কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৪৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے پہلے ہلاک ہونے والے
35423 ۔۔۔ حضرت حسن ہی سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کے واسطے کی اوقیہ سونا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کے کرنے کے عوض مقرر کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی اطلاع دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو سولی دینے کا حکم دیا لہٰذا اسے سولی دی گئی اور یہ پہلا شخص تھا جس کو اسلام میں سولی دی گئی۔ (ابن شیبة ابن جریر)
35423- عن الحسن قال: جعل لرجل أواقي على أن يقتل النبي صلى الله عليه وسلم، فأطلعه الله على ذلك، فأمر به فصلب وكان أول من صلب في الإسلام. "ش وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے پہلے ہلاک ہونے والے
35424 ۔۔۔ حضرت حسن ہی فرماتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلے جس شخص کو سولی دی گئی وہ نبولیث کا ایک شخص تھا جس کے لیے قریش نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کے عوض کی اوقیہ سونا مقرر کیا تھا ۔ تو جبرائیل (علیہ السلام) آپا کے پاس حاضر ہوئے اور اس معاملہ کی اطلاع آپ کو دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے طرف پکڑے کے لیے لوگ بھیجے اور پھر حکم کے کرا سے سولی دلوائی۔ (ابن شیبة)
35424- عن الحسن قال: أول رجل صلب في الإسلام رجل من بني ليث جعلت له قريش أواقي عن أن يقتل النبي صلى الله عليه وسلم فأتاه جبريل فأخبره، فبعث إليه النبي صلى الله عليه وسلم فأمر به فصلب. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے پہلے ہلاک ہونے والے
35425 ۔۔۔ حضرت حسن سے مروی ہے کہ قریش کے کچھ لوگ جوگ بدر کے بعد دیہاتوں میں جا کے بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ جنگ بدر میں ہمارے آباء و اجداد کے قتل ہونے کے بعد ہماری زندگی بےمزہ ہوگئی ہے اے کاش کہ ہمیں کوئی ایسا آدمی ملے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کردے اور ہم اس کے لیے انعام بھی مقرر کریں گے تو ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم میں بلند ہمت مضبوط بازوالا اور عمدہ تلوار باز ہوں میں اسے قتل کردوں گا تو قریش چار افراد میں سے ہر ایک فرد نے اس کے لیے چند اویہ سونا مقرر کرلیا پھر وہ نکلایہاں تک کہ مدینہ پہنچ گیا اور وہاں اپنے قوم کے کسی مسلمان شخص کے پاس بطور مہمان کے قیام کیا تو اس مسلمان نے اس سے پوچھا کہ تو کیوں آیا ہے ؟ کہنے لا کہ میں سلمان ہوچکا ہوں اس لیے یہاں آیا ہوں راوی کہتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے دل کے آرادے پر مطلع فرمایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کے پاس جس کے ہاں یہ شخص مہمان ٹہرا ہوا تھا پیغام بھیجا کہ اس کو اپنے نظر میں رکھو اور اس کو مضبوط باندھ لو اور پھرا سے میرے پاس بھیج دوراوی کہتا ہے کہ پھر لوگ اس کو نکال کرلے جانے لگے تو وہ زور زور سے پکارنے لگا کہ تم لوگ اپنے پیروکاروں کے ساتھ ایساسلوک کرتے ہو اور جو شخص تمہارا مذہب اختیار کرے تو تم اس کے ساتھ ایسابرتاؤ کرتے ہو تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا کہ تو میری بات کی تصدیق کریہاں تک لوگوں کو خیال ہوا کہ اگر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کرے گا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے چھوڑدینگے تو اس نے کہا کہ میں اسلام لانے ہی کے لیے آیا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمادی کہ تو چھوٹا ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا اپنی قوم کے ساتھی طے ہونے والا معاملہ بیان فرمایا تو اس نے آس سے انکار کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صادر فرمایا کتو اس کو ذباب پہاڑ ہر سولی دی گئی اور یہ اسلام میں پہلا دمصوب (سولی دیا گیا ) شخص تھا۔ (ابن جریر)
35425- عن الحسن أن رهطا من قريش جلسوا في الحجر بعد بدر فقالوا: قبح الله العيش بعد موت آبائنا ببدر! ليتنا أصبنا رجل يقتل محمدا وجعلنا له جعلا، فقال رجل، أنا والله جريء الصدر جواد الشد جيد الحديد أقتله، فجعل له أربعة رهط كل رجل منهم أوقية من ذهب، فخرج حتى قدم المدينة فنزل على رجل من قومه مسلم، فقال له: ما جاء بك؟ قال، أسلمت فجئت، قال: فأطلع الله نبيه صلى الله عليه وسلم على ما في نفسه، فبعث إلى الرجل الذي نزل عليه ينظر ضيفه فيشده وثاقا ثم ابعث به إلي، قال: فجعل الرجل ينادي حين خرجوا به: هكذا تفعلون بمن تبعكم! هكذا تفعلون بمن أختار دينكم! فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: " اصدقني"، حتى ظن الناس أنه لو صدقه خلى عنه، فقال: ما جئت إلا لأسلم؟ قال: "كذبت"، ثم قص رسول الله صلى الله عليه وسلم قصته في قصة القوم، فقال: ما كان ذلك، فأمر به رسول الله فصلب على ذباب ؛ فإنه لأول مصلوب. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے پہلے ہلاک ہونے والے
35426 ۔۔۔ مسند عتبہ میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کہ میری پرورش کرنے والی بنوسعد بن ابی بکر میں تھی تو میں اور اس کا ایک بیٹا اپنے چوپائے چرانے کے لیے نکلے اور ہم نے اپنے ساتھ زاد راہ نہ لیا تھا تو میں نے کہا اے میرے بھائی جاؤ اپنی اماں سے ہمارے لیے کچھ توشہ وز اور اہ لے آؤ تو وہ میرا بھائی چلا گیا اور میں چویایوں کے ساتھ ٹہر گیا تو گدھ کے ماننددوسفید پرندے سامنے سے آئے پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ کیا یہی ہے وہ ؟ دوسرے نے کہا کہ ہاں پھر وہ دونوں آگے بڑھے اور مجھے پکڑا پھر مجھے گدی کے بل لٹا دیا اور میرے پیٹ کو چاک کیا پھر میرے دل کو نکالو پھر اس کو بھی چاک کیا اور اس سے خون کے دوسیاہ ٹکڑے نکالے پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ میرے پاس نچ ٹھنڈا پانی لے کر آؤ پھر ان دونوں میں میرے پیٹ کا اندرونی حصہ دھویا پھر کہا کہ ٹھنڈا پانی کر آؤ پھر انھوں نے میرے دل کو دھویا پھر کہا کہ سکینہ لے آؤ پھر انھوں نے اسے میرے میں دل میں بکھیر دیا پھر اپنے ساتھی سے کہا کہ اسے سی لو اور اس ہر نبوت کے مہر کے ذریعہ مہرلگا وہ پھر ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ اسے ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دو اور دوسرے پلڑے میں اس کی امت کے ایک ہزار آدمی رکھ دو تو اچانک مجھے اپنے سے اوپر ایک ہزار آدمی دکھائی دیتے اور مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ مجھ ہرگز نہ جائیں پھر کہا کہ اگر اس کو اپنی پوری امت کے ساتھی بھی تولوگے تو یہ ان سب سے بھی ہماری ہوگا پھر وہ دونوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے آور مجھے بہت زیادہ ڈرلگا پھر میں اپنی راضی امی کے پاس چلا گیا اور اسے اپنے اوپر گذر نے والے پورے واقعہ سے خبردار کردیا تو وہ ڈرگئی کہ کہیں بیری دماغی حالت بگڑ گئی ہے تو اس نے کہا کہ میں تجھے اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں پھر اس نے اپنا ایک اونٹ لیا اور مجھے کجاوہ ہر بیٹھا دیا اور خود میرے پیچھے پیٹھ گئی یہاں تک کہ مجھے میرے والدہ کے حوالہ کردیا اور کہا کہ میں نے اپنی ذمہ لی ہو چیز اور امانت واپس کردی اور مجھ پر گذرنے والے واقعہ سے اس کو بھی مطلع کردیا اور اس سے میری کو کوئی خوف نہ ہوا اور کہا کہ میں نے بھی خواب میں اس کے پیدائش کے وقت اپنے آپ سے ایک نور نکلتا دیکھا تھا جس سے شام محلات روشن ہوگئے۔ (مسند احمد ، ابویعلی مسندرک حاکم ابن عساکر عن عتہ بن عبد)
35426- "مسند عتبة" " كانت حاضنتي من بني سعد بن بكر، فانطلقت وابن لها في بهم لنا ولم نأخذ معنا زادا، فقلت: يا أخي! اذهب فأتنا بزاد من عند أمنا، فانطلق أخي ومكثت عند البهم، فأقبل طيران أبيضان كأنهما نسران، فقال أحدهما لصاحبه أهو هو؟ قال: نعم، فأقبلا يبتدراني فأخذاني فبطحاني للقفا فشقا بطني: ثم استخرجا قلبي فشقاه فأخرجا منه علقتين سوداوين، فقال أحدهما لصاحبه: ائتني بماء ثلج، فغسلا به جوفي، ثم قال: ائتني بماء برد، فغسلا به قلبي، ثم قال: ائتني بالسكينة، فذراها في قلبي، ثم قال لصاحبه حصه - يعني خطه - واختم عليه بخاتم النبوة، فقال أحدهما لصاحبه: اجعله في كفة واجعل ألفا من أمته في كفة، فإذا أنا أنظر إلى الألف فوقي أشفق أن يخروا علي فقال: لو أن أمته وزنت به لمال بهم، ثم انطلقا وتركاني وفرقت فرقا شديدا، ثم انطلقت إلى أمي فأخبرتها بالذي لقيته، فأشفقت أن يكون قد التبس بي، فقالت: أعيذك بالله! فرحلت بعيرا لها فجعلتني على الرحل وركبت خلفي حتى بلغنا إلى أمي، فقالت: أديت أمانتي وذمتي، وحدثتها بالذي لقيت فلم يرعها ذلك، قالت: إني رأيت حين خرج مني نورا أضاءت منه قصور الشام. " حم، ع، ك وابن عساكر - عن عتبة بن عبد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے پہلے ہلاک ہونے والے
35427 ۔۔۔ خلیفہ بن عبدالمنقری فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن عدی بن ربعیہ بسولئة بن حشم بن سعد سے دریافت کیا کہ آپ کے والد نے جا بلیت میں آپ کا نام محمد کیسے رکھ دیا فرماتے ہیں کہ میں نے ہی اپنے والد سے یہی سوال کیا تھا تو انھوں نے فرمایا کہ بنوتمیم میں سے چار افراد جن میں سے ایک میں تھا اور سفیان ابن مجاشع اور یزید بن عمر وبن ربیعہ بن حقوص بن مازن اور اسامہ بن مالک بن جندب بن غبر تھے ہم چار دن شام زید بن خفہ غسانی سے ملنے کے لیے نکلے تو جب ہم شام پہنچے تو ہم نے ایک کنویں ہر پڑاؤ ڈالا جس کے اردگرد بہت سے درخت تھے اور اس کے قریب ہی راہبوں کے علاقے کا ایک شخص بھی کھڑا تھا۔ تو ہم نے آپس میں کہا کہ اگر ہم اس پانی میں غسل کرکے تیل لگا کر اپنے کپڑے پہن لیں اور پھر مطلوبہ شخصیت سے ملیں تو اچھا ہوگا توراہبوں کے علاقے کا وہ شخص ہماری طرف متوجہ ہو کر بولا کہ یہ زبان اس علاقے والوں کی زبان تو نہیں ہم نے کہا کہ ہاں ہم مضر قوم کے ہیں۔ کہنے لگا کون سامضر ؟ ہم نے کہا مضر خندف تو اس نے کہا کہ عنقریب جلد ہی تم میں ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے شوجلد کرو اور اس سے اپنا حصہ ہدایت لوتا کہ تم رشدہ ہدایت پالو اس لیے کہ وہ خآتم النبیین ہے ہم نے کہا کہ اس کا نام کیا ہے ؟ کہنے لگا کہ محمد پھر جب ہم ابن حفنہ کے پاس سے ہو کر واپس لوٹے تو ہم سے ہر ایک کے ہاں ایک لڑکا ہوا اور ہر ایک نے آس کا نام محمد اسی وجہ سے رکھا (بیہقی والبار وادی وابن مندہء وابن اسکن وابن شاہین و طبرانی فی الدوسط وابو نعیم وابن عساکر)
35427- عن خليفة بن عبدة المنقري قال: سألت محمد بن عدي بن ربيعة بن سواءة بن جشم بن سعد: كيف سماك أبوك في الجاهلية محمدا؟ قال: أما إني سألت أبي عما سألتني عنه فقال: خرجت رابع أربعة من بني تميم أنا أحدهم وسفيان بن مجاشع ويزيد بن عمرو ابن ربيعة بن حرقوص بن مازن وأسامة بن مالك بن جندب بن العنبر نريد زيد بن جفنة الغساني بالشام، فلما وردنا الشام نزلنا على غدير عليه شجرات وقربه قائم لديراني فقلنا: لو اغتسلنا من هذا الماء وادهنا ولبسنا ثيابنا ثم أتينا صاحبنا فأشرف علينا الديراني فقال: إن هذه للغة قوم ما هي بلغة أهل هذا البلد، فقلنا: نعم نحن قوم من مضر، قال: من أي المضائر؟ قلنا؟ من خندف، فقال: أما إنه سيبعث فيكم وشيكا نبي فسارعوا إليه وخذوا بحظكم منه ترشدوا فإنه خاتم النبيين؟ فقلنا: ما اسمه؟ قال محمد؛ فلما انصرفنا من عند ابن جفنة ولد لكل واحد منا غلام فسماه محمدا لذلك. "ق والبارودي وابن منده وابن السكن وابن شاهين، طس وأبو نعيم، كر"1.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے پہلے ہلاک ہونے والے
35428 ۔۔۔ ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ مجھ سے یزید بن زیاد مولی بنی ہاشم نے بیان کیا اور ان سے محمد بن کعب القرظی نے بیان کیا فرماتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ عتبہ بن زبیعیہ نے جو کہ ایک متحمل مزاج سردار ایک دن کہا جب کہ وہ قریش کی مجلس میں بیٹھا ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تنہا مسجد میں تشریف فرما تھے کہ اے جماعت قریش کیا میں اس شخص کے پاس جاکر اس کے سامنے چند باتیں پیش نہ کردوں شاید کہ ان میں سے کسی ایک بات کو قبول کرلے اور ہم ان باتوں میں سے جس کو وہ چاہے اس کا اختیار دے دیں اور اس طرح وہ ہم سے باز آجائے گا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ حمزة بن عبدالمطلب اسلام لاچکے تھے اور قریش دیکھ رہے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شاگردوں میں اضافہ ہورہا ہے اور زیادہ ہوتے چلے جارہے ہیں تو وہ قریش والے کہنے لگے کہ کیوں نہیں اے ابوالولید جا اور اس سے بات کر توعتبہ کھڑا ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور پھر عرض کیا کہ اے بھتیجے جیسا کہ تجھے معلوم ہے کہ یقیناً خآندان کی وسوت اور نسب کے بلندی کے لحاظ سے تو ہم سب میں بڑھ کر ہے اور یقیناً تو نے اپنے قوم کے سامنے ایک بہت بڑا مطالبہ پیش کیا ہے جس سے تو نے ان کی اتحاد جماعت میں تفرقہ ڈال دیا ہے اور ان کے عقلمندوں کی بیوقوفی واضح کردی ہے اور ان کے معبودوں اور مذہب کی تو نے عیوب بیان کردئیے اور ان کے گزر ہوئے باپ داروں کو تو نے کافر قرار دیا ہے تو میں میری بات سن میں تیرے سامنے چندبا میں پیش کرتا ہوں تاکہ تو ان میں غور کر شاید کے تو ان میں سے کسی ایک کو قبول کرسکے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ اے ابوالولید تو بول میں سن رہاہوں تو اس نے کہا کہ اے بھیجتے ! اگر تیرا مقصد اپنی ان باتوں سے مال حاصل کرنا ہے تو ہم تیرے واسطے بہت سارامال جمع کرلیتے ہیں لہٰذا تو ہم سب میں زیادہ مالدار ہوجائے گا اور اگر تیرا مقصد جاہ و شرافت ہے تو ہم تجھے اپنا بڑا بنالنگے اور کبھی تیری بزرگی ختم نہ ہوگی اور اگر تیرا مقصد سرداری یا بادشاہت ہے تو ہم تجھے اپنا سردار بنالینگے اور اگر تیرے پاس غیب کی خبریں لانے کوئی جن ہے جسے تو دیکھتا ہے اور اپنے سے دور نہیں کرسکتا تو ہم تیرے علاج کے لئیے طبیب بلالیتے ہیں اور اس بارے میں اپنے مال اموال خرچ کر ڈالیں گے اس کئے کہ کبھی کوئی جن انسان پر غالب آجاتا ہے اور پھر علاج اور دواء یہی سے بچتا ہے اور یا کہ شاید جو باتیں تو پیش کرتا ہے اشعار ہوں جو تیرے سینے میں موجزن ہوتے ہوں اور میری زندگی کی قسم اے بنو عبدالمطلب تم ایسے ایسے کاموں ہر قدرت رکھتے ہو شاید کہ کوئی اور اس پر قدرت رکھے لہٰذا جب وہ خاموش ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی باتیں سن رہے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے ابوالولید کیا تو فارغ ہوچکا ؟ پھر فرمایا کہ اب میری باتیں سن ۔ اس نے کہا کہ میں سن رہا ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بسم اللہ الرحمن الرحیم حم تنزیل من الرحمن الرحیم کتاب فصلت ایاتہ قرآن عربیا لقوم یعلمون آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلاوت جاری رکھی اور پوری سورت اس کو سنا دی جب عتبہ اسے سنا تو ایک دم خاموش رہا اور اپنا ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے رکھ کر اس کا سہارا لیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاوت سنتا رہا حتی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آیت سجدہ ہر پہنچ گئے اور پھر سجدہ فرمایا پھر فرمایا کہ اے ابوالولید ! یہ جو آپ نے سنا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کر عتبہ کھڑا ہو کر اپنے ساتھیوں کے واپس چل گیا تو اس کے ساتھیوں میں سے بعض نے کہا کہ اللہ کی قسم ابولولید کوئی اور نئی بات لے کر آرہا ہے پھر جب وہ ان کے پاس آکر بیٹھ گیا تو وہ کہنے لگے کہ اے ابوالولید تیرے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا تو اس نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے جس کے مثل کلام میں نے کبھی نہیں سنا اللہ کی قسم وہ نہ توفشعر ہے نہ جادو اور نہ ہی کہانت اے جماعت قریش اس بارے میں میری بات کو تسلیم کرو اور اس شخص کو اس کے کام کو اپنے حال ہر چھوڑ دو اور اس سے دور رہو۔ سو اللہ کی قسم اس کی جو باتیں میں نے سنی ہیں اس کی یقیناً ایک حقیقت ہے سو اگر عرب نے اسے تکلیف دی تو اس کا کام تمہارے بغیر بھی پورا ہوگا اور اگر یہ عرب پر غالب آگیا تو اس کی سرداری تمہاری سرداری ہوگی اور اس کی عزت ہماری عزت ہوگی اور تم اس کی وجہ تمام لوگوں زیادہ نیک بخت ہوجاؤ گے کہنے لگے اے ابولید اللہ کی قسم اس نے اپنی زبان سے تجھ پر جادو کردیا ہے اس نے کہا کہ یہ تو میری رائے تھے تمہارے لیے سو اب تم جو جاہو کرو۔ (بیہقی فی الدلدئل ابن عساکر)
35428- "ابن إسحاق" حدثني يزيد بن زياد مولى بني هاشم عن محمد بن كعب القرظي قال: حدثت أن عتبة بن ربيعة وكان سيدا حليما قال ذات يوم: وهو جالس في نادي قريش ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس وحده في المسجد: يا معشر قريش! ألا أقوم إلى هذا فاكلمه فأعرض عليه أمورا لعله أن يقبل بعضها فنعطيه أيها شاء ويكف عنا؟ وذلك حين أسلم حمزة بن عبد المطلب ورأوا أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيدون ويكثرون، فقالوا: بلى، فقم يا أبا الوليد فكلمه، فقام عتبة حتى جلس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا ابن أخي! إنك منا حيث قد علمت من السعة في العشيرة والمكان في النسب، وإنك قد أتيت قومك بأمر عظيم فرقت به جماعتهم وسفهت به أحلامهم وعبت به آلهتهم ودينهم وكفرت من مضى من آبائهم، فاسمع مني أعرض عليك أمورا تنظر فيها لعلك أن تقبل منها بعضها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قل يا أبا الوليد أسمع"، فقال: يا ابن أخي! إن كنت إنما تريد بما جئت من هذا القول مالا جمعنا لك من أموالنا حتى تكون أكثرنا مالا، وإن كنت إنما تريد شرفا شرفناك علينا حتى لا نقطع أمرا دونك، وإن كنت تريد ملكا ملكناك علينا، وإن كان هذا الذي يأتيك رئي تراه ولا تستطيع أن ترده عن نفسك طلبنا لك الطبيب وبذلنا فيه أموالنا حتى يبرئك منه فإنه ربما غلب التابع على الرجل حتى يداوى منه، أو لعل هذا الذي يأتي به شعر جاش به صدرك، وإنكم لعمري يا بني عبد المطلب تقدرون منه على ما يقدر عليه أحد! حتى إذا سكت عنه ورسول الله صلى الله عليه وسلم يستمع منه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أفرغت يا أبا الوليد"؟ قال: "فاسمع مني"، قال: افعل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " بسم الله الرحمن الرحيم. حمّ~. تنزيل من الرحمن الرحيم. كتاب فصلت آياته قرآنا عربيا لقوم يعلمون". فمضى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقرأها عليه، فلما سمعها عتبة أنصت له وألقى بيده خلف ظهره معتمدا عليها يستمع منه حتى انتهى رسول الله صلى الله عليه وسلم للسجدة فسجد فيها ثم قال: " قد سمعت يا أبا الوليد ما سمعت فأنت وذاك"! فقام عتبة إلى أصحابه فقال بعضهم لبعض: نحلف بالله لقد جاءكم أبو الوليد بغير الوجه الذي ذهب به! فلما جلس إليهم قالوا: ما وراءك يا أبا الوليد؟ فقال: ورائي أني والله قد سمعت قولا ما سمعت بمثله قط! والله ما هو بالشعر ولا بالسحر ولا الكهانة! يا معشر قريش أطيعوني واجعلوها في، خلوا بين هذا الرجل وبين ما هو فيه واعتزلوه، فوالله ليكونن لقوله الذي سمعت نبأ! فإن تصبه العرب فقد كفيتموه بغيركم، وإن يظهر على العرب فملكه ملككم وعزه عزكم وكنتم أسعد الناس به، قالوا: سحرك والله يا أبا الوليد بلسانه! فقال: هذا رأيي لكم فاصنعوا ما بدا لكم. "ق في الدلائل، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درخت اور پتھروں کا سلام کرنا
35429 ۔۔۔ مسندعلی میں ہے کہ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر کسی بھی پتھریا درخت ہر ہوتا تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کرنا۔ ( طبرانی الاوسط)
35429- "مسند علي" قال: خرجت مع النبي صلى الله عليه وسلم فجعل لا يمر على حجر ولا شجر إلا سلم عليه. "طس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درخت اور پتھروں کا سلام کرنا
35430 ۔۔۔ مسند ابی بن کعب میں ہے کہ ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے چیزوں کے بارے میں بھی پوچھنے کی جرات کرتے تھے کہ جس کے پوچھنے کی جرات کوئی اور نہ کرتا تھا تو ابوہریرہ (رض) پوچھا کہ اے اللہ کے رسول میں کیا کہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نبوت کی کونسی علامت و نشانی دیکھی ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اے ابوہریرة تو نے سوال کر ہی لیا ہے۔ بیشک میں دس مہینے اور دس سال کا تھا کہ میں ایک جنگل میں چل رہا تھا اچانک میرے سر کے اوپر دو آدمی تھے ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ کیا یہی ہے وہ ؟ دوسرے نے کہا کہ ہاں پھر انھوں نے مجھے پکڑا اور پشت کی جانب پر لٹادیا اور پھر میرا پیٹ چاک کیا تو گویا کہ ایک سونے کے برتن میں پانی لا رہا تھا اور دوسرا میرے پیٹ کا اندرونی حصہ دھورہا تھا پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ اس کا سیلہ کھولو تو ایک دم میرا سینہ میرے خیال میں لپیٹ دیا گیا تھا اور مجھے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہورہی تھی پھر فرمایا کہ اس کے دل کو چاک کرو تو اس نے میرا دل چاک کیا پھر فرمایا کہ اس سے خیانت اور حسدکو نکال دو تو اس نے جمے ہوئے خی کی طرح ایک چیز نکالکر پھینک دی پھر فرمایا کہ اب اس کے دل میں نرمی اور مہربانی ڈال دو تو اس نے چاندی کی طرح کوئی چیز اندر ڈال دی پھر ایک دواء نکالی اور اسے اس سے ہر چھڑک دیا پھر میرے انگوٹھے کو دبایا پھر کہ ہوجا تو میرے اندر بچوں کے لیے مہربانی اور بڑوں کے لیے نرمی کا وصفہ آگیا (زیارات مسند احمد وابن حبان ومستردرک حاکم والمحامی و ابونعیم فی الدئل وابن عساکر وضبا مقدسی)
35430- "مسند أبي بن كعب" إن أبا هريرة كان جريئا على أن يسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أشياء لا يسأله عنها غيره، فقال: يا رسول الله! ما أقول ما رأيت من أمر النبوة؟ فاستوى جالسا وقال: "لقد سألت أبا هريرة! إني لفي صحراء أمشي ابن عشر حجج وأشهر إذا أنا برجلين فوق رأسي يقول أحدهما لصاحبه: أهو هو؟ قال: نعم، فأخذاني فصلقاني 1 على ظهري بحلاوة القفا ثم شقا بطني، فكان أحدهما يختلف بالماء في طست من ذهب والآخر يغسل جوفي، فقال أحدهما لصاحبه: افلق صدره، فإذا صدري فيما أرى ملفوفا لا أجد له وجعا، ثم قال: اشقق قلبه، فشق قلبي، فقال: أخرج الغل والحسد منه، فأخرج شبه العلقة فنبذ به، ثم قال: أدخل الرأفة والرحمة قلبه، فأدخل شيئا كهيئة الفضة، ثم أخرج ذرورا كان معه فذره عليه ثم نقر إبهامي ثم قال: اغد، فرجعت بما لم أغد به من رحمتي للصغير ورقتي على الكبير. " عم، حب، ك والمحامل وأبو نعيم في الدلائل وابن عساكر، ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درخت اور پتھروں کا سلام کرنا
35431 ۔۔۔ انھوں نے فرمایا : کہ کوئی ستارہ نہیں مارا گیا تھا جب سے حضرت (علیہ السلام) اسمان پر اٹھالئے ہیں حتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نبوت کا دعوی کیا تو ستارے ماراجانا پھر سے شروع ہوا اس بناء پر قریش نے ایک عجیب کا مشاہد ہ کیا جو اس سے پہلے انھوں نے نہیں کیا تھا تو انھوں نے جانوروں کو کھلا چھوڑنا شروع کیا اور غلاموں کو آزاد کرنا شروع کیا ان کا یہ خیال بن گیا کہ بس یہانپا کی فناء کا وقت ہے قریش کے بعد ثقیف قبیلے نے بھی یہ کام شروع کیا چلتے چلتے یہ خبر عبدیالیل کو پہنچی تو اس نے کہا کہ جلدی سے کامنہلیں اور انتظار کریں دیکھیں اگر یہ ستارے (جومارے جائے ہیں) معروف و مشہور ا ستارے ہیں تو پھر یہ لوگوں اور عالم کے ختم ہونے کا وقت ہے لیکن اگر یہ معروف و مشہور گ ستارے نہیں ہیں تو پھر کوئی غیر معمولی چیز وجور میں آچکی ہے یہ اس کی وجہ سے ہے جب انھوں نے غور لے مشاہدہ کیا تو یہ ستارے معروف و مشہور ستارے نہیں تھے انھوں نے عبدیاسیل کو یہ حقیقت بتائی تو اس نے کہا کہ یہ علامات کسی نبی کے ظاہر ہونے کی ہیں اس کے بعد کوئی زیادہ عصر ہ گذرا نہیں تھا کہ ظائف میں ابوسفیان بن حرب آئے اور اس نے یہ خبر دی کہ محمد بن عبداللہ کا ظہور ہوچکا ہے آور یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ ایک پرستارہ اور پیغمبر ہے تو اس پر عبد یل نے کہا کہ یہ اسی وجہ سے ستارے مارے جاناشروع ہوگیا تھا۔ (ابونعیم فی الدلائل)
35431- "أيضاْ" قال: لم يرم بنجم منذ رفع عيسى حتى تنبأ رسول الله صلى الله عليه وسلم، رمي بها فرأت قريش أمرا لم تكن تراه، فجعلوا يسيبون أنعامهم ويعتقون أرقاءهم يظنون أنه الفناء، ثم فعلت ثقيف مثل ذلك، فبلغ عبد ياليل فقال: لا تعجلوا وانظروا فإن تكن نجوما تعرف فهو عند فناء الناس، وإن كانت نجوما لا تعرف فهو عند أمر قد حدث، فنظروا فإذا هي لا تعرف، فأخبروه فقال: هذا عند ظهور نبي، فما مكثوا إلا يسيرا حتى قدم الطائف أبو سفيان بن حرب فقال: ظهر محمد بن عبد الله يدعي أنه نبي مرسل، قال عبد ياليل: فعند ذلك رمي بها. "أبو نعيم في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کالعاب شفاء
35432 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن اخرم ھجیمی نے اپنے والد ہے (جو صحابی تھے) روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ذی قدر کے دن کہ یہ پہلا دن ہے کہ جس میں عب نے عجم نے استقام لیا۔ (خلیفہ بن حناط کی تاریخ ور بغوی ابن قائع ابونعیم)
35432- عن عبد الله بن الأخرم الهجيمي عن أبيه وكانت له صحبة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم ذي قار: " هذا أول يوم انتصفت فيه العرب من العجم. " خليفة بن خياط، خ في تاريخه والبغوي وابن قانع وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کالعاب شفاء
35433 ۔۔۔ (ازمسند اسامة) کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کے موقع پر نکلے جب ہم بطن روحاء میں اترگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک عورت آئی جس نے اپنا ایک بچہ اٹھایا تھا اس نے حضور پر سلام کیا حضور گئے تو اس خاتون نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول یہ میرا بیٹا ہے اور اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق رسول بنا کر بھیجا ہے میرا یہ بچہ دائمی طور پر سانس گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا ہے یا اس طرح کی کوئی بات اس خاتون نے کہی) یہ تکلیف اس کی ولادت کے وقت سے اب تک موجود ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے قریب ہوگئے اور ہاتھ پھیلا کر بچے کو لیا اور اسے اپنے اور کجاوہ کے کنارے کے درمیان ہاتھ میں پکڑا اور اس کے منہ میں لعاب مبارک ڈال دیا اور فرمایا اور فرمایا : نکل جا اللہ کے دشمن ! کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں اور پھر یہ بچہ اس خاتون کو واپس دیا اور فرمایا یہ لے لو اس کے بعد آپ اس بچے کے متعلق کوئی ایسی چیز نہیں دیکھ پائیں گے جو آپ کو پریشان کرے ۔ ہم نے جمع مکمل کیا وار پھر واپس لوٹے جب ہم روحاء میں پہنچ گئے تو وہ خاتون (بچے کی حال ) سامنے آئے اور ایک پکی ہوئی بکری لائی تو اس خاتون نے کہا اے اللہ کے رسول میں اس بچے کی ماں ہو جو میں آپ کے سامنے لائی تھی اس ذات کی قسم جس نے حق پر تجھے بھیجا ہے میں نے اس بچے میں اب تک کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو مجھے پریشان کرے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اواسیم مجھے اس بکری کا آگے والا پایا وہ تو میں نے ایک پایا نکال کر انھیں دیا تو اس کو تناول فرماکر فرمایا اور اسیم دوسری پایا بھی دیں تو میں دوسرا پایا بھی نکال کردیا پھر فرمایا : اواسیم ایک اور پایادیں تو میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول آپ نے پہلے فرمایا کہ ایک پایا دیں تو میں نے دیا جو آپ نے تناول فرمایا پھر آپ نے فرمایا کہ ایک اور پایا دیں تو میں نے دوسرا بھی آپ کودے کر آپ نے تناول فرمایا پھر آپ نے فرمایا کہ مجھے ایک آگے والا پایا دو جب کہ ایک بکری میں تو دو آگے والے پائے ہوتے ہیں اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر آپ جھک جاتے اوپایا اٹھانے کی کوشش کرتے تو آپ کو ایک پایاملتا رہتا جب تک میرا مطالبہ جاری جاری رہتا۔ پھر فرمایا : اے اواسیم اٹھو اور نکلو اور دیکھو کوئی ایسی جگہ ہے جو اللہ کے رسول کے لیے پردہ پوشی کا کام دے ؟ تو میں نکلا اور چل پڑا حتی کہ میں تھک گیا نہ میں نے لوگوں کو عبور کیا اور نہ میں نے کوئی ایسی جگہ دیکھی جو کسی کی پردہ پوش کا انتظام کرسکے کیونکہ لوگوں نے دو پہاڑوں کے درمیان پورا علاقہ بھر چکا تھا مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا کوئی درخت پتھر آپ نے دیکھا میں نے کہا : ہاں کچھ چھوٹے کھجور کے درخت نظر آئے جب کہ ان کے کناروں پر پتھر بھی پڑے ہوئے ہیں تو حضور نے فرمایا : اواسیم ان کھجوروں کے پس جاکر انھیں کہو کہ آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک پردہ دار جگہ بناؤ اور اس طرح پتھروں کو بھی یہ حکم دو تو میں کھجوروں کے پاس آیا اور میں نے انھیں وہ الفاظ سنائی جو مجھے حضور نے ارشاد فرمائے تھے اللہ کی قسم میں دیکھنے لگا کہ یہ کھجوریں اپنی جڑوں اور مٹی سمیت اپنی جگہوں سے ہٹنا شروع ہوگئے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک درخت کی طرح بن گئے اور میں نے جب پتھروں کو حضور کا حکم سنایا تو اللہ کی قسم میں دیکھنے لگا کہ ہر پتھر اپنی جگہ کے کھسک کر ایک دوسرے کے اوپرہوتے گئے اور ایک دیوار کی طرح بن گئے اس کے بعد میں حضور کے سامنے آیا اور انھیں اس ماجرا کی خبردی تو حضور نے فرمایا کہ لوٹا اٹھاؤ تو میں نے اٹھایا اور چل پرے جب ہم ان درختوں کے قریب آگئے میں حضور سے ڈرا آگے چلا اور لوٹا وہاں رکھا پھر واپس لوٹا تو پھر ہضور چلے گئے اور قضائے حاجت کے بعد لوٹ آئے اور لوٹا بھی ہاتھ میں تھا میں نے آن سے لوٹا لیا اور واپس اپنی جگہ آگئے جب ہم خیمہ داخل ہوئے تو مجھے کہا : اواسم درختوں کے پاس واپس جاؤ آور انھیں بتادو کہ حضر کا ہکم کہ ہر درخت اپنی اپنی جگہ واپس جائے آور پتھرو کو بھی ایسا ہی کہہ میں درختوں کے پاس آیا انھیں ایسا ہی کہا تو اللہ کی قسم میں دیکھنے لگا کہ وہ اپنی جر عوں اور مٹی سمیت الگ ہونے لگے اور ہر درخت اپنی جگہ واپس چلی گئی اس طرح میں نے پتھروں کو بھی یہی کہا تو اللہ کی قسم میں دیکھنے لگا کہ ایک پترھ الگ ہو کر اپنی اپنی جگہ پر واپس آگیا ۔ میں نے حضور پاس پھر واپس آگیا۔ (مسند ابی یعلی ابونعیم بیہقی فی الدلدئل ابن حجر نے المطا برالعالیہ میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے اور امام بوصیری نے بھی زائد العشر گا میں ایسا فرمایا ہے)
35433- "مسند أسامة" خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجته التي حجها، فلما هبطنا بطن الروحاء عارضت رسول الله صلى الله عليه وسلم امرأة معها صبي لها فسلمت عليه، فوقف لها، فقالت: يا رسول الله! هذا ابني فلان، والذي بعثك بالحق! ما زال في خنق واحد - أو كلمة تشبهها - منذ ولدته الى الساعة، فاكتنع إليها رسول الله صلى الله عليه وسلم فبسط يده فجعله بينه وبين الرحل ثم تفل في فيه ثم قال: " اخرج عدو الله! فإني رسول الله"، ثم ناولها إياه فقال: "خذيه فلن ترين منه شيئا يريبك بعد اليوم إن شاء الله". فقضينا حجنا ثم انصرفنا، فلما نزلنا بالروحاء فإذا تلك المرأة أم الصبي فجاءت ومعها شاة مصلية فقالت: يا رسول! أنا أم الصبي الذي أتيتك به، قالت: والذي بعثك بالحق! ما رأيت منه شيئا يريبني إلى هذه الساعة، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أسيم" - قال الزهري: وهكذا كان يدعى به لخمسة - "ناولني ذراعها"، فامتلخت الذراع فناولتها إياه، فأكلها ثم قال: " يا أسيم! ناولني ذراعها"، فامتلخت الذراع فناولتها إياه، فأكلها ثم قال: "يا أسيم! ناولني الذراع"، فقلت: يا رسول الله! إنك قلت: ناولني الذراع، فناولتكها فأكلنها، ثم قلت: ناولني، فناولتكها فأكلتها، ثم قلت: ناولني الذراع، وإنما للشاة ذراعان، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم له: "أما إنك لو أهويت إليها ما زلت تجد فيها ذراعا ما قلت لك "، ثم قال: " يا أسيم! قم فاخرج فانظر هل ترى مكانا يواري رسول الله صلى الله عليه وسلم، فخرجت فمشيت حتى حسرت فما قطعت الناس وما رأيت شيئا أرى أنه يواري أحدا وقد ملأ الناس ما بين السدين قال: "فهل رأيت شجرا أو رجما"؟ قلت: بلى، قد رأيت نخلات صغارا إلى جانبهن رجم من حجارة، فقال: " يا أسيم! اذهب إلى النخلات فقل لهن: يأمركن رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يلتحق بعضكن ببعض حتى تكن سترة لمخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم: وقل ذلك للرجم "، فأتيت النخلات فقلت لهن الذي أمرني به رسول الله صلى الله عليه وسلم، فو الذي بعثه بالحق نبيا! لكأني أنظر إلى تعاقرهن بعروقهن وترابهن حتى لصق بعضهن ببعض فكن كأنهن نخلة واحدة، وقلت ذلك للحجارة فوالذي بعثه بالحق! لكأني أنظر إلى تعاقرهن حجرا حجرا حتى علا بعضهن بعضا فكن كأنهن جدار، فأتيته فأخبرته فقال: خذ الإداوة، فأخذتها ثم انطلقنا نمشي، فلما دنونا منهن سبقته فوضعت الإداوة ثم انصرفت إليه، فانطلق فقضى حاجته ثم أقبل وهو يحمل الإداوة فأخذتها، ثم رجعنا، فلما دخل الخباء قال لي: "يا أسيم! انطلق إلى النخلات فقل لهن يأمركن رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ترجع كل نخلة منكن إلى مكانها، وقل ذلك للحجارة "، فأتيت النخلات فقلت لهن الذي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، فوالذي بعثه بالحق! لكأني أنظر إلى تعافرهن وترابهن حتى عادت كل نخلة منهن إلى مكانها، وقلت ذلك للحجارة، فو الذي بعثه بالحق! لكأني أنظر إلى تعاقرهن حجرا حجرا حتى عاد كل حجر إلى مكانه، فأتيته فأخبرته بذلك صلى الله عليه وسلم. "ع وأبو نعيم، هق معا في الدلائل، وحسنه ابن حجر في المطالب العالية والبوصيري في زوائد العشرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کالعاب شفاء
35434 ۔۔۔ محمد بن اسود بن خلف بن عبدیعوث نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ انھیں مقام ابراہیم کے پیچھے سے ایک خط ملاتو قریش نے حمید قبیلے لے ایک آدمی کو بلا کر وہ خط پڑھوایا اس شخص نے کہا کہ اس خط میں یہ ایک ایسی حق بات ہے کہ اگر میں آپ کو بتادوں تو تم مجھے قتل کرو گے مذکورہ راوی نے کہا کہ ہم سمجھ گئے کہ اس میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تذکرہ ہے تو ہم نے آس کو چھپایا ۔ (تاریخ امام بخاری )
35434- عن محمد بن الأسود بن خلف بن عبد يغوث عن أبيه أنهم وجدوا كتابا أسفل المقام فدعت قريش رجلا من حمير فقال: إن فيه لحرفا لو أحدثكموه لقتلتموني، قال: فظننا أن فيه ذكر محمد صلى الله عليه وسلم فكتمناه. "خ في تاريخه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کالعاب شفاء
35435 ۔۔۔ اقرع بن شفی سے روایت ہے کہ میرے ہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جب کہ میں بیمار تھا وہ عبادت کے لیے آئے تھے تو میں نے کہا کہ میرا خیلا ہے میں مرجاؤں گا اپنی اسی بیماری کی وجہ سے تو حضور نے فرمایا کہ قطعا نہیں ۔ آپ زندہ رہیں گے اور شام کی طرف ہجرت کریں اور فلسطین میں ابوہ میں آپ کا انتقال اور دفن ہوگا۔ یہ صحابی حضرت عمر (رض) کے زمانہ خلافت میں فوت ہوئے اور ربوہ میں انھیں دفن کیا گیا۔ (ابن سکن ابن مندہ ابوداؤد طیالسی بیہقی ابونعیم ابن عساکر)
35435- عن الأقرع بن شفى العكي قال: دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم في مرضي يعودني فقلت: لا أحسب إلا أني ميت من مرضي قال: " كلا لتبقين ولتهاجرن إلى أرض الشام وتموت وتدفن بالربوة من أرض فلسطين "؛ فمات في خلافة عمر ودفن بالرملة. "ابن السكن وابن منده، طب وأبو نعيم، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کالعاب شفاء
35436 ۔۔۔ حضرت علی (رض) نے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ میں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک وادی میں چلے گئے ہم جہاں بھی کسی درخت یاپتھر کے ہاں سے گذرے تو اس نے السلام علیک یارسول اللہ کہا اور میں یہ سنتا رہا۔ (بیہقی فی الدلائل)
35436- عن علي قال: لقد رأيتني أدخل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الوادي فلا يمر بحجر ولا شجر إلا قال: السلام عليك يا رسول الله! وأنا اسمعه. "ق في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کالعاب شفاء
35437 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن زریر غافقی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب سے فرماتے ہوئے سنا کہ اے اہل عراق آپ میں سے سات لوگ دوھو کہ دلا کر مارے جائیں گے اور یہ لوگ خندق والوں کی طرح ہوں گے اس کے بعد حرج اور اس کے ساتھی مارے گئے ۔ (تاریخ یعقوب بن سفیان بیہقی فی الدلدئل امام بیہقی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ حضرت علی ایسی بات حضر سے سنے بغیر نہیں کہہ سکتا)
35437- عن عبد الله بن زرير الغافقي قال سمعت علي بن أبي طالب يقول؟ يا أهل العراق! سيقتل منكم سبعة نفر بغدر، مثلهم كمثل أصحاب الأخدود؛ فقتل حجر وأصحابه. "يعقوب ابن سفيان في تاريخه، ق في الدلائل؛ وقال: لا يقول على مثل هذه إلا بأن يكون سمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کالعاب شفاء
35438 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضور سے فرماتے ہوئے سنا کہ میں عورتوں سے متعلق عرب کے مروجہ امور میں سے کسی کام کا قصد نہیں کیا البتہ دو راتوں میں کچھ ایسا ہونے لگا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے بچایا ایک تو وہ رات تھی جب مکہ کے بعض نوجوان جمع ہوگئے تھے میں نے اپنے ساتھی سے کہا جب کہ ہم بکریاں چرا رہے تھے کہ میرے جانوروں کا خیال رکھنا میں مکہ جاکر نوجوانوں کے ساتھ رات کی قصہ گوئی میں شریک ہونا چاہتاہوں تو میرے ساتھی نے کہا ٹھیک ہے میں مکہ میں چلا گیا جب میں پہلے گھر میں آیا اور میں نے آلات و موسیقی کی آواز وجھکنار سنی تو میں نے کہا کہ یہ کیا ہورہا ہے ؟ جواب ملا کہ فلاں شخص کی فلاں عورت پر شادی ہے تو میں بھی بیٹھ گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے کانوں پر بندش لگائی اللہ کی قسم مجھے کچھ پتہ نہیں چلا اور میں دھوپ کی گرمی سے جاگ اٹھا میں اپنے ساتھی کے ہاں آیا اس نے پوچھا کیا کچھ کیا میں نے کہا کچھ بھی نہیں پھر میں نے اس کو آنکھوں دیکھا ہوا حال سنایا پھر کسی اور ان میں سے کہا کہ میری بکریوں کا خیال رکھا کرو میں مکہ جانا چاہتا ہوں اس نے حامی بھرلی تو میں چلا گیا جب میں مکہ آیا تو اس سابقہ رات کی طرح آوازیں سننے میں آئیں میں نے پوچھا تو بتایا گیا کہ فلاں مردو عورت کی شادی ہورہی ہے۔ میں بیٹھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے میرے کانوں پر بندش لگادی اللہ کی قسم مجھے نہیں جگایا مگر سورج کی روشنی نے اور میں اپنے ساتھی کے پاس واپس آگیا اس نے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ میں نے کہا کچھ بھی نہیں پھر میں نے اس کو پورا واقعہ سنایا ۔ اللہ کی قسم اس کے بعد میں نے کس ایسی چیز کا ارادہ نہیں کیا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت دے کر اعزاز بخشا۔ (ابن اسحاق ابن راھویہ بزار مستدرک حاکم بیہقی فی الدلدنل ابن عساکر سنن سعید ابن منصور )
35438- عن علي قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " ما هممت بشيء مما كان أهل الجاهلية يهمون به من النساء إلا ليلتين كلتاهما عصمني الله منهما، قلت ليلة لبعض فتيان مكة ونحن في رعاية غنم أهلنا فقلت لصاحبي: أبصر لي غنمي حتى أدخل مكة فأسمر بها كما يسمر الفتيان: فقال: بلى، فدخلت حتى إذا جئت أول دار من دور مكة سمعت عزفا بالغرابيل والمزامير فقلت: ما هذا؟ فقيل: تزوج فلان فلانة، فجلست أنظر وضرب الله على أذني، فوالله ما أيقظني إلا مس الشمس! فرجعت إلى صاحبي فقال: ما فعلت؟ قلت: ما فعلت شيئا، ثم أخبرته بالذي رأيت، ثم قلت له ليلة أخرى: أبصر لي غنمي حتى أسمر بمكة، ففعل فدخلت، فلما جئت مكة سمعت مثل الذي سمعت تللك الليلة، فسألت فقيل: فلان نكح فلانة، فجلست أنظر وضرب الله على أذني، فوالله ما أيقظني إلا مس الشمس! فرجعت إلى صاحبي فقال: ما فعلت؟ قلت: لا شيء، ثم أخبرته الخبر، فوالله ما هممت ولا عدت بعدهما بشيء من ذلك حتى أكرمني الله بنبوته. " ابن إسحاق وابن راهويه والبزار، ك وأبو نعيم: ق معا في الدلائل، كر، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کالعاب شفاء
35439 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ آپ نے کس بت کا پوجا کیا ہے ؟ فرمایا نہیں پھر لوگوں نے پوچھا کبھی آپ نے شراب پیا ہے ؟ فرمایا نہیں ( اور یہ بھی فرمایا) کہ میں ابتداء سے یہ سمجھ رہا تھا کہ جس دین پر یہ لوگ قائم ہیں وہ کفر ہے جب کہ اس وقت تک مجھے کتاب (قرآن) اور ایمان کی تفصلات معلوم نہ تھیں۔ (ابونعیم فی الدلدئل)
35439- عن علي قال قيل للنبي صلى الله عليه وسلم: هل عبدت وثنا قط؟ قال: "لا"، قالوا: فهل شربت خمرا قط؟ قال: "لا"، وما زلت أعرف أن الذي هم عليه كفر وما كنت أدري ما الكتاب ولا الإيمان. "أبو نعيم في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کالعاب شفاء
35440 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضور نے ہمارے سامنے ایک مجلس میں وہ ساری باتیں جو قیامت تک وجود میں آئیں گی بیان فرما دی۔ (الحاکم فی الکنی)
35440- عن علي قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقاما بما يكون إلى أن تقوم الساعة. "الحاكم في الكنى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کالعاب شفاء
35441 ۔۔۔ حضرت حسن نے حضرت انس لضر اللہ (رض) سے نقل فرمایا ہے کہ حضور نے زمین سے سات کنکریاں اٹھائیں تو وہ ان کے ہاتھ میں تسبیح پڑھنے لگیں پھر انھیں حضرت ابوبکر کو یا تو ان کے ہاتھ میں بھی تسبیح پڑھنے لگیں پھر حضرت عمر کو امی تو ان کے ہاتھ میں تسبیح پڑھنے لگیں جیسا کہ حضرت ابوبکر کے ہاتھ میں پڑھی تھیں پھر حضرت عثمان کو دین اور ان کے ہاتھ میں بھی تسبیح پڑھنے لگیں جیسا کہ حضرت عمرو ابوبکر کے ہاتھ میں پڑھی تھیں۔ (رواہ ابن عساکر)
35441- عن الحسن عن أنس قال: تناول النبي صلى الله عليه وسلم من الأرض سبع حصيات فسبحن في يده، ثم ناولهن أبا بكر فسبحن كما سبحن في يد النبي صلى الله عليه وسلم، ثم ناولهن النبي صلى الله عليه وسلم عمر فسبحن في يده كما سبحن في يد أبي بكر، ثم ناولهن عثمان فسبحن في يده كما سبحن في يد أبي بكر وعمر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنکریوں کا دست مبارک میں تسبیح پڑھنا
35442 ۔۔۔ حضرت ثابت بنانی نے حضرت انس سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ کنکریاں اٹھائیں اور وہ وضو کے ہاتھ میں تسبیح پڑھنے لگیں حتی کہ ہم نے تسبیح کی آواز سن لی پھر حضرت ابوبکر کے ہاتھ میں دی اور ان کے ہاتھ میں بھی تسبیح پڑھنے لگیں جس کی آواز ہم نے سنی پھر حضرت عمر کو دی اور ان کے ہاتھ میں بھی تسبیح پڑھی اور ہم نے سن لی پھر حضرت عثمان کے ہاتھ میں دی اور ان کے ہاتھ میں بھی تسبیح پڑھ لی حتی کہ ہم نے سن لی پر اس کے بعد ہم میں سے ہر ایک آدمی کے ہاتھ میں نمبروار دی لیکن کسی بھی کنکری سے تسبیح کی آواز نہیں سنی گئی ۔ (ابن عساکر)
35442- "أيضا" عن ثابت البناني عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم أخذ حصيات في يده فسبحن حتى سمعنا التسبيح، ثم صيرهن في يد أبي بكر فسبحن حتى سمعنا التسبيح، ثم صيرهن في يد عمر فسبحن حتى سمعنا التسبيح، ثم صيرهن في يد عثمان فسبحن حتى سمعنا التسبيح، ثم صيرهن في أيدينا رجلا رجلا فما سبحت حصاة منهن. "كر".
tahqiq

তাহকীক: