কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

وصیت کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৪ টি

হাদীস নং: ৪৬১০০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتاب الوصیت۔۔۔الزقسم افعال
46088” مسند صدیق “ خالد بن معدان کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا ایک تہائی مال تمہارے اوپر مرتے وقت صدقہ کیا ہے۔ رواہ مسدد
46088- "مسند الصديق" عن خالد بن معدان أن أبا بكر قال: إن الله تعالى تصدق عليكم بثلث أموالكم عند وفاتكم. "مسدد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১০১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتاب الوصیت۔۔۔الزقسم افعال
46089 عروہ کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) فرماتے ہیں : میں پانچواں حصہ مال کی وصیت کروں مجھے چوتھائی حصہ وصیت کرنے سے زیادہ محبوب ہے میں چوتھائی حصہ وصیت کروں مجھے تہائی حصہ وصیت کرنے سے زیادہ محبوب ہے جو شخص ایک تہائی وصیت کرتا ہے وہ کسی چیز کو باقی نہیں چھوڑتا۔ رواہ ابن سعد
46089- عن عروة قال قال أبو بكر: لأن أوصي بالخمس أحب إلي من أن أوصي بالربع، ولأن أوصي بالربع أحب إلى من أن أوصي بالثلث، ومن أوصى بالثلث فلم يترك شيئا. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১০২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتاب الوصیت۔۔۔الزقسم افعال
46090 حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) نے مجھ سے وصفت کے متعلق رسول کریم۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے کے فرمان کے بارے میں پوچھا : میں نے ان دونوں کو خبر دی۔ چنانچہ ان دونوں حضرات نے لوگوں کو وصیت کرنے پر برانگیختہ کیا۔۔ رواہ ابوالشیخ فی الفرائض والضیاء
46090- "عن سعد بن أبي وقاص قال: سألني أبو بكر وعمر عن قول رسول الله صلى الله عليه وسلم في الوصية فخيرتهما، فحملا الناس عليه في الوصية. "أبو الشيخ في الفرائض، ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১০৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتاب الوصیت۔۔۔الزقسم افعال
46091 ھشیم ، جویبر، ضحاک کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت علی (رض) نے ان رشتہ داروں کے لیے اپنے مال میں سے پانچویں حصہ کی وصیت کی جو وارث نہیں بن رہے تھے۔
46091- ثنا هشيم ثنا جويبر عن الضحاك أن أبا بكر وعليا أوصيا بالخمس من أموالهم لمن لا يرث من ذوي قرابتهما.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১০৪
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتاب الوصیت۔۔۔الزقسم افعال
46092 ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک تہائی مال کی وصیت کا تذکرہ کیا گیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : تہائی مال کی وصیت متوسط ہے نہ کم ہے نہ ہی زیادہ۔۔ رواہ عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ والبیہقی
46092- عن ابن عمر قال: ذكر عند عمر الثلث في الوصية فقال: الثلث وسط، لا بخس ولا شطط. "عب، ش، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১০৫
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتاب الوصیت۔۔۔الزقسم افعال
46093 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : آدمی اپنی وصیت کے متعلق جو چاہتا ہے کردیتا ہے حالانکہ وصیت وہ ہے جو آخر میں کی جائے۔ رواہ عبدالرزاق والدارمی
46093- عن عمر قال: يحدث الرجل في وصيته ما شاء، وملاك الوصية آخرها. "عب، والدارمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১০৬
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتاب الوصیت۔۔۔الزقسم افعال
46094 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : جب وصیت ہو یا غلام آزاد کرنا ہو تو اس وقت رک جاؤ۔۔ رواہ سعید بن المنصور والبیہقی
46094- عن عمر قال: إذا كانت وصية أو عتاقة فحاصوا. "ص، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১০৭
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتاب الوصیت۔۔۔الزقسم افعال
46095 عمروبن سلیم زرقی کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے کہا گیا کہ یہاں غسان کا ایک لڑکا ہے جو قریب البلوغ ہے اس کا ایک وارث شام میں ہے جو کافی مالدار ہے جب کہ یہاں اس کا کوئی وارث نہیں البتہ اس کی ایک چچا زاد بہن ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : وہ اپنی چچازاد بہن کے لیے وصیت کردے چنانچہ لڑکے نے اسی کے لیے وصیت کردیا۔ رواہ مالک وابن ابی شیبہ
46095- عن عمرو بن سليم الزرقي قال: قيل لعمر بن الخطاب إن ههنا غلاما يفعا لم يحتلم من غسان، ووارثه بالشام وهو ذو مال، وليس له ههنا إلا ابنة عم له، فقال عمر بن الخطاب: فليوص لها، فأوصى لها. "مالك، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১০৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتاب الوصیت۔۔۔الزقسم افعال
46096 جب جنگ چھڑ جائے اور عورت دردزہ میں مبتلا ہو اس وقت ان کے لیے صرف ایک تہائی مال کی وصیت جائز ہے۔ رواہ عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ سعید بن المنصور
46096- عن عمر قال: إذا التقى الزحفان والمرأة يضربها المخاض لا يجوز لهما في مالهما إلا الثلث. "عب، ش، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১০৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتاب الوصیت۔۔۔الزقسم افعال
46097 حسن کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے امہات اولاد کے لیے چار ہزار دراہم کی وصیت ہے۔ رواہ سعید بن المنصور
46097- عن الحسن أن عمر أوصى لأمهات أولاده بأربعة آلاف أربعة آلاف. "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১১০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتاب الوصیت۔۔۔الزقسم افعال
46098 علاء بن زیاد کی روایت ہے کہ ایک بوڑھا شخص حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا کہنے لگا : اے امیر المومنین ! میں بہت بوڑھا ہوچکا ہوں اور میرا مال بہت زیادہ ہے اور میرے مال کے وارث کلالہ ہونے کی وجہ گنوار ہی ہوں گے کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کرسکتا ہوں ؟ فرمایا نہیں چنانچہ (رض) نے اسے صرف دشویں حصے کی اجازت دی۔ رواہ سعید بن المنصور
46098- عن العلاء بن زياد قال: جاء شيخ إلى عمر فقال: يا أمير المؤمنين! أنا شيخ كبير وإن مالي كثير، ويرثني أعراب موالى كلالة، فأوصي بمالي كله؟ قال: لا، فلم يزل حتى بلغ العشر. "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১১১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کتاب الوصیت۔۔۔الزقسم افعال
46099 ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے حضرت عمر (رض) کے عہد خلافت میں اپنی بیویوں کو طلاق دے کر سارامال اپنے بیٹوں میں تقسیم کردیا ہے ؟ عرض کیا : جی ہاں، فرمایا : بخدا ! میں سمجھتا ہوں کہ شیطان نے تیری موت کے متعلق آسمانوں سے کوئی بات چرالائی ہے اور تیرے دل میں ڈال دی ہے شاید تو تھوڑی مدت ہی زندہ رہے اللہ تعالیٰ کی قسم اگر تو نے بیویوں سے رجوع نہ کیا اور مال واپس نہ لیا میں تیرے مرنے کے بعد تیری بیویوں کو ضرو تیرا وارث بناؤں گا اور پھر میں انھیں حکم دوں گا تاکہ وہ تیری قبر پر اس طرح سنگباری کریں گی جس طرح ابورغال کی قبرپر سنگباری کی جاتی ہے چنانچہ غیلان نے بیویوں س رجوع کیا اور مال بھی واپس لیا اس کے بعد وہ سات دن زندہ رہا پھر مرگیا۔ رواہ عبدالرزاق وقدمرالحدیث برقم 45640
46099- عن ابن عمر قال: طلق غيلان بن سلمة الثقفي نساءه وقسم ماله بين بنيه في خلافة عمر، فبلغ ذلك عمر، فقال له: أطلقت نساءك وقسمت مالك بين بنيك؟ قال: نعم، قال: والله! إني لأرى الشيطان فيمان يسترق من السمع سمع بموتك فألقاه في نفسك، فلعلك أن لا تمكث إلا قليلا، وأيم الله لئن لم تراجع نساءك وترجع في مالك لأورثهن منك إذا مت ثم لآمرن بقبرك فليرجمن كما يرجم قبر أبي رغال! فراجع نساءه وراجع ماله، فما مكث إلا سبعا حتى مات. "عب". مر برقم 45640.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১১২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46100 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت سے قبل قرضے کی ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے اگر تم لوگ قرض سے پہلے وصیت کا اقرار کرتے ہو اور یہ کہ حقیقی بھائی وارث بنتے ہیں نہ کہ باپ شریک۔ رواہ الترمذی وضعفہ وابن ماجہ وابن الجارود وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والدروقی وابوالشیخ فی الفرائض والدارقطنی والحاکم والبیہقی
46100- عن علي قال: قضى محمد صلى الله عليه وسلم أن الدين قبل الوصية وأنتم تقرؤن الوصية قبل الدين، وأن أعيان بني الأم يتوارثون دون بني العلات. "ط، حم، عب، ت وضعفه – هـ، ع، وابن الجارود وابن جرير وابن المنذر، وابن أبي حاتم والدورقي، وأبو الشيخ في الفرائض، قط، ك، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১১৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46101 عروہ کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) اپنے ایک آزاد کردہ غلام کے پاس داخل ہوئے وہ اس وقت مرض الموت میں مبتلا تھا اور اس کے پاس سات سو (700) دراہم تھے اس نے عرض کیا : کیا میں اپنے مال کی وصیت نہ کروں ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : نہیں چونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔ ” ان ترک خیرا “ اگر میت نے اپنے پیچھے (زیادہ) مال چھوڑا ہو اور تمہارے پاس زیادہ مال ہیں ہے اپنا مال ورثہ کے لیے باقی چھوڑ دو ۔ رواہ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم والبیہقی
46101- عن عروة أن علي بن أبي طالب دخل على مولى له في الموت وله سبعمائة درهم فقال: ألا أوصي؟ قال: لا، إنما قال الله: {إِنْ تَرَكَ خَيْراً} وليس لك كبير مال، فدع مالك لورثتك. "عب، والفريابي، ص، ش، وعبد بن حميد، وابن جرير، وابن المنذر، وابن أبي حاتم، ك، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১১৪
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46102 ابوعبدالرحمن سلمی کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں بیمار پڑگیا۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری تیمار داری کے لیے تشریف لائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو نے وصیت کی ہے میں نے عرض کیا : جی ھاں فرمایا : تم نے کس طرح وصیت کی ہے میں نے عرض کیا کہ میں نے اپنے سارے مال کی وصیت کردی ہے فرمایا : تو نے اپنے ورثہ کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ میں نے عرض کیا : ورثہ مالدار ہیں : فرمایا مال کے دسویں حصہ کی وصیت کرو اور باقی ورثاء کے لیے چھوڑ دو میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں نے ورثاء کو مالدار حالت میں چھوڑا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل کمی کرتے رہے حتیٰ کہ فرمایا : ایک تہائی کی وصیت کرو اور یہ بھی زیادہ ہے۔ ابوعبدالرحمن کہتے ہیں اسی وجہ سے علماء تہائی مال سے بھی کچھ باقی رکھنا مستحب سمجھتے ہیں۔۔ رواہ ابوالشیخ فی الفرائض
46102- عن أبي عبد الرحمن السلمي قال قال علي: مرضت مرضا فعادني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "هل أوصيت؟ قلت: نعم، قال: كيف قلت: أوصيت بمالي كله، قال: فما تركت لورثتك؟ قلت: إنهم أغنياء، قال: أوص بالعشر واترك سائره لورثتك، قلت: يا رسول الله! إني تركت ورثتي أغنياء بخير، فما زال حتى قال: أوص بالثلث والثلث كثير." قال أبو عبد الرحمن السلمي: فمن ثم يستحبون أن يتركوا من الثلث. "أبو الشيخ في الفرائض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১১৫
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46103 حارث روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں چوتھائی مال وصیت کروں اس سے مجھے زیادہ پسند ہے کہ میں پانچواں حصہ وصیت کروں۔ میں تہائی مال وصیت کروں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں چوتھائی حصہ وصیت کروں۔ اور جو شخص ایک تہائی کی وصیت کرتا ہے وہ اپنے پیچھے کوئی چیز نہیں چھوڑتا۔ رواہ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وابن عساکر
46103- عن الحارث عن علي قال: لأن أوصي بالخمس أحب إلي من أن أوصى بالربع، ولأن أوصي بالربع أحب إلي من أن أوصي بالثلث، ومن أوصى بالثلث فلم يترك شيئا. "عب، ش، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১১৬
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46104 حکم بن عتیبۃ کی روایت ہے کہ ایک شخص سفر پر نکلا اور کسی شخص کے لیے اپنے مال میں سے تہائی مال کی وصیت کردی چنانچہ وہ شخص اسی سفر میں خطا قتل ہوگیا معاملہ حضرت علی (رض) کی خدمت میں پیش کیا گیا آپ (رض) نے موصی حالہ شخص کے لیے تہائی مال اور تہائی دیت دینے کا فیصلہ کیا۔۔ رواہ عبدالرزاق
46104- عن الحكم بن عتيبة أن رجلا خرج مسافرا فأوصى لرجل بثلث ماله، فقتل الرجل خطأ في سفره ذلك، فرجع أمره إلى علي بن أبي طالب فأعطاه ثلث المال وثلث الدية. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১১৭
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46105 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ لڑکے کا اس وقت تک وصیت کرنا جائز نہیں جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے۔ رواہ عبدالرزاق
46105- عن ابن عباس قال لا تجوز وصية الغلام حتى يحتلم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১১৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46106 زہری حسین بن سائب بن ابی لبابہ اپنے والد سے دادا کی روایت نقل کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میری توبہ قبول فرمائی میں رسولکریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ ! جس گھر میں رہتے ہوئے میں گناہ میں مبتلا ہوا میں نے وہ گھر چھوڑ دیا ہے اور میں نے اپنا سارا مال اللہ اور اللہ کے رسول کی خوشنودی کے لیے صدقہ کردیا ہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابولبابہ ! تمہاریطرف سے ایک تہائی مال (کا صدقہ) کافی ہے۔ چنانچہ میں نے تہائی مال صدقہ کردیا۔ رواہ الطبرانی و ابونعیم
46106- عن الزهري عن الحسين بن السائب بن أبي لبابة عن أبيه عن جده قال: لما تاب الله علي جئت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله! إني أهجر دار قومي التي أصبت بها الذنب وانخلع من مالي صدقة إلى الله وإلى رسوله! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا لبابة؟ يجزيء عنك الثلث من مالك؛ فتصدقت بالثلث. "طب، وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১১৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46107” مسند ابوہریرہ “ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے مرتے وقت اس نے سب غلام آزاد کردیئے بعد میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرعہ اندازی کی ان میں سے دو کو آزاد کیا اور چار کو غلام ہی رکھا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
46107- "مسند أبي هريرة" إن رجلا كان له ستة أعبد فأعتقهم عند موته، فأقرع النبي صلى الله عليه وسلم فأعتق اثنين وأرق أربعة. "ش، ص".
tahqiq

তাহকীক: