কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৪৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل متفرقہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متفرق فضائل
35463 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ جب لڑائی کا میدان گرم ہوجانا اور دشمن سے مقابلہ سخت ہونا ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ اپنی بچاؤ کرتے تھے وہ ہم میں دشمن کے سب سے زیادہ قریب ہوتے تھے۔ (مستدرک حاکم ابن ابی شیبة احمدوابو عبیدفی الفریب نسائی ابویعلی حارث ابن جریر وصحیہ بیہقی فی الدلائل )
35463- عن علي قال: كنا إذا حمي البأس ولقي القوم اتقينا برسول الله صلى الله عليه وسلم، فما يكون منا أحد أقرب إلى العدو منه. "ك، ش، حم وأبو عبيد في الغريب، ن، ع، ك والحارث، ابن جرير وصححه، ق في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل متفرقہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متفرق فضائل
35464 ۔۔۔ (مسند عمر) اسلام سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تذکرہ فرماتے تو روپڑتے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے تھے وہ یتیم کے لیے والد کی جگہ تھے عورت کے لیے شریف شوہر کی طرح اور دل کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر اور چہرہ کے لحاظ سے سب سے روشن اور خوشبو کے اعتبار سے سب سے زیادہ پاکیزہ اور حسب کے اعتبار سے سب شریف آپ جیسے اوصاف والے اولین وآخرین میں موجود نہیں (ابوالعباس ولید بن احمد الزورنی نے کتاب شجرة العقل میں نقل کیا ہے اس کی سند میں حبیب بن رزین ہے احمد نے فرمایا جھوٹ بولتا تھا ابوداؤد نے کہا حدیث گھڑتا تھا)
35464- "مسند عمر" عن أسلم قال: كان عمر بن الخطاب إذا ذكر النبي صلى الله عليه وسلم بكى، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أرحم الناس بالناس، وكان لليتيم كالوالد، وكان للمرأة كالزوج الكريم، وكان أشجع الناس قلبا، وأوضحهم وجها، وأطيبهم ريحا، وأكرمهم حسبا، فلم يكن له مثل في الأولين والآخرين. "أبو العباس الوليد بن أحمد الزوزني في كتاب شجرة العقل، وفيه حبيب بن رزين، قال حم: كان يكذب، وقال د: كان يضع الحديث".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل متفرقہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متفرق فضائل
35465 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دی تھی آپ نے اس کو قتل کردیا پھر فرمایا جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یا کسی بھی نبی کو گالی دے سکو قتل کردو (ابوالحسن بن رملہ اصفہانی نے اپنی امالی میں روایت کی اور اس کی سند صحیح ہے)
35465- عن ابن عمر قال: أتي عمر ابن الخطاب برجل سب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقتله، ثم قال: من سب رسول الله صلى الله عليه وسلم أو أحدا من الأنبياء فاقتلوه. "أبو الحسن بن رملة الأصبهاني في أماليه، وسنده صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی آنکھوں کا علاج
35466 ۔۔۔ علی (رض) سے روایت ہے کہ جب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری آنکھ میں تھوک مبارک لگایا کبھی بھی دوبارہ تکلیف نہیں ہوگی ۔ (احمد ابویعلی ضیاء مقدسی)
35466- عن علي قال: ما رمدت مذ تفل رسول الله صلى الله عليه وسلم في عيني. "حم، ع، ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی آنکھوں کا علاج
35467 ۔۔۔ علی (رض) سے روایت ہے کہ خبیر کے اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے جھنڈا دیا اس کے بعد سے نہ کبھی میری آنکھ میں تکلیف ہوئی نہ ہی سر میں دردہوا۔ (ابوداؤد الطبالسی بیہقی فی الدلدنل)
35467- عن علي قال: ما رمدت ولا صدعت منذ دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلي الراية يوم خيبر. "ط، ق في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی آنکھوں کا علاج
35468 ۔۔۔ اسی طراح علی (رض) سے روایت ہے کہ جس وقت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے روز جس وقت مجھے جھنڈا دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور میری آنکھوں لعاب مبارک لگایا نہ کبھی سر میں درد ہوا نہ آنکھ میں ۔ (ابن ابی شیبة ابن جریر نے قتل کرکے صلح قراردیا ابویعلی سعید بن منصور)
35468- "أيضا" ما رمدت ولا صدعت منذ مسح رسول الله صلى الله عليه وسلم وجهي وتفل في عيني يوم خيبر حين أعطاني الراية. "ش ومسدد وابن جرير وصححه، ع، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی آنکھوں کا علاج
35469 ۔۔۔ علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں خطبہ دینے ہمیں عذاب الہیٰ کا زمانہ یاد دلاتے یہاں تک خوف کے اتار چہرہ مبارک پر ظاہر ہوگا گویا کہ وہ قوم کو اس دشمن سے ڈرانے والے ہیں جو صبح کے وقت حملہ اور ہونے والا ہے اور جب جبرائیل (علیہ السلام) سے ملاقات ہو تو تبسم نہ فرماتے ۔ ہنستے ہوئے یہاں آثار ختم ہوتا۔ (الحاکم فی الکنی وابن مردویہ)
35469- عن علي قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطبنا فيذكرنا بأيام الله حتى يعرف ذلك في وجهه، وكأنه نذير قوم يصبحكم غدوة، وكان إذا كان قريب عهد بجبريل لم يبتسم ضاحكا حتى يرتفع عنه. "الحاكم في الكنى وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی آنکھوں کا علاج
35470 ۔۔۔ مسند انس (رض) میں ہے کہ ابن النجار نے معمربن محمد اصہانی کو لکھا کہ ابونصر محمد بن ابراہیم یونارنی نے ان کو خبردی ہے اپنے معجم میں بتایا کہ میں نے شریف واضح بن ابی تمام زیسی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے بوعلی بن تومہ سے سنا سے یہ کہتے ہوئے کہ ایک سافر قوم ابوحفص بن شاھین کے پاس جمع ہوئی اور ان سے درخواست کی کہ اپنے پاس سے کوئی عمدہ حدیث سنائے چنانچہ انھوں نے کہا میں نے تمہیں عمدہ حدیث سناؤں گا پھر بیان کیا کہ حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن محمد بغوی نے اور انھوں نے کہا ہم سے حدیث بیان کی شیبان بن فرخ ابلی نے انھوں نے کہا ہم سے حدیث بیان کی ہے نافع ابوہر مزسنجستانی نے انھوں نے کہا میں نے اس بن مالک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری زندگی تمہارے لیے بہتر ہے اور میری موت بھی تمہارے لیے بہتر ہے۔
35470- "مسند أنس" ابن النجار كتب إلى معمر بن محمد الأصبهاني أن أبا نصر محمد بن إبراهيم اليونارتي أخبره في معجمه قال: سمعت الشريف واضح بن أبي تمام الزبيبي يقول: سمعت أبا علي بن تومة يقول، اجتمع قوم من الغرباء عند أبي حفص بن شاهين فسألوه أن يحدثهم أعلى حديث عنده، فقال: لأحدثنكم حديثا من عوالي ما عندي: ثنا عبد الله بن محمد البغوي ثنا شيبان بن فروخ الأبلي حدثنا نافع أبو هرمز السجستاني قال: سمعت أنس بن مالك يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " حياتي خير لكم ومماتي خير لكم " - الحديث.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی آنکھوں کا علاج
35471 ۔۔۔ بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرب کے فصیح النسان ہے وہ گفتگو فرماتے ان کو پتہ نہ چلتا یہاں تک خود ہی بتا دیتے ۔ (العسکری فی الامثال اس میں حسان بن مصک متروک میں)
35471- عن بريدة قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم من أفصح العرب، وكان يتكلم بالكلام لا يدرون ما هو حتى يخبرهم. "العسكري في الأمثال، وفيه حسان بن مصك متروك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی آنکھوں کا علاج
35472 ۔۔۔ مسند جابر بن سمرہ (رض) میں ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ فرض نماز پڑھی آپ نے نماز میں ہاتھوں کو ملایا جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا نماز میں کوئی نئی بات پیش آئی ہے ؟ فرمایا نہیں البتہ شیطان نماز میں میرے سامنے سے گذرنا چاہتا تھا میں نے اس کی گردیں دبادی حتی اس کی زبان ٹھنڈک میرے ہاتھوں میں محسوس ہوئی اللہ کی قسم اگر سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوئی تو میں اس کو مسجد کے کسی ستون کے ساتھ باندھ دینا حتی کہ مدینہ منورہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے (طبرانی)
35472- "مسند جابر بن سمرة" صلينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة مكتوبة فضم يديه في الصلاة، فلما قضى الصلاة قلنا: يا رسول الله، أحدث في الصلاة شيء؟ قال: " لا، إلا أن الشيطان أراد أن يمر بين يدي فخنقته حتى وجدت برد لسانه على يدي، وايم الله! لولا ما سبقني إليه أخي سليمان لنيط إلى سارية من سواري المسجد حتى يطيف به ولدان أهل المدينة ". "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی آنکھوں کا علاج
35473 ۔۔۔ ابن عسا کرنے کہا کہ ابوالقاسم ھبتہ اللہ بن عبداللہ نے مجھے خبر دی کہ انھوں نے کہا مجھے خبردی ہے ابوبکر خطیب نے انھوں نے کہا مجھے خبردی ہے ابوبکر محمد بن عمر بن اسماعیل داد دی نے انھوں نے کہا مجھے خبردی ہے ابوبکر محمد بن عبداللہ بن فتح صیرفی نے انھوں نے بتایا کہ مجھے خبردی ہے ابن ابی داؤد نے انھوں نے بتایا مجھے خبردی ہے محمد بن قہراد نے انھوں نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے سلمہ بن سلیمان نے انھوں نے کہا مجھ سے حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن مبارک نے انھوں نے کہا مجھ سے حدیث بیان کی ہے عربن سلمہ بن ابی زید نے اپنے والد جابر بن عبداللہ سے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ٹب میں وضوء فرمایا اور میں نے وضوء کا پانی لے کر ہمارے ایک کنوں میں ڈالا ابوبکر بن ابی داؤد نے کہا میرے والد نے مجھ سے تین حدیثیں نقل کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے یہ حدیث مجھ سے سنی ہے وہ کہا کرتے تھے مجھ سے حدیث بیان کی ہے ابن قہرار نے۔
35473- قال ابن عساكر: أخبرني أبو القاسم هبة الله بن عبد الله أنا أبو بكر الخطيب أنا القاضي أبو بكر محمد بن عمر بن إسماعيل الداودي أنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن الفتح الصيرفي ثنا أبو بكر ابن أبي داود ثنا محمد بن قهزاد أخبرنا سلمة بن سليمان ثنا عبد الله بن المبارك أنا عمر بن سلمة بن أبي يزيد عن أبيه عن جابر بن عبد الله أن النبي صلى الله عليه وسلم توضأ في طست فأخذته فصببته في بئر لنا. قال أبو بكر ابن داود: كتب عني أبي ثلاثة أحاديث هذا أحدها، وسمع مني أبي هذا الحديث، وكان يقول: حدثت عن ابن قهزاد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت
35474 ۔۔۔ جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بیان فرمایا تو بعض صحابہ کرام (رض) نے جنت کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابودجانہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جس نے ہم سے محبت رکھی اور ہماری محبت کی وجہ سے آزمائش میں ڈالئے گئے اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں ہماری مصیبت نصیب فرمائیں گے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت کی :۔ فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر ۔ الدیلمی
35474- عن جابر قال: بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما في مسجد المدينة فذكر بعض أصحابه الجنة فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا أبا دجانة! أما علمت أن من أحبنا وامتحن بمحبتنا أسكنه الله معنا؟ ثم تلا هذه الآية: {فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ} . "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت
35475 ۔۔۔ جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ (رض) پر اونٹ کے دن کی ایک چادر دیکھی وہ آٹا پیس رہی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روپڑے اور فرمایا اے فاطمہ دنیا کی سختی پر صبرکروکل آخرت کی نعمت حاصل کرنے کے لیے اور یہ آیت نازل ہوئی : ولسر یعطیک ربک فترضیٰ
35475- عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى على فاطمة كساء من أوبار الإبل وهي تطحن فبكى وقال: " يا فاطمة! اصبري على مرارة الدنيا لنعيم الآخرة غدا "، ونزلت: {وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى} . "ابن لال وابن مردويه وابن النجار والديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت
35476 ۔۔۔ مسندابی ایوب (رض) میں ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے لیے ان کے بقدر کھانا تیار کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھ سے فرمایا کہ جاؤ انصار کے تیس سرداروں کو بلاکر لاؤ مجھ پر شاق گذار ا میں نے کہا میرے پاس اس سے زائد نہیں ہے گویا کہ میں نے بلانے میں غفلت برتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے پاس انصار کے تیس سرداروں کو بلا کر لاؤ میں نے ان کو بلایا وہ سب آگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ کھاؤ انھوں نے کھایا سیر ہو کر پھر انھوں نے اسالت کی گواہی دی پھر گھر سے نکلنے سے پہلے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی پھر فرمایا جاؤ میرے پاس انصار کے ساٹھ سرداروں کو بلا لاؤ واللہ میں ساتھ کو تیس سے زیادہ خوشدلی کے ساتھ بلالایا انھوں نے کھایا اور سیر ہوئے پھر انھوں نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی گواہی دی اور نکلنے سے پہلے بیعت کی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انصار میں سے نوے افراد کو بلا کر لاؤ میں ساتھ کے مقابلہ میں نوے کو خوشی کے ساتھ بلا کرلیا انھوں نے سیر ہو کر کھایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی گواہی دی بھر نکلنے سے پہلے بیعت کی اس طرح میرے کھانے سے انصار کے ایک سو اسی افراد نے کھایا۔ (طبرانی)
35476- "مسند أبي أيوب" صنعت للنبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر طعاما قدر ما يكفيهما فأتيتهما به: فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اذهب فادع لي ثلاثين من أشراف الأنصار"، فشق ذلك علي فقلت: ما عندي شيء أزيده، فكأني تغفلت فقال: " اذهب فادع لي ثلاثين من أشراف الأنصار، فدعوتهم فجاؤا، فقال: اطعموا، فأكلوا حتى صدروا ثم شهدوا أنه رسول الله ثم بايعوه قبل أن يخرجوا؛ ثم قال: اذهب فادع لي ستين من أشراف الأنصار، والله! لأنا بالستين أجود مني بالثلاثين، فدعوتهم، فأكلوا حتى صدروا ثم شهدوا أنه رسول الله ثم بايعوه قبل أن يخرجوا؛ ثم قال: اذهب فادع لي تسعين من الأنصار، فلأنا أجود بالتسعين والستين مني بالثلاثين، فدعوتهم، فأكلوا حتى صدروا ثم شهدوا أنه رسول الله ثم بايعوه قبل أن يخرجوا، فأكل من طعامي ذلك مائة وثمانون رجلا كلهم من الأنصار. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت
35477 ۔۔۔ ابی بکرہ (رض) سے روایت ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے شق صدر کے موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ختنہ بھی کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
35477- عن أبي بكرة أن جبريل ختن النبي صلى الله عليه وسلم حين طهر قلبه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت
35478 ۔۔۔ ابوذر (رض) (رح) سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس حالت میں چھورا کہ اگر کوئی پرندہ ہوا میں پروں کو حرکت دے آئے ہمیں اس سے بھی کوئی تعلیم دیتے تھے آپ (علیہما السلام) نے فرمایا ہر وہ عمل جنت کے قریب کرنے والا ہو اور جہنم سے دور کرنے والاہو وہ تمہارے سامنے بیان کردیا گیا ہے۔ (طبرانی)
35478- عن أبي ذر قال: تركنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وما طائر يقلب جناحيه في الهواء إلا وهو يذكرنا منه علما، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما بقى شيء يقرب من الجنة ويباعد من النار إلا وقد بين لكم ". "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت
35479 ۔۔۔ عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا یارسول اللہ اپنے نفس کے بارے میں بتائے تو فرمایا ہاں میں ابراہیم (علیہ السلام) کی عاء کا نتیجہ ہوں اور اخدی نبی جس کے متعلق عیسیٰ (علیہ السلام) نے بشارت دی۔ (راو ابن عساکر)
35479- عن عبادة بن الصامت قال: قيل: يا رسول الله! أخبرنا عن نفسك، قال: " نعم، أنا دعوة أبي إبراهيم، وكان آخر من بشر بي عيسى ابن مريم ". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت
35480 ۔۔۔ ابوالطفیل سے روایت ہے کہ جب بیت اللہ کی تعمیر ہوئی تو لوگ پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے ساتھ پتھر اٹھا کر لائے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چادر کا کنارہ کندے پر رکھا توغیبی آواز آئی کہ خبردار سترکھلے نہ پائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پتھر پھینک کر لباس کو اچھی طرح پہنچا۔ (عبدالرزاق)
35480- عن أبي الطفيل قال: لما بني البيت كان الناس ينقلون الحجارة والنبي صلى الله عليه وسلم ينقل معهم فأخذ الثوب فوضعه على عاتقه، فنودي: لا نكشف عورتك! فألقى الحجر ولبس ثوبه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت
35481 ۔۔۔ مسند ابی طلحہ (رض) میں ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر بھوک کے آثار محسوس کیا ام سلیمہ سے پوچھا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے ؟ تو انھوں نے ہتھیلی سے اشارہ کرکے کہا کچھ ہے میں نے کہا جلدی سے تیار کروں اور انس (رض) کو بھیجا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاکر کان میں بتاؤ ان کو کھانے کے لیے بلاؤ جب انس (رض) پہنچا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مجلس سے فرمایا کہ یہ تمہیں کچھ بتانے آیا ہے کہ پوچھا کیا تمہارے آبانے بھیجا ہے انس نے (رض) نے کہا ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان فرمایا کہ اٹھو بسم اللہ انس (رض) دوڑتے ہوابوطلحہ کے پاس پہنچا اور کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کی جماعت لے کر آرہا ہے میں آگے پڑھا اور دروازے کے بارہرباکرملا اتگ کی اور عرض کیا یارسول اللہ آپ نے ہمارے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ میں نے تو آپ کے چہرہ انور پر بھوک کے آثار دیکھا کہ صرف آپ کے لیے کھانا تیار کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گھر کے اندر جاکر بشارت دو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے برتن آپ کے سامنے پیش کیا گیا آپ نے اپنے ہاتھ سے کھانے کو برابر کیا پوچھا کچھ سالن بھی ہے انھوں نے گھی کا دبہ پیش کردیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دس دس افراد کو شروں خواہ پر بیٹھا نے جاؤ کل سو کے قریب افراد تھے وہ داخل ہوئے گئے کھانے سے فارغ ہوئے گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچے کھانے کے متعلق فرمایا کہ تم اور تمہارے گھروالے کھاتے انھوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا۔ (طبرانی)
35481- "من مسند أبي طلحة" دخلت المسجد فعرفت في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم الجوع فسألت أم سليم: هل عندك من شيء؟ فأشارت بكفيها فقالت: عندي شيء، فقلت: اصنعي اعجني، وأرسلت أنسا فقلت: ايته فساره في أذنه وادعه، فلما أقبل أنس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " هذا رجل قد أتاكم يخبرنا بشيء، أرسلك أبوك يدعونا"؟ قال أنس: نعم، قال: " قوموا بسم الله "، فأدبر أنس يشتد حتى أتى أبا طلحة فقال: رسول الله قد أتاك في الناس! قال أبو طلحة: فاستقبلته عند الباب على مستراح الدرجة فقلت: ماذا صنعت بنا يا رسول الله؟ إنما عرفنا في وجهك الجوع فصنعنا لك شيئا تأكله، قال: "ادخل وأبشر"، فدخل فأتي بصحفة، فجعل يسويها بيده ثم قال: " هل من كابه يعني الأدم"؟ فأتوه بعكتهم فيها شيء أو ليس فيها: فقال بيده فانسكب منها السمن، فقال: "أدخل علي عشرة عشرة"، قال: وهم زهاء مائة فدخلوا فأكلوا حتى شبعوا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للفضل:" كلوا أنتم وعيالكم"، فأكلوا وشبعوا. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت
35482 ۔۔۔ ابوعمرہ انصاری (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھے لوگوں کو بھوک نے ستایا لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی کہ سواری کے بعض جانور کو ذبح کیا جائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دینے کا ارادہ کیا تھا لیکن عمربن خطاب نے کہا یارسول اللہ اگر ہم نے سواری کے جانور ذبح کرڈالا کل کو پھر کسی دشمنی سے مقابلہ ہوجائے اور ہم بھوکے ہوں تو ہمارا کیا حال ہوگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا اے عمر آپ کا کیا مشورہ ہے تو عرض کیا کہ لوگوں کو حکم دیں کہ ان کے پاس کھانے جو سامان باقی ہیں ان کو ایک جگہ جمع کریں پھر آپ ہمارے حق میں برکت کی دعا کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعا کی برکت سے منزل تک پہنچا دے ان شاء اللہ تعالیٰ چنانچہ آپ نے ایک چادر منگوا کر بچھائی پھر لوگوں کو حکم دیا کہ کھانے پینے کے سامان اس میں جمع کردیں وہ اپنے پاس بچے ہوئے سامان لے آئے بعض تو ایک مٹھی جو لایا بعض انڈے برابر پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی انگشت مبارک اس میں رکھدیا پھر اس میں برکت کی دعا کی اور جو کچھ عرض کرنا تھا کردیا پھر لشکر میں جمع ہونیثر کے لیے ندا کردایا پھر آپ نے کھانے کا حکم فرمایا سب نے پیٹ بھر کر کھایا اپنے برتن اور مشکیرے بھرلئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک برتن رکھا گیا پھر آپ نے پانی مانگوا اس میں ڈالا پھر اس میں کلی فرمایا پھر اللہ تعالیٰ سے حثب مناء عرض ومعروض کیا پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انگلی اس میں ڈال دی میں اللہ کی قسم کھاکرکہتاہوں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگلیوں سے پانی کے چشمے بہتے دیکھا پھر آپ نے لوگوں کو پانی لینے کا حکم فرمایا لوگوں نے سیر ہو کر پیا انھوں نے اپنے مشکیزے اور برتنوں کو بھر لیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے حتی کہ آپ کے نواجد مبارک نظر آئے پھر فرمایا : ان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمد اعبدہ ورسولہ جو شخص قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ان دونوں شہادتوں کے ساتھ ملاقات کرے وہ جنت میں داخل ہوگا کتناہی گناہ گار کیوں نہ ہو۔ (طبرانی)
35482- عن أبي عمرة الأنصاري قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة غزاها فأصاب الناس مخمصة، فاستأذن الناس النبي صلى الله عليه وسلم في نحر بعض ظهورهم، فهم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يأذن لهم في ذلك فقال عمر بن الخطاب: أرأيت يا رسول الله إذا نحن نحرنا ظهورنا ثم لقينا عدونا غدا ونحن جياع رجال! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فما ترى يا عمر " قال: تدعو الناس ببقايا أزوادهم ثم تدعو لنا فيها بالبركة، فإن الله تبارك وتعالى سيبلغنا بدعوتك إن شاء الله، فدعا بثوب فأمر به فبسط، ثم دعا الناس ببقايا أزوادهم، فجاؤا بما كان عندهم، فمن الناس من جاء بالحفنة من الطعام، ومنهم من جاء بمثل البيضة، فأمر به رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضع يده على ذلك الثوب ثم دعا فيه بالبركة وتكلم بما شاء أن يتكلم ثم نادى في الجيش، فجاؤا ثم أمرهم فأكلوا وطعموا وملأوا أوعيتهم ومزاودهم؛ ثم دعا بركوة فوضعت بين يديه، ثم دعا بماء فصبه فيها ثم مج فيها وتكلم بما شاء الله أن يتكلم ثم أدخل خنصره فيها، فأقسم بالله لقد رأيت أصابع رسول الله صلى الله عليه وسلم تفجر ينابيع من الماء! ثم أمر الناس فشربوا وسقوا وملأوا قربهم وأداويهم، ثم ضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه ثم قال:" أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله لا يلقاه بهما أحد يوم القيامة إلا دخل الجنة على ما كان". "طب".
tahqiq

তাহকীক: