কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
زینت اور آراستگی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩ টি
হাদীস নং: ১৭৪২৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17426 بنی ھبار کے مولیٰ اسحاق بن الحارث سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوالدرداء (رض) کو زرد رنگ کا خضاب کیے ہوئے دیکھا ، ان پر ایک چھوٹی ٹوپی تھی اور اس کے اوپر عمامہ تھا جس کا شملہ کاندھوں پر جھول رہا تھا۔ ابن عساکر
17426- عن إسحاق بن الحارث مولى بني هبار قال: "رأيت أبا الدرداء يخضب بالصفرة ورأيت عليه قلنسوة مضربة صغيرة ورأيت عليه عمامة قد ألقاها على كتفيه، وفي لفظ: قد أرخى لها بين كتفيه". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17427 عروۃ بن رویم سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے زمانے میں ابن قرط حمص کا گورنر تھا۔ حضرت عمر (رض) کو خبر پہنچی کہ ایک دلہن ہودج (ڈولی) میں بٹھا کر لائی گئی ہے اس کے ساتھ آگ جلانے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ آپ (رض) نے ہودج توڑ دیا اور آگ بجھادی۔ پھر صبح کو منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمدوثنا کے بعد فرمایا :
میں اہل صفہ کے ساتھ تھا وہ مسجد نبوی (رض) میں مساکین تھے۔ ابوجندل نے امامہ سے نکاح کیا تو دو بڑے لگن کھانے کے بنوائے تھے جو کھانے سے بھرے ہوئے تھے۔ ہم نے کھانا کھایا اور اللہ کی حمدوثناء کی۔ جبکہ گزشتہ رات لوگ آگ کو ساتھ اٹھا کر لاتے ہیں۔ اور اہل کفر کی سنت پر عمل کیا ہے۔
ابراہیم (علیہ السلام) جب بوڑھے ہوئے تو سفیدی کو نور سمجھا اور اس پر اللہ کی حمد کی، جبکہ ابن الحرانیہ اپنا نور بجھا دیا ہے اور اللہ پاک بھی قیامت کے دن اس کا نور بجھائے گا ابن الحرانیہ اہل حمص میں سے پہلا شخص تھا جس نے سیاہ خضاب لگایا تھا۔ ابن عساکر
میں اہل صفہ کے ساتھ تھا وہ مسجد نبوی (رض) میں مساکین تھے۔ ابوجندل نے امامہ سے نکاح کیا تو دو بڑے لگن کھانے کے بنوائے تھے جو کھانے سے بھرے ہوئے تھے۔ ہم نے کھانا کھایا اور اللہ کی حمدوثناء کی۔ جبکہ گزشتہ رات لوگ آگ کو ساتھ اٹھا کر لاتے ہیں۔ اور اہل کفر کی سنت پر عمل کیا ہے۔
ابراہیم (علیہ السلام) جب بوڑھے ہوئے تو سفیدی کو نور سمجھا اور اس پر اللہ کی حمد کی، جبکہ ابن الحرانیہ اپنا نور بجھا دیا ہے اور اللہ پاک بھی قیامت کے دن اس کا نور بجھائے گا ابن الحرانیہ اہل حمص میں سے پہلا شخص تھا جس نے سیاہ خضاب لگایا تھا۔ ابن عساکر
17427- عن عروة بن رويم قال: "كان ابن قرط واليا على حمص في زمان عمر بن الخطاب فبلغه أن عروسا حملت في هودج وحمل معها النيران فكسر الهودج وأطفأ النيران ثم أصبح فصعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: إني كنت مع أهل الصفة وهم مساكين في مسجد النبي صلى الله عليه وسلم وإن أبا جندل نكح أمامة فصنع لها جفنتان من طعام قد ملئتا فأكلنا وحمدنا الله وإن أهل فلان البارحة حملوا النار واستنوا بسنة أهل الكفر وإن إبراهيم لما شاب رآه نورا فحمد الله عليه وإن ابن الحرانية أطفأ نوره والله مطفئه يوم القيامة وكان ابن الحرانية أول من صبغ من أهل حمص بالسواد". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17428 عبدالرحمن بن عائذ الثمانی سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ڈاڑھی کو بیری کے پتوں کے ساتھ رنگتے تھے اور عجمیوں کی مخالفت کا حکم دیتے تھے۔ ابن عساکر
17428- عن عبد الرحمن بن عائذ الثمالي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغير لحيته بماء السدر وكان يأمر بالتغيير مخالفة الأعاجم". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17429 عبید بن جریج سے مروی ہے کہ انھوں نے حضرت ابن عمر (رض) کو زردرنگ کا خضاب کرتے دیکھا۔ اور آپ (رض) فرما رہے تھے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی رنگتے تھے اور آپ (رض) نے فرمایا : اے بھتیجے ! وہ چند سفید بال تھے یہاں کے ، (ڈاڑھی بچہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا) ۔ مسند ابی یعلی، ابن عساکر
17429- عن عبيد بن جريج "أنه رأى ابن عمر يخضب بالصفرة ويخبر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصبغ وقال: يا ابن أخي ذلك الشيب إنما كانت شعرات بيض وأشار إلى عنفقته". "ع كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17430 حسان بن ابی بابر اسلمی سے مروی ہے کہ ہم طائف میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ کچھ نے اپنی ڈاڑھیوں کو زرد رنگ میں اور کچھ نے سرخ رنگ میں رنگا ہوا تھا تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : مرحبا زرد رنگ والوں کو اور سرخ رنگ والوں کو۔ الحسن بن سفیان، ابن ابی عاصم فی الوحدان، البغوی، الباوردی، ابن السکن
ابن السکن فرماتے ہیں : اس کی سند میں نظر ہے۔ ابن قانع، الکبیر للطبرانی ، ابونعیم
ابن السکن فرماتے ہیں : اس کی سند میں نظر ہے۔ ابن قانع، الکبیر للطبرانی ، ابونعیم
17430- عن حسان بن أبي جابر السلمي قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم بالطائف فرأى قوما قد صفروا لحاهم وآخرين قد حمروها فسمعته يقول: مرحبا بالمصفرين والمحمرين". "الحسن بن سفيان وابن أبي عاصم في الوحدان والبغوي والباوردي وابن السكن وقال: في إسناده نظر، وابن قانع، طب وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17431 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ڈاڑھی کو زرد رنگ کا خضاب کیا، حالانکہ آپ کے بیس بال صرف سفید ہوتے تھے۔ ابن عساکر
17431- عن أنس "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صفر لحيته وما فيها عشرون شعرة بيضاء". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17432 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مدینہ) میں تشریف لائے تو آپ کے اصحاب میں ابوبکر (رض) کے سوا کوئی سفید بالوں والا ن تھا چنانچہ انھوں نے بھی مہندی اور کتم کے ساتھ خضاب کرلیا۔ ابن سعد، ابن عساکر
17432- عن أنس قال: "قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس في أصحابه اشمط غير أبي بكر فغلفها بالحناء والكتم". "ابن سعد كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17433 اسحاق بن الحارث قریشی سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے عمیر بن جابر اور اشرس بن غاضرۃ کندی کو مہندی اور کتم (وسمہ) کے ساتھ خضاب لگائے دیکھا۔ یہ دونوں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحبت یافتہ صحابی تھے۔ ابن ابی خیثمہ البغوی، ابن مندہ، ابونعیم
17433- عن إسحاق بن الحارث القرشي قال: "رأيت عمير بن جابر وأشرس بن غاضرة الكندي وكانت لهما صحبة يخضبان بالحناء والكتم". "ابن أبي خيثمة والبغوي وابن منده وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17434 حمید (رح) سے مروی ہے کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے پوچھا : کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خضاب لگایا تھا ؟ انھوں نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بڑھاپا نہیں پہنچا تھا لیکن ابوبکر (رض) نے مہندی اور کتم کا خضاب لگایا اور عمر (رض) نے صرف مہندی کا خضاب لگایا۔ ابن سعد، ابونعیم
17434- عن حميد قال: "سألت أنس بن مالك أخضب النبي صلى الله عليه وسلم؟ قال: لم يصبه الشيب ولكن خضب أبو بكر بالحناء والكتم، وخضب عمر بالحناء". "ابن سعد وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17435 محمد بن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ حضرت انس (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خضاب کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ تو انھوں نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صرف معمولی بال سفید ہوئے تھے۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے مہندی اور کتم کے ساتھ خضاب لگایا۔ ابن سعد، ابونعیم
17435- عن محمد بن سيرين قال: "سئل أنس عن خضاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن شاب إلا يسيرا ولكن أبا بكر وعمر خضبا بعده بالحناء والكتم". "ابن سعد وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17436 عباس بن سہل بن سعد الساعدی سے مروی ہے فرمایا : میرے والد اپنی سفید ڈاڑھی اور سفید سر کو تبدیل نہ کرتے تھے۔ ابن مندہ ابن عساکر
17436- عن عباس بن سهل بن سعد الساعدي قال: "كان أبي لا يغير شيبه أبيض الرأس واللحية". "ابن منده كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17437 ابن شہاب (رح) سے مروی ہے کہ سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں حضرت سعد بن ابی وقاص کالے رنگ کا خضاب کرتے تھے۔ ابونعیم
17437- عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب "أن سعد بن أبي وقاص كان يخضب بالسواد". "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17438 محمد بن الحنیفہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) نے مہندی کا خضاب کیا پھر چھوڑ دیا۔ ابن سعد، ابونعیم فی المعرفۃ
17438- عن محمد بن الحنفية، قال: "اختضب علي بالحناء مرة ثم ترك". "ابن سعد وأبو نعيم في المعرفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17439 عبدالرحمن بن سعد جو اسود بن سفیان کے غلام تھے فرماتے ہیں : میں نے حضرت عثمان (رض) کو زرد رنگ کا خضاب لگائے دیکھا۔ ابن سعد
17439- عن عبد الرحمن بن سعد مولى الأسود بن سفيان قال: "رأيت عثمان بن عفان مصفرا". "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب
17440 صلت سے مروی ہے کہ میں نے عثمان بن عفان کو خطبہ دیتے دیکھا آپ کے جسم پر سیاہ قمیص تھی اور آپ نے مہندی کا خضاب کیا ہوا تھا۔ ابن سعد
17440- عن الصلت قال: "رأيت عثمان بن عفان يخطب وعليه خميصة سوداء وهو مخضوب بحناء". "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الترجیل۔۔۔کنگھی کرنا
17441 جابر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوقتادہ (رض) کے شانوں تک بال تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کا اکرام کیا کر۔ چنانچہ آپ (رض) ایک دن چھوڑ کر ایک دن کنگھی کرتے تھے۔ ابن عساکر
17441- عن جابر قال: "كانت لأبي قتادة جمة فقال له رسول الله: "أكرمها"، فكان يرجلها غبا". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آئینہ دیکھنا
17442 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب آئینے میں دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے :
الحمد للہ الذی سوی خلقی فعدلہ و کرم صورۃ وجھی فحسنھا وجعلنی من المسلمین،
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے میری تخلیق برابر کی، میرے چہرے کو عزت بخشی اور اس کو حسین شکل بنایا اور مجھے مسلمانوں میں سے بنایا۔ ابن السنی والدیلمی
الحمد للہ الذی سوی خلقی فعدلہ و کرم صورۃ وجھی فحسنھا وجعلنی من المسلمین،
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے میری تخلیق برابر کی، میرے چہرے کو عزت بخشی اور اس کو حسین شکل بنایا اور مجھے مسلمانوں میں سے بنایا۔ ابن السنی والدیلمی
17442- عن أنس قال: " كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أبصر وجهه في المرآة قال: الحمد لله الذي سوى خلقي فعدله وكرم صورة وجهي فحسنها وجعلني من المسلمين". "ابن السني والديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17443 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے ہانڈی کے ابلتے ہوئے پانی سے ملا جائے یہ مجھے زعفران کے ملنے سے محبوب ہے۔ ابو عبید فی الغریب
17443- عن علي قال: "لأن أطلي بجواء قدر أحب إلي من أن أطلي بزعفران". "أبو عبيد في الغريب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17444 حضرت علی (رض) سے مروی ہے روئے زمین کی خوشبوؤں میں سے اچھی خوشبو سر زمین ہند کی ہے۔ یہییں آدم (علیہ السلام) اترے تھے اور یہاں کے درخت جنت کی خوشبو سے پیدا فرمائے گئے تھے۔ ابن جریر، البیقہی فی البعث، ابن عساکر
17444- عن علي قال: "أطيب ريح الأرض الهمد هبط بها آدم وخلق شجرها من ريح الجنة". "ابن جرير، هق في البعث كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشبو
17445 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک قوم کے پاس سے گزرے ان میں سے ایک آدمی نے خلوق خوشبو لگا رکھی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سلام کیا اور اس شخص سے منہ پھیرلیا ۔ آدمی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ نے سب پر سلام کیا اور مجھ سے منہ کیوں پھیرلیا ؟ ارشاد فرمایا تیری پیشانی پر انگارہ ہے۔ الاوسط للطبرانی
17445- عن علي: " مر النبي صلى الله عليه وسلم بقوم فيهم رجل متخلق فسلم عليهم وأعرض عن الرجل فقال له الرجل يا رسول الله سلمت عليهم وأعرضت عني؟ فقال: إن بين عينيك لجمرة". "طس".
তাহকীক: