কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৪৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنکریوں کا دست مبارک میں تسبیح پڑھنا
35443 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی تھا جس کا نام جریجر تھا اس کے حضور کے اوپر کچھ دینار کا قرضہ تھا تو اس نے حضور سے مطالبہ کیا حضور نے فرمایا کہ میرے پاس دینے کو کچھ نہیں ہے اس پر یہودی نے کہا کہ میں آپ سے اس وقت تک الگ نہیں ہوں گا جب تک آپ مجھے ادائیگی نہ کردیں اس پر حضور نے فرمایا : ٹھیک ہے میں آپ کے پاس بیٹھا رہوں گا پھر بیٹھے رہے اور ظہر ، عصر مغرب ، عشاء اور دوسری صبح کی نماز بھی اس کے ہاں پڑھی دوسری طرف بعض صحابہ (رض) نے فرمایا کہ ایک یہودی آپ کو حبس میں رکھے یہ کیسا ہوسکتا ہے ؟ حضور نے جواب میں فرمایا میرے رب نے مجھے اس سے روکا ہے کہ میں کسی معاہدہ (ذمی) یا کسی اور پر ظلم کروں جب دوسرا دن طلوع ہوا تو یہودی نے کہا : اشھد ان لاالہ الا اللہ واشھدان محمد عبدہ ورسولہ (میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ ایک ہی ہے اور مجھ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ) یہ بھی کہا کہ میرے حال کا آدھا اللہ کے راستے میں صدقہ ہے اللہ کی قسم میں نے یہ جو کچھ کیا محض اس لیے کیا کہ میں یہ تصدیق کرسکوں کہ آپ میں توراۃ والی صفات موجود ہیں جو کہ کچھ یوں ہیں محمد بنعبداللہ مکہ میں پیداہوں گے اور طیبہ (مدینہ ) ان کی ہجرت کی جگہ ہوگی اس کی بادشاہی شام تک جائے گی نہ بدرزبان ہوگا اور نہ سخت دل نہ بازاروں میں شور مچانے والا نہ فحش باتوں میں ملعوث ہوگا لہٰذا میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ ایک ہی ہے اور آپ کے ان کے رسول ہیں ، یہ میرا حال ہے اس میں آپ اپنی مرضی کا فیصلہ کرلیجئے (راوی کہتا ہے) یہ یہودی بہت مالدار بھی تھا۔ (بیہقی فی الدلائل ابن عساکر علامہ ابن حجر نے اطراف میں فرمایا ہے کہ اس حدیث پر کوئی کلام نہیں اور اس کی سند میں ابوعلی محمد بن محمد الاشعت الکوفی ہے جس کی ایک جماعت نے تکذیب کی ہے)
35443- عن علي أن يهوديا كان يقال له جريجرة وكان له على النبي صلى الله عليه وسلم دنانير فتقاضى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له: " يا يهودي! ما عندي ما أعطيك"، قال: فإني لا أفارقك يا محمد حتى تعطيني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا أجلس معك"، فجلس معه فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك الموضع الظهر والعصر والمغرب والعشاء الآخرة والغداة، وكان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يهددونه ويتوعدونه، ففطن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "ما الذي تصنعون به"؟ فقالوا، يا رسول الله! يهودي يحبسك! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "منعني ربي أن أظلم معاهدا ولا غيره"؛ فلما ترجل النهار قال اليهودي: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، وشطر مالي في سبيل الله، أما والله! ما فعلت الذي فعلت بك إلا لأنظر إلى نعتك في التوراة: محمد بن عبد الله، مولده بمكة، ومهاجره بطيبة، وملكه بالشام، ليس بفظ ولا غليظ، ولا سخاب في الأسواق، ولا متزي بالفحش، ولا قول الخنا. أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله، هذا مالي فاحكم فيه بما أراك الله؛ وكان اليهودي كثير المال. "ك، ق في الدلائل، كر، قال ابن حجر في الأطراف: لم يتكلم عليه؛ ك وفي إسناده أبو علي محمد بن محمد الأشعث الكوفي وكذبه جماعة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنکریوں کا دست مبارک میں تسبیح پڑھنا
35444 ۔۔۔ ابومحمد حسن بن احمدمخلدی فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ۔ ابوالعباس محمد ابن اسحاق السراج نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کیا قتیبہ بن سعید نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کیا ابوہاشم کثیر بن عبداللہ اریلی سے وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس (رض) سے سنا کہ معاویہ بن قرة کے سامنے یہ حدیث سنا رہے تھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے جب کہ میں آٹھ سال کا بچہ تھا میرا والد فوت ہوگیا تھا اور میری والدہ نے ابوطلحہ کے ساتھ نکاح کیا تھا جب کہ ابوطلحہ اس وقت میں بہت فقر تھے بسا اوقات ہم ایک دو راتیں ایسا بھی گذارا کرتے تھے کہ رات کا کھانا نہیں ملتا تھا ایک مرتبہ ہمیں ایک مٹھی جو ملی میں نے اسے پیس کر آٹا بناکر دوروٹیاں بنائیں اور والدہ کی ایک انصاری پڑوسی سے کچھ دودھ مانگا جس کو میں نے ان روٹیوں کے اوپر ڈال دیا والدہ نے کہا جاؤ ابوطلحہ کو بھی بلاؤ اور دونوں مل کر کھاؤ میں نکلا اور خوشی سے دوڑ رہا تھا کہ اب ہم مل کر یہ چیز کھائیں گے اچانک میری ملاقات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہوئی جو چند صحابہ کرام (رض) کے ساتھ تشریف فرما تھے میں حضور کے قریب گیا اور کہا کہ میری والد آپ کو بلارہی ہے حضور اٹھے اور صحابہ کرام (رض) کے ساتھ تشریف فرما تھے میں حضور کے قریب گیا اور کہا کہ میری والدہ آپ کو بلارہی ہے حضور اٹھے اور صحابہ کرام (رض) سے فرمایا اٹھوچلتے چلتے ہمارے گھر کے قریب پہنچ گئے توابوطلحہ سے کہنے لگے کہ کیا آپ نے کوئی کھانا تیار کیا ہے جو ہمیں آپ نے بلایا ہے ابوطلحہ نے جواب میں عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق رسول بناکر بھیجا ہے کہ میری منہ میں کل سے کوئی نوالہ نہیں اترا ہے اس پر حور نے فرمایا کہ پھر ام سلیم نے کیوں ہمیں بلایا ہے جاکر دیکھ لو اور جائزہ لوحضرت ابوطلحہ اندر گئے اور پوچھا : ام سلیم آپ نے حضور کو کس مقصد کے لیے بلایا ہے ؟ ام سلیم نے جواب دیا کچھ اور یہیں صرف اتنی بات بھی کہ میں نے جو کی دوروٹیاں بنائی تھیں اور اپنی انصار ی پڑوسن سے کچھ دودھ مانگ کر اس پر ڈال دیا تھا میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ جا ابوطلحہ کو بلالاؤ اور دونوں مل کر کھاؤ ۔ حضرت ابوطلحہ نکلے اور حضور کو یہ سارا ماجرا سنایا ۔ حضور نے فرمایا انس ہمیں اندر لے جاؤ تو حضور اندر گئے میں اور ابوطلحہ بھی اندر گئے حضور نے فرمایا ام سلیم اپنی روٹیاں لدؤ وہ لائی اور حضور کے سامنے رکھ دیں حضور نے اپنے ہاتھ مبارک روٹیوں کے اوپر پھیلا کر رکھ دی اور انگلیاں ملائی پھر فرمایا : ابوطلحہ جا اور دس صحابہ کو بلاؤ انھوں نے دس صحابہ کو بلایا حضور نے فرمایا : بیٹھ جاؤ اور اللہ کا نام لے کر میری انگلیوں کے درمیان سے کھانا شروع کرو وہ بیٹھ گئے اور اللہ کا نام لے کر حضور کی انگلیوں کے درمیان سے کھانا شروع کیا اور سیر ہو کر کہا کہ بس ہم سیر ہوگئے حضور نے فرمایا اب تم جاؤ پھر ابوطلحہ سے فرمایا دس اور کو بلالدخ اس طرح وہ ہر بار میں دس دس کو بلاتا رہا حتی کہ تہتر 73 آدمیوں نے سیر ہو کر کھایا پھر فرمایا اے ابوطلحہ اور انس تم آجاؤ تو حضور نے اور ابوطلحہ اور میں نے مل کر کھایا ہم بھی سیر ہوگئے پھر حضور نے وہ اور روٹیاں اٹھوائیں اور فرمایا ام سلیم خود بھی کھاؤ اور جسے مرضی ہو اس کو بھی کھلاؤ جب ام سلیم نے یہ صورت حال دیکھی تو اس پر ایک رعب طاری ہوا یعنی تعجب کی وجہ سے ۔ (حافظ ابن حجر نے عشاریات میں اس حدیث کی روایت کی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ حدیث حضرت انس کے خالہ سے مشہور ہے لیکن غریب ہے او کثیر بن عبداللہ راوی کی وجہ سے اس سند میں کمزوری ہے لیکن دوسری طرف یہ راوی (کثیر ) اس میں اکیلا نہیں ہے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ بیٹھی اس کا ساتھ دیا ہے امام بخاری نے بھی اس حدیث کی تخریج کی ہے)
35444- "مسند أنس" أبو محمد بن أحمد المخلدي ثنا أبو العباس محمد بن إسحاق السراج حدثنا قتيبة بن سعيد ثنا أبو هاشم كثير بن عبد الله الأيلى سمعت أنس بن مالك يحدث معاوية بن قرة قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وأنا ابن ثمان سنين وكان أبي توفي وتزوجت أمي بأبي طلحة، وكان أبو طلحة إذ ذاك لم يكن له شيء وربما بتنا الليلة والليلتين بغير عشاء، فوجدنا كفا من شعير فطحنته وعجنته وخبزت منه قرصين، وطلبت شيئا من اللبن من جارة لها أنصارية فضبت على القرصين وقالت: اذهب فادع بأبي طلحة تأكلان جميعا، فخرجت أشتد فرحا لما أريد أن آكل فإذا أنا برسول الله صلى الله عليه وسلم قاعدا وأصحابه! فدنوت من النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: إن أمي تدعوك، فقام النبي صلى الله عليه وسلم وقال لأصحابه: "قوموا"، فجاء حتى انتهى إلى قريب من منزلنا فقال لأبي طلحة: "هل صنعتم شيئا دعوتمونا إليه"؟ فقال أبو طلحة: والذي بعثك بالحق نبيا! ما دخل فمي منذ غداة أمس شيء، قال: "فمن أي شيء دعتنا أم سليم"! ادخل فانظر فدخل أبو طلحة فقال: يا أم سليم لأي شيء دعوت رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: ما فعلت غير أني اتخذت قرصين من شعير وطلبت من جارتي الأنصارية لبنا فصببت على القرصين وقلت لأبني أنس، اذهب فادع أبا طلحة تأكلان جميعا، فخرج أبو طلحة فقال للنبي صلى الله عليه وسلم الذي قالت أم سليم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ادخل بنا يا أنس"! فدخل النبي صلى الله عليه وسلم وأبو طلحة وأنا معهم فقال: " يا أم سليم! أتيني بقرصك "، فأتته به، فوضعه بين يديه، وبسط النبي صلى الله عليه وسلم يديه على القرص وقرن بين أصابعه فقال: " يا أبا طلحة! اذهب فادعو من أصحابنا عشرة"، فدعا بعشرة، فقال لهم: " اقعدوا وسموا الله وكلوا من بين أصابعي"، فقعدوا فقالوا: بسم الله، وأكلوا من بين أصابعه حتى شبعوا، فقالوا: شبعنا، فقال: "انصرفوا" وقال لأبي طلحة: أدع بعشرة أخرى، فما زال يذهب عشرة ويجيء عشرة حتى أكل منه ثلاثة وسبعون رجلا ثم قال: " يا أبا طلحة ويا أنس! تعالوا"، فأكل النبي صلى الله عليه وسلم وأبو طلحة وأنا معهم حتى شبعنا، ثم إنه رفع القرصين فقال: " يا أم سليم! كلي وأطعمي من شئت "، فلما أبصرت أم سليم ذلك أخذتها الرعدة - يعني من التعجب "أورده الحافظ ابن حجر في عشارياته وقال: هذا حديث غريب من هذا وهو مشهور عن أنس، وفي هذا الإسناد مقال من جهة كثير بن عبد الله وقد تكلموا فيه ولكنه لم ينفرد به، وقد تابعه إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس، أخرجه خ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنکریوں کا دست مبارک میں تسبیح پڑھنا
35445 ۔۔۔ حضرت اھبان اروس اسلمی سے روایت ہے کہ میں اپنی بکروں کے ساتھ تھا کہ ایک بھیڑیا نے ایک بکری پر حملہ کیا تو چروا ہے نے اس پر چیخ ماری تو وہ بھیڑ یا اپنے دم کے بل بیٹھ گیا اور مجھے مخاطب ہو کر کہا جس دن آپ کی توجہ نہیں ہوگی اس دن کون ان بکریوں کی حفاظت کرے گا ؟ کیا آپ مجھے اس رزق سے محروم کرنا چاہتے ہیں جو اللہ مجھے دے رہا ہے میں نے تالی بجا کر کہا کہ اللہ کی قسم اس سے زیادہ تعجب والی چیز تو میں نے نہیں دیکھی بھیڑیا نے کہا : آپ تعجب کا اظہار کررہے ہیں جب کہ اللہ کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھجوروں میں موجود ہیں یہ کہہ اس بھیڑیے نے مدینہ کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا وہ رسول ایسے ہیں کہ لوگوں کو گزشتہ چیزوں کی خبریں بھی بتاتا ہے اور آنے والی چیزوں کا بھی وہ اللہ کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں اور اللہ کی عبادت کی ترغیب دیتے ہیں اھبان پھر حضور کے پاس آئے اور اپنا اور بھیڑیے کا یہ مذکورہ قصہ سنایا اور مسلمان ہوگیا (بخاری نے اپنی تاریخ میں اس کی روایت کی ہے اور فرمایا ہے اس کا مسند قوی نہیں ہے ابونعیم نے بھی اس کی روایت کی ہے۔ )
35445- عن أهبان بن أوس الأسلمي أنه كان في غنم له فشد الذئب على شاة منها فصاح عليه فأقعى على ذنبه فخاطبني فقال: من لها يوم تشغل عنها! تنزع مني رزقا رزقنيه الله! فصفقت بيدي وقلت: والله ما رأيت شيئا أعجب من هذا! فقال: تعجب ورسول الله صلى الله عليه وسلم بين هذه النخلات - وهو يومئ بيده إلى المدينة - يحدث الناس بنبأ ما قد سبق ونبأ ما يكون وهو يدعو إلى الله وإلى عبادته، فأتى أهبان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره بأمره وأمر الذئب وأسلم. "خ في تاريخه وقال: إسناده ليس بالقوى، وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حنین الجد ذع کھجور کے تنے کا رونا
35446 ۔۔۔ (مسندابی ) جب مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کھجور کی ٹہنیوں کی بنی ہوئی تھی اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک تنہ کے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے اور خطبہ بھی دیتے تھے صحابہ کرام (رض) میں سے ایک شخص نے کہا کیا ہم آپ کے لیے کوئی ایسی چیز وبنا دیں جس پر آپ کھڑے ہو کر جمعہ کے دن خطبہ دیاکریں اور لوگ آپ کو دیکھ سکیں آپ ان کو اپنا خطبہ سنائیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاں فرمایا تومنبر کے تین درجات بنادئیے جب منبر پر تیار ہوگیا تو اس جگہ رکھ دیا گیا جہاں منبر تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر کھڑے ہونے کا ارادہ کیا تو اس تنہ کے پاس سے گذر جس پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے جب آگے پڑھ گئے تو تنہ نے چیخ ماری اور پھٹ گیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب اس کی آواز سنی تو منبر سے اتر کر اپنا دست مبارک اس پر پھیرا یہاں تک اس کو سکون آگیا پھر واپس منبر پر آگئے جب آپ نماز پڑھتے تو اس کے قریب جاکر نماز پڑھتے ۔ (الشافعی داری ابن ماجہ ، بختیلی بسعید بن منصور عبداللہ بن احمد بن اور اضافہ کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ اگر توچا ہے تو تجھے جنت میں لادیا جائے تاکہ صالحین تیرا پھل کھائے اگر چاہو تو تمہیں دوبارہ تازہ درخت بنادیا جائے تو تنہ نے آخرت نے درخت بننے کو ترجیح دی۔
35446- "مسند أبي" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي إلى جذع إذ كان المسجد عريشا وكان يخطب إلى ذلك الجذع، فقال رجل من أصحابه: هل لك أن تجعل لك شيئا تقوم عليه يوم الجمعة حتى يراك الناس وتسمعهم خطبتك؟ قال: "نعم"، فصنع له ثلاث درجات، فهي التي على المنبر، فلما وضع المنبر وضعوه في الموضع الذي هو فيه، فلما أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقوم على المنبر مر إلى الجذع الذي كان يخطب إليه، فلما جاوز الجذع خار حتى تصدع وانشق، فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم لما سمع صوت الجذع فمسحه بيده حتى سكن، ثم رجع إلى المنبر، فكان إذا صلى صلى إليه. "الشافعي، حم، والدارمي، هـ، ع، ص، زاد عبد الله بن أحمد: فقاله النبي صلى الله عليه وسلم: إنك إن تشأ - غرستك في الجنة فيأكل منك الصالحون، وإن تشأ - أعيدك كما كنت رطبا فاختار الآخرة على الدنيا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المعراج
35447 ۔۔۔ عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ میں نے معراج کی رات مسجد کے سامنے کے حصہ میں نماز پڑھی پھر ضحرہ میں داخل ہوا تو دیکھا ایک فرشتہ کھڑا ہے اور ان کے ساتھ تین برتن میں نے شھد کا برتن لیا اور اس میں سے تھوڑا ساپیا پھر دوسرا لیا اس میں سے پیایہاں تک سیر ہوگیا وہ دودھ کا برتن تھا فرشتہ نے کہا تیسرے برتن سے بھی پی لیں وہ شراب کا برتن تھا میں نے کہا میں سیر ہوگیا ہوں تو فرشتہ نے کہا اگر آپ اس شراب کے برتن سے پی لیتے تو آپ کی امت کبھی بھی فصرات پڑ جمع نہ ہوتی ، پھر مجھے آسمانوں لے جایا گیا اور مجھ ہر نماز فرض کی گئی پھر میں خدیجہ (رض) کے پاس واپس پہنچ گیا بھی بشریر کروٹ بھی نہ بدلہ تھا۔ (ابن مردویہ)
35447- عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " صليت ليلة أسري بي في مقدم المسجد ثم دخلت إلى الصخرة فإذا ملك قائم معه آنية ثلاثة، فتناولت العسل فشربت منه قليلا، ثم تناولت الآخر فشربت منه حتى رويت فإذا هو لبن، فقال: اشرب من الآخر، فإذا هو خمرا! فقلت: قد رويت، فقال: أما إنك لو شربت من هذا لم تجتمع أمتك على الفطرة أبدا: ثم انطلق بي إلى السماء ففرضت علي الصلاة، ثم رجعت إلى خديجة وما تحولت عن جانبها الآخر. " ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المعراج
35448 ۔۔۔ محمد بن عمیر بن عطاء دبن حاجب تمیمی نے اپنے والد سے نقل کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ معراج کی رات میں ایک درخت ہر تھا جبرائیل (علیہ السلام) دوسرے درخت پر تھے اللہ کے حکم سے ہم برتجلی ہوئی جبرائیل (علیہ السلام) توبیہوشی سے گریر اور میں اپنی جگہ قائم رہا تو میں نے جبرائیل (علیہ السلام) کے ایمان کی اپنے ایمان پر فضلیت کو جان لیا۔ (رواہ ابن عساکر)
35448- عن محمد بن عمير بن عطارد بن حاجب التميمي عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لما أسري بي كنت أنا في شجرة وجبريل في شجرة: فغشينا من أمر الله بعض ما غشينا، فخر جبريل مغشيا عليه وثبت على أمري، فعرفت فضل إيمان جبريل على إيماني. " كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المعراج
35449 ۔۔۔ محمد بن عمیر بن عطاء نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام (رض) کی ایک جماعت میں تھے جبرائیل (علیہ السلام) آیا اور میں ان کے پچھلے روانہ ہوا مجھے ایک درخت پر لے گیا اس میں پرندہ کے گھوسلہ کی طرح بنے ہوتے تھا ایک ہر میں بیٹھ گیا دوسرے میں وہ بیٹھ گیا پھر پروں کو پھیلا یا یہاں تک پورے افق کو بھر دیا اور کہا اگر میں اپنا ہاتھ آسمان کی طرف پھیلادوں تو آسمان کو ہاتھ لگالوں مجھے سبب بتایا اتنے نور ظاہر ہوا جبرائیل (علیہ السلام) بیہوش ہو کر گر بڑا گوبا کہ ایک ٹاٹ ہے مجھے اندزہ پھر گیا کہ ان کا خوف مجھ سے بڑا ہوا ہے میرے پاس وحی آئی کہ بادشاہت والی نسبت پسند ہے یاعبلات والی جو بھی قبول ہوا آپ کو جنت ملے گی جبرائیل (علیہ السلام) نے میر یطرف اشارہ فرمایا تواضع اختیار کریں تو میں نے جواب دیا : عبدیت والی نبوت پسند ہے۔ (الحسن بن سفیان ابونعیم کی المعرفة ابن عساکر اجالہ ثقات)
35449- عن محمد بن عمير بن عطارد " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في نفر من أصحابه فجاء جبريل فنكست في ظهره، قال: فذهب بي إلى شجرة فيها مثل وكري الطير فقعد في أحدهما وقعدت في الآخر، ثم نشأت بهما حتى ملأت الأفق، قال: فلو بسطت يدي إلى السماء لنلتها، فدلي بسبب وهبط النور، فوقع جبريل مغشيا عليه كأنه حلس، فعرفت فضل خشيته على خشيتي، فأوحى إلي: أنبي عبد أم نبي ملك وإلى الجنة ما أنت فأومى إلي جبريل أن تواضع، فقلت: نبيا عبدا. " الحسن بن سفيان وأبو نعيم في المعرفة، كر، ورجاله ثقات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المعراج
35450 ۔۔۔ ابوالحمبر اسے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ میں نے معراج کی رات اس طرح دیکھا۔
35450- عن أبي الحمراء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليلة أسري بي: رأيت كذا ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المعراج
35451 ۔۔۔ مسندابی سعد میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ معراج کی رات مجھ پر پچاس نمازیں فرض ہوئی تھیں پھر کم ہوتی گئیں یہاں تک اس کو پانچ نمازیں بنادیں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : کہ تمہارے لیے پانچ میں پچاس نمازوں کا ثوب سے اس طرح کہ ہرنی کی کا دس ثواب ہے۔ (عبدالرزاق)
35451- "مسند أبي سعيد" قال، فرضت على النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة ليلة أسري به خمسين، ثم نقصت حتى جعلت خمسا، فقال الله: فإن لك بالخمس خمسين، الحسنة بعشر أمثالها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المعراج
35452 ۔۔۔ مسند شداد بن اوس میں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نے مکہ میں صحابہ کرام (رض) کو عشاء کی نماز پڑھائی عشاء کے وقت میں اس کے بعد جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس ایک سفید رنگ کا جانور لے کر آیا توگدھا سے ذرا بڑھا اور خچر سے تھوڑا چھوٹا تھا اس پر سوار ہونا میرے دشوار تھا جبر نے کان سے پکڑ اس کو گمایا اور مجھے اس پر سوار کروا دیا وہ ہمیں لے کر چل پڑا منتہا نظر پر قدم رکھتا تھا یہاں تک ہم ایک نخلستان والی سرزمین پر پہنچے تو کہا اتریں میں اتر گیا کہا نماز پڑھیں میں نے نماز پڑھی پھر ہم سوار ہوگئے پوچھا معلوم ہے آپ نے کس جگہ نماز پڑی میں نے کہا اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے تو بتایا آپ نے مدین میں شجرة موسیٰ کی جگہ پر نماز پڑھی ہے پھر ہمیں لے کر چل پڑا منہائے نظر پر قدم رکھتا رہا پھر بلند ہونا کہا اتریں میں اتر گیا وہاں نماز پڑھیں میں نے نماز پڑھی پوچھا معلوم بھی ہے کہا بن نماز پڑھی میں نے کہا اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے بتایا گیا کہ آپ نے بہت اللحم میں نماز جو عیسیٰ بن مریم کی جائے پیدائش ہے پھر مجھے لے کر روانہ ہوایہاں تک ہم شہر میں بابہ کمانی سے داخل ہوئے مسجد کے قبلہ کی جانب آیا اور جانور کو باندھ دیا اور ہم مسجد میں اس دروازے سے داخل ہوئے جس پرچاند و سورج سیدھا نہیں گذرتا بلکہ مائل ہو کر گذرتا ہے میں نے مسجد میں نماز ڑھی جہاں اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے ایک میں دودھ تھا دوسرے میں شہد دونوں میرے پاس بھیجا گیا میں نے دونوں میں مواز کیا اللہ تعالیٰ نے میری رہنمائی فرمائی میں نے دودھ کو اختیار کیا اس میں سے پیا اور خوب سیر ہو کر بیا میرے سامنے ایک شیخ ٹیک لگاکر بیٹھے ہوئے تھے انھوں نیکہا آپ کے ساتھی نے نصراب کو اختیار کیا ہے پھر مجھے لے چلا یہاں تک ہم شہر کے ایک وادی میں پہنچے وہاں جہنم منکشف ہوئی جس کی آگ زرابی کی طرح سرخ تھی پھر صہما را گذر قریش کے ایک قافلہ پر ہوا جو فلاں فلاں مقام پر تھا وہ اپنے ایک اونٹ کھوچکا تھا میں نے ان کو سلام کیا تو انھوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا یہ تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز ہے پھر میں صبح ہونے سے پہلے اپنے صحابہ کے پاس مکہ پہنچ گیا ابوبکر (رض) میرے پاس آیا اور پوچھا یارسول اللہ آپ رات کہاں تھے میں آپ کو اپنی جگہ تلاش کیا آپ نہ مل سکے میں نے کہا میں آپ کو بتاتاہوں میں بیت المقدس گیا تھا عرض کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ تو ایک ماہ کی مساوت پر ہے آپ اس کے اور صاف مجھے بتادیں تو میرے لیے راستہ کھول دیا گیا گویا کہ میں بیت المقدس کو دیکھ رہاہوں مجھ سے اس بارے میں جو سوالات ہونے گئے میں دیکھ کر دیکھ بتاتا گیا۔ (البز ارابن بی حاتم طبانی ابن مردویہ بیہقی فی الدلائل وصحیہ)
35452- "مسند شداد بن أوس" قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " صليت بأصحابي صلاة العتمة بمكة معتما، فأتاني جبريل بدابة بيضاء فوق الحمار ودون البغل، فاستصعبت علي فأدارها بأذنها حتى حملني عليها، فانطلقت تهوي بنا تضع حافرها حيث أدرك طرفها حتى انتهينا إلى أرض ذات نخل، قال: انزل، فنزلت، ثم قال: صل، فصليت، ثم ركبنا فقال لي: أتدري أين صليت؟ قلت: الله أعلم، قال: صليت بيثرب صليت بطيبة؛ ثم انطلقت تهوي بنا تضع حافرها حيث أدرك طرفها حتى بلغنا أرضا بيضاء، قال لي: انزل، فنزلت، ثم قال: صل، فصليت، ثم ركبنا، قال: أتدري أين صليت؟ قلت: الله أعلم، قال: صليت بمدين صليت عند شجرة موسى؛ ثم انطلقت تهوي بنا تضع حافرها حيث أدرك طرفها ثم ارتفعنا، فقال: انزل، فنزلت، فقال: صل، فصليت، ثم ركبنا فقال؟ أتدري أين صليت؟ قلت: الله أعلم، قال: صليت ببيت لحم حيث ولد المسيح ابن مريم؛ ثم انطلق بي حتى دخلنا المدينة من بابها اليماني، فأتى قبلة المسجد فربط دابته، ودخلنا المسجد من باب فيه تميل الشمس والقمر، فصليت في المسجد حيث شاء الله، ثم أتيت بإناءين: في أحدهما لبن، وفي الآخر عسل، أرسل إلي بهما جميعا فعدلت بينهما، ثم هداني الله فاخترت اللبن، فشربت حتى قرعت به جبيني، وبين يدي شيخ متكيء فقال: أخذ صاحبك بالفطرة؛ ثم انطلق بي حتى أتيت الوادي الذي بالمدينة فإذا جهنم تنكشف عن مثل الزرابي! ثم مررنا بعير لقريش بمكان كذا وكذا قد أضلوا بعيرا لهم فسلمت عليهم، فقال بعضهم لبعض: هذا صوت محمد؟ ثم أتيت أصحابي قبل الصبح بمكة، فأتاني أبو بكر فقال: يا رسول الله! أين كنت الليلة؟ فقد التمستك في مكانك فلم أجدك، فقلت: أعلمت أني أتيت بيت المقدس الليلة؟ فقال: يا رسول الله! إنه مسيرة شهر فصفه لي، ففتح لي صراط كأني أنظر إليه، لا يسألوني عن شيء إلا أنبأتهم عنه. " البزار وابن أبي حاتم، طب وابن مردويه، ق في الدلائل؛ وصححه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المعراج
35453 ۔۔۔ معافی بن ز کرنا جریر سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ ہم سے حدیث بیان کیا محمد بن حمد ان حمد ان صبدلانی نے کہ ہم سے حدیث بیان کیا محمد بن مسلم واسطی نے انھوں نے کہا کہ ہم سے حدیث بیان کی ہے یزید بن ہارون نے انھوں نے کہا کہ ہمیں خبردی ہے خالد خداء نے ابی قلد بہ سے انھوں نے روایت کی ہے ابن عباس (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کو فضلیت دی ہے مقرب فرشتوں پر جب میں ساتویں آسمان پر پہنچا تو ایک فرشتہ ملا نور کے سر برپر میں نے ان کو سلام کیا انھوں نے سلام کا جواب دیا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجا کہ تم کو سلام کیا ہے میرے منتخب نبی نے تم ان سے ملنے کے لیے کھڑے ہی نہیں ہوئے میرے عزت و جلال کی قسم تم اب کھڑے ہی رہو گے قیامت تک نہیں بیٹھ سکتے ۔ (خطیب دیلمی مفنی میں روایت ہے محمد بن سلمہ داسفی نے یزدی سے روایت کی ہی ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں ضعیف قراردیا ہے )
35453- المعافى بن زكريا الجريري حدثنا محمد بن حمدان الصيدلاني حدثنا محمد بن مسلمة الواسطي حدثنا يزيد بن هارون أنبأنا خالد الحذاء عن أبي قلابة عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن الله عز وجل فضل المرسلين على المقربين لما بلغت السماء السابعة، لقيني ملك من نور على سرير فسلمت عليه فرد علي السلام، فأوحى الله إليه: سلم عليك صفيي ونبيي ولم تقم إليه وعزتي وجلالتي لتقومن فلا تقعدن إلى يوم القيامة. " خط والديلمي؛ قال في المغني: محمد بن مسلمة الواسطي عن يزيد ضعفه اللالكائي وضعفه ابن الجوزي في الموضوعات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المعراج
35454 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ معراج کی رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنت میں داخل ہوئے تو جنت کی ایک جانب کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی تو پوچھا اے جبرائیل یہ کون ہے بتایا بلال موذن ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب لوگوں کے پاس واپس آئے تو فرمایا کہ بلال کامیاب ہوگیا میں نے ان کا مقام اس طرح دیکھا ہے بتایا موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی انھوں نے کہا مرحبابالنبی الامی وہ ایک گندمی رنگ کا انسان ہے قد طویل ہے بال کانوں تک یا اس سے نیچے تک میں پوچگا اے جبرائیل یہ کون ہیں بتایا یہ موسیٰ (علیہ السلام) میں بھر آکے چلے ایک اور شخص سے ملاقات ہوئی پوچھا اے جبرائیل یہ کون ہیں توجبرائیل (علیہا السلام) نے بتایا عیسیٰ (علیہ السلام) میں پھر آگے چلے تو ایک بارعب شیخ سے ملاقات ہوئی انھوں نے مجھے مرحبا کہ سلام کیا ہر ایک ان کو سلام کرتے ہیں پوچگا اے جبرائیل یہ کون ہیں بتایا یہ آپ کے والد ابراہیم ہیں آگ کی طرف دیکھا تو اس میں ایک قومردار کھانے میں مشغول تھے پوچھا اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں بتایا گیا یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں لوگوں کے گوشت کھاتے تھے (یعنی غیبت کرتے تھے ) ایک زردرنگ کا شخص دیکھاجنکے گھنگریالے بال تھے اور پراگندہ حال جب اس کو دیکھا پوچھا یہ کون ہیں بتایا یہ ناقہ صالح کی پاؤں کانٹے والا ہے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد اقصی میں داخل ہوتے تو نماز پڑھی اس کے بعد جب فارغ ہوئے تو دیکھا کہ تمام انبیاء آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں جب نماز سے فارغ ہوئے تو دو پیالہ لائے گئے ایک دائیں طرف دوسرا بائیں طرف ایک میں دودھ تھا دوسرے میں شراب آپ علیہ السلام نے دودھ کا برتن لیا۔ جس کے ہاتھ میں پیالہ تھا بتایا کہ آپ نے فطرات کے تقاضہ پر عمل کیا ہے (بیہقی نے بعث میں نقل کیا اس میں قابوس بن ابی ظبیان ضعیف ہے)
35454- عن ابن عباس قال: ليلة أسري بالنبي صلى الله عليه وسلم دخل الجنة فسمع في جانبها خشفا فقال: يا جبريل! "من هذا "؟ فقال: هذا بلال المؤذن، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم الناس وقال: " قد أفلح بلال رأيت له كذا وكذا "؛ قال: ولقيه موسى فرحب به فقال: مرحبا بالنبي الأمي! قال: وهو رجل آدم طوال سبط شعره مع أذنيه أو فوقهما، فقال: " يا جبريل! من هذا "؟ فقال: هذا موسى، ثم مضي فلقيه رجل فرحب به فقال " من هذا يا جبريل "؟ فقال: هذا عيسى، ثم مضى فلقيه شيخ جليل مهيب فرحب به وسلم عليه - وكلهم يسلم عليه - فقال: يا جبريل! من هذا؟ قال: هذا أبوك إبراهيم؛ فنظر في النار فإذا قوم يأكلون الجيف! قال: من هؤلاء يا جبريل؟ قال: هؤلاء الذين يأكلون لحوم الناس، ورأى رجلا أزرق جعدا شعثا إذا رأيته، قال: من هذا يا جبريل؟ قال: هذا عاقر الناقة، فلما أن دخل النبي صلى الله عليه وسلم المسجد الأقصى قام يصلي، ثم التفت فإذا النبيون أجمعون يصلون معه، فلما انصرف جيء بقدحين: أحدهما عن اليمين والآخر عن الشمال، في أحدهما لبن وفي الآخر عسل، فأخذ اللبن فشربه، فقال الذي معه القدح: أصبت الفطرة. " ق في البعث؛ وفيه قابوس بن أبي ظبيان ضعيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المعراج
35455 ۔۔۔ عبدالرحمن بن قرط سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جانے سے پہلے مقام ابراہیم اور زمزم کے درمیان آرام فرما تھے جبرائیل آپ کے دائیں طرف اور مکائیل بائیں طرف ان کو اڑا کرلے گئے یہاں تک ساتویں آسمان کے اوپر پہنچے جب واپسی پر میں نے اوپر والے آسمان سے تسبیح سنی بہت سی تسبیحات کے ساتھ اوپر والے آسمان سے تسبیح کی دیا کی بیان ایسی ذات کی جو پیست والی ہے جو ڈرنے والے ہیں بلند والے سے جب اوپر کو چڑھا۔ پاک ہے وہ ذات جو بہت بلند وبالا ہیں پاک میں اللہ تعالیٰ ۔ (رواہ عساکر )
35455- عن عبد الرحمن بن قرط أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة أسري به إلى المسجد الأقصى كان بين المقام وزمزم وجبريل عن يمينه وميكائيل عن يساره، فطارا به حتى بلغ السماوات السبع، فلما رجع قال: " سمعت تسبيحا في السماوات العلى مع تسبيح كثير: سبحت السماوات العلى من ذي المهابة مشفقات لذي العلي لما علا، سبحان العلي الأعلى، سبحانه وتعالى. " كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المعراج
35456 ۔۔۔ مسندانس (رض) میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آیا اور میرے دونوں کندھوں کے درمیان جھٹکا دیا میں ایک درخت پر چڑھ گیا جس پرندوں کے گھونسلہ نما جگہ بنی ہوئی تھی ایک میں وہ خود بیٹھ گئے اور دوسری میں میں بیٹھ گیا۔ میں سوگیا۔ بلند ہوا۔ یہاں تک آسمان کے دونوں کنارے بھر دیا میں اپنی آنکھیں الٹ پلٹ کررہا تھا اگر میں چاہتا تو آسمان کو ہاتھ لگا لیتا میں جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوا تو وہ گویا کہ ٹاٹ ہے جس کو میں روند دوں مجھے معلوم ہوگیا کہ جبرائیل کو مجھ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہے میرے لیے آسمان کا ایک دروازہ کھولا گیا میں نے اس میں نور اعظم کو دیکھا میرے سامنے پردہ ڈالا گیا جو موتی اور یاقوت کا بنا ہوا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی جو کچھ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا۔ (ابن سعد بزار ابن خزمیہ طبرانی فی الدوسط ابوالشخ فی الفطحہ بیقی بروایت انس (رض))
35456- "مسند أنسْ" " بينا أنا جالس إذ جاء جبريل فوكز بين كتفي فقمت إلى شجرة فيها مثل كوكرى الطائر، فقعد في أحدهما وقعدت في الآخر فنمت فارتفعت حتى سدت الخافقين وأنا أقلب بصري ولو شئت أن أمس السماء لمسست، فالتفت إلى جبريل، فإذا هو كأنه حلس لاطيء، فعرفت فضل علمه بالله علي، وفتح لي باب من السماء ورأيت النور الأعظم، ولط دوني الحجاب رفرفه الدر والياقوت، ثم أوحى الله إلي ما شاء أن يوحي. " ابن سعد، بز وابن خزيمة، طس وأبو الشيخ في العظمة، هب، عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المعراج
35457 ۔۔۔ عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ معراج کی رات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جس آسمان پر بھی گذر ہوا آپ کو فرشتوں نے سلام کیا یہاں تک جب چھٹے آسمان پر پہنچا تو جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا یہ ایک فرشتہ ہیں آپ ان کو سلام کریں تو فرشتہ نے سبقت کرکے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہلے سلام کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری چاہت تھی کہ میں سلام میں پہل کرتا جب ساتویں آسمان پر پہنچا توجبرائیل (رض) نے کہا اللہ تعالیٰ صلاة پڑھتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا کیا اللہ تعالیٰ بھی صلوة پڑھتے ہیں بتایا ہاں پوچھا اللہ تعالیٰ کا صلو کس طرح ہے بتایا گیا اللہ تعالیٰ پڑھتے ہیں سبوح قدوس رب الملائکة والروح سبقت رحمتی غضبی۔ (عبدالرزاق)
35457- عن عطاء بن أبي رباح قال: بلغني أن النبي صلى الله عليه وسلم " لما أسري به كان كلما مر بسماء سلمت عليه الملائكة، حتى إذا جاء السماء السادسة قال له جبريل: هذا ملك فسلم عليه، فبدره الملك فبدأه بالسلام عليه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: وددت أني سلمت عليه قبل أن يسلم علي، فلما جاء السماء السابعة قال له جبريل: إن الله عز وجل يصلي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أهو يصلي؟ قال: نعم، قال: وما صلاته؟ قال: يقول: سبوح قدوس، رب الملائكة والروح، سبقت رحمتي غضبي. " عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ المعراج
35458 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) براق لے کر آیا ابوبکر (رض) نے کہا میں نے اس کو دیکھا ہے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو فرمایا اس کے اوصاف بیان کریں ابوبکر نے کہا وہ جاندار ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آپ نے سچ کہا ہے اے ابوبکر آپ نے اس کو دیکھا ہے۔ (ابن النجار)
35458- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أتاني جبريل بالبراق، فقال له أبو بكر: قد رأيتها يا رسول الله! قال: صفها لي، قال: بدنة، قال: صدقت، قد رأيتها يا أبا بكر. " ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل متفرقہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متفرق فضائل
35459 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ابوطالب صبح کے وقت کھانے کے برتن کو اپنے بچوں کے قریب کرتا بچے چاروں طرف بیٹھ جاتے چھینا جھپٹی کرتے لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا ہاتھ روک رکھتے ان کے ساتھ برتن میں چھینا جھپٹی نہیں کرتے جب چجانے یہ کیفیت دیکھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو الگ برتن کھانا دینا شروع کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
35459- عن ابن عباس قال: كان أبو طالب يقرب إلى الصبيان بصحفتهم أول البكرة، فيجلسون وينتهبون ويكف رسول الله صلى الله عليه وسلم يده ولا ينتهب معهم، فلما رأى ذلك عمه عزل له طعامه على حدة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل متفرقہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متفرق فضائل
35460 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو کسی عورت کے پاس بھیجا۔
35460- عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أرسلها إلى امرأة فقالت: ما رأيت طائلا، فقال: لقد رأيت خالا بخدها انشعرت منه ذوائبك، فقلت: ما دونك سر ومن يستطيع أن يكتمك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل متفرقہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متفرق فضائل
35461 ۔۔۔ مسند الصدیق میں ہے کہ بکری بن اخنس ایک شخص سے وہ ابوبکر صدیق (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت دی ہے کہ میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب وکتاب کے جنت میں داخل ہوں گے ان کے چہرے چودھیں کے چاند کی طرح ہوں گے ان کے دل ایک آدمی کے دل کی طرح جوڑے ہوئے ہوں گے میں نے زیادتی کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مزید عطاء فرمایا کہ ہر ایک ساتھ ستر ہزار ہوں گے ابوبکر (رض) نے کہا میں نے دیکھا یہ بستی والوں پر آنے والا ہے اور کچھ گاؤں والوں کا بھی حصہ ہوگا (احمد، حکیم ، ابویعلی ابن کثیر نے کہا بکیربن اخنس ثقہ ہے وہ مسلم شریف کے راویوں میں سے ہیں انھوں نے اپنے شیخ کا نام نہیں لیا وہ مہم اس جیسی روایت سے حلال و حرام کے معاملہ میں استدلال نہیں کیا جاسکتا ہے البتہ ترغیب اور فضائل میں قابل قبول ہے ممکن ہے ثقہ ہو اور اس طرح کی روایت میں غلبہ ظن ہو کیونکہ ابوبکر (رض) سے روایت کرنے والے غالباً یا صحابی میں یا کبارتا بعین میں سے اور سب کے سب ائمین حدیث ہیں انتہی۔
35461- "مسند الصديق" عن بكير بن الأخنس عن رجل عن أبي بكر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أعطيت سبعين ألفا من أمتي يدخلون الجنة بغير حساب، وجوههم كالقمر ليلة البدر وقلوبهم على قلب رجل واحد، فاستزدت ربي، فزادني مع كل واحد سبعين ألفا"، قال أبو بكر: فرأيت أن ذلك آت على أهل القرى ومصيب من حافات البوادي. "حم والحكيم، ع، قال ابن كثير بكير بن الأخنس ثقة من رجال مسلم ولم يسم شيخه فهو مبهم، لا يحتج بمثله في الأحكام والحلال والحرام، ويقبل في الترغيبات والفضائل، ويجوز أن يكون ثقة، وقد يغلب على الظن ذلك في مثل هذا، لأن الرواة عن الصديق في الغالب إما صحابة أو كبار التابعين وكلهم أئمة - انتهى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل متفرقہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متفرق فضائل
35462 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے پوچھا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ ہم میں فصیح اللسان ہیں حالانکہ آپ ہم سے نہیں نکلے فرمایا اسماعیل کی زبان مٹ چکی تھی اس کو جبرائیل (علیہ السلام) لے کر آیا میں نے یاد کرلی۔ (الفطریقی فی جزہ)
35462- عن عمر أنه قال: يا رسول الله! ما لك أفصحنا ولم تخرج من بين أظهرنا؟ قال: " كانت لغة إسماعيل قد درست، فجاء بها جبريل فحفظتها. " الغطريفي في جزئه".
tahqiq

তাহকীক: