কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قصاص کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৭৯ টি

হাদীস নং: ৪০২৩৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدلہ چکانے کا انوکھاطریقہ
٤٠٢٢٥۔۔۔ (مسندعلی (رض)) ضراربن عبداللہ سے روایت ہے فرمایا : میں حضرت علی (رض) کے ساتھ ساتھ چل رہاتھا کہ ایک لڑکا آیا اور اس نے مجھے طمانچہ ماراتو میں نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور لڑکے کے منہ پر طمانچہ مارنے لگا تو حضرت علی (رض) نے مجھے دیکھ کر فرمایا : بدلہ لو۔ خطیب
40225- "مسند علي" عن ضرار بن عبد الله قال: كنت أمشى بجنبات علي بن أبي طالب فجاء غلام فلطم وجهي فرفعت يدي ألطم وجه الغلام فرآني علي فقال: اقتص."خط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৩৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام سے پہلے کا خون بہامعاف ہے
٤٠٢٢٦۔۔۔ (مسندابان بن سعید (رض)) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جاہلیت کے ہر خون کو ختم کردیا۔ بخاری فی تاریخہ والنزاروابن ابی داؤد، عبدالرزاق والبغوی وابن قانع والباردی و ابونعیم والخطیب فی المتفق والمفترق، قال البغوی : لاتعلم لابان بن سعید مسنداغیرہ
40226- "مسند أبان بن سعيد" إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد وضع كل دم كان في الجاهلية."خ في تاريخه والبزار وابن أبي داود، عب والبغوي وابن قانع والباوردي وأبو نعيم والخطيب في المتفق والمفترق؛ قال البغوي: لا نعلم لأبان بن سعيد مسندا غيره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৪০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام سے پہلے کا خون بہامعاف ہے
٤٠٢٢٧۔۔۔ حضرت عروہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوجہم کو حنین کی غنیمتوں کا نگراں بناکر بھیجا، ادھرابوجہم کو یہ اطلاع ملی کہ مالک بن برصاء یاحارث بن برصاء نے غنیمت میں خیانت کی ہے تو ابوجہم نے انھیں مار کر زخمی کردیاجس سے ان کی ہڈی ٹل گئی وہ شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، اور آپ سے بدلہ کا سوال کرنے لگے، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے تمہیں کسی گناہ پر مارا ہے جو تم نے کیا ہے تمہارے لیے کوئی بدلہ نہیں، البتہ تمہارے لیے سو بکریاں ہیں، لیکن وہ راضی نہ ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے لیے دو سو بکریاں ہیں، پھر بھی وہ راضی نہیں ہوئے تو آپ نے فرمایا : تمہارے لیے تین سو بکریاں ہیں لیکن میں اس میں اضافہ نہیں کروں گا چنانچہ وہ شخص راضی ہوگیا۔ رواہ عبدالرزاق
40227- عن عروة أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث أبا جهم على غنائم حنين، فبلغ أبا جهم أن مالك بن البرصاء أو الحارث بن البرصاء غل من الغنائم، فضربه أبو جهم فشجه منقولة فأتى المضروب النبي صلى الله عليه وسلم يسأله القود، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ضربك على ذنب أذنبته لا قودلك، لك مائة شاة"، فلم يرض، قال: "فلك مائتا شاة"، فلم يرض، قال: "فلك ثلاثمائة لا أزيدك"، فرضى الرجل."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৪১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کا قصاص
٤٠٢٢٨۔۔۔ عمروبن شعیب اپنے والد سے اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں : کہ حضرت ابوبکروعمر (رض) آدمی کو اپنے غلام کی وجہ سے قتل نہیں کرتے تھے، البتہ اسے سوکوڑے مارتے تھے، اور ایک سال قیدخانہ میں رکھتے اور سال بھر مسلمانوں کے ساتھ جو حصہ اس کا بنتا تھا اس سے محروم رکھتے تھے۔ یہ تب ہے جب آقا اسے جان بوجھ کر قتل کرے۔ رواہ عبدالرزاق
40228- عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: كان أبو بكر وعمر لا يقتلان الرجل بعبده، كانا يضربانه مائة، ويسجنانه سنة، ويحرمانه سهمه مع المسلمين سنة - إذا قتله متعمدا."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৪২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کا قصاص
٤٠٢٢٩۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا جس نے اپنے غلام کو جان بوجھ کر قتل کیا تھا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے سوکوڑے لگوائے اور سال کے لیے اسے جلاوطن کیا اور مسلمانوں میں سے اس کا حصہ ختم کیا اور اس سے بدلہ نہیں لیا۔ مصنف بن ابی شیبہ، ابن ماجہ، ابویعلی، والحارث، حاکم، بیھقی
40229- عن علي أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم برجل قتل عبده متعمدا، فجلده رسول الله صلى الله عليه وسلم مائة، ونفاه سنة، ومحا سهمه من المسلمين، ولم يقده به."ش، هـ, ع، والحارث ك، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৪৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کا قصاص
٤٠٢٣٠۔۔۔ (مسند سمرۃ بن جندب (رض)) عبداللہ بن سندر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، کہ زنباع بن سلامہ جذامی کا ایک غلام تھا تو انھوں نے اس پر مشقت ڈالی اور اسے کنکری ماری جس سے اس کی ناک کٹ گئی، تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور ساراواقعہ کہہ سنایاتو آپ نے زنباع کو سخت ڈاننا اور اس غلام کو ان سے آزاد کر الیاتو انھوں نے عرض کی یارسوں اللہ ! مجھے وصیت کریں، آپ نے فرمایا، میں تمہیں ہر مسلمان کے بارے میں وصیت کرتا ہوں۔ رواہ ابن عساکر
40230- "من مسند سمرة بن جندب" عن عبد الله بن سندر عن أبيه إنه كان عبدا لزنباع بن سلامة الجذامي فعنت عليه فحصاه وجدعه، فأتي النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره، فأغلظ على زنباع القول فأعتقه منه، فقال: أوص بي يا رسول الله! قال: "أوصي بك كل مسلم"."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৪৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کا قصاص
٤٠٢٣١۔۔۔ (مسند عبداللہ بن عمرو، زنباع) ابوروح بن زنباع (رض) نے اپنے غلام کو اپنی لونڈی کے ساتھ مشغول پایاتو اس کا ذکر اور ناک کاٹ دی، وہ غلام نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس بات کا ذکر کیا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : ایسا کرنے پر تمہیں کس نے مجبور کیا ؟ اس نے کہا : بس ایسے ویسے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : جاؤ تم آزاد ہو۔ رواہ عبدالرزاق
40231- "مسند عبد الله بن عمرو" إن زنباعا أبا روح بن زنباع وجد غلاما له مع جاريته فقطع ذكره وجدع أنفه، فأتى العبد النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "ما حملك على ما فعلت"؟ قال: كذا وكذا، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم "اذهب فأنت حر". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৪৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کا قصاص
٤٠٢٣٢۔۔۔ مکحول سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت (رض) نے ایک نبطی کو بلایا کہ وہ بیت المقدس کے پاس ان کی سواری پکڑے اس نے انکار کردیا، حضرت عبادہ نے اسے مارکرزخمی کردیا، اس نے ان کے خلاف حضرت عمربن خطاب سے مددطلب کی ، حضرت عمر نے ان سے فرمایا : آپ نے ایسے کیوں کیا ؟ انھوں نے کہا : امیرالمومنین ! میں نے اسے کہا : کہ مری سواری پکڑ، اس نے انکار کیا، اور میں ایسا شخص ہوں جس میں تیزی ہے اس لیے میں نے اسے ماردیا، حضرت عمرنے فرمایا قصاص کے لیے بیٹھو، توزیدبن ثابت (رض) نے ان سے کہا : کیا آپ اپنے غلام کے لیے اپنے بھائی سے بدلہ لیں گے تو حضرت عمر نے قصاص چھوڑ دیا اور دیت کا فیصلہ کیا۔ رواہ البیھقی
40232- عن مكحول أن عبادة بن الصامت دعا نبطيا يمسك دابته عند بيت المقدس فأبى، فضربه فشجه، فاستعدى عليه عمر ابن الخطاب، فقال له: ما دعاك إلى ما صنعت بهذا؟ فقال: يا أمير المؤمنين! أمرته أن يمسك دابتي فأبى وأنا رجل في حدة فضربته، فقال: اجلس للقصاص، فقال زيد بن ثابت: أتقيد عبدك من أخيك! فترك عمر القود وقضى عليه بالدية."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৪৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کا قصاص
٤٠٢٣٣۔۔۔ یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ان کے ساتھیوں میں ایک شخص لایا گیا جس نے کسی ذمی کو زخمی کیا تھا آپ نے اس سے بدلہ لینا چاہاتو لوگوں نے کہا آپ کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا تب ہم اس پر دیت دوگنی کریں گے چنانچہ آپ نے اس پر دیت دوگنی کی۔ رواہ ال بیہقی
40233- عن يحيى بن سعيد أن عمر بن الخطاب أتى برجل من أصحابه قد جرح رجلا من أهل الذمة، فأراد أن يقيده، قالوا: ليس ذلك لك، قال عمر: إذن نضعف عليه العقل، فأضعفه."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৪৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کا قصاص
٤٠٢٣٤۔۔۔ عمربن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ شام میں ایک ذمی شخص عمدا قتل کردیا گیا حضرت عمر (رض) اس وقت شام میں تھے، آپ کو جب اس کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا : تم لوگوں نے ذمیوں میں دخل اندازی شروع کردی ہے میں اس کے بدلہ اسے (قاتل کو) قتل کردوں گا۔ ابوعیبدہ بن جراح (رض) نے کہا : آپ کے لیے ایسا کرنا صحیح نہیں ہے، آپ نے نماز پڑھی اور ابوعبیدہ (رض) کو بلایا، آپ نے فرمایا (رح) : تم نے کیسے گمان کیا کہ میں اسے اس کے بدلہ قتل نہیں کروں گا ؟ تو ابوعیبدہ (رض) نے فرمایا : دیکھیں اگر وہ اپنے غلام کو قتل کردیتا تو بھی آپ اسے قتل کرتے ؟ تو آپ خاموش ہوگئے پھر اس شخص پر سختی کے لیے ایک ہزار دینار دیت دینے کا فیصلہ کیا۔ رواہ البیھقی
40234- عن عمر بن عبد العزيز أن رجلا من أهل الذمة قتل بالشام عمدا وعمر بن الخطاب إذ ذاك بالشام، فلما بلغه ذلك قال عمر: قد وقعتم بأهل الذمة! لأقتلنه به، قال أبو عبيدة بن الجراح: ليس ذلك لك! فصلى ثم دعا أبا عبيدة فقال: لم زعمت لا أقتله به؟ فقال أبو عبيدة: أرأيت لو قتل عبدا له أكنت قاتله به؟ فصمت عمر ثم قضى عليه بالدية بألف دينار تغليظا عليه."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৪৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کا قصاص
٤٠٢٣٥۔۔۔ ابراہیم سے روایت ہے کہ بکربن وائل کے ایک شخص نے اہل حیرہ کے ایک شخص کو مارڈالا تو اس بارے میں حضرت عمربن خطاب نے لکھا کہ اسے مقتول کے وارثوں کے حوالہ کردیا جائے، چاہیں، اسے قتل کریں اور چاہیں تو معاف کریں، تو اس شخص کو ان کے حوالہ کردیا گیا اور انھوں نے اسے قتل کردیا، اس کے بعد حضرت عمرنے لکھا : اگر اس شخص کو قتل نہیں کیا گیا تو اسے قتل نہ کرنا۔ (الشافعی، بیہقی، امام شافعی فرماتے ہیں جس بات کی طرف انھوں نے رجوع کیا وہ زیادہ بہت رہے، ہوسکتا ہے کہ قتل کے ذریعہ اسے ڈرانا مقصود ہو نہ کہ اسے قتل کرنا بہرکیف اس بارے حضرت عمر سے جو کچھ مروی ہے وہ منقطع ضعیف، یا انقطاع وضعف دونوں کو شامل ہے۔ )
40235- عن إبراهيم أن رجلا من بكر بن وائل قتل رجلا من أهل الحيرة، فكتب فيه عمر بن الخطاب أن يدفع إلى أولياء المقتول، فإن شاؤا قتلوه وإن شاؤا عفوا عنه، فدفع الرجل إلى ولي المقتول فقتله، فكتب عمر بعد ذلك: إن كان الرجل لم يقتل فلا تقتلوه. "الشافعي" ق؛ وقال قال الشافعي: الذي رجع إليه أولى، ولعله أراد أن يخيفه بالقتل ولا يقتله، وجميع ما روى في ذلك عن عمر منقطع أو ضعيف أو يجمع الانقطاع والضعف جميعا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৪৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی کا قصاص
٤٠٢٣٦۔۔۔ قاسم بن ابی بزہ سے روایت ہے کہ شام میں ایک مسلمان نے سکی ذمی کو قتل کردیا، تو یہ مقدمہ ابوعبیدہ بن جراح (رض) کے سامنے پیش ہوا، انھوں نے اس بارے میں حضرت عمر (رض) کو لکھا تو حضرت عمر (رض) نے لکھا : اگر ایسا کرنا اس کی عادت ہے تو اسے سامنے لاکر اس کی گردن اڑادو اور اگر اس نے غصہ کی وجہ سے ایسا کیا تو اس پر اس کی دیت کا تاوان چار ہزار دینار مقرر کرو۔ (عبدالرزاق بیہقی)
40236- عن القاسم بن أبي بزة أن رجلا مسلما قتل رجلا من أهل الذمة بالشام؛ فرفع إلى أبي عبيدة بن الجراح، فكتب فيه إلى عمر بن الخطاب، فكتب عمر بن الخطاب: إن كان ذاك فيه خلقا فقدمه واضرب عنقه، وإن كانت هي طيرة طارها فأغرمه ديته أربعة آلاف."عب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৫০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠٢٣٧۔۔۔ نزال سبرہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان نے اہل حیرہ کے کسی نصرانی کو عمدا قتل کردیاتو اس کے متعلق حضرت عمرکولکھا گیا، آپ نے جو ابالکھا : کہ اسے قصاص میں دے دو ، تو وہ شخص ان کے حوالہ کردیا گیا، تو وارث سے کہا گیا : اسے قتل کرو، تو کہنے لگا : جب غصہ آئے، یہاں تک کہ جب غضب بھڑکے گا، وہ لوگ اسی شش وپنج میں تھے کہ حضرت عمرکا خط آیا کہ اسے قتل نہ کرنا کیونکہ کافر کے بدلہ میں کسی ایماندار کو قتل نہیں کیا جائے گا البتہ دیت ادا کی جائے۔ رواہ ابن جریر
40237- عن النزال بن سبرة أن رجلا من المسلمين قتل رجلا من أهل الحيرة نصرانيا عمدا، فكتب في ذلك إلى عمر فكتب أن: أقيدوه فيه! فدفع إليه فكان يقال له: اقتله! فيقول: حتى يجئ الغيظ، حتى يجئ الغضب، فبينما هم كذلك إذ جاء كتاب من عند عمر أن: لا تقتلوه، فأنه لا يقتل مؤمن بكافر، وليعط الدية."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৫১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠٢٣٧۔۔۔ یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ حضرت عمر (رض) نے بیت المقدس فتح کیا اور لشکر میں ایک شخص نے اہل خراج کے ایک شخص کو ماردیا، حضرت نے قصالینا چاہا تو لوگوں نے کہا : آپ کو کیا ہوا ؟ آپ مسلمان سے کافر کا قصاص لیں گے، تو آپ نے فرمایا، پھر میں اس کی دیت دوگنی کر دونوں گا۔ رواہ ابن جریر
40238- عن يحيى بن سعيد بلغنا أن عمر فتح بيت المقدس وأن رجلا من الجند أصاب رجلا من أهل الخراج فأراد أن يقيد، فقال الناس: ما لك أن تقيد كافرا من مسلم! قال: إذا غلظت عليه في العقل."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৫২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠٢٣٩۔۔۔ عمروبن دینار ایک شخص سے نقل کرتے ہیں : کہ ابوموسیٰ (رض) نے حضرت عمر (رض) کو ایک ایسے شخص کے بارے میں لکھا جس نے کسی کتابی کو قتل کردیا تو حضرت عمرنے جوابا لکھا اگر وہ چوریا فتنہ پر ورہے تو اس کی گردن اڑادو، اور اگر ایسا سے غصہ کی وجہ سے ہوا تو اس پر چارہزاردرہم بطور تاوان مقرر کرو۔ عبدالرزاق، بیہقی
40239- عن عمرو بن دينار عن رجل أن أبا موسى كتب إلى عمر بن الخطاب في رجل مسلم قتل رجلا من أهل الكتاب فكتب إليه عمر: إن كان لصا أو خاربا فاضرب عنقه، وإن كان طيرة منه في غضب فأغرمه أربعة آلاف درهم."عب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৫৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠٢٤٠۔۔۔ عمروبن شعیب سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری (رض) نے حضرت عمر (رض) کو لکھا کہ مسلمان (ذمیوں) سے لڑتے اور انھیں قتل کردیتے ہیں آپ کی کیا رائے ہے ؟ حضرت عمرنے لکھا : یہ غلام ہیں پس غلام کی قیمت لگالو، تو ابوموسیٰ (رض) نے لکھا چھ سو درہم ، تو حضرت عمرنے اسے مجوسی کے لیے مقرر کردیا۔ رواہ عبدالرزاق
40240- عن عمرو بن شعيب أن أبا موسى الأشعري كتب إلى عمر بن الخطاب أن المسلمين يقعون على المجوس فيقتلونهم فماذا ترى؟ فكتب إليه عمر إنما هم عبيد فأقمهم قيمة العبيد فيكم؛ فكتب أبو موسى: ستمائة درهم، فوضعها عمر للمجوسي."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৫৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠٢٤١۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی دھوکے سے قتل کردیا گیا تو حضرت عمر (رض) نے اس کے بارے میں بارہ ہزار درہم کا فیصلہ کیا۔ رواہ عبدالرزاق
40241- عن أنس أن يهوديا قتل غيلة فقضى فيه عمر بن الخطاب اثني عشر ألف درهم."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৫৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠٢٤٢۔۔۔ مجاہد سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) شام تشریف لائے، آپ نے دیکھا کہ ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کردیا، تو آپ نے اس سے قصاص لینے کا ارادہ کرلیا، تو زیدبن ثابت (رض) نے آپ سے کہا : کیا آپ اپنے غلام کا بدلہ اپنے بھائی سے لیں گئے ؟ تو حضرت عمرنے اسے دیت میں تبدیل کردیا۔ عبدالرزاق، ابن جریر
40242- عن مجاهد قال: قدم عمر بن الخطاب الشام فوجد رجلا من المسلمين قتل رجلا من أهل الذمة فهم أن يقيده، فقال له زيد ابن ثابت: أتقيد عبدك من أخيك؟ فجعله عمر دية."عب وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৫৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠٢٤٣۔۔۔ ابن ابی حسین سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے کسی ذمی کو زخمی کردیاتو حضرت عمر (رض) نے اس سے بدلہ لینا چاہا، تو حضرت معاذبن جبل (رض) نے کہا : آپ کو علم ہے کہ آپ کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول نقل کیا، تو حضرت عمر (رض) نے اس شخص کے زخم پر ایک دیناردیاتو وہ شخص راضی ہوگیا۔ رواہ عبدالرزاق
40243- عن ابن أبي حسين أن رجلا شج رجلا من أهل الذمة فهم عمر بن الخطاب أن يقيده منه، فقال معاذ بن جبل: قد علمت أن ليس ذلك لك! وأثر ذلك عن النبي صلى الله عليه وسلم، فأعطاه عمر ابن الخطاب في شجته دينارا، فرضى به."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৫৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠٢٤٤۔۔۔ ابراہیم سے روایت ہے کہ ایک مسلمان نے کسی کتابی کو قتل کردیا، جو حیرہ والوں میں سے تھا تو حضرت عمر (رض) نے اس سے اس کا قصاص دلوایا۔ عبدالرزاق، ابن جریر
40244- عن إبراهيم أن رجلا مسلما قتل رجلا من أهل الكتاب من أهل الحيرة فأقاد منه عمر."عب وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: