কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৫৪৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت
35483 ۔۔۔ یزید بن ابی مریم اپنے والد سے بروایت کرتے ہیں کہا یک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان کھڑے ہو اور قیامت تک پیش آنے والے واقعات کو بیان فرمایا (البغوی ابن عساکر)
35483- عن يزيد بن أبي مريم عن أبيه قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقاما ثم حدثنا ما هو كائن إلى أن تقوم الساعة. "البغوي، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی ابتداء
35484 ۔۔۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ آپ کی نبوت کب سے ثابت ہے ؟ فرمایا جس وقت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی اور ان میں روح ڈالی گئی ۔ (رواہ ابن عساکر)
35484- عن أبي هريرة قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقيل: متى وجبت لك النبوة؟ قال: " فيما بين خلق آدم ونفخ الروح فيه". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی ابتداء
35485 ۔۔۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محنتوں پیدا ہوئے ۔ (رواہ ابن عساکر)
35485- عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم ولد مختونا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی ابتداء
35486 ۔۔۔ ابوہریرة (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا ساتھیوں کو بلا لواہل صفہ میں سے میں ایک ایک آدمی پاس گیا اور ان سب کو جمع کیا ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر پہنچ گئے اور اندر آئے کی اجازت مانگی تو آپ نے اجازت دے دی ہمارے سامنے ایک برتن رکھا گیا جس میں میرے خیال کے مطابق ایک مدجو ہوگی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک اس برتن میں ڈالا پھر فرمایا لوکھاؤ بسم اللہ ہم نے خوب پیٹ بھر کر کھایا بھر ہاتھ کھینچ لیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس وقت آپ کے سامنے برتن رکھا گیا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ان محمد کے پاس شام وقت اس کھانے علاوہ کوئی چیز نہیں جس کو تم دیکھ رہے ہو ابوہریرة (رض) سے پوچھا گیا کہ اس وقت تم کھانے سے فارغ ہوئے کھانا کتنی مقدار میں باقی تھا فرمایا جتنا شروع کرنے کے وقت تھا البتہ اس میں انگلیوں کے نشانات نظر آرہے تھے۔ (بزاز)
35486- عن أبي هريرة قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "ادع أصحابك من أهل الصفة"، فجعلت أتتبعهم رجلا رجلا فجمعتهم، فجئنا باب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستأذنا، فأذن لنا ووضعت بين أيدينا صفحة أظن أن فيها قدر مد من شعير فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده وقال: " خذوا بسم الله "، فأكلنا ما شئنا ثم رفعنا أيدينا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين وضعت الصحفة: " والذي نفس رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده! ما أمسى في آل محمد طعام ليس شيء ترونه"، قيل لأبي هريرة: قدر كم كانت حين فرغتم؟ قال: مثلها حين وضعت إلا أن فيها أثر الأصابع. "ز".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی ابتداء
35487 ۔۔۔ خالد بن عبدالضربن سلامہ خزاعی سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک بکری ذبح کی خالد کے بال بچے زیادہ اگر وہ ایک بکری ذبح کرتا تو ان سب کو ایک ایک ہڈی بھی نہیں ملتی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بکری کا کچھ حصہ تناول فرمایا اے ابوخناس اپنا ڈول قریب کرو پھر اس میں بکر کا بچا ہواحصہ ڈالا یا اور دعا فرمائی اے اللہ ابوخناس کے لیے برکت نازل فرما وہ لے کر واپ لوٹا ان کے سامنے پھیلا دیا اور کہا وسعت کے ساتھ کھاؤ اس میں گھر والوں کھایا اور بچا بھی لیا۔ (الحسن بن سفیان)
35487- عن خالد بن عبد العزى بن سلامة الخزاعي أنه أجزر النبي صلى الله عليه وسلم شاة - وكان عيال خالد كثيرة يذبح الشاة فلا تبد عياله عظما عظما - وأن النبي صلى الله عليه وسلم أكل منها ثم قال له: "أرني دلوك يا أبا خناس"! فصنع فيها فضلة الشاة ثم قال: " اللهم! بارك لأبي خناس"، فانقلب به فنشره لهم وقال: تواسوا فيه، فأكل منه عياله وأفضلوا. "الحسن بن سفيان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی ابتداء
35488 ۔۔۔ مسندسلمہ بن نفیل السکونی میں ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ کہا آپ کے پاس آسمان سے کھانا لایا گیا تو فرمایا ہاں۔ (رواہ ابن عساکر)
35488- "مسند سلمة بن نفيل السكوني" كنا جلوسا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ قال قائل: يا رسول الله! هل أتيت بطعام من السماء قال: "نعم". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35489 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا اور میں نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان جس وقت آدم (علیہ السلام) جنت میں تھے آپ کہاں تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے حتی کہ آپ کے نواجد ظاہر ہوگئے فرمایا ان کی پشت پر تھا اور میں کشتی میں دشوار ہوا اپنے والد نوح علیہ السلام کی پشت میں اور اپنے والد ابراہیم کی پشت میں مجھے اگر میں ڈالا گیا میری نسل میں ماں دونوں کبھی زناکاری پر جمع نہ ہوئے اللہ تعالیٰ مجھے مسلسل نیک پشتوں سے پاکیزہ رحموں میں منتقل فرماتے رہے جو منتخب شائستہ ہیں جب بھی قوم دو شاخوں میں تقسیم ہوئی میں ان میں بہتر میں تھا اللہ تعالیٰ نے ہر ایک سے میری نسبت کا وعدہ اور اسلام کا عہد لیا اور تو راہ انجیل میں میرے تذکرہ کیا ہر نبی نے میرا اوصاف بیان کیا کہ زمین پرے نور سے منور ہوگی اور بادل میرے چہرے سے مجھے اپنی کتاب کی تعلیم دی اور مجھے آسمانوں کا سیرکرایا اور میرے لیے اپنے نام سے نام کا انتخاب کیا پس عرش کا مالک محمود ہیں اور میں محمد ہوں اور مجھے وعدہ فرمایا کہ مجھے حوض کوثر عطا ہوگا اور مجھے اپنے دربار کا سب سے پہلا شفاء کا ربنائے پھر مجھے اپنی امت کے خبرالفرون میں پیدا فرمایا وہ اللہ کی بہت تعریف کرنے والے امد بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے ابن عباس (رض) نے کہا کہ حسان بن ثابت (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں اشعار کہے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ اشعار سن کر فرمایا اللہ تعالیٰ حسان پر رحم فرمائے یہ سن کر علی (رض) نے فرمایا کہ رب کعبہ کی قسم حسان کے لیے جنت واجب ہوچکی ہے۔ (ابن عساکر نے یہ حدیث روایت کرکے کہا بہت غریب ہے صحیح یہ ہے کہ یہ اشعار عباس (رض) کے ہیں میں نے شیخ جلال الدین سیوطی سے کہا کہ اس کی سند میں سلام بن سلیمان المدائنی بھی ہیں تو فرمایا کہ ان کے عام مرویات قابل اتباع نہیں ہیں۔ )
35489- عن ابن عباس قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: فداك أبي وأمي! أين كنت وآدم في الجنة، فتبسم حتى بدت نواجذه ثم قال: " كنت في صلبه وركب بي السفينة في صلب أبي نوح، وقذف بي في صلب أبي إبراهيم، لم يلتق أبواي قط على سفاح، لم يزل الله ينقلني من الأصلاب الحسنة إلى الأرحام الطاهرة مصفى مهذبا، لا تتشعب شعبتان إلا كنت في خيرهما، قد أخذ الله بالنبوة ميثاقي وبالإسلام عهدي، ونشر في التوراة والإنجيل ذكري، وبين كل نبي صفتي، تشرق الأرض بنوري والغمام لوجهي، وعلمني كتابه، ورقى بي في سمائه وشق لي اسما من أسمائه فذو العرش محمود وأنا محمد، ووعدني أن يحبوني بالحوض والكوثر وأن يجعلني أول مشفع، ثم أخرجني من خير قرن لأمتي وهم الحمادون، يأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر". قال ابن عباس: فقال حسان بن ثابت في النبي صلى الله عليه وسلم:
من قبلها طبت في الظلال وفي ... مستودع حيث يخصف الورق
ثم سكنت البلاد لا بشر ... أنت ولا نطفة ولا علق
مطهر تركب السفين وقد ... ألجم أهل الضلالة الغرق
تنقل من صلب إلى رحم ... إذا مضى عالم بدا طبق
فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " يرحم الله حسانا"! فقال علي بن أبي طالب: وجبت الجنة لحسان ورب الكعبة. "كر وقال: هذا حديث غريب جدا والمحفوظ أن هذه الأبيات للعباس، قلت: قال الشيخ جلال الدين السيوطي رحمه الله تعالى: وفي إسناده سلام بن سليمان المدائني، قال عد: عامة ما يرويه لا يتابع عليه".
من قبلها طبت في الظلال وفي ... مستودع حيث يخصف الورق
ثم سكنت البلاد لا بشر ... أنت ولا نطفة ولا علق
مطهر تركب السفين وقد ... ألجم أهل الضلالة الغرق
تنقل من صلب إلى رحم ... إذا مضى عالم بدا طبق
فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " يرحم الله حسانا"! فقال علي بن أبي طالب: وجبت الجنة لحسان ورب الكعبة. "كر وقال: هذا حديث غريب جدا والمحفوظ أن هذه الأبيات للعباس، قلت: قال الشيخ جلال الدين السيوطي رحمه الله تعالى: وفي إسناده سلام بن سليمان المدائني، قال عد: عامة ما يرويه لا يتابع عليه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35490 ۔۔۔ زینت بنت ابی سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ اب ولھب نے اپنی باندی کو آزادی کیا جس کا نام ثوبیہ تھا جس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دودھ بلایا ابولھب کو گھر کے بعض افراد نے خواب میں دیکھا اس سے پوچھا کیا حال ہے تو اس نے بتایا تم سے جدائی (یعنی موت) کے بعد سے کبھی نہیں نہیں ملی سوائے اس انگلی کے جس سے ثوبیہ کو آزاد کرنے کے لیے اشارہ کیا تھا۔ (عبدالرزاق)
35490- عن زينب بنت أبي سلمة أن أبا لهب أعتق جارية له يقال لها ثويبة وكانت قد أرضعت النبي صلى الله عليه وسلم، فرأى أبا لهب بعض أهله في النوم فسأله ما وجد، فقال: ما وجدت بعدكم راحة غير أني سقيت في هذه مني - وأشار إلى النقرة التي تحت إبهامه - في عتقي ثويبة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35491 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی حطمہ کی ایک عورت نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہجو کیا جب آپ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سخت غصہ آیا اور فرمایا اس سے میرا انتقام کون لے گا ؟ تو اس کی قوم کا ایک شخص کھڑا ہوگیا اور عرض کیا میں تیار ہوں وہ عورت کھجور کا تاجر تھی اس کے پاس پہنچا اور پوچھا تمہارے پاس کھجور ہے اس نے کہا ہے اس نے ایک قسم کی کھجور کھلایا اس صحابی (رض) نے کہا اس سے عمدہ کی تلاش ہے اب وہ ان کو کھجوریں دکھانے کے لیے گھر کے اندر داخل ہوئی یہ بھی ساتھ داخل ہوگیا دائیں بائیں دیکھاسترخوان کے علاوہ کوئی چیز نظر نہ آئی تو اس کے سرپرحملہ کیا اور دماغ کا بیجہ باہر نکالد یا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دربار میں حاضر ہو کر عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کی طرف سے کافی ہوگیا ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ دوبکرے سینگ بارے میں ایک ساتھ کامیاب نہیں ہوسکتے بعد میں یہ قول ایک ضرب المثل بن گیا۔ (رواہ ابن عساکر)
35491- عن ابن عباس قال: هجت امرأة من بني حطمة النبي صلى الله عليه وسلم فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم، فاشتد عليه وقال: "من لي بها"؟ فقال رجل من قومها: أنا يا رسول الله! وكانت تمارة تبيع التمر، فأتاها فقال لها: عندك تمر؟ قالت: نعم، فأرته تمرا، فقال: أردت أجود من هذا، فدخلت لتريه ودخل خلفها فنظر يمينا وشمالا فلم ير إلا خوانا فعلا به رأسها حتى دمغها به، ثم أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله كفيتكها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " إنه لا ينتطح فيها عنزان" ، فأرسلها مثلا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35492 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت کہ میں نے حفصہ بنت رواحہ (رض) سے ایک سوئی رعایت پرلی تھی جس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کپڑا سیا کرتی تھی مجھ سے وہ سوئی گرگئی ۔ میں نے اسے ڈھونڈا ، لیکن اسے نہ پاسکی ۔ اتنے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے۔ آپ کے چہرہ انور کی روشنی میں مجھے سوئی نظر آگئی تو میں ہنسی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کیوں ہنسی اے حمیرا ؟ تو میں نے سارا معاملہ بتادیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلند آواز سے فرمایا کہ ہلاکت ہے ہلاکت ہے اس آدمی کے لیے جو اس چہرے کی طرف دیکھنے سے محروم کردیا گیا ، کوئی مومن اور کافرایسا نہیں جو اس چہرے کو دیکھنے کی خواہش اور تمنا نہ رکھتا ہو۔ (الدیلمی ابن عساکر)
35492- عن عائشة قالت: استعرت من حفصة بنت رواحة إبرة كنت أخيط بها ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسقطت عني الأبرة، فطلبتها فلم أقدر عليها، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم فتبنيت الإبرة بشعاع نور وجهه فضحكت، فقال: " يا حميراء! لم ضحكت"؟ قلت: كان كيت وكيت، فنادى بأعلى صوته: " يا عائشة! الويل ثم الويل لمن حرم النظر إلى هذا الوجه! ما من مؤمن ولا كافر إلا ويشتهي أن ينظر إلى وجهي. " الديلمي، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35493 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے بستر پر نہ پایا تو مجھے خیال ہوا کہ آپ اپنی جاریہ مایہ (رض) کے پاس تشریف لے گئے میں دیوار کو ٹٹول رہی تھی تو آپ کو نماز کی حالت میں پایا میں نے اپنی انگلیاں آپ کے بالوں میں داخل کیا تاکہ دیکھو آپ نے غسل فرمایا نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا مجھے تیرے شیطان نے پکڑا ہے میں نے عرض کیا یارسول اللہ میرے بھی شیطان ہے فرمایا ہاں میں نے پوچھا تمام نبی آدم کے شیطان ہیں فرمایا ہاں میں نے پوچھا آپ کے ساتھی بھی کوئی شیطان ہے فرمایا ہاں لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد فرمائی ہے وہ مسلمان ہوگیا۔ (ابن النجار)
35493- عن عائشة قالت: فقدت النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فظننت أنه قام إلى جاريته مارية، فقمت ألتمس الجدر فوجدته قائما يصلي، فأدخلت يدي في شعره لأنظر هل اغتسل أم لا، فقال: "أخذك شيطانك"! قلت: ولي شيطان يا رسول الله؟ قال "نعم"، قلت: ولجميع بني آدم؟ قال: "نعم"، قلت: ولك؟ قال: " نعم، ولكن الله أعانني عليه فأسلم ". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35494 ۔۔۔ مسند عبداللہ بن عمروبن العاص (رض) میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو اٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے چند صحابہ کرام (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حرامت کرنے لگے جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے ان کے پاس پہنچے اور ارشاد فرمایا کہ آج کی رات مجھے پانچ چیزیں عطاء ہوئی ہیں جو مجھ سے پہلی کسی نبی کو بھی نہیں ملیں (1) مجھے تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے جب کہ مجھ سے پہلے انبیاء کس خاص قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا (2) دشمنوں کے خلاف رعب کے ذریعہ میری مدد ہوئی ہے اگرچہ میرے اور دشمن کے درمیان ایک مہینہ کی مسافت ہو وہ میرے رعب سے مرعوب ہوجاتا ہے (٣) میرے لیے مال غنیمت کو حلا کیا گیا مجھ سے پہلے اس کی تعظیم کرتے تھے لیکن اس سے محروم تھے (4) میرے لیے زمین کو مسجد بنائی گئی اور پاکی حال کرنے کا آلہ کجہاں بھی نماز کا وقت آجائے مسح کرکے نماز پڑھ لیتاہوں جب کہ مجھ سے پہلے یہ بری بات تھی وہ صرف اپنے کسناؤں اور گرجوں میں نماز پڑھا کرتے تھے ۔ (5) مجھ سے کہا گیا سوال کرو کیونکہ ہر ایک نے سوال کرلیا لیکن میں نے اپنے سوال کو قیامت کے دن کے لیے محفوظ رکھا وہ سوال تمہارے حق میں اور ہر اس شخص کے حق میں ہوگا جو اس بات کی گواہی دے ۔ اشھد ان الا الہ الا اللہ (بن النجار)
35494- "مسند عبد الله بن عمرو بن العاص " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام يصلي من الليل فاجتمع رجال من أصحابه يحرسونه، حتى إذا صلى وانصرف إليهم قال لهم: قد أعطيت الليلة خمسا ما أعطيهن أحد قبلي! أما أولهن فأرسلت إلى الناس كلهم عامة وكان من قبلي إنما يرسل إلى قومه، ونصرت بالرعب على العدو ولو كان بيني وبينه مسيرة شهر لملئ مني رعبا، وأحلت لي الغنائم وكان من قبلي يعظمونها، كانوا يحرمونها، وجعلت لي الأرض مسجدا وطهورا، أينما أدركتني الصلاة تمسحت وصليت وكان من قبلي يعظمون ذلك، إنما كانوا يصلون في كنائسهم وبيعهم، والخامسة قيل لي: سل فإن كل شيء قد سأل، فأخرت مسألتي إلى يوم القيامة وهي لكم ولمن شهد أن لا إله إلا الله ". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35495 ۔۔۔ سعیدبن مسیّب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو 45 آدمیوں کی قوت عطاء ہوئی تھی وہ کسی بیوی کے پاس پورے ایک دن نہیں ٹہرتے تھے کچھ وقت ان کے پاس اور کچھ وقت ان کے پاس ان کے درمیان باری باری تشریف فرماہوتے دن کے وقت البتہ رات ہر ایک کے پاس اس کی باری میں پوری رات گذارتے ۔ (عبدالرزاق)
35495- عن سعيد بن المسيب قال: أعطي رسول الله صلى الله عليه وسلم قوة بضع خمسة وأربعين رجلا، وإنه لم يكن يقيم عند امرأته يوما تاما، كان يأتي هذه الساعة ويأتي هذه الساعة، ينتقل بينهن كذلك اليوم، حتى إذا كان الليل قسم لكل امرأة منهن ليلتها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35496 ۔۔۔ ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ہم صحابہ کرام (رض) معجزات کا ذکر کرتے تھے برکت کے طور پر اور تم ذکر کرتے ہو درانے کے لیے ایک موقع پر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ہمارے پاس پانی نہیں تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تلاش کرو اگر کسی کے پاس پانی بچاہوا ہو چنانچہ پانی لدیا گیا اس کو ایک برتن میں ڈالا یا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آس میں اپنا دست مباعرک ڈالا تو پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے ان کے لگا پھر فرمایا آجاؤ مبارک پانی کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت ہے ہم نے پیا ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں ہم تو کھانے کی تسبیح سنتے تھے جس وقت اس کو کھایا جارہا ہوتا۔ (ابوداؤد، ابن عساکر عبدالرزاق)
35496- عن ابن مسعود قال: كنا أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم نعد الآيات بركة وأنتم تعدونها تخويفا! بينما نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس معنا ماء فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اطلبوا من معه فضل ماء "، فأتى بماء، فصبه في إناء ثم وضع كفه فيه، فجعل الماء يخرج من بين أصابعه، ثم قال: " حي على الطهور المبارك والبركة من الله"، فشربنا. قال ابن مسعود: لقد كنا نسمع تسبيح الطعام وهو يؤكل. "د، كر، عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35497 ۔۔۔ معمر ابن طاؤس سے وہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جماع میں چالیس یاپینتالیس آدمی کی قوت دی گئی تھی۔ (رواہ ابن عساکر)
35497- عن معمر عن ابن طاوس عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم أعطي قوة أربعين أو خمسة وأربعين في الجماع. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35498 ۔۔۔ شعبی رحمد اللہ سے روایت کیا عبدالمطلب کی تمام اولاد لڑکا ہو یا لڑکی شعرگوئی کرتی تھی سوائے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ۔ (رواہ ابن عساکر)
35498- عن الشعبي قال: ما ولد عبد المطلب ذكرا ولا أنثى إلا يقول شعرا غير محمد صلى الله عليه وسلم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35499 ۔۔۔ عبدالرحمن بن غنم سے روایت ہے کہ ہم مسجد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ مدینہ منورہ کے کچھ لوگ اور بھی تھے جو نفاق والے تھے تو اچانک ایک بدلی ظاہر ہوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے ایک فرشتہ نے سلام کیا پھر کہا۔ میں اللہ تعالیٰ سے مسلسل اجازت مانگتا رہا آپ سے ملاقات کی اب مجھے اجازت ملی ہے میں آپ کو بشارت دیتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ سے زیادہ مکرم کوئی نہیں ہے۔ (ابن مندہ دیلمی ابن عساکر)
35499- عن عبد الرحمن بن غنم قال: كنا جلوسا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد ومعنا ناس من أهل المدينة وهم أهل النفاق فإذا سحابة! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سلم علي ملك ثم قال لي: لم أزل أستأذن ربي عز وجل في لقائك حتى كان أوان أذن لي وإني أبشرك أنه ليس أحد أكرم على الله منك ". "ابن منده والديلمي، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35500 ۔۔۔ عطاء سے روایت ہے کہ موت سے پہلے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جتنے چاہے نکاح کرنے کی اجازت ہوگئی تھی۔ (عبدالرزاق)
35500- عن عطاء قال: ما مت النبي صلى الله عليه وسلم حتى أحل له أن ينكح ما شاء. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35501 ۔۔۔ علی بن حسین (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مکہ میں وحی نازل ہونے سے پہلے بکثرت نظر لگ جاتی تھی خدیجہ (رض) مکہ کی پڑھی عورتوں میں کسی کے پاس بھیج دیتی تھی جو آپ پر دم کرتی آپ کو موافق آجاتا جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا اور آپ پر وحی نازل ہوئی بھر دوبارہ نظر لگنے کی تکلیف محسوس ہوئی تو خدیجہ (رض) نے پوچھا کیا میں آپ کو کسی بڑھیا کے پاس نہ بھیج دوں جو آپ پر دم کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اب ایسا نہیں ہوسکتا ہے۔ (ابن جریر)
35501- عن علي بن الحسين قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم قبل أن ينزل عليه بمكة تسرع إليه العين، فكانت خديجة ترسل إلى عجوز من عجائز مكة تتفل عليه، فكان يوافقه، فلما ابتعثه الله وأنزل عليه وجد الذي كان يجد، فقالت خديجة: ألا أبعث إلى العجوز فتتفل عليك؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "أما الآن فلا". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پشت درپشت آنا
35502 ۔۔۔ مسند العرباض میں ہے کہ واقدی نے روایت کی ہے کہ مجھ سے ابن ابی سبرة نے روایت کی انھوں نے موسیٰ بن سعد سے انھوں نے عریاض بن ساریہ سے کہ میں سفر وحضر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ڈروازہ پر ہوتا تھا ایک رات میں نے دیکھا جب کہ ہم تبوک میں تھے ہم کسی ضرورت سے گئے ہوئے تھے پھر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جگہ واپس ہوئے آپ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مہمان رات کے کھانے سے فارغ ہوچکے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رقبہ میں داخل ہونے کا ارادہ کررہے تھے آپ کے ساتھ ازواج مطہرات میں سے ام سلمہ تھیں جب میں آپکے سامنے آیا تو آپ نے پوچھا رات اس وقت تک کہاں تھے ؟ میں نے بات بتلا دی اتنے میں جعال بن سراقہ اور عبداللہ بن مغفل مزنی بھی آگئے ہم تینوں بھوک کی حالت میں تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں داخل ہوئے ہمارے کھانے کے لیے کچھ طلب کیا لیکن نہ مل سکا پھر آپ ہمارے پاس واپس تشریف لائے اور بلال (رض) کو آواز کر پوچھا اے بلال ان حضرات کے کھانے کے لیے کچھ ہے ؟ عرض یا نہیں ہے قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہم نے اپنی ہتھیلی اور برتن صاف کرلئے فرمایا دیکھ لو ہوسکتا ہے کوئی چیز مل جائے تو انھوں نے ایک ایک تھیلی کو جھانا شروع کیا تو ایک ایک دودو کھجوریں گرنے لگیں یہاں تک میں نے دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سات کھجوریں جمع ہوگئیں پھر ایک برتن منگوا کر اس میں کھجوریں رکھدیں پھر پر دست مبارک رکھ کر بسم اللہ پڑھی اور فرمایا کھاؤ بسم اللہ ہم نے کھانا شروع کیا میں نے گنا کہ میں نے اکیلئے نے 45 کھجوریں کھائیں اب ہم نے ہاتھ کھینچ لیا لیکن سات کھجوریں اس طرح رکھی ہوئی تھیں فرمایا اب اے بلال ان کو اٹھا کر اپنی تھیلی میں بھر لوان میں سے جو بھی کھائے گا اس کا پیٹ بھر جائے گا ہم رات آپ کے قبہ کے پاس گذاری آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تہجد کے لیے بیدار ہوتے اٹھے اس رات بھی اٹھ کر نماز پڑھنے لگے جب فجر طلوع ہوگئی واپس ہو کر فجر کی دو رکعت سنت ادا کی بلال (رض) نے اذان و اقامت کہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کی نماز پڑھائی بھرقبہ کے صحن میں تشریف لائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے گردوس فقراء مسلمین بیٹھ گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم پوچھا کیا تمہارے پاس دو پر ہر کے کھانے کے لیے کچھ ہے عرباض نے کہا میں اپنے دل میں کہہ رہا تھا کھانے کی کیا چیز ہوگی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو کھجوریں لانے کا حکم فرمایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر اپنا دست مبارک رکھدایا اور فرمایا : کھاؤ بسم اللہ ہم نے کھایا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہم دس کے پس نے پیٹ بھرکرکھایا پھر پیٹ بھرنے کی وجہ سے سب نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کھجوریں اتنی میں تھیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر مجھے رب کریم سے شرم نہ آتی ہم سب ان کھجوریں کو مدینہ منورہ پہنچے تک کھاتے ایک دیہاتی بچہ نظر آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجوریں ہاتھ میں لے کر اس کو دے دیں ، وہ کھاتا ہوا واپس چلا گیا۔ (رواہ ابن عساکر)
35502- "مسند العرباض" الواقدي حدثني ابن أبي سبرة عن موسى بن سعد عن عرباض بن سارية قال: كنت ألزم باب رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحضر والسفر، فرأينا ليلة ونحن بتبوك وذهبنا لحاجة فرجعنا إلى منزل رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد تعشى ومن عنده من أضيافه ورسول الله صلى الله عليه وسلم يريد أن يدخل في قبة ومعه زوجه أم سلمة، فلما طلعت عليه قال: "أين كنت منذ الليلة"؟ فأخبرته، فطلع جعال بن سراقة وعبد الله بن مغفل المزني فكنا ثلاثة كلنا جائع، نعيش بباب النبي صلى الله عليه وسلم، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم البيت فطلب شيئا نأكله فلم يجده، فخرج إلينا فنادى بلالا: " يا بلال! هل من عشاء لهؤلاء النفر"؟ قال: لا: والذي بعثك بالحق لقد نفضنا جربنا وحميتنا! قال: "انظر عسى أن تجد شيئا"، فأخذ الجرب ينفضها جرابا جرابا فتقع التمرة والتمرتان حتى رأيت بين يديه سبع تمرات ثم دعا بصحفة فوضع فيها التمر، ثم وضع يده على التمرات وسمى الله وقال: "كلوا بسم الله"، فأكلنا، فأحصيت أربعة وخمسين تمرة أكلتها، أعدها ونواها في يدي الأخرى، وصاحباي يصنعان ما أصنع وشبعنا، وأكل كل واحد منهما خمسين تمرة، ورفعنا أيدينا فإذا التمرات السبع كما هي! فقال: " يا بلال! ارفعها في جرابك فإنه لا يأكل منها أحد إلا نهل شبعا "؛ فبتنا حول قبة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكان يتهجد من الليل فقام تلك الليلة يصلي، فلما طلع الفجر رجع ركعتي الفجر، فأذن بلال وأقام، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناس، ثم انصرف إلى فناء قبة، فجلس وجلسنا حوله فقراء من المؤمنين عشرة، فقال: "هل لكم في الغداء"؟ قال عرباض: فجعلت أقول في نفسي أي غداء؟ فدعا بلالا بالتمرات فوضع يده عليهن في الصحفة ثم قال: "كلوا بسم الله"، فأكلنا والذي بعثه بالحق حتى شبعنا وإنا لعشرة ثم رفعوا أيديهم منها شبعا وإذا التمرات كما هي! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لولا أني أستحي من ربي لأكلنا من هذه التمرات حتى نرد المدينة من آخرنا"، فطلع غليم من أهل البلد فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم التمرات بيده، فدفعها إليه، فولى الغلام يلوكهن. "كر".
তাহকীক: