কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
زینت اور آراستگی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩ টি
হাদীস নং: ১৭৪০৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17406 حضرت خالد بن سعید سے مروی ہے کہ میں حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے ہاتھ میں انگوٹھی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے خالد ! یہ کیسی انگوٹھی ہے ؟ میں نے عرض کیا : انگوٹھی ہے میں نے بنائی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری طرف پھینک۔ میں نے انگوٹھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بڑھا دی۔ آپ نے دیکھا تو وہ لوہے کی انگوٹھی تھی جس پر چاندی کا پانی چڑھا ہوا تھا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا : یہ اس کا نقش کیسا ہے ! میں نے عرض کیا : محمد رسول اللہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو لے اور پہن لیا۔ پس وہی انگوٹھی آپ کے ہاتھ میں تھی۔
الطحاوی ، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم ، ابونعیم
الطحاوی ، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم ، ابونعیم
17406- عن خالد بن سعيد قال: "أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وفي يدي خاتم فقال: يا خالد ما هذا الخاتم؟ قلت خاتم اتخذته، قال: فاطرحه إلي، فطرحته إليه فإذا هو خاتم من حديد ملوي عليه فضة قال النبي صلى الله عليه وسلم ما نقشه؟ قلت محمد رسول الله فأخذه النبي صلى الله عليه وسلم فلبسه فهو الذي كان في يده". "الطحاوي طب ك وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17407 عبدخیر سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کے پاس چار انگوٹھیاں تھیں۔ ایک میں یاقوت تھا جو (مال وغیرہ) پانے کے لیے تھا ، ایک میں فیروزہ تھا مدد کے حصول کے لئے۔ یاقوت کا نقش تھا : لا الہ الا اللہ الملک الحق المبین، فیروز کا نقش تھا : اللہ الملک چینی لوہے کی انگوٹھی کا نقش تھا العزۃ للہ اور عقیق کا نقش تین سطریح تھی : ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ استغفر اللہ۔
احاکم فی التاریخ، الصابونی فی الماتین، ابوعبدالرحمن السمی فی امالیہ
کلام : سند میں ابوجعفر محمد بن احمد بن سعید رازی ہے جس ک و امام دارقطنی (رح) نے ضعیف قرار دیا ہے۔ کنز العمال
احاکم فی التاریخ، الصابونی فی الماتین، ابوعبدالرحمن السمی فی امالیہ
کلام : سند میں ابوجعفر محمد بن احمد بن سعید رازی ہے جس ک و امام دارقطنی (رح) نے ضعیف قرار دیا ہے۔ کنز العمال
17407- عن عبد خير قال: "كان لعلي بن أبي طالب أربعة خواتيم بها ياقوت لنيله فيروزج لنصره حديد صيني لقوته عقيق لحرزه وكان نقش الياقوت لا إله إلا الله الملك الحق المبين، ونقش الفيروزج الله الملك، ونقش الحديد الصيني العزة لله، ونقش العقيق ثلاثة أسطر ما شاء الله لا قوة إلا بالله أستغفر الله". "ك في تاريخه والصابوني في المائتين وأبو عبد الرحمن السلمي في أماليه، وفيه: أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي، ضعفه قط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17408 عبداللہ بن نافع، عاصم بن عمر بن حفص، جعفر بن محمد عن ابیہ کی سند سے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرات حسنین (رض) اپنے بائیں ہاتھوں میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ ابن النجار
فائدہ : ظاہر بات یہ ہے کہ اسناد میں راوی کو وہم ہوگیا ہے اور اصل اسناد علی بن الحسین۔ سے مروی ہے نہ کہ علی بن ابی طالب سے۔ اور روایت مرسل ہے۔
فائدہ : ظاہر بات یہ ہے کہ اسناد میں راوی کو وہم ہوگیا ہے اور اصل اسناد علی بن الحسین۔ سے مروی ہے نہ کہ علی بن ابی طالب سے۔ اور روایت مرسل ہے۔
17408- عن عبد الله بن نافع عن عاصم بن عمر بن حفص عن جعفر ابن محمد عن أبيه عن علي بن أبي طالب "أن النبي صلى الله عليه وسلم والحسن والحسين كانوا يتختمون في شمالهم". "ابن النجار والظاهر أنه وقع في الإسناد وهم وإنه عن علي بن الحسين لا عن علي بن أبي طالب فيكون مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
حضرت علی (رض) کی انگوٹھی کا نقش
17409 جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نقش نعم القادر اللہ تھا۔ اللہ بہترین قادر ہے۔
اور حضرت حسین (رض) کی انگوٹھی کا نقش عقلت فاعمل تھا (تو سمجھ گیا ہے اب عمل کر) ۔ الدینوری
17409 جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نقش نعم القادر اللہ تھا۔ اللہ بہترین قادر ہے۔
اور حضرت حسین (رض) کی انگوٹھی کا نقش عقلت فاعمل تھا (تو سمجھ گیا ہے اب عمل کر) ۔ الدینوری
17409- عن جعفر بن محمد عن أبيه "أن خاتم علي بن أبي طالب كان من ورق نقشه نعم القادر الله، وكان خاتم الحسين عقلت فاعمل". "الدينوري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17410 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درمیانی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔ الکجی
17410- عن علي قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التختم في الوسطى". "الكجي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17411 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منع فرمایا کہ میں انگوٹھی اس میں یا اس میں پہنوں، یعنی انگوٹھے، اس کے برابر اور اس کے برابر (درمیانی والی) تینوں انگلیوں میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد ، الحمیدی، مسند احمد، العدنی ، البخاری، مسلم، ابوداؤد، الترمذی، النسائی، ابن ماجہ، مسناء ابی یعلی، الکجی ، ابوعوانہ، ابن مندہ فی غرائب شعبۃ، ابن حبان، شعب الایمان للبیہقی
17411- عن علي قال: " نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أجعل الخاتم في هذه أو في هذه لإصبعه السبابة والإبهام والوسطى". "ط والحميدي، حم والعدني خ م د ت ن هـ ع والكجي وأبو عوانة وابن منده في غرائب شعبة حب هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17412 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔
ابوداؤد، الترمذی فی الشمائل، النسائی ، ابن حبان، شعب الایمان للبقہی
ابوداؤد، الترمذی فی الشمائل، النسائی ، ابن حبان، شعب الایمان للبقہی
17412- عن علي قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يتختم في يمينه". "د ت في الشمائل ن حب هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17413 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی اندر کی جانب رکھتے تھے۔ الضیاء للمقدسی
17413- عن علي قال: " كان النبي صلى الله عليه وسلم يلبس خاتمه في يمينه ويجعل فصه مما يلي باطن كفه". "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17414 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے کی انگوٹھی ، سخت لباس درندوں کی کھالیں پہننے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد، الترمذی، حسن صحیح، النسائی، ابن ماجہ، الطحاوی، ابن حبان، البخاری، مسلم، السنن لسعید بن منصور
17414- عن علي قال: "نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن خاتم الذهب وعن لبس القسي وعن الميثرة الحمراء". "د ت وقال: حسن صحيح، ن هـ والطحاوي حب ق ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17415 حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو سونے کی انگوٹھی پہنے دیکھا آپ نے فرمایا : اس کو پھینک دے۔ پھر اس نے لوہے کی انگوٹھی پہن لی۔ آپ نے فرمایا : یہ اس سے زیادہ بری ہے۔ پھر اس نے چاندی کی انگوٹھی پہن لی۔ اس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکوت فرمایا۔ الجند یسابوری
17415- عن عمر بن الخطاب " أن النبي صلى الله عليه وسلم أبصر على رجل خاتما من ذهب فقال: ألق هذا عنك، فاتخذ خاتما من حديد، فقال: هذا شر منه فاتخذ خاتما من فضة، فسكت عنه النبي صلى الله عليه وسلم". "الجنديسابوري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17416 حضرت عمر بن عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) کی انگوٹھی کا نقش تھا : آمنت بالذی خلق فسوی، میں ایمان لایا اس ذات پر جس نے پیدا کیا اور ٹھیک ٹھیک بنایا۔
ابن عساکر
ابن عساکر
17416- عن عمرو بن عثمان بن عفان قال: "كان نقش خاتم عثمان آمنت بالذي خلق فسوى". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننا
17417 ابوجعفر (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کی انگوٹھی کا نقش تھا الملک للہ، بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔ الجامع لعبد الرزاق، ابن سعد، ابن عساک
17417- عن أبي جعفر قال: "كان نقش خاتم علي: الملك لله". "عب وابن سعد كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17418 (مسند صدیق (رض)) زہری (رح) سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر حضرت ابوبکر (رض) اپنے والد (حضرت ابی قحافہ (رض)) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے کر آئے۔ ابوقحافہ (رض) کے سر اور ڈاڑھی کے بال سفید تھے۔ گویا سفید پھولوں والا درخت ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے بزرگ کو آنے کی زحمت دی۔ میں خود چل کر ان کے پاس چلا جاتا ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو خضاب لگاؤ اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرنا۔ الحارث
17418- "مسند الصديق" عن الزهري "أن أبا بكر أتى النبي صلى الله عليه وسلم بأبيه يوم فتح مكة وهو أبيض الرأس واللحية فكان رأسه ولحيته ثغامة بيضاء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تركت الشيخ حتى أكون أنا آتيه؟ ثم قال: اخضبوه وجنبوه السواد". "الحارث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17419 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) مہندی اور کتم (وسمہ) سے خضاب کرتے تھے۔ موطا امام مالک، سفیان بن عیینہ فی جامع، ابن سعد، ابن ابی شیبہ
17419- عن عائشة "أن أبا بكر كان يصبغ بالحناء والكتم". "مالك وسفيان بن عيينة في جامعه وابن سعد، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17420 قیس بن ابی حازم سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) ہمارے پاس تشریف لاتے تو آپ کی ریش مبارک تیز سرخی کی وجہ سے عرفج (تیزی سے آگ پکڑنے والے) درخت کی آگ محسوس ہورہی تھی۔ آپ نے مہندی اور کتم کا خضاب کیا ہوا تھا۔ ابن سعد، ابن ابی شیبہ
17420- عن قيس بن أبي حازم قال: "كان أبو بكر يخرج إلينا وكأن لحيته ضرام عرفج من شدة الحمرة من الحناء والكتم". "ابن سعد، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17421 ابوجعفر انصاری سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوبکر (رض) کو دیکھا کہ آپ کا سر اور ڈاڑھی جھاؤ کے درخت کا (جلتا ہوا) انگارہ محسوس ہورہا تھا۔ ابن سعد
17421- عن أبي جعفر الأنصاري قال: "رأيت أبا بكر الصديق ورأسه ولحيته كأنها جمرة الغضا". "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17422 حضرت عمر (رض) کو ان کی باندی نے ڈاڑھی خضاب کرنے کے لیے خضاب پیش کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تو میرا نور بجھانا چاہتی ہے جس طرح فلاں نے اپنے نور کو بجھا لیا ہے۔
مستدرک الحاکم، ابونعیم فی المعرفۃ
مستدرک الحاکم، ابونعیم فی المعرفۃ
17422- عن عمر "أنه عرضت له جاريته أن تصبغ لحيته، فقال: ما أراك إلا أن تطفئي نوري كما يطفئ فلان نوره". "ك وأبو نعيم في المعرفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17423 ابو قبیل معافری سے مروی ہے کہ حضرت عمرو بن العاص حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس حاضر ہوئے حضرت عمرو بن العاص (رض) نے اپنا سر اور ڈاڑھی سیا رنگ میں خضاب کر رکھی تھیں۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے پوچھا : تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا : میں عمرو بن العاص ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے تو تمہارا بڑھاپے کا حال یاد ہے اور آج تو تو جوان نظر آرہا ہے۔ میں تم کو تاکید کرتا ہوں کہ میرے پاس سے نکلتے ہی اس سیاہی کو دھودو۔ ابن عبدالحکم فی فتوح مصر
17423- عن أبي قبيل المعافري قال: "دخل عمرو بن العاص على عمر بن الخطاب وقد صبغ رأسه ولحيته بالسواد، فقال عمر: من أنت؟ فقال: أنا عمرو بن العاص قال: فقال عمر: عهدي بك شيخا فأنت اليوم شاب عزمت عليك إلا ما خرجت فغسلت هذا السواد". "ابن عبد الحكم في فتوح مصر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17424 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) اسلام میں اپنے بڑھاپے (کے سفید رنگ) کو تبدیل نہ کرتے تھے۔ پوچھا گیا : یا امیر المومنین ! آپرنگ کیوں نہیں بدلتے ؟ فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو اسلام میں بوڑھا ہوجائے یہ (بڑھاپا اور سفیدی) اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔ لہٰذا میں اپنے بڑھاپے کو بدلنے والا نہیں ہوں۔ ابونعیم فی المعرفۃ
17424- عن ابن عمر "أن عمر بن الخطاب كان لا يغير شيبته في الإسلام فقيل له: يا أمير المؤمنين ألا تغير؟ فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من شاب شيبة في الإسلام كانت له نورا يوم القيامة وما أنا بمغير شيبتي". "أبو نعيم في المعرفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17425 قتادہ (رض) سے منقول ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے جس کو خضاب لگایا گیا وہ ابوقحافہ (رض) تھے ان کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا گیا تو ان کا سر سفید پھولوں والا درخت محسوس ہورہا تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کسی چیز کے ساتھ تبدیل کرو اور سیاہی سے اجتناب کرو۔ ابن ابی شیبہ
17425- عن قتادة قال: "أول مخضوب خضب في الإسلام أبو قحافة أتي به النبي صلى الله عليه وسلم ورأسه مثل الثغامة، فقال: غيروه بشيء وجنبوه السواد". "ش".
তাহকীক: