কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
زینت اور آراستگی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩ টি
হাদীস নং: ১৭৪৪৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17446 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیعت کرنے آیا اور اس پر خلوق خوشبو کا اثر تھا۔ آپ نے اس کو بیعت کرنے سے انکار کردیا۔ اس نے جاکر اس کو دھویا پھر آکر بیعت کی۔ البزار
17446- عن علي قال: " جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم ليبايعه وعليه أثر الخلوق فأبى أن يبايعه فغسل عنه أثر الخلوق ثم جاء فبايعه". "البزار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردوں کی زینت میں مباح زینت
17447 واقد بن عبداللہ تمیمی سے مروی ہے وہ ایک شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے عثمان (رض) کو دیکھا کہ آپ (رض) نے اپنے دانتوں پر سونے کا پانی چڑھوایا تھا۔ مسند عبداللہ بن احمد بن حنبل
17447- عن واقد بن عبد الله التميمي عمن رأى عثمان "ضبب أسنانه بالذهب". "عم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردوں کی زینت میں مباح زینت
17448 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کی تلوار میں چار سو درہم کی چاندی تھی۔
الخطیب فی رواۃ مالک
الخطیب فی رواۃ مالک
17448- عن ابن عمر قال: "كان سيف عمر فيه فضة أربع مائة درهم". "خط في رواة مالك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی زینت۔۔۔زیورات
17449 مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ پہلی عورتیں اپنی قمیص کی آستینوں کو کشادہ کرکے ان میں اپنی انگلیاں چھپا لیتی تھیں جس سے انگوٹھی بھی چھپ جاتی تھی۔ ابن ابی شیہ
17449- عن مجاهد قال: "كانت النساء الأول يجعلن أكمة أدرعهن إزارا تدخله إحداهن في أصبعها تغطي به الخاتم". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی زینت۔۔۔زیورات
17450 عبداللہ بن حارث بن نوفل سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک موتی لے کر اس میں دھاگہ پرویا پھر اپنی کسی گھر والی کو دے دیا۔ ابونعیم
17450- عن عبد الله بن الحارث بن نوفل "أن النبي صلى الله عليه وسلم أخذ لؤلؤة فجعلها في خيط فأعطاها بعض أهله". "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کا ختنہ
17451 ضحاک بن قیس سے مروی ہے کہ مدینہ میں ایک عورت تھی جس کا نام ام عطیہ تھا جو کنواری لڑکیوں کا ختنہ کرتی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا : اے ام عطیہ ! جب تو ختنہ کرے تو پردہ بکارت کو نہ پھاڑا کر اس سے مرد کو زیادہ لطف اور عورت کو سرور میسر ہوگا۔
ابن مندہ، ابن عساکر
ابن مندہ، ابن عساکر
17451- عن الضحاك بن قيس قال: "كان بالمدينة امرأة يقال لها أم عطية تخفض الجواري، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أم عطية إذا خفضت فلا تنهكي فإنه أحظى للزوج وأسرى للزوجة". "ابن منده، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کا ختنہ
17452 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) حضرت سارہ کی باندی تھیں۔ پھر حضرت سارہ نے وہ اپنے شوہر ابراہیم (علیہ السلام) کو دیدی۔ پھر اسماعیل۔ ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہونے میں سبقت لے گئے۔ اور اسحاق (علیہ السلام) بعد میں سارہ (علیہ السلام) کے بطن سے تولد ہوئے۔ جب اسماعیل اسراہیم (علیہ السلام) کی گود میں بیٹھے تو سارہ (علیہ السلام) (کو غیرت آئی اور انھوں نے) کہا : اللہ کی قسم ! میں اس کے تین عمدہ اعضاء کو بگاڑ دوں گی۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو ڈر ہوا کہ کہیں وہ ان کو نکٹانہ کردے یا کانوں میں سوراخ نہ کردے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سارہ (علیہ السلام) کو فرمایا : تم ایسا کچھ کرو کہ قسم سے بری ہوجاؤ اور (زیادہ تکلیف نہ دو وہ یوں کہ تم) ان کے کان چھیددو اور اس کا ختنہ کردو۔ تب پہلی مرتبہ ختنہ اس عورت کا ہوا تھا۔ شعب الایمان للبیہقی
17452- عن علي قال: "كانت هاجر لسارة فأعطت هاجر إبراهيم فاستبق إسماعيل وإسحاق فسبقه إسماعيل فجلس في حجر إبراهيم، قالت سارة: والله لأغيرن منها ثلاثة أشراف فخشى إبراهيم أن تجدعها أو تخرم أذنيها فقال لها: هل لك أن تفعلي شيئا وتبرئي من يمينك؟ شقي أذنيها وتخفضيها فكان أول الخفاض هذا". "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کا ختنہ
17453 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مدینہ میں ایک ختنہ کرنے والی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پیغام بھیجا کہ جب تو ختنہ کیا کرے تو ہلکا سا اشارہ کیا کر اور پردہ کو بالکلیہ نہ ختم کیا کر یہ اس کے چہرے کے لیے خوشگوار اور شوہر کے لیے لطف اندوز ہوگا۔ الخطیب فی التاریخ
17453- عن علي قال: "كانت خفاضة بالمدينة فأرسل إليها رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا خفضت فأشمي ولا تنهكي فإنه أحسن للوجه وأرضى للزوج". "خط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17454 (مسند صدیق (رض)) قیس بن ابی حازم سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ حضرت ابوبکر (رض) ہلکے پھلکے جسم والے سفید رنگت کے مالک تھے۔ میں نے (ان کی بیوی) اسماء بنت عمیس کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ گدے ہوئے ہیں اور وہ ان کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) سے (مکھیوں وغیرہ کو) ہٹا رہی ہیں۔ ابن سعد، ابن منیع ، ابن جریر، ابن عساکر
17454- "مسند الصديق" عن قيس بن أبي حازم قال: "دخلت مع أبي على أبي بكر وكان رجلا خفيف اللحم أبيض فرأيت يدي أسماء بنت عميس موشومة تذب عن أبي بكر". "ابن سعد وابن منيع وابن جرير كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17455 قیس بن ابی حازم سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ (رض) سفید رنگت والے ہلکے جسم کے مالک تھے۔ آپ (رض) کے پاس اسماء بنت عمیس تھیں جو آپ پر جھول رہی تھیں ان کے ہاتھ گدے ہوئے تھے بربریوں کی طرح، جاہلیت میں گدوائے تھے۔ پھر آپ (رض) کو دو گھوڑے دیئے گئے۔ آپ (رض) نے ایک گھوڑا مجھے دیدیا اور دوسرا میرے باپ کو دیدیا ۔ ابن جریر
17455- عن قيس بن أبي حازم قال: "دخلت أنا وأبي على أبي بكر فإذا هو رجل أبيض خفيف الجسم عنده أسماء بنت عميس تذب عنه وهي موشومة اليدين كانوا وشموها في الجاهلية نحو وشم البربر، فعرض عليه فرسان فرضيهما فحملني على أحدهما وحمل أبي على الآخر". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17456 ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں اپنے بالوں کو کانوں تک لٹکے ہوئے کرلیا کرتی تھیں۔ ابن جریر
17456- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: "كان أزواج النبي صلى الله عليه وسلم يأخذن من شعورهن حتى يدعنه كهيئة الوفرة". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17457 (عبدالرزاق کہتے ہیں) مجھے اسماعیل نے خبر دی کہ حضرت عائشہ (رض) شوہر والی عورت کو منع کرتی تھیں کہ وہ پنڈلیوں کو خالی رکھے (بلکہ پازیب پہننے کا حکم دیتی تھیں) نیز آپ (رض) فرمایا کرتی تھیں : عورت کو خضاب نہیں چھوڑنا چاہیے (ہاتھوں کی مہندی) کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مردوں کی طرح رہنے والی عورتوں کو ناپسند کرتے تھے۔ الجامع لعبد الرزاق
17457- أخبرني إسماعيل "أن عائشة كانت تنهى المرأة ذات الزوج أن تدع ساقيها لا تجعل فيها شيئا، وإنها كانت تقول: لا تدع المرأة الخضاب فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يكره الرجلة 1". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17458 زہری (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) عورت کو سر کے بالوں پر مشک لگانے سے منع فرماتی تھیں۔ عبدالرزاق
17458- عن الزهري قال: "كانت عائشة تنهى أن تمشط المرأة بالمسك". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17459 حرب بن الحارث سے مروی ہے کہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جمعہ کے روز برسرمنبر ارشاد فرماتے سنا : ہم نے عورتوں کے لیے ورس (رنگائی کی بوٹی) اور ابر (مویشیوں) کا حکم دیدیا ہے۔ ورس ان کے پاس یمن سے آئے گی اور مویشی یمن کے ذمیوں سے جن پر جزیہ ہے لیے جائیں گے۔ الکبیر للطبرانی ، ابونعیم ، السنن لسعید بن منصور
17459- عن حرب بن الحارث قال: "سمعت النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر يوم الجمعة قد أمرنا للنساء بورس وأبر فأما الورس فأتاهن من اليمن وأما الأبر فتؤخذ من ناس من أهل الذمة مما عليهم من الجزية". "طب وأبو نعيم ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17460 حسین بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں فاطمہ بنت علی (رض) کے پاس حاضر ہوا ان کے پاس ہاتھی دانت کا ایک ٹکڑا تھا اور ان کے گلے میں موتیوں کی مالا تھی۔ آپ نے فرمایا : میرے باپ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں کو بغیر زیور کے ناپسند کرتے تھے۔ سمویہ
17460- عن حسين بن عبد الله قال: "دخلت على فاطمة بنت علي وعليها مسكة من عاج وفي عنقها خيط من خرز فقالت: إن أبي حدثني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كره التعطل للنساء". "سمويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17461 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) ہمارے پاس ورس اور زعفران میں سے ہمارا حصہ بھیجتے تھے۔ ابوعبید فی الاموال
17461- عن عائشة قالت: "إن كان عمر ليرسل إلينا بأحظائنا من الورس والزعفران". "أبو عبيد في الأموال".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17462 ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے کے زیورات سے منع فرمایا۔ الخطیب فی المتفق
17462- عن أبي هريرة " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن حلية الذهب". "خط في المتفق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17463 (مسند عمار (رض)) میں ایک سفر سے واپس ہوا تو میری اہلیہ نے مجھے زرد رنگ مل دیا۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا تو آپ کو سلام کیا۔ آپ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا، جا اور غسل کر۔ میں نے آکر غسل کیا پھر کچھ اثر رہتے ہوئے واپس آپ کی خدمت میں آکر سلام کیا آپ نے سلام کا جواب دے کر پھر فرمایا : جا اور غسل کر۔ میں واپس آیا اور بچے ہوئے پانی کے ساتھ خوب جلد کو رگڑا حتیٰ کہ مجھے یقین ہوگیا کہ میں صاف ہوگیا ہوں چنانچہ میں حاضر خدم ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وعلیکم السلام بیٹھ جاؤ ۔ پھر فرمایا : ملائکہ کسی کافر کے جنازے میں حاضر ہوئے اور نہ کسی جنبی کے پاس آئے حتی کہ وہ غسل کرلے یا نماز جیسا وضو کرلے اور نہ زرد رنگ میں لتھڑے ہوئے آدمی کے پاس حاضر ہوئے۔ عبدالرزاق
17463- "مسند عمار" قدمت من سفرة فضمخني أهلي بصفرة ثم جئت فسلمت على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: وعليك السلام اذهب فاغتسل، فذهبت فاغتسلت ثم رجعت في أثرها فقلت السلام عليكم، فقال: وعليكم السلام اذهب فاغتسل فذهبت فأخذت بشفة فدلكت بها جلدي حتى ظننت أني قد أنقيت ثم أتيته فقلت السلام عليكم، فقال: وعليكم السلام اجلس ثم قال: إن الملائكة لا تحضر جنازة كافر بخير ولا جنبا حتى يغتسل أو يتوضأ وضوءه للصلاة ولا متضمخا بصفرة". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17464 حضرت عمر (رض) کے متعلق مروی ہے کہ آپ (رض) مکروہ سمجھتے تھے کہ کوئی آدمی عورت کی طرح اپنی صفائی ستھرائی رکھے اور ہر روز سرمہ لگائے اور عورت کے اپنے بالوں کی طرح ہر روز اپنی ڈاڑھی کو بنائے سنوارے۔ ابوذر الھروی فی الجامع
17464- عن عمر "أنه كره أن يصون الرجل نفسه كما تصون المرأة نفسها ولا يزال يرى كل يوم مكتحلا وأن يحف لحيته كما تحف المرأة". "أبو ذر الهروي في الجامع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی متفرق زینت
17465 حمید بن عبدالرحمن الحمیری سے مروی ہے کہ میں ایک صحابی رسول سے ملا جو چار سال حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں رہا تھا جس طرح ابوہریرہ (رض) ساتھ رہے تھے۔ پھر فرمایا : ہم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا کہ ہر روز کنگھی کی جائے یا غسل خانے میں پیشاب کیا جائے ، یا آدمی عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا عورت آدمی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے لیکن دونوں ایک ساتھ پانی لے سکتے ہیں۔ السنن لسعید بن منصور
17465- عن حميد بن عبد الرحمن الحميري قال: "لقيت رجلا صحب رسول الله صلى الله عليه وسلم أربع سنين كما صحبه أبو هريرة قال: نهانا رسول الله أن يمتشط أحدنا كل يوم وأن يبول في مغتسله وأن يغتسل الرجل بفضل المرأة أو المرأة بفضل الرجل وقال: ليغترفا جميعا". "ص".
তাহকীক: