیں اسی طرح حدیث بیان کی اور اس کو مرفوع بیان کیا۔
(۱۵۶۵۸) أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی السَّرِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ جُوَیْبِرٍ عَنِ الضَّحَّاکِ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ طَلاَقَ إِلاَّ بَعْدَ نِکَاحٍ وَلاَ عِتْقَ قَبْلَ مِلْکٍ وَلاَ رَضَاعَ بَعْدَ فِصَالٍ وَلاَ وِصَالَ فِی الصِّیَامِ وَلاَ صَمْتَ یَوْمٍ إِلَی اللَّیْلِ ۔
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ سُفْیَانُ لِمَعْمَرٍ إِنَّ جُوَیْبِرَ حَدَّثَنَا بِہَذَا الْحَدِیثِ وَلَمْ یَرْفَعْہُ قَالَ مَعْمَرٌ وَحَدَّثَنَا بِہِ مِرَارًا وَرَفَعَہُ۔ [ضعیف]
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ سُفْیَانُ لِمَعْمَرٍ إِنَّ جُوَیْبِرَ حَدَّثَنَا بِہَذَا الْحَدِیثِ وَلَمْ یَرْفَعْہُ قَالَ مَعْمَرٌ وَحَدَّثَنَا بِہِ مِرَارًا وَرَفَعَہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৬৫
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٥٩) عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمر (رض) کی طرف آیا اور میں ان کے ساتھ عدالت کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے عبداللہ بن عمر (رض) سے بڑے کی رضاعت کے متعلق سوال کیا۔ ابن عمر (رض) نے فرمایا : ایک شخص عمر بن خطاب (رض) کی طرف آیا، اس نے کہا : میری لونڈی ہے اور میں اس سے جماع کرتا ہوں۔ میری بیوی نے اس کی طرف ارادہ کیا اور اس کو اس نے اپنا دودھ پلا دیا، میں اس پر داخل ہوا تو اس نے کہا : دور رہو اللہ کی قسم ! میں نے اس کو دودھ پلایا ہے۔ عمر (رض) نے فرمایا : تو اس کو تکلیف دے اور تو اپنی لونڈی کے پاس آ، یعنی تو اس سے جماع و صحبت کر۔ رضاعت تو چھوٹی عمر میں ثابت ہوتی ہے۔
(۱۵۶۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَأَنَا مَعَہُ عِنْدَ دَارِ الْقَضَائِ یَسْأَلُہُ عَنْ رَضَاعَۃِ الْکَبِیرِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : کَانَتْ لِی وَلِیدَۃٌ وَکُنْتُ أَطَؤُہَا فَعَمَدَتِ امْرَأَتِی إِلَیْہَا فَأَرْضَعَتْہَا فَدَخَلْتُ عَلَیْہَا فَقَالَتْ : دُونَکَ فَقَدْ وَاللَّہِ أَرْضَعْتُہَا۔ فَقَالَ عُمَرُ : أَوْجِعْہَا وَائْتِ جَارِیَتَکَ إِنَّمَا الرَّضَاعَۃُ رَضَاعَۃُ الصَّغِیرِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৬৬
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٦٠) نافع ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک عورت نے اپنے خاوند کی لونڈی کی طرف ارادہ کیا اور اس کو دودھ پلا دیا۔ جب اس کا خاوند آیا تو اس نے کہا : تیری یہ لونڈی تیری بیٹی بن چکی ہے۔ وہ عمر (رض) کی طرف چلا۔ اس نے یہ معاملہ اس سے ذکر کیا۔ اس کو عمر (رض) نے کہا : میں نے تیرے اوپر ارادہ کیا ہے کہ جب تو لوٹے تو اپنی لونڈی سے صحبت کر اور تو اپنی بیوی کی پشت کو تکلیف دے۔
عبداللہ بن دینار کی روایت میں ہے کہ رضاعت چھوٹے کی ہے۔
عبداللہ بن دینار کی روایت میں ہے کہ رضاعت چھوٹے کی ہے۔
(۱۵۶۶۰) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : عَمَدَتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَی جَارِیَۃٍ لِزَوْجِہَا فَأَرْضَعَتْہَا فَلَمَّا جَائَ زَوْجُہَا قَالَتْ : إِنَّ جَارِیَتَکَ ہَذِہِ قَدْ صَارَتِ ابْنَتَکَ۔ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : عَزَمْتُ عَلَیْکَ لَمَّا رَجَعْتَ فَأَصَبْتَ جَارِیَتَکَ وَأَوْجَعْتَ ظَہْرَ امْرَأَتِکَ۔
وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: فَإِنَّمَا الرَّضَاعَۃُ رَضَاعَۃُ الصَّغِیرِ۔ [حسن]
وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: فَإِنَّمَا الرَّضَاعَۃُ رَضَاعَۃُ الصَّغِیرِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৬৭
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٦١) نافع سے روایت ہے وہ ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نہیں حرام ہوتی رضاعت سے مگر جو چھوٹی عمر میں ہو۔
(۱۵۶۶۱) وَأَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : لاَ یُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ إِلاَّ مَا کَانَ فِی الصِّغَرِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৬৮
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے کی رضاعت کا بیان
(١٥٦٦٢) ہمیں مالک نے خبر دی وہ نافع سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابن عمر (رض) سے کہ رضاعت اس کے لیے ہے جو چھوٹی عمر میں دودھ پیے۔
(۱۵۶۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : لاَ رَضَاعَ إِلاَّ لِمَنْ أَرْضَعَ فِی الصِّغَرِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৬৯
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رضاعت دو سالوں کے ساتھ خاص ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ } [البقرۃ ٢٣٣] ” اور دودھ پلانے والیاں اپنی اولاد کو دودھ پلائیں دو سال مکمل اس کے لیے ہے جو
(١٥٦٦٣) ہمیں سفیان نے عبداللہ بن دینار سے حدیث بیان کی، وہ ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ کہ میں نے عمر (رض) کو فرماتے ہوئے سنا نہیں رضاعت مگر بچپن کے (ابتدائی) دو سالوں میں ہے۔
(۱۵۶۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ الْہِزَّانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : لاَ رَضَاعَ إِلاَّ فِی الْحَوْلَیْنِ فِی الصِّغَرِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৭০
رضاعت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رضاعت دو سالوں کے ساتھ خاص ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ } [البقرۃ ٢٣٣] ” اور دودھ پلانے والیاں اپنی اولاد کو دودھ پلائیں دو سال مکمل اس کے لیے ہے جو
(١٥٦٦٤) یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ (رض) نے کبیر کی رضاعت کے بارے میں کہا : میں اس کو نہیں سمجھتا مگر وہ حرام ہوچکی ہے۔ ابن مسعود (رض) نے کہا : رضاعت اس کی ہے جو ہو دو سالوں میں ہو۔ ابو موسیٰ (رض) نے کہا : نہ تم سوال کرو مجھ سے جب تک یہ عالم تمہارے درمیان ہے۔
یہ اگرچہ مرسل ہے ، لیکن اس کے لیے ابن مسعود (رض) سے شواہد موجود ہیں۔
یہ اگرچہ مرسل ہے ، لیکن اس کے لیے ابن مسعود (رض) سے شواہد موجود ہیں۔
(۱۵۶۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّ أَبَا مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فِی رَضَاعَۃِ الْکَبِیرِ: مَا أُرَاہَا إِلاَّ تُحَرِّمُ۔ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَبْصِرْ مَا تُفْتِی بِہِ الرَّجُلَ۔ فَقَالَ أَبُو مُوسَی فَمَا تَقُولُ أَنْتَ؟ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: لاَ رَضَاعَۃَ إِلاَّ مَا کَانَ فِی الْحَوْلَیْنِ۔ فَقَالَ أَبُو مُوسَی: لاَ تَسْأَلُونِی عَنْ شَیْئٍ مَا کَانَ ہَذَا الْحَبْرُ بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ۔
ہَذَا وَإِنْ کَانَ مُرْسَلاً فَلَہُ شَوَاہِدُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح]
ہَذَا وَإِنْ کَانَ مُرْسَلاً فَلَہُ شَوَاہِدُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح]
তাহকীক: