কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৫৫১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35503 ۔۔۔ قتادہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض غزوات میں فرمایا کہ انا النبی لاکذب یعنی میں جھوٹا نبی نہیں ہوں انا ابن عبدالمطلب میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں میں عوانک کا بیٹا ہوں (یعنی ایک دادی کا نام عاتکہ ہے) ابن عساکر ابن جری اور عبداللہ بن مسلم بن فتنیہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ان ابن العوانک من سلیم کے متعلق کہا ہے کہ وہ نبی سلیم کی تین عورتیں تھیں عاتکہ بنت ہلال جو عبدمناف کی ماں ہے عائ کہ بنت مرہ بن ہلال جو ہاشم بن عبدمناف کی ماں ہے عاتکہ بنت اوقص ابن عمرو بن حلال ام دھب جو امنہ کے والد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی والد عواتک میں سے پہلی درمیانی کی پھوپی ہے اور درمیان آخری کی پھوپی (ابن عساکر) ابو عبداللہ طالبی عدوی نے کہا کہ عوانک چودہ عورتیں ہیں تین قریشی چار سلیمی دوعدوانیہ ایک ھذلیہ ایک قحطانیہ ایک قضاعیہ ایک انقیفیہ یک اسدیہ جو خزیمہ کا اسد سے قریشیات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ماں کی طرف سے امنہ بنت وھب ہے ان کی ماں ربط بنت عبدالفرری بن عثمان بن عبدالدار بن قصی اور ان کی ماں ام حبیب وہ عائ کہ بنت اسد بن عبدالعزی بن قصی ان کی ماں ابطہ بنت کعب بن تیم بن مرہ بن کعب ربط پہلی قریشی خاتون ہے جس نے سوق ذی المحاز میں کھال کا قبہ گاڑا ان کی ماں قلامہ بنت حذامہ بن جمح الخطب حضیا بھی کہا گیا ہے داؤد بن مسور مخزوی کہتے ہیں کہ خطباء کلام کے طریق پر ہے دوسرے لوگ خطیبا کہتے ہیں حظوة سے ماخوذ کرکے ان کی ماں امنہ بنت عامر جان بن ملکان بن اقصی بن حارثہ بن خذاعہ اور عامر جان کو عامر بن غبثان قبیلہ خذاعہ کا بھی کہا گیا ہے ان کی ماں عاتکہ بنت ہلال بن اھیب بن ضبہ بن حارث بن فہر اور اھیب کی ماں ضبہ بن حارث بن فہر مخشیہ بہت لحارب بن فہران کی ماں عاتکہ بنت مخلد بن نضر بن کنانہ وہ تیری ہے آور سلیمات مہ یمدا ہوئیں ہاشم بن عبدمناف بن قصی کی طرف سے اور وھب بن عبدمناف بن زھرہ ام ھاشمہ بن عبدامناف عاتکہ بنت مرہ بن حلال بن فالج بن ذکوان مرة بن فالج بن زکوان کی ماں عاتکہ بنت مرہ بن عدی بن اسلم بن اقصی خزاعہ سے اور کہا گیا مرہ بن ہلال بن فالج بن ذکو ان کی ماں کو عاتہ بنت جابر بن قنفد بن مالک بن ہوف بن امراء القیس بنی سلیم سے یہ دوسری عاتکہ ہے اور ام ہلال بن فالج بن ذکوان عاتکہ بنت الحارث بن بہثہ بن سلیم بن منصور اور ام وھب بن عبدمناف بن زھرة عاتکہ بنت اور قص بن ہلال بن فالج ابن ذکوان یہ عوانک سلمیات ہیں اور عدوانیات بجیاں ہیں باپ کی طرف سے مالک بن نضر اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے باپ کی طرف سے عبداللہ بن عبدالمطلب وہ ساتویں ہیں ماں کی طرف سے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ پانچویں ہیں عاتکہ بنت عبداللہ بن ضراب بن حارث جدیہ عدوانی اور جس نے کہا ساتویں میں وہ عاکتہ بنت عامر بن ظترب بن عمرو بن عاء د بن لشکر العدوانی وہ ماں ہے ہند بنت مالک بن کنانہ الفہمی قیس بن غیلان بنت مالک فاطمہ بنت عبداللہ بن طرب بن حارث بن واثلہ عدوانی اور فاطمہ ام سلمہ بنت عامر بن عمیرہ اور سلمی ام تخم بنت عبدبن قصی اور تجم ام صحرہ بنت عبداللہ بن عمران اور صحرہ ام فاطمہ بنت عمرہ بن عائذ بن عمران بن مخزوم اور فاطمہ بنت عمروابن عائذ بن عمران بن مخزوم ام عبداللہ بن عبدالمطلب اور مالک بن نضر بن کناز کی طرف سے مالک بن نضر کی ماں عاتکہ بنت عمرو بن عدوان بن عمرو بن قیس بن عیلان اور عاتکہ ھذلبہ اس کی ولادت ھاسم بن عبدمناف کی طرف ہاشم کی مآں عاتکہ بنت مرہ بن ہلال بن فالج اس کی ماں ماریہ بنت حرزہ بن عمرو بنصعصبعہ بن بکربن ھوازن اور ام معاویہ بن بکر بن ھوازن اور ام معاویہ بن بکر بن ھوازن عاتکہ بنت سعدبن سہل بن ھذیل ابن فہر ھذیلیہ عاتکہ اسد یہ اس کی ولادت ہوتی کلاب بن مرہ کی طرف سے وہ تیسری ہے اور اس کی ماں میں سے ہیں وہ عاتکہ بنت دوان بن اسد بن خزیمہ عاتکہ ثقفیہ وہ عاتکہ بنت عمرو بن سعدبن اسلم بن عوف ثقفی وہ ماں ہے عبدالعزی بن عثمان بن عبدالدار بن قصی اور عبدالعزی دادا ہے امنہ بنت وھب کا اور امنہ بنت وھب کی ماں بروہ بنت عبدالضری بن عثمان بن عبدالداربن قصی اور عاتکہ قطحانیہ اس کی دلددت ہوئی ہے غالب بن فہر سے ام غالب بن فہر لیلی بنت سعد ان بن ھذیل ہے اور ان کی ماں سلمی بنت طانجہ بن الیاس بن مضر اور سلمی کی مآں عاتکہ بنت اسد بن غوث اور یہ عاتکہ نضر کی ماؤں میں تیسری ہیں اور عاتکہ قضاعیہ اس کی دلدن ہوگی کعب بن لوی کی طرف سے وہ تیسری ان کی ماؤن میں سے وہ عاتکہ بنت اشدان ابن قیس بن تہبہ بن زید بن سود بن اسلم بن قضآ عدامام احمدرحمتہ اللہ علیہ نے کہا یہ ساری باتیں بعض طالیس نے مجھے بتلایا ہے اور اس کو عبداللہ عدوی سے میرے لیے روایت کی ہے۔
35503- عن قتادة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في بعض مغازيه: " أنا النبي لا كذب، أنا ابن عبد المطلب، أنا ابن العوانك". "كر" فقال إبراهيم الحربي وعبد الله بن مسلم بن قتيبة: قول النبي صلى الله عليه وسلم: أنا ابن العواتك من سليم، هن ثلاثة نسوة من سليم: عاتكة بنت هلال أم عبد مناف، وعاتكة بنت مرة بن هلال أم هاشم بن عبد مناف، وعاتكة بنت الأوقص ابن مرة بن هلال أم وهب أبي آمنة أم النبي صلى الله عليه وسلم. فالأولى من العواتك عمة الوسطى، والوسطى عمة الأخرى "كر" وقال أبو عبد الله الطالبي العدوي: العواتك أربع عشرة: ثلاث قرشيات، وأربع سلميات، وعدوانيتان، وهذلية، وقحطانية، وقضاعية، وثقفية، وأسدية أسد خزيمة، فالقرشيات من قبل أمه آمنة بنت وهب، وأمها ريطة بنت عبد العزي بن عثمان بن عبد الدار بن قصى، وأمها أم حبيب وهي عاتكة بنت أسد بن عبد العزى بن قصى، وأمها ريطة بنت كعب بن تيم ابن مرة بن كعب، وكانت ريطة أول امرأة من قريش ضربت قباب الأدم بذي المجاز، وأمها قلابة بنت حذافة بن جمح الخطباء، ويقال: الحظياء، وكان داود بن مسور المخزومي يقول: الخطباء - من طريق الكلام، وغيره يقول: الحظياء - من طريق الحظوة، وأمها آمنة بنت عامر الجان بن ملكان بن أفصى بن حارثة بن خزاعة، ويقال لعامر الجان هو عامر بن غبشان من خزاعة: وأمه عاتكة بنت الهلال بن أهيب بن ضبة بن الحارث بن فهر، وأم أهيب بن ضبة بن الحارث بن فهر مخشية بنت محارب بن فهر، وأمها عاتكة بنت مخلد بن النضر بن كنانة وهي الثالثة، وأما السلميات فولدنه من قبل هاشم بن عبد مناف ابن قصى، ومن قبل وهب بن عبد مناف بن زهرة أم هاشم بن عبد مناف عاتكة بنت مرة بن هلال بن فالج بن ذكوان، وأم مرة بن هلال بن فالج بن ذكوان عاتكة بنت مرة بن عدي بن أسلم بن أفصى من خزاعة، ويقال: إن أم مرة بن هلال بن فالج بن ذكوان هي عاتكة بنت جابر بن قنفذ بن مالك بن عوف بن امرئ القيس من سليم وهي البانية، وأم هلال بن فالج بن ذكوان عاتكة بنت الحارث بن بهثة بن سليم بن منصور، وأم وهب بن عبد مناف بن زهرة عاتكة بنت الأوقص بن هلال بن فالج ابن ذكوان، فهؤلاء العواتك السلميات. وأما العدوانيتان فولدتاه من قبل أبيه ومن قبل مالك بن النضر، فأما التي ولدته من قبل أبيه عبد الله بن عبد المطلب وهي السابعة من أمهاته، ويقال: إنها الخامسة، فهي عاتكة بنت عبد الله ابن ظرب بن الحارث بن جديلة العدواني، ومن قال: إنها السابعة؛ فهي عاتكة بنت عامر بن ظرب بن عمرو بن عائد بن يشكر العدواني وهي أم هند بنت مالك بن كنانة الفهمي من قيس بن عيلان، وهند بنت مالك هي أم فاطمة بنت عبد الله بن ظرب بن الحارث بن وائلة العدواني، وفاطمة أم سلمى بنت عامر بن عميرة، وسلمى أم تخمر بنت عبد بن قصى، وتجمر أم صخرة بنت عبد الله بن عمران، وصخرة أم فاطمة بنت عمرو بن عائذ بن عمران بن مخزوم، وفاطمة بنت عمرو ابن غائذ بن عمران بن مخزوم أم عبد الله بن عبد المطلب، ومن قبل مالك بن النضر بن كنانة فأم مالك بن النضر عاتكة بنت عمرو بن عدوان بن عمرو بن قيس بن عيلان. وأما الهذلية فولدته من قبل هاشم بن عبد مناف وأم هاشم عاتكة بنت مرة بن هلال بن فالج، وأمها مارية بنت حرزة بن عمرو بن صعصعة بن بكر بن هوازن، وأم معاوية بن بكر بن هوازن عاتكة بنت سعد بن سهل بن هذيل ابن فهر الهذلية. وأما الأسدية فولدته من قبل كلاب بن مرة وهي الثالثة من أمهاته وهي عاتكة بنت دوان بن أسد بن خزيمة. وأما الثقفية فهي عاتكة بنت عمرو بن سعد بن أسلم بن عوف الثقفي، وهي أم عبد العزى بن عثمان بن عبد الدار بن قصي، وعبد العزى جد آمنة بنت وهب، وأم آمنة بنت وهب: برة بنت عبد العزى بن عثمان ابن عبد الدار بن قصي. وأما القحطانية فولدته من قبل غالب بن فهر أم غالب بن فهر ليلى بنت سعدان بن هذيل، وأمها سلمى بنت طابخة بن إلياس بن مضر، وأم سلمى عاتكة بنت الأسد بن الغوث، وعاتكة أيضا هي الثالثة من أمهات النضر. وأما القضاعية فولدته من قبل كعب بن لؤي، وهي الثالثة من أمهاته، وهي عاتكة بنت رشدان ابن قيس بن جهينة بن زيد بن سود بن أسلم بن الحاف بن قضاعة -قال أحمد: أخبرني بذلك كله بعض الطالبيين ورواه لي عن عبد الله العدوى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35504 ۔۔۔ سیالہ بنت عاصم سلمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ حنین کے دن کھڑے ہوئے اور فرمایا میں عواتک کا بیٹا ہوں (سعید بن منصور ابن مندہ بغوی نے نقل کر کرے کہا سیاریہ مجھے اس کے علاوہ اور کوئی حدیث معلوم نہیں ابن عساکر ابن النجار ۔ بعض نے روایت کی ہے کہ اور کہا کہ خبیر کے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا ابن عساکر نے کہا خیبر والی روایت غریب ہے محفوظ یوم حنین ہی ہے۔
35504- عن سيابة بن عاصم السلمى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم حنين: " أنا ابن العواتك". "ص وابن منده والبغوي وقال لا أعلم لسيابة غير هذا الحديث كر وابن النجار ورواه بعضهم فقال: يوم خيبر، وقال كر: وهو غريب، والمحفوظ: يوم حنين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعاؤں کا قبول ہونا
35505 ۔۔۔ مسند بلال بن ابی رباح میں ہے کہ محمد بن منکدرجابر سے وہ ابی بکر سے وہ بلال سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ایک سخت ٹھنڈی رات میں اذان کہی نماز کے لیے کوئی نہیں آیا پھر میں نے اعلان کیا کوئی نہیں آیا تین مرتبہ ایسا ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی وجہ پوچھا تو میں نے کہا سخت سردی نے ان کو روکا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی اے اللہ ان سے سردی کو روک لے یا فرمایا سردی کو دور فرمادے میں گواہی دیتاہوں کہ میں نے ان کو دیکھا کہ صبح کے وقت گرمی کی وجہ سے پنکھا چلا رہے تھے ۔ (ٕطبرانی ، ابونعیم)
35505- "مسند بلال بن أبي رباح" عن محمد بن المنكدر عن جابر عن أبي بكر عن بلال قال: أذنت في ليلة باردة فلم يأت أحد، ثم ناديت فلم يأت أحد - ثلاث مرات، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ما لهم"؟ فقلت: منعهم البرد، فقال: "اللهم احبس" - وفي لفظ: أذهب - عنهم البرد! فأشهد أني رأيتهم يتروحون في الصبح من الحر. "طب وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعاؤں کا قبول ہونا
35506 ۔۔۔ ھبار بن اسود سے روایت ہے کہ فرمایا بولھب اور ان کا بیٹا عتبیہ بن ابی کھب نے شام جانے کی تیاری کی میں بھی ان کے ساتھ تیار ہوگیا تو اس کے بیٹے عتیبہ نے کہا واللہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤنگا اور ان کو رب سبحان تعالیٰ کے بارے میں اذیت دونگا وہ گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ اور کہا اے محمد وہ انکار کرتا ہے اس ذات کی الذی دنا فتدلی فکان قاب قوسین اوادنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی۔یا اللہ اپنے کتوں میں سے کسی کو اس پر چھوڑ دے وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے جب اپنے باپ کے پاس پہنچا تو باپ نے کہا اے بیٹے تم نے محمد کیا کہا تو اس نے اپنی بات دہرائی بھر پوچھا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں کیا کہا اس نے بتایا یوں کہا ہے اے اللہ اس پر اپنے کتوں میں سے کسی کو مسلط فرمایا تو ابولھب نے کہا اے بیٹے میں تم پر ان کی دعا سے مالوں نہیں ہوں ہم شام کے لیے روانہ ہوئے مقام سراة میں نزول کیا وہ شیروں کے رہنے کی جگہ ہے ہم ایک راھب کے گرجے میں گئے راھب نے کہا اے عرب کی جماعت تم اس شہر میں کیسے اترگئے اس میں شیر اس طرح چرتے ہیں جس طرح بکریاں چرتی ہیں ابولھب نے کہا تم نے میرے بوڑھایا اور میرے حق کو پہنچانتے ہو ہم نے کہا ضرور اے ابولھب تو کہا اس شخص (یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے میرے بیٹے کے خلاف بددعا کی ہے اب میں اس کے متعلق مطمئن نہیں ہوں لہٰذا اپنا سامان اس گرجا میں جمع کرو میرے بیٹے کے لیے اس پر بستر بچھاؤ پھر تم اپنا بسر اس کے گردن بچھاؤ ہم نے ایسی ہی کیا اپنا سامان جمع کیا پھر اس کے لیے سامان پر بستر بچھا یا اور اپنے بستر اس کے گرد بچھایا ہم اس دوران کے ہم اس کے گرد تھے اور ابولھب بھی ہمارے ساتھ نیچی تھا وہ لڑکا خود سامان کے اوپر سو رہا تھا شیر آیا اور ہمارا چہروں کو سونگھا جو اس کو مطلوبہ چیز نہ ملی تو اس نے ایک جھلانگ لگایا اور وہ سامان کے اور تھا اس کا چہرہ سونگھا اور اس پر پنجہ مارا اس کے سر کو ٹکڑا کررہا ابولھب نے کہا مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بددعاء سے نہیں بچے گا ۔ (رواہ ابن عساکر)
35506- عن هبار بن الأسود قال: كان أبو لهب وابنه عتيبة ابن أبي لهب تجهزا إلى الشام فتجهزت معهما، فقال ابنه عتيبة: والله لأنطلقن إلى محمد ولأوذينه في ربه سبحانه وتعالى! فانطلق حتى أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد! هو يكفر بالذي دنا فتدلى فكان قاب قوسين أو أدنى، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "اللهم ابعث عليه كلبا من كلابك"! ثم انصرف عنه فرجع إلى أبيه، فقال: يا بني! ما قلت له! فذكر له ما قال له، ثم قال: فما قال لك؟ قال قال: اللهم سلط عليه كلبا من كلابك! فقال: والله يا بني! ما آمن عليك دعاءه، فسرنا حتى نزلنا السراة وهي مأسدة فنزلنا إلى صومعة راهب، فقال الراهب: يا معشر العرب! ما أنزلكم هذه البلاد؟ فإنما تسرح الأسد فيها كما تسرح الغنم، فقال لنا أبو لهب: إنكم عرفتم كبر سني وحقي، فقلنا؟ أجل، يا أبا لهب؟ فقال: إن هذا الرجل قد دعا على ابني دعوة والله ما آمنها عليه! فاجمعوا متاعكم إلى هذه الصومعة وافرشوا لابني عليها ثم افرشوا حولها، ففعلنا فجمعنا المتاع ثم فرشنا له عليه وفرشنا حوله فبينا نحن حوله وأبو لهب معنا أسفل وبات هو فوق المتاع، فجاء الأسد فشم وجوهنا فلما لم يجد ما يريد انقبض فوثب وثبة فإذا هو فوق المتاع! فشم وجهه ثم هزمه هزمة ففشخ رأسه؛ فقال أبو لهب: لقد عرفت أنه لا ينفلت من دعوة محمد. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ثرید وگوشت کاملنا
35507 ۔۔۔ واثلہ سے روایت ہے کہ میں اصحابہ صفہ میں سے تھا ایک انصاری شخص ہمیشہ میرے پاس آتا مجھے اور میرے ساتھی کو ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لیجاتا ایک وہ ہمارے پاس نہیں آیا میں نے اپنے ساتھی سے کہا اگر ہم صبح روزہ رکھ لیا توہم ہلاک ہوجائیں گے ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلتے ہیں ہوسکتا ہے وہاں کھانا مل جائے ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا کر بھوک کی شکایت کی اور یہ بتایا کہ ہمارے انصاف ساتھی جو ہر رات آنا تھا وہ نہیں آیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام ازواج مطہرات کے پاس بھیجا کھانا تلاش ہر جگہ سے یہی جواب آیا کہ یارسول اللہ شام کی وقت ہمارے پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دست مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور دعا اللھم انا نسلک من فضلک ورحمتک وانا الیک راغبون اے اللہ ہم آپ سے آپ کا فضل اور رحمت طلب کرتے ہم آپ ہی کی طرف رغبت رکھتے میں ابھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں ہاتھوں کو ملایا ہی نہ تھا کہ ایک انصاری صحابی کھانے کی ایک بڑی پلیٹ لے کر آپ کے سامنے کھڑا ہو اس میں ثرید اور گوشت تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اللہ کا فصل تمہارے لیے آیا ہے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اپنی رحمت کو واجب کرلیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
35507- عن واثلة قال: كنت من أصحاب الصفة وكان رجل من الأنصار لا يزال يأتيني فيأخذ بيدي ويد صاحب لي إلى منزله وإنه احتبس عنا ليلة من الليالي لم يأتنا، فقلت لصاحبي: إن أصبحنا غدا صياما هلكنا ولكن انطلق بنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم عسى نصيب عنده طعاما، فأتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فشكونا إليه حاجتنا إلى الطعام وأعلمناه أن صاحبنا الأنصاري الذي كان يأتينا كل ليلة لم يأتنا فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى نسائه امرأة امرأة، كل ذلك تقول: والله ما أمسى عندنا طعام يا رسول الله! فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه إلى السماء فقال؛ " اللهم! إنا نسألك من فضلك ورحمتك وإنا إليك راغبون "، فما ضم رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه إلا ورجل من الأنصار معه قصعة عظيمة فيها ثريد ولحم! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " هذا فضل الله قد أتاكم، وأنا أرجو أن يكون الله قد أوجب لكم رحمته ". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ثرید وگوشت کاملنا
35508 ۔۔۔ یزید بن نمران سے روایت ہے کہ میں نے ایک شخص کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھا ہوا دیکھا اس نے کہا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے گدھے پر سوار ہو کر گذرا آپ نماز پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا اے اللہ اس کے اثر کو ختم فرما دے چنانچہ آگے نہ چل سکا۔ (ابن ابی شیبة)
35508- عن يزيد بن نمران قال: رأيت رجلا مقعدا فقال: مررت بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم وأنا على حمار وهو يصلي، فقال: " اللهم اقطع أثره"! فما مشيت عليها. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ثرید وگوشت کاملنا
35509 ۔۔۔ عقیل بن ابی طالب سے روایت ہے کہ قریش ابی طالب کے پاس آیا اور کہا کہ تمہارا بھتیجا ہمیں ایذاء دیتا ہے مسجد میں مجالس میں اس کو ہمیں ایذاء پہنچانے سے روکیں تو ابوطالب نے کہا اے عقیل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرے پاس بلائیں میں جاکر بلا کر لایا تو پھر ابوطالب نے کہا اے میرے بھیجا آپ کے خاندان والوں کو خیال یہ ہے کہ آپ ان کو مجالس میں مسجد میں تکالیف پہنچاتے ہیں اس لیے ایذاء دینے سے باز رہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا تم اس سورج کو دیکھتے ہو لوگوں نے کہا ہاں تو فرمایا میں اس پر قادر نہیں ہوں کہ تمہارے وجہ سے دین کو چھوڑدوں اس کے عوض تم اس کا شعلہ مجھے لد کردو ابوطالب نے کہا میرے بھیجتا سچ کہتا ہے لہٰذا تم واپس چلے جاؤ۔ (ابویعلی و ابونعیم ابن عساکر)
35509- عن عقيل بن أبي طالب قال: جاءت قريش إلى أبي طالب فقالوا: إن ابن أخيك يؤذينا في نادينا وفي مسجدنا فانهه عن أذانا، فقال: يا عقيل! ائتني بمحمد، فذهبت فأتيته به، فقال: يا ابن أخي! إن بني عمك يزعمون أنك تؤذيهم في ناديهم وفي مسجدهم، فانته عن ذلك، قال: فلحظ رسول الله صلى الله عليه وسلم ببصره إلى السماء فقال: " أتراون هذه الشمس"؟ قالوا: نعم، قال: " ما أنا بأقدر على أن أدع لكم ذلك على أن تشتعلوا لي منها شعلة"، فقال أبو طالب: ما كذب ابن أخي فارجعوا. "ع وأبو نعيم، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسبہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نسب
35510 ۔۔۔ مسند عبداللہ بن عباس (رض) میں ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا نسب بیان فرماتے تومعدبن عدنان بن ادو سے آگے تجاوز نہ فرماتے ۔ (ابن سعد)
35510- "مسند عبد الله بن عباس" أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا انتسب لم يجاوز في نسبه معد بن عدنان بن أدد. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسبہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نسب
35511 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ جب نسب کے بیان میں معد بن عدنانا تک پہنچے تو روک جاتے اور فرماتے نسب بیان کرنے والوں نے جگوٹ بولا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے وقروتابین ذلک کثیرا اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے کا نسب معلوم کرنا چاہتے تو معلوم کرسکتے تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
35511- عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا انتهى إلى معد ابن عدنان أمسك وقال: "كذب النسابون"، قال الله تبارك وتعالى؟ {وَقُرُوناً بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيراً} ، قال ابن عباس: ولو شاء رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يعلمه لعلمه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسبہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نسب
35512 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک ابن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معدبن عد نان بن ادبن اددبن ہمسیع بن شجب بن بنت بن جمیل بن قیداء بن اسماعیل بن ابراہیم بن تاریخ بن ناجور بن اشو ع بن ارعوش بن قانع بن عامر وھوھودالنبی (علیہ السلام) ابن شلخ بن ارفخشدبن سام بن نوح بن لمک بن متو شلخ بن اخنوخ وہ ادریس (علیہا السلام) بن ازدبن قینان بن انوش بن شیث بن آدم (علیہ السلام) (الدیلمی اس روایت اسماعیل بن یحییٰ کذاب ہے)
35512- عن ابن عباس قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " أنا محمد بن عبد الله بن المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان بن أد بن أدد بن الهميسع بن يشحب بن بنت بن جميل بن قيدار بن إسماعيل بن إبراهيم بن تارح بن ناحور بن اشوع بن ارعوش بن فالغ بن عابر وهو هود النبي صلى الله عليه وسلم ابن شالخ بن أرفخشد بن سام بن نوح بن لمك بن متوشلخ بن أخنوخ وهو إدريس بن أزد بن قينان بن أنوش بن شيث بن آدم. " الديلمي؛ وفيه إسماعيل بن يحيى كذاب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسبہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نسب
35513 ۔۔۔ (ٕمسند الاشعث) اشعث میں قیس سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا کندہ کے ایک وفد کے ساتھ یارسول اللہ آپ کا یہ خیال ہے کہ آپ کا تعلق ہمارے قبیلہ ہے فرمایا ہاں ہم بنونضر بن کنانہ ہیں نہ اپنی ماں پر تہمت رکھتے ہیں نہ اپنے باپ کے نسب کا انکار کرتے ہیں۔ (ابوداؤد والطیالسی ابن سعد احمد والحارث والباوردی سمویہ ابن فانع طبرانی ابونعیم ضیاء مقدسی)
35513- "مسند الأشعث" عن الأشعث بن قيس قال: قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم في وفد من كندة فقلت: يا رسول الله! نزعم أنك منا، فقال: " نحن بنو النضر بن كنانة، لا نقفو أمنا ولا ننتفي من أبينا". "ط وابن سعد: حم، والحارث والباوردي وسمويه وابن قانع، طب وأبو نعيم، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابواء : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والدین
35514 ۔۔۔ بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے اور اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی ہزارزرہ یوسوں میں اس دن سے زیادہ روتے ہوئے آپ کو نہیں دیکھا گیا۔ (ٕبیہقی)
35514- عن بريدة أن النبي صلى الله عليه وسلم زار قبر أمه في ألف مقنع يوم الفتح، فما رئي باكيا أكثر من ذلك اليوم. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابواء : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والدین
35515 ۔۔۔ عبدالرحمن بن میمون اپنے والد سے روایت کرتا ہے میں نے زید بن ارقم سے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی والدہ کا کیا نام ہے بتایا آمنہ بنت وھب ۔ (رواہ ابن عساکر)
35515- عن عبد الرحمن بن ميمون عن أبيه قال: قلت لزيد ابن أرقم: ما كان اسم أم رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: آمنة بنت وهب. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابواء : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والدین
35516 ۔۔۔ مسند زید بن خطاب میں ہے کہ عبدالرحمن بن زید بن خطاب اپنے والد سے روایت کرتا ہے کہ ہم فتح مکہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قبرستان کی زیارت کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک قبر کے قریب بیٹھ گئے ہم نے دیکھا گویا کہ آپ کچھ سرگوشی فرما رہے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کھڑے ہوئے عمر (رض) نے آپ سے ملاقات کی وہ ہم میں سب سے پہلے ملاقات کرنے والے تھے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو کیا چیز آپ کو رولا رہی ہے فرمایا میں نے اللہ تعالیٰ سے اجازت مانگی کہ میں اپنی والدہ کی قبر زیارت کروں ان کا میرے اوپر حق ہے میں ان کے لیے استغفار کروں مجھے اس سے روک دیا گیا پھر ہماری طرف اشارہ فرمایا کہ بیٹھ جاؤ ہم بیٹھ گئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے تمہیں زیارت قبر سے روکا اب جو زیارت کرنا چاہے کرے اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت جمع رکھنے سے منع کیا تھا اب کھاؤ اور جتنے دن کے لیے چاہو ذخیرہ اندوزی کرو میں نے تمہیں چند برتنوں کے استعمال سے روکا تھا اور کچھ کا حکم دیا تھا اب ہر برتن میں نیند بناسکتے ہو کیونکہ برتن نہ تو کسی چیز کو حلال کرتا ہے نہ حرام ہر نشہ آور چیز کے استعمال سے پرہیز کرو۔ (رواہ ابن عساکر)
35516- "مسند زيد بن الخطاب" عن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب عن أبيه قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة نحو المقابر، فقعد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى قبر فرأيناه كأنه يناجيه، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح الدموع من عينيه، فتلقاه عمر وكان أولنا فقال: بأبي أنت وأمي! ما يبكيك؟ قال: " إني استأذنت ربي في زيارة قبر أمي وكانت والدة ولها قبلي حق أن أستغفر لها فنهاني"، ثم أومى إلينا أن أجلسوا، فجلسنا فقال: " إني كنت نهيتكم عن زيارة القبور فمن شاء منكم أن يزور فليزر، وإني نهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاثة أيام فكلوا وادخروا ما بدا لكم، وإني كنت نهيتكم عن ظروف وأمرتكم بظروف فانتبذوا في كل فإن الآنية لا تحل شيئا ولا تحرمه واجتنبوا كل مسكر". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابواء : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والدین
35517 ۔۔۔ ابوالطفیل سے روایت ہے کہ میں لڑکا تھا اونٹ کا ایک حصہ اٹھا کرلے جارہا تھا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرانہ کے مقام پر گوشت تقسیم فرما رہے ہیں ایک بدوی عورت آئی جب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب آئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے اپنی چادر مبارک بچھا دی وہ اس پر بیٹھ گئی میں پوچھا یہ کون ہے لوگوں نے بتایا ان کی رضائی ماں ہیں جنہوں نے دودھ پلایا تھا۔ (ابویعلی بن عساکر)
35517- عن أبي الطفيل قال: كنت غلاما أحمل عضو البعير ورأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقسم لحما بالجعرانة فأقبلت امرأة بدوية، فلما دنت من النبي صلى الله عليه وسلم بسط لها رداءه فجلست عليه، فسألت: من هذه؟ فقالوا: أمه التي أرضعته. "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولادت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
35518 ۔۔۔ حسان بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ واللہ میں ایک قریب البلوغ لڑکا تھا میری عمر سات یا آٹھ سال کی جو بات سنا اس کو سمجھ لیتا میں نے ا یک یہودی کی زور دار آواز سنی جو مدینہ النورہ کی دیوار پر چڑھ کر آواز لگارہا تھا اے یہود کی جماعت رات کو احمد کا ستارہ طلوع ہوگیا ہے جس میں وہ پیدا ہوا ۔ (رواہ ابن عساکر)
35518- عن حسان بن ثابت قال: إني والله لغلام يفع ابن سبع سنين أو ثمان سنين أعقل كل ما سمعت، إذ سمعت يهوديا يصرخ على أطم يثرب: يا معشر يهود طلع الليلة نجم أحمد الذي به ولد. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولادت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
35519 ۔۔۔ عباس بن عبدالمطلب سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مختون اور مسرور پیدا ہوا عبدالمطلب کو اس تعجب ہوا اپنے دل میں اپنا نصیب ولاد ہونا خیال کیا اور کہا میرے اس بیٹے کی عنقریب شان ظاہر ہوگی چنانچہ ایسا سطر۔ ابن سعد
35519- عن العباس بن المطلب قال: ولد النبي صلى الله عليه وسلم مختونا مسرورا قال: وأعجب ذلك عبد المطلب وحظي عنده وقال: ليكونن لابني هذا شأن! فكان. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولادت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
35520 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت ہوئی تو عبدالمطلب نے ایک دنبہ عقیقہ میں ذبح کیا ان کا نام محمد رکھا ان سے پوچھا گیا اے اوالجارت آپ نے ان نام محمد کیوں رکھا ہے یا اب دادا میں سے کسی کے نام پر نہیں رکھا تو بتایا میں نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں ان کی تعریف کرے اور لوگ زمین میں۔ (رواہ ابن عساکر)
35520- عن ابن عباس قال: لما ولد النبي صلى الله عليه وسلم عق عنه بكبش عبد المطلب وسماه محمدا، فقيل له: يا أبا الحارث! ما حملك على أن سميته محمدا ولم تسمه باسم آبائه؟ قال: أردت أن يحمده الله في السماء ويحمده الناس في الأرض. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولادت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
35521 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسرور اور مختون پیدا ہوئے ۔ (عدی ، ابن عساکر)
35521- عن ابن عباس قال: ولد النبي صلى الله عليه وسلم مسرورا مختونا. "عد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولادت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
35522 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ تمہارے نبی پیر کے دن پیدا ہوا اور ان کو نبوت ملی پیر کے دن ہجرت کے لیے مکہ مکرمہ سے نکلے پیر کو ان اور مدینہ منورہ میں داخل ہوئے پیر کے دن مکہ مکرمہ فتح ہوا پیر کے دن سورة مائدہ آیت نازل ہوئی۔ پیر کے دن الیوم المکت حکم دینکم حجر اسود کو اپنے مقام پر رکھا پیر کے دن وفات پائی پیر کے دن ۔ (رواہ ابن عساکر)
35522- عن ابن عباس قال: ولد نبيكم صلى الله عليه وسلم يوم الاثنين، ونبيء يوم الاثنين، وخرج من مكة يوم الاثنين، ودخل المدينة يوم الاثنين، وفتح مكة يوم الاثنين، ونزلت سورة المائدة يوم الاثنين {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ} ورفع الحجر يوم الاثنين، وتوفي يوم الاثنين. "كر".
তাহকীক: