কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

صحبت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৫ টি

হাদীস নং: ২৫৫৩৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال :
25538 ۔۔۔ جب کوئی بات کرتے ہوئے تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اس کی وہ بات حق ہوتی ہے۔ (رواہ ابن عدی ، عن ابو ہریرہ (رض)) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 352 ، والموضوعات 773 ۔
25538- "إذا عطس أحدكم عند حديث كان حقا". "عد عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৩৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال :
25539 ۔۔۔ دعا کے وقت چھینک کا آنا آدمی کی سعادت مندی میں سے ہے۔ (رواہ ابونعیم عن ابی رھم) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے تذکرۃ الموضوعات 165 وکشف النجار 2461 ۔
25539- "من سعادة المرء العطاس عند الدعاء". "أبو نعيم عن أبي رهم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৪০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال :
25540 ۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ چھینک کو پسند فرماتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے جہاں تک ہو سکے مند بند رکھے یا (جمائی آنے پر) منہ پر ہاتھ رکھ دے چونکہ جب جمائی لیتا ہے اور اس کے منہ سے آہ، کی آواز نکلتی ہے اس پر شیطان ہنسنے لگتا ہے۔ (رواہ ابن حبان ، عن ابو ہریرہ (رض))
25540- "إن الله عز وجل يحب العطاس ويكره التثاؤب، فإذا تثاءب أحدكم فليكظم ما استطاع، أو ليضع يده على فيه، فإنه إذا تثاءب فقال: آه فإنما الشيطان يضحك من جوفه". "حب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৪১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال :
25541 ۔۔۔ جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے وہ کہے : ” الحمد للہ علی کل حال “ ۔ رواہ الحاکم عن ابن عمرو (رض))
25541- "إذا عطس أحدكم فليقل: الحمد لله على كل حال". "ك عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৪২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال :
25542 ۔۔۔ جو شخص چھینکا یا ڈکار لیا اور کہا : ” الحمد للہ علی کل حال من الاحوال “۔ ستر بیماریاں اس سے دور کردی جائیں گی جن میں سے ہلکی بیماری جذام ہے۔ (رواہ الخطیب وابن النجار عن ابن عمرو (رض) ، ورواہ ابن الجوزی فی الموضوعات) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ترتیب الوضوعات 853 والتنزیۃ 292 ۔
25542- "من عطس أو تجشأ فقال: الحمد لله على كل حال من الأحوال، دفع عنه بها سبعون داء أهونها الجذام". "الخطيب وابن النجار عن ابن عمرو؛ وأورده ابن الجوزي في الموضوعات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৪৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال :
25543 ۔۔۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تیس سے زائد فرشتے ایک دوسرے پر سبقت لے جا رہے تھے کہ اس دعا کو لے کر کون اوپر چڑھے ۔ (رواہ النسائی وابن قانع والحاکم عن رفاعۃ) رفاعہ (رض) کہتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی مجھے چھینک آئی اس پر میں نے کہا : ” الحمد للہ حمدا کثیرا مبارکا فیہ ومبارکا علیہ کما یحب ربنا ویرضی “۔ اس پر آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ۔
25543- "والذي نفسي بيده لقد أبتدرها بضعة وثلاثون ملكا أيهم يصعد بها". "ن وابن قانع، ك عن رفاعة"؛ قال: صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فعطست فقلت: الحمد لله حمدا كثيرا مباركا فيه، مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى قال: فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৪৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال :
25544 ۔۔۔ جب کوئی شخص چھینکے تو الحمد للہ سے ابتداء کرو چونکہ الحمد ہر بیماری کی دوا ہے اور پہلو کے درد کی بھی دوا ہے۔ (رواہ الحاکم فی تاریخہ والدیلمی عن ابن عمرو (رض)) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 353 ۔
25544- "إذا عطس العاطس فابدؤوه بالحمد فإن ذلك دواء من كل داء ومن وجع الخاصرة". "ك في تاريخه والديلمي عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৪৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال :
25545 ۔۔۔ جس شخص نے چھینکنے والے کو الحمد للہ سے پہلے جواب دے دیا وہ پہلو کے درد سے محفوظ رہا وہ کوئی ناگواری نہیں دیکھتا حتی کہ دنیا سے چلا جاتا ہے۔ (رواہ تمام وابن عساکر عن ابن عباس (رض)، والفوائد المجموعۃ 667 ۔
25545- "من سبق العاطس بالحمد وقاه الله وجع الخاصرة، ولم ير فيه مكروها حتى يخرج من الدنيا". "تمام وابن عساكر عن ابن عباس؛ وفيه بقية وقد عنعن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৪৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال :
25546 ۔۔۔ جب کسی کو چھینک آئے تین بار چھینک آنے پر اسے یرحمک اللہ سے جواب دو اگر پھر چوتھی بار چھینک آئے اسے چھوڑ دو چونکہ اسے زکام ہے۔ (رواہ الحاکم فی تاریخہ والدیلمی ، عن ابو ہریرہ (رض))
25546- "إذا عطس أحدكم فشمته ثلاثا، فإن عاد في الرابعة فدعه فإنه مزكوم". "ك في تاريخه والديلمي عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৪৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال :
25547 ۔۔۔ چھینکنے والے کو تین مرتبہ چھینکنے پر یرحمک اللہ سے جواب دو ، اگر اس کے بعد اسے پھر چھینک آئے تو وہ زکام ہے۔ (رواہ ابن اسنی ، عن ابو ہریرہ (رض))
25547- "يشمت العاطس إذا عطس ثلاث مرات، فإن عطس فهو زكام". "ابن السني عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৪৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال :
25548 ۔۔۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے جو میں نے کردیا ہے تم نے اللہ تبارک وتعالیٰ کو بھلا دیا میں نے پھر تمہیں بھلا دیا ۔ (رواہ احمد بن حنبل ، عن ابو ہریرہ (رض))
25548- "إن هذا ذكر الله فذكرته، وأنت نسيت الله فنسيتك". "حم عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৪৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال :
25549 ۔۔۔ تو نے اللہ تبارک وتعالیٰ کو بھلا دیا میں نے بھی تجھے بھلا دیا یہ تو اللہ تبارک وتعالیٰ کا ذکر ہے جو میں کرتا ہوں ۔ (رواہ ، عن ابو ہریرہ (رض)) یہ حکم ان دو آدمیوں کے لیے جنہیں چھینک آئی ایک نے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی حمد کی جبکہ دوسرے نے حمد نہ کی (اس پر یہ حدیث ارشاد فرمائی)
25549- "إنك نسيت الله فنسيتك، وإن هذا ذكر الله فذكرته". "ك عن أبي هريرة"، في اللذين عطسا فأحدهما حمد الله، والثاني ما حمد فقال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৫০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال :
25550 ۔۔۔ اے عثمان کیا میں تمہیں بشارت نہ دوں ؟ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) جو مجھے اللہ تبارک وتعالیٰ کے بارے میں خبر دے رہے ہیں کہ جو مومن پے درپے تین مرتبہ چھینکیں مارتا ہے الا یہ کہ اس کے دل میں ایمان ثابت ہوتا ہے۔ (رواہ الحکیم عن انس (رض))
25550- "يا عثمان ألا أبشرك؟ هذا جبريل يخبرني عن الله، ما من مؤمن يعطس ثلاث عطسات متواليات إلا كان الإيمان في قلبه ثابتا". "الحكيم عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৫১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصحبہ از قسم افعال : باب ۔۔۔ صحبت کی فضیلت کے بیان میں :
25551 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کچھ بندے ہیں جو انبیاء ہیں اور نہ ہی شہداء عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کون ہیں اور ان کے اعمال کیا ہیں ؟ ارشاد فرمایا : وہ ایسے لوگ ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آپس میں محبت رکھتے ہیں حالانکہ ان میں کوئی رشتہ داری نہیں اور نہ ہی مالی لین دین ہے بخدا ! ان کے چہروں پر نور چمک رہا ہوگا اور وہ نور پر ہوں گے جب لوگ خوفزدہ ہوں گے انھیں کسی قسم کا خوف دامن گیر نہیں ہوگا جب لوگ غمزدہ ہوں گے انھیں کوئی غم نہیں ہوگا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی : ” الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ ہوشیار ہو اللہ تعالیٰ کے دوستوں کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی غم : (رواہ ابو داؤد وھناد وابن جریر وابن ابی حاتم ، ابن مردویہ ، وابو نعیم ، فی الحلیۃ وٍالبیہقی فی شعب الایمان)
25551- عن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن من عباد الله عبادا ما هم بأنبياء ولا شهداء"، قيل: من هم يا رسول الله وما أعمالهم؟ قال: "هم قوم تحابوا بروح الله على غير أرحام منهم ولا أموال يتعاطونها بينهم، فوالله إن وجوههم لنور وإنهم لعلى نور، لا يخافون إذا خاف الناس ولا يحزنون إذا حزن الناس"، ثم تلا رسول الله صلى الله عليه وسلم: {أَلا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ} . "د وهناد وابن جرير وابن أبي حاتم وابن مردويه، حل، هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৫২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصحبہ از قسم افعال : باب ۔۔۔ صحبت کی فضیلت کے بیان میں :
25552 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : کوئی شخص ایسا بھی ہوتا ہے جو کسی قوم سے محبت کرتا ہے حالانکہ ان جیسے اعمال کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی انہی لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے وہ محبت کرتا ہے۔ (رواہ ابو داؤد الطیالسی)
25552- عن علي "أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم: الرجل يحب القوم ولا يستطيع أن يعمل بعملهم؟ قال: "المرء مع من أحب". "ط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৫৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصحبہ از قسم افعال : باب ۔۔۔ صحبت کی فضیلت کے بیان میں :
25553 ۔۔۔ ” مسند حذیفہ بن اسید غفاری “۔ حضرت حذیفہ بن اسید (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قیامت کے متعلق سوال کیا آپ نے فرمایا : تم نے قیامت کے لیے تیاری کی ہے ؟ عرض کیا : میں نے قیامت کے لیے کوئی بڑی تیاری نہیں کیا البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے محبت کرتے ہو ۔ (رواہ الطبرانی عن ابی سرعۃ)
25553- "من مسند حذيفة بن أسيد الغفاري" "سأل رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الساعة؟ فقال: "ما أعددت لها؟ " قال: ما أعددت لها كبيرا إلا أني أحب الله ورسوله، قال: "فأنت مع من أحببت". "طب عن أبي سرعة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৫৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصحبہ از قسم افعال : باب ۔۔۔ صحبت کی فضیلت کے بیان میں :
25554 ۔۔۔ ” مسند زید بن ابی اوفی “۔ حضرت زید بن ابی اوفی (رض) کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے درمیان مواخات قائم کی تو سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے کہا : میری روح نکل گئی اور کمر ٹوٹ گئی ، جب میں نے آپ کو اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں مواخات قائم کرتے دیکھا اور مجھے الگ تھلگ چھوڑ دیا ، اگر یہ مجھ پر ناراضی کی وجہ سے ہے تو سزا اور عزت دینے کا اختیار آپ ہی کو ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! میں نے تمہیں صرف اور صرف اپنے لیے مؤخر کیا ہے تمہارا تعلق میرے ساتھ ایسا ہی ہے جیسا کہ ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھا البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ، تم میرے بھائی اور میرے وارث ہو سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں آپ سے وراثت میں کیا چیز پاؤں گا ؟ فرمایا وہی چیز جو مجھ سے پہلے انبیاء وراثت میں چھوڑتے آئے ہیں عرض کیا : آپ سے پہلے انبیاء نے وراثت میں کیا چیز چھوڑی ہے ؟ فرمایا : کتاب اور سنت فرمایا : تم جنت میں میرے اور فاطمہ (رض) کے ساتھ میرے محل میں ہو گے تم میرے بھائی اور میرے رفیق ہو ۔ (رواہ احمد بن حنبل فی کتاب مناقب علی وابن عساکر)
25554- "من مسند زيد بن أبي أوفى" "لما آخى النبي صلى الله عليه وسلم بين أصحابه، قال علي: لقد ذهب روحي وانقطع ظهري حين رأيتك فعلت بأصحابك ما فعلت غيري فإن كان هذا من سخط علي فلك العتبى والكرامة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "والذي بعثني بالحق ما أخرتك إلا لنفسي وأنت مني بمنزلة هارون من موسى غير أنه لا نبي بعدي وأنت أخي ووارثي"، قال: وما أرث منك يا رسول الله؟ قال: "ما ورثت الأنبياء من قبلي"، قال: وما ورثت الأنبياء من قبلك؟ قال: "كتاب ربهم وسنة نبيهم، وأنت معي في قصري في الجنة مع فاطمة بنتي وأنت أخي ورفيقي". "حم في كتاب مناقب علي، ابن عساكر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৫৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصحبہ از قسم افعال : باب ۔۔۔ صحبت کی فضیلت کے بیان میں :
25555 ۔۔۔ ابو القاسم اسماعیل بن احمد بن محمد بن نقور عیسیٰ بن علی ، عبداللہ بن محمد حسین بن محمد ارع تقوی عبدالمؤمن بن عباد عبدی ، یزید بن معنی عبداللہ بن شرجیل ، زید بن ابی اروفی (رض) مجد بن علی جو زجانی ، نصر بن علی بن جھضمی عبدالمؤمن بن عباد العبدی ، یزید بن معن عبداللہ بن شرجیل قریش کے ایک شخص سے حضرت زید بن ابی روفی (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : میں مسجد میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فلاں شخص کہاں ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے چہروں کو دیکھ دیکھ کر حاضری لینی شروع کردی اور جو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین موجود نہیں تھے ان کے پاس آدمی بھیج کر انھیں اپنے پاس منگواتے رہے حتی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپ کے پاس جمع ہوگئے جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جمع ہو گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں اسے یاد رکھو اور اپنے بعد آنے والے لوگوں کو بھی سناتے رہو چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے ایک مخلوق کو چنا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ” اللہ یصطفی من الملائکۃ رسلا ومن الناس “۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرشتوں اور انسانوں میں سے رسولوں کو منتخب فرمایا ہے اللہ نے ایک مخلوق کو منتخب کیا ہے جسے جنت میں داخل کرے گا میں تم میں سے ان لوگوں کو منتخب کرتا ہوں جنہیں میں منتخب کرنا پسند کروں گا ۔ میں تمہارے درمیان مواخات قائم کروں گا جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرشتوں کے درمیان مواخات قائم کی ہے۔ اے ابوبکر (رض) کھڑے ہوجاؤ اور میرے سامنے زانوؤں پر بیٹھ جاؤ میرے ہاں تمہارا ایک مقام ہے اللہ تبارک وتعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ عطا فرمائے اگر میں کسی کو اپنا خلیل (دوست) بناتا میں تمہیں اپنا خلیل بناتا تو تمہارا میرا ساتھ ایسا ہی تعلق ہے جیسا کہ میرے بدن سے میری قمیص کا تعلق ہے۔ پھر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) ایک طرف ہٹ گئے پھر فرمایا : اے عمر (رض) میرے قریب ہوجاؤ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوگئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابو حفص ! تم ہمارے ساتھ سخت جھگڑا کرتے تھے میں نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا کی کہ اللہ تبارک وتعالیٰ آپ سے یا ابوجہل بن ہشام سے اسلام کو عزت عطا فرمائے تاہم یہ بھلائی تمہارے حصہ میں آئی تم مشرکین میں سے سب سے زیادہ اللہ تبارک وتعالیٰ کو محبوب تھے تم میرے ساتھ جنت میں اس امت کے تین کے تیسرے ہو پھر عمر (رض) الگ ہوگئے اور آپ نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) اور سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے درمیان مواخات قائم کی ، پھر سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کو بلایا اور فرمایا : اے ابو عمرو میرے قریب ہوجاؤ میرے قریب ہوجاؤ ، وہ برابر قریب ہوتے رہے حتی کہ اپنے گھٹنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھٹنوں سے ملا لیے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آسمان کی طرف دیکھ کر تین بار فرمایا ۔ ” سبحان اللہ العظیم “ پھر آپ نے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کی طرف دیکھا ان کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے آپ نے اپنے ہاتھوں سے بٹن بند کردیئے پھر فرمایا : اپنی چادر کے پلو اپنے سینے پر ڈال لو فرمایا اہل آسمان میں تمہاری ایک شان ہے تم بھی ان لوگوں میں سے ہو جو میرے حوض پر میرے پاس وارد ہوں گے جبکہ تمہاری رگوں سے خون رس رہا ہوگا ، میں تم سے پوچھوں گا : یہ تمہارے ساتھ کس نے کیا ہے ؟ تم کہو گے فلاں اور فلاں نے یہ جبرائیل امین کا کلام ہوگا جبکہ پکارنے والا آسمان سے پکار رہا ہوں گا اور کہتا ہوگا خبردار ! عثمان (رض) کو ہر شخص کا امیر مقرر کردیا گیا ہے ، پھر سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) الگ ہوگئے پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کو بلایا : حکم ہوا اے اللہ کے امین میرے قریب ہوجاؤ تو اللہ کا امین ہے ، آسمانوں میں تمہارا نام امین ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال پر برحق مسلط کیا ہے میں نے تمہارے لیے اک دعوت کا وعدہ کیا تھا جسے میں نے مؤخر کردیا ہے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اسے مؤخر کردیں ۔ فرمایا : اے عبدالرحمن (رض) تم نے بار امانت اٹھایا ہے اے عبدالرحمن تمہاری ایک شان ہے اللہ تعالیٰ تمہارے مال کو زیادہ کرے ۔ آپ نے ہاتھوں سے یوں اور یوں اشارہ کیا ۔ ہمیں آپ کے اشارے کی کیفیت حسین بن محمد نے یوں بتائی کہ گویا وہ دونوں ہاتھ بھر رہے ہوں پھر عبدالرحمن (رض) ایک طرف ہٹ گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبدالرحمن اور حضرت عثمان (رض) کے درمیان مواخات قائم کی پھر حضرت طلحہ (رض) اور حضرت زبیر (رض) کو بلایا اور ان سے فرمایا : میرے قریب ہوجاؤ وہ دونوں آپ کے قریب ہوگئے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دونوں میرے حواری ہو جیسے عیسیٰ بن مریم کے حواری تھے پھر ان دونوں کے درمیان مواخات قائم کی پھر حضرت عمار بن یاسر (رض) اور حضرت سعدی (رض) کو بلایا اور ارشاد فرمایا : اے عمار ! تجھے باغی ٹولا قتل کرے گا پھر آپ نے حضرت عمار (رض) اور حضرت سعد (رض) کے درمیان مواخات قائم کی ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عویمر بن زید ابو درداء (رض) اور سلمان فارسی (رض) کو بلایا ارشاد فرمایا : اے سلمان ! تم ہم اہل بیت میں سے ہو ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں اول وآخر کا علم عطا فرمایا ہے کتاب اول اور کتاب آخر کا علم عطا کیا ہے پھر فرمایا : کیا میں اچھی بات میں تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ عرض کیا جی ہاں ! یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ نے فرمایا : اگر تم ان کے عیب نکالو گے وہ تمہارے عیب نکالیں گے ، اگر تم انھیں چھوڑ دو گے وہ تمہیں چھوڑیں گے اگر تم ان سے بھاگو گے وہ تمہیں پکڑ لیں گے انھیں اپنی عزت ان کے ذمہ میں قیامت کے دن کے لیے دے دو جان لو بدلہ تمہارے سامنے ہے پھر حضرت عمار (رض) اور حضرت سلمان (رض) کے درمیان مواخات قائم کردی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے چہروں پر نظر دوڑائی اور ارشاد فرمایا : خوش ہوجاؤ اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو تم پہلے لوگ ہو جو میرے حوض پر میرے پاس آؤ گے ، تم عالیشان بالاخانوں میں ہوگے پھر آپ نے عبداللہ بن عمر (رض) کی طرف دیکھا اور فرمایا : تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے ضلالت سے نکال کر ہدایت کی راہ دکھائی اور جسے چاہا ضلالت پر رکھا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری روح نکل چکی میری کمر ٹوٹ گئی جب میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے درمیان مؤاخات قائم کرتے دیکھا اور مجھے الگ چھوڑے رکھا اگر میرے ساتھ یہ برتاؤ کسی ناراضگی کی وجہ سے ہے تو سزا اور عزت افزائی کا اختیار بلاشبہ آپ کو ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں نے تمہیں اپنے لیے مؤخر کیا ہے تمہارا میرے ساتھ تعلق ایسا ہی ہے جیسا کہ ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ، تم میرے بھائی اور میرے وارث ہو سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں آپ سے وارثت میں کیا پاؤں گا ؟ فرمایا : وہی چیز جو مجھ سے پہلے انبیاء وارثت میں چھوڑتے رہے ہیں عرض کیا : انبیاء وراثت میں کیا چھوڑتے رہے ہیں فرمایا : کتاب وسنت تم فاطمہ (رض) کے ساتھ جنت میں میرے محل میں میرے ساتھ ہو گے تم میرے بھائی اور میرے رفیق ہو۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” اخوانا علی سور متقابلین “ وہ آپس میں بھائی بھائی ہوں گے اور مسہریوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے “ یہ وہ لوگ ہوں گے جو محض اللہ کی رضا کے لیے آپس میں محبت کرتے ہوں گے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہوں گے ۔ شیخ جلال الدین سیوطی (رح) کہتے ہیں ائمہ حدیث کی ایک بڑی جماعت نے یہ حدیث روایت کی ہے مثلا بغوی ، طبرانی نے مجمع الصغیر والکبیر میں باوردی نے معرفہ میں اور ابن عدی نے اس حدیث کے متعلق میرے دل میں کچھ تردد تھا لیکن میں نے ابو احمد حاکم الکنی میں امام بخاری سے بھی روایت کرتے دیکھا اور اس کی سندیوں ہے حسان بن حبان ، ، ابراہیم بن بشیر ابو عمر ویحیی بن معن ابراہیم قرشی ، سعد بن شرجیل زید بن ابی اوفی ۔ پھر کہا : یہ سند مجہول ہے اس کا کوئی متابع نہیں پھر سند میں مذکورروایت کا ایک دوسرے سے سماع بھی ثابت نہیں ۔ (انتہی) ۔
25555- أخبرنا أبو القاسم إسماعيل بن أحمد أخبرنا أحمد بن محمد ابن النقور أنبأنا عيسى بن علي أخبرنا عبد الله بن محمد حدثنا الحسين بن محمد الدارع النقوي حدثنا عبد المؤمن بن عباد العبدي حدثنا يزيد بن معن عن عبد الله بن شرحبيل عن زيد بن أبي أوفى قال: وحدثني محمد بن علي الجوزجاني حدثنا نصر بن علي بن الجهضمي حدثنا الجهضمي حدثنا عبد المؤمن بن عباد العبدي حدثني يزيد بن معن عن عبد الله بن شرحبيل عن رجل من قريش عن زيد بن أبي أوفى قال: "دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم مسجده فقال: "أين فلان؟ " فجعل ينظر في وجوه أصحابه ويتفقدهم ويبعث إليهم حتى توافوا عنده، فلما توافوا عنده حمد الله وأثنى عليه ثم قال: "إني محدثكم حديثا فاحفظوه وعوه وحدثوا به من بعدكم إن الله عز وجل اصطفى من خلقه خلقا، ثم تلا: {اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلائِكَةِ رُسُلاً وَمِنَ النَّاسِ} خلقا يدخلهم الجنة وإني أصطفي منكم من أحب أن أصطفيه، ومؤاخ بينكم كما آخى الله عز وجل بين ملائكته، قم يا أبا بكر فاجث بين يدي فإن لك عندي يدا الله يجزيك بها، فلو كنت متخذا خليلا لاتخذتك خليلا فأنت مني بمنزلة قميصي من جسدي، ثم تنحى أبو بكر، ثم قال: ادن يا عمر فدنا منه فقال: لقد كنت شديد الشغب علينا أبا حفص، فدعوت الله عز وجل أن يعز الإسلام بك أو بأبي جهل بن هشام ففعل الله ذلك بك، وكنت أحبهم إلى الله، فأنت معي في الجنة ثالث ثلاثة من هذه الأمة، ثم تنحى عمر، ثم آخى بينه وبين أبي بكر، ثم دعا عثمان فقال: ادن أبا عمرو ادن أبا عمرو فلم يزل يدنو منه حتى ألصق ركبتيه بركبتيه فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى السماء فقال: سبحان الله العظيم - ثلاث مرات - ثم نظر إلى عثمان وكانت أزراره محلولة فزرها رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده ثم قال: اجمع عطفي ردائك على نحرك، ثم قال: إن لك شأنا في أهل السماء أنت ممن يرد على حوضي وأوداجك تشخب دما فأقول: من فعل بك هذا؟ فتقول: فلان وفلان وذلك كلام جبريل إذا هاتف يهتف من السماء فقال: ألا إن عثمان أمير على كل مخذول. ثم تنحى عثمان، ثم دعا عبد الرحمن بن عوف فقال: ادن يا أمين الله أنت أمين الله ولتسمى في السماء الأمين يسلطك الله على ما لك بالحق، أما إن لك عندي دعوة قد وعدتكها وقد أخرتها، قال: أخره لي يا رسول الله، قال: حملتني يا عبد الرحمن أمانة، ثم قال: إن لك لشأنا يا عبد الرحمن أما إنه أكثر الله مالك - وجعل يقول بيده هكذا وهكذا ووصف لنا حسين بن محمد جعل يحثو بيده - ثم تنحى عبد الرحمن ثم آخى بينه وبين عثمان، ثم دعا طلحة والزبير، ثم قال لهما: ادنوا مني فدنوا منه فقال لهما: أنتما حواري كحواري عيسى ابن مريم ثم آخى بينهما، ثم دعا عمار بن ياسر وسعدا وقال: يا عمار تقتلك الفئة الباغية، ثم آخى بينه وبين سعد، ثم دعا عويمر بن زيد أبا الدرداء وسلمان الفارسي فقال: يا سلمان أنت منا أهل البيت وقد آتاك الله العلم الأول والآخر والكتاب الأول والكتاب الآخر، ثم قال: ألا أرشدك يا أبا الدرداء؟ قال: بلى بأبي أنت وأمي يا رسول الله، قال: إن تنقدهم ينقدوك وإن تتركهم لا يتركوك، وإن تهرب منهم يدركوك فأقرضهم عرضك ليوم فقرك واعلم أن الجزاء أمامك ثم آخى بينه وبين لمان، ثم نظر في وجوه أصحابه فقال: أبشروا وقروا عينا أنتم أول من يرد على حوضي، وأنتم في أعلى الغرف ثم نظر إلى عبد الله بن عمر فقال: الحمد لله الذي يهدي من الضلالة ويكتب الضلالة على من يحب. فقال علي: يا رسول الله لقد ذهب روحي وانقطع ظهري حين رأيتك فعلت هذا بأصحابك ما فعلت غيري فإن كان هذا من سخط علي فلك العتبى والكرامة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والذي بعثني بالحق ما أخرتك إلا لنفسي وأنت مني بمنزلة هارون من موسى غير أنه لا نبي بعدي وأنت أخي ووارثي، قال: وما أرث منك يا رسول الله؟ قال: ما ورثت الأنبياء من قبلي؟ قال: وما ورثت الأنبياء من قبلك؟ قال: كتاب ربهم وسنة نبيهم وأنت معي في قصري في الجنة مع فاطمة ابنتي، وأنت أخي ورفيقي، ثم تلا رسول الله صلى الله عليه وسلم: {إِخْوَاناً عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} المتحابين في الله ينظر بعضهم إلى بعض". قلت: قال الشيخ جلال الدين السيوطي: هذا الحديث أخرجه جماعة من الأئمة كالبغوي والطبراني في معجميهما والباوردي في المعرفة وابن عدي وكان في نفسي شيء ثم رأيت أبا أحمد الحاكم في الكنى نقل عن البخاري أنه قال: حدثنا حسان بن حسان حدثنا إبراهيم بن بشير أبو عمرو عن يحيى بن معن حدثني إبراهيم القرشي عن سعد بن شرحبيل عن زيد بن أبي أوفى به وقال: هذا إسناد مجهول لا يتابع عليه ولا يعرف سماع بعضهم من بعض. انتهى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৫৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصحبہ از قسم افعال : باب ۔۔۔ صحبت کی فضیلت کے بیان میں :
25556 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا کہ جنت میں بہت سارے ستون ہائے یاقوت ہیں جن پر زبرجد کے بالاخانے ہیں ان کے دروازے کھلے پڑے ہیں ، یہ بالاخانے چمکدار ستارے کی مانند چمک رہے ہوں گے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں کون لوگ رہائش پذیر ہوں گے ؟ ارشاد فرمایا : ان میں وہ لوگ سکونت کریں گے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آپس میں محبت کرتے ہوں گے ، جو محض اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں مل بیٹھتے ہوں گے اور محض اللہ کے لیے آپس میں ملاقات کرتے ہوں گے ۔ (رواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب الاخوان والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر وابن النجار وفیہ موسیٰ بن وردان ضعہ ابن معین ووثقہ ابن عساکر) حدیث 24651 نمبر پر گزر چکی ہے ۔۔ کلام : ۔۔۔ حدیث یروی بفرق قلیل ذخیرۃ الحفاظ 1943 ۔
25556- عن أبي هريرة سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن في الجنة لعمدا من ياقوت عليها غرف من زبرجد لها أبواب مفتحة تضيء كما يضيء الكوكب الدري، قلنا يا رسول الله من ساكنها؟ قال: المتحابون في الله عز وجل والمتجالسون في الله والمتلاقون في الله". "ابن أبي الدنيا في كتاب الإخوان، هب، كر وابن النجار؛ وفيه موسى بن وردان ضعفه ابن معين ووثقه كر". مر برقم [24651] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৫৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الصحبہ از قسم افعال : باب ۔۔۔ صحبت کی فضیلت کے بیان میں :
25557 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جنت میں بہت سارے ستون ہائے یاقوت ہیں جن پر زبرجد کے بنے ہوئے بالاخانے ہیں ان کے دروازے کھلے پڑے ہیں ، وہ روشن ستارے کی طرح چمک رہے ہوں گے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ان میں کون رہے گا ؟ آپ نے فرمایا : ان میں وہ لوگ رہیں گے جو اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرتے ہوں گے اللہ کے لیے آپس میں مل بیٹھتے ہوں گے اور اللہ کے لیے آپس میں ملاقات کرتے ہوں گے ۔ (رواہ ابن النجار) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 1897 ۔
25557- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "إن في الجنة لعمدا من ياقوت عليها غرف من زبرجد لها أبواب مفتحة تضيء كما يضيء الكوكب الدري قلت: يا رسول الله من يسكنها؟ قال: المتحابون في الله والمتجالسون في الله والمتلاقون في الله". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক: