কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

صحبت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৫ টি

হাদীস নং: ২৫৫১৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک ، اس کا جواب اور جمائی کا بیان :
25518:۔۔۔ جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے اسے اپنی ہتھیلی منہ پر رکھ لینی چاہیے اور اپنی آواز دھیمی رکھنے کی کوشش کرے ۔ (رواہ الحاکم والبیھقی فی شعب الایمان عن ابوہریرہ )
25518- "إذا عطس أحدكم فليضع كفيه على وجهه، وليخفض صوته". "ك هب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫১৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک ، اس کا جواب اور جمائی کا بیان :
25519 ۔۔۔ جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے اور ا پر الحمداللہ کہے اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہو جب وہ الحمدللہ نہ کہے اسے جواب میں یرحمک اللہ بھی نہ کہو ۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن خؤارزمی فی الادب المفرد ومسلم عن ابی موسیٰ )
25519- "إذا عطس أحدكم وحمد الله فشمتوه، وإذا لم يحمد الله فلا تشمتوه". "حم خد، م عن أبي موسى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک ، اس کا جواب اور جمائی کا بیان :
25520 ۔۔۔ جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے وہ ” الحمدللہ رب العالمین “ کہے اور اس کے جواب میں ” یرحمک اللہ “ کہا جائے اور چھینکنے والا کہے : ” یغفر اللہ لنا ولکم “ (رواہ الطبرانی والحاکم والبیھقی فی شعب الایمان عن ابن مسعود واحمد بن حنبل واصحاب السنن الاربعۃ والحاکم عن سالم بن عبدالا شجعی)
25520- "إذا عطس أحدكم فليقل: الحمد لله رب العالمين، وليقل له: يرحمك الله، وليقل هو: يغفر الله لنا ولكم". "طب ك هب عن ابن مسعود، حم ك هب عن سالم بن عبيد الأشجعي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک ، اس کا جواب اور جمائی کا بیان :
25521 ۔۔۔ جب تم میں سے کوئی شخص چھینکتا ہے او اس پر ” الحمدللہ “ کہتا ہے فرشتے ” رب العالمین “ کہتے ہیں جب چھینکنے والا رب العالمین کہتا ہے فرشتے کہے ہیں :” رحمک اللہ (رواہ الطبرانی عن ابن عباس ) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الترمذی 595 ۔
25521- "إذا عطس أحدكم فقال: الحمد لله، قالت الملائكة: رب العالمين، فإذا قال: رب العالمين، قالت الملائكة: رحمك الله". "طب عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک ، اس کا جواب اور جمائی کا بیان :
25522 ۔۔۔ جب تم میں سے کوئی شخص چھینکنے اور اس کے جواب میں اس کا ہم جلیس ” یرحمک اللہ “ کہے اگر تین مرتبہ سے زیادہ چھینکے تو اسے زکام ہے تین بار سے زیادہ اسے ” یرحمک اللہ “ نہ کہے (رواہ الطبرانی فی الا وسط عن انس)
25522- "إذا عطس أحدكم فليشمته جليسه، فإن زاد على ثلاث فهو مزكوم، فلا تشميت بعد ثلاث مرات". "د عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک ، اس کا جواب اور جمائی کا بیان :
25523 ۔۔۔ سب سے سچی بات وہ ہے جس کے وقت چھینک آجائے ۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس (رض)) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الاسرار المرفوعۃ 483 والاتقان 1112 ۔
25523- "أصدق الحديث ما عطس عنده". "طس عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک ، اس کا جواب اور جمائی کا بیان :
25524 ۔۔۔ جس شخص نے کوئی بات کہی اور اس کے پاس چھینک آگئی وہ بات حق ہے ، (رواہ الحکیم ، عن ابو ہریرہ (رض)) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الاتقان 1112، 1879 وخیرۃ الفاظ 5253)
25524- "من حدث بحديث فعطس عنده فهو حق". "الحكيم عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک ، اس کا جواب اور جمائی کا بیان :
25525 ۔۔۔ دعا کے وقت چھینک کا آجانا سچا گواہ ہے۔ (رواہ ابو نعیم ، عن ابو ہریرہ (رض)) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الاسرار المرفوعۃ 407 و ضعیف الجامع 3864 ۔
25525- "العطاس عند الدعاء شاهد صدق". "أبو نعيم عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک ، اس کا جواب اور جمائی کا بیان :
25526 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتے ہیں اور جمائی کو ناپسند کرتے ہیں۔ (رواہ البخاری وابو داؤد والترمذی وابن ماجہ ، عن ابو ہریرہ (رض))
25526- "إن الله تعالى يحب العطاس ويكره التثاؤب". "خ، د، ت هـ عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک ، اس کا جواب اور جمائی کا بیان :
25527 ۔۔۔ تین مرتبہ چھینکنے پر ” یرحمک اللہ “ سے جواب دو ، اس سے اگر زیادہ چھینکے تو اگر چاہو جواب دو اگر چاہو جواب نہ دو ۔ (رواہ الترمذی عن رجل) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الترمذی 521 و ضعیف الجامع 3407 ۔
25527- "شمت العاطس ثلاثا، فإن زاد فإن شئت فشمته وإن شئت فلا". "ت عن رجل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک ، اس کا جواب اور جمائی کا بیان :
25528 ۔۔۔ اپنے بھائی کو تین مرتبہ چھینکنے پر جواب دو اگر اس سے زیادہ چھینکے تو وہ نزلہ ہے یا زکام ہے۔ (رواہ ابن اسنی وابو نعیم فی الطب ، عن ابو ہریرہ (رض)) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 3323 ۔
25528- "شمت أخاك ثلاثا فما زاد فإنما هي نزلة أو زكام". "ابن السني وأبو نعيم في الطب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک ، اس کا جواب اور جمائی کا بیان :
25529 ۔۔۔ چھینک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جب کہ جمائی شیطان کی طرف سے ہے جب کسی شخص کو جمائی آئے وہ منہ پر ہاتھ رکھ لے چونکہ جب جمائی لینے والے کی منہ سے ” آہ “ آہ “ کی آواز نکلتی ہے تو شیطان اس کے پیٹ سے ہنستا ہے ، اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند ہے۔ (رواہ الترمذی وابن اسنی فی عمل یوم ولیلۃ ، عن ابو ہریرہ (رض)) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے کشف الخفاء 1792 ۔
25529- "العطاس من الله، والتثاؤب من الشيطان، فإذا تثاءب أحدكم فليضع يده على فيه وإذا قال: آه آه فإن الشيطان يضحك من جوفه وإن الله عز وجل يحب العطاس ويكره التثاؤب". "ت وابن السني في عمل يوم وليلة عن أبي هريرة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৩০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک ، اس کا جواب اور جمائی کا بیان :
25530 ۔۔۔ جب حضرت آدم (علیہ السلام) میں روح پھونکی گئی تو روح جسد سے باہر نکل کر اڑنے لگی اور آدم (علیہ السلام) کے سر میں داخل ہوتی اس پر آدم (علیہ السلام) کو چھینک آئی اور فرمایا ” الحمد للہ رب العالمین “ اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : ” یرحمک اللہ “۔ رواہ ابن حبان والحاکم عن انس (رض))
25530- "لما نفخ في آدم الروح مارت وطارت فصارت في رأسه فعطس فقال: الحمد لله رب العالمين، فقال الله: يرحمك الله". "حب ك عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৩১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک ، اس کا جواب اور جمائی کا بیان :
25531 ۔۔۔ چھینکنے والے کو تین مرتبہ چھینکنے پر یرحمک اللہ “ کہا جائے اگر اس سے زیادہ چھینکے تو اسے زکام ہے۔ (رواہ ابن ماجہ عن سلمۃ بن الرکوع)
25531- "يشمت العاطس ثلاثا فما زاد فهو مزكوم". "هـ عن سلمة بن الأكوع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৩২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھینک ، اس کا جواب اور جمائی کا بیان :
25532 ۔۔۔ جب تم میں سے کوئی شخص ڈکار لے یا چھینکے اسے آواز بلند نہیں کرنی چاہیے ، چونکہ شیطان چاہتا ہے کہ ڈکار لینے اور چھینکنے میں آواز بلند کی جائے ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان، عن عبادۃ بن الصامت وشداد بن اوس وواثلہ وابو داؤد فی مراسیلہ عن یزید بن مرثر) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 425 والضعیفۃ 2254)
25532- "إذا تجشأ أحدكم أو عطس فلا يرفع بهما الصوت فإن الشيطان يحب أن يرفع بهما الصوت". "هب عن عبادة بن الصامت وشداد بن أوس وواثلة، د في مراسيله عن يزيد بن مرثد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৩৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمائی لینے کا بیان :
25533 ۔۔۔ جمائی شیطان کی طرف سے ہے جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے جہاں تک ہو سکے اسے روکے ، چونکہ جب کسی کے منہ سے ” ھا، ھا “ کی آواز نکلتی ہے اس پر شیطان ہنستا ہے۔ (رواہ البخاری ومسلم عن ابو ہریرہ (رض))
25533- "التثاؤب من الشيطان، فإذا تثاءب أحدكم فليرده ما استطاع فإن أحدكم إذا قال: ها ضحك منه الشيطان". "ق عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৩৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمائی لینے کا بیان :
25534 ۔۔۔ شدید قسم کی جمائی اور شدید قسم کی چھینک شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ (رواہ ابن اسنی فی عمل یوم ولیلۃ عن ام سلمۃ (رض)) یہ حدیث 25513 نمبر کے تحت گزر چکی ہے ۔۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 25505 ۔
25534- "التثاؤب الشديد، والعطسة الشديد من الشيطان". "ابن السني في عمل يوم وليلة عن أم سلمة". مر برقم [25513] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৩৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمائی لینے کا بیان :
25535 ۔۔۔ جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے چونکہ جمائی کے ساتھ شیطان منہ میں داخل ہوجاتا ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل والبخاری ومسلم ابو داؤد عن ابی سعید)
25535- "إذا تثاءب أحدكم فليضع يده على فيه فإن الشيطان يدخل مع التثاؤب". "حم ق د عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৩৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمائی لینے کا بیان :
25536 ۔۔۔ جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے جہاں تک ہو سکے اسے روکے کیونکہ جب وہ جمائی لیتے ہوئے ” ھا “ کی آواز نکالتا ہے اس سے شیطان ہنس جاتا ہے۔ (رواہ البخاری ، عن ابو ہریرہ (رض))
25536- "إذا تثاءب أحدكم فليرد ما استطاع فإن أحدكم إذا قال: ها ضحك منه الشيطان". "خ عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৩৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمائی لینے کا بیان :
25537 ۔۔۔ جب تم میں سے کوئی شخص جمائی لے اسے ہاتھ منہ پر رکھ لینا چاہے تاکہ جمائی کہ آواز نکلنے پائے چونکہ اس سے شیطان ہنستا ہے۔ (رواہ ابن ماجۃ ، عن ابو ہریرہ (رض)) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف ابن ماجہ 203، والضعیفۃ 2420 ۔
25537- "إذا تثاءب أحدكم فليضع يده على فيه، ولا يعوي فإن الشيطان يضحك منه". "هـ عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক: