কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৫৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولادت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
35523 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت پیر کے دن ہوئی وفات بھی پیروی کے ہوئی اور منگل کی رات کو دفن کیا گیا۔ (رواہ ابن عساکر)
35523- عن ابن عباس قال: ولد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الاثنين، ومات يوم الاثنين، ودفن ليلة الثلاثاء. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولادت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
35524 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ربیع الاول کے مہینے میں پیر کے دن پیدا ہوا اور ربیع الاول کے مہینہ میں پیر کے دن ہجرت فرمائی اور ربیع الاول کے مہینہ میں پیر کے دن وفات پائی ۔ (رواہ ابن عساکر)
35524- عن ابن عباس قال: ولد النبي صلى الله عليه وسلم يوم الاثنين في ربيع الأول، وهاجر إلى المدينة يوم الاثنين في ربيع الأول، وتوفي يوم الاثنين في ربيع الأول. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولادت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
35525 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عام الفیل میں پیدا ہوا۔ (رواہ ابن عساکر )
35525- عن ابن عباس قال: ولد رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفيل. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولادت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
35526 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ بنو عبدالمطلب پر ا گندہ صورت میں پیدا ہوئے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صاف ستھرے سر پر تیل لگائے ہوئے حالت میں پیدا ہوئے ۔ (رواہ ابن عساکر)
35526- عن ابن عباس قال: كان بنو عبد المطلب يصبحون غمصا رمصا ويصبح محمد صلى الله عليه وسلم صقيلا دهينا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولادت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
35527 ۔۔۔ ابوعمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مختون اور مسرور پیدا ہوئے ۔ (رواہ ابن عساکر)
35527- عن أبي عمر قال: ولد النبي صلى الله عليه وسلم مسرورا مختونا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدء الوحی ۔۔۔ وحی کی ابتداء
35528 ۔۔۔ جابر (رض) سے روایت ہے کہ وحی روک لی گئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ابتداء میں تو تنہائی آپ کے لیے محبوب بنادی گئی وہ تنہائے کے اوقات غار حراء میں گذرتے تھے اس دوران کے وہ حراء سے آرہے تھے تو فرمایا کہ میں نے اچانک اوپر کی جانب سے آواز محسوس کی میں نے سر اوپر اٹھایا تو مجھے کرسی پر بیٹھی ہوئی شخصیت نظر آئی جب میں نے ان کی طرف تو خوف کے مارے میں زمین کی طرف جھک گیا اور تیزی کے ساتھ گھر پہنچ گیا ور میں نے کہا چادر ائد اور دچادر از ادو اور جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر یہ آیت تلاوت کی ۔ (رواہ ابن عساکر)
35528- عن جابر قال: احتبس الوحي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في أول أمره وحبب إليه الخلاء فجعل يخلو في حراء، فبينما هو مقبل من حراء قال: إذا أنا بحس فوقي! فرفعت رأسي فإذا أنا بشيء على كرسي! فلما رأيته جئثت إلى الأرض، فأتيت أهلي بسرعة فقلت: دثروني دثروني! فأتاني جبريل فجعل يقول: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} . "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدء الوحی ۔۔۔ وحی کی ابتداء
35529 ۔۔۔ جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حج کے موسم میں اپنے نفس کو قبائل یہ پیش فرماتے اور کہتے کہ کیا کوئی ایسا شخص نہیں جو مجھے اپنی قوم کے پاس لیجائے کیونکہ مجھے قریش نے روک دیا ہے اپنے رب کا کلام پہنچانے سے ان کے پاس ایک ہمدانی شخص آیا پوچھا آپ کہاں سے بتایا ہمدان سے پوچھا تمہاری قوم کے پاس حفاظتی قوت ہے بتایا ہاں وہ شخص چلا گیا پھر واپس آیا اس کو خوف لاحق پھر ا کہیں ایسانہ وہاں اس کی قوم اس کے عہد و پیمان کے لحاظ نہ کرے اس لیے کہ میں جاکر اپنی قوم کے سامنے بات رکھتا ہوں ایندہ سال بھر آپ کے پاس ہوں گا چنانچہ جلد گیا اس کے بعد انصار کے وفود آئے رجب مین۔ (ابن ابی شیبة)
35529- عن جابر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرض نفسه على الناس بالموقف يقول: ألا رجل يعرضني على قومه؟ فإن قريشا قد منعوني أن أبلغ كلام ربي، فأتاه رجل من همدان، فقال: وممن أنت؟ قال: من همدان، قال: وعند قومك منعة؟ قال: نعم، فذهب الرجل ثم أنه خشي أن يخفره قومه فرجع إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: اذهب فأعرض على قومي وآتيك من قابل، ثم ذهب، وجاءت وفود الأنصار في رجب. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدء الوحی ۔۔۔ وحی کی ابتداء
35530 ۔۔۔ ہشام بن عروة اپنے والد سے وہ حارث بن ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی آواز سنائی دیتی ہے پھر بند ہوجاتی ہے آور اس میں جو بات کہی جاتی ہے یاد کرلیتا ہوں یہ حالت مجھ پر سخت ہوتی ہے کبھی ایک فرشتہ انسانی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور مجھ سے بات کرتا ہے آور میں اس کی باتوں کو یاد کرلیتا ہوں۔ (ابونعیم)
35530- عن هشام بن عروة عن أبيه عن الحارث بن هشام قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم: كيف يأتيك الوحي؟ قال: " أحيانا يأتيني مثل صلصلة الجرس فيفصم عني وقد وعيت ما قال وهو أشده علي، وأحيانا يأتيني الملك فيتمثل لي رجلا ويكلمني وأعي ما يقول". "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدء الوحی ۔۔۔ وحی کی ابتداء
35531 ۔۔۔ حسن سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی آئی جب کہ آپ کی عمر مبارک چالیس تھی مکہ مکرمہ میں دس سال مقیم رہے آور مدینہ منورہ میں دس سال ۔ (ابن ابی شیبة)
35531- عن الحسن قال: أنزل على النبي صلى الله عليه وسلم وهو ابن أربعين سنة، فمكث بمكة عشر سنين وبالمدينة عشر سنين. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدء الوحی ۔۔۔ وحی کی ابتداء
35532 ۔۔۔ ابوبکر (رض) سے روایت ہے کہ جبرائیل کی گفتگو تو سنائی دیتی تھی لیکن وہ نظر نہیں آتے تھے۔ ( ابن ابی داردفی المصاحف ابن عساکر)
35532- عن أبي بكر كان يسمع مناجاة جبريل للنبي صلى الله عليه وسلم ولا يراه. "ابن أبي داود في المصاحف، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدء الوحی ۔۔۔ وحی کی ابتداء
35533 ۔۔۔ مسند علی (رض) میں ہے کہ عبداللہ بن سلمہ علی بن ابی طالب یازبیر بن عوام سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطیبہ دیتے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا تذکرہ فرماتے حتی آپ کے چہرہ انور خوف کے آثار ظاہر ہوئے گویا کہ اس قوم کا تذکرہ ہورہا ہے جن پر صبح کے وقت یا شام کے وقت ہی عذاب آیا جبرائیل (علیہ السلام) ملاقات کے بعد قریب کے وقت میں ہنستے ہوئے تبسم نہ فرماتے آہستہ آہستہ حالت رفع ہوجاتی ۔ (ابن ابی الفوارس)
35533- "مسند علي" عن عبد الله بن سلمة عن علي بن أبي طالب أو الزبير بن العوام قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطبنا فيذكرنا بأيام الله حتى يعرف ذلك في وجهه كأنما يذكر قوما يصبحهم الأمر غدوة أو عشية، فكان إذا كان حديث عهد بجبريل لم يتبسم ضاحكا حتى يرتفع عنه. "ابن أبي الفوارس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدء الوحی ۔۔۔ وحی کی ابتداء
35534 ۔۔۔ (مسند الزیر) میں ہے کہ عبداللہ بن سلمہ زبیر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں خطبہ دیا کرتے تھے اور ہمیں نصیحت فرماتے تھے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا دن یاد لاکر اس کے آثار آپ کے چہرہ پر بھی ظاہر ہوتا تھا گویا کہ کوئی شخص خوف زدہ ہے کہ صبح کے وقت عذاب آنے والا ہے اور جب جبرائیل سے نئی نئی ملاقات ہوتی تو ہنستے ہوئے تیم نہیں فرماتے یہاں تک وہ حالت رفع ہوجاتی ابونعیم نے روایت کی اور کہا حجاج میں نصر نے اس حدیث میں متابعت کی ہے اس کی سند میں وھب بن جریر ہے پس کہا علی (رض) سے یا زبیر (رض) سے اس کو اسحاق بن راھویہ نے اپنی مسند میں سک کے ساتھ روایت کی ہے اس کو روایت کی ہے اس کو روایت کی حجاج بن نصیر نے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا بغیر شک کے کہا اذہ عبداللہ بن سلمہ نے اگر علی وسعد وابن مسعود کی (رض) کی صحبت اختیار کی ہو تو وہ مرادی جملی ہے انتہی)
35534- "مسند الزبير" عن عبد بن سلمة عن الزبير قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطبنا فيذكرنا بأيام الله حتى يعرف ذلك في وجهه كأنه رجل يتخوف أن يصبحهم الأمر غدوة، وكان إذا كان حديث عهد بجبريل لم يتبسم ضاحكا حتى يرتفع عنه. "أبو نعيم وقال: هذا الحديث تابع حجاج بن نصير فيه وهب بن جرير فقال: عن علي أو الزبير، رواه عن إسحاق بن راهويه في مسنده على الشك، ورواه حجاج بن نصير على ما ذكرنا بغير شك، قال: وعبد الله بن سلمة إن كان صاحب علي وسعد وابن مسعود فهو المرادي الجملي - انتهى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدء الوحی ۔۔۔ وحی کی ابتداء
35535 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جبرائیل آیا اس حال میں کہ آپ بچوں کے ساتھ کھیل کر رہے تھے آپ کو پکڑا اور سینہ مبارک کو شق کرکے سیاہ لوتھڑا نکالا اور کہا یہ شیطان کا حصہ ہے پھر اس کو سونے کے برتن میں رکھ کر زمزم کے پانی کے ساتھ زخم کو دھویا بھر اپنی جگہ لوٹا دیا اور بچے دوڑتے ہوئے اپنی ماں کے پاس آئے یعنی دائبہ کی پاس اور کہا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کردیا گیا وہ دوڑتے ہوئی گئے آپ کا رنگ اڑ چکا تھا ان کو کہتے ہیں میں اس سینے کے نشانات آپ کے سینہ مبارک پر دیکھتا تھا۔ (ابن ابی شیبة مسلم)
35535- عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتاه جبريل وهو يلعب مع الغلمان، فأخذه فصرعه فشق قلبه فاستخرج منه علقة فقال: هذا حظ الشيطان منك، ثم غسله في طست من ذهب بماء زمزم لأمه! ثم أعاده في مكانه، وجاء الغلمان يسعون إلى أمه - يعني ظئره - فقالوا: إن محمدا قد قتل، فاستقبلوه وهو منتقع اللون. قال أنس: وقد كنت أرى أثر ذلك المخيط في صدره. "ش، م".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدء الوحی ۔۔۔ وحی کی ابتداء
35536 ۔۔۔ (ایضاء ) نماز مکہ مکرمہ میں فرض ہوئی کہ دو فرشتے آپ کے پاس آئے اور آپ کو اٹھا کر زمزم کے پاس لے گئے پیٹ چاک کرکے اندر کے چیزوں کو سونے کے برتن میں نکالا پھر اس کو زمزم کے پانی سے دھویا بھر آپ کے سینہ مبارک میں علم و حکمت بھردیا۔ (نسائی ابن عساکر)
35536- "أيضا" إن الصلاة فرضت بمكة، وإن ملكين أتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم فذهبا به إلى زمزم فشقا بطنه فأخرجا حشوته في طست من ذهب فغسلاه بماء زمزم ثم كبسا جوفه - وفي لفظ: ثم حشيا جوفه - حكمة وعلما. "ن، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدء الوحی ۔۔۔ وحی کی ابتداء
35537 ۔۔۔ مسند انیس بن جنادہ القعدی میں ہے کہ ابی ذراء (رض) سے روای ہے کہ میرا ایک بھائی تھا اس کو انبس کہا جاتا تھا وہ شاعر تھا وہ اور ایک دوسرا شاعر سفر پر نکلے مکہ مکرمہ پہنچے اس کے بعد انیس واپس چلا گیا اور کہا اے بھائی میں نے مکہ میں ایک شخص دیکھا ان کا دعوی یہ ہے کہ وہ نبی ہیں اور وہ آپ کے دین پر ہیں۔ (حسن بن سفیان ابونعیم ٠
35537- "مسند أنيس بن جنادة العقدي" عن أبي ذر قال: كان لي أخ يقال له أنيس وكان شاعرا فسافر هو وشاعر آخر فأتيا مكة فرجع أنيس فقال: يا أخي! رأيت بمكة رجلا يزعم أنه نبي وأنه على دينك. "الحسن بن سفيان وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبرہ علی ذی المشرکین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مشرکین کی ایذاء پر صبر کرنا
35538 ۔۔۔ مسند طارق بن عبداللہ المجاری طارق بن عبداللہ المجاری طارق الحاربی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سوق ذی المجاز میں دیکھا وہاں سے گذرے آپ کے جسم پر ایک سرخ رنگ کا جبہ تھا وہ بلند آواز سے پکار رہے تھے یایھا الناس قولو الا الہ الا اللہ تفلحون اے لوگو کلمہ الا الہ الا اللہ کا افرار کرو کامیابی حاصل ہوگی اور ایک شخص پتھر لے کر آپ کا پیچھا کررہا تھا اور آپ کے پاؤں مبارک کو لہولہان کردیا اور کہہ رہا تھا لوگوں ان کی بات مت سنو کیونکہ یہ جھوٹا ہے میں نے پوچھایہ کون ہے لوگوں نے بتایا قریشی نوجوان عبدالمطلب کا بیٹا ہے میں نے پوچھا پیچھے سے پتھراؤ کرنے والا کون ؟ لوگوں نے بتایا یہ اس کا چچا عبدالعری وہ ابولھب ہے۔ (ابن ابی شیبة)
35538- "مسند طارق بن عبد الله المحاربي" عن طارق المحاربي قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بسوق ذي المجاز فمر وعليه جبة له حمراء وهو ينادي بأعلى صوته: " يا أيها الناس! قولوا: لا إله إلا الله - تفلحوا"، ورجل يتبعه بالحجارة وقد أدمى كعبيه وعرقوبيه وهو يقول: يا أيها الناس! لا تطيعوه فإنه كذاب؛ قلت: من هذا؟ قالوا: غلام من بني عبد المطلب، قلت: فمن هذا يتبعه يرميه؟ قالوا: هذا عمه عبد العزى - وهو أبو لهب. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبرہ علی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذی المشرکین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مشرکین کی ایذاء پر صبر کرنا
35539 ۔۔۔ حارث بن حارث غامدی سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا اس حال میں کہ ہم منی میں تھے یہ کونسی جماعت ہے ؟ بتایا یہ قوم ایک صابی کے گردجمع ہوئی ہے وہ ہمارے سامنے آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو توحید کی دعوت دیے رہے تھے اور اللہ پر ایمان کی اور لوگ آپ دعوت کو ٹکڑا رہے تھے اور آپ کو ایذاء پہنچا رہے تھے یہاں تک دن بلند ہوگیا اور لوگ ہٹ گئے ایک عورت آئی حلق ظاہر تھا اور رو رہی تھی اور ایک پیالہ افھاکر یا جس میں پانی اور رومال تھا وہ پانی اس سے لے لیا کچھ پیا اور وضوء فرمایا بھر اس کی طرف سر اٹھایا اور فرمایا اے بیٹی اپنے خطق کو ڈھانپ لے اور اپنے والد پر خوب کا غلبہ مت کرو نہ ذلت کا میں نے کہا یہ کون ہے ؟ بتایا یہ زبنت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی میں (بکاری نے اپنی تاریخ میں طبرانی اور ابونعیم نے ابن عساکر نے اور ابوزر عہ مشقی نے کہا یہ حدیث صحیح ہے)
35539- عن الحارث بن الحارث الغامدي قال: قلت لأبي ونحن بمنى: ما هذه الجماعة! قال: هؤلاء قوم اجتمعوا على صابئ لهم، فتشرفنا فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو الناس إلى توحيد الله والإيمان به وهم يردون عليه قوله ويؤذونه حتى ارتفع النهار وانصدع عنه الناس، وأقبلت امرأة قد بدا نحرها تبكي تحمل قدحا فيه ماء ومنديلا، فتناوله منها فشرب وتوضأ ثم رفع رأسه إليها فقال: " يا بنية! خمري عليك نحرك ولا تخافي على أبيك غلبة ولا ذلا"، فقلنا: من هذه؟ قالوا: هذه زينب ابنته. "خ في تاريخه، طب وأبو نعيم، كر، وقال أبو زرعة الدمشقي: هذا حديث صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبرہ علی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذی المشرکین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مشرکین کی ایذاء پر صبر کرنا
35540 ۔۔۔ ولید بن عبدالرحمن جرشی مددک بن حارث غامدی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کے ساتھ حج کیا جب ہم منی میں تھے تو دیکھا ایک جماعت ایک شخص کے پیچھے ہیں میں نی پوچھا ابوجان یہ کون سی جماعت ہے ؟ بتایا یہ وہ شخص میں جس نے اپنے اباءی دین کو چھوڑ کر صابی ہوگیا پھر میرے والد بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا اپنی اونٹنی پر میں بھی جاکر ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا اپنی اونٹنی پر تو دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بات کرتے تھے وہ مدد کرتے تھے میرے باپ برابر اس جگہ کھڑے رہے یہاں تک وہ لوگ وہاں سے ہٹ گئے اکناہٹ اور سورج بلند ہونے کی وجہ سے ایک لڑکی آئی اس کے ہاتھ میں پانی کاپیالہ تھا اور اس کا گلاکھولا ہوا تھا لوگوں نے بتایا یہ ان کی بیٹی زینب ہے وہ پانی کا پیالہ آپ کو دیدیا اور وہ رو رہی تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے گلے کو ڈھانپ لے بیٹی اپنے والدپرغلبہ اور ذلت کا خوف مت کر۔ (رواہ ابن عساکر)
35540- عن الوليد بن عبد الرحمن الجرشي عن مدرك بن الحارث الغامدي قال: حججت مع أبي فلما كنا بمنى إذا جماعة على رجل! فقلت: يا أبة! ما هذه الجماعة؟ فقال: هذا الصابيء الذي ترك دين قومه، ثم ذهب أبي حتى وقف عليهم على ناقته، فذهبت أنا حتى وقفت عليهم على ناقتي، فإذا به يحدثهم وهم يردون عليه، فلم يزل موقف أبي حتى تفرقوا عن ملال وارتفاع من النهار، وأقبلت جارية في يدها قدح فيه ماء ونحرها مكشوف، فقالوا: هذه بنته زينب، فناولته وهي تبكي، فقال: "خمري عليك نحرك يا بنية!ولن تخافي على أبيك غلبة ولا ذلا". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبرہ علی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذی المشرکین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مشرکین کی ایذاء پر صبر کرنا
35541 ۔۔۔ منیب بن مدرک بن سنیب اپنے والد اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں میں نے رسول اللہ کو زمانہ جاہلیت میں دیکھا کہ وہ لوگوں سے کہہ رہے یایھالاناس قولو الا الہ الا اللہ تفلحون بعض آپ نے چہرے پر بھوکتابعض آپ پر مٹی ڈالتا بعض آپ کو گالی دیتا تو آپ لڑکی آئی پانی کا ایک پیالہ لے کر اور آپ کے ہاتھ اور چہرے کو دھویا اور فرمایا اے بیٹی صبر کر اپنے واول پر غم گین مت ہو غلبہ یاذلت کے خوف سے میں نے پوچھا یہ کون بتایا زینت بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے یہ لڑکی ہے پاکیزہ برگزیدہ ۔ (رواہ ابن عساکر)
35541- عن منيب بن مدرك بن منيب عن أبيه عن جده قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في الجاهلية وهو يقول: " يا أيها الناس! قولوا: لا إله إلا الله - تفلحوا"، فمنهم من تفل في وجهه، ومنهم من حثى عليه التراب، ومنهم من سبه، فأقبلت جارية بعس من ماء فغسل وجهه ويديه وقال: " يا بنية! اصبري ولا تحزني على أبيك غلبة ولا ذلا"، فقلت: من هذه؟ فقالوا: زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي جارية وصيفة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الخصائص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض مخصوص حالات
35542 ۔۔۔ (مسندعمر (رض) ) میں ہے کہ ابوالبختری سے روایت ہے کہ میں نے ایک شخص سے ایک حدیث سنی جو مجھے پسند آئی میں نے کہا مجھے لکھائے تو میرے پاس لکھ کر لایا کہا کہ عباس اور علی عمر (رض) کے پاس آئے دونوں ایک مسئلہ میں جھگڑ رہے تھے عمر (رض) کے پاس طلحہ اور زبیر سعد عبدالرحمن بن عوف (رض) تھے عمر (رض) نے ان سے فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتاہوں کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ نبی کا تمام ترکہ صدقہ ہے سوائے اس مال جو اپنے گھر والوں کو کھانے اور پہننے کے لیے دیدیا ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی سب نے کہا ہمیں پر حدیث معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے مال سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے بقیہ صدقہ کردیتے تھے۔ (ابوداؤد الطیالسی)
35542- "مسند عمر رضي الله عنه" عن أبي البختري قال: سمعت حديثا من رجل فأعجبني فقلت: أكتبه لي، فأتى به مكتوبا، قال: دخل العباس وعلي على عمر وهما يختصمان وعند عمر طلحة والزبير وسعد وعبد الرحمن بن عوف فقال لهم عمر: أنشدكم بالله، ألم تعلموا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن كل مال النبي صدقة إلا ما أطعمه أهله أو كساهم، إنا لا نورث؟ قالوا: بلى، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينفق من ماله على أهله ويتصدق بفضله. "ط".
tahqiq

তাহকীক: