কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قصاص کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৭৯ টি

হাদীস নং: ৪০১৯৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر قاتل سے بدلہ لیا جائے گا
٤٠١٨٥۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے : کہ دیت ثابۃ تیس تین سالے اور تیس چار سالے اور چالیس حاملہ اونٹنیاں اور یہ عمداقتل کے مشابہ ہے۔ سعید بن منصور، بیھقی
40185- عن عمر قال: الدية المغلظة ثلاثون حقة وثلاثون جذعة وأربعون خلفة، وهي شبه العمد."ص، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৯৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر قاتل سے بدلہ لیا جائے گا
٤٠١٨٦۔۔۔ ابوقلابہ کے چچا سے روایت ہے کہ ایک شخص کو پتھر مارا گیا جس کی وجہ سے اس کی سماعت، گویائی، عقل اور مردانہ قوت جاتی رہی وہ عورتوں کے نزدیک جانے کانہ رہا تو حضرت عمرنے اس کے بارے میں چاردیتوں کا فیصلہ کیا جب کہ وہ زندہ تھا۔ عبدالرزاق، بیھقی
40186- عن عم أبي قلابة قال: رمي رجل بحجر في رأسه فذهب سمعه ولسانه وعقله وذكره فلم يقرب النساء، فقضى عمر فيه بأربع ديات وهو حي."عب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২০০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر قاتل سے بدلہ لیا جائے گا
٤٠١٨٧۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ بازو کے توڑنے میں دوسودرہم ہیں۔ رواہ البیھقی
40187- عن عمر قال: في الذراع إذا كسر مائتا درهم."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২০১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر قاتل سے بدلہ لیا جائے گا
٤٠١٨٨۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت کہ انھوں نے ایک آدمی کی پنڈلی جو توڑی گئی اس کے بارے آٹھ اونٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ (بخاری فی تاریخہ، بیھقی)
40188- عن عمر أنه قضى على ساق رجل كسرت بثمان من الإبل."خ، في تاريخه، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২০২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت لینے کا ایک عجیب واقعہ
٤٠١٨٩۔۔۔ زید بن وھب سے روایت ہے فرماتے ہیں : ایک دفعہ حضرت عمر (رض) باہر نکلے اور ان کے دونوں ہاتھ ان کے کانوں میں تھے اور وہ یہ کہتے جارہے تھے : میں حاضرہوں ! میں حاضرہوں ! لوگوں نے کہا : انھیں کیا ہوگیا ہے ؟ تو انھوں نے کہا : ان کے پاس ان کے کسی امیر کی طرف سے خبر آئی کہ ان کے سامنے ایک نہر آگئی اور ان کے پاس کشتیاں نہ تھیں تو ان کا امیر کہنے لگا : ہمارے لیے کوئی شخص تلاش کروجونہر کی گہرائی جان سکے، اتنے میں ایک بوڑھاشخص لایا گیا وہ کہنے لگا : مجھے ٹھنڈک کا خدشہ ہے اور وہ سردیوں کا موسم تھا، چنانچہ امیرنے اسے مجبور کیا اور نہر میں اتاردیا، ٹھنڈک نے اسے زیادہ دیر نہیں رکھا کہ وہ پکار کر کہنے لگا : ہائے عمر ! پھر وہ ڈوب گیا، آپ نے اس امیر کی طرف خط لکھا، وہ آپ کے پاس آیا، آپ کچھ دن اس سے اعراض کرتے رہے، آپ کو جب بھی کسی پہ غصہ آتا اسے اس کی سزا دیتے، پھر آپ نے فرمایا : اس شخص کا کیا ہوا جسے تم نے قتل کردیا تھا ؟ وہ کہنے لگا : امیرالمومنین ! میں نے اسے قتل کرنے کا ارادہ تو نہ کیا تھا ہمارے پاس نہرعبور کرنے کی کوئی چیز نہ تھی ہم نے چاہا کہ پانی کی گہرائی کا پتہ لگاسکیں، پھر ہم نے اس طرح کیا، تو حضرت عمرنے فرمایا : ایک مسلمان شخص مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ عزیز ہے جو تم لے کر آئے ہو، اگر طریقہ پڑجانے کا خوف نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن اڑادیتاجاؤ ! اس کے گھروالوں کو دیت دو اور یہاں سے چلے جاؤ، پھر مجھے نظر نہ آؤ۔ دواہ البیھقی
40189- عن زيد بن وهب قال: خرج عمر ويداه في أذنيه وهو يقول: يا لبيكاه! يا لبيكاه! قال الناس: ما له؟ قال: جاءه بريد من بعض أمرائه أن نهرا حال بينهم وبين العبور ولم يجدوا سفنا، فقال أميرهم: اطلبوا لنا رجلا يعلم غور النهر، فأتى بشيخ فقال: إني أخاف البرد، وذلك في البرد، فأكرهه فأدخله فلم يلبثه البرد فجعل ينادي: يا عمراه! فغرق، فكتب إليه فأقبل فمكث أياما معرضا عنه - وكان إذا وجد على أحد منهم فعل به ذلك - ثم قال: ما فعل الرجل الذي قتلته؟ قال: يا أمير المؤمنين! ما تعمدت قتله، لم نجد شيئا نعبر فيه وأردنا أن نعلم غور الماء ففتحنا كذا وكذا، فقال عمر: لرجل مسلم أحب إلي من كل شيء جئت به، لولا أن تكون سنة لضربت عنقك فأعط أهله ديته واخرج فلا أراك."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২০৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت لینے کا ایک عجیب واقعہ
٤٠١٩٠۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے : آپ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا : جو قصد ا قتل کرے پھر اس پر قصاص واجب نہ ہوسکے، اسے سوکوڑے مارے جائیں۔ رواہ عبدالرزاق
40190- عن عمر أنه قال في الذي يقتل عمدا ثم لا يقع عليه القصاص: يجلد مائة."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২০৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت لینے کا ایک عجیب واقعہ
٤٠١٩١۔۔۔ قاسم بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ کوفہ کے دو شخص حضرت عمر (رض) کے پاس گئے، ان دونوں نے کہا : امیرالمومنین ! ہمارا چچازاد بھائی قتل ہوگیا ہے، ہم اس کے خون میں برابر سرابر ہیں۔ آپ برابر خوموش رہے اور ان کی کسی بات کا جواب نہیں دے رہے تھے یہاں تک کہ ان سے اللہ تعالیٰ کی قسم لی، اور ان پر حملہ کرنے لگے تو انھوں نے آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیاتو آپ رک گئے، پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہمارے لیے ہلاکت ہواگرہم اللہ تعالیٰ کو یادنہ کریں ہمارے لیے ہلاکت ہواگرہم اللہ تعالیٰ کو یادنہ کریں، تم میں دوانصاف والے گواہ ہوں انھیں مرے پاس لاؤدہ مجھے بتائیں کہ اسے کس نے قتل کیا پھر میں تمہیں اس کا بدلہ دلواؤں گا، ورنہ تمہارے گاؤں کے لوگ قسمیں کھائیں اللہ کی قسم نہ ہم نے اسے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا علم ہے پھر اگر وہ قسم کھانے سے رک جائیں، تو تم میں سے پچاس آدمی قسمیں کھائیں پھر تمہارے لیے دیت ہوگی۔ مصنف ابن ابی شیبہ
40191- عن القاسم بن عبد الرحمن قال: انطلق رجلان من أهل الكوفة إلى عمر بن الخطاب فقالا: يا أمير المؤمنين! إن ابن عم لنا قتل، نحن إليه شرع سواء في الدم؛ وهو ساكت عنهما لا يرجع إليهما شيئا حتى ناشداه الله، فحمل عليهما، ثم ذكراه الله فكف عنهما، ثم قال عمر: ويل لنا إن لم نذكر الله! وويل لنا إن لم نذكر الله! فيكم شاهدان ذوا عدل تجيئان بهما على من قتله فنقيدكما منه، وإلا حلف من بدوكم: بالله ما قتلنا ولا علمنا قاتلا، فإن نكلوا حلف منكم خمسون ثم كانت لكم الدية."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২০৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت لینے کا ایک عجیب واقعہ
٤٠١٩٢۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کے بارے میں فیصلہ فرمایا جس نے ایک آدمی کو پکڑا اور دوسرے نے اسے قتل کیا، قاتل کو قتل کیا جائے اور پکڑنے والے کو قید کیا جائے۔ رواہ دارقطنی
40192- مسند علي عن علي قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في رجل أمسك رجلا وقتله الآخر فقال: "يقتل القاتل ويحبس الممسك". "قط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২০৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت لینے کا ایک عجیب واقعہ
٤٠١٩٣۔۔۔ اسی طرح عاصم بن ضمرۃ سے روایت ہے فرمایا حضرت علی نے فرمایا : قتل خطا کی دیت چارچوتھائی ہے پچیس تین سالے پچیس چار سالے پچیس دو سالے پچیس یکسالے۔ ابوداؤد، دارقطنی، ابن ماجۃ، عبدالرزاق
40193- أيضا عن عاصم بن ضمرة قال قال علي: إن الدية في الخطأ أرباعا: خمس وعشرون حقة، وخمس وعشرون جذعة، وخمس وعشرون بنات لبون، وخمس وعشرون بنات مخاض."د، قط، هـ, عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২০৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دیت لینے کا ایک عجیب واقعہ
٤٠١٩٤۔۔۔ ابن جریج سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نے عطا سے کہا : ایک شخص نے ایک شخص کو پکڑ کر رکھا اور دوسرے نے اسے قتل کردیا، انھوں نے فرمایا : حضرت علی (رض) نے فرمایا : قتل کرنے والے کو قتل کیا جائے اور پکڑنے والے کو تاموت جیل میں رکھاجائے۔ ابن حبان
40194- عن ابن جريج قال قلت لعطاء: رجل أمسك رجلا حتى قتله آخر! قال قال علي: يقتل القاتل ويحبس الممسك في السجن حتى يموت."حب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২০৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل میں مدد کرنے والے کو عمرقید کی سزا
٤٠١٩٥۔۔۔ قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فیصلہ فرمایا : کہ قاتل کو قتل کیا جائے اور پکڑنے والے کو موت تک قید کیا جائے۔ رواہ عبدالرزاق
40195- عن قتادة قال: قضى على أن يقتل القاتل ويحبس الحابس للموت."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২০৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل میں مدد کرنے والے کو عمرقید کی سزا
٤٠١٩٦۔۔۔ ابن جریج سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نے عطاء سے کہا : کسی نے دیوار پربچہ کو آوازدی : پیچھے ہٹ، تو وہ گرکرمرگیا ؟ انھوں نے فرمایا : لوگ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں : کہ اسے تاوان دینا پڑے گا، فرماتے ہیں : اس نے اسے ڈرادیا اس لئے۔ رواہ عبدالرزاق
40196- عن ابن جريج قال قلت لعطاء: رجل نادى صبيا على جدار أن استأخر فخر فمات؟ قال: يروون عن علي أنه قال: يغرمه - يقول أفزعه."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২১০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل میں مدد کرنے والے کو عمرقید کی سزا
٤٠١٩٧۔۔۔ حیی بن یعلیٰ سے روایت ہے کہ ایک شخص یعلیٰ کے پاس آیا اور کہا : یہ مرے بھائی کا قاتل ہے ! انھوں نے اسے اس کے حوالہ کردیا، اس نے تلوار سے کی ناک کاٹ دی اور وہ یہ سمجھا کہ اس نے اسے قتل کردیا ہے جب کہ اس کی کچھ سانس باقی تھی، اس کے گھروالے اسے لے گئے اور اس کا علاج معالجہ کیا اور وہ تندرست ہوگیا، پھر وہ یعلیٰ کے پاس آیا اور کہنے لگا : مرے بھائی کا قاتل ! تو انھوں نے کہا : کیا میں نے اسے تمہارے تمہارے حوالہ نہ کردیا تھا ؟ تو اس نے اس کا قصہ سنایا، یعلیٰ نے اسے بلا بھیجا، اس کے اعضاء شل ہوچکے تھے آپ نے اس کے زخموں کا اندازہ لگایا تو اس میں دیت پائی، پھر یعلیٰ نے اس سے کہا : چاہوتوا سے دیت دے دو اور اسے قتل کردو ورنہ اسے چھوڑدو، وہ حضرت عمر (رض) کے پاس چلا گیا اور یعلیٰ کے خلاف مددطلب کرنے لگا، حضرت عمرنے یعلیٰ کو لکھا : کہ مرے پاس آجاؤ ! وہ آپ کے پاس آئے اور ساراواقعہ بتایا، حضرت عمرنے حضرت علی سے مشورہ کیا تو انھوں نے یعلی کے فیصلہ کے مطابق مشورہ دیا، پھر دونوں حضرات یعلی کے فیصلہ پر متفق ہوگئے کہ وہ اسے دیت دے کرا سے قتل کردے یا اسے چھوڑدے قتل نہ کرے، حضرت عمرنے یعلیٰ سے کہا : تم قاضی ہو اور انھیں ان کے عہدہ پر واپس بھیج دیا۔ رواہ عبدالرزاق
40197- عن حيى بن يعلى يخبر أن رجلا أتى يعلى فقال: قاتل أخي! فدفعه إليه فجدعه بالسيف حتى رأى أنه قتله وبه رمق فأخذه أهله فداووه حتى برئ، فجاء يعلي فقال: قاتل أخي! فقال: أو ليس قد دفعته إليك؟ فأخبره خبره، فدعاه يعلى فإذا هو قد شلل، فحسب جروحه فوجد فيه الدية فقال له يعلى: إن شئت فادفع إليه واقتله، وإلا فدعه، فلحق بعمر فاستعدى على يعلى، فكتب عمر إلى يعلى أن: أقدم على، فقدم عليه فأخبره الخبر، فاستشار عمر علي بن أبي طالب، فأشار عليه بما قضى به يعلى، فاتفق علي وعمر على قضاء يعلى أن يدفع إليه الدية ويقتله أو يدعه فلا يقتله، وقال عمر ليعلى: إنك لقاض! ورده على عمله."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২১১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل میں مدد کرنے والے کو عمرقید کی سزا
٤٠١٩٨۔۔۔ ابن المیسب سے روایت ہے کہ شام کا ایک شخص تھا جی سے جبیرکہاجاتا تھا، اس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھا اور اسے قتل کردیا، اور حضرت معاویہ (رض) اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں مشکل میں پڑگئے، انھوں نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ وہ اس بارے میں حضرت علی سے پوچھیں انھوں نے حضرت علی سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا : جس کی تم نے اطلاع دی ہمارے شہروں میں ایسا نہیں ہوتا، تو انھوں نے کہا : مجھے حضرت معاویہ نے کہا کہ میں آپ سے اس بارے میں پوچھوں، تو حضرت علی نے فرمایا : میں ابو الحسن عظیم سردارہوں، وہ اپنا سب کچھ دے دے البتہ اگر وہ چارگواہ پیش کرے تو دوسری بات ہے۔ الشافعی، عبدالرزاق ، سعید بن منصور، بیھقی
40198- عن ابن المسيب أن رجلا من أهل الشام يدعى جبيرا وجد مع امرأته رجلا فقتله، وأن معاوية أشكل عليه القضاء فيه فكتب إلى أبي موسى الأشعري أن يسأل له عليا عن ذلك،فسأل عليا، فقال: ما هذا ببلادنا لتخبرني! فقال: إنه كتب إلى معاوية أن أسألك عنه، فقال: أنا أبو الحسن القرم! يدفع برمته إلا أن يأتي بأربعة شهداء."الشافعي، عب ص، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২১২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل میں مدد کرنے والے کو عمرقید کی سزا
٤٠١٩٩۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : اگر مرد عورت کے درمیان، زخموں خون کرنے یا اس کے علاوہ کوئی قصدامعاملہ ہو تو اس میں قصاص ہے۔ رواہ عبدالرزاق
40199- عن علي قال: ما كان بين الرجل والمرأة ففيه القصاص من جراحات أو من قتل النفس أو غيرها إن كان عمدا."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২১৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل میں مدد کرنے والے کو عمرقید کی سزا
٤٠٢٠٠۔۔۔ ابن جریج سے روایت ہے کہ مجھے محمد نے بتایاجس کے بارے مراگمان ہے کہ وہ عبیدا اللہ العرزمی کے بیٹے ہیں کہ حضرت عمروعلی (رض) کا اس پر اتفاق ہے کہ جو شخص قصاص میں مرجائے تو اس کے لیے کوئی حد نہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب (کے فیصلہ) نے اسے قتل کیا ہے۔ رواہ عبدالرزاق
40200- عن ابن جريج أخبرني محمد أظنه بن عبيد الله العرزمي أن عمر وعليا اجتمعا على أنه من مات في القصاص فلا حد له، كتاب الله قتله."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২১৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل میں مدد کرنے والے کو عمرقید کی سزا
٤٠٢٠١۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے : کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک عورت کی طرف پیغام بھیجا جس کا خاوندگھرپر نہیں تھا کہ اس کے گھر کوئی آتا ہے، اس نے اس کا انکار کیا آپ نے اس کی طرف پیغام بھیجا لوگوں نے اس سے کہا : کہ امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر ہو وہ کہنے لگی ہائے افسوس ! امرا اور عمرکا کیا واسطہ ! اچانک جب وہ راستہ میں تھی گھبراگئی اسے دردزہ شروع ہواپھر وہ کسی گھر میں داخل ہوئی جہاں اس نے اپنا بچہ جنا، بچہ نے دوچیخیں ماریں اور مرگیا، بعد میں حضرت عمر (رض) نے صحابہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشورہ طلب کیا تو کچھ نے یہ مشورہ دیا کہ آپ یہ کوئی چیز واجب نہیں کیونکہ آپ تو صرف والی اورادب سکھانے والے ہیں، اور حضرت علی (رض) خاموش بیٹھے تھے، آپ حضرت علی (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : آپ کیا کہتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا، اگر انھوں نے اپنی طرف سے یہ بات کہی ہے تو ان کی رائے غلط ہے اور اگر انھوں نے آپ کی خواہش میں یا بات کہی ہے تو انھوں نے آپ سے خیرخواہی نہیں کی میں سمجھتا ہوں کہ اس کی دیت آپ کے ذمہ ہے کیونکہ آپ ہی نے اسے خوفزدہ کیا اور آپ کی خاطر اس نے اپنے بچہ کو جنم دیا چنانچہ آپ نے حضرت علی (رض) کو حکم دیا کہ اس بچہ کی دیت قریش پر تقسیم کریں یعنی قریش سے اس کی دیت وصول کریں کیونکہ ان سے غلطی ہوئی۔ عبدالرزاق ، بیھقی
40201- عن الحسن قال: أرسل عمر بن الخطاب إلى امرأة مغيبة كان يدخل عليها فأنكر ذلك فأرسل إليها، فقيل لها: أجيبي عمر! فقالت: يا ويلها ما لها ولعمر! فبينما هي في الطريق فزعت فضربها الطلق فدخلت دارا فألقت ولدها فصاح الصبي صيحتين ثم مات، فاستشار عمر أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فأشار عليه بعضهم أن ليس عليك شيء إنما أنت وال ومؤدب، وصمت علي فأقبل على علي فقال: ما تقول؟ قال: إن كانوا قالوا برأيهم فقد أخطأ رأيهم، وإن كانوا قالوا في هواك فلم ينصحوا لك، أرى أن ديته عليك، فإنك أنت أفزعتها وألقت ولدها في سبيلك، فأمر عليا أن يقسم عقله على قريش - يعني يأخذ عقله من قريش لأنه أخطأ."عب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২১৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معالج سے تاوان وصول کرنا
٤٠٢٠٢۔۔۔ مجاہد سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے طبیب کے بارے میں فرمایا : اگر وہ علاج پر کسی کو گواہ نہ بنائے تو اپنے علاوہ کسی کو ملامت نہ کرے، یعنی وہ ضامن ہوگا۔ رواہ عبدالرزاق
40202- عن مجاهد أن عليا قال في الطبيب: إن لم يشهد على ما يعالج فلا يلومن إلا نفسه - يقول يضمن."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২১৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معالج سے تاوان وصول کرنا
٤٠٢٠٣۔۔۔ ضحاک بن مزاحم سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا اے طبیبو، جانوروں کا علاج کرنے والو اور حکیمو ! تم میں سے جو کوئی کسی انسان یا کسی جانورکاعلاج کرے تو وہ اپنے لیے برأت حاصل کرلیاکرے، اس لیے کہ جس نے کسی بیماری کا علاج کیا اور اپنے لیے برأت حاصل نہ کی اور بعد وہ انسان یاجانورہلاک ہوگیا تو وہ طبیب ضامن ہے۔ رواہ عبدالرزاق
40203- عن الضحاك بن مزاحم قال: خطب علي الناس فقال: يا معشر الأطباء والبياطرة والمتطببين! من عالج منكم إنسانا أو دابة فليأخذ لنفسه البراءة، فإنه إن عالج شيئا ولم يأخذ لنفسه البراءة فعطب فهو ضامن."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২১৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معالج سے تاوان وصول کرنا
٤٠٢٠٤۔۔۔ حضرت علی وابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ان دونوں حضرات نے فرمایا : غلام کی دیت اس کی قیمت ہے اگرچہ وہ آزاد کی دیت کی قسم کھائے۔ رواہ عبدالرزاق،
40204- عن علي وابن مسعود قالا: دية المملوك ثمنه وإن حلف دية الحر."عب".
tahqiq

তাহকীক: