কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قسموں اور نذروں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৯৭ টি

হাদীস নং: ৪৬৪৬০
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
46448 لوگوں کو جس چیز کا علم نہ ہوا اس پر قسم اٹھانے پر انھیں مجبور نہ کرو۔۔ رواہ عبدالرزاق عن القاسم بن عبدالرحمن مرسلاً
46448- "لا تضطروا الناس بأيمانهم على أن يحلفوا ما لا يعلمون. " عب - عن القاسم بن عبد الرحمن مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৬১
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
46449 لوگوں کو جس چیز کا علم نہ ہو اس پر انھیں قسم دینے پر مجبور نہ کرو۔۔ رواہ الخطیب عن ابن مسعود
46449- "لا تضطروا بأيمانهم إلى ما لا يعلمون. " الخطيب - عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৬২
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
46450 جس شخص نے پیدل چلنے کی قسم کھائی یا ھدی کی قسم کھائی یا اپنا سارا مال فی سبیل اللہ یا مساکین کو دینے کی قسم کھائی یا کعبہ کی نذر کرنے کی قسم کھائی تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔ روا الدیلمی عن عائشۃ
46450- "من حلف بالمشي أو بالهدى أو جعل ماله في سبيل الله وفي المساكين أو في رتاج الكعبة فكفارته كفارة يمين. " الديلمي عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৬৩
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
46451 اس نے اپنی آخرت کو دنیا کے بدلہ میں بیچ ڈالا ہے۔ (رواہ ابن حبان عن ابی سعید (رض) روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک اعرابی بکری لیے ہوئے ان کے پاس سے گزرا ابوسعید (رض) کو بکری بیچ دی اس موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حدیث ارشاد فرمائی) ۔
46451- "باع آخرته بدنياه. " حب - عن أبي سعيد؛ قال:مر أعرابي بشاة فقلت تبيعنيها بثلاثة دراهم، فقال: لا والله! ثم باعنيها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم - فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৬৪
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
46452 اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں قسم نہیں ہوتی جو چیز آدمی کی ملکیت میں نہ ہو اس میں بھی قسم نہیں ہوتی مسلمان پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کے مترادف ہے جس نے مسلمان کو کافر کہا گویا اس نے خود کفر کیا جس شخص نے جان بوجھ کر غیر ملت اسلام پر جھوٹی قسم کھائی تو وہ ایسا ہی ہوگا جیسا اس نے کہا : جس شخص کسی چیز سے اپنے آپ کو قتل کیا دوزخ میں اسے اسی چیز سے عذاب ہوتا رہے گا۔۔ رواہ الطبرانی عن ثابت بن ضحاک
46452- "لا يمين في معصية الله ولا فيما لا يملك ابن آدم، ومن لعن مسلما كان كقتله، ومن سمى مسلما كافرا فقد كفر، ومن حلف على غير ملة الإسلام كاذبا متعمدا فهو كما قال، ومن قتل نفسه بشيء عذب به في النار. " طب - عن ثابت بن الضحاك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৬৫
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ کے کام کی قسم اور نذر بھی گناہ ہے
46453 اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں نہ قسم ہوتی ہے اور نہ ہی نذر ہوتی ہے۔ قطع رحمی میں بھی نہیں ہوتی اور جو چیز اپنی ملکیت میں نہ ہو اس میں بھی قسم اور نذر نہیں ہوتی۔۔ رواہ البخاری ومسلم عن عمر
46453- "لا يمين ولا نذر فيما يسخط الرب، ولا في قطيعة الرحم، ولا فيما لا يملك. " ق - عن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৬৬
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ کے کام کی قسم اور نذر بھی گناہ ہے
46454 باپ کی قسم کے ساتھ بیٹے کی قسم نہیں ہوتی خاوند کی قسم کے ساتھ بیوی کی قسم نہیں ہوتی مالک کے ساتھ مملوک کی قسم نہیں ہوتی قطع رحمی میں قسم نہیں ہوتی نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوتی ، ملکیت سے قبل آزادی نہیں ہوتی ایک دن سے ایک رات تک کی خاموشی بلا اصل ہے صوم وصال کی کوئی حقیقت نہیں بلوغت کے بعد یتیمی نہیں رہتی دودھ چھڑانے کی عمر گزر جانے کی بعد رضاعت ثابت نہیں ہوتی ہجرت کے بعد جلاوطنی نہیں رہی فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں رہی۔۔ رواہ ابن عدی عن جابر وفیہ حرام بن عثمان الانصاری قال فی المغنی متروک بالانفاق مبتد ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرہ الحفاظ 6388
46454- "لا يمين لولد مع يمين والد، ولا يمين لزوجة مع يمين زوج، ولا يمين لمملوك مع يمين مليك، ولا يمين في قطيعة رحم، ولا نذر في معصية، ولا طلاق قبل النكاح، ولا عتاقة قبل الملكة، ولا صمت يوم إلى الليل، ولا مواصلة في الصيام، ولا يتم بعد حلم، ولا رضاعة بعد الفطام، ولا تغريب بعد الهجرة، ولا هجرة بعد الفتح. " عد - عن جابر، وفيه حزام بن عثمان الأنصاري، قال في المغني: متروك بالاتفاق، مبتدع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৬৭
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ کے کام کی قسم اور نذر بھی گناہ ہے
46455 اے لوگو ! جاہلیت میں ہونے والے عہدوپیماں کی اسلام نے شدت سے پاسداری کی ہے اسلام میں عہدو پیماں جائز نہیں ہے مسلمان غیروں پر ایک ہاتھ کی مانند ہیں ان کے خون برابر ہیں ان کا ادنیٰ مسلمان بھی پناہ دے سکتا ہے، اور وہ مسلمان بھی حق رکھتا ہے جو سب مسلمانوں سے کہیں دور ہو اور ان کا لشکر پیچھے بیٹھے ہوؤں کو بھی حقدار سمجھتا ہے مومن کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ کافر کی دیت مسلمان کی دیت کے نصف ہے اور زکوۃ وصول کرنے والا زکوۃ کے مویشیوں کو نہ کھینچو منگوائے اور زکوۃ دینے والے اپنے مویشیوں کو کہیں دور لے کر نہ چلے جائیں زکوۃ ان کے گھروں پر ہی لی جائے۔ رواہ احمد بن حنبل والبخاری ومسلم عن ابن عمرو
46455- "يا أيها الناس! إنه ما كان من حلف في الجاهلية فإن الإسلام لم يزده إلا شدة، ولا حلف في الإسلام، والمسلمون يد على من سواهم، تكافأ دماؤهم، يجير عليهم أدناهم، ويرد عليهم أقصاهم، يرد سراياهم على قعدهم، لا يقتل مؤمن بكافر، دية الكافر دية نصف دية المسلم، لا خبب ولا جنب ، ولا تؤخذ صدقاتهم إلا في ديارهم. " حم، ق - عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৬৮
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ کے کام کی قسم اور نذر بھی گناہ ہے
46456 میں کسی عہدوپیماں میں حاضر نہیں ہوا بجز قریش کے ایک عہدوپیماں کے جو مطیبین کا پیماں ہے مجھے پسند نہیں کہ میرے لیے سرخ اونٹ ہوں اور میں اس پیماں کو توڑ دوں۔۔ رواہ البخاری عن ابوہریرہ
46456- "ما شهدت حلفا إلا حلف قريش من حلف المطيبين، وما أحب أن لي حمر النعم وإني نقضته. " ق - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৬৯
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ کے کام کی قسم اور نذر بھی گناہ ہے
46457 مجھے یہ چیز خوش نہیں کرتی کہ میرے لیے سرخ اونٹ ہوں اور میں (جاہلیت کے) پیمان کو توڑوں۔ رواہ البخاری ومسلم عن ابوہریرہ
46457- "ما يسرني أن لي حمر النعم وأني نقضته. " ق - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৭০
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ کے کام کی قسم اور نذر بھی گناہ ہے
46458 مجھے یہ چیز خوش نہیں کرے گی کہ میرے لیے سرخ اونٹ ہوں اور میں دارالندوہ میں ہونے والی قسم وپیماں کو توڑ دوں۔ رواہ البخاری ومسلم عن ابن عباس۔ فائدہ : لاحلف فی الاسلام یعنی اسلام میں عہدوپیماں جائز نہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ جاہلیت میں رواج تھا کہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے عہدوپیماں باندھ لیا کرتے تھے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے لڑائی جھگڑے کے موقع پر ایک دوسرے کی مدد کی جائے گی اگر ایک پر تاوان واجب ہوگا تو دوسرا تاوان ادا کرے گا۔ چنانچہ رسول کریم۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے نے اس قسم کے عہدوپیماں سے منع فرمایا : لیکن جاہلیت میں اس طرح کے عہدوپیماں بھی رہتے تھے کہ لوگ آپس میں جمع ہوجاتے اور عہد کرتے کہ سب مظلوم کی مدد کریں گے قرابتداروں سے حسن سلوک کریں گے انسانی حقوق کی حفاظت کریں گے اس صورت کو اسلام نے بھی جائز رکھا ہے اور بلکہ اسے مضبوطی سے پکڑنے کی تاکید کی ہے۔ ازمترجم محمد یوسف تنولی
46458- "ما يسرني أن لي حمر النعم وأني نقضت الحلف الذي في دار الندوة. " ق - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৭১
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم۔۔۔نذر کے بیان میں ۔ فائدہ : شرعی اصطلاح میں نذر کا معنی غیر واجب کو اپنے اوپر واجب کرلینا ہے جائز نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔
46459 نذر کی دو قسمیں ہیں ایک نذر وہ ہے جو اللہ کے لیے ہوا سے پورا کرلینا اس کا کفارہ ہے دوسری وہ جو شیطان کے لیے ہو اس کا پوراکرناجائز نہیں ہے اس قسم کی نذر پر قسم کا کفارہ ہے۔۔ رواہ البیہقی عن ابن عباس
46459- "إن النذر نذران، فما كان لله فكفارته الوفاء به، وما كان للشيطان فلا وفاء له وعليه كفارة يمين. " هق - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৭২
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم۔۔۔نذر کے بیان میں ۔ فائدہ : شرعی اصطلاح میں نذر کا معنی غیر واجب کو اپنے اوپر واجب کرلینا ہے جائز نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔
46460 نذر کی دو قسمیں ہیں ایک نذر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی ہو اس کا پورا کرنا واجب ہے اور یہ نذر خالص اللہ کے لیے ہے۔ اور دوسری یہ کہ کوئی شخص گناہ کی نذر مانے یہ نذر شیطان کے لیے ہے اس طرح کی نذر کو پورا کرنا واجب نہیں ہے بلکہ ایسی نذر میں وہ کفارہ ادا کرے جو قسم توڑنے کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔ رواہ النسائی عن عمران بن حصین
46460- "النذر نذران، فما كان من نذر في طاعة الله فذلك لله وفيه الوفاء، وما كان من نذر فيه معصية الله فذلك للشيطان ولا وفاء فيه، ويكفره ما يكفر اليمين. " ن - عن عمران بن حصين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৭৩
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم۔۔۔نذر کے بیان میں ۔ فائدہ : شرعی اصطلاح میں نذر کا معنی غیر واجب کو اپنے اوپر واجب کرلینا ہے جائز نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔
46461 اپنی نذر پوری کرو۔ رواہ احمد بن حنبل والبخاری ومسلم والترمذی عن ابن عمر
46461- "أوف نذرك. " حم، ق، ت - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৭৪
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم۔۔۔نذر کے بیان میں ۔ فائدہ : شرعی اصطلاح میں نذر کا معنی غیر واجب کو اپنے اوپر واجب کرلینا ہے جائز نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔
46462 جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں نذر مانے اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنی چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی معصیت میں نذر مانے اسے اللہ تعالیٰ کی مصیت کا مرتکب نہیں ہونا چاہیے۔۔ رواہ احمد بن حنبل والبخاری والحاکم عن عائشۃ
46462- "من نذر أن يطيع الله فليطعه، ومن نذر أن يعصي الله فلا يعصه. " حم، خ، ك - عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৭৫
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم۔۔۔نذر کے بیان میں ۔ فائدہ : شرعی اصطلاح میں نذر کا معنی غیر واجب کو اپنے اوپر واجب کرلینا ہے جائز نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔
46463 جو شخص غیر معین نذر مانے تو ایسی نذر کا کفارہ ایسا ہے جیسا کہ قسم کا کفارہ ہوتا ہے۔۔ رواہ ابن ماجہ عن عقبۃ بن عامر ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 5864
46463- "من نذر نذرا ولم يسمه فكفارته كفارة يمين. " هـ - عن عقبة بن عامر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৭৬
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم۔۔۔نذر کے بیان میں ۔ فائدہ : شرعی اصطلاح میں نذر کا معنی غیر واجب کو اپنے اوپر واجب کرلینا ہے جائز نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔
46464 اپنی نذر پوری کرو اور جو نذر اللہ تعالیٰ کی معصیت میں مانی گئی ہو اس کا پورا کرنا واجب نہیں ہے اور نہ ہی اس نذر کا پورا کرنا واجب ہے جس کا ابن آدم مالک نہ ہو۔۔ رواہ ابن ماجہ عن ثابت بن الضحاک
46464- "أوف بنذرك، فإنه لا وفاء لنذر في معصية الله، ولا فيما لا يملك ابن آدم. " هـ - عن ثابت بن الضحاك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৭৭
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم۔۔۔نذر کے بیان میں ۔ فائدہ : شرعی اصطلاح میں نذر کا معنی غیر واجب کو اپنے اوپر واجب کرلینا ہے جائز نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔
46465 سبحان اللہ ! تم اسے جو بدلہ دے رہے ہو بہت بڑا ہے تم نے اللہ کے لیے نذر مانی ہے بشرطیکہ اگر اللہ تعالیٰ اسے نجات دے دے تم اسے ضرور ذبح کرو گے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مانی گئی نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ہے اور نہ ہی اس نذر کا پورا کرنا واجب ہے جو آدمی کی ملکیت میں نہ ہو۔ رواہ احمد بن حنبل ومسلم کتاب النذر وابوداؤد عن عمران بن حصین
46465- "سبحان الله بئس ما جزيتها، نذرت لله إن نجاها الله عليها لتنحرنها، ولا وفاء لنذر في معصية الله ولا فيما لا يملك. "حم، م، كتاب النذر، د - عن عمران بن حصين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৭৮
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم۔۔۔نذر کے بیان میں ۔ فائدہ : شرعی اصطلاح میں نذر کا معنی غیر واجب کو اپنے اوپر واجب کرلینا ہے جائز نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔
46466 اپنی بہن کو حکم دو کہ سوار ہو کر حج کرے اور تین دن روزے رکھے یقیناً اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کو عذاب دینے سے بےنیاز ہے۔ رواہ احمد بن حنبل وابوداؤد والنسائی وابن ماجہ عن عقبۃ بن عامر وابوداؤد والحاکم عن ابن عباس ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 5256
46466- "مر أختك فلتركب ولتختمر ولتصم ثلاثة أيام، فإن الله تعالى عن تعذيب أختك نفسها لغني. " حم، د، ن، هـ - عن عقبة بن عامر؛ د، ك - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৪৭৯
قسموں اور نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم۔۔۔نذر کے بیان میں ۔ فائدہ : شرعی اصطلاح میں نذر کا معنی غیر واجب کو اپنے اوپر واجب کرلینا ہے جائز نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔
46467 نذریں مت مانو چونکہ نذر تقدیر کو کچھ بھی نہیں ٹال سکتی البتہ نذر کے ذریعے بخیل کا کچھ مال ضرور خرچ ہوتا ہے۔ رواہ مسلم والترمذی والنسائی عن ابوہریرہ
46467- "لا تنذروا، فإن النذر لا يغني عن القدر شيئا، وإنما يستخرج به من البخيل. " م، ت، ن - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক: