কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫২ টি

হাদীস নং: ১৮৫০৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نام اور کنیت :
18507 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات پسند تھی کہ آدمی کو اچھے نام اور اچھی کنیت کے ساتھ پکارا جائے ۔ (مسند ابی یعلی ، الکبیر للطبرانی ، ابن قانع ، الباوردی عن حنظلۃ بن حذیم)
18507- كان يعجبه أن يدعى الرجل بأحب أسمائه إليه وأحب كناه. "ع طب وابن قانع والباوردي عن حنظلة بن حذيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫০৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نام اور کنیت :
18508 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برے نام کو بدل دیا کرتے تھے ۔ (ترمذی عن عائشۃ (رض))
18508- كان يغير الاسم القبيح. "ت عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫০৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نام اور کنیت :
18509 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کسی کا نام یاد نہ رہتا تو اس کو یا ابن عبداللہ (اے بندہ خدا کے بیٹے ! ) کہہ کر پکارتے ۔ (ابن السنی عن حارثہ الانصاری)
18509- كان إذا لم يحفظ اسم الرجل قال: يا ابن عبد الله. "ابن السني عن حارثة الأنصاري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫১০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میت کی تدفین :
18510 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی میت کو لحد میں اتارتے تو یہ دعا پڑھتے : ” بسم اللہ وباللہ وفی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ “۔ ہم اللہ کے نام سے اللہ کی مدد کے ساتھ ، اللہ کی راہ میں اور رسول اللہ کی ملت پر اس کو قبر میں اتارتے ہیں۔ (ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ، السنن للبیہقی عن ابن عمرو (رض))
18510- كان إذا وضع الميت في لحده قال: بسم الله وبالله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله. "د ت هـ هق عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫১১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میت کی تدفین :
18511 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی جنازے میں حاضر ہوتے تو اکثر خاموش رہتے اور دل ہی دل میں کچھ پڑھتے رہتے ۔ (ابن المبارک ، ابن سعد عن عبدالعریز بن ابی داؤد مرسلا)
18511- كان إذا شهد الجنازة أكثر الصمات وأكثر حديث نفسه.

"ابن المبارك وابن سعد عن عبد العزيز بن أبي رواد مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫১২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میت کی تدفین :
18512 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی جنازے میں حاضر ہوتے تو آپ پر غم کی کیفیت طاری ہوتی اور اکثر پست آواز میں کچھ پڑھتے رہتے ۔ (الکبیر للطبرانی عن ابن عباس (رض))
18512- كان إذا شهد جنازة رئيت عليه كآبة وأكثر حديث نفسه.

"طب عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫১৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میت کی تدفین :
18513 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی جنازے کی مشایعت فرماتے تو آپ کا رنج وغم بڑھ جاتا کلام کم ہوجاتا اور دل ہی دل میں کثرت کے ساتھ (دعائیں) پڑھتے ۔ (الحاکم فی الکنی عن عمران بن حصین)
18513- كان إذا شيع جنازة علا كربه وأقل الكلام وأكثر حديث نفسه.

"الحاكم في الكنى عن عمران بن حصين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫১৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میت کی تدفین :
18514 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میت کی تدفین سے فارغ ہوتے تو اس پر کھڑے ہوجاتے اور ارشاد فرماتے : اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اللہ سے اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو کیونکہ ابھی اس سے سوال جواب ہوں گے ۔ (ابوداؤد عن عثمان (رض))
18514- كان إذا فرغ من دفن الميت وقف عليه فقال: استغفروا لأخيكم وسلوا له التثبيت، فإنه الآن يسأل. "د عن عثمان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫১৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبروں کی زیارت :
18515 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب ایسے شخص کو جنازہ لایا جاتا جس نے جنگ بدر اور (شجرہ) صلح حدیبیہ میں شرکت کی ہوتی تو اس پر نماز جنازہ پڑھتے ہوئے تو تکبیریں کہتے ، اور اگر ایسا جنازہ لایا جاتا جس نے جنگ بدر میں یا صلح حدیبیہ میں کسی بھی ایک معرکہ میں شرکت کی ہوتی تو اس پر نماز جنازہ پڑھتے ہوئے سات تکبیریں کہتے اور اگر ایسا کسی کا کوئی جنازہ لایا جاتا جس نے جنگ بدر یا صلح حدیبیہ میں بھی شرکت نہ کی ہوتی تو اس پر چار تکبیریں کہتے ۔ (ابن عساکر عن جابر (رض))
18515- كان إذا أتي بامرئ قد شهد بدرا والشجرة كبر عليه تسعا، وإذا أتي به قد شهد بدرا ولم يشهد الشجرة أو شهد الشجرة ولم يشهد بدرا كبر عليه سبعا، وإذا أتي به لم يشهد بدرا ولا الشجرة كبر عليه أربعا. "ابن عساكر عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫১৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبروں کی زیارت :
18516 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جب قبرستان پر سے گزر ہوتا تو اہل قبرستان کو مخاطب ہو کر یہ دعا پڑھتے : السلام علیکم اھل الدیار من المؤمنین والمؤمنات والمسلمین والمسلمات والصالحین والصالحات وانا ان شاء اللہ بکم لا حقون “۔
18516- كان إذا مر بالمقابر قال: السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمؤمنات والمسلمين والمسلمات والصالحين والصالحات، وإنا إن شاء الله بكم لاحقون. "ابن السني عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫১৭
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبروں کی زیارت :
اے (بوسیدہ) گھروں والو ! مؤمن مردو اور مؤمن عورتو ! مسلمان مردو اور مسلمان عورتو ! تم سب پر سلام ہو ۔ انشاء اللہ ہم بھی تم لوگوں کے ساتھ ملنے والے ہیں۔ (ابن السنی عن ابوہریرہ (رض))
18517- كان إذا دخل الجبانة يقول: السلام عليكم أيتها الأرواح الفانية، والأبدان البالية، والعظام النخرة، التي خرجت من الدنيا وهي بالله مؤمنة، اللهم أدخل عليهم روحا منك وسلاما منا. "ابن السني عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫১৮
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرقات :
18517 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب قبرستان میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے : ” السلام علیکم ایتھا الارواح الفانیۃ والابدان البالیۃ والعظام النخرۃ التی خرجت من الدنیا وھی باللہ مؤمنۃ اللہم ادخل علیھم روحا منک وسلاما منا “۔ اے فناء ہونے والی روحو ! بوسیدہ جسمو ! ریزہ ریزہ ہوجانے والی ہڈیو ! جو دنیا سے ایمان کی حالت میں نکلے ہو تو سب پر سلام ہو۔ اے اللہ ! ان پر اپنی طرف سے رحمت اور ہماری طرف سے سلام نازل فرما ۔ (ابن السنی عن ابن مسعود (رض))
18518- كان يخيط ثوبه، ويخصف نعله، ويعمل ما يعمل الرجال في بيوتهم.

"حم عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫১৯
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرقات :
18518 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے کپڑے سی لیا کرتے تھے ۔ اپنے جوتے گانٹھ لیتے تھے اور وہ تمام کام کرلیا کرتے تھے جو مرد اپنے گھروں میں کرتے ہیں۔ (مسند احمد عن عائشۃ (رض))
18519- كان يرى بالليل في الظلمة كما يرى بالنهار في الضوء.

"البيهقي في الدلائل عن ابن عباس، عد عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫২০
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرقات :
18519 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کی تاریکی میں اسی طرح دیکھتے تھے جس طرح دن کے اجالے میں دیکھتے تھے ۔ (البیہقی فی الدلائل عن ابن عباس (رض) الکامل لابن عدی عن عائشۃ (رض))
18520- كان يعمل عمل البيت، وأكثر ما يعمل الخياطة. "ابن سعد عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫২১
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرقات :
18520 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر کے کام کرلیتے تھے اور اکثر سینے پرونے کا کام کرتے تھے ۔ (ابن سعد عن عائشۃ (رض))
18521- كان يغسل ثوبه، ويحلب شاته، ويخدم نفسه. "حل عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫২২
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرقات :
18521 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے کپڑے دھو لیتے تھے ، اپنی بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور اپنے کام خود انجام دے لیتے تھے ۔ (حلیۃ الاولیاء عن عائشۃ (رض))
18522- كان يقبل بوجهه وحديثه على شر القوم يتألفه بذلك.

"طب عن عمرو بن العاص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫২৩
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرقات :
18522 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بری اور شریر قوم کے ساتھ بھی ہنس مکھ اور خوش کلام ہو کر ملتے تھے تاکہ ان کے دل اسلام کی طرف مائل ہوں ۔ (الکبیر للطبرانی عن عمرو بن العاص (رض))
18523- كان يمص اللسان. "الترفقي في جزئه عن عائشة". مر برقم [18348] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫২৪
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کو شیخ جلال الدین سیوطی (رح) نے اپنی کتاب ” جمع الجوامع “ میں ذکر فرمایا ۔

باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18523 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (اپنی بیوی کی) زبان کو چوستے تھے ۔ (الترفقی فی جزء ہ عن عائشۃ (رض))
18524- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي هريرة قال: قدم راهب على قعود له فقال: دلوني على منزل أبي بكر الصديق، فدل عليه، فقال: صف لي النبي صلى الله عليه وسلم، فقال أبو بكر: لم يكن بالطويل ولا بالقصير ربعة، أبيض اللون، مشرب بحمرة، جعد ليس بالقطط شارع الأنف، واضح الجبين، صلت الخدين، مقرون الحاجبين، أدعج العينين، مفلج الثنايا كأن عنقه إبريق فضة، بين كتفيه خاتم النبوة، فقال الراهب: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله وحسن إسلامه. "الزوزني عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫২৫
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18524 ۔۔۔ (مسند سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض)) ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے آپ (رض) فرماتے ہیں ، ایک راہب کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس آیا اور اس نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے گھر کا ٹھکانا پوچھا ، اس کو گھر کی رہنمائی کردی گئی ۔ راہب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی خدمت میں حاضر ہو کر بولا : مجھے نبی (کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حلیہ مبارک) بیان کرو ۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد فرمایا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ بہت لمبے تھے اور نہ کوتاہ قامت ، آپ کی رنگت سرخی مائل گوری تھی ، آپ کے بال قدرے گھنگھریالے تھے ۔ ناک لمبی اور ستواں تھی ۔ پیشانی کشادہ اوفراخ تھی ، رخسار ہموار اور خوبصورت تھے ۔ ابروئیں ، باریک اور لمبی تھیں ۔ آنکھوں کی سفیدی سفید اور سیاہی انتہائی سیاہ تھی ، سامنے کے دانت قدرے کشادہ تھے ، آپ کی گردن مبارک گویا چاندی کی صراحی تھی ، دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ حلیہ مبارک سن کر راہب (نے اسلام قبول کرلیا اور) بولا : ” اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا رسول اللہ “۔ پھر وہ سابق راہب بہت اچھا مسلمان ثابت ہوا ۔ (الزوزنی ، عبدالرزاق)
18525- عن أبي بكر الصديق قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم واضح الخد. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৫২৬
آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی حلیۃ : ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ مبارکہ کا بیان :
18525 ۔۔۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہموار رخساروں والے (کتابی چہرے کے مالک) تھے ۔ ابن عساکر)
18526- عن أبي بكر الصديق قال: كان وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم كدارة القمر. "أبو نعيم في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক: