কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قصاص کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৭৯ টি

হাদীস নং: ৩৯৮৩৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے بچے
٣٩٨٢٥۔۔۔ کھانے کے بدلہ کھانا، اور برتن کے بدلہ برتن۔ ترمذی عن عائشہ
39825- " طعام بطعام وإناء بإناء". "ت - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৩৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے بچے
٣٩٨٢٦۔۔۔ اس کے کھانے جیسا کھانا اور اس کے برتن جیسا برتن بھیجو۔ مسند احمد عن عائشہ
39826- " طعام كطعامها وإناء كإنائها". "حم - عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৪০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے بچے
٣٩٨٢٧۔۔۔ تم بدلہ لے لو۔ ابن ماجہ عن عائشہ
39827- "دونك فانتصري". "هـ - عن عائشة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৪১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے بچے
٣٩٨٢٨۔۔۔ انس اللہ تعالیٰ کا فیصلہ قصاص ہے۔ مسند احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی۔ ابن ماجہ عن انس یہ حضرت انس کے چچا ہیں ان کا نام بھی انس ہے ان کی بہن سے کسی عورت کا دانت ٹوٹ گیا تھا تو ان لوگوں نے مطالبہ کیا کہ بدلہ میں ہم بھی دانٹ توڑیں گے، اس پر حضرت انس کے چچانے قسم کھالی، تو بعد میں ان لوگوں نے معاف کردیا۔
39828- "يا أنس! كتاب الله القصاص". "حم، خ، م،2 "د، ن، هـ - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৪২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے بچے
٣٩٨٢٩۔۔۔ اگر قصاص نہ ہوتا تو میں تمہیں اس مسواک سے تکلیف دیتا۔ ابن سعد عن ام سلمۃ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کنیز بھیجی جو دیر سے واپس آئی تو اس پر آپ نے یہ ارشاد فرمایا۔
39829- "لولا القصاص لأوجعتك بهذا السواك". "ابن سعد عن أم سلمة أن النبي صلى الله عليه وسلم أرسل وصيفة له فأبطأت عليه فقال - فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৪৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے بچے
٣٩٨٣٠۔۔۔ آؤ اور دیت وصول کرو۔ مسند احمد عن ابی سعید
39830- "تعال فاستقد". "حم - عن أبي سعيد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৪৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے بچے
٣٩٨٣١۔۔۔ لوگو ! میں تمہاری طرح ایک انسان ہوں، ہوسکتا ہے تم سے میرے جدا ہوجانے کا وقت نزدیک ہوجائے (یعنی میری وفات قریب ہے) اور میں نے تم میں سے کسی کی ہتک کی، یا اس کی کھال بال کو کوئی اذیت پہنچائی ہو یا اس کا مالیا ہو۔ تو اب یہ محمد کی عزت کھال بال اور اس کا مال ہے تو جس کا کوئی حق ہو تو وہ اٹھے اور آکر اپنا بدلہ لے لے۔ اور تم میں سے ہرگز کوئی یہ نہ کہے ! میں محمد سے دشمنی اور سختی کی وجہ سے ڈرتاہوں، سن رکھو ! یہ دونوں چیزیں نہ میری طبیعت ہیں اور نہ میرے اخلاق ہیں۔ ابویعلی، ابن عساکرعن الفضل ابن عباس
39831- "يا أيها الناس! إنما أنا بشر مثلكم، ولعله أن يكون قد قرب مني خفوف 2 من بين أظهركم، فمن كنت أصبت من عرضه أو من شعره أو من بشره أو من ماله شيئا، هذا عرض محمد وشعره وبشره وماله فليقم فليقتص! ولا يقولن أحد منكم: إني أتخوف من محمد العداوة والشحناء؛ ألا! وإنهما ليستا من طبيعتي وليستا من خلقي"."ع وابن عساكر - عن الفضل ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৪৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے بچے
٣٩٨٣٢۔۔۔ تم میں سے میرا سفر آخرت قریب آگیا ہے اور میں تم جیسا ایک انسان ہوں سو میں نے جس کی بےعزتی کی ہو تو یہ میری عزت ہے وہ اپنا بدلہ لے لے، اور جس کی کھال کو میں نے کوئی تکلیف دی ہو تو یہ مری کھال ہے وہ اپنا بدلہ لے لے۔ اور میں نے جس کا مال لیا ہو تو یہ مرامال ہے وہ اپنا مال وصول کرے۔ آگاہ ہو تم میں سے میرے سب سے زیادہ نزدیک وہ شخص ہوگا جس کا کوئی حق ہو اور وصول کرلے یا مجھے وہ حق بخشش دے۔ اور میں اپنے رب سے ایسی حالت میں ملاقات کروں کہ وہ حق اپنے لیے جائز کراچکا ہوں، ہرگز کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دشمنی اور سختی سے ڈرتا ہوں یہ دونوں نہ مری طبیعت ہیں اور نہ میرے اخلاق جس کا نفس کسی چیز کے بارے میں اس پر غالب آجائے تو وہ مجھ سے مدد چاہے تاکہ میں اس کے لیے دعا کردوں۔ ابن سعد۔ طبرانی عن الفضل بن عباس
39832- "إنا قد دنا مني خفوف من بين أظهركم، وإنا أنا بشر، فأيما رجل كنت أصبت من عرضه شيئا فهذا عرضي فليقتص، وأيما رجل كنت أصبت من بشره شيئا فهذا بشري فليقتص، وأيما رجل كنت أصبت من ماله شيئا فهذا مالي فليأخذ وأعلموا أن أولادكم بي رجل كان له من ذلك شيء فأخذه أو حللني فلقيت ربي وأنا محلل لي، ولا يقولن رجل: إني أخاف العداوة والشحناء من رسول الله صلى الله عليه وسلم فإنهما ليستا من طبيعتي ولا من خلقي، ومن غلبته نفس على شيء فليستعن بي حتى أدعو له". "ابن سعد، طب - عن الفضل بن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৪৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے بچے
٣٩٨٣٣۔۔۔ جس نے کسی مسلمان کو دھو کے سے قتل کیا تو اس کا بدلہ لیا جائے گا الایہ کہ مقتول کے رشتہ دار (قصاص پر) راضی ہوجائیں۔ عبدالرزاق عن الزھری
39833- "من اعتبط مؤمنا قتلا فإنه قود إلا أن يرضى ولي المقتول". "عب - عن الزهري"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৪৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل صرف تین وجوہات سے جائز ہے
٣٩٨٣٤۔۔۔ قتل صرف تین صورتوں میں ہوسکتا ہے۔ وہ شخص جس نے کسی کو قتل کیا ہو تو بدلہ میں اسے قتل کیا جائے گا، دوسراوہ شخص جو اسلام لانے کے بعد کافر ہوجائے، تیسراوہ شخص جو محصن ہونے کے بعد کسی حد میں مبتلا ہوجائے اور پھرا سے سنگسار کیا جائے۔ (یعنی شادی شدہ زنا کا ارتکاب کرے) ۔ ابن عساکرعن عائشۃ
39834- لا يصلح القتل إلا في ثلاث: رجل يقتل فيقتل به ورجل يكفر بعد إسلامه، ورجل أصاب حدا بعد إحصانه فيرجم"."كر - من عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৪৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل صرف تین وجوہات سے جائز ہے
٣٩٨٣٥۔۔۔ جس نے کسی مسلمان کو دھو کے سے قتل کیا تو اس کا بدلہ لیا جائے گا، ہاں اگر مقتول کے رشتہ دار اور سارے مسلمان (قصاص پر) راضی ہوجائیں، جو مومن اللہ تعالیٰ پر اور پچھلے روز پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے ٹھکانا دے یا اس کی مدد کرے۔ جو جس نے اسے ٹھکانا دیا اور اس کی مدد کی تو اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوگا اور جس چیز میں تمہیں اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ عبدالرزاق عن عبدالرحمن بن ابی لیلی مرسلا
39835- "من اعتبط مؤمنا قتلا فإنه قود إلا أن يرضي ولي المقتول والمؤمنون عليه كافة، لا يحل لمؤمن يؤمن بالله واليوم الآخر يؤويه وينصره، فمن آواه ونصره غضب الله عليه، وما اختلفتم فيه من شيء فحكمه إلى الله"."عب - عن عبد الرحمن بن أبي ليلى مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৪৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل صرف تین وجوہات سے جائز ہے
٣٩٨٣٦۔۔۔ جو شخص خون یا کسی زخم کا مطالبہ کرے توا سے تین باتوں کا اختیا رہے اگر وہ چوتھی کا ارادہ کرے تواسکاہاتھ روک لیا جائے ، یا تو بدلہ یا معاف کرے اور یا وہ چیز لے لے، اگر اس نے ان میں سے کوئی ایک کام کرلیا اور پھر اس کے بعد حد سے تجاوز کیا تو اس کے لیے جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہے گا۔ عبدالرزاق عن ابی شریح الخزاعی
39836- "من طلب دما أو خبلا - والخبل: الجرح - فهو بالخيار من ثلاث خلال، فإذا أراد الرابعة أخذ على يديه، بين أن يقتص أو يعفو أو يأخذ العين، فإن أخذ منهن واحدة ثم اعتدى بعد ذلك فله النار خالدا فيها مخلدا"."عب - عن أبي شريح الخزاعي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৫০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل صرف تین وجوہات سے جائز ہے
٣٩٨٣٧۔۔۔ جو شخص خفیہ طور پر پتھر سے یا کوڑوں کی مار سے یا لاٹھی سے قتل کردیا گیا ہو (اور قاتل کا اتاپتا نہیں) تو اس کا قتل، قتل خطا ہے (اس میں دیت واجب ہوگی) اور جسے دھو کے سے قتل کیا گیا تو اس کا بدلہ ہوگا اس کے اور اس کے قاتل کے درمیان کوئی حائل نہ ہو جو اس کے اور اس کے قال کے درمیان حائل ہوا تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اللہ تعالیٰ کی کوئی فرض عبادت قبول کریں گے اور نہ نفل۔ بعدالرزاق عن ابن عباس
39837- "من قتل في عميا ورميا بحجر أو ضربا بسوط أو بعصا فقتله قتل الخطأ، ومن قتل اعتباطا - فهو قود، لا يحال بينه وبين قاتله، فمن حال بينه وبين قاتله فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا". "عب - عن ابن عباس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৫১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل صرف تین وجوہات سے جائز ہے
٣٩٨٣٨۔۔۔ جب کوئی شخص کسی کو پکڑے اور دوسرا اسے قتل کرے تو قتل کیا جائے گا اور پکڑنے والے کو قید کیا جائے گا۔ ابن عدی، بیھقی، عن ابن عمر
39838- "إذا أمسك الرجل وقتله الآخر يقتل الذي قتل ويحبس الذي أمسك". "عد، ق - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৫২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل صرف تین وجوہات سے جائز ہے
٣٩٨٣٩۔۔۔ قاتل کو قتل کرو اور باندھنے والے کو باندھو۔ ابوعبید فی الغریب بیھقی عن اسماعیل بن امیۃ مرسلا
39839- "اقتلوا القاتل واصبروا الصابر". "أبو عبيد في الغريب ق - عن إسماعيل بن أمية مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৫৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل صرف تین وجوہات سے جائز ہے
٣٩٨٤٠۔۔۔ اگر ، منی والے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے پر اتفاق کرلیں تو میں انھیں اس کے بدلہ میں قتل کروں گا۔ الدیلمی عن ابوہریرہ وابن عباس معا
39840- "لو اجتمع أهل منى على مسلم عمدا لقتلتهم به". "الديلمي - عن أبي هريرة وابن عباس معا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৫৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل صرف تین وجوہات سے جائز ہے
٣٩٨٤١۔۔۔ قاتل کو قتل کیا جائے گا اور پکڑنے والے کو قید کیا جائے گا۔ دارقطنی، بیھقی عن اسماعیل بن امیۃ مرسلا
39841- "يقتل القاتل ويحبس الممسك"."قط، ق - عن إسماعيل بن أمية مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৫৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل صرف تین وجوہات سے جائز ہے
٣٩٨٤٢۔۔۔ تلوار کے ذریعہ ہی قتل عمد ہوتا ہے۔ مسند احمد عن النعمان
39842- "لا عمد إلا بالسيف"."حم - عن النعمان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৫৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل صرف تین وجوہات سے جائز ہے
٣٩٨٤٣۔۔۔ ہرچیز قتل خطاء میں شامل ہے صرف (دھاری دار) لوہا اور تلوار (وہ قتل عمد میں شمارہوں گی) ۔ طبرانی فی الکبیر، بیھقی ، عن النعمان بن بشیر
39843- "كل شيء خطأ إلا الحديد والسيف"."طب، ق عن النعمان بن بشير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮৫৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل صرف تین وجوہات سے جائز ہے
٣٩٨٤٤۔۔۔ لوہے کے سواہر چیز خطا ہے اور خطا کا ایک جرمانہ ہے۔ عبدالرزاق وابن جریر، طبرانی فی الکبیر، بیھقی عن النعمان بن بشیرکلامـ:۔۔۔ ضعیف الجامع ٤٢٣٤، الکشف الالٰہی ٦٦١۔
39844- "كل شيء سوى الحديدة خطأ، ولكل خطأ أرش" ."عب وابن جرير، طب، ق - عن النعمان بن بشير".
tahqiq

তাহকীক: