কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৫৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الخصائص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض مخصوص حالات
35543 ۔۔۔ (مسند بشربن حزن النصر (رض)) ہم سے حدیث بیان کی ہے شعبہ نے ابی اسحاق سے انھوں نے بشر بن حزن نصر ی سے کہ انھوں نے کہا کہ اونٹ اور بکریوں کے مالک نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں فخر جتایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : و افراد (علیہ السلام) مبعوث ہوئے وہ بکریاں چرانے والے تھے موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے وہ بکریاں چرانے والے تھے اور میں مبعوث ہوا ہوں میں بھی بکر یاں چرانے والا ہوں اپنے خاندان کی محلہ جیاد میں ۔ (البغوی ابن مندہ و ابونعیم ابن عساکر ) ابونعیم نے کہا ابوداؤد نے اس کو روایت کیا ہے دوسری منابعت کے ساتھ اس کے لیے ابن ابی عدی وغیرہ نے روایت کی ہے اتثہبہ عن ابی اسحاق عن ابی اسحاق عن عبدہ بن حذن اور وہ صحیح ہے نوری اور زتریا بن ابی زائدہ نے اور اسرائیل وغیرہ ان کی ہرافقت کی ہے اور بندار اس کو روایت کی ہے ابن ابی عدی سے اور ابوداود نے شعبہ عن ابی اسحاق عن عبدہ بن حذن )
35543- "مسند بشر بن حزن النصري رضي الله عنه" ثنا شعبة عن أبي إسحاق عن بشر بن حزن النصري قال: افتخر أصحاب الإبل والغنم عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " بعث داود وهو راعي غنم وبعث موسى وهو راعي غنم، وبعثت أنا وأنا أرعى غنما لأهلي بجياد". "البغوي وابن منده وأبو نعيم، كر" قال أبو نعيم: كذا رواه أبو داود بمتابعة غيره له ورواه ابن أبي عدى وغيره عن شعبة عن أبي إسحاق: عن عبدة بن حزن، وهو الصواب، وافقه عليه الثوري وزكريا ابن أبي عدي وأبي داود عن شعبة عن أبي إسحاق: عن عبدة ابن حزن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الخصائص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض مخصوص حالات
35544 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ وفات سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حلال کردیا گیا کہ جتنی عورت سے چاہے نکاح کرے۔ (عبدالرزاق)
35544- عن عائشة قالت: ما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أحل له أن ينكح ما شاء. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبوہ : . رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے
35545 ۔۔۔ (مسندبرائی بن عازب) میں ہے کہ شعبی نے براء سے روایت کی ابراہیم (رض) بن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وفات پائی وہ سولہ مہینے کا بچہ تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ان کو بقیع میں دفن کردو کیونکہ ان کا داعیہ موجود ہے جو اس کو جنت میں دودھ پلائے گی۔ (عبدالرزاق و ابونعیم فی المعرفہ)
35545- "مسند البراء بن عازب" عن الشعبي عن البراء قال: توفي إبراهيم بن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ابن ستة عشر شهرا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ادفنوه في البقيع، فإن له مرضعا يتم رضاعه في الجنة. "عب وأبو نعيم في المعرفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبوہ : . رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے
35546 ۔۔۔ عدی بن ثابت براء سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صاحبزادہ ابراہیم (رض) نے وفات پائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان کا مرضعہ ہے جو ان کو جنت میں دودھ پلائے گی ۔ (بخاری مسلم ، ابوداود ترمذی نسائی ابوعوانہ ابن حبان حاکم و ابونعیم)
35546- عن عدي بن ثابت عن البراء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لما مات ابنه إبراهيم: "إن له مرضعا في الجنة". "خ ، م، د، ت، ن وأبو عوانة، حب، ك وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبوہ : . رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے
35547 ۔۔۔ بریدہ سے روایت ہے کہ امیر القبط نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک سفید و سیاہ رنگ کا خچر اور دو باندیاں ھدیہ میں پیش کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خچر پر سواری فرماتے اور ایک باندی حسان بن ثابت (رض) کو ھبہ کردی اور دوسری کو ام وار بنایا ان سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صاحبزاد پیدا ہوا ۔ (ابونعیم)
35547- عن بريدة قال: أهدى أمير القبط إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بغلة شهباء وجاريتين، فكان يركب البغلة، ووهب إحدى الجاريتين لحسان بن ثابت وتسر الأخرى، فولدت له ابن النبي صلى الله عليه وسلم. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبوہ : . رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے
35548 ۔۔۔ عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ کے صاحبزادہ ابراہیم (رض) نے وفات پائی آپ نے فرمایا ان کی بقیہ رضاعت جنت میں مکمل ہوگی۔ (ابونعیم)
35548- عن عبد الله بن أبي أوفى قال: لما مات إبراهيم ابن النبي صلى الله عليه وسلم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يرضع بقية رضاعه في الجنة ". "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبوہ : . رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے
35549 ۔۔۔ اسماعیل بن ابی خالد سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن ابی اونی سے پوچھا کیا تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صاحبزادہ ابراہیم (رض) کو دیکھا ہے تو انھوں نے بتایا کہ ان کا توبچپن میں انتقال ہوگیا تھا اگر آپ کے بعد کسی کے لیے نبوت مقدر ہوتی تو وہ نبی ہوتا ۔ (ابونعیم)
35549- عن إسماعيل بن أبي خالد قال: قلت لعبد الله بن أبي أوفى: رأيت إبراهيم بن النبي صلى الله عليه وسلم؟ قال: مات وهو صغير، ولو قدر أن يكون بعده نبي لكان. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبوہ : . رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے
35550 ۔۔۔ عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ام ابراہیم ماریہ قبطیہ (رض) کے پاس تشریف لائے وہ حاملہ تھی ابراہیم (رض) کے ساتھ ان کے پاس ان کا ایک رشتہ دار بھی تھا جو مصر سے آیا ہوا تھا وہ مسلمان ہوگیا اور اچھا اسلام تھا ان کا وہ ام ابراہیم (رض) کے پاس اکثر آتا تھا اس نے اپنے کو محبوب بنالیا تھا یعنی الہ تناسل کو جر سے کاٹ دیا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن ام ابراہیم کے پاس آیا تو ان کے پاس اس رشتہ دار کو پایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مئلہ سے پریشان ہوا جیسا کہ ایسے موقع پر لوگوں کے دلوں میں وسوسہ آیا کرتا ہے آپ واپس لوٹ گئے رنگ آپ کا بدل چکا تھا راستہ میں عمر بن خطاب (رض) سے ملاقات ہوئی انھوں نے آپ کے چہرہ مبارک کے تغیر کو سمجھ لیا پوچھا کیا وجہ یارسول اللہ آپ کے چہرہ رنگ بدل گیا ہے ؟ تو آپ نے نبلا یاماریہ کے رشتہ دار کے بارے جو کچھ دل میں پیدا ہوا تو عمر (رض) تلوار لے کر چل پڑا س رشتہ دار کو ماریہ (رض) کے پاس موجود پایاتو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے یہ حالت دیکھ کر اپنا ستر کھول کر اپنی حالت دکھا دی تو عمر (رض) واپس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو واقعہ کی اطلاع دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آیا تھا مجھے بتلایا اللہ تعالیٰ نے ماریہ (رض) کو بری قرار دیا اور اس کے رشتہ دار کو اس بات سے جو مری دل میں آیا اور مجھے بشارت دی ہے کہ ان کے پیٹ میں میری طرف سے حمل ہے اور وہ مجھ سے سب سے زیادہ مشابہ ہے اگر مجھے یہ بات ناپسندنہ کرتی ہو کہ مشہور کنیت کو بدل لوں تو میں اپنی کنیت ابوابراہیم رکھتا جیسے جبرائیل (علیہ السلام) نے میری کنیت ابوابراہیم رکھا ۔ ( ابن عساکر اور اس کی سند حسن ہے)
35550- عن عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على أم إبراهيم مارية القبطية وهي حامل منه بإبراهيم وعندها نسيب لها كان قدم معها من مصر وأسلم وحسن إسلامه وكان كثيرا ما يدخل على أم إبراهيم وإنه جب نفسه فقطع ما بين رجليه حتى لم يبق قليلا ولا كثيرا، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما على أم إبراهيم فوجد عندها قريبها، فوجد في نفسه من ذلك شيئا كما يقع في أنفس الناس فرجع متغير اللون فلقيه عمر بن الخطاب فعرف ذلك في وجهه فقال: يا رسول الله! ما لي أراك متغير اللون؟ فأخبره ما وقع في نفسه من قريب مارية، فمضى بسيفه فأقبل يسعى حتى دخل على مارية فوجد عندها قريبها ذلك فأهوى بالسيف ليقتله، فلما رأى ذلك منه كشف عن نفسه، فلما رآه عمر رجع إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره، فقال: " إن جبريل أتاني فأخبرني أن الله عز وجل قد برأها وقريبها مما وقع في نفسي، وبشرني أن في بطنها مني غلاما، وأنه أشبه الخلق بي، وأمرني أن أسمي ابني إبراهيم، وكناني بأبي إبراهيم، ولولا أني أكره أن أحول كنيتي التي عرفت بها لاكتنيت بأبي إبراهيم كما كناني جبريل". "كر، وسنده حسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبوہ : . رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے
35551 ۔۔۔ عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے کہا اے ابوابراہیم اللہ تعالیٰ کی طرف آپ سلام قبول کریں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا ہاں میں ابوابراہیم ہوں ابراہیم ہمارے دادا ہیں انہی سے ہمارا پہچان ہے اللہ تعالیٰ اپنی محکم کتاب میں فرمایا ملة بیکم ابراہیم ھوسماکم المسلین (عدی ابن عساکر دونوں نے کہا اس کی سند میں صحر بن عبداللہ کو فی جو کہ حآ جی کے نام سے معروف ہے وہ باطل احادیث روایت کرتا ہے)
35551- عن عبد الله بن عمرو قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فهبط عليه جبريل فقال: يا أبا إبراهيم! الله يقرئك السلام، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: " نعم، أنا أبو إبراهيم، وإبراهيم جدنا وبه عرفنا، وقد قال الله تعالى في محكم كتابه: {مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ} . "عد، كر، وقالا: فيه صخر بن عبد الله الكوفي بعوف بالحاجبي يحدث بالأباطيل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبوہ : . رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے
35552 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ جب ابراہیم بن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا تو رسول اللہ نے فرمایا ابراہیم میرا بیٹا ہے اس کا گود میں انتقال ہوا اس کے لیے جنت میں دو مرضعہ ہیں جو اس کی رضاعت کی مدت پوری کریں گی۔ ابونعیم۔
35552- "مسند أنس" عن السدي عن أنس قال: توفي إبراهم بن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ابن ستة عشر شهرا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " ادفنوه بالبقيع، فإن له مرضعا يتم رضاعه في الجنة". "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبوہ : . رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے
35553 ۔۔۔ مسندانس (رض) سدی نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ ابراہیم ابن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر سو لہ مہینہ تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان کو بقیع میں دفن کردو ان کا واتیہ ہے جو جنت میں ان کی رضاعت کی مدت پوری کرے گی۔ (ابونعیم)
35553- عن أنس قال: لو عاش إبراهيم بن النبي صلى الله عليه وسلم لكان نبيا صديقا. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبوہ : . رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے
35554 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ جب ابراہیم بن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابراہیم میرا بیٹا ہے اس کا گود میں انتقال ہوا اس کے لیے جنت میں دومرضعہ میں جو اس کی رضآ عت کی مدت کو پوری کریں گی۔ (ابونعیم)
35554- عن أنس قال: لما توفي إبراهيم بن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن إبراهيم ابني، وإنه مات في الثدي، وإن له ظئرين يكملان رضاعه في الجنة ". "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبوہ : . رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے
35555 ۔۔۔ مسند ابن عبس (رض) جب ابراہیم (رض) کا انتقال ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنازہ پڑھا اور فرمایا ان کے لیے جنت میں مرضعیہ ہے اور فرمایا اگر یہ زندہ اتنا تو اپنے ماموں کو قبطیوں سے آزاد کرالینا کوئی قبطی غلام نہ رہتا ابونعیم الاسرارالمر فوعہ 379)
35555- "مسند ابن عباس" لما مات إبراهيم صلى عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: إن له مرضعا ترضعه في الجنة، وقال: لو عاش لعتقت أخواله من القبط وما استرق قبطي. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبوہ : . رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے
35556 ۔۔۔ مجاہد (رح) سے روایت ہے کہ قاسم بن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سات دن زندہ رہ کروفات پا گیا۔ (عبدالرزاق)
35556- عن مجاهد قال: مكث القاسم ابن النبي صلى الله عليه وسلم سبع ليال ثم مات. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبوہ : . رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے
35557 ۔۔۔ ابوجعفر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آپ کا صاحبزادہ ابراہیم زندہ رہتاتو پر قبطی سے جزیہ ساقط ہوجاتا۔ (باونعیم فی المعرفہ)
35557- عن أبي جعفر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لو عاش إبراهيم ابنه لوضعت الجزية عن كل قبطي. "أبو نعيم في المعرفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع الدلائل واعلام النبوة نبوت کے علامات و دلائل
35558 ۔۔۔ مسندشداد بن اوس میں کہ ولید بن مسلم نے کہا کہ ہم سے حدیث بیان کی ہے ہمارا ایک ساتھی نے عبداللہ بن مسلم سے انھوں نے کہا مجھ سے حدیث بیان کی ہے عبادہ بن نسی نے انھوں نے کہا میں نے مجھ سے حدیث بیان کی ہے عبادہ بن نسی نے انھوں نے کہا میں نے سنا ابوالعجفاء سے انھوں نے کہا مجھ سے حدیث بیان کی شداد بن اوس نے کہ نبی عامر کا ایک شخص آیا بوڑھا شیخ اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائے یہاں تک سامنے آئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ زبان سے بڑی بات نکالتے ہیں آپ کا خیال یہ ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں آپ کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا جیسا کہ موسیٰ بن عمران اور عیسیٰ ابن مریم اور ان سے پہلے انبیاء کو بھیجا تھا آپ تو عربی ہیں آپ کا نبوت سے کیا واسطہ ؟ لیکن قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے ہر ظاہر والی چیز کی ایک شان ہوتی ہے اپنے قول اور ظہور شان کی حقیقت سے مطلع کریں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حلیم تھے جہالت کا اظہار نہیں کرتے تو آپ نے فرمایا اے نبی عامر کے بھائی جو بات آپ نے ہے اس کی ایک لمبی کہانی اور خبر ہے بیٹھ جائیں تاکہ اپنے قول کی حقیقت اور ظہور شان بیان کروں عامری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھ گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا میرے والد کے ملاپ کے بعد جب میری والدہ حاملہ ہوئیں تو انھوں نے خواب میں دیکھا کہ ان کے پیٹ سے ایک نور نکلا وہ اس نور کو دیکھتی رہی یہاں تک نور نے آسمان و زمین کے درمیان کے حصے کو نور سے بھر دیا میری والد نے یہ بات خاندان کے ایک سمجھدار شخص کو بتائی تو انھوں نے تعبیر بتلائی کہ اگر تمہارا خواب سچا ہے تو تمہارا ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کا تذکرہ آسمان و زمین کو بھر دے گا یہ نبی سعد بن ھوازن کا وہ قبیلہ تھا جس کی عورتیں باری باری مکہ آئیں اور ان کی اولاد کی پرورش کرنے اور ان کے مال سے منتقع ہوتی میری والدہ نے مجھے اسی سال جنا جس سال وہ آئی تھی میرے والد صاحب وفات پاچکے تھے میں اپنے چچا ابوطالب کی گود میں یتیم تھا عورتیں مجھے چھوڑجاتی تھیں اور کسی کہتی کہ یہ کمزور بچہ بے اس کے والد نہیں ہوسکتا ہے ہم میں کچھ مال و انعام نہ ملے اور ان میں ایک عورت تھی جس کو ام کبثہ ابثہ الحارث کہا جاتا اس نے کہا واللہ اس سال خالی ہاتھ ناکام واپس نہیں لوٹوں گی تو اس نے مجھے اٹھالیا اور اپنے سینہ سے لگایا تو فورا دودھ سے ان کی چھاتی پر ہوگئی انھوں نے میری پرورش کی جب میرے چچا کو یہ خبر پہنچی تو ان کے لیے اونٹ اور کچھ کپڑے بھیج دئیے میرے چچاؤں میں سے ہر ایک اونٹ اور کپڑا اس عورت کو دیا جب عورتوں کو یہ خبرپہنچی تو وہ کہنے لگیں اے ام کبثہ اگر ہمیں اس برکت کا علم ہوتا تو تو ہم سے اس بچہ کی طرف سبقت نہ کرسکتی میری شعرنما ہوئی میں بڑا ہواقریش اور عرب کے بت مجھے بہت مبغوض تھی نہ میں ان بتوں کے قریب جاتانہ تعظیم کرتا یہاں ایک زمانہ کے بعد میں اپنے ہم عمرعرب لڑکوں کے ساتھ نکلا مینگنی پھینک رہے تھے اچانک تین آدمی سامنے سے آئے ان کے ساتھ ایک برتن تھا جو برف سے بھرا ہوا تھا اور لڑکوں کے درمیان سے مجھے پکڑ لیاجب لڑکوں یہ دیکھاتو وہ بھاگ گئے پھر واپس ہو کر اے لوگو یہ لڑکا نہ ہم میں سے ہے نہ عرب ہے یہ قریش کے سردار کا بیٹا ہے بڑی عزت وشرف کا مالک ہے عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہیں جس کی گردن پر ان کے اباء و اجداد کا بڑا احسان نہ ہو لہٰذا اس لڑکے کو بےفائدہ قتل مت کرو اگر تمہیں ضرور قتل ہی کرنا ہے تو اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو قتل کرو انھوں نے میرے بدلہ کسی اور کو قبول کرنے سے انکار دیا وہ لڑکے چلے گئے اور مجھے ان کا حوالہ کردیا ان میں سے ایک نے مجھے پکڑا اور اکرام سے لٹادیا پھر میرے سینے سے لے کرنا ف تک کے حصے کو چیردیا اس میں سے سیاہ بدبودار ٹکڑا نکالا اور اس کو پھینک دیا پھر اس کو اس برتن میں برف کے پانی سے دھویا پھر پیٹ کے اندر داخل کردیا پھر دوسرا شخص آیا اس نے میرے سینے پر ہاتھ رخھ کر اس کو جو ڑدیا پھر تیسرا آیا اس کے ہاتھ میں فہر تھا جس میں شفاع ہے اس کو میرے کندھوں اور ثار بین کے درمیان رکھدیا ایک زمانہ تک اس مہر نبوت کی ٹھنڈک محسوس کرتا تھا بھر وہ لوگ چلے گئے اور قبلیہ والے پورے کے پورے جمع ہوگئے ان کے ساتھ میری اض آئی ماں بھی اگنی جب میری حالت دیکھی تو مجھے اپنے سینہ سے لگالیا اور کہا اے محدم تمہارے اکیلادریتیم ہونے کی وجہ سے قبلیہ والے میرے پیشانی پر جو مادے رہے تھے اور کہہ رہے تھے محمد تمہارا کیلا اور یتیم ہونے کی وجہ ان کو گھروالوں کے پاس پہنچا دو کہیں ہمارے ہاں انتقال نہ ہوجائے وہ اٹھا کر میرے گھروالوں کے پاس لے آئی جب میرے چچا ابوطالب نے مجھے دیکھاتوکہا قسم ہے آس ذات کی جس کے قبضہ میری جان ہے میرا بھیجتے کو اس وقت تک موت نہ آئے گی جب تک تمام عرب کا سردار نہ بن جائے اس کو اٹھا کر کاہن کے پاس لے چلو مجھے افھاکرکابن کے پاس لے جایا گیا مجھے ددیکھنے کے بعد کہا اے محمد مجھے بتائیں آپ کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا میں نے پورا واقعہ سناناشروع کیا جب پوری بات سن لی تو اس اچھل کر مجھے اپنے سینہ سے لگالیا اور کہا اے عرب کے باشندان کو قتل کردو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر یہ جوانی تک زندہ رہاتو تمہارے مردوں کو گالیاں دیں گے اور تمہارے دین مذہب کے متعلق تمہیں وقوف ٹہرائیں گے اور تمہارے پاس ایک ایسا نیادین لے کر آئیں تم نے ہرگز اس جیسادین نہ سنا ہوگا تو اس پر میرے رضائی کو دیری اور کہا اگر تمہارے نفس کو غم لاحق ہوگیا ہے تو ان کے لیے قاتل تلاش کرلو میں اس لڑکے کو قتل نہیں کرسکتی یہ ہے میری شان کا ظہور اور میرے قول کی حقیقت عامری نے پوچھا مجھے کیا حکم دیتے ہیں تو ارشاد فرمایا اس کلمہ کا قرار کر کو لا الہ الا اللہ وان محمداعبدہ ورسولہ اور پانچ کی نمازیں اداکرورمضان کے روزے اگر طاقت ہو بہت اللہ کا حج کرو اور مال کی زکوۃ اداکرو پوچھا اگر میں یہ کام کرلیا تو مجھے کیا اجر ملے گا ؟ تو فرمایا جنت کے باغات جنکے نیچے نہریں بہتی ہیں یہ بدلہ ہے پاکیزہ لوگوں کا پوچھا اے محمد کس وقت کی دعا جلدی قبول ہوتی ہے فرمایا آدھی رات کی جب ٹھنڈے ہوجائیں اللہ تعالیٰ حئی اور قیوم اعلان فرماتے ہیں کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے میں اس کی توبہ قبول کروں کیا کوئے مغفرت طلب کرنے والا ہے میں اس کی مغفرت کردوں کیا کوئی سوال کرنے والا ہے میں اس کے سوال وپورا کردوں عامری نے جلدی سے پڑھا اشھد ان لاالہ اللہ وان محمد رسول اللہ (ابن عساکر کے کہا یہ حدیث غریب ہے اس میں مجہول راوی ہیں شراد سے دوسری طریق سے بھی مروی ہے جس میں انقطاع ہے)
35558- "مسند شداد بن أوس" الوليد بن مسلم حدثنا صاحب لنا عن عبد الله بن مسلم حدثني عبادة بن نسي قال سمعت أبا العجفاء حدثني شداد بن أوس قال: أقبل رجل من بني عامر شيخ كبير يتوكأ على عصاه - حتى مثل بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد! إنك تفوه بأمر عظيم! تزعم أنك رسول الله أرسلت إلى الناس كما أرسل موسى بن عمران وعيسى ابن مريم والنبيون من قبلهم! وإنما أنت رجل من العرب فما لك والنبوة؟ ولكن لكل قول حقيقة ولكل بدء شأن فحدثني بحقيقة قولك وبدء شأنك، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم حليما لا يجهل فقال له: " يا أخا بني عامر! إن للأمر الذي سألتني عنه قصصا ونبأ فاجلس حتى أنبئك بحقيقة قولي وبدء شأني "، فجلس العامري بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن والدي لما بنى بأمي حملت فرأت فيما يرى النائم أن نورا خرج من جوفها فجعلت تتبعه بصرها حتى ملأ ما بين السماء والأرض نورا، فقصت ذلك على حكيم من أهلها فقال لها: والله لئن صدقت رؤياك ليخرجن من بطنك غلام يعلو ذكره بين السماء والأرض! وكان هو الحي من بني سعد بن هوازن ينتابون نساء أهل مكة فيحضنون أولادهم وينتفعون بخيرهم، وإن أمي ولدتني في العام الذي قدموا فيه وهلك والدي فكنت يتيما في حجر عمي أبي طالب، فأقبل النسوة يتدافعنني ويقلن: ضرع صغير لا أب له فما عسينا أن ننتفع به من خير وكانت فيهن امرأة يقال لها أم كبشة ابنة الحارث فقالت: والله لا أنصرف عامي هذا خائبة أبدا؟ فأخذتني وألقتني على صدرها فدر لبنها فحضنتني؛ فلما بلغ ذلك عمي أبا طالب أقطعها إبلا ومقطعات من الثياب، ولم يبق عم من عمومتي إلا أقطعها وكساها، فلما بلغ ذلك النسوان أقبلن إليها يقلن: أما والله يا أم كبشة! لو علمنا بركة هذا تكون هكذا ما سبقتنا إليه ثم ترعرعت وكبرت وقد بغضت إلي أصنام قريش والعرب فلا أقربها ولا آتيها، حتى إذا كان بعد زمن خرجت بين أتراب لي من العرب نتقاذف بالأجلة - يعني البعر - فإذا بثلاثة نفر مقبلين معهم طست مملوء ثلجا فقبضوا علي من بين الغلمان، فلما رأى ذلك الغلمان انطلقوا هرابا، ثم رجعوا فقالوا: يا معشر النفر! إن هذا الغلام ليس منا ولا من العرب، وإنه لابن سيد قريش وبيضة المجد، وما من حي من أحياء العرب إلا لآبائه في رقابهم نعمة مجللة، فلا تصنعوا بقتل هذا الغلام شيئا، وإن كنتم لا بد قاتليه فخذوا أحدنا فاقتلوه مكانه، فأبوا أن يأخذوا مني فدية، فانطلقوا وأسلموني في أيديهم، فأخذني أحدهم فأضجعني إضجاعا رقيقا فشق ما بين صدري إلى عانتي، ثم استخرج قلبي فصدعه فاستخرج منه مضغة سوداء منتنة فقذفها، ثم غسله في تلك الطست بذلك الثلج ثم رده؛ ثم أقبل الثاني فوضع يده على صدري إلى عانتي، فالتأم ذلك كله؛ ثم أقبل الثالث وفي يده خاتم له شعاع فوضعه بين كتفي وثديي، فلقد لبثت زمانا من دهري وأنا أجد برد ذلك الخاتم، ثم انطلقوا؛ وأقبل الحي بحذافيرهم، فأقبلت معهم إلى أمي التي أرضعتني، فلما رأت ما بي التزمتني وقالت: يا محمد! لوحدتك وليتمك، وأقبل الحي يقبلون ما بين عيني إلى مفرق رأسي ويقولون: يا محمد! قتلت لوحدتك وليتمك، احملوه إلى أهله لا يموت عندنا فحملت إلى أهلي فلما رآني عمي أبو طالب قال: والذي نفسي بيده لا يموت ابن أخي حتى تسود به قريش جميع العرب! احملوه إلى الكاهن، فحملت إليه، فلما رآني قال: يا محمد! حدثني ما رأيت وما صنع بك، فأنشأت أقص عليه القصص، فلما سمعني وثب علي والتزمني وقال: يا للعرب! اقتلوه، فوالذي نفسي بيده! لئن بقي حتى يبلغ مبالغ الرجال ليشتمن موتاكم وليسفهن رأيكم وليأتينكم بدين ما سمعتم بمثله قط، فوثبت عليه أمي التي أرضعتني فقالت: إن كانت نفسك قد غمتك فالتمس لها من يقتلها، فأنا غير قاتلي هذا الغلام - فهذا بدء شأني وحقيقة قولي. فقال العامري: ما تأمرني به يا محمد؟ قال: آمرك أن تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله، وتصلي الخمس لوقتهن، وتصوم شهر رمضان، وتحج البيت إن استطعت إليه سبيلا، وتؤدي زكاة مالك؛ قال: فما لي إن فعلت ذلك؟ قال: جنات عدن تجري من تحتها الأنهار، ذلك جزاء من تزكى؛ قال: يا محمد! فأي المسمعات أسمع؟ قال: جوف الليل الدامس إذا هدأت العيون، فإن الله حي قيوم يقول: هل من تائب فأتوب عليه؟ هل من مستغفر فأغفر له ذنبه؟ هل من سائل فأعطيه سؤله؟ فوثب العامري فقال: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله". "كر؛ وقال: هذا حديث غريب وفيه من يجهل. وقد روي عن شداد من وجه آخر فيه انقطاع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع الدلائل واعلام النبوة نبوت کے علامات و دلائل
35559 ۔۔۔ عمر بن صیح ثور بن یزید سے وہ مکحول سے وہ شداد بن اوس سے روایت کرتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے ؟ نبی عامر کا ایک شخص آیا وہ قوم کا سردار ان کا بڑا اور بائیس تھا اپنی لاٹھی پر ٹیک لگایا ہوا تھا اگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا ہوگیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نسب داداتک پہنچایا اور کہا اے عبدالمطلب کے بیٹے مجھے خبردی گئی کہ تمہارا خیال ہے کہ تم تمام لوگوں کی طرف اللہ کے رسول ہو ایسی ہی رسالت کے دے کر بھیجے گئے جو ابراہیم موسیٰ عیسیٰ (علیہم السلام) وغیرہ انبیاء کودے کر بھیجے گئے تھے سن لو تم نے زبان سے بہت بری بات کہی ہے انبیاء اور بادشاہ نبی اسرائیل کے دوگھرانہ میں ہوئے ایک نبوت کا گھرانہ اور ایک بادشاہ کا گھرانہ آپ نہ ان میں سے میں نہ ان میں سے آپ تو ایک عربی شخص ہیں آپ کا نبوت سے کیا واسطہ لیکن ہر بات کی ایک حقیقت اور شان ہوتی ہے اپنے قول اور شان کی حقیقت بتائیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس خے سوال پر تعجب ہواپھر فرمایا اے نبی عامر کے بگائی جو بات پوچھنا چاہتے اس کا عباداستان ہے آپ بیٹھیں انھوں نے پاؤں موڑ لیے ایسے بیٹھ گئے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عامری بھائی میری قول اور ظہور شان کی حقیقت میرے والدابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہے اور میرے بھائی عیسیٰ بن مریم کی بشارت ہے میں اپنی والدہ کا پہلا بیٹاہوں جب میری والدہ حاملہ تھی ان کو بھی دوسری عورتوں کی طرح حمل کا بوجھ محسوس ہوا اور میری والدہ نے ایک خواب دیکھا کہ جو حمل ان کے پیٹ میں ہے وہ نور ہے میں نور کو دیکھنے لگی تو نور میری حد نظر اسے آگے نکل گیا یہاں تک میرے لیے مشرق ومغرب منور ہوگیا جب میں بڑا ہوا تو بتوں سے مجھے بغض ہوگیا اسی طرح استعار سے بھی اور مجھے دودھ پلایا گیا نبی جثم بن بکر میں اس دوران کہ میں اپنے ہم لڑکوں کے ساتھ ایک وادی میں تھا اچانک تین آدمیوں کی جماعت سے ملاقات ہوگئی ان کے ساتھ سونے کی پلیٹ تھی جو برف سے بھری ہوئی انھوں نے ساتھیوں کے درمیان سے مجھے پکڑا لیا میرے ساتھی باگ کرادی کے کنارہ تک پہنچ گے پھر اس جماعت کے پاس واپس آئے اور پوچھا تم اس لڑکے کو کیوں قتل کرنا چاہتے ہو یہ تو ہمارے قبیلہ کا نہیں ہے بلکہ قریش کے سردار کا بیٹا ہے وہ ہمارے قبیلہ میں دودھ بلایا گیا ہے وہ اور یتیم ہے ان کا والد نہیں ان کے قتل کا کیا فائدہ ہوگا اگر تم نے قتل کرنا ہی ہے تو ہم میں سے جس کو جائیں بکڑ لیں ان کی جگہ قتل کریں اور اس لڑکے کو چھوڑ دیں انھوں نے اس بات کو قبول نہیں کیا جب لڑکوں نے دیکھا کہ ان لوگوں ان کی کوئی بات قبول نہیں کی تو تیزی کے ساتھ بھاگ کر قبیلہ والوں کے پاس پہنچ گئے تاکہ ان کو مطلع کریں اس کے لیے قوم کو زور سے آواز دی تو اس جماعت میں سے ایک نے مجھے آرام سے زمین پر لٹادیا پھر میرے سینہ کو ناف تک چیرا میں اس کو دیکھتا رہا میرے لیے اس لیے لیے اور کوئی راستہ نہیں تھا پھر میرے پیٹ کی انتڑیوں کو باہر نکالا ان کو برف کے پانی سے دھویا اور بہت اچھی طرح دھویا پھر ان کی اپنی جگہ لوٹا دیا پھر دوسرا آگے بڑھا اپنے ساتھی کو ایک طرف ہونے کو کہا اس نے میرا پیٹ میں ہاتھ ڈالا اور میرے دل کو نکالا اور میں دیکھتا رہا اس کو چرا اور اس میں سیاہ لوئر انکالا اور اس کو پھینک دیا پھر ہاتھ پھیلا یا گویا کہ کوئی چیز لے رہا ہے تو دیکھا ان کے ہاتھ میں ایک انگوٹھی ہے نور کی جو دیکھنے والی کی نظر کو آچک نے اس سے میرے دل پر مہر لگادی اب میرا دل نور اور حکمت سے بھر گیا پھر اس کو اپنی جگہ لوٹا دیا پھر اس مہر کی ٹھنڈک ایک زمانہ تک محسوس کرتا تھا بھر تیسراکھڑا ہوگیا پہلے دونوں ایک طرف ہوگئے انھوں نے اپنا ہاتھ میرے پورے زخم پر پھیرا اور اللہ کے حکم سے اس چیز کو جو ڑدیا سینہ سے ناف تک پھر میرا ہاتھ پکڑ کر کھڑا کردیا اپنی جگہ سے کہ بہت ہلکازخم ہے پہلا جس نے میرے پیٹ کو چیرا لگایا کہا ان کو اپنی امت کے دس افراد کے ساتھ وزن کرو وزن کیا تو میں بھاری نکلا پھر کہا سو کے مقابلہ میں وزن کو وزن کیا گیا تو میں بھاری نکلا بھرکہا ہزار کے مقابلہ میں وزن کرو انھوں نے وزن کیا تو میں بھاری نکلا بھر کہا چھوڑ دو اگر پوری امت سے بھی موازنہ کیا جائے تب بھی یہ بھاری نکلے گا پھر کھڑے ہوگئے مجھے اپنے شینہ سے لگایا اور میرے سر اور بشانی کا بوسہ لیا پھر کہا اے جیبی گھبراؤ نہیں اگر آپ کو معلوم ہوجائے آپکے ساتھ کس بھلائی کا ارادہ کیا گیا آپ کی آنکھیں ٹھنڈے ہوجائیں ہم اسی حالت میں تھے کہ قبلیہ والے اکٹھے ہو کر آگئی اور میری دائبیہ بھی تھیں جو قبیلہ والوں کے آگے بلند آواز سے پکاررہی تھیں ہائے کمزور اب سب سے مجھے جو مادیا اور کہہ رہے ہائے خوش نصیبی تم کمزور ہو پھر میری رضاعی ماں نے کہا ہائے اکیلا پھر مجھے اٹھا کر اپنے سینے سے لگایا کیا اچھی بات ہے کہ تم اکیلے ہو تم اکیلے نہیں ہو تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ فرشتے اور زمین کے مومنین ہیں پھر کہا اے یتیم آپ اللہ تعالیٰ کے ہاں کتنے کریم ہیں ؟ کاش تمہیں معلوم ہوتا جو تمہاڑے ساتھ خیر کا ارادہ ہوا مجھے لے کروادی کے کنارہ تک پہنچ گئے جب میری دائبہ نے مجھے دیکھاتو کہا اے بیٹے کیا میں آپ کو زندہ نہیں دیکھو نگی ؟ وہ آئی اور مجھے اٹھا کر اپنے سینہ سے لگایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں ان کی گود میں تھا انھوں نے مجھے اپنے سینہ سے لگایا اور میرا دوسروں کے ہاتھ میں تھا میرے خیال یہ ہے لوگ ان کو دیکھ رہے تھے لیکن دیکھ نہ پائی قبلیہ کے بعض لوگ آئے انھوں نے کہا اس لڑکے پر جنون یاجنات کے اترات میں کوئی کاہن دیکھو جو اس کو دیکھے اور اس کا علاج کرے میں نے کہا اے شخص مجھے میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو تم کہہ رہنے ہو میرا نفس سلیم ہے دل صحیح ہے مجھے کوئی ترودیادہم نہیں ہنے میرے رضائی والد نے کہا کیا تم نہیں دیکھتے ہو یہ صحیح گفتگو کررہے ہیں مجھے امید ہے کہ میرے بیٹے کو ایسی کوئی تکلیف نہیں ہے باہر قوم کا اتفاق بھر ا کہ مجھے کاہن کے پاس لے جایا جائے مجھے اٹھاکر کاہن کے پاس لے گئے اور اس کو واقعہ سنایا اس نے کہا اس نے کہا تم لوگ خاموش رہو میں خود اس لڑکے سے براہ راست سنتاہوں کیونکہ وہ اپنے واقعہ خود جانتا ہے چنانچہ میں نے شروع سے آخر پورا واقعہ سنا دیا جب اس نے میری بات سنی اس نے مجھ کو اپنے سینہ سے لگایا اور زور سے کہا اے عرب والوں اس لڑکے کو قتل کردو اور مجھے بھی اس کے ساتھ قتل کردولات وعزی کی قسم اگر تم اس کو چھوڑ دیا تو یہ تمہارے ابائی دین کو بدل دے غاتمہاری اور تمہارے اباء واجد اد کی عقلون کو بیوقوف ٹہرائے گا اور تمہارے پاس ایسا دین لے کر آئے گا جو تم پہلے کبھی نہ سنا ہوگا میری دائیہ نے مجھ اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور کہا تم ان سے زیادہ سرکش اور زیادہ مجنون معلوم ہوتا اگر مجھے آسکا علم ہوتا تمہارے پاس لے کر نہ آئی پھر مجھے اٹھا کر لایا اور اپنے گھر والوں کو واپس کردیا میں غم گین ہو اس سے جو میرے ساتھ واقعہ پیش آیا اور شق کرنے نشان بڑا گیا سینہ لے کر ناف کے نیچے تک گویا کہ تسمہ ہے یہ ہے کہ میرے قول کی حقیقت اور میری شان کا ظہور عامری نے یہ سن کر کہا اشھدان لاالہ الا اللہ وان امراک حق مجھے کچھ باتیں بتلائیں جو میں تچھ سے پوچھتا ہوں کہا سل عنک اس سے پہلے تک سائل کو سل مابداء لک کہا جاتا تھا اس دن عامری کو سل عنک فرمایا کیونکہ یہ نبی عامر کی لغت ہے ان سے ان کی معروف زبان میں بات کی توعامری نے کہا اے عبدالمطلب کے بیٹے شر میں کیا چیز اضافہ کرتی ہے بتایا سر کسی پوچھا کیا گناہ کے بعد نیکی فائدہ دیتی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں توبہ گناہ کو دھو دیتی ہے اور نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہے جب بندہ اللہ تعالیٰ کو خوشی کی حالت میں یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بری حالت میں اس کی مدد فرماتا ہے عامری نے پوچھا وہ کیسے اے عبدالمطلب کے بیٹے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ اس طرح اللہ تعالیٰ کہتا ہے میں اپنے بندوں کے لئی دو امن اور دو خوف کو جمع نہیں کر اگر وہ دنیا میں مجھ سے مامون رہا آخرت میں خوف زدہ ہوگا جس دن میں اپنے بندوں کو جمع کروں گا اگر وہ دنیا میں مجھ سے خائف رہا آخرت میں اس کو امن دونگا جس میں بندوں کو حظیرة القدس میں جمع کروں گا اس کا امن دائمی ہوگا جن کو مٹاؤں گا ان کے ساتھ ان کو نہیں مٹادونگا عامری نے کہا اے عبدالمطلب کے بیٹے کن باتوں کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں فرمایا ایک اللہ کی عبادت کی طرف جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں اور یہ کہ تمام شرکاء کا انکار کرے اور لدت وعزی سے انکار کرے اور اقرار کرے اس کتاب ورسول کا جو رسول کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا اور پانچ وقت کی نماز ان کے حقوق کے ساتھ کے اداکریں اور سال میں ایک ماہ کا روزہ رکھیں اپنے مال کی زکوۃ اداکریں اللہ تعالیٰ کے ذریعہ تمہیں پاک فرمائے گا تمہارا مال بھی پاکیزہ ہوجائے غا اور بیت اللہ کا حج کرو اگر وہاں تک پہنچے کی استطاعت ہو اور جنابت کا غسل کریں اور موت کے بعد اٹھائے جانے کا اور جنت وجہنم کا اقرار کریں کہا اے عبدالمطلب کے بیٹے اگر میں نے یہ کام کرلیا تو مجھے کیا اجر ملے گا ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہمیشہ رہنے کے باغات جنکے نیچے نہریں بہتی ہیں اس ان میں ہمیشہ رہے گا یہ بدلہ ہے اس کا جس نے گناہوں سے پاکی حاصل کرلی کہا اے عبدالمطلب کے بیٹے کیا اس کے ساتھ دنیا کی اور کوئی کیونکہ مجھے زندگی میں وسعت پسند ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں فتح اور شہروں پر غلبہ حاصل کرنا عامری نے ابن کو قبول کر اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوا۔ (ابویعلی ابونعیم فی الدلائل اور کہا مکحول نے کی شداد سے ملاقات ثابت نہیں)
35559- عن عمر بن صيح عن ثور بن يزيد عن مكحول عن شداد ابن أوس قال: بينا نحن جلوس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ أتاه رجل من بني عامر وهو سيد قومه وكبيرهم ومديرهم يتوكأ على عصاه فقام بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم ونسب النبي صلى الله عليه وسلم إلى جده فقال: يا ابن عبد المطلب! إني أنبئت أنك تزعم أنك رسول الله إلى الناس، أرسلك بما أرسل به إبراهيم وموسى وعيسى وغيرهم من الأنبياء، ألا! وإنك قد تفوهت بعظيم! إنما كانت الأنبياء والملوك في بيتين من بني إسرائيل: بيت نبوة، وبيت ملك؛ فلا أنت من هؤلاء ولا أنت من هؤلاء، إنما أنت رجل من العرب، فما لك والنبوة! ولكن لكل أمر حقيقة فأنبئني بحقيقة قولك وشأنك. فأعجب النبي صلى الله عليه وسلم مسألته ثم قال: " يا أخا بني عامر! إن للحديث الذي تسأل عنه نبأ ومجلسا فاجلس، فثنى رجله وبرك كما يبرك البعير، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: يا أخا بني عامر! إن حقيقة قولي وبدء شأني دعوة أبي إبراهيم وبشرى أخي عيسى ابن مريم، وإني كنت بكر أمي وإنها حملتني كأثقل ما تحمل النساء حتى جعلت تشتكي إلى صواحبها ثقل ما تجد، وإن أمي رأت في المنام أن الذي في بطنها نور! قالت: فجعلت أتبع بصري النور، فجعل النور يسبق بصري حتى أضاء لي مشارق الأرض ومغاربها؛ فلما نشأت بغضت إلي الأوثان وبغض إلي الشعر، واسترضع لي في ديني جشم بن بكر، فبينا أنا ذات يوم في بطن واد مع أتراب لي من الصبيان إذ أنا برهط ثلاثة معهم طست من ذهب ملآن من ثلج فأخذوني من بين أصحابي، وانطلق أصحابي هرابا حتى انتهوا إلى شفير الوادي، ثم أقبلوا على الرهط فقالوا: ما لكم ولهذا الغلام؟ إنه غلام ليس منا وهو ابن سيد قريش وهو مسترضع فينا من غلام يتيم ليس له أب فماذا يرد عليكم قتله؟ ولئن كنتم لا بد فاعلين فاختاروا منا أينا شئتم فليأتكم فاقتلوه مكانه ودعوا هذا الغلام، فلم يجيبوهم، فلما رأى الصبيان أن القوم لا يجيبونهم انطلقوا هرابا مسرعين إلى الحي يؤذنونهم به ويستصرخونهم على القوم، فعمد إلي أحدهم فأضجعني إلى الأرض إضجاعا لطيفا، ثم شق ما بين صدري إلى متن عانتي وأنا أنظر فلم أجد لذلك مسا، ثم أخرج أحشاء بطني فغسله بذلك الثلج فأنعم غسله ثم أعادها مكانها؛ ثم قام الثاني فقال لصاحبه: تنح، ثم أدخل يده في جوفي فأخرج قلبي وأنا أنظر، فصدعه فأخرج منه مضغة سوداء فرمى بها، ثم قال بيده كأنه يتناول شيئا فإذا أنا بخاتم في يده من نور يخطف أبصار الناظرين دونه فختم على قلبي، فامتلأ نورا وحكمة، ثم أعاده مكانه، فوجدت برد ذلك الخاتم في قلبي دهرا؛ ثم قام الثالث فنحى صاحبيه فأمر بيده بين ثديي ومنتهى عانتي، والتأم ذلك الشق بأذن الله، ثم أخذ بيدي فأنهضني من مكاني إنهاضا لطيفا، فقال الأول الذي شق بطني: زنوه بعشرة من أمته، فوزنوني فرجحتهم، ثم قال: زنوه بمائة من أمته، فوزنوني فرجحتهم، ثم قال: زنوه بألف من أمته، فوزنوني فرجحتهم، ثم قال: دعوه فلو وزنتموه بأمته جميعا لرجح بهم، ثم قاموا إلي فضموني إلى صدورهم وقبلوا رأسي وما بين عيني ثم قالوا: يا حبيب! لم ترع، إنك لو تدري ما يراد بك من الخير لقرت عينك! فبينما نحن كذلك إذ أقبل الحي بحذافيرهم وإذا ظئري أمام الحي تهتف بأعلى صوتها وهي تقول: يا ضعيفاه، فأكبوا علي يقبلوني ويقولون: يا حبذا أنت من ضعيف! ثم قالت: يا وحيداه! فأكبوا علي وضموني إلى صدورهم وقالوا: يا حبذا أنت من وحيد! ما أنت بوحيد، إن الله معك وملائكته والمؤمنون من أهل الأرض، ثم قالت: يا يتيماه! استضعفت من بين أصحابك فقلت لضعفك، فأكبوا علي وضموني إلى صدورهم وقبلوا رأسي وقالوا: يا حبذا أنت من يتيم! ما أكرمك على الله تعالى! لو تعلم ماذا يراد بك من الخير! فوصلوا إلى شفير الوادي، فلما بصرت بي ظئري قالت: يا بني! ألا أراك حيا بعد؟ فجاءت حتى أكبت علي فضمتني إلى صدرها، فوالذي نفسي بيده! إني لفي حجرها قد ضمتني

إليها وإن يدي لفي يد بعضهم وظننت أن القوم يبصرونهم فإذا هم لا يبصرونهم، فجاء بعض الحي فقال: هذا غلام أصابه لمم أو طائف من الجن، فانطلقوا بنا إلى الكاهن ينظر إليه ويداويه، فقلت له: يا هذا! ليس بي شيء مما تذكرون، إن لي نفسا سليمة وفؤادا صحيحا وليس بي قلبة، فقال أبي - وهو زوج ظئري: ألا ترون كلامه صحيحا؟ إني لأرجو أن لا يكون بابني بأس، فاتفق القوم على أن يذهبوا بي إلى الكاهن، فاحتملوني حتى ذهبوا بي إليه فقصوا عليه قصتي، فقال اسكتوا حتى أسمع من الغلام فإنه أعلم بأمر، فقصصت عليه أمري من أوله إلى آخره، فلما سمع مقالتي ضمني إلى صدره ونادى بأعلى صوته: يا للعرب! اقتلوا هذا الغلام واقتلوني معه، فو اللات والعزى! لئن تركتموه ليبذلن دينكم وليسفهن أحلامكم وأحلام آبائكم وليخالفن أمركم وليأتينكم بدين لم تسموا بمثله، فانتزعته ظئري من يده وقالت: لأنت أعته منه وأجن، ولو علمت أن هذا يكون من قولك ما أتيتك به، ثم احتملوني ما ردوني إلى أهلي، فأصبحت مغموما مما دخل بي، وأصبح أثر الشق ما بين صدري إلى منتهى عانتي كأنه شراك. فذاك حقيقة قولي وبدء شأني". فقال العامري: أشهد أن لا إله إلا الله وأن أمرك حق، فأنبئني بأشياء أسألك عنها، قال: "سل عنك" - وكان يقول للسائلين قبل ذلك سل عما بدا لك، فقال يومئذ للعامري: سل عنك، فإنها لغة بني عامر فكلمه بما يعرف - فقال العامري: أخبرني يا ابن عبد المطلب! ماذا يزيد في الشر؟ قال: "التمادي"، قال: فهل ينفع البر بعد الفجور؟ قال النبي صلى الله عليه وسلم: "نعم، إن التوبة تغسل الحوبة ، وإن الحسنات يذهبن السيئات، فإذا ذكر العبد ربه في الرخاء أعانه عند البلاء"، قال العامري: وكيف ذلك يا ابن عبد المطلب؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ذلك بأن الله يقول: لا أجمع لعبدي أبدا أمنين ولا أجمع له أبدا خوفين، إن هو أمنني في الدنيا خافني يوم أجمع فيه عبادي، وإن هو خافني في الدنيا أمنته يوم أجمع فيه عبادي في حظيرة القدس، فيدوم له أمنه ولا أمحقه فيمن أمحق" فقال العامري: يا ابن عبد المطلب! إلى ما تدعو؟ قال: "أدعو إلى عبادة الله وحده لا شريك له، وأن تخلع الأنداد وتكفر باللات والعزى: وتقر بما جاء من الله من كتاب ورسول، وتصلي الصلوات الخمس بحقائقهن، وتصوم شهرا من السنة، وتؤدي زكاة مالك فيطهرك الله به ويطيب لك مالك، وتحج البيت إذا وجدت إليه سبيلا، وتغتسل من الجنابة، وتقر بالبعث بعد الموت وبالجنة والنار"، قال: يا ابن عبد المطلب! فإذا أنا فعلت هذا فما لي؟ قال النبي صلى الله عليه وسلم: {جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ جَزَاءُ مَنْ تَزَكَّى} ، قال: يا ابن عبد المطلب! هل مع هذا من الدنيا شيء؟ فإنه يعجبنا الوطاءة في العيش، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "نعم، النصر والتمكين في البلاد"، فأجاب العامري وأناب. "ع وأبو نعيم في الدلائل، كر، وقال مكحول لم يدرك شدادا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملک روم کو دعوت اسلام
35560 ۔۔۔ معافی بن زکریا قاضی نے کہا ہم سے حدیث بیان کی ہے حسن بن علی بن زکریا عدوی ابوسعید بصری نے انھوں نے کہا ہم سے حدیث بیان کی ہے احمدبن محمد مکی ابوبکر نے کہ ہم سے حدیث بیان کی عبدالرحمن مدینی نے محمد بن عبدالوحد کوفی سے انھوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن ابی بکر انصار نے عبادہ بن صامت وہ بدری صحابہ کرام (رض) میں سے تھے اور یقنا میں سے تھے انھوں نے کہا ابوبکر نے مجھے ملک روم کے پاس بھیجا اس کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے اور اس کی رغبت دلانے کے لیے اور میرے ساتھ عمرو بن العاص بن وائل سہمی بھی تھے اور ہشام بن العاص ابن وائل سہمی اور عدی بن کعب اور نعیم بن عبداللہ النجار بھی ہم لوگ نکلے یہاں دمشق میں جب کہ بن ابہم کے پس پہنچے ہمیں انھوں نے اپنا بادشاہ روی کے پاس لے گیا وہ اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے وزراء کے ساتھ ہمیں بیٹھایا اور ہمارے پاس اپنا بندہ بھیجا ہم سے کہا کہ ہم اس سے بات کریں ہم نے واللہ ہمارے درمیان قاصد کے ذریعہ گفتگو نہ ہوئی اگر اس کو ہم سے بات کرنے کی ضرورت ہے تو ہمیں اپنے قریب کرے تو سیڑھی کا حکم دیاجو رکھی گئی اس کے بعد اپنے تخت سے زمین پر نیچے اترآیا اور ہمارے قریب آیا تو اس پر سیاہ تیل ملاہوا کپڑا تھا تو اس سے ہشام بن عاص بن وائل نے کہا یہ تجھ پر سیاہ کپڑا کیوں ہے تو اس نے جواب دیا یہ میں نے پہنا ہے اس کا نذر مان کر تمہیں شام سے نکالنے تک نہیں اتارونگا ہم نے کہا کہ قاضی نے کہا ہے اس کے بعد ایک کلام ذکر کیا جس کا معنی میں مجھ پر مخفی رہ گیا بلکہ ہم تمہاری تخت اس کے بعد تمہارے عظیم ملک کا مالک ہوں گے اللہ کی قسم ہم ضرور اس کو لیں گے کیونکہ ہمارے نبی صادق (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس کی خبردی ہے اس نے کہا پھر تو تم سمراء ہو ہم نے کہا سمرا کیا چیز ہے ؟ کہا تم ان میں سے نہیں ہو ہم نے کہا وہ کون لوگ ہیں اس نے کہا جو لوگ رات کو قیام کریں گے اور دن کو روزہ رکھیں گے ہم نے کہا ہم ہی ہیں وہ اس نے پوچھا تمہارے روازے اور نماز کیسی اور تمہارا کیا حال ہے ؟ ہم نے اس سے اپنے حالات بیان کردیا اس نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا اور اس میں بات چیت کی اور ہم سے کہا یہاں سے نکل جاؤ پھر اس کے چہرے پر سیاہی چڑھ گئی گویا کہ وہ ٹاٹ کا ٹکڑا ہے سخت سیاہ ہونے کی وجہ سے اور ہمارے ساتھ ایک قاصد بھیجا ان کے ملک اعظم کی طرف جو کہ قطنطنیہ ہیں تھا ہم وہاں سے نکل کر ان کے شہر تک پہنچے ہم اپنی سواریوں پہ تھے ہمارے سروں پر یگڑیاں اور ہاتھوں میں تلوار جو لوگ ہمارے ساتھ انھوں نے کہا تمہارے یہ جانور بادشاہ کے شہر میں داخل نہیں ہوسکتے اگر تم چاہو تو ہم تمہارے لیے گھوڑے اور خرء لے آتے ہیں ہم نے کہا اللہ کی قسم ہم تو انہی سواریوں پر داخل ہوں گے تو انھوں نے قاصد بھیجا اجازت لینے کے لیے تو اس نے پیغام ان کا راستہ چھوڑ دو یعنی آنے کی اجازت دیدو ہم اپنی سواریوں پر سوار ہو کر اس کمرہ تک پہنچ گئے جس کا دروازہ کھولا ہوا تھا وہ اس میں بیٹھا ہوادیکھ رہا تھا راوی نے کہا کہ ہم اپنے اونٹ نیچے بیٹھا دئیے بھر ہم نے کہا لاالہ الا اللہ واللہ اکبر۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ہل گیا گویا کہ وہ کھجور کا درخت ہے جس کو ہوا نے حرکت دی پھر ہمارے پاس قاصد بھیجا کہ تمہیں حق نہیں پہنچا کہ تم ہمارے ملک میں اپنے کا اعلان کرو اور ہمارے متعلق حکم دیا کہ ہمیں ان کے پاس پہنچایا جائے وہ اپنے وزیر اعظم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور اس پر سرخ لباس تھا اس کا فرش اور ارگرد کا حصہ بھی سرخ تھا تو دیکھا ایک شخص فصیح عربی بولنے والا لکھ رہا تھا ہماری طرف اشارہ کیا ہم ایک جانب بیٹھ گئے ہم سے ہنستے ہوئے کہا کیا وجہ ہے کہ جس طرح آپس میں ایکدوسرے کو سلام کرتے ہو مجھے اس طرح سلام نہیں کیا ؟ اس کے ذریعہ ہم آپ سے اعراض کرتے ہیں اور جس سلام سے تم راضی ہوئے ہو وہ ہمارے لیے حلال نہیں پوچھا تمہارے آپس کا سلام کس طرح ہے ؟ ہم نے کہا السلام علیکم پوچھا کہ تم اپنے نبی کو کس طرح سلام کرتے تھے ہم نے کہا انہی الفاظ کے ذریعہ پوچھا وہ تمہیں کس طرح سلام کرتے تھے ؟ ہم نے کہا انہی الفاظ کے ذریعہ پوچھا تم اب اپنے بادشاہ کو کس طرح کرتے ہو ہم نے کہا انہی الفاظ سے پوچھا وہ کس طرح جواب دیتے ہیں ہم نے کہا انہی الفاظ سے پوچھا تمہارے نبی تمہارا کس طرح وارث بنتے ہیں ہم نے کہا وارثت تو صرف قرابتداری کی بنیاد پر ہے اس طراح اس وقت کے بادشاہ بھی ہم نے کہا پوچھا تمہارا سب سے معظم کلام کیا ہے ہم نے کہا لاالہ الا اللہ راوی نے کہا کہ اللہ جانتا ہے کہ اس نے پھڑ پھڑایا گویا وہ پروں والد پرندہ ہے عمدہ لباس کی وجہ سے پھر ہمارے سامنے اپنی آنکھیں کھولیں پوچھا یہ وہی کلمہ ہے جو تم نے سواری سے اترتے ہوئے میری تخت کے نیچے کہا ہم نے کہا ہاں پوچھا کیا اس طرح تم اس کلمہ کو کہتے ہو تمہارے گھر کی چھت پتلی ہے تو ہم نے واللہ کبھی ہم نے اس طرح ملتے ہوئے نہیں دیکھا مگر تمہارے پاس اس کی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک بات منظور ہوئی ہے کیا کہتی سچی بات ہے وال میں تو یہی چاہتاہوں کہ میں اپنا آدھا ملک چھوڑ دوں اس بات پر کہ تم اس کلمہ کو کسی ایسی چیز پر مت پڑھو ہلنے لگے ہم نے کہا اس کی کیا وجہ ہے ؟ کیا یہ اس کی شان کے مناسب ہے لائق ہے کہ نبوت میں سے نہ ہو بلکہ نبی آدم کے جلسہ میں سے ہو اور کہا تم کیا کہتے ہو جب تم شہروں اور قلعوں کو فتح کرتے ہو ہم نے کہا، ہم کہتے ہیں لاالہ اللہ واللہ اکبر پوچھا تم لا الہ الا اللہ کہتے اس کے علاوہ کوئی اور کلمہ نہیں کہتے ؟ ہم نے جواب دیا ہاں اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا ان سے گفتگو کی پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا کیا تم جانتے ہو میں نے ان سے کیا کہا ، میں نے کہا کس قدر آپس میں اختلاط ہے ؟ ہمارے قیام گاہ کا حکم دیا اور ضیافت کا انتظام کیا ہم اپنی قیام گاہ میں نہرے صبح وشام اس کی طرف سے ضیافت ہوتی تھی پھر ہمارے پاس پیغام بھیجا ہم رات کے وقت اس کے پاس پہنچے اس کے ساتھ کوئی اور نہ تھا ہم سے مکرر گفتگو کی ہم نے بھی اپنی بات دھرادی ، پھر کوئی چیز منگوائی جو برتن کی شکل میں بھاری تھی اور سونے کا پانی اس پرچڑھایا ہوا تھا اس کے سامنے لاکر رکھ دی پھر اس کو کھولا تو اس میں چھوٹے چھوٹے گھر بنوے ہوئے تھے اور ان پر دروازے بھی لگے ہوئے تھے ان میں سے ایک دروازہ کھولا اس میں سیاہ رنگ کے ریشم کا ایک ٹکڑا نکالا اس کو پھیلایا تو اس میں سرخ رنگ کی تصویر تھی اس میں ایک موٹی آنکھوں ولاچوڑا سر والا شخص تھا کسی کے جسم میں اس اس کے جیسے لمبے پانی نہیں دیکھے گئے ہم سے پوچھا جانتے ہو یہ کون ہے ہم نے کہا نہیں اس نے کہا نہیں اس نے کہا آدم (علیہ السلام) ہیں اس نے اس کو دو بارہ لوٹ دیا پھر دوسرا دروازہ کھولا اس میں سے ایک سیاہ ریشم کا ٹکڑا نکالا اس کو پھیلایا تو اس میں ایک سفید تصویر تھی اس میں ایک شخص جس کے بال فیطوں کی طرح زیادہ گھنے میں قاضی نے کہا میرے خیال میں موٹی آنکھوں والا دونوں منڈوں کے درمیان فاصلہ والا اور بڑی کھوپڑی والا پوچھا جانتے ہو یہ کون ہے ؟ ہم نے بتایا نہیں تو اس نے کہا یہ نوح (علیہ السلام) ہیں بھر اس کو اپنی جگہ لوٹا دیا پھر ایک اور دروازہ کھولا اس سے ایک سبز رنگ کے ریشم کا ٹکڑا نکالا اس میں ایک انتہائی سفید تصویر ہے جس کا چہرہ حسین آنکھیں حسین اونچی ناک قدرے لمبے رخسار اور ڈارھی کے بالی سفید گویا زندہ ہے اور سانس لے رہا ہے پوچھا جانتے ہو یہ کون ہے ؟ ہم نے کہا نہیں پھر بتایا یہ ابراہیم (علیہ السلام) میں اس کو اپنی جگہ لوٹا دیا پھر ایک دروازہ کھولا اس میں ایک سبز رنگ کے ریشم کا ٹکڑا نکالا اس میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصویر تھی پوچھا جانتے ہو یہ کون ہیں ہم نے کہا یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ہم رو پڑے پوچھا کیا تمہارے لیے واضح ہوئی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصویر ہے ہم نے کہا واضح ہوگئی گویا ہم ان کی طرف زندگی میں دیکھ رہے ہیں کچھ دیر روک گیا اس کے بعد دو آدمی کے ہمارے کھڑا ہوا پھر بیٹھ گیا کافی دیر تک بیٹھا رہا پھر ہمارے چہروں کو دیکھا پھر کہا یہ آخری گھر ہے لیکن میں نے جلدی تاکہ انھوں تمہاری رائے معلوم کروں اس کو لوٹا دیا پھر بعد ایک اور دروازہ کھولا اس سے میز ریشم کا ٹکڑا نکالا اس میں ایک شخص کی تصویر تھی جو گنگریالے بھالوں والے تھے آنکھیں گہر تیز نگاہ والے مبلا کپڑے اور تربتہ دانت مسکرائے ہوئے ہونٹ والے گویا کہ دیہاتی آدمی ہے پوچھا جانتے ہو یہ کون ہے ؟ ہم نے کہا بتایا یہ موسیٰ (علیہ السلام) سب ان کے برابر میں ایک تصویر جو مردوں کے مشابہ ہے گول سروالے چوڑی پیشانی آنکھوں میں سیاہی غلاب پوچھا جانتے ہو یہ کون ہیں ؟ ہم نے کہا نہیں بتایا یہ ہارون (علیہ السلام) میں اس کو اپنے جگہ لوٹا دیا اس کے بعد ایک اور دروازہ کھولا اس میں سے ایک سبز ریشم کا ٹکڑا نکالا اس کو پھیلایا اس میں ایک سفید تصویر تھی اس میں ایک شخص عورتوں کے مشابہ دوسربن روپنڈلی والے پوچھا جانتے ہوں یہ کون ہیں ہم نے کہا یہ بتایا یہ داؤد (علیہ السلام) میں پھر اس کو اپنی جگہ لوٹا دیا پھر ایک اور دروازہ کھولا اس میں سے سبز رنگ کے ریشم کا ٹکڑا نکالا اس کو پھیلا یا اس میں ایک سفید تصویر تھی اس میں ایک شخص سب بیٹھ مختصر ٹانگیں قدرے لمبے ایک گھوڑے پر اس کی ہرچیز کے باڑو تھے پوچھا جانتے ہو یہ کون ہیں ؟ ہم نے کہا نہیں بتایا یہ سلمان (علیہ السلام) ہیں یہ وان کو اٹھارہی ہے پھر اس کو اپنی جگہ لوٹا دیا اور ایک اور دروازہ کھولا اس میں سے سبز ریشم کا ٹکڑا نکالا اس کو پھیلا یا اس میں ایک سفید صورت بھی اس میں ایک جوان خوبصورت چہرے والا حسین آنکھوں سیاہ ڈاڑھی جو ایک دوسرے کے سایہ میں پوچھا جانتے ہو یہ کون ہیں ؟ ہم نے کہا انھیں بتایا عیسیٰ بن مریم میں اس کو اپنی جگہ لوٹا دیا اور چوتھے کو بند کردیا ہم نے کہا ان تصویروں کی حالت بتاؤ یہ کیا میں کیونکہ ہم جانتے ہیں یہ صورتیں ان کے مشابہ ہیں جنکی صورت تو نے بنائی ہے کیونکہ ہم نے اپنے نبی کو دیکھا ہے اسی کے مشابہ میں جو صوت تم نے بنائی ہے تو بتایا کہ آدم علیہ اسلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ تمام انبیاء کی صورتیں ان کو دیکھا نے اللہ تعالیٰ نے ان پر صورتیں اتادیں ذوالقرنین نے ان کو نکالا ہے آدم (علیہ السلام) کے خزانہ سے جو کہ سورج غروب ہونے جگہ پر ہے دانیال (علیہ السلام) نے ان کی صورتیں بنائیں ریشم کے ٹکڑوں میں انہی صورتوں پر یہ بغینہ وہی ہیں اللہ کی قسم اگر میرا نفس اس بات پر خوش ہوتا کہ میں اپنی حکومت چھو وں میں تمہاری پیروی میں تمہارے دین کو قبول کرلیتا۔ اس نے ہمیں تحفہ دیا اور بڑا لیکن میرا نفس اس پر خوش نہیں ہے عمدہ تحفہ دیا اور ہمارے ساتھ بھیجا جو ہمیں امن کی جگہ تک پہنا دے ہم اپنے کجاواتک پہنچ گئے قاضی نے کہا ہمیں یہ ختہ رہ دوسرے طریق سے بھی لکھوائی گئی دونوں روایتوں کے مفہوم قریب قریب ہیں جب یہ خبر ہمیں سے طریق سے پہنچی ہے ہم نے اس کو یہاں لکھدی ہے یہ خبر متضمن ہے جو ہماری نبی کی تصدیق اور نبوت کی صحت پر دلدلت کرتی ہے بکثرت خبریں اور روایات ان میں کتب سابقہ کی تصدیق اور اللہ تعالیٰ کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تائنیدان معجزات کے ذریعہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک پر ظاہر فرمایا اسی طرح جو علامات جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے شاید ہیں۔ (ابن عساکر)
35560- المعافى بن زكريا القاضي حدثنا الحسن بن علي بن زكريا العدوي أبو سعيد البصري حدثنا أحمد بن محمد المكي أبو بكرحدثنا محمد بن عبد الرحمن المديني عن محمد بن عبد الواحد الكوفي حدثنا محمد بن أبي بكر الأنصاري "عن عبادة بن الصامت وكان عقيبا بدريا نقيبا أنه قال: بعثني أبو بكر إلى ملك الروم يدعوه إلى الإسلام ويرغبه فيه ومعي عمرو بن العاص بن وائل السهمي وهشام بن العاص ابن وائل السهمي وعدي بن كعب ونعيم بن عبد الله النحام، فخرجنا حتى قدمنا على جبلة بن الأيهم دمشق، فأدخلنا على ملكهم بها الرومي فإذا هو على فرش له مع الأسقف، فأجلسنا وبعث إلينا رسوله وسألنا أن نكلمه، فقلنا: لا والله لا نكلمه برسول بيننا وبينه! فإن كان له في كلامنا حاجة فليقربنا منه، فأمر بسلم فوضع ونزل إلى فرش له في الأرض فقربنا فإذا هو عليه ثياب سود مسوح، فقال له هشام بن العاص بن وائل: ما هذه المسوح التي عليك؟ قال: لبستها ناذرا أن لا أنزعها حتى أخرجكم من الشام، فقلنا -: قال القاضي: وذكر كلاما خفي علي من كتابي معناه - بل نملك مجلسك وبعده ملككم الأعظم، فوالله لنأخذنه إن شاء الله! فإنه قد أخبرنا بذلك نبينا صلى الله عليه وسلم الصادق البار، قال: إذا أنتم السمراء، قال: قلنا: وما السمراء؟ قال: لستم بها، قلنا: ومن هم؟ قال: الذين يقومون الليل ويصومون النهار، قال فقلنا: نحن والله هم! قال فقال: وكيف صومكم وصلاتكم وحالكم؟ فوصفنا له أمرنا، فنظر إلى أصحابه وراطنهم وقال لنا: ارتفعوا، قال: ثم علا وجهه سواد حتى كأنه قطعة مسح من شدة سواده وبعث معنا رسلا إلى ملكهم الأعظم بالقسطنطينية، فخرجنا حتى انتهينا إلى مدينتهم ونحن على رواحلنا علينا العمائم والسيوف، فقال لنا الذين معنا: إن دوابكم هذه لا تدخل مدينة الملك، فإن شئتم فجئناكم ببراذين وبغال، قلنا: لا والله لا ندخلها إلا على رواحلنا! فبعثوا إليه يستأذنونه، فأرسل إليهم أن خلوا سبيلهم، ودخلنا على رواحلنا حتى انتهينا إلى غرفة مفتوحة الباب فإذا هو فيها جالس ينظر، قال: فأنخنا تحتها ثم قلنا: لا إله إلا الله والله أكبر، فيعلم الله لانتفضت حتى كأنها نخلة تصفقها الريح، فبعث إلينا رسولا أن هذا ليس لكم أن تجهروا بدينكم في بلادنا، وأمر بنا فأدخلنا عليه فإذا هو مع بطارقته، وإذا عليه ثياب حمر، فإذا فرشه وما حواليه أحمر، وإذا رجل فصيح بالعربية يكتب فأومأ إلينا فجلسنا ناحية، فقال لنا وهو يضحك: ما منعكم أن تحيوني بتحيتكم فيما بينكم؟ فقلنا: نرغب بها عنك، وأما تحيتك التي لا ترضى إلا بها فإنها لا تحل لنا أن نحييك بها، قال: وما تحيتكم فيما بينكم؟ قلنا: السلام، قال: فما كنتم تحيون به نبيكم؟ قلنا: بها، قال: فما كان تحيته هو؟ قلنا، بها، قال: فبم تحيون ملككم اليوم! قلنا: بها، قال: فبم يجيبكم؟ قلنا: بها، قال: فما كان نبيكم يرث منكم؟ قلنا: ما كان يرث إلا ذا قرابة، قال: وكذلك ملككم اليوم؟ قلنا؛ نعم، قال: فما أعظم كلامكم عندكم؟ قلنا: لا إله إلا الله - قال: فيعلم الله لانتفض حتى كأنه طير ذو ريش من حسن ثيابه، ثم فتح عينيه في وجوهنا،قال فقال: هذه الكلمة التي قلتموها حين نزلتم تحت غرفتي؟ قلنا: نعم، قال: كذلك إذا قلتموها في بيوتكم تنفضت لها سقوفكم؟ قلنا: والله ما رأيناها صنعت هذا قط إلا عندك وما ذاك إلا لأمر أراده الله تعالى، قال: ما أحسن الصدق! أما والله لوددت أني خرجت من نصف ما أملك وأنكم لا تقولونها على شيء إلا انتفض لها، قلنا: ولم ذاك؟ قال: ذاك أيسر لشأنها وأحرى أن لا تكون من النبوة وأن تكون من حيل ولد آدم، قال: فماذا تقولون إذا فتحتم المدائن والحصون؟ قلنا: نقول: لا إله إلا الله والله أكبر، قال: تقولون: لا إله إلا الله والله أكبر - ليس غيره شيء؟ قلنا: نعم، قال: تقولون الله أكبر هو أكبر من كل شيء؟ قلنا نعم، قال: فنظر إلى أصحابه فراطنهم! ثم أقبل علينا فقال: أتدرون ما قلت لهم؟ قلت: ما أشد اختلاطهم، فأمر لنا بمنزل وأجرى لنا نزلا، فأقمنا في منزلنا تأتينا ألطافه غدوة وعشية. ثم بعث إلينا فدخلنا عليه ليلا وحده ليس معه أحد، فاستعادنا الكلام فأعدناه عليه، ثم دعا بشيء كهيئة الربعة ضخمة مذهبة فوضعها بين يديه، ثم فتحها فإذا بها بيوت صغار وعليها أبواب، ففتح منها بيتا فاستخرج منها خرقة حرير سوداء فنشرها فإذا فيها صورة حمراء وإذا رجل ضخم العينين عظيم الأليتين لم ير مثل طول عنقه في مثل جسده أكثر الناس شعرا، فقال لنا: أتدرون من هذا؟ قلنا: لا قال: هذا آدم صلى الله عليه وسلم، ثم أعاده ففتح بيتا آخر فاستخرج منه خرقة حرير سوداء فنشرها فإذا بها صورة بيضاء وإذا رجل له شعر كثير كشعر القبط - قال القاضي: أراه قال - ضخم العينين بعيد ما بين المنكبين عظيم الهامة، فقال: أتدرون من هذا؟ قلنا لا، قال: هذا نوح صلى الله عليه وسلم، ثم أعادها في موضعها وفتح بيتا آخر فاستخرج منه خرقة حرير خضراء فإذا بها صورة شديدة البياض وإذا رجل حسن الوجه حسن العينين شارع الأنف سهل الخدين أشيب الرأس أبيض اللحية كأنه حي يتنفس، فقال: أتدرون من هذا؟ قلنا: لا، قال: هذا إبراهيم صلى الله عليه وسلم، ثم أعادها وفتح بيتا آخر فاستخرج منه خرقة حرير خضراء فإذا فيها صورة محمد صلى الله عليه وسلم، فقال: تدرون من هذا؟ قلنا: هذا محمد صلى الله عليه وسلم - وبكينا، فقال: بدينكم أنه محمد؟ قلنا: نعم، بديننا أنها صورته كأنما ننظر إليه حيا. قال: فاستخف حتى قام على رجليه قائما ثم جلس فأمسك طويلا فنظر في وجوهنا فقال: أما إنه كان آخر البيوت ولكني عجلته لأنظر ما عندكم، فأعاده وفتح بيتا آخر فاستخرج منه خرقة حرير خضراء فإذا فيها صورة رجل جعد أبيض قطط غائر العينين حديد النظر عابس متراكب الأسنان مقلص الشفة كأنه من رجال أهل البادية، فقال: تدرون من هذا؟ قلنا: لا، قال: هذا موسى، وإلى جانبه صورة شبيهة به رجل مدر الرأس عريض الجبين بعينيه قبل ، قال: تدرون من هذا؟ قلنا: لا، قال: هذا هارون، فأعادها وفتح بيتا آخر فاستخرج منه خرقة حرير خضراء فنشرها فإذا فيها صورة بيضاء وإذا رجل شبه المرأة ذو عجيزة وساقين، قال: تدرون من هذا؟ قلنا: لا، قال: داود، فأعادها وفتح بيتا آخر فاستخرج منه خرقة حرير خضراء فإذا فيها صورة بيضاء فإذا رجل أوقص قصير الظهر طويل الرجلين على فرس، لكل شيء منه جناح، قال: تدرون من هذا؟ قلنا: لا، قال: هذا سليمان وهذه الريح تحمله، ثم أعادها وفتح بيتا آخر فيه خرقة حرير خضراء فنشرها فإذا فيها صورة بيضاء وإذا رجل شاب حسن الوجه حسن العينين شديد سواد اللحية يشبه بعضه بعضا، فقال: أتدرون من هذا؟ قلنا: لا، قال: عيسى ابن مريم، فأعادها وأطبق الربعة. قال قلنا: أخبرنا عن قصة الصور ما حالها؟ فإنا نعلم أنها تشبه الذين صورت صورهم فإنا رأينا نبينا صلى الله عليه وسلم يشبه صورته، قال: أخبرت أن آدم سأل ربه أن يريه أنبياء بنيه، فأنزل عليه صورهم، فاستخرجها ذو القرنين من خزانة آدم في مغرب الشمس، فصورها لنا دانيال في خرق الحرير على تلك الصور، فهي هذه بعينها. أما والله لوددت أن نفسي طابت بالخروج من ملكي فتابعتكم على دينكم وأن أكون عبدا لأسوئكم ملكة! ولكن نفسي لا تطيب. فأجازنا فأحسن جوائزنا، وبعث معنا من يخرجنا إلى مأمننا، فانصرفنا إلى رحالنا. قال القاضي: قد كنا أملينا هذا الخبر من وجه آخر، ومعاني الخبرين متقاربة، ولما حضرنا هذا الخبر من هذا الطريق رسمناه ههنا وقد تضمن ما يدل على صدق نبينا وصحة نبوته على كثرة الأخبار والروايات فيه وشهادة الكتب السالفة مع تأييد الله عز وجل اسمه إياه بالمعجزات التي أظهرها على يده والأعلام الشاهدة له. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملک روم کو دعوت اسلام
35561 ۔۔۔ عباس بن مرداس سلمی سے روایت ہے کہ وہ اپنے اونٹوں میں تھے نصف النہار کے وقت ان کے سامنے سفید رنگ کا ایک شترمرغ ظاہر ہوا س پر ایک سواں میں جو دودھ کی طرح سفید لباس پہنچا ہواتھا کہ اے عباس بن مرداس تم نہیں دیکھتے ہو کہ آسمان اپنے حارسوں کو روک لیا ہے لڑائی سانس لے رہی ہے اور گھوڑوں نے اپنے ٹاٹ رکھ دیا اور دین نیکی تقوی کے ساتھ اترا ہے پیر کے دن منگل کی رات کو ناقہ قصوری کے مالک کے ساتھ میں گھبرا کر نکلا مجھے خوف زدہ کردیا اس چیز نے جو میں نے دیکھا اور سنا یہاں تک میں اپنے بت کے پس آیا ضمار کے نام سے موسوم تھا ہم اس کی عبادت کرتے تھے وہ اپنی پیٹ سے باتیں کرتا تھا میں اس کے گردے کی جگہ کی صفائی کی پھر اس پر ہاتھ اس کو بوسہ دیا تو اس کے پیٹ سے ایک آواز آئی۔ قل للقبائل من سلیم کلھا ۔ ھلک الضمار وفاز اھل المسجد ۔ ھلک الضمار وکان یعبد مرة . قیل الصلاة مع النبی محمد ۔ ان الذی بالقول ارسل واھھدی ۔ بعد ابن مریم من قریش مھتد ۔ ترجمہ :۔۔۔ نبی سلیم کے تمام قبائل سے کہہ دی کہ ضمار ہلاک ہوگیا اور اہل مسجد کامیاب ہوگیا ضمار ہلاک ہوگیا اور اس کی عبادت کی جاتی تھی کہا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز بھی جائے وہ شخص جس کو قول اور ہدایت دے کر بھیجا گیا ۔ ابن مریم کے بعد قریش سے ہدایت کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں۔ بتایا کہ میں گھر آکر نکلا یہاں قوم کے پاس آیا اور ان کو پورا قصہ سنایا اور پوری خبر بتائی تو میں اپنی قوم نبی حارثہ کے تین سو افراد کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا وہ مدینہ منورہ میں تھے میں مسجد میں داخل ہواجب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھا مجھ سے بہت خوش ہوا اور پوچھا عباس تمہارے اسلام قبول کرنے کا واقعہ کیا پیش آیا میں نے پورا قصبہ بیان کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے خوش ہوئے اور فرمایا کہ تم نے سچ بولا میں اور میری اسلام میں داخل ہوئے ۔ (الخرائطی فی الھواتف ابن عساکر اور اس کی سندضعیف ہے)
35561- عن العباس بن مرداس السلمي أنه كان في لقاح له نصف النهار إذ طلعت عليه نعامة بيضاء عليها راكب عليه ثياب بيض مثل اللبن فقال: يا عباس بن مرداس! ألم تر أن السماء كفت أحراسها، وأن الحرب تجرعت أنفاسها، وأن الخيل وضعت أحلاسها وأن الدين نزل بالبر والتقوى يوم الاثنين ليلة الثلاثاء مع صاحب الناقة القصوى، قال: فخرجت مذعورا قد راعني ما رأيت وسمعت حتى أتيت وثنا لي يدعى بالضمار وكنا نعبده ويكلم من جوفه فكنست ما حوله، ثم تمسحت به وقبلته وإذا صائح يصيح من جوفه:

قل للقبائل من سليم كلها ... هلك الضمار وفاز أهل المسجد

هلك الضمار وكان يعبد مرة ... قيل الصلاة مع النبي محمد

إن الذي بالقول أرسل والهدى ... بعد ابن مريم من قريش مهتد

قال: فخرجت مذعورا حتى جئت قومي فقصصت عليهم القصة وأخبرتهم الخبر، فخرجت في ثلاثمائة من قومي من بني حارثة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بالمدينة فدخلت المسجد، فلما رآني النبي صلى الله عليه وسلم فرح بي وقال: "يا عباس كيف كان إسلامك"؟ فقصصت عليه القصة، فسر بذلك وقال: "صدقت"، فأسلمت أنا وقومي. "الخرائطي في الهواتف، كر، وسنده ضعيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملک روم کو دعوت اسلام
35562 ۔۔۔ (مسند ایمن بن خریم) میں ہے ابوبکر بن عباس سے روایت ہے کہ مجھ سے حدیث بیان کی سفیان بن زیادہ اسدی نے ایمن بن خریم اسدی سے کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ایمن تمہاری قوم عرب میں سب سے پہلے ہلاک ہوگی۔ (الحسن بن سفیان ابن مندہ ابن عساکر ابن عساکر نے کہا کہ سفیان بن زیادہ نے ایمن سے نہیں سنا ابوبکر بن عباس معنی میں کہا صدوق امام اس کو محمد بن عبداللہ بن غیر اور یحییٰ القطا نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن معین نے کہا ثقہ ہے۔
35562- "مسند أيمن بن خريم" عن أبي بكر بن عياش قال حدثني سفيان بن زياد الأسدي عن أيمن بن خريم الأسدي قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أيمن! إن قومك أسرع العرب هلاكا "."الحسن بن سفيان وابن منده، كر، قال كر: سفيان بن زياد لم يسمع من أيمن، وأبو بكر بن عياش - قال في المغني: صدوق امام ضعفه محمد بن عبد الله بن نمير ويحيى القطان، وقال ابن معين: ثقة".
tahqiq

তাহকীক: