কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

وصیت کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৪ টি

হাদীস নং: ৪৬১৪০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت کے معاملہ میں کسی کو نقصان پہنچانا گناہ ہے
46128 عکرمہ بن خالد کہتے ہیں ایک آدمی کے دو یا تین غلام تھے وہ اس نے آزاد کردیئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غلاموں کے درمیان قرعہ ڈالا اور ان میں سے ایک آزاد کردیا۔ رواہ عبدالرزاق
46128- عن عكرمة بن خالد قال: أعتق رجل مملوكين له أو ثلاثة ليس له مال غيرهم، فأقرع النبي صلى الله عليه وسلم بينهم، فأعتق أحدهم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১৪১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت کے معاملہ میں کسی کو نقصان پہنچانا گناہ ہے
46129 ابن سیرین کہتے ہیں : بشیر بن سعد (رض) اپنے بیٹے نعمان (رض) کو لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گواہی دیں کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو کچھ عطا کیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو اسی طرح عطا کیا ہے ؟ عرض کیا : نہیں اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی اولاد میں برابری کرو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گواہی دینے سے انکار کردیا۔ رواہ عبدالرزاق
46129- عن ابن سيرين قال: جاء بشير بن سعد بابنه النعمان إلى النبي صلى الله عليه وسلم ليشهده على نحل نحله إياه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أكل بنيك نحلت مثل هذا؟ فقال: لا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: قاربوا بين أولادكم، وأبى أن يشهد. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১৪২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت کے معاملہ میں کسی کو نقصان پہنچانا گناہ ہے
42130” مسند انس “ مقائل بن صالح صاحب حمیدی کہتے ہیں ایک مرتبہ میں حماد بن سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اچانک دروازے پر دستک ہوئی حماد بولے : اسے بچی ! ذرہ دیکھو دروازے پر کون ہے ؟ بچی بولی ! محمد بن سلیمان ھاشمی کا قاصد ہے۔ کہا : اس سے کہو کہ وہ اکیلا ہی داخل ہو چنانچہ قاصد داخل ہوا اور سلام کیا۔ اس کے پاس خط پھر قاصد نے حماد کو خط پکڑادیا۔ حماد نے مجھے پڑھنے کو کہا : خط کا مضمون یہ تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم ! من محمد بن سلیمان الی حماد بن سلمہ امابعد ! اللہ تعالیٰ تمہیں اس نور سے روشن کرے جس سے اپنے اولیاء واہل طاعت کو کرتا ہے۔ ہمیں ایک مسئلہ پیش آیاے آپ ہمارے پاس آئیں تاکہ ہم آپ سے پوچھ سکیں حماد نے مجھے کہا : ورق الٹو اور اس پر لکھو : بسم اللہ الرحمن الرحیم : اللہ تعالیٰ آپ کو اس نور سے منور کرے جس سے اپنے اولیاء کو منور کیا ہے۔ ہم نے ایسے لوگوں کو پایا ہے جو کسی کی پاس نہیں جاتے تھے اگر تمہیں کوئی کام ہے تو ہمارے پاس آجاؤ اور ہم سے سوال کرلو اگر میرے پاس آؤ تو اکیلے ہی آؤ میرے پاس اپنے گھوڑوں اور پیادوں کے ساتھ مت آؤ تاکہ میں نہ تمہیں رسوا کروں اور نہ ہی تم مجھے رسوا کرو۔ والسلام۔ تھوڑی دیر گزری تھی اچانک دروازے پر دستک ہوئی حماد بن سلمہ نے بچی سے کہا : دروازے پر دیکھو کون ہے ؟ بچی نے جواب دیا : محمد بن سلیمان ھاشمی ہیں۔ بولے : اس سے کہو : اکیلا ہی اندر داخل ہو چنانچہ محمد بن سلیمان اکیلے ہی داخل ہوئے اور سلام کیا اور پھر حماد (رح) کے سامنے بیٹھ گئے اور کہا : اے ابوسلمہ ! کیا وجہ ہے جب میں آپ کی طرف دیکھتا ہوں مجھ پر رعب طاری ہوجاتا ہے : حماد (رح) نے جواب دیا : چونکہ ثابت بنانی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کو کہتے سنا ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : جب عالم اپنے علم سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا ارادہ کرتا ہے تو ہر چیز اس سے ڈرتی ہے اور جب اپنے علم سے خزانے جمع کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ ہر چیز سے ڈرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد محمد بن سلیمان نے کہا : اللہ آپ پر رحم فرمائے اس مسئلہ میں آپ کیا کہتے ہیں کہ ایک شخص کے دو بیٹے ہوں ایک سے زیادہ خوش ہو وہ اپنی زندگی میں اپنے پاس سے اس کو ایک تہائی مال دینا چاہتا ہو ؟ حماد (رح) نے کہا : اچھا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے اس مسئلہ میں آپ کیا کہتے ہیں کہ ایک شخص کے دو بیٹے ہوں ایک سے زیادہ خوش ہو وہ اپنی زندگی میں اپنے پاس سے اس کو ایک تہائی مال دینا چاہتا ہو ؟ حماد (رح) نے کہا : اچھا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے : میں نے ثابت بنانی (رح) کو کہتے سنا ہے کہ حضرت انس (رض) نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ جب کسی مالدار کو اس کی مالداری کی وجہ سے عذاب دینے کا ارادہ کرتے ہیں تو موت کے وقت اسے جائز وصیت کی توفیق دیتے ہیں پھر وہ اپنے معاملہ پر قائم نہیں رہ سکتا۔۔ رواہ ابن عساکر وابن النجار
46130- عن مكحول قال: أعتقت امرأة من الأنصار توفيت أعبدا ستة لم يكن لها مال غيرهم، فلما بلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم غضب وقال في ذلك قولا شديدا، ثم أمر بستة قداح فأقرع بينهم، فأعتق اثنين. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১৪৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت کے معاملہ میں کسی کو نقصان پہنچانا گناہ ہے
46131 مکحول کہتے ہیں : ایک انصاریہ عورت نے اپنے چھ غلام آزاد کردیے جب کہ ان غلاموں کے علاوہ اس کا اور مال نہیں تھا۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر ہوئی تو آپ سخت غصہ ہوئے اور اس پر عورت کو سخت وسست کہا پھر آپ نے غلاموں کو اپنے پاس بلوایا اور ان کے درمیان قرعہ ڈالا چنانچہ ان میں سے جن دو کے نام قرعہ نکالا انھیں آزاد کردیا۔ رواہ عبدالرزاق
46131- "مسند أنس" عن مقاتل بن صالح صاحب الحميدي قال: دخلت على حماد بن سلمة فبينا أنا عنده إذ دق داق الباب فقال: يا صبية! انظري من الباب! قالت: رسول محمد بن سليمان الهاشمي، قال: قولي له: ليدخل وحده، فدخل وسلم - ومعه كتاب - ثم ناوله الكتاب، فقال لي: اقرأ، فقرأت: بسم الله الرحمن الرحيم، من محمد بن سليمان إلى حماد بن سلمة، أما بعد! صبحك الله بما صبح به أولياءه وأهل طاعته، وقعت مسألة ائتنا نسأل عنها، فقال لي: اقلب الكتاب واكتب بسم الله الرحمن الرحيم وأنت صبحك الله بما صبح به أولياءه وأهل طاعته، إنا أدركنا أقواما لا يأتون أحدا، فإن كان لك حاجة فأتنا واسألنا عما بدا لك، فإن أتيتني فلا تأتني إلا وحدك، ولا تأتني بخيلك ورجلك، فلا أفضحك ولا أفضح نفسي - والسلام، فبينا أنا عنده إذ دق داق الباب، فقال: يا صبية! انظري من بالباب! قالت: محمد بن سليمان الهاشمي، قال: قولي له: يدخل وحده، فدخل وحده فسلم، ثم جلس بين يديه، فقال له: يا أبا سلمة! ما لي إذا نظرت إليك امتلأت رعبا، فقال له حماد: لأن ثابتا البناني يقول: سمعت أنس بن مالك يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن العالم إذا أراد بعلمه وجه الله هابه كل شيء، وإذا أراد بعلمه الكنوز هاب من كل شيء، فقال له: ما تقول يرحمك الله - في رجل له ابنان هو عن أحدهما راض فأراد أن يجعل ثلثي ماله في حياته لذلك الغلام؟ فقال: مهلا - رحمك الله - لأني سمعت ثابتا البناني يقول سمعت أنس بن مالك يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إذا أراد الله أن يعذب غنيا على غناه وفقه عند موته بوصية جائرة فلا يقوم بأمره. " كر، وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক: