কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
وصیت کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৪ টি
হাদীস নং: ৪৬১২০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46108 جندب کہتے ہیں میں نے ابن عباس (رض) سے پوچھا : کیا غلام وصیت کرسکتا ہے فرمایا : نہیں الایہ کہ اپنے آقاؤں کی اجازت سے وصیت کرے تو یہ جائز ہوگی۔ رواہ عبدالرزاق
46108- عن جندب قال: سألت ابن عباس: أيوصي العبد؟ قال: لا، إلا بأذن مواليه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১২১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46109 حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ آدمی اپنے وصیت نامہ میں لکھتا ہے کہ اگر مجھ پر موت واقع ہوگئی میری اس وصیت کو تبدیل کرنے سے قبل۔ رواہ سعید بن المنصور
46109- عن عائشة قالت: يكتب الرجل في وصيته: إن حدث بي حدث الموت قبل أن أغير وصيتي هذه. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১২২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46110 ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : کیا بعید کہ موت وصیت پر سبقت لے جائے۔ رواہ الحاکم
46110- عن ابن عمر قال: يوشك المنايا أن تسبق الوصايا. "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১২৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46111 ابن عمر (رض) وصیت کے متعلق فرماتے تھے : جب تم تہائی مال سے عاجز ہوجاؤ تو غلام آزاد کرنے سے ابتداء کرو۔ رواہ الضیاء
46111- عن ابن عمر أنه كان يقول في الوصية: إذا عجزت عن الثلث قال: يبدأ بالعتاقة. "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১২৪
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46112 ابن عمر (رض) فرماتے ہیں تہائی مال (کی وصیت) متوسط ہے نہ کم ہے نہ ہی زیادہ۔۔ رواہ عبدالرزاق
46112- عن ابن عمر قال: الثلث وسط لا بخس ولا شطط. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১২৫
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46113 ابراہیم نخعی کی روایت ہے کہ حضرت زبیر اور حضرت طلحہ (رض) کا تذکرہ کیا گیا کہ یہ دونوں حضرات وصیت کے معاملہ میں مردوں پر سختی کرتے تھے : ابراہیم نخعی بولے : ان پر ایسا کرنے پر کوئی حرج نہیں چونکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وفات پائی آپ نے وصیت نہیں کی تھی اور ابوبکر (رض) نے وصیت کی تھی لہٰذا اگر وصیت کی جائے تو بہت اچھا ہے اگر وصیت نہیں کی گئی تو اس میں بھی کوئی حرچ نہیں ہے۔ رواہ عبدالرزاق
46113- عن إبراهيم النخعي ذكر أن زبيرا وطلحة كانا يشددان في الوصية على الرجال، فقال: وما كان عليهما أن لا يفعلا، توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم فما أوصى، وأوصى أبو بكر، فإن أوصى فحسن وإن لم يوصي فلا بأس. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১২৬
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46114 ابراہیم کہتے ہیں صحابہ کرام (رض) کو وصیت کے معاملہ میں خمس بع سے زیادہ پسند تھا اور ربع ثلث سے زیادہ پسند تھا اور یہ دونوں خصلتیں بری ہیں یعنی زندگی میں کنجوسی اور بخل سے کام لینا اور موت کے وقت فضول خرچی کرنا۔ رواہ سعید بن المنصور
46114- عن إبراهيم قال: كان الخمس في الوصية أحب إليهم من الربع، والربع أحب إليهم من الثلث، وكان يقال: هما المريان 1 من الأمر: الإمساك في الحياة، والتبذير في الممات. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১২৭
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46115 طاؤ وس کی روایت ہے کہ وصیت کا حکم میراث کے نزول سے قبل تھا جب میراث کا حکم نازل ہوا تو وراث کے لیے وصیت کا حکم منسوخ ہوگیا اور غیر وارث کے لیے وصیت کا حکم باقی رہا اور یہ حکم اب بھی ثابت ہے۔ لہٰذا جس نے قریبی رشتہ دار وارث کے لیے وصیت کی اس کی وصیت جائز نہیں۔ چونکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے۔۔ رواہ سعید بن المنصور وعبدالرزاق
46115- عن طاوس قال: إن الوصية كانت قبل الميراث، فلما نزل الميراث نسخ الميراث من يرث، وبقيت الوصية لمن لا يرث، فهي ثابتة، فمن أوصى لذي قرابة لم تجز وصيته، لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لا تجوز وصية لوارث. " ص، عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১২৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46116 ابن جریر کی روایت ہے کہ میں نے عطا سے کہا : کیا عطیہ کرنے کے معاملہ میں کتاب اللہ کی رو سے اولاد میں برابری کرنا واجب ہے ؟ عطائؒ نے جواب دیا : جی ھاں۔ ہمیں اس کے متعلق حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے اپنی اولاد میں برابری کی ہے ؟ میں نے کہا کیا : یہ حدیث نعمان بن بشیر کے متعلق ہے ؟ جواب دیا : جی ہاں۔ ان کے علاوہ اوروں کے متعلق بھی۔ رواہ عبدالرزاق
46116- عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: أحق تسوية النحل بين الولد على كتاب الله تعالى؟ قال: نعم، قد بلغنا ذلك عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "أسويت بين ولدك، قلت: في النعمان بن بشير؟ قال: نعم، وفي غيره. " عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১২৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46117 عکرمہ کی روایت ہے کہ رسولکریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ کیا ہے کہ وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے اور عورت کے مال میں شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ بھی جائز نہیں ہے۔۔ رواہ النسائی وعبدالرزاق
46117- عن عكرمة قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه ليس لوارث وصية، ولا يجوز لامرأة في مالها شيء إلا باذن زوجها. "ن، عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৩০
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46118 ابوقلابہ کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں : اے ابن آدم ! دو خصلتیں میں نے تمہیں عطا کی ہیں ان میں سے ایک بھی تمہارے لیے نہیں ہے۔ میں نے تیرے مرتے وقت تیرے مال میں سے تیرے لیے ایک حصہ رکھا ہے جس کے ذریعے میں تجھ پر رحم کروں گا۔ یا فرمایا کہ جس کے ذریعے میں تجھے پاک کروں گا دوسری یہ کہ تیرے مرنے کے بعد میرے بندوں کی تجھ پر نماز۔ رواہ عبدالرزاق
46118- عن أبي قلابة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما يحدث عن الله تبارك وتعالى: "يا ابن آدم! خصلتان أعطيتكهما لم يكن لك واحدة منهما: جعلت لك طائفة من مالك عند موتك أرحمك به - أو قال: أطهرك به، وصلاة عبادك عليك بعد موتك. " عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৩১
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ فرض وصیت پر مقدم ہے
46119 حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : وارث کے لیے وصیت نہیں ہے حقیقی بھائی وارث بنتے ہیں جب کہ باپ شریک بھائی وارث نہیں بنتے۔ رواہ ابوالحسن الحربافی الحربیات
46119- عن علي قال: لا وصية لوارث، وأعيان بني الأم يتوارثون دون بني العلات. "أبو الحسن الحربي في الحربيات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৩২
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ممنوعات وصیت
46120 حضرت عمران (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص وفات پا گیا اور مرتے وقت اپنے چھ غلام آزاد کردیئے جب کہ اس شخص کا ان غلاموں کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر پہنچی تو فرمایا : اگر میں اس شخص کو پالیتا اسے مسلمانوں کے ساتھ دفن نہ کیا جاتا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غلاموں کے درمیان قرعہ ڈالا ان میں سے دو کی آزادی کو افذ قرار دیا اور بقیہ چار کو غلام ہی رکھا۔ رواہ عبدالرزاق
46120- عن عمران قال: توفي رجل وأعتق ستة مملوكين ليس له مال غيرهم، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "لو أدركته ما دفن مع المسلمين، فأقرع بينهم فعتق اثنين واسترق أربعة. " عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৩৩
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ممنوعات وصیت
46121” مسند ابوہریرہ “ ایک شخص کے چھ غلام تھے اس نے مرتے وقت سب ہی آزاد کردیئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غلاموں کے درمیان قرعہ ڈالا دو کو آزاد کردیا اور چار کو حسب سابق غلام ہی رکھا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ و سعید بن المنصور
46121- "مسند أبي هريرة" إن رجلا كان له ستة أعبد فأعتقهم عند موته، فأقرع النبي صلى الله عليه وسلم بينهم فأعتق اثنين وأرق أربعة. "ش، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৩৪
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ممنوعات وصیت
46122 ھشیم منصور ، حسن، عمران بن حصین کی روایت ایک انصاری نے مرتے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کردیا جب کہ ان کے علاوہ اس کا کوئی مال نہیں تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب اس کی خبر پہنچی تو آپ سخت غصہ ہوئے اور فرمایا : میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ میں اس پر نماز نہ پڑھوں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غلاموں کو طلب کیا اور انھیں تین حصوں میں تقسیم کیا، پھر ان کے درمیان قرعہ ڈالا ان میں سے دو کو آزاد کردیا اور چار کو غلام رکھا۔ رواہ سعید بن المنصور
46122- حدثنا هشيم حدثنا منصور عن الحسن عن عمران بن حصين أن رجلا من الأنصار أعتق ستة مملوكين له عند موته ليس له مال غيرهم، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فغضب من ذلك وقال: "لقد هممت أن لا أصلي عليه، ثم دعا المملوكين فجزأهم ثلاثة أجزاء فأقرع بينهم، فأعتق اثنين وأرق أربعة. " ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৩৫
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ممنوعات وصیت
46123 ھیشم خالد، ابوقلابہ، ابن زید انصاری کی سند سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مثل بالا کے حدیث مروی ہے۔ رواہ سعید بن المنصور
46123- حدثنا هشيم حدثنا خالد حدثنا أبو قلابة عن ابن زيد الأنصارى عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৩৬
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ممنوعات وصیت
46124 ابن عون، ابن سیرین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حدیث بالا کے مروی ہے۔
46124- حدثنا ابن عون عن ابن سيرين عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৩৭
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ممنوعات وصیت
46125 ابن مسیب کہتے ہیں ایک عورت نے یا کہا ایک مرد نے مرتے وقت اپنے غلام آزاد کردیئے جب کہ ان غلاموں کے علاوہ اس کا کوئی مال نہیں تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر کی گئی آپ نے غلاموں کے درمیان قرعہ ڈالا دو کو آزاد کردیا اور چار کو غلام رکھا۔۔ رواہ عبدالرزاق و سعید بن المنصور
46125- عن ابن المسيب قال: أعتقت امرأة - أو رجل - ستة أعبد لها عند الموت لم يكن لها مال غيرهم، فأتي في ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فأقرع بينهم، فأعتق اثنين وأرق أربعة. "عب، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৩৮
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت کے معاملہ میں کسی کو نقصان پہنچانا گناہ ہے
46126 ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : وصیت نے معاملہ میں ظلم کرنا یا کسی کو ضرر پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔ رواہ سعید بن المنصور
46126- عن ابن عباس قال: الحيف في الوصية والإضرار فيها من الكبائر. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৩৯
وصیت کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وصیت کے معاملہ میں کسی کو نقصان پہنچانا گناہ ہے
46127 طاؤ وس کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نعمان (رض) کے والد بشیر بن سعد (رض) کے پاس سے گزرے بشیر (رض) کے ساتھ ان کے بیٹے نعمان (رض) تھے بشیر (رض) بولے آپ گواہی دیں کہ میں نے نعمان کو غلام۔ (یا لونڈی) عطا کیا : آپ نے فرمایا : کیا اس کے علاوہ بھی تمہاری اولاد ہے عرض کیا : جی ہاں فرمایا : کیا اسی طرح انھیں بھی عطا کیا ہے عرض کیا : نہیں ، فرمایا : میں سوائے حق کے گواہی نہیں دیتا ہوں میں اس پر گواہی نہیں دیتا ہوں۔ رواہ عبدالرزاق
46127- عن طاوس أن النبي صلى الله عليه وسلم مر ببشير بن سعد أبي النعمان ومعه ابنة النعمان فقال: اشهد أني قد نحلته عبدا أو أمة فقال: ألك ولد غيره؟ قال: نعم، قال: فنحلتهم مثل ما نحلته؟ قال: لا، فإني لا أشهد إلا على الحق، لا أشهد بهذا. "عب".
তাহকীক: