কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৪১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35403 ۔۔۔ یزید بن اسود سے مروی ہے کہ ان دو آدمیوں میں سے ایک جہتوں نے اپنی قبامگاہ میں نماز پڑھی تھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول میرے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کیجئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ آپ کی مغفرت فرماتے راوی کہتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک کو لیا اور اسے میرے سینے ہر رکھ دیاتو میں نے اس کی ٹھنڈک اپنی پیٹھ میں محسوس کی اور راوی کہتا ہے کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک سے زیادہ عمدہ خوشبو والی چیز کبھی نہیں سولکھی اور تحقیق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دست مبارک برف سے زیادہ ٹھنڈا تھا ۔ (یعنی بن مخلد )
35403- عن يزيد بن الأسود أن أحد الرجلين اللذين صليا في رحالهما قال للنبي صلى الله عليه وسلم: "يا رسول الله! استغفر الله لي"، قال: غفر الله لك! قال: وأخذ بيده فوضعها في صدري فوجدت بردها في ظهري، قال: ما شممت ريحا قط أطيب من يده ولقد كانت أبرد من الثلج. "بقي بن مخلد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35404 ۔۔۔ یوسف بن عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ ایک شخص اہل شام میں یثرب والوں میں سے کسی یہودی کا مہمان بناتو اس یہودی نے اس شاہی کی مہانوازی کی اور خوب اکرام کیا تو شانی نے کہا میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جو اچھا سلوک آپ نے میرے ساتھ کیا ہے میں اس کا کیا بدلہ دو البتہ میں آپ کا اکرام ایک قیمتی بات سے کرتا ہوں جو ابھی میں آپ کو بتا دیتا ہوں سو آپ اسے مجھ سے یاد کر لین وہ یہ کہ عرب کی سرزمین پر ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے تو اگر آپ اس کو پاؤ تو اس کی پیروی کرو اور اگر آپ سے یہ نہ ہوسکے تو آپ کے اور اس کے درمیان پھر کچھ عرصہ رہے پھر جب (علیہ السلام) نے نبوت کا اعلان فرمایا تو وہ یہودی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے فرمایا کہ پھر میری اتباع کرو تویہو دی نے کہا کہ ا میں اپنا دین نہیں چھوڑ سکتا لیکن میرے پاس کچھور کے ایک ہزار درخت ہیں جس میں سے ایک سو دس میں آپ کو ہر سال اداکروں گا اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے امان بھی طلب کرتا ہوں لہٰذا آپ میرے واسطے ایک نوشتہ لکھوا دیجئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے دستاویز لکھوائی۔
35404- عن يوسف بن عبد الله بن سلام قال: إن رجلا من أهل الشام نزل بيهودي من أهل يثرب فأنزله وأكرمه، فقال الشامي: إني لا أدري ما أجازيك بما صنعت إلي إلا أني أكرمك بحديث أحدثكه فاحفظه مني: إنه خارج بأرض العرب نبي فإن أدركته فاتبعه، فإن أنت لم تفعل فليكن بينك وبينه ولث عهد قال: فلما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء اليهودي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إنك رسول الله، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "فاتبعني"، فقال اليهودي: لا أدع ديني ولكن لي ألف نخلة فلك منها مائة وسق أؤديه كل عام إليك وأنا آمن على أهل ومالي، فاكتب لي بذلك؛ فكتب له رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال يوسف: فهو ذا، ما يؤخذ منه غيره حتى الساعة مائة وسق، ما يزاد عليه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35405 ۔۔۔ مسند رفاعہ بن دادا جہنی میں ابو الحارث محمد بن الحارث بن ہانی بن مدلج بن مقدابن زیل بن معروالعذری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے اور وہ اپنے دادا سے اور وہ اپنے والد سے آور وہ زمل بن عمر عذر ی سے نقل کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ بنوعذر وہ کا ایک بت تھا جسے حمام کہا جاتا تھا ۔ اور اس کا ج اور ایک شخص جس کو طاق کہا جاتا تھا تو جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ظہور ہوا تو ہم نے ایک آواز سنی کہ اے بنو ھندبن حرام حق ظاہر ہوچکا اور حمام ہلاک ہوچکا اور اسلام نے شرک کو ختم کردیاتوہم اس سے خوفزادہ اور دہشت زدہ ہوگئے پھر کچھ دن ہم نہرے تو پھر ہم نے ایک آواز سنی اور وہ کہہ دیا تھا کہ اے طارق اے طارق حق و باطل بیان کرے والی وحی کے ساتھ سچا پیغمبر مبعوث ہوچاتہامہ کی سر زمین پر حق کو کھول کر بیان کرنے والے نے حق کو واضح کردیا اس کے مدگاروں کے ئے سلامی اور اس کے مخالفین کے لیے پشیمانی بنے یہ پیغام میری طرف سے قیامت تک ہے پھر وہ بت اپنے منہ کے بل گرگیا زمل راوی کہتا ہے کہ میں نے فورا سواری لی اور نکل پڑا یہاں تک کہ اپنی قوم کے کی ایک جماعت کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی خدمت میں نے چند اشعار پیش کئے ۔ الیک رسول اللہ اعملت نصھا لانصر خیرالناس نصر اموزوا واشھدان اللہ لاشی غیراکلفھا حزنا وقوزامن الرمل واعقد حبلا من حبالک فی حبلی ادین لہ ماثقلت قدمی نعلی اے اللہ کے رسول میں اونٹنی کو انتہائی تیزرفتاری کے ساتھ اور اسے مشقوں میں ڈال کر تجھ تک پہنچا ہوں تاکہ لوگوں میں بہترین شخص کی مضبوط مدد کروں اور اپنا تعلق آپ کے ساتھ جو ڑدوں اور میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور جب تک میرے پاؤں جوتوں میں رہے میں اسی دن عقیدہ ہر ہی رہوں گا راوی کہتا ہے کہ پھر میں اسلام لے آیا اور میں نے بیعت بھی کرلی اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان باتوں کی بھی جو ہم نے غائبانہ سنی تھی خبردی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ جنات کا کلام تھا پھر فرمایا اے جماعت عرب بیشک میں تمام لوگوں کی طرف اللہ کا فرستارہ پیغمبر ہوں میں انھیں ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلاتاہوں اور اسباب کی طرف کہ میں بیشک اس کا رسول اور ہندہ ہوں اور اس بات کی طرف کہ تم بیت اللہ کا حج کرو اور بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ روزے رکھو اور وہ رمضان کا مہینہ کا مہینہ ہے تو جو میری بات مانے گا توا س کے لیے ٹھکانا اور بدلہ جنت ہے اور جو میری نافرمانی کرے گا تو جہنم اس کے لوٹنے کی جگہ ہوگی راوی کہتا کہ پھر ہم سب نے اسلام لایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر ہمارے لیے ایک جھنڈ اتیار فرمایا اور ہمارے واسطے ایک نشتہ لکھوایا جس کا مضمون یہ تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے زمل بن عمرو اور ان کے ساتھ مسلمان ہونے والوں کے نام۔ بیشک میں اس کو اس کی پوری قوم کی طرف بھیجتا ہوں تو جو اسلام لے آئے گا تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی جماعت میں ہوگا اور جو انکار کرے گا تو اس کے لیے صرف مہینے کا اماں ہے گواہ علی بن ابی طالب اور محمد بن مسلمتہ نصاری ہیں (ابن عساکر اور انھوں نے کہا کہ غریب جدا)
35405- "مسند رفاعة بن عرابة الجهني" عن أبي الحارث محمد بن الحارث بن هانئ بن مدلج بن المقداد بن زمل بن عمرو العذري حدثني أبي عن أبيه عن جده عن أبيه عن زمل بن عمرو العذرى قال: كان لبني عذرة صنم يقال له حمام، وكان سادنه رجلا يقال له طارق، فلما ظهر النبي صلى الله عليه وسلم سمعنا صوتا: يا بني هند بن حرام! ظهر الحق وأودى حمام، ودفع الشرك الإسلام؛ ففزعنا لذلك وهالنا، فمكثنا أياما ثم سمعنا صوتا وهو يقول: يا طارق، يا طارق! بعث النبي الصادق، بوحي ناطق، صدع صادع بأرض تهامة، لناصريه السلامة، ولخاذليه الندامة، هذا الوداع مني إلى يوم القيامة، فوقع الصنم لوجهه. قال زمل: فابتعت راحلة ورحلت حتى أتيت النبي صلى الله عليه وسلم مع نفر من قومي وأنشدته شعرا قلته:

إليك يا رسول الله أعملت نصها ... أكلفها حزنا وقوزا من الرمل

لأنصر خير الناس نصرا مؤزرا ... وأعقد حبلا من حبالك في حبلي

وأشهد أن الله لا شيء غيره ... أدين له ما أثقلت قدمي نعلي

قال: فأسلمت وبايعت وأخبرناه بما سمعنا، فقال: ذلك من كلام الجن، ثم قال: يا معشر العرب! إني رسول الله إلى الأنام كافة، أدعوهم إلى عبادة الله وحده وأني رسوله وعبده، وأن تحجوا البيت، وتصوموا شهرا من اثني عشر شهرا وهو شهر رمضان، فمن أجابني فله الجنة نزلا وثوابا، ومن عصاني كانت النار منقلبا. قال: فأسلمنا وعقد لنا لواء وكتب لنا كتابا نسخته:

بسم الله الرحمن الرحيم

من محمد رسول الله لزمل بن عمرو ومن أسلم معه خاصة إني بعثته إلى قومه عامة، فمن أسلم ففي حزب الله ورسوله، ومن أبى فله أمان شهرين. شهد علي بن أبي طالب ومحمد بن مسلمة الأنصاري.

"كر، وقال: غريب جدا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35406 ۔۔۔ ابوامامة سے روایت ہے وہ فرماتے ہے کہ کسی نے کہا یا رسول اللہ آپ کے نبوت کی ابتداء کی حقیقت کیا ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اللہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور میری ماں نے خواب دیکھا کہ اس کے جسم سے ایک نور نکلا جس نے شام محلات کو روشن کردیا۔ (ابن نجار)
35406- عن أبي أمامة قال: قيل: يا رسول الله! ما كان بدء أمرك؟ قال: دعوة أبي إبراهيم، وبشرى عيسى، ورأت أمي خرج منها نور أضاء قصور الشام. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35407 ۔۔۔ ابواماتہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے شام کو میرے سامنے رکھا اور یمن کو میرے پشت کی جانب پھر فرمایا اے محمد جو چیز آپ کے آگے ہے اس کو میں نے آپ کے لیے غنیمت اور روزی ہماری ہے اور جو آپ کے پیچھے ہے اس میں نے آپ کی مدد بنادیا ہے (پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا) اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اللہ برابر اسلام اور اہل اسلام کو بڑھتا ہی رہے گا اور شرک اور اہل شرک کو کم کرتا رہے گا یہاں تک دونطفوں کے درمیان سفر کرتے والے کو صرف بادشاہ کے ظلم ہی کا اندیشہ ہوگا عرض کیا گیا یارسول اللہ وہ نفتوں سے کیا مرا ہے فرمایا کہ مشرق اور مغرب کا سمندر اور اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ یہ دین ہر اس جگہ پہنچ کررہے گا جہاں بھی رات آتی ہو۔ (ابن عساکر اور ابن بخار)
35407- عن أبي أمامة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: " إن الله عز وجل استقبل بي الشام واستدبر بي اليمن ثم قال لي: يا محمد! إني جعلت لك ما تجاهك غنيمة ورزقا وما خلف عهرك مددا، والذي نفسي بيده! لا يزال الله يزيد الإسلام وأهله وينقص الشرك وأهله حتى يسير الراكب بين النطفتين لا يخشى إلا جورا - يعني جور السلطان - قيل: يا رسول الله! وما النطفتان؟ قال: بحر المشرق والمغرب، والذي نفسي بيده! ليبلغن هذا الدين ما بلغ الليل. " كر وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35408 ۔۔۔ ابوذر فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا رسول اللہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ آپ نبی ہیں حتی کہ آپ کو اپنے نبی ہونے کا یقین ہوگیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابوذر میرے پاس دو فرشتے آتے اور میں مکہ کی کسی پتھریلی جگہ تھا یمن سے ایک فرشتہ زمین پر آیا اور دوسرا آسمان اور زمین کے درمیان فضا میں رہا پھر ایک نے دوسرے سے پوچھا کیا وہ بندہ یہی ہے دوسرے نے کہا ہاں یہی وہ بندہ ہے پھر کہا کہ اس کو ایک آدمی کے ساتھ تولو پھر مجھے ایک آدمی کے ساتھ تولا گیا تو میں اس سے وزنی تھا پھر کہا کہ اس کو دس کے ساتھ تولو پھر ان دونوں نے مجھے دس کے ساتھ تولا تو میں ان دس سے بھی وزنی نکلا۔ پھر کہا کہ اسے سو کے ساتھ تولو تو ان دونوں نے مجھے سو آدمیوں کے ساتھ تولا تو میں ان سے بھی وزنی نکلا پھر کہا کہ اسے بزار کے ساتھ تولو پھر مجھے ایک ہزار کے ساتھ ان دونوں نے تولا تو میں ان سے بھی وزن میں زیادہ تھا وہ لوگ ترازو کے پلڑے سے بکھر کر گرنے لگے پھر ان دونوں فرشتوں میں سے ایک نے دوسرے کہا کہ اگر آپ اسے اس کی پوری امت سے بھی وزن کرلو گے تو یہ ان سب سے وزنی ہوگا پھر ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اس کا پیٹ چاک کرو تو اس نے میرا پیٹ چاک کیا پھر ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اس کا دل باہر نکالو تو اسنے میرا دل بھی چاک کیا اور اس سے شیطان کے وسوسے ڈالنے کی جگہ نکال دی اور جما ہوا خون بھی پھر ان دونوں کو پھینک دیا پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ اس کا پیٹ برتن کی طرح اور اس کا دل کپڑے کی طرح دھولو پھر ایک چھری منگوائی گئی کہ وہ بالکل نئی صاف شفاف سفید چھری تھی پھر وہ چھری میرے دل میں داخل دی گئی پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ اس پیٹ سی لو تو اس نے میرا پیٹ سی لیا پھر ان دونوں نے مہر نبوت میرے دونوں کندھوں کے درمیان لگایا پھر اچانک وہ دونوں میرے پاس سے چلے گئے اور یہ سارا معالہ گویا اس آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔(دارمی والرادیانی دالحبانی شی فواندھا بن عساکر وابن النجار سعید بن مسیب عن سوید بن یزید العمی)
35408- عن أبي ذر قال: قلت: يا رسول الله! كيف علمت أنك نبي حتى علمت ذلك واستيقنت أنك نبي؟ قال: " يا أبا ذر! أتاني ملكان وأنا ببعض بطحاء مكة فوقع أحدهما بالأرض وكان الآخر بين السماء والأرض، فقال أحدهما لصاحبه: أهو هو؟ قال: هو هو، فقال: زنه برجل، فوزنت برجل فرجحته، ثم قال: زنه بعشرة، فوزناني بعشرة فوزنتهم، ثم قال: زنه بمائة، فوزناني بمائة فرجحتهم، ثم قال: زنه بألف، فوزناني بألف فرجحتهم، فجعلوا ينتثرون علي من كفة الميزان، فقال أحدهما للآخر: لو وزنته بأمته لرجحها، ثم قال أحدهما لصاحبه: شق بطنه، فشق بطني، ثم قال أحدهما لصاحبه: أخرج قلبه، فشق قلبي فأخرج منه مغمز الشيطان وعلق الدم فطرحهما، ثم قال أحدهما للآخر: اغسل بطنه غسل الإناء واغسل قلبه غسل الملاء ثم دعى بسكينة كأنها برهرهة بيضاء فأدخلت قلبي، ثم قال أحدهما لصاحبه: خط بطنه، فخاط بطني فجعلا الخاتم بين كتفي، فما هو إلا أن وليا عني فكأنما أعاين الأمر معاينة. " الدارمي والروياني والحباني في فوائده، كر وابن النجار، ص - عن سويد بن يزيد العمى ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوذر (رض) کے اسلام کا تذکرہ
35409 ۔۔۔ ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک بات دیکھنے کے بعد میں حضرت عثمان (رض) کا صرف ذکر خیر کے ساتھ ہی تذکرہ کروں گا میں ایک شخص تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خلوتوں اور تنہائیوں کی جستجو میں رہتا تھا تاکہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ سیکھوں تو میں نے ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تنہاء دیکھا تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تنہائی کو غنیمت سمجھا اور آپ کے قریب آگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا اے ابوذر تجھے کیا چیز لائی ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول پھر ابوبکر (رض) نے اور سلام کیا پھر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں جانب بیٹھ گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر آپ تجھے کیا چیز لے کر آتی ہے ؟ انھوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول پھر عمر (رض) آئے اور اسلام کیا اور ابوبکر (رض) کے دائیں جانب بیٹھ گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوجھا اے عمر تجھے کیا چیز لے کر آئی ہے ؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول پھر عثمان (رض) آئے اور اسلام کیا پھر وہ بھی حضرت عمر (رض) کے دائیں جانب بیٹھ گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے عثمان تجھے کیا چیز لے کر آئی ہے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنی نوکنکریاں تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں لیا اور اپنے تبیلی ہر رکھا تو وہ کنکریاں تسبیح کرنے لگیں یہاں تک میں نے خودشہد کی مکھی کی طرح ان کی بھنبنا ہٹ سنی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں واپس رکھا تو وہ خاموش ہوگئیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں دوبارہ لیا اور نہیں حضرت ابوبکر (رض) کے دونوں ہاتھوں میں رکھا تو وہ پھر تسبیہ کرنے لگیں یہاں تک کہ میں نے شہد کی مکھیوں کی طرح ان کی بہنبنا ہٹ خود سنی پھر انھوں نے بھی انھیں واپس زمین پر رکھاتو وہ خاموش ہوگئیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں لیا اور حضرت عمر (رض) کے ہاتھ میں انھیں رکھاتو وہ تسبیح کرنے لگیں یہاں تک کہ میں نے شہد کی مکھیوں کی طرح ان کی بھنبنا ہٹ سنی پھر انھوں نے بھی انھیں دوبارہ زمین پر رکھا تو وہ خاموش ہوگئیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں لے کر حضرت عثمان (رض) کے ہاتھ میں رکھا تو وہ تسبیح کرنے لگیں یہاں تک کہ میں شہد کی مکھیوں کی طرح ان کی بھنبناہٹ سنی پھر انھوں نے بھی انھیں واپس رکھا تو وہ خاموش ہوگئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہی نبوت کی خلافت ہے۔ رواہ ابن عساکر
35409- عن أبي ذر قال: لا أذكر عثمان إلا بخير بعد شيء رأيته، كنت رجلا أتتبع خلوات رسول الله صلى الله عليه وسلم أتعلم منه، فرأيته يوما خاليا وحده، فاغتنمت خلوته فجئت حتى حلت إليه، فقال، " يا أبا ذر! ما جاء بك"؟ قلت: الله ورسوله، فجاء أبو بكر فسلم ثم جلس عن يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " يا أبا بكر! ما جاء بك "؟ قال: الله ورسوله، ثم جاء عمر فسلم وجلس عن يمين أبي بكر، فقال: "يا عمر! ما جاء بك"؟ قال: الله ورسوله، ثم جاء عثمان فسلم ثم جلس عن يمين عمر، فقال: " يا عثمان! ما جاء بك"؟ قال: الله ورسوله، وبين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم سبع حصيات - أو قال: تسع حصيات - فأخذهن فوضعهن في كفه، فسبحن حتى سمعت لهن حنينا كحنين النحل، ثم وضعهن فخرسن، ثم أخذهن فوضعهن في يدي أبي بكر، فسبحن حتى سمعت لهن حنينا كحنين النحل، ثم وضعهن فخرسن، ثم تناولهن فوضعهن في يد عمر، فسبحن حتى سمعت لهن حنينا كحنين النحل، ثم وضعهن فخرسن، ثم تناولهن فوضعهن في يد عثمان، فسبحن حتى سمعت لهن حنينا كحنين النحل، ثم وضعهن فخرسن، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " هذه خلافة النبوة. " كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوذر (رض) کے اسلام کا تذکرہ
35410 ۔۔۔ عاصم بن حمید ابوذر سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کے بعض باغات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلاش کرنے کے لیے چلاتو اجانک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میں نے کھجور کے درختوں کے نیچے بیٹھے ہوتے پایا تو میں آگے بڑھا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آپ کو کیا چیز لے کر آتی ہے ؟ میں نے عر ض کیا کہ مجھے اللہ لے کر آیا ہے اور میں اس کے رسول کو تلاش کررہا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیٹھ جاؤ تو میں بیٹھو گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کاش ہمارے پاس کوئی اور صالح آدمی بھی آجاتا ہے تو ابوبکر (رض) آئے اور سلام کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں سلام کا جواب دیا پھر فرمایا کہ تجھے کیا چیز لے کر آءی ہے ؟ عرض کیا کہ مجھے اللہ لے کر آیا ہے اور میں اس کا رسول تلاش کررہا تھا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں بھی حکم دیاتو وہ بھی بیٹھ گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہم میں ایک چوتھا نیک شخص بھی ہونا چاہتے تو حضرت عمر (رض) حاضر خدمت ہوئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تجھے کیا چیز لے کر آئی ہے ؟ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے لے کر آتے اور میں اس کے رسول کو تلاش کررہا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بھی حکم دیاتو وہ بھی بیٹھ گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہم میں ایک پانچواں نیک شخص بھی ہونا چاہیے تو حضرت عثمان (رض) آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں سلام کا جواب دیا پھر فرمایا کہ تجھے کیا چیز لے کر آئی ہے ؟ عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے لے کر آتے اور میں اس کے رسول کو تلاش کررہا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بھی حکم دیاتو وہ بھی بیٹھ گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ کنکریاں تھیں جو تسبیح کررہی تھیں آپ کے دست مبارک میں تو آپ نے دوکنکریاں ابوبکر (رض) کو دیں تو وہ ان کے ہاتھ میں بھی تسبیح پڑھتی ہیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ ان سے واپس لے لیں پھر وہ کنکریاں حضرت عمر (رض) کو ہاتھ میں دین تو ان کے ہاتھ میں بھی تسبیح پڑھتی رہیں پھر ان سے بھی واپس لے لیں پھر حضرت عثمان (رض) کو پکڑائیں تو ان کے ہاتھ میں بھی تسبیح کرتی ہیں پھر ان سے لے کر حضرت علی (رض) کو پکڑ وائیں توکنکریوں نے تسبیح نہ کی اور بلکہ خاموش ہوگئیں ۔ (رواہ ابن عساکر)
35410- عن عاصم بن حميد عن أبي ذر قال: انطلقت ألتمس النبي صلى الله عليه وسلم في بعض حوائط المدينة فإذا أنا بالنبي صلى الله عليه وسلم قاعد تحت نخلات! فأقبلت فسلمت على النبي صلى الله عليه وسلم؛ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ما جاء بك"؟ قلت: الله جاء بي وأبتغي رسوله، فقال: "اجلس"، فجلست، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ليت أتانا رجل صالح"، فأقبل أبو بكر فسلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فرد عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم السلام، ثم قال: " ما جاء بك "؟ قال: الله جاء بي وأبتغي رسوله، فأمره فجلس، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ليربعنا رجل صالح! " فأقبل عمر فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما جاء بك "؟ قال: الله جاء بي وأبتغي رسوله، فأمره فجلس، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ليخمسنا رجل صالح! " فأقبل عثمان فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم، فرد عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم السلام، ثم قال: "ما جاء بك؟ " قال: الله جاء بي وأبتغي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأمره فجلس، ثم جاء علي فسلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم فرد عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: " ما جاء بك"؟ قال: "الله جاء بي وأبتغي رسوله"، ثم أمره فجلس، ومع رسول الله صلى الله عليه وسلم حصيات يسبحن في يده، فناولهن أبا بكر فسبحن في يده، ثم انتزعهن منه، فناولهن عمر فسبحن في يده، ثم انتزعهن منه، فناولهن عثمان فسبحن في يده، ثم انتزعهن منه، فناولهن عليا فلم يسبحن وخرسن. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیہ بن ابی الصلت کا تذکرہ
35411 ۔۔۔ ابوسفیان فرماتے ہیں کہ امیہ بن ابوصلت ایک جنگ میں ان کے ساتھ تھے تو امیہ بن الوصلت نے ان سے کہا کہ اے ابوسفیان مجھے عتبہ بن ربیعہ کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کروتو میں نے کہا کہ وہ (ماں باپ ) دونوں طرف سے اچھے نوز خاندان اور نسب والا ہے مظالم اور حرام کاموں سے بچتا ہے اور اچھے اخلاق والا ہے اور بڑے عمر کا ہے امیہ کہنے لگا کہ میں اپنی کتابوں میں ایک نبی کے بارے میں پاتا تھا کہ وہ ہماری سرزمین سے مبعوث ہوگا تو میرا خیال یہی تھا کہ وہ میں ہی ہوں گا پھر جب اہل عراق سے میں نی علم سکیھا تو مجھے پتا چلا کہ وہ بنوعبدمناف سے ہوگا پھر میں نے بوعبدمناف پر نظر ڈالی تو میں نے عتبہ ربیعہ کے علاوہ اس منصب کے لائق کسی کو نہ پایا پھر اب جب آپ نے اس کے عمر کی مجھے خبردی تو مجھے پتا چلا وہ بھی اس کے مصداق نہیں اس لیے کہ ان کی عمر چالیس سے تجاوز کرچکی لیکن ابھی تک ان کے پاس وحی نہیں آتی ابو سفیان کہتے ہیں کہ پھر اس بعد کچھ عرصہ گزرا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وحی کی گئی اور میں تجارة کے عرض سے یمن کا قصد کرتے ہوئے قریش کے ایک قافلہ میں نکلا تو میرا گزرامہ ابن ابوالصلت پر ہوا تو میں نے مذاق میں کہا کہ اے میہ وہ نبی جس کا جو انتظار کرتا تھا تحقیق وہ ظاہر ہوچکا ہے امیہ نے کہا کہ اگر واقعہ وہ سچا ہے تو خود اس کی پیروی کر میں نے کہا اس کی پیروی کرنے سے تجھے کیا چیز مانع ہے ؟ کہنے لگاثقیف قبیلہ کی عورتوں سے حداء مجھی منع کررہی ہے اس لیے کہ میں پہلے انھیں خوبتلا تا تھا کہ میں ہی وہی نبی ہوں پھر اب وہ مجھے بنوعبد مناف کے ایک لڑکے کا تابعدار دیکھیں گے پھر امیہ نے کہا اے سفیان میرا خیال ہے کہ اگر تو نے اس پیغمبر کی مخالفت کی تو مجھے بکری کے بچے کی طرح رسی سے باندھ اس کے سامنے پیش کیا جائے غار پھر وہ تیرے بارے میں جو چاہے گا فیصلہ کرے گا۔
35411- عن أبي سفيان أن أمية بن أبي الصلت كان معه بغزاة فقال له: يا أبا سفيان! ألهني 1 عن عتبة بن ربيعة، قال: كريم الطرفين ويجتنب المظالم والمحارم وشريف مسن، قال: إني كنت أجد في كتبي نبيا يبعث من حرتنا هذه فكنت أظن أني هو، فلما دارست أهل العراق إذا هو من بني عبد مناف، فنظرت في بني عبد مناف فلم أجد أحدا يصلح لهذا الأمر غير عتبة بن ربيعة فلما أخبرتني بسنه عرفت أنه ليس به حين جاوز الأربعين ولم يوح إليه؛ قال أبو سفيان: فضرب الدهر من ضربه وأوحي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وخرجت في ركب من قريش أريد اليمن في تجارة، فمررت بأمية بن أبي الصلت فقلت له كالمستهزئ به: يا أمية! قد خرج النبي صلى الله عليه وسلم الذي كنت تنتظر، قال: أما إنه حق فاتبعه، قلت: ما يمنعك من اتباعه؟ قال: ما يمنعني إلا الاستحياء من نساء ثقيف، إني كنت أحدثهم أني هو ثم يرونني تابعا، لغلام من بني عبد مناف! ثم قال أمية: وكأني بك يا أبا سفيان وإن خالفته قد ربطت كما يربط الجدي حتى يؤتى بك إليه فيحكم فيك بما يريد. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیہ بن ابی الصلت کا تذکرہ
35412 ۔۔۔ ابومریم کندی فرماتے ہیں کہ برکا ایک اعرابی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے اور آپ کے اردگرد لوگوں کو ایک حلقہ تھا تو اس اعرابی نے کہا کہ آپ مجھے وہ باتیں کیوں نہیں سکھائے جو آپ کو معلوم ہیں اور مجھے معلوم نہیں اور ان کا بتانا مجھے فائدہ دینگی اور آپ کا نقصان بھی نہ ہوگا ؟ تو لوگوں نے کہا خاموش خاموش بیٹھ جاتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کے چھوڑ دو اسے اس لیے کہ وہ جاننے کے لیے سوال کررہا ہے سو اس کو جگہ دو لہٰذا وہ بیٹھ گیا پھر اس نے پوچھا کہ آپ کی نبوت کی ابتداء کا پس منظر کیا ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی ویسا ہی عہد لیا جس طرح کہ اس نے دوسرے نبیوں سے عہد لیا ہے اور یہ آیت تلاوت فرمائی ومنک ومن نوح و ابراہیم وموسی (علیہ السلام) ابن مریم (واخذنا منھم میثاقا غلیظا) اور میں عیسیٰ ابن مریم کی بشارت ہوں اور رسول کی والدہ نے خواب میں دیکھا کہ اس دونوں پاؤں کے درمیان چراغ جیسی روشنی نکلی جس سے شام کے محلات روشنی ہوگئے تواعرابی نے کہا اور اپنا سر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب کیا اور اس کی سماعت میں کچھ فرق تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس کے علاوہ بھی کچھ بائیں ہیں اور اس کے علاوہ بھی کچھ بائیں دودفعہ یاتین مرتبہ (طبرانی وابن مردویہ و ابونعیم فی الدلدئل وابن عساکر)
35412- عن أبي مريم الكندي قال: أقبل أعرابي من بهز حتى أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو قاعد عنده حلقة من الناس فقال: ألا تعلمني شيئا تعلمه وأجهله وينفعني ولا يضرك؟ فقال الناس: مه مه! اجلس، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " دعوه فإنما سأل الرجل ليعلم فأفرجوا له"، حتى جلس فقال: أي شيء كان أول من أمر نبوتك؟ قال: " أخذ الله مني الميثاق كما أخذ من النبيين ميثاقهم وتلا: {وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقاً غَلِيظاً} وبشرى المسيح عيسى ابن مريم، ورأت أم رسول في منامها أنه خرج من بين رجليها سراج أضاءت لها منه قصور الشام"، فقال الأعرابي: هاه! وأدنى رأسه منه وكان في سمعه شيء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ووراء ذلك ووراء ذلك مرتين أو ثلاثا. " طب وابن مردويه وأبو نعيم في الدلائل، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیہ بن ابی الصلت کا تذکرہ
35413 ۔۔۔ عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ وہ اپنی پھوپھی کے ہاں ٹھہرے ہوتے تھے تو وہ ان کے لیے توہ ان کے لیے تازہ کھجوریں توڑنے کے لیے نکلے تو ان کی ملاقات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہوئی تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیٹھ کی طرف مڑمڑ کر دیکھنے لگے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سمجھ گئے کہ یہ مہرنبوت کو دیکھنا چاہتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی چادر اتاری توعبداللہ بن سلام آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی اور آپ سے مزید تین نشانیوں کے بارے میں دریافت کیا۔ (رواہ ابن عساکر )
35413- عن عبد الله بن سلام أنه كان نزل بعمة له فبينا هو يريد أن يجتني لها رطبا فلقي رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل يلتفت وينظر إلى ظهره، فعرف رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه يريد أن ينظر إلى الخاتم فألقى له رداءه فصدقه وسأله عن ثلاث آيات. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن سلام کے اسلام لانے کا تذکرہ
35414 ۔۔۔ محمد بن حمزة بن عبداللہ بن سلام اپنے دادا عبداللہ ابن سلام سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے جب مکہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ظہور کے بارے میں سنا تو وہ گھر سے نکلے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ ہی اہل یثرب کے عالم کے بیٹے ہیں ؟ تو اس نے کہا کہ ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمادی تاکہ میں آپ کو اس اللہ کی قسم دیتاہوں کہ جس نے طور سینا ہر توراة کو نازل فرمایا کیا آپ نے میری صفات اس کتاب میں جس کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اتارا تھا پائی ہیں تو عبداللہ بن سلام نے کہا کہ اے محمد آپ اپنے رب کا نسب ہمارے سامنے بیان کردیں تو ایک دم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر لرزہ طاری ہوگیا اور جبرائیل امین نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا قل ھو اللہ اہد اللہ اصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفواحد۔ توعبداللہ بن سلام نے کہا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں اور بیشک اللہ آپ کو ہاک کرنے والا ہے اور آپ کے دین کو تمام ادیاں پر غالب کرنے والا ہے اور میں نے یقنا آپ کی صفات اللہ کی کتاب میں پائی ہیں (یا ایہا النبی انار سلنا شاھد ومبشر اوفذیرا ) آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں اور میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے جو نہ تو سخت گو ہے اور نہ ہی سخت اخلاق والا ہے اور نہ ہی لے ضرور بازاروں میں گھومنے والا اور برائیکابدلہ برائی سے نہیں دیتا لیکن معاف کردیتا ہے اور درگزر کردیتا ہے اور اللہ اس کو اس وقت تک موت نہ دے گا جب تک اس کے ذریعہ دین ومذھب کی کجی کو دور نہ کریں یہاں تک کہ لوگ لاالہ اللہ کہنے لگیں اور اللہ اس کے ذریعہ اندھی آنکھیں اور بہرے کان اور پردے میں لپٹے دل کھول دے گا۔ ( رواہ ابن عساکر )
35414- عن محمد بن حمزة بن عبد الله بن سلام عن جده عبد الله بن سلام أنه لما سمع بمخرج النبي صلى الله عليه وسلم بمكة خرج فلقيه فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "أنت ابن عالم أهل يثرب"؟ قال: نعم، قال: "فناشدتك بالله الذي أنزل التوراة على طور سيناء هل تجد صفتي في الكتاب الذي أنزله الله على موسى؟ " قال عبد الله بن سلام: انسب لنا ربك يا محمد! فارتج النبي صلى الله عليه وسلم فقال له جبريل: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُواً أَحَدٌ} فقال ابن سلام: أشهد أنك رسول الله، وأن الله مطهرك ومظهر دينك على الأديان، وإني لأجد صفتك في كتاب الله: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِداً وَمُبَشِّراً وَنَذِيراً} أنت عبدي ورسولي، سميتك المتوكل، ليس بفظ ولا غليظ ولا سخاب في الأسواق، ولا يجزي بالسيئة السيئة مثلها ولكن يعفو ويصفح، ولن يقبضه الله حتى يقيم به الملة العوجاء حتى يقولوا: لا إله إلا الله، ويفتح به أعينا عميا وآذانا صما وقلوبا غلفا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن سلام کے اسلام لانے کا تذکرہ
35415 ۔۔۔ حضرت ابوہریر ة (رض) سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک بھنی ہوئی بکری ہدیہ پیش کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے کچھ کھالیا پھر فرمایا کہ اس عورت نے مجھے بتایا کہ اس بکری میں زہرملایا گیا تھا تو بشربن براء اس کی وجہ سے فوت ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھوایا کہ تجھے تیرے اس حرکت پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ کہنے لگی میرا ارادہ تھا کہ میں جان سکو کہ اگر آپ نبی ہوئے تو آپ کو زہر نقصان نہ دے گا اور اگر آپ بادشاہت کے طالب ہوتے میری وجہ سے لوگ آپ سے چھوٹ جائینگے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے قتل کا حکم دیا تو وہ قتل کردی گئی۔ (طبرانی)
35415- عن أبي هريرة أن يهودية أهدت للنبي صلى الله عليه وسلم شاة مصلية فأكل منها ثم قال: أخبرتني أنها مسمومة، فمات بشر بن البراء منها، فأرسل إليها فقال: " ما حملك على ما صنعت؟ " قالت: أردت أن أعلم، إن كنت نبيا لم يضرك، وإن كنت ملكا أرحت الناس منك؛ فأمر بها فقتلت. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن سلام کے اسلام لانے کا تذکرہ
35416 ۔۔۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوسفیان بن آپ سے طواف کے دوران ملے تو فرمایا اے ابوسفیان تیرے اور ہندہ کے درمیان یوں یون معاملہ ہوا ہے تو سفیان بولاھند نے میرے راز فاش کردیتے تو اب میں اس کو کا بدلہ چکاؤں گا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنے طواف فارغ ہوتے توابوسفیان کے پاس گئے اور فرمایا کہ اے ابوسفیان ھند سے کچھ نہ کہنا اس لیے کہ اس نے تیرا کوئی رمائش نہیں کیا تو ابوسفیان ابولا میں گواہی دیتاہوں کہ بیشک تو آپ اللہ کے رسول ہیں ہند کے بارے میں میرا خیال تھا کہ اس نے میرے دل کی باتیں آپ کو تباہ کر میرے راز فاش کردیتے ۔ (رواہ ابن عساکر)
35416- عن ابن عباس قال: لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم أبا سفيان ابن حرب في الطواف فقال: " يا أبا سفيان! كان بينك وبين هند كذا كذا "، فقال أبو سفيان: أفشت علي هند سري، لأفعلن بها! فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من طوافه لحق أبا سفيان فقال: " يا أبا سفيان! لا تكلم هندا فإنها لم تفش من سرك شيء"، فقال أبو سفيان: أشهد أنك رسول الله! هذه هند ظننتها أن تكون أفشت سري من انبائك ما في نفسي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن سلام کے اسلام لانے کا تذکرہ
35417 ۔۔۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ قریش کے لوگ ایک کا ھنہ عورت کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ ہمیں بتاؤ کہ ہم میں سے کون اس مقام والے یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے زیادہ مابہ ہے تو اس عورت کے کہا کہ اگر تم اس نرم مٹھی پر ایک چادر کو کھینچو گے اور پھر اس ہر چلو گے تو میں تمہیں بتادوں گی لہٰذا انھوں نے چادر بھی کھینچی اور پھر اس ہر چلے بھی تو اس عورت نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چلنے کے نشانات کو دیکھا اور کہا کہ یہ شخص تم سب میں سے اس کے زیادہ مشابہ ہے پھر اس واقعہ کے بیس سال بعد یا جو مقدار اللہ کو منظور تھی اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا۔ (رواہ ابن عساکر)
35417- عن ابن عباس أنه قال إن قريشا أتوا امرأة كاهنة فقالوا لها: أخبرينا بأشبهنا بصاحب هذا المقام - يعنون إبراهيم، فقالت: إن أنتم جررتم كساء على هذه السهلة ثم مشيتم عليها أنبأتكم، فجروا ثم مشى الناس عليها، فأبصرت أثر محمد صلى الله عليه وسلم فقالت: أقربكم إليه شبها، فمكثوا بعد ذلك عشرين سنة أو ما شاء الله ثم بعث الله محمدا صلى الله عليه وسلم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن سلام کے اسلام لانے کا تذکرہ
35418 ۔۔۔ مسند رجال لم یسمو میں ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ مجھ سے ایسے شخص نے جو مہتم نہیں حسن بن ابی الحسن البصری کے واسطہ سے اصحاب رسول سے رایت کیا کہ ان اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرض کیا کہ یارسول اللہ آپ کے متعلق کسری پر اللہ تعالیٰ کی کیا حجت قائم ہوئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا جس نے اپنا ہاتھ اس گھر کے مضبوط دیوار میں سے جس میں وہ کسری رہتا تھا روشنی سے چمکتا ہوانکالا تو جواب کسری نے آس کو دیکھا توگھبرا گیا تو فرشتہ نے کہا کہ اے کسری نہ ڈر بیشک اللہ نے ایک رسول مبعوث فرما دیا ہے اور اس پر ایک کتاب بھی اتا رہے سو تو اس کی پیروی کرو تو تیری دینا و آخرت دونوں محفوظ ہوجائے گی کہتے لگا کہ میں غور کرتا ہوں۔ (ابن النجار)
35418- "مسند رجال لم يسموا" ابن إسحاق حدثني من لا أتهم عن الحسن ابن أبي الحسن البصري عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا: يا رسول الله! ما حجة الله على كسرى فيك؟ قال: بعث الله إليه ملكا فأخرج يده من سور جدار بيته الذي هو فيه تلألأ نورا، فلما رآها فزع، فقال: لم ترع يا كسرى! إن قد بعث رسولا وأنزل عليه كتابا فاتبعه يسلم لك دنياك وآخرتك، قال: سأنظر. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن سلام کے اسلام لانے کا تذکرہ
35419 ۔۔۔ خالد بن معدان اصحاب رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں انھوں نے کہا یارسول اللہ ہمیں اپنے آپ کے بارے میں بتائیے فرمایا میں اپنے باپ ابراہیم کی دعوت اور عیسیٰ ابن مریم کی خوش خبری ہوں، جب میں اپنی ماں کے پیٹ میں تھا تو اس وقت انھوں نے ایک نور دیکھا جس نے ارض وشام میں بصری کو روشن کردیا، میں نے اپنی رضاعت کا زمانہ بنی سعد بن بکر میں گزارا اس دوران کہ میں اور میرا ایک رضاعی بھائی اکٹھے تھے کہ دو آدمی ایک سفید کپڑا لائے اور ان کے پاس سونے کا ایک طشت تھا جو برف بھرا ہوا تھا پھر انھوں نے مجھے لٹا کر میرا پیٹ چاک کیا، اور میرا دل نکال کردھویا اور اس میں حکمت اور ایمان ڈال دیا۔ ابن مندۃ، ابن عساکر۔
35419- عن خالد بن معدان عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا: يا رسول الله! أخبرنا عن نفسك، قال " دعوة أبي إبراهيم، وبشرى عيسى بن مريم، ورأت أمي حين حملت بي أنه خرج منها نور أضاءت له قصور بصرى من أرض الشام، واسترضعت في بني سعد بن بكر، فبينا أنا مع أخ لي في بهم لنا أتاني رجلان بثياب بيض معهما طست من ذهب مملوء ثلجا، فأضجعاني فشقا بطني ثم استخرجا قلبي فغسلاه، ثم جعلا فيه حكمة وإيمانا. " ابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن سلام کے اسلام لانے کا تذکرہ
35420 ۔۔۔ عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ میں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم عمر ہیں اور میری ماں شفاء جو عمر بن عوف کی بہن ہیں ہم سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی والدہ آمنہ بنت وھب کے معلوم واقعات بتلاتی تھی ایک دفعہ فرمانے لگی کہ جب آمنہ نے محمد کو چنا تو وہ میرے ہاتھوں میں آئے پھر زور سے چلاتے تو میں نے ایک کہنے کو یہ کہتے بوتے سنا کہ اللہ تجھ پر رحم کرلے آو ر تیرا رب تجھ پر رحم کرے شفاد فرماتی ہیں کہ پھر مشرج اور مغرب کے درمیان کا تمام علیقہ میرے سامنے روشن ہوگیا یہاں تک کہ میں روم کے بعض محلات تک کو دیکھا فرمائی ہے کہ پھر میں نے اس کو چٹ لٹا دیا پھر فورا تاریکی اور ہیبت نے مجھے گھیر لیا پھر میرے دائیں جانب روشنی ہوگئی پھر میں نے ایک کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ آپ اس بچہ کو کہاں لے گئے ؟ جواب میں کہا کہ میں اسے مغرب لے گیا کہتی ہیں کہ اور پھر مجھ سے یہ کیفیت مدد ہوگئی پھر دوبارہ ہیبت اور تاریکی نے مجھے بائیں جانب سے گھیر لیا پھر میں نے کسی کہنے والے کو یہ کہتے بوتے سنا کہ تو اسے کہاں لے گیا جواب میں کہا کہ میں اسے مشرق لے گیا۔ راوی کہتا ہے کہ یہ واقعہ برابر میں میرے دل میں رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمادیا سو میں لوگوں سے سب پہلے اسلام لے آیا۔ (ابونعیم فی الدلائل)
35420- عن عبد الرحمن بن عوف قال: كنت أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم تربا، وكانت أمي الشفاء أخت عمرو بن عوف تحدثنا عن آمنة بنت وهب أم رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت الشفاء: لما ولدت محمدا وقع على يدي فاستهل، فسمعت قائلا: رحمك الله ورحمك ربك! قالت الشفاء: فأضاء لي ما بين المشرق والمغرب حتى نظرت إلى بعض قصور الروم، قالت: ثم أضجعته فلم أنشب أن غشيتني ظلمة ورعب، ثم أسفر لي عن يميني فسمعت قائلا يقول: أين ذهبت به؟ قال: ذهبت به إلى المغرب، قالت: وأسفر ذلك عني ثم عاودني الرعب والظلمة عن يساري فسمعت قائلا يقول: أين ذهبت به؟ قال: ذهبت إلى المشرق. قال: فلم يزل الحديث مني على بال حتى ابتعثه الله، فكنت في أول الناس إسلاما. "أبو نعيم في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے پہلے ہلاک ہونے والے
35421 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ لوگوں میں سب سے پہلے تیری قوم ہلاک ہوگی میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان ہوجاؤں کیا بنوتمیم ؟ فرمایا نہیں بلکہ یہ قریش کا قبیلہ (ابن جریر)
35421- عن عائشة قالت: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أول من يهلك من الناس قومك"، قلت: جعلني الله فداك! أبنو تميم؟ قال: " لا، ولكن هذا الحي من قريش. " ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے پہلے ہلاک ہونے والے
35422 ۔۔۔ حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک شخص کے جنت میں داخل کرنے کے لیے ایک رنبہ بھیجا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر یہودیوں کے عبادت خانوں میں سے ایک عبادت خانے پر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لے گئے جب کہ وہ لوگ اپنی کتاب کو پڑھ رہے تھے تو جب انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو کتابوں کو بند کرلیا اور نکل گئے اور عبادت خانے کے ایک کونے میں ایک شخص مرنے کے قریب حالت میں تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس تشریف لائے تو اس شخص نے کہا کہ آپ کے آنے نے ان کو میں ایک شخص مرنے کے قریب حالت میں تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس تشریف لائے تو اس شخص نے کہا کہ آپ کے آنے نے ان کو پڑھنے سے روک دیا اور وہ لوگ ایک ایسے نبی کی صفات پڑھ رہے تھے جو تمام آپ میں پائی جاتی ہیں پھر وہ کتاب کے قریب آیا اور اسے کھولا پھر پڑھا اور کہا میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں پھر اس کی روح قبض کرلی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اپنے بھائی کو لو اور اسے غسل دو اور کفن بھی دو اور اسے خوشبو بھی لگاؤ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ (ابن شیبة)
35422- عن الحسن قال: ابتعث الله النبي صلى الله عليه وسلم مرة لإدخال رجل الجنة، فمر على كنيسة من كنائس اليهود فدخل إليهم وهم يقرأون سفرهم ، فلما رأوه أطبقوا السفر وخرجوا، وفي ناحية من الكنيسة رجل يموت، فجاء إليه فقال: إنما منعهم أن يقرأوا أنك أتيتهم وهم يقرأون نعت نبي هو نعتك، ثم جاء إلى السفرففتحه ثم قرأ فقال: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، ثم قبض، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " دونكم أخاكم، فغسلوه وكفنوه وحنطوه " ثم صلى عليه. "ش".
tahqiq

তাহকীক: