কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قصاص کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৭৯ টি

হাদীস নং: ৪০২১৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معالج سے تاوان وصول کرنا
٤٠٢٠٥۔۔۔ (مسندجابر (رض)) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ایک شخص کا مقدمہ پیش ہواجس نے دوسرے شخص کی ران پر سینگ مارا تھا تو جس کی ران میں سینگ مارا گیا تو وہ کہنے لگا : یارسول اللہ ! مجھے بدلہ دلوایئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا علاج کراؤ اور کچھ عرصہ دیکھو کیا بنتا ہے وہ شخص کہنے لگا یارسول اللہ ! مجھے بدلہ دلوایئے تو آپ نے پھر یہی فرمایا پھر وہ کہنے لگا یارسول اللہ ! مجھے بدلہ دلوایئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بدلہ دلوایاتو جس نے بدلہ طلب کیا اس کی ٹانگ خشک ہوگئی اور جس سے بدلہ گیا وہ تندرست ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا خون بےکارقراردیا۔ رواہ ابن عساکر، اگر یہ شخص خاموش رہتا اور معاملہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مرضی پرچھوڑدیتاتو اسے بدلہ مل جاتالیکن اس نے صبری کی جس کا نتیجہ ظاہر ہوگیا۔
40205- "من مسند جابر بن عبد الله" عن جابر قال: رفع إلى النبي صلى الله عليه وسلم رجل طعن رجلا في فخذه بقرن فقال الذي طعنت فخذه: أقدني يا رسول الله! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "داوها واستأن بها حتى تنظر إلى ما تصير"، فقال الرجل: يا رسول الله! أقدني منه، فقال له مثل ذلك، فقال الرجل: أقدني يا رسول الله! فأقاده رسول الله صلى الله عليه وسلم، فيبست رجل الذي استقاده وبرأ الذي استقيدمنه. فأبطل رسول الله صلى الله عليه وسلم دمها."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২১৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معالج سے تاوان وصول کرنا
٤٠٢٠٦۔۔۔ سراقہ بن مالک (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھا آپ بیٹے باپ کا بدلہ ولوار ہے تھے اور باپ سے بیٹے کا بدلہ نہیں دلوار ہے تھے۔ رواہ عبدالرزاق، کلام :۔۔۔ ضعیف الترمذی ٢٣٤۔ مسندابی لیلیٰ ۔
40206- عن سراقة بن مالك قال: حضرت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقيد الأب من ابنه، ولا يقيد الابن من أبيه."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২২০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معالج سے تاوان وصول کرنا
٤٠٢٠٧۔۔۔ اسید بن حضیر (رض) بیس مکھ اور خوشطبع آدمی تھے ایک دفعہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لوگوں سے گفتگوکرکے انھیں ہنسا رہے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی کوکھ میں اپنی انگلی سے کچوکالگایاتو وہ کہنے لگے، آپ نے مجھے تکلیف دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بدلہ لے لو، وہ عرض کرنے لگے : یارسول اللہ ! آپ کے جسم پر قمیض ہے اور مرے قمیض نہ تھی، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قمیض اٹھائی تو وہ آپ سے چمٹ گئے اور آپ کے پہلو کو بوسہ دے کر کہنے لگے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یارسول اللہ ! امیراصرف یہ ارادہ تھا۔ رواہ ابن عساکر
40207- "مسند أبي ليلى" كان أسيد بن حضير رجلا ضاحكا مليحا فبينا هو عند رسول الله صلى الله عليه وسلم يحدث القوم ويضحكهم فطعن رسول الله صلى الله عليه وسلم بأصبعه في خاصرته، فقال: أوجعتني! قال: "اقتص"، قال: يا رسول الله! إن عليك قميصا ولم يكن على قميص، فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم قميصه، فاحتضنه ثم جعل يقبل كشحه يقول بأبي أنت وأمي يا رسول الله أردت هذا."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২২১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معالج سے تاوان وصول کرنا
٤٠٢٠٨۔۔۔ ابن زبیر سے روایت ہے جس نے ہتھیار سے اشارہ کیا پھر اس سے ماراتو اس کا خون رائیگاں ہے۔ رواہ عبدالرزاق
40208- عن ابن الزبير قال: من أشار بسلاح ثم وضعه - يقول ضرب به - فدمه هدر."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২২২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معالج سے تاوان وصول کرنا
٤٠٢٠٩۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : اگر سو آدمی ایک شخص کو قتل کردیں تو سو اس کے بدلہ میں قتل کئے جائیں گے۔ رواہ عبدالرزاق
40209- عن ابن عباس قال: لو أن مائة قتلوا رجلا قتلوا به."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২২৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معالج سے تاوان وصول کرنا
٤٠٢١٠۔۔۔ عکرمہ سے روایت ہے فرمایا : ایک شخص نے ایک شخص کو سینگ سے زخمی کیا، تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : مجھے بدلہ دلوایئے آپ نے فرمایا : رہنے دویہاں تک کہ تم تندرست ہوجاؤ (لیکن) اس نے دویاتین مرتبہ یہی تکرار کی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے تندرست ہونے تک رہنے دو ، پھر آپ نے اسے بدلہ دلوایا، بعد میں بدلہ لینے والا لنگڑا ہوگیا، دوبارہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : میرا شریک ٹھیک ہوگیا اور میں لنگڑا ہوگیا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ ٹھیک ہونے تک بدلہ نہ طلب کرو (لیکن) تم نے میری نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دور کیا اور تمہاری لنگڑاہٹ برباد کردی، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ جس کے زخم ہوں وہ اپنے زخم ٹھیک ہونے تک بدلہ طلب نہ کرے۔ زخم جس مقدار کو پہنچے اس کے مطابق معاملہ ہوگا، اور عضو کی بےکارگی یالنگڑاہٹ تو اس میں بدلہ نہیں بلکہ اس میں تاوان ہے، اور جس نے کسی زخم کا بدلہ طلب کیا پھر جس سے بدلہ طلب کیا گیا اسے نقصان پہنچاتو اس کے شریک کے زخم سے جتنا نقصان ہوا اس کا تاوان دیناپڑے گا اور آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ حق ولاء آزاد کرنے والے کو ہے۔ رواہ عبدالرزاق
40210- عن عكرمة قال: طعن رجل رجلا بقرن فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أقدني! فقال: "دعه حتى تبرأ"، فأعادها عليه مرتين أو ثلاثا والنبي صلى الله عليه وسلم يقول: "دعه حتى تبرأ"، فأقاده به؛ ثم عرج المستقيد فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال: برئ صاحبي وعرجت! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ألم آمرك أن لا تستقيد حتى تبرأ! فعصيتني فأبعدك الله وبطل عرجك"! ثم أمر النبي صلى الله عليه وسلم بمن كان به جرح أن لا يستقيد حتى تبرأ جرحه، فالجرح على ما بلغ، وما كان من شلل أو عرج فلا قود فيه فهو عقل، ومن استقاد جرحا فأصيب المستقاد منه فعقل ما نقص من جرح صاحبه له. وقضى أن الولاء لمن أعتق."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২২৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معالج سے تاوان وصول کرنا
٤٠٢١١۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : جب کوئی شخص اپنے غلام سے کسی آدمی کو قتل کرنے کا حکم دے تو یہ اس کی تلوار یا کوڑے کی طرح ہے، آقا کو قتل کیا جائے اور غلام کو جیل میں بند کیا جائے گا۔ الشافعی، بیھقی
40211- عن علي قال: إذا أمر الرجل عبده أن يقتل رجلا فإنما هو كسيفه أو كسوطه، يقتل المولى ويحبس العبد في السجن."الشافعي، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২২৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معالج سے تاوان وصول کرنا
٤٠٢١٢۔۔۔ اسی طرح میسرہ سے روایت ہے فرمایا ایک شخص اور اس کی ماں حضرت علی (رض) کے پاس آئے وہ کہنے لگی، میرے اس بیٹے نے میرے خاوند کو قتل کردیا ہے تو بیٹا بولا : میرے غلام نے میری ماں سے صحبت کی ہے تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : تم دونوں بڑے نقصان اور خسارہ میں پڑگئے ہو اگر تم سچی ہو تو تمہارا بیٹا قتل کیا جائے گا اور اگر تمہارا بیٹا سچا ہے تو ہم تمہیں سنگسارکریں گے، پھر حضرت علی نماز کے لیے چلے گئے تو لڑکاماں سے کہنے لگا : کیا سوچتی ہو ؟ وہ مجھے قتل کریں اور تمہیں سنگسار کریں، پھر وہ دونوں چلے گئے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو ان دونوں کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتایاوہ چلے گئے ہیں۔ بیھقی دارقطنی
40212- "أيضا" عن ميسرة قال: جاء رجل وأمه إلى علي فقالت: إن ابني هذا قتل زوجي، فقال الابن: إن عبدي وقع على أمي، فقال علي: خبتما وخسرتما! إن تكوني صادقة يقتل ابنك، وإن يكن ابنك صادقا نرجمك؛ ثم قام علي للصلاة فقال الغلام لأمه: ما تنظرين؟ أن يقتلني ويرجمك! فانصرفا، فلما صلى سأل عنهما فقيل: انطلقا."ق، قط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২২৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معالج سے تاوان وصول کرنا
٤٠٢١٣۔۔۔ اسی طرح حکم سے روایت ہے کہ دو شخصوں نے ایک دوسرے کو ماراتو حضرت علی (رض) ہر ایک دوسرے کا ضامن قراردیا۔
40213- "أيضا" عن الحكم أن رجلين صدم أحدهما صاحبه، فضمن علي كل واحد منهما صاحبه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২২৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معالج سے تاوان وصول کرنا
٤٠٢١٤۔۔۔ شعبی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ایسی قوم کے بارے میں فیصلہ فرمایا جو آپس میں لڑے ان میں سے بعض نے بعض کو قتل کردیا، تو آپ نے ان لوگوں کے لیے جو قتل کئے گئے ان پر جنہوں نے قتل کیا دیت کا فیصلہ کیا اور جتنے ان کے زخم تھے ان کے بقدران کی دیت معاف کی۔ رواہ عبدالرزاق
40214- عن الشعبي قال: أشهد علي على أنه قضى في قوم اقتتلوا فقتل بعضهم بعضا فقضى بعقل الذين قتلوا على الذين جرحوا، وطرح عنهم بالعقل بقدر جراحهم."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২২৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معالج سے تاوان وصول کرنا
٤٠٢١٥۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : بچہ اور مجنون کا قصد (قتل کرنا) (قتل) خطا ہے۔ عبدالرزاق۔ بیھقی
40215- عن علي قال: عمد الصبي والمجنون خطأ."عب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২২৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معالج سے تاوان وصول کرنا
٤٠٢١٦۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری لڑکی کو قتل کردیا اور قتل بھی زیور کی وجہ سے کیا پھر اس کا سرپتھر سے کچل کرا سے انصار کے کنویں میں ڈال دیاتو اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا آپ نے اسے ر جم کرنے کا حکم دیا کہ اسی حالت میں مرجائے چنانچہ اسے رجم گیا اور وہ مرگیا۔ رواہ عبدالرزاق
40216- عن أنس أن رجلا من اليهود قتل جارية من الأنصار على حلي لها ثم ألقاها في قليب لها ورضخ رأسها بالحجارة، فأتى به النبي صلى الله عليه وسلم، فأمر به النبي صلى الله عليه وسلم أن يرجم حتى يموت، فرجم حتى مات."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৩০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے منسلک
٤٠٢١٧۔۔۔ حبیب بن مسلمہ فہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بدلہ لینے کے لیے ایک اعرابی کو بلایاج سے ان جانے میں آپ کے ہاتھ سے خراش لگ گئی تھی۔ تو جبرائی (علیہ السلام) آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ آپ کو زبردست اور متکبربناکر نہیں بھیجا تو آپ نے اعرابی کو بلایا اور فرمایا مجھ سے بدلہ لے لو تو اعرابی نے کہا : مرے ماں باپ آپ پر قربان میں نے آپ کے لیے جائز کردیا اکر آپ مجھے مار بھی دیتے تب بھی میں آپ سے کبھی بدلہ نہ لیتا، چنانچہ آپ نے اس کے لیے دعائے خیر کی۔(ز)
40217- عن حبيب بن مسلمة الفهري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا إلى القصاص من نفسه في خدش خدشه أعرابيا لم يتعمده، فأتاه جبريل فقال: "يا محمد! إن الله لم يبعثك جبارا ولا متكبرا"، فدعا النبي صلى الله عليه وسلم الأعرابي فقال: "اقتص مني"! فقال الأعرابي: قد أحللتك بأبي أنت وأمي! وما كنت لأفعل ذلك أبدا ولو أتيت على نفسي؛ فدعا له بخير."ز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৩১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے منسلک
٤٠٢١٨۔۔۔ ہم سے ابوخالد الاحمرنے ابن اسحاق کے حوالہ سے نقل کیا وہ یزید بن عبداللہ بن ابی قسیط سے وہ قعقاع بن عبداللہ ابی حدرداسلمی وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اضم کی طرف ایک سریہ میں بھیجا راستہ میں لوگ عامر بن اضبط سے ملے اس نے اسلام والاسلام کیا تو ہم اس کے قتل سے رک گئے لیکن محلم بن چثامہ نے اس پر حملہ کرکے اسے قتل کردیا، اور جب اسے قتل کردیا تو اس کا اونٹ اس کے چمڑے اور جو اس کا سامان تھا لے لیا، پھر جب ہم لوگ واپس آئے تو ہم نے اس کی چیزیں ساتھ لائیں اور آپ کو اس کے واقعہ کی اطلاع دی اتنے میں آیت نازل ہوئی : اے ایمان والو ! جب تم زمین میں سفر کرنے لگوتوخوب تحقیق کرلیاکرو۔ آیت سورة نساء ، ابن اسحاق کہتے ہیں : مجھے محمد بن جعفر نے زید بن ضمرہ کے حوالہ سے بتایا فرماتے ہیں مجھے مرے والد اور چچا نے بتایا وہ دونوں حسین میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے فرماتے ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھی پھر درخت کے نیچے بیٹھ گئے تو اقرع بن حابس جو خندف کے سردار تھے محلم کا دفاع کرنے کھڑے ہوئے۔ اور عیینہ بن حصن عامر بن اضبط قیسی جو اشجعی تھے کے خون کا مطالبہ کرنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑے ہوئے۔ فرماتے ہیں : میں نے عیینہ بن حصن (رض) کو فرماتے سنا : میں اس کی عورتوں کو ایساہی غم چکھاؤں گا جیسا اس نے میری عورتوں کو چکھایا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگ دیت قبول کروگے، تو انھوں نے انکار کردیا تو بنی لیث کا ایک شخص کھڑا ہواجی سے مکیتل کہا جاتا تھا اس نے کہا یارسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں اس مقتول کو اسلام کی ابتداء میں صرف ان بکریوں سے تشبیہ دے سکتا ہوں جو آئی ہوں اور ان پر پتھراؤ کیا جائے اور آخری کو بدکا دیا جائے، آج کوئی قانون بنایا جائے اور کل تبدیل کردیا جائے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم تمہیں اپنے اس سفر میں پچاس اونٹ دیت دیتے ہیں اور پچاس جب ہم واپس ہوں گے تو انھوں نے دیت قبول کرلی اور کہنے لگے : اپنے آدمی کو بلاؤ رسول اللہ اس کے لیے استغفارکریں اسے لایا گیا اور اس کا حلیہ بیان کیا گیا اس کے اوپر ایک لباس تھا جس میں وہ قتل ہونے کے لیے تیار تھا،یہاں تک کہ اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بٹھایا گیا تو آپ نے فرمایا : تمہارا نام ؟ اس نے کہا محلم بن جثامہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا : اے اللہ ! محلم بن جثامہ کی بخشش نہ فرمانا فرماتے ہیں ہم لوگ آپس میں باتیں کرنے لگے کہ آپ نے ظاہری طور پر ایسا کیا ہوگا پوشیدہ طور پر اس کے لیے استغفار کیا ہوگا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں : مجھے عمروبن عبید نے حسن کے واسطہ سے بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا : تو نے اللہ کے لیے اسے امان دی اور پھر قتل کردیا، اللہ کی قسم ! وہ شخص یعنی محلم ایک ہفتہ میں مرگیا، فرماتے ہیں میں نے حسن سے سنا : اللہ کی قسم وہ تین بار دفن کیا گیا اور ہر بار زمین اسے باہر پھینک دیتی تو انھوں نے اسے پہاڑ کے شگاف میں ڈال دیا اور اس پر پتھر پھینک دیئے پھر اسے درندے کھاگئے لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا واقعہ ذکر کیا تو اس پر فرمایا : اللہ کی قسم ! زمین اس سے زیادہ برے کو پھینک دیتی لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تمہیں تمہاری عزت و حرمت سے آگاہ کریں۔ مصنف ابن ابی شیبۃ
40218- حدثنا أبو خالد الأحمر عن بن إسحاق عن يزيد ابن عبد الله بن أبي قسيط عن القعقاع بن عبد الله بن أبي حدرد الأسلمي عن أبيه قال: بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية إلى أضم فلقينا عامر بن الأضبط فحيا بتحية الإسلام فنزعنا عنه وحمل عليه محلم بن جثامة فقتله فلما قتله سلبه بعيرا له وأهبا ومتيعا كان له، فلما قدمنا جئنا بشأنه إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرناه بأمره فنزلت هذه الآية {يا أيها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا} الآية 94 سورة النساء. قال بن إسحاق: فأخبرني محمد بن جعفر عن زيد بن ضمرة قال حدثني أبي وعمي وكانا شهدا حنينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قالا: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر ثم جلس تحت شجرة فقام إليه الأقرع بن حابس وهو سيد خندف يرد عن ابن محلم وقام عيينة بن حصن يطلب بدم عامر بن الأضبط القيسي وكان أشجعيا، قال: فسمعت عيينة بن حصن يقول: لأذيقن نساءه من الحزن مثل ما ذاق نسائي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "تقبلون الدية؟ " فأبوا، فقام رجل من بني ليث يقال له مكتيل فقال: يا رسول الله؟ والله ما شبهت هذا القتيل في غرة الإسلام إلا بغنم وردت فرميت فنفر آخرها، اسنن اليوم وغير غدا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "نديه لكم خمسون في سفرنا هذا وخمسون إذا رجعنا"، فقبلوا ال دية فقالوا: ائتوا بصاحبكم يستغفر له رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجئ به فوصف حليته وعليه حلة قد تهيأ فيها للقتل حتى أجلس بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "ما اسمك"؟ فقال: محلم بن جثامة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم بيديه - ووصف أنه رفعهما: "اللهم! لا تغفر لمحلم بن جثامة"، قال: فتحدثنا بيننا أنه إنما أظهر هذا وقد استغفر له في السر. قال ابن إسحاق: فأخبرني عمرو ابن عبيد عن الحسن قال قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "آمنته بالله ثم قتلته"! فوالله ما مكث إلا سبع ليال حتى مات محلم؛ قال: فسمعت الحسن يحلف بالله لدفن ثلاث مرات كل ذلك تلفظه الأرض، فجعلوه بين صدى جبل ورضموا عليه بالحجارة فأكلته السباع، فذكروا أمره لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "أما والله إن الأرض لتطبق على من هو شر منه ولكن الله أراد أن يخبركم بحرمتكم". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৩২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے منسلک
٤٠٢١٩۔۔۔ ابن جریج سے روایت ہے فرمایا : میں نے عطاء سے کہا : ایک شخص اپنے غلام کو کسی کے قتل کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا ابن جریج سے روایت ہے فرمایا : میں نے عطاء سے کہا : ایک شخص اپنے غلام کو کسی کے قتل کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے آپ نے فرمایا حکم دینے والے پر میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سنا فرماتے ہیں : حکم دینے والا آزاد شخص قتل کیا جائے اور غلام قتل نہ کیا جائے۔ عبدالرزاق عن ابوہریرہ
40219- عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: رجل أمر عبده أن يقتل رجلا؟ قال: على الآمر، سمعت أبا هريرة يقول: يقتل الحر الآمر ولا يقتل العبد. "عب - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৩৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے منسلک
٤٠٢٢٠۔ یہاں تک مکمل ہوگیا۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : نشائی نشہ کی حالت میں جو کچھ کرے اس پر حدقائم کی جائے گی۔ رواہ عبدالرزاق
40220- عن ابن عباس قال: ما أصاب السكران في سكره أقيم عليه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৩৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدلہ چکانے کا انوکھاطریقہ
٤٠٢٢١۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں : مرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور سودہ (رض) تھیں میں نے مالیدہ بنایا اور لے کر آئی میں نے سودہ (رض) سے کہا : کھاؤ ! وہ کہنے لگیں : مجھے پسند نہیں، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! تمہیں کھانا پڑے گا ورنہ میں اس سے تمہارا چہرہ تھوپ دوں گی، تو وہ کہنے لگیں : میں تو نہیں چکھوں گی، میں نے پیالہ سے تھوڑا سا مالیدہ لیا اور ان کے چہرہ پر مل دیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان شریف فرما تھے،آپ نے ان کے لیے اپنا گھٹنہ جھکایا تاکہ وہ مجھے سے بدلہ لیں انھوں نے پیالہ سے تھوڑا سا مالیدہ لیا اور مرے چہرہ پر مل دیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا رہے تھے۔ رواہ ابن لنجار
40221- عن عائشة قالت: كان عندي رسول الله صلى الله عليه وسلم وسودة فصنعت خزيرا فجئت به فقلت لسودة: كلي، فقالت:لا أحبه، فقلت: والله لتأكلين أو لألطخن وجهك! فقالت: ما أنا بذائقة، فأخذت من الصحفة شيئا فلظخت به وجهها ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس بيني وبينها، فخفض لها ركبته لتستقيد مني، فتناولت من الصحفة شيئا فمسحت به وجهي ورسول الله صلى الله عليه وسلم يضحك."ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৩৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدلہ چکانے کا انوکھاطریقہ
٤٠٢٢٢۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شخص سے ملے جس پر زردرنگ لگا ہوا تھا اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی (جو کھجور کی شاخ کی تھی) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رنگذاربوٹی کا نشان لگالیتے، پھر آپ نے شاخ سے اس شخص کے پیٹ میں کچوکالگایا اور فرمایا (رح) : کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا ! اس شخص کے پیٹ پر بغیر خون نکلے اس کا نشان پڑگیا تو وہ شخص کہنے لگا : یارسول اللہ ! مجھے بدلہ چاہیے ! لوگوں نے کہا : کیا تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بدلہ لوگے، وہ صاحب کہنے لگے : کسی کی جلد کو مری جلدپر کوئی فضیلت نہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پیٹ سے کپڑاہٹایا اور فرمایا : بدلہ لے لو ! تو اس شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیٹ کو بوسہ دیا اور کہا : میں اس لیے آپ سے بدلہ نہیں لیتا کہ آپ قیامت کے روز مرے لیے شفاعت فرمائیں گے۔ رواہ عبدالرزاق
40222- عن الحسن أن النبي صلى الله عليه وسلم لقي رجلا مختضبا بصفرة وفي يد النبي صلى الله عليه وسلم جريدة فقال النبي صلى الله عليه وسلم: خط ورس، فطعن بالجريدة بطن الرجل وقال: "ألم أنهك عن هذا"! فأثر في بطنه وما أدماه فقال الرجل: القود يا رسول الله! فقال الناس: أمن رسول الله صلى الله عليه وسلم تقتص؟ فقال: ما لبشرة أحد فضل على بشرتي، فكشف النبي صلى الله عليه وسلم عن بطنه ثم قال: "اقتص"! فقبل الرجل بطن النبي صلى الله عليه وسلم وقال: أدعها لك أن تشفع لي يوم القيامة."عب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৩৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدلہ چکانے کا انوکھاطریقہ
٤٠٢٢٣۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ ایک انصاری صحابی تھے جنہیں سوادۃ بن عمرو کہا جاتا تھا وہ ایسے خوشبولگا تے گویا کہ وہ شاخ ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی ان کو دیکھتے تو جھومنے لگتے ایک دن وہ آئے اور اسی طرح خوشبو میں بستہ تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھک کر ایک لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی سے انھیں کچوکالگایاجس سے وہ زخمی ہوگئے اور کہنے لگے : یارسول اللہ ! مجھے بدلہ چاہیے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں وہ لکڑی دی آپ دو قمیضیں پہنے ہوئے تھے آپ انھیں اٹھانے لگے تو لوگوں نے انھیں ڈانٹا تو وہ رک گئے پھر جب اس جگہ پہنچے جہاں انھیں خراش لگی تھی تو چھڑی پھینک کر آپ سے چمٹ گئے اور آپ کو چومنے لگے اور کہنے لگے : اے اللہ کے نبی ! میں اس لیے اپنا بدلہ چھوڑتاہوں کہ آپ اس کی وجہ سے قیامت کے روزمرے لیے شفاعت کریں۔ رواہ عبدالرزاق
40223- عن الحسن قال: كان رجل من الأنصار يقال له سوادة بن عمرو يتخلق كأنه عرجون وكان النبي صلى الله عليه وسلم إذا رآه نغض له فجاء يوما وهو متخلق فأهوى له النبي صلى الله عليه وسلم بعود كان في يده فجرحه فقال له: القصاص يا رسول الله! فأعطاه العود، وكان على النبي صلى الله عليه وسلم قميصان فجعل يرفعهما، فنهره الناس وكف عنه حتى إذا انتهى إلى المكان الذي جرحه رمى بالقضيب وعلقه يقبله وقال: يا نبي الله؟ بل أدعها لك تشفع لي بها يوم القيامة."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২৩৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدلہ چکانے کا انوکھاطریقہ
٤٠٢٢٤۔۔۔ سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ، حضرت ابوبکر (رض) نے اپنے سے ایک شخص کو بدلہ لینے دیا اور حضرت عمر (رض) نے حضرت سعد (رض) کو اپنے سے بدلہ لینے دیا۔ رواہ عبدالرزاق
40224- عن سعيد بن المسيب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أقاد من نفسه، وأن أبا بكر أقاد رجلا من نفسه، وأن عمر أقاد سعدا من نفسه."عب".
tahqiq

তাহকীক: