কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৫৫৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملک روم کو دعوت اسلام
35563 ۔۔۔ حضرت سہل بن سعدی سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا اے اللہ میری قوم کی مغفرت فرما دیجئے وہ جانتے نہیں۔ البزار۔
35563- عن سهل بن سعد الساعدي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اللهم اغفر لقومي! فإنهم لا يعلمون". "ز".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی فضائل الانبیاء جامع الانبیاء
35564 ۔۔۔ ابی ذر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ انبیاء میں سب سے اول کون ہے فرمایا آدم (علیہ السلام) میں نے پوچھا وہ نبی تھے ؟ فرمایا نبی متکلم تھے میں نے پوچھا رسولوں کی تعداد کتنی ہے فرمایا تین سوپندرہ کی بڑی تعداد ہے۔ (ابن سعد، ابن ابی شیبة)
35564- عن أبي ذر قال: قلت للنبي صلى الله عليه وسلم: أي الأنبياء أول! قال: "آدم"، قلت: أو نبيا كان؟ قال: "نعم، نبي مكلم"، قلت: فكم المرسلون؟ قال: "ثلاثمائة وخمسة عشر جما غفيرا". "ابن سعد، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی فضائل الانبیاء جامع الانبیاء
35565 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ آپ قض آئے حاجت کے لیے جاتے ہیں ہمیں اس جگہ فضلہ نظر نہیں بلکہ وہاں سے مشک کی خوشبو آتی ہے تو فرمایا کہ ہم انبیاء کی جماعت ہمارے جسم اہل جنت کی روحوں سے اگتے ہیں زمین کو حکم دیا گیا کہ فضلات کو نگل جاء ۔ (الدیمی ، اس روایت میں غنبہ بن عبدالرحمن متروک ہے محمد بن زاذان سے مروی ہے کہ بخاری نے کہا کہ اس کی حدیث نہیں لکھی جاتی )
35565 عن عائشة قالت قلت : يا رسول الله ! إنك تأتي الخلاء فلا نرى شيئا من الاذى إلا أنا نجد رائحة المسك ، فقال : إنا معشر الانبياء نبتت أجسادنا على أرواح أهل الجنة ، وأمرت الارض ما كان منا أن تبتلعه (الديلمي ، وفيه عنبسة بن عبد الرحمن متروك عن محمد بن زاذان ، قال خ : لا يكتب حديثه).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب فی فضائل الانبیاء جامع الانبیاء
35566 ۔۔۔ ابراہیم سے روایت ہے کہ ہر نبی کو پہلے نبی کی آدمی ملتی ہے عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم میں چالیس سال زندہ رہے ۔ (راہ ابن عساکر)
35566 عن إبراهيم قال : لم يكن نبي إلا عاش مثل نصف عمر صاحبه الذي كان قبله وعاش عيسى في قومه أربعين سنة (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام)
35567 ۔۔۔ ( مسند انس (رض)) سعید بن میر ہ سے روایت ہے کہ انس (رض) سے روایت کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آدم وحواء دونوں دنیا میں اس حالت میں اتارے گئے کہ ان سے جنتی لباس اتارلیا گیا تھا اور ان کے جسم پر جنت کے لیتے چپکے ہوئے تھے ان کو گرمی محسوس ہوئی بیٹھ کر رونے لگے اور فرمانے لگے اے حواء مجھے گرمی سے تکلیف ہورہی ہے جبرائیل (علیہ السلام) کچھ روئی لے کر حاضر ہوئے حواء کو حکم دیا اس کا سوت کاتے اور کپڑابنے اور آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا اس کو سیتے اور ان کو حکم دیا اور سکھلایا کہ کپڑابنے آدم (علیہ السلام) کو جنت میں اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کا موقع نہیں ملا یہاں تک اتر آئے اس گناہ کی وجہ سے جو ان سے درخت کھانے کی صورت میں صادر ہوا ہر ایک الگ الگ سوتے تھے ایک بطاء میں دوسرا دوسری جانب یہاں تک ان کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے ان کو حکم دیا گھروالوں سے ملاب کریں اور ملاب کا طریقہ بھی سکھادی ہمبستری کا موقع نہیں ملا یہاں تک اتر آئے اس گناہ کی وجہ سے جو ان سے درخت کھانے کی صورت میں صادر ہوا ہر ایک الگ الگ سوتے تھے ایک بطحاء میں دوسرا دوسری جانب یہاں تک ان کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے ان کو حکم دیا گھروالوں سے ملاب کریں اور ملاب کا طریقہ بھی سکھا دی ہمبستری کے بعد جبرائیل نے پوچھا اپنی بیوی کو کی سے پایا ؟ انھوں نے بتایا نیک صالحہ۔ (ابن عساک رعدی نے کہا سعید بن میسرہ انس سے روایت کرنے ہیں مظلم الاثر ہے)
35567 (مسند أنس) عن سعيد بن ميسرة عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : هبط آدم وحواء عريانين جميعا عليهما ورق الجنة فأصابه الحر حتى قعد يبكي ويقول : يا حواء ! قد آذاني الحر ، فجاءه جبريل بقطن وأمرها أن تغزل وعلمها ، وامر آدم بالحياكة وعلمه وأمره أن ينسج ، وكان آدم لم يجامع امرأته في الجنة حتى هبط منها للخطيئة التي أصابها بأكلهما الشجرة ، وكان كل واحد منهما ينام على حدة ، ينام أحدهما بالبطحاء ، والآخر من ناحية أخرى ، حتى أتاه جبريل فأمره أن يأتي أهله وعلمه كيف يأتيها ، فلما أتاها جاءه جبريل ، فقال له : كيف وجدت امرأتك ؟ قال : صالحة (كر ، قال عد : سعيد بن ميسرة عن أنس مظلم الاثر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم (علیہ السلام)
35568 ۔۔۔ علی (رض) سے روایت ہے کہ قیامت کے روز مخلوق میں سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا جو قبط کا لباس ہوگا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چادر کا جوڑا وہ عرش کے دائیں جانب ہوگا۔ (ابن ابی شیبة ابن راھویہ ابویعلی دارقطنی فی الافراد بیہقی فی الدسماء والصنات سعید بن منصور)
35568 عن علي قال : أول من يكسى من الخلائق إبراهيم قبطيتين ثم يكسي النبي صلى الله عليه وسلم حلة وهو عن يمين العرش (ش وابن راهويه ، ع : قط في الافراد ، ق في الاسماء والصفات ، ص).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم (علیہ السلام)
35569 ۔۔۔ (مسند حیدہ) حبیب بن حسان بن طلق بن حبی سے روایت ہے کہ انھوں نے حیدہ سے سنا انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ تم قیامت روز ننگے پاؤں ننگے جسم اور غری مختون اٹھائے جاؤ گے سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑا پہنایا جائے گا اللہ فرمائے میرے خلیل ابراہیم کو کپڑا پہناؤ تاکہ لوگوں کو ان کا فضل معلوم ہے پھر لوگوں کو ان کے اعمال کے بقدر لباس پہنچایا جائے گا۔ (ابونعیم)
35569 (مسند حيدة ، عن حبيب ، بن حسان بن طلق ابن حبيب أنه سمع حيدة أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول تحشرون يوم القيامة حفاة عراة غرلا ، وأول من يكسى إبراهيم الخليل يقول الله : اكسوا إبراهيم خليلي ليعلم الناس فضله ، ثم يكسى الناس على قدر الاعمال (أبو نعيم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم (علیہ السلام)
35570 ۔۔۔ عثامہ بن قیس بجلی صحابہ کرام (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہم شک کے ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ حقدار ہیں اللہ تعالیٰ کی مغفرتے فرماتے کہ انھوں نے رکن شدید کی پناہ طلب کی۔ (رواہ ابن عساکر)
35570 عن عثامة بن قيس البجلي من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال قال النبي صلى الله عليه وسلم : نحن أحق بالشك من إبراهيم ، ويغفر الله للوط ! لقد كان يأوي إلى ركن شديد (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم (علیہ السلام)
35571 ۔۔۔ مجاہد سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا۔ (ابن ابی شیبة)
35571 عن مجاهد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أول من يكسى إبراهيم عليه الصلاة والسلام (ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم (علیہ السلام)
35572 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا یا خیر الناس تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ تو ابراہیم (علیہ السلام) میں پھر اس نے کہا یا اعبدالناس اے سب سے زیادہ عبادت گذار تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ تو داؤد (علیہ السلام) ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
35572 عن أنس أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم : يا خير الناس ! قال : ذاك إبراهيم ، قال : يا أعبد الناس ! قال : ذاك داود (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نوح (علیہ السلام)
35573 ۔۔۔ مجاہد سے روایت ہے کہ مجھ سے عمر (رض) فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کتنے عرصہ رہے ؟ میں نے عرض کیا ہاں ساڑھے نو سو سال فرمایا پہلے لوگوں کی عمریں طویل ہوتی تھیں پھر لوگ خلق اور خلق میں اور اجل میں کم ہوئے گئے یہاں تک آج یہ زمانہ آگیا۔ (نعیم بن حماد فی الفتن)
35573 عن مجاهد قال : قال لي عمر : هل تدري كم لبث نوح في قومه ؟ قلت : نعم ، ألف سنة إلا خمسين عاما ، قال : فان من كان قبل كانوا أطول أعمار ثم لم يزل الناس ينقصون في الخلق والخلق والاجل إلى يومهم هذا (نعيم بن حماد في الفتن).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موسیٰ (علیہ السلام)
35574 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے پاس بھیجا تو آواز دی گئی کہ ہرگز نہیں کرے گا تو پوچھا پھر تبلیغ کا کیا فائدہ ؟ تو بتایا علماء ملائکہ میں سے بارہ فرشتوں نے آواز دی کہ تمہیں جس کا حکم دیا گیا اس کو پرا کرو کیونکہ ہم نے کوشش کی کہ اس کی حکمت معلوم کریں لیکن ہمیں معلوم نہ ہوسکا۔ (ابن جریر)
35574 عن أنس قال : لما بعث الله موسى إلى فرعون نودى : لن يفعل ، قال : فلم أفعل ؟ قال : فناداه اثنا عشر ملكا من علماء الملائكة : امض لما أمرت به ، فانا جهدنا أن نعلم هذا فلم نعلمه (ابن جرير).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یونس (علیہ السلام) کا تذکرہ
35575 ۔۔۔ علی (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی کہ فرمایا کہ کسی شخص کے لیے یابندہ کے لیے مناسب نہیں کہ یہ دعوی کرے کہ وہ یونس بن متی سے بہتر ہے انھوں نے اللہ کی تسبیح بیان کی اندھیروں (مچھلی کے پیٹ ۔ ( ابن شیبة بند بن حمید ابن مردویہ ابن عساکر)
35575 عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : لا ينبغي لاحد وفي لفظ : لعبد أن يقول : أنا خير من يونس بن متى سبح الله في الظلمات (ش وعبد بن حميد وابن مردويه ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یونس (علیہ السلام) کا تذکرہ
35576 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب یونس علیہ اسلام کو مچھلی کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کا خیال ہوا تو ان الفاظ سے دعا لا الہ الاانت سبحانک انی کنت من الظالمین دعا عرش الہیٰ کی طرف متوجہ ہوئی فرشتوں نے کہا اے رب یہ کمزور معروف آواز عجیب و غریب شہر سے آرہی ہے ارشاد خداوندی ہو کہ کیا تم نہیں جانتے اس کو ؟ انھوں نے عرض کیا کون ہے وہ ؟ یہ میرا بندہ یونس (علیہ السلام) میں ان کا عمل مسلسل اٹھایا جاتا رہا ان کی دعا قبول ہوتی رہی تو عرض کیا اے رب کیا جو خوشحالی میں آپ کو پکارتا رہا کیا مصیبت میں ان کی دعاقبول نہیں فرمائیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ضرور مچھلی کو حکم دیا اس کو عراء (ساحل) پر پھینکدیا۔ (ابن ابی الذنیا القدسیہ الضعیفہ 33)
35576 عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن يونس حين بدا له أن يدعو الله بالكلمات حين ناداه وهو في بطن الحوت فقال : لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين ، فأقبلت الدعوة نحو العرش فقالت الملائكة : يا رب ! هذا صوت ضعيف معروف من بلاد غريبة ، فقال : أما تعرفون ذلك ؟ قالوا : يا رب ! من هو ؟ قال : ذلك عبدي يونس الذي لم يزل يرفع له عمل متقبل ودعوة مستجابة ، قالوا : يا رب ! أفلا ترحم من كان يصنع في الرخاء فتجيبه في البلاء ، قال : بلى ! فأمر الحوت فطرحه بالعراء (بن أبي الدنيا في..،).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ داؤد (علیہ السلام)
35577 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب داؤد (علیہ السلام) نے عورت کی طرف دیکھا اور ارادہ کیا نبی اسرائیل کا راستہ بند ہوگیا لشکر کو کمانڈکو حکم دیا کہا جب دشمن سامنے آئے تو فلاں کو تابوت کے قریب کردینا اس زمانہ میں تابوت کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جاتی تھی جو بھی تابوت کے سامنے آئے وہ واپس نہیں لوٹتا یہاں تک قتل ہوجائے یا لشکر شکست رکھاجائے اس عورت کا شوہر قتل کیا گیا داؤد (علیہ السلام) کے پاس آکر اس کی شہادت کا قصہ سنانے لگاداؤد (علیہ السلام) سمجھ گئے اس لیے دوسجدہ میں کرگئے چالیس سال تک سجدہ میں گرے رہے یہاں تک ان کے آنسو ان کے سرپرگھاس اگ گئے اور ان کے اخبار کو زمین کھاگئی وہ سجدہ میں کہہ رہے تھے داؤد (علیہ السلام) ایک مرتبہ پھیلا جس سے مشرق ومغرب کی دوری ہوگئی اے رب اگر آپ داؤد کی کمزوری پر رحم نہیں فرمائیں گے ان کا گناہ معاف نہیں فرمائیں گے تو ان کا گناہ بعد میں آنے والوں میں موضوع بحث بن جائے گا چالیس سال کے بعد جبرائیل (علیہ السلام) ان کے پاس آیا اور کہا اے داؤد اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس ہم (گناہ کا ارادہ) کو معاف فرمادیا تو داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے یقین ہے اس ہم کے معاف کرنے پر قادر ہے مجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ انصاف فرمانے والا ہے ظلم نہیں فرماتے فلاں کا کیا حال ہوگا جب اس کو قیامت کے دن لایا جائے گا وہ کہے گا اے رب میرا خون داؤد پر ہے جبرائیل نے کہا میں نے رب تعالیٰ سے اس بارے میں نہیں پوچھا ہے اگر چار میں تو پوچھ کر آتاہوں تو فرمایا ہاں پوچھ لیں جبرائیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے دربار میں گئے اور داؤد (علیہ السلام) بھر سجدہ میں گرگئے پھر جبرائیل علیہ الالم نے اگر بتایا کہ اے داؤد تمہارے مسئلہ میں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا ہے تو باری تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ داؤد سے کہو اللہ تعالیٰ تم دونوں کو قیامت کے ذن جمع فرمائیں گے تو اللہ تعالیٰ سے فرمائیں گے تمہارا خن جو داؤد کے ذمہ ہے وہ مچھے ھبہ کردو وہ مقتول کہے گا کہ میں نے ھبہ کردیا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے تمہارے لیے جنت میں اس کے بدلہ میں ہر طرح کی نعمتیں ہونگی جو تمہارا دل چاہے۔ (رواہ ابن عساکر)
35577- عن أنس سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن داود حين نظر إلى المرأة وهم، قطع على بني إسرائيل وأوصى صاحب البعث فقال: إذا حضر العدو فقرب فلانا بين يدي التابوت - وكان التابوت في ذلك الزمان يستنصر به من قدم بين يدي التابوت لم يرجع حتى يقتل أو ينهزم عنه الجيش - فقتل زوج المرأة ونزل المكان على داود يقصان عليه قصته ففطن داود فسجد فمكث أربعين ليلة ساجدا حتى نبت الزرع من دموعه على رأسه وأكلت الأرض جبينه يقول في سجوده: زل داود زلة أبعد ما بين المشرق والمغرب، رب! إن لم ترحم ضعف داود وتغفر ذنبه جعلت ذنبه حديثا في الخلوف من بعده، فجاءه جبريل بعد أربعين ليلة فقال له: يا داود! قد غفر الله لك الهم الذي هممت، قال داود: قد علمت أن الله قادر أن يغفر لي الهم الذي هممت به وقد علمت أن الله عدل لا يميل فكيف بفلان إذا جاء يوم القيامة؟ فقال: يا رب! دمي الذي عند داود! فقال له جبريل: ما سألت ربي عن ذلك ولئن شئت لأفعلن، قال: نعم، فعرج جبريل فسجد داود فمكث ما شاء الله، ثم نزل فقال: سألت الله يا داود عن الذي أرسلتني إليه فيه فقال: قل لداود: إن الله يجمعكم يوم القيامة فيقول: هب لي دمك الذي عند داود، فيقول: هو لك يا رب! فيقول: فإن لك في الجنة ما اشتهيت وما شئت عوضا". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یوسف (علیہ السلام)
35578 ۔۔۔ ابوموسی سے روایت ہے کہ کیا تو نبی اسرائیل کی سے بڑھیا کی مثل ہونے سے عاجز ہوگیا موسیٰ (علیہ السلام) نے جب نبی اسرائیل کو لے کر سفر کرنے کا ارادہ کیا راستہ بھول گیا نبی اسرائیل سے پوچھا یہ کونسی جگہ ہے علماء بنی اسرائیل نے کہا یوسف (علیہ السلام) نے موت کے وقت ہم سے اللہ کا عہدلیا تھا کہ ہم مصر سے منتقل ہوتے وقت ان کا تابوت ساتھ لیجائیں گے تم میں سے کسی کو یوسف (علیہ السلام) کی قبر معلوم ہے علماء نبی اسرائیل نے کہا ہمیں تو معلوم نہیں لیکن نبی اسرائیل کی ایک بڑھیا کو معلوم ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو بلوایا اس سے کہا یوسف (علیہ السلام) کی قبر کا پتہ بتلاؤ تو اس نے کہا اور اس وقت تک نہیں بتلادنگی جب تک میرا مطالبہ پورا نہیں کرتے پوچھا تمہارا کیا مطالبہ ہے بتایا کہ میں جنت میں تمہاری معیت چاہتاہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ مطالبہ بھاری گذرا اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملا ان کا مطالبہ مان لوچنانچہ مان لیا گیا ان کو لے کر دو دریاؤں کے پانی ملنے کی جگہ پر گئی کہنے اس پانی کے اترنے کا انتظار کرو جب پانی اتر گیا تو کہا اس جگہ کھدائی کرو جب کھدائی کی یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیاں نکل آئیں جب یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیوں کو منتقل کردیا اب لفر کا راستہ یا نکل واضح ہوگیا۔ (طبرانی حاکم بروایت ابی موسیٰ (رض))
35578- عن أبي موسى: أعجزت أن تكون مثل عجوز بني إسرائيل! إن موسى حين أراد أن يسير ببني إسرائيل ضل الطريق فسأل بني إسرائيل: ما هذا؟ قال علماء بني إسرائيل: إن يوسف حضره الموت أخذ علينا موثقا من الله ألا نخرج من مصر حتى تنقل عظامه معنا، فقال لهم موسى: أيكم يدري أين قبر يوسف؟ فقال له علماء بني إسرائيل: ما يدري أين قبر يوسف إلا عجوز من بني إسرائيل، فأرسل إليها موسى فقال: دليني على قبر يوسف، فقالت: لا والله حتى تعطيني حكمي! قال: وما حكمك؟ قالت: حكمي أن أكون معك في الجنة، فكأنه ثقل ذلك عليه، فقيل له: أعطها، فأعطاها حكمها، فانطلقت بهم إلى بحيرة مستنقع ماء فقالت: انضبوا هذا الماء، فلما نضبوا قالت: احفروا في هذا المكان، فلما احتفروا أخرجوا عظام يوسف، فلما استنقلوها من الأرض إذا الطريق مثل النهار. "طب، ك - عن أبي موسى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ھود (علیہ السلام)
35579 ۔۔۔ اصح بن نباثہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضر موت سے آکر علی (رض) کے ہاتھ پر بیعت ہوگئے علی (رض) نے اس سے پوچھا کہ تم احقاق کو جانتے ہوئے اس شخص نے کہا شاید آپ ھود علیہ السلام کی قبر کے متعلق پوچھنا چاہتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا ہاں تو اس نے بتایا ہاں جانتا ہوں میں عین جونی کے زمانہ میں اپنے گاؤں کے چند لڑکوں کے ساتھ نکلا ہم ان کی قبر پر جانا چاہتے تھے ان کے کا زمانہ پورا ہونے کے باوجود ان کا تذکرہ ہوتارہتا ہے چنانچہ چند دنوں میں ہم بلاواحقاف میں پہنچے ہم میں ایک شخص اس غار سے واقف تھا ہم ایک سرخ ٹیلے پر پہنچ گئے جس میں بہت سے غار تھے وہ شخص ہمیں ایک غار میں لے گئے ہم اس داخل ہوئے ہم نے دور تک نظر دوا کر دیکھا پھر ایک مقام پر پہنچے جہاں ایک پتھر کو دوسرے پتھر پر رکھا ہوا اس میں ایک سوارخ تھا جس سے ایک کمزور آدمی گذر سکتا تھا چنانچہ میں اس سوراخ سے داخل ہوگیا میں نے اس میں نے اس میں پلنگ پر ایک شخص کو دیکھا جو سخت گندمی رنگ کا تھا چہرہ طویل داڑھی گھنی جو اپنی چارپائی پر سخت ہوگئے تھے جب میں جس کے بعض حصہ کو ہاتھ لگاکر دیکھا اس سخت پایا اس میں کوئی تغیر نہیں آیا ان کے سرہانے عربی زبان میں ایک کتاب تھی اس میں لکھا ہوا تھا میں ہوں جس کو قوم عاد پر افسوس ہے ان کے کفر پر اللہ تعالیٰ کے حکم کوئی ٹالنے والا نہیں علی (رض) نے ہم سے فرمایا کہ میں نے ابوالقاسم سے ھود (علیہ السلام) کے متعلق ایسا سنا تھا۔ (رواہ ابن عساکر)
35579- عن الأصبغ بن نباتة قال: أقبل رجل من حضرموت فأسلم على يدي علي فقال له علي: أتعرف الأحقاف؟ قال له الرجل: كأنك تسأل عن قبر هود؟ قال: نعم، قال: خرجت وأنا في عنفوان شبيبتي في غلمة من الحي ونحن نريد أن نأتي قبره لبعدصوته كان فينا وكثرة من يذكره منا: فسرنا في بلاد الأحقاف أياما ومعنا رجل قد عرف الموضع، فانتهينا إلى كثيب أحمر فيه كهوف كثيرة، فمضى بنا الرجل إلى كهف منها فدخلناه، فأمعنا فيه طويلا، فانتهينا إلى حجرين قد أطبق أحدهما دون الآخر وفيه خلل يدخل منه الرجل النحيف، فدخلته فرأيت رحلا على سرير شديد الأدمة طويل الوجه كث اللحية قد يبس على سريره، فإذا مسست شيئا من جسده أصبته صليبا لم يتغير، ورأيت عند رأسه كتابا بالعربية: أنا هود الذي أسفت على عاد بكفرها وما كان لأمر الله من مرد. قال لنا علي، كذلك سمعته من أبي القاسم صلى الله عليه وسلم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعیب (علیہ السلام)
35580 ۔۔۔ (مسند شداد بن اوس) شعیب (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی محترت میں روتے رہے حتی کہ نابینا ہوگئے اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی واپس کردی اور وحی فرمائی اے شعیب اس رونے کا سبب کیا ہے ؟ جنت کا شوق ہے یا جہنم کا خوف ؟ عرض کیا اے میرے معبود میرے مولی آپ کو معلوم ہے نہ میں جنت کے شوق میں روتاہوں نہ جہنم کے خوف سے لیکن میں نے اپنے دل میں آپ کی محبت کی وجہ دی ہے جب میں آپ کی طرف دیکھاہوں مجھے معلوم نہیں آپ میرے ساتھ کیا معاملہ فرمانے والے ہیں اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی اے شعیب اگر یہ بات حق ہے تو آپ کو میری ملاقات مبارک ہو اسی وجہ سے میں نے موسیٰ بن عمران کلیمی کو آپ کا خادم بنادیا۔ (الخطیب وابن عساک ربروایت شدادبن اوس اس میں اسماعیل بن علی بن بتدار بن ثنی اسآبادی واعظا ابوسعید ہے خطیب نے کہا رویت میں ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا حدیث منکر ہے ذہنی نے میزان میں کہا یہ حدیث باطل ہے آس کی کوئی اصل نہیں ابن اعسا کرنے کہا اس کو واحڈی نے آبوالفتح محمد بن علی کوفی سے آنہوں نے علی بن حسن بن بندار سے جیسے ان کے بیٹا اسماعیل نے ان سے روایت کی ہے لہٰذا اس کی ذمہ داری سے بری ہوگیا خطیب نے کہا اس لیے ذکر کیا کہ اس میں اسماعیل)
35580- "مسند شداد بن أوس" بكى شعيب النبي من حب الله عز وجل حتى عمي، فرد الله إليه بصره وأوحى الله إليه: يا شعيب، ما هذا البكاء؟ أشوقا إلى الجنة أو فرقا من النار؟ قال: إلهي وسيدي! أنت تعلم، ما أبكي شوقا إلى جنتك ولا فرقا من النار، ولكن اعتقدت حبك بقلبي، فإذا أنا نظرت إليك فما أبالي ما الذي صنع بي؟ فأوحى الله إليه: يا شعيب! إن يك ذلك حقا فهنيئا لك لقائي يا شعيب ولذلك أخدمتك موسى بن عمران كليمي. "الخطيب وابن عساكر - عن شداد بن أوس، وفيه إسماعيل بن علي ابن الحسن بن بندار بن المثني الإسترابادي الواعظ أبو سعيد، قال الخطيب: لم يكن موثوقا به في الرواية والحديث منكر، وقال الذهبي في الميزان: هذا حديث باطل لا أصل له، وقال ابن عساكر: رواه الواحدي عن أبي الفتح محمد بن علي الكوفي عن علي بن الحسن بن بندار، كما رواه ابنه إسماعيل عنه فقد برئ من عهدته، قال: والخطيب إنما ذكره لأنه حمل فيه على إسماعيل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دانیال (علیہ السلام)
35581 ۔۔۔ قتادہ نے انس بن مالک (رض) سے روایت کی ہے کہ جب ہم نے سوس کو فتح کیا تو ہم نے دانیال کو ایک گھر میں پایا ان جسم بالکل تروتازہ تھا جسم کو کوئی حصہ متغیر نہیں پھرا تھا ان کے پاس کمرہ میں کچھ بھی تھا ابوموسیٰ اشعری (رض) نے عمر بن خطاب نہ کے پاس خط لکھا عمر (رض) نے جواب لکھا کہ ان کو غسل روخوشبولاؤ پھر کتنا کر نماز جنازہ پڑھو قتادہ نے ان کو خبر پہنچی ہے کہ انھوں نے دعا کی تھی ان کا مال مسلمانوں تک پہنچ جائے قتادہ (رض) نے یہ بھی فرمایا کہ مجھے روایت پہنچی ہے کہ زمین اس جسم کو نہیں دکھائی جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ (التروزی فی الجنائر)
35581- عن قتادة عن أنس بن مالك قال: لما فتحنا السوس وجدنا دانيال في بيت وأن جيفته لترشح منه لم يتغير منه شيء وعنده في البيت الذي كان فيه مال، فكتب فيه أبو موسى إلى عمر ابن الخطاب، فكتب عمر أن اغسلوه وحنطوه وكفنوه وصلوا عليه وادفنوه، قال قتادة: وبلغني أنه دعا أن يورث ماله المسلمين. قال قتادة: وبلغني أن الأرض لا تسلط على الجسد الذي لم يعمل خطيئة. "المروزي في الجنائز".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دانیال (علیہ السلام)
35582 ۔۔۔ ابی تمیم ھیجمی سے روایت ہے کہ ہمارے پاس عمر (رض) کا خط آیا کہ دانیال (علیہ السلام) کو بیری اور ایحان ملے ہوئی پاتی سے غسل دو ۔ (المروزی)
35582- عن أبي تميم الهيجمي قال: أتانا كتاب عمر أن اغسلوا دانيال بسدر وماء الريحان. "المروزي".
তাহকীক: