কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قصاص کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৭৯ টি

হাদীস নং: ৪০১৭৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص، قتل، دیت اور قسامہ۔۔۔ ازقسم قصاص افعال غلام کے بدلے آزاد کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠١٦٥۔۔۔ زہری سے روایت ہے کہ حضرت عثمان و معاویہ (رض) مشرک کی دیت مسلمان سے نہ لیتے تھے۔ دارقطنی، بیھقی
40165- عن الزهري أن عثمان ومعاوية كانا لا يقيدان المشرك من المسلم."قط، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৭৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص، قتل، دیت اور قسامہ۔۔۔ ازقسم قصاص افعال غلام کے بدلے آزاد کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠١٦٦۔۔۔ ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے قصداقتل کیا تھا تو مقتول کے بعض ورثاء نے معاف کردیا آپ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا، اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : یہ جان ان سب کے لیے تھی پس جب انھوں نے معاف کردیاتو جان زندہ کردی گئی لہٰذا آپ اس کا حق نہیں لے سکتے یہاں تک کہ کوئی دوسرا اسے لے، تو حضرت عمرنے فرمایا : آپ کی کیا رائے ہے ؟ انھوں نے فرمایا : مری رائے یہ ہے کہ آپ اس کے مال میں دیت مقررکریں اور معاف کرنے والوں کا حصہ ختم کردیں، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مری بھی یہی رائے ہے۔ الشافعی، بیھقی
40166- عن إبراهيم النخعي أن عمر بن الخطاب أتى برجل قد قتل عمدا فعفا بعض الأولياء فأمر بقتله، فقال ابن مسعود: كانت النفس لهم جميعا فلما عفا هذا أحيى النفس فلا تستطيع أن تأخذ حقها حتى يأخذ غيره، قال: فما ترى؟ قال: أرى أن تجعل الدية عليه من ماله وترفع حصة الذي عفا، قال عمر: وأنا أرى ذلك."الشافعي، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৮০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص، قتل، دیت اور قسامہ۔۔۔ ازقسم قصاص افعال غلام کے بدلے آزاد کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠١٦٧۔۔۔ حکم بن عیینہ، عرفجہ سے وہ حضرت عمربن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں : فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : والد پر بیٹے کی دیت نہیں۔ بیھقی ، ابن ابی شیبۃ
40167- عن الحكم بن عيينة عن عرفجة عن عمر بن الخطاب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " ليس على الوالد قود من ولد"."ق، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৮১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص، قتل، دیت اور قسامہ۔۔۔ ازقسم قصاص افعال غلام کے بدلے آزاد کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠١٦٨۔۔۔ یزید بن ابی منصور سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) کو اس بات کی اطلاع پہنچی کہ بحرین پر ان کے گورنر ابن الجارودیا ابن ابی الجارود کے پاس ایک شخص لایا گیا جسے اور پاس کہا جاتا تھا اس کے خلاف گواہی تھی کہ وہ مسلمانوں کے دشمن سے خط و کتابت کرتا اور ان سے مل جانے کا عزم رکھتا ہے تو مذکورہ گورنرنے اسے قتل کردیاجب کہ وہ کہہ رہا تھا۔ہائے عمر ! ہائے عمر ! مری مدد کرو، تو حضرت عمرنے اپنے گورنر کو لکھا کہ وہ ان کے پاس آئے جب وہ آیا تو حضرت عمر علیحدہ اس کے لیے بیٹھے آپ کے ہاتھ میں ایک بھالہ تھا، جب وہ آپ کے پاس کمرہ میں آیا تو آپ نے بھالہ سے اس کی داڑھی اوپر چڑھائی اور فرمانے لگے : اور پاس ! میں حاضر ہوں اور پاس ! میں حاضر ہوں اور جارود کہنے لگے : امیرالمومنین اس نے ان سے مسلمانوں کی پوشیدہ باتیں کی ہیں اور ان سے الحاق کا عزم کیا تھا، حضرت عمر نے فرمایا تم نے صرف اس کے ارادہ پر اسے مار ڈالا، ہم میں سے کس نے اس کا ارادہ نہ کیا، اگر یہ طریقہ نہ پڑجاتا تو میں تمہیں اس کے بدلہ قتل کردیتا۔ رواہ ابن جریر۔
40168- عن يزيد بن أبي منصور قال: بلغ عمر بن الخطاب أن عامله على البحرين ابن الجارود أو ابن أبي الجارود أتى برجل يقال له ادرياس قامت عليه بينة بمكاتبة عدو المسلمين وأنه قد هم أن يلحق بهم فضرب عنقه وهو يقول: يا عمراه! يا عمراه! فكتب عمر إلى عامله ذلك فأمره بالقدوم عليه، فقدم فجلس له عمر وبيده حربة فدخل على عمر فعلا عمر لحيته بالحربة وهو يقول: ادرياس لبيك! ادرياس لبيك! وجعل الجارود يقول: يا أمير المؤمنين! إنه كاتبهم بعورة المسلمين وهم أن يلحق بهم، فقال عمر: قتلته على همه وأينا لم يهمه! لولا أن تكون سنة لقتلتك به."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৮২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص، قتل، دیت اور قسامہ۔۔۔ ازقسم قصاص افعال غلام کے بدلے آزاد کو قتل نہیں کیا جائے گا
٤٠١٦٩۔۔۔ نزال بن سیرۃ سے روایت ہے فرماتے ہیں : کہ حضرت عمر (رض) نے اجناد کے گورنروں کو لکھا کہ مری وجہ سے کوئی جان قتل نہ کی جائے مصنف ابن ابی شیبۃ، بیھقی
40169- عن النزال بن سبرة قال: كتب عمر إلى أمراء الأجناد أن لا تقتل نفس دوني."ش، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৮৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل ساقط کرنے کا تاوان
٤٠١٧٠۔۔۔ مجاہد سے روایت ہے فرماتے ہیں : کہ ایک عورت نے کسی عورت کے پیٹ پر ہاتھ پھیراجس کی وجہ سے اس کا حمل ساقط ہوگیا، یہ مقدمہ حضرت عمر (رض) کے سامنے پیش ہوا، تو آپ نے ہاتھ پھیرنے والی کو حکم دیا کہ وہ کفارہ میں ایک غلام آزادکرے۔ رواہ عبدالرزاق
40170- عن مجاهد قال: مسحت امرأة ببطن امرأة فأسقطت جنينا فرفع ذلك إلى عمر، فأمرها أن تكفر بعتق رقبة - يعني التي مسحت."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৮৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل ساقط کرنے کا تاوان
٤٠١٧١۔۔۔ اسودبن قیس اپنے شیوخ سے نقل کرتے ہیں : کہ ایک لڑکا زید بن مرجان کے گھر میں داخل ہواج سے زید کی کسی اونٹنی نے مارکرہلاک کردیا ادھر لڑکے کے ورثاء نے اونٹنی کی کونچیں (ٹانگیں) کاٹ دیں پھر یہ لوگ حضرت عمر (رض) کے پاس فیصلہ کرانے آئے ، آپ نے لڑکے کا خون رائیگاں قراردیا اور باپ پر اونٹنی کی قیمت (بطور ضمان) واجب کی۔ رواہ عبدالرزاق
40171- عن الأسود بن قيس عن أشياخ لهم أن غلاما دخل دار زيد بن مرجان فضربته ناقة لزيد فقتلته، فعمد أولياء الغلام فعقروها، فاختصموا إلى عمر بن الخطاب، فأبطل دم الغلام وأغرم الأب ثمن الناقة."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৮৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل ساقط کرنے کا تاوان
٤٠١٧٢۔۔۔ قتادہ سے روایت ہے : کہ حضرت عمربن خطاب (رض) کے پاس ایک شخص کا مقدمہ لایا گیا جس نے ایک آدمی کو قتل کیا تھا، مقتول کے ورثاء آئے ان میں سے ایک نے معاف کردیاتو حضرت عمرنے حضرت عبداللہ بن مسعود سے فرمایا جو آپ کے پاس بیٹھتے تھے : آپ کی کیا رائے ہے ؟ تو حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : میں کہتا ہوں کہ وہ قتل سے بچ گیا، تو آپ نے ان کے کندھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا : علم سے بھرابرتن ہے۔ رواہ عبدالرزاق
40172- عن قتادة أن عمر بن الخطاب رفع إليه رجل قتل رجلا فجاء أولياء المقتول فقد عفا أحدهم، فقال عمر لابن مسعود وهو إلى جنبه: ما تقول؟ فقال ابن مسعود: أقول إنه قد أحرز من القتل، فضرب على كتفه وقال: كنيف ملئ علما."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৮৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل ساقط کرنے کا تاوان
٤٠١٧٣۔۔۔ قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک عورت کے بدلہ میں ایک مرد کو قتل کیا۔ رواہ عبدالرزاق
40173- عن قتادة أن عمر بن الخطاب قتل رجلا بامرأة."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৮৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل ساقط کرنے کا تاوان
٤٠١٧٤۔۔۔ قاسم بن ابی برہ سے روایت ہے کہ شام میں ایک مسلمان نے کسی ذمی کو مارڈالا، حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کے سامنے فیصلہ پیش ہوا، آپ نے اس بارے میں حضرت عمربن خطاب (رض) کو لکھا تو حضرت عمر (رض) نے جو ابالکھا : کہ اگر یہ اس شخص کی عدالت ہے تو اسے بھیج دو میں اسے قتل کروں اور اگر یہ اس کی عضبنا کی تھی جو اس نے کی تو اس پرچارہزار کی دیت واجب کرو۔ عبدالرزاق، بیھقی
40174- عن القاسم بن أبي برة أن رجلا مسلما قتل رجلا من أهل الذمة بالشام فرفع إلى أبي عبيدة بن الجراح، فكتب فيه إلى عمر بن الخطاب، فكتب عمر: إن كان ذاك فيه خلقا فقدمه فاضرب عنقه، وإن كان هي طيرة طارها فأغرمه دية أربعة آلاف."عب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৮৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل ساقط کرنے کا تاوان
٤٠١٧٥۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : ایک لونڈی حضرت عمربن خطاب (رض) کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی : کہ مرے آقانے مجھ پر تہمت لگائی اور مجھے آگ پر بٹھایاجس کی وجہ سے مری شرمگاہ جھلس گئی تو حضرت عمرنے اس سے فرمایا (رح) : اس نے کوئی چیز دیکھی ؟ وہ بولی : نہیں، آپ نے فرمایا : تم نے اس کے سامنے کوئی اعتراف کیا ؟ اس نے کہا : نہیں حضرت عمرنے فرمایا : اس شخص کو مرے پاس لاؤ، حضرت عمرنے جب اس شخص کو دیکھاتو فرمایا : کیا تم اللہ تعالیٰ کا عذاب دینا چاہتے ہو ؟ وہ کہنے لگا، امیرالمومنین ! میں نے اس پر تہمت رکھی ہے، آپ نے فرمایا : تم نے کوئی چیز دیکھی ؟ اس نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : اس نے تمہارے سامنے کوئی اعتراف کیا ؟ اس نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ غلام کا بدلہ آقا سے اور بیٹے کا بدلہ باپ سے نہ لیا جائے تو میں تم سے اس کا بدلہ لیتا، اور اسے سوکوڑے مارے اور لونڈی سے فرمایا : تم جاؤ، تم اللہ تعالیٰ کی خاطر آزاد ہو آج سے تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی باندی ہو، میں گواہ ہوں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : جو آگ سے جلایا گیا اس کا مثلہ کیا گیا تو وہ آزاد ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا غلام ہے۔ طبرانی فی الاوسط، حاکم، بیھقی ، کلام ۔۔۔ ذخیرہ الحفاظ ٢٦١٢۔
40175- عن ابن عباس قال: جاءت جارية إلى عمر بن الخطاب فقالت: إن سيدي اتهمني فأقعدني على النار حتى احترق فرجي، فقال لها عمر: هل رأى ذلك عليك؟ قالت: لا، قال: فهل اعترفت له بشيء؟ قالت: لا، فقال عمر: علي به! فلما رأى عمر الرجل قال: أتعذب بعذاب الله؟ قال: يا أمير المؤمنين! اتهمتها في نفسها، قال: أرأيت ذلك عليها؟ قال: لا، قال: فاعترفت لك به؟ قال: لا، قال: والذي نفسي بيده لو لم أسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لا يقاد مملوك من مالكه ولا ولد من والده" لأقدتها منك! وضربه مائة سوط، وقال للجارية: اذهبي فأنت حرة لوجه الله وأنت مولاة الله ورسوله، أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من حرق بالنار أو مثل به فهو حر وهو مولى الله ورسوله"."طس، ك، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৮৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل ساقط کرنے کا تاوان
٤٠١٧٦۔۔۔ احنف بن قیس سے روایت ہے کہ حضرت علی وعمر (رض) سے اس آزاد کے بارے میں پوچھا گیا جو غلام کو قتل کردے آپ دونوں حضرات نے فرمایا : اس میں جتنی اس کی قیمت بنتی ہے وہ واجب الاداء ہے۔ مسند احمد، فی العلل، دارقطنی، بیھقی وصححہ
40176- عن الأحنف بن قيس عن علي وعمر في الحر يقتل العبد قالا: فيه ثمنه ما بلغ."حم في العلل، قط، ق وصححه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৯০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل ساقط کرنے کا تاوان
٤٠١٧٧۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھا آپ بیٹے سے باپ کا بدلہ لے رہے تھے اور باپ سے بیٹے کا بدلہ نہیں لے رہے تھے۔ عبدالرزاق، بیھقی
40177- عن عمر قال: حضرت النبي صلى الله عليه وسلم يقيد الأب من ابنه ولا يقيد الابن من أبيه."عب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৯১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل ساقط کرنے کا تاوان
٤٠١٧٨۔۔۔ سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے ایک شخص کے بدلہ پانچ یاسات آدمی قتل کئے جنہوں نے اسے دھو کے سے قتل کیا تھا اور فرمایا : اگر اس کے قتل میں صنعاء والے شامل ہوتے تو میں ان سب کو اس کے بدلہ میں قتل کرتا۔ مالک والشافعی، عبدالرزاق، بیھقی
40178- عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب قتل نفرا خمسة أو سبعة برجل قتلوه قتل غيلة وقال: لو تمالأ عليه أهل صنعاء لقتلتهم به جميعا."مالك والشافعي، عب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৯২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر قاتل سے بدلہ لیا جائے گا
٤٠١٧٩۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو گوشت کے لقمہ کی طرح مارتا ہے پھر وہ سمجھتا ہے کہ میں اس سے بدلہ نہیں لوں گا، اللہ کی قسم ! جو بھی ایسا کرے گا میں اس سے بدلہ لوں گا۔ ابن سعد وابو عبیدۃ فی الغریب بیھقی
40179- عن عمر قال: يضرب أحدكم أخاه بمثل أكلة اللحم ثم يرى أني لا أقيده! والله لا يفعل ذلك أحد إلا أقدته."ابن سعد وأبو عبيدة في الغريب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৯৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر قاتل سے بدلہ لیا جائے گا
٤٠١٨٠۔۔۔ جریر سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ (رض) کے ساتھ ایک شخص تھا پھر ان لوگوں نے مال غنیمت حاصل کیا حضرت ابو موسیٰ نے اسے اس کا حصہ دیامگرپورا نہیں دیاتو اس نے پورے حصہ سے کم لینے سے انکار کردیا تو ابو موسیٰ نے اسے بیس کوڑے مارے اور اس کا سرمنڈوادیا، اس نے اپنے بال جمع کئے اور حضرت عمر (رض) کے پاس چلا گیا، جیب سے بال نکال کر حضرت عمر کے سینے کی طرف پھینک دیئے آپ نے فرمایا : تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ اس نے اپنا قصہ بیان کیا حضرت عمر (رض) نے ابوموسیٰ کو لکھا : السلام علیکم اما بعد، فلاں بن فلاں نے مجھے اس طرح کے واقعہ کی خبردی ہے میں تمہیں قسم دیتا ہوں تم نے جو کچھ کیا اگر بھری مجلس میں کیا تو اس کے لیے بھری مجلس میں بیٹھو اور وہ تم سے بدلہ کے لیے بیٹھے تو وہ شخص کہنے لگا : میں نے اللہ کے لیے معاف کردیا ہے۔ رواہ البیھقی
40180- عن جرير أن رجلا كان مع أبي موسى فغنموا مغنما فأعطاه أبو موسى نصيبه ولم يوفه فأبى أن يأخذه إلا جميعه، فضربه أبو موسى عشرين سوطا وحلق رأسه فجمع شعره وذهب به إلى عمر، فأخرج شعرا من جيبه فضرب به صدر عمر، قال: ما لك؟ فذكر قصته، فكتب عمر إلى أبي موسى: سلام عليك، أما بعد فإن فلان ابن فلان أخبرني بكذا وكذا وإني أقسم عليك إن كنت فعلت ما فعلت في ملأ من الناس جلست له في ملأ من الناس فاقتص منك، وإن كنت فعلت ما فعلت في خلاء فاقعد له في خلاء فليقتص منك؛ فلما دفع إليه الكتاب قعد للقصاص فقال الرجل: قد عفوت عنه لله."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৯৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر قاتل سے بدلہ لیا جائے گا
٤٠١٨١۔۔۔ زید بن وھب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کسی عورت کو قتل کردیا اس کے تین بھائیوں نے اس قاتل کے خلاف حضرت عمر سے مدد طلب کی پھر ان میں سے ایک نے معاف کردیاتو حضرت عمرنے باقیوں سے کہا : تم دونوں دوتہائی دیت لے لو کیونکہ اس کے قتل کی کوئی راہ نہیں رہی۔ رواہ البیھقی
40181- عن زيد بن وهب أن رجلا قتل امرأة فاستعدى ثلاثة إخوة لها عليه عمر بن الخطاب فعفا أحدهم، قال عمر للباقين:خذا ثلثي الدية، فإنه لا سبيل إلى قتله."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৯৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر قاتل سے بدلہ لیا جائے گا
٤٠١٨٢۔۔۔ حکم سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے لکھا : کوئی شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ہرگز بیٹھ کر امامت نہ کرے، اور بچہ کا جان بوجھ کر یاغلطی سے قتل کرنا برابر ہے اور جو عورت اپنے غلام سے شادی کرے تو بطور حدا سے کوڑے مارو۔ سعد بن نصر فی الاول من حدیثہ، بیھقی وقال ھذا منقطع وفیہ جابر الجعفی ضعیف
40182- عن الحكم قال: كتب عمر: لا يؤمن أحد جالسا بعد النبي صلى الله عليه وسلم، وعمد الصبي وخطؤه سواء، فيه الكفارة، وأيما امرأة تزوجت عبدها فاجلدوها الحد."سعد بن نصر في الأول من حديثه، ق وقال: هذا منقطع وفيه جابر الجعفي ضعيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৯৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر قاتل سے بدلہ لیا جائے گا
٤٠١٨٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں ہڈی کا بدلہ نہیں لیتا۔ سعید بن منصور، بیھقی
40183- عن عمر قال: لا أقيد من العظام."ص، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৯৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر قاتل سے بدلہ لیا جائے گا
٤٠١٨٤۔۔۔ عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کسی شخص کی ران توڑدی وہ حضرت عمربن خطاب (رض) کی خدمت میں فیصلہ کے لیے حاضر ہوا، اور کہنے لگا : امیرالمومنین ! مجھے بدلہ دلوایئے ! آپ نے فرمایا : تیرے لیے بدلہ نہیں، تیرے لیے دیت ہے تو وہ شخص بولا : تو مجھے چتکبرے سانپ کی طرح سمجھیں ! اسے قتل کیا جائے تو انتقام لیا جائے اور اسے چھوڑا جائے تو کاٹے، آپ نے فرمایا : توچتکبرے سانپ جیساہی ہے۔ سعید بن منصور، بیھقی
40184- عن عطاء بن أبي رباح؟ أن رجلا كسر فخذ رجل فخاصمه إلى عمر بن الخطاب فقال: يا أمير المؤمنين! أقدني، قال: ليس لك القود، إنما لك العقل، قال الرجل: فاسمعني كالأرقم، إن يقتل ينقم، وإن يترك يلقم؛ قال: فأنت كالأرقم."ص، ق".
tahqiq

তাহকীক: