কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قصاص کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৭৯ টি

হাদীস নং: ৪০২৫৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠٢٤٥۔۔۔ شعبی سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمربن خطاب (رض) نے ایک نصرانی شخص کے بارے میں لکھا جو اہل حیرہ سے تھاج سے کسی مسلمان نے قتل کردیا تھا کہ اس کے قاتل سے قصاص لیا جائے تو لوگ نصرانی سے کہنے لگے، اسے قتل کرو، تو اس نے کہا ابھی نہیں جب مجھے غصہ آئے گا چنانچہ وہ اسی حالت میں تھے کہ حضرت عمرکاخط آگیا، کہ اس سے اس کا قصاص نہ لینا۔
40245- عن الشعبي قال: كتب عمر بن الخطاب في رجل من أهل الحيرة نصراني قتله مسلم أن يقاد صاحبه، فجعلوا يقولون للنصراني: اقتله، قال: لا حتى يأتيني الغضب، فبينما هو على ذلك جاء كتاب عمر بن الخطاب: لا تقده منه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৫৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠٢٤٦۔۔۔ شعبی سے روایت ہے : کہ یہ سنت عمل ہے کہ مسلمان سے کافر کا قصاص نہ لیا جائے۔ رواہ ابن جریر
40246- عن الشعبي قال: من السنة لا يقيد مسلم بكافر."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৬০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠٢٤٧۔۔۔ مسند علی (رض)، حکم سے روایت ہے فرمایا : حضرت علی اور عبداللہ (رض) فرمایا کرتے تھے : کہ جس نے غلام، یہودی، نصرانی یا کسی عورت کو قصداقتل کیا اسے اس کہ بدلہ میں قتل کیا جائے۔ رواہ ابن جریر
40247-"مسند علي" عن الحكم قال: كان علي وعبد الله يقولان: من قتل عبدا أو يهوديا أو نصرانيا أو امرأة عمدا قتل به."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৬১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہدرورائیگاں کی صورتیں
٤٠٢٤٨۔۔۔ مسندالصدیق، ابن ابی ملیکۃ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے آدمی کا ہاتھ کا ٹاجس سے اس کے سامنے کے دانت گرگے تو ابوبکر (رض) نے اسے رائیگاں قراردیا۔ عبدالرزاق ، مصنف ابن ابی شیبہ، بخاری، ابوداؤد، بیھقی
40248- "مسند الصديق" عن بن أبي مليكة أن رجلا عض يد رجل فأندر ثنيته، فأهدرها أبو بكر."عب، ش، خ، د، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৬২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہدرورائیگاں کی صورتیں
٤٠٢٤٩۔۔۔ ابن جریر سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکروعمر (رض) نے اسے باطل قراردیا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
40249- عن ابن جرير أن أبا بكر وعمر أبطلاها."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৬৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہدرورائیگاں کی صورتیں
٤٠٢٥٠۔۔۔ سلیمان بن یسار سے وہ جندب سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے اپنے گھر میں ایک شخص کو پکڑا اور اس کے دانت توڑدیئے، تو حضرت عمرنے اسے ہدرقراردیا۔ رواہ عبدالرزاق
40250- عن سليمان بن يسار عن جندب أنه أخذ في بيته رجلا فرض أنثييه، فأهدره عمر."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৬৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہدرورائیگاں کی صورتیں
٤٠٢٥١۔۔۔ قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنے گھر کسی آدمی کو دیکھا تو اس کی کمر کے تمام مہرے توڑڈالے تو حضرت عمرنے اسے ہدر قراردیا۔ رواہ عبدالرزاق
40251- عن القاسم بن محمد أن رجلا وجد في بيته رجلا فدق كل فقار في ظهره، فأهدره عمر."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৬৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہدرورائیگاں کی صورتیں
٤٠٢٥٢۔۔۔ ابوجعفر سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عثمان (رض) نے فیصلہ فرمایا : کہ جو شخص بھی اندھے کے پاس بیٹھا اور اسے کوئی نقصان پہنچاتو وہ ہد رہے۔ رواہ عبدالرزاق
40252- عن أبي جعفر قال: قضى عثمان: أيما رجل جالس أعمى فأصابه بشيء فهو هدر."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৬৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہدرورائیگاں کی صورتیں
٤٠٢٥٣۔۔۔ شعبی سے روایت ہے فرمایا : ایک نابینا مسلمان تھا تو وہ ایک یہودی عورت کے پاس آیا کرتا تھا وہ اسے کھانا کھلاتی اور پانی پلاتی اور اس کے قریب بیٹھتی اور اسے ہمیشہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں اذیت پہنچاتی، ایک رات جب اس نے اس سے یہ بات سنی تواٹھ کرا س کا کلاگھونٹ دیا اور اسے قتل کرڈالا۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا تو آپ نے اس بارے میں لوگوں کو جمع کیا تو ایک شخص کھڑے ہو کر کہنے لگا وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں اسے اذیت پہنچاتی تھی اور آپ کو گالیاں دیتی اور آپ کی عیب جوئی کرتی تھی اس لیے اس نے اسے قتل کردیاتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا خون رائیگاں قراردیا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ، معلوم ہوا نبی کی توہین کرنے والے کا خون ہدرمعاف ہے۔
40253- عن الشعبي قال: كان رجل من المسلمين أعمى، فكان يأوي إلى امرأة يهودية، وكانت تطعمه وتسقيه، وتحنو إليه وكانت لا تزال تؤذيه في رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما سمع ذلك منها ليلة من الليالي قام فخنقها حتى قتلها، فرفع ذلك إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فنشد الناس في أمرها، فقام الرجل فأخبره أنها كانت تؤذيه في النبي صلى الله عليه وسلم وتسبه وتقع فيه فقتلها لذلك، فأبل النبي صلى الله عليه وسلم دمها."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৬৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہدرورائیگاں کی صورتیں
٤٠٢٥٤۔۔۔ مسندعلی، خلاص بن عمرو سے روایت ہے کہ کچھ لڑکے سردار سردار بننا کھیل رہے تھے ان میں سے ایک لڑکا کا کہنے لگا : بھنگے ! تو اس نے اسے مارا اور لڑکے کے دانت پر لگی جس سے وہ ٹوٹ گیا، تو حضرت علی (رض) نے اسے ضامن قراردیا۔ رواہ ابن جریر
40254- "مسند علي" عن خلاس بن عمرو أن غلمانا كانوا يلعبون الترفلة فقال غلام منهم: حدارى،؟ فضرب فأصاب سن غلام فكسرها، فلم يضمنه علي."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৬৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہدرورائیگاں کی صورتیں
٤٠٢٥٥۔۔۔ مجاہد سے روایت ہے کہ یعلی بن امیہ کا ایک مزدور تھا اس نے کسی آدمی کا ہاتھ کا ٹاتو اس دوسرے شخص نے اپنا ہاتھ کھینچا، جس سے اس کے دانت اکھڑگئے۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی اپنے بائی کو ایسے کاٹتا ہے جیسے نرجانورکاتما ہے پھر بدلہ کا مطالبہ کرتا ہے پھر آپ نے اسے ناکارہ قراردیا۔ رواہ عبدالرزاق
40255- عن مجاهد قال: كان أجير ليعلى بن أمية عض يد رجل فاجتذب الآخر يده فقلع سنه، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: "أيعض أحدكم أخاه عضيض الفحل ثم يريد العقل"! فأبطلها."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৬৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نقصان دہ جانوروں کو مارنا
٤٠٢٥٦۔۔۔ مسندخباب بن الارت، مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتوں کو قتل کے لیے بھیجا تو عصبہ تک جو کتا مجھے نظرآیا میں نے اسے مارڈالا پھر وہاں مجھے ایک کتادکھائی دیا، میں نے اسے قتل کرنے کے لیے ڈرایاتو گھر سے مجھے ایک عورت نے آوازدی : کہ کیا کرنا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتوں کو مارنے کے لیے بھیجا ہے تو وہ کہنے لگی : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس جاؤ اور انھیں بتاؤ کہ میں ایک نابینا عورت ہوں، اور مجھے آنے والوں سے تکلیف ہوتی ہے اور یہ درندوں کو ہٹاتا ہے، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس آیا اور آپ کے اطلاع دی آپ نے فرمایا : واپس جاؤ اور اسے مارڈالو، چنانچہ میں واپس لوٹا اور اسے قتل کردیا۔ رواہ الطبرانی
40256- "من مسند خباب بن الأرت" بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم أقتل الكلاب فخرجت أقتل كل ما لقيت حتى جئت العصبة فإذا الكلب حول بيت فأرعته لأقتله، فنادتني امرأة من البيت فقالت: ما تريد؟ قلت: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم أقتل الكلاب، فقالت: ارجع إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره أني امرأة قد ذهب بصري وأنه يؤذنني بالآتي ويطرد عني السبع، فرجعت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته، فقال: "ارجع فاقتله"، فرجعت فقتلته."طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৭০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نقصان دہ جانوروں کو مارنا
٤٠٢٥٧۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرم میں چھ جانوروں کو مارنے کا حکم دیاچیل کو سانپ بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔ ابن عدی، ابن عساکر
40257- عن ابن عباس قال: أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتل ستة في الحرم: الحدأة، والغراب؛ والحية، والعقرب، والفأرة، والكلب العقور."عد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৭১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کالے کتے کو قتل کرنے کا حکم
٤٠٢٥٨۔۔۔ عبداللہ بن مغفل (رض) سے روایت ہے کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ انور سے خطاب کے وقت درخت کی شاخیں ہٹاتے تھے، آپ نے فرمایا : گرکتے ایک مستقل مخلوق نہ ہوتے تو میں انھیں قتل کرنے کا حکم دے دیتا، البتہ ان میں سے ہر سیاہ کالے کتے کو مارڈالو، جو گھروالے بھی تین کتوں کے علاوہ کوئی کتاباندہ کر رکھتے ہیں تو ان کے اجر وثواب سے روزانہ ایک قیراط کم ہوجاتا ہے ہاں، شکار، کھیت اور بکریوں کا کتامستثنیٰ ہے۔ مسند احمد، ترمذی وقال نسائی، وابن النجار
40258- عن عبد الله بن مغفل قال: إني لممن رفع أغصان الشجرة عن وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يخطب فقال: "لولا أن الكلاب أمة من الأمم لأمرت بقتلها، ولكن اقتلوا منها كل أسود بهيم، وما من أهل بيت يرتبطون كلبا إلا نقص من أجورهم كل يوم قيراط، إلا كلب صيد أو كلب حرث أو كلب غنم"."حم، ت وقال: حسن؛ ن، وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৭২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کالے کتے کو قتل کرنے کا حکم
٤٠٢٥٩۔۔۔ مسند علی (رض) حضرت علی سے روایت ہے فرمایا : کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبیث اور دم کٹے سانپوں اور سیاہ کالے کتوں جن کی آنکھوں کے اوپر دونشان سفیدرنگ کے ہوتے ہیں، کے قتل کرنے کا حکم دیا۔ عقیلی فی الضعفاء
40259- "مسند علي" عن علي: أمرني النبي صلى الله عليه وسلم بقتل الجان من الطفيتين والأبتر، وبقتل الأسود البهيم ذي الغرتين ""عق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৭৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کالے کتے کو قتل کرنے کا حکم
٤٠٢٦٠۔۔۔ جعفر بن محمد سے روایت ہے وہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں : فرمایا : حضرت ابوبکر (رض) نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا اور عبداللہ بن جعفر کا کتا حضرت ابوبکر (رض) کی چارپائی کے نیچے تھا، توجھٹ سے بولے، اباجان ! مراکتا ! تو حضرت ابوب کرنے فرمایا : مرے بیٹے کے کتے کو قتل نہ کرنا، پھر حکم دیا اور اسے پکڑلیا گیا، حضرت ابوب کرنے ان کی والدہ اسماء بنت عمیس سے حضرت جعفر کے بعدشادی کرلی تھی۔ ابن سعد، ابن ابی شیبۃ
40260- عن جعفر بن محمد عن أبيه قال: أمر أبو بكر بقتل الكلاب ولعبد الله بن جعفر كلب تحت سرير أبي بكر فقال: يا أبت! كلبي، فقال: لا تقتلوا كلب ابني، ثم أمر به فأخذ؛ وكان أبو بكر قد خلف على أمه أسماء بنت عميس بعد جعفر."ابن سعد، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৭৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کالے کتے کو قتل کرنے کا حکم
٤٠٢٦١۔۔۔ ابن شہاب (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمرحرم میں سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیتے تھے۔ رواہ مالک
40261- عن ابن شهاب أن عمر بن الخطاب كان يأمر بقتل الحيات في الحرم."مالك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৭৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کالے کتے کو قتل کرنے کا حکم
٤٠٢٦٢۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے : فرمایا : ہر حالت میں تمام سانپوں کو مارڈالو۔ بیھقی، ابن ابی شیبۃ
40262- عن عمر قال: اقتلوا الحيات كلها على كل حال."ق، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৭৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کالے کتے کو قتل کرنے کا حکم
٤٠٢٦٣۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے فرمایا : میں حضرت عثمان کے پاس موجود تھا آپ اپنے خطبہ میں کتوں کے مارنے اور کبوتروں کے ذبح کرنے کا حکم دے رہے تھے۔ ابن احمد، ابن ابی الدنیا فی ذم المالاھی، بیھقی، ابن عساکر
40263- عن الحسن البصري قال: شهدت عثمان يأمر في خطبته بقتل الكلاب وذبح الحمام."عم وابن أبي الدنيا في ذم الملاهي، ق، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৭৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کالے کتے کو قتل کرنے کا حکم
٤٠٢٦٤۔۔۔ اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) منبر پر کہا کرتے تھے : لوگو ! اپنے گھروں میں رہاکرو اور سانپوں کو ڈراؤ اس سے پہلے کے وہ تمہیں ڈرائیں، ان کے مسلمان ہرگز تمہارے سامنے ظاہر نہیں ہوں گے ، اللہ کی قسم ! جب سے ہم نے ان سے دشمنی کی اس وقت سے ان سے صلح نہیں کی۔ نسائی، بخاری فی الادب
40264- عن أسلم قال: كان عمر يقول على المنبر: يا أيها الناس! عليكم مثاويكم ، وأخيفوا الحيات قبل أن تخيفكم، فإنه لن يبدو لكم مسلموها، وإنا والله ما سالمناهم منذ عاديناهن."ن، خ في الأدب".
tahqiq

তাহকীক: