কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৩৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35383 ۔۔۔ حضرت جعدہ جشمی (رض) سے روایت ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص کو لایا گیا صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا اس نے آپ کو قتل کرے کا ارادہ کیا ہے تو آپ نے اس سے فرمایا گھبرانا نہیں اگر آپ نے یہ ارادہ کیا تو اللہ نے آپ کو مجھ پر مسلط نہ کرے گا۔ (احمدبن حنبل زطبرانی)
35383- عن جعدة الجشمى أتي النبي صلى الله عليه وسلم برجل فقالوا: إن هذا أراد أن يقتلك، فقال له: لم ترع لم ترع؛ ولو أردت ذلك لم يسلط الله علي. "حم، ز، طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35384 ۔۔۔ (مسندجعفر بن ابی الحکم) میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بعض غزوے میں جہاد کیا اور میں ایک کمزور دبلی گھوڑی پر تھا تو میں لوگوں کے آخر میں تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ساتھ ملے فرمایا اے شہسوار چل تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول دبلی اور کمزور تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو آپ کے پاس کوڑا تھا اس کو اٹھایا پھر اس سے مارا اور فرمایا اے اللہ ! اس کے لیے آ س میں برکت عطافرماتو میں نے اپنے آپکو دیکھا کہ میں اس کا سر نہیں پکڑ سک رہا تھا کہ وہ لوگوں سے آگے بڑھ جائے اور میں نے اس کے پیٹ سے بارہ ہزار گھوڑے بیچے۔ (طبرانی اور ابونعیم بروایت جعیل اشجعی)
35384- "مسند جعفر بن أبي الحكم" غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض غزواته وأنا على فرس عجفاء ضعيفة فكنت في آخر الناس فلحقني، فقال: سر يا صاحب الفرس! فقلت: يا رسول الله! عجفاء ضعيفة، فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم مخفقة كانت معه فضربها بها وقال: اللهم بارك له فيها! فقد رأيتني ما أمسك رأسها لأن تقدم الناس، ولقد بعت من بطنها باثني عشر ألفا. "ز، طب وأبو نعيم - عن جعيل الأشجعي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35385 ۔۔۔ (مسند الجثیتن بن النعمان الکند) جشیش کندی (رض) سے روایت ہے کند ؟ ة سے ایک قوم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آئے انھوں نے کہا : آپ ہم میں سے ہیں ، اور اس کا دعوی کردیاتو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم نہ اپنی والدہ کے بارے میں کچھ کہتے ہیں اور نہ اپنے والد سے نفی کرتے ہیں۔ ہم نضربن کنانہ کی اولاد سے ہیں۔ (طبرانی اونعیم)
35385- "مسند الجشيش بن النعمان الكندي" عن الجشيش الكندي قال: جاء قوم من كندة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: أنت منا وادعوه، فقال: لا نقفوا أمنا ولا ننتفي من أبينا، نحن من ولد النضر بن كنانة. "طب وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35386 ۔۔۔ جیب بن فد یک سے مروی ہے کہ ان کے والد ان کو لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف نکلے اور ان کی آنکھیں بالکل سفید تھیں ان سے دیکھ نہیں سکتے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے وہ تکلیف پوچھی جو ان کو پہنچی تو انھوں نے کہا میں اپنے اونٹ کی کھان کو نرم کررہا تھا کہ میں نے اپنا پاؤں سانپ کے انڈے پر رکھ دیاتو میری آنکھ خراب ہوگئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آنکھ میں پھونکا تو وہ دیکھنے لگے پھر میں نے ان کو دیکھا کہ وہ سوئی میں دھا کہ ڈالتے اور ان کی عمراسی سال تھی اور ان کی آنکھیں بالکل سفید تھیں۔ (ابونعیم)
35386- عن حبيب بن فديك أن أباه خرج به إلى النبي صلى الله عليه وسلم وعيناه مبيضتان لا يبصر بهما شيئا، فسأله ما أصابه، قال: كنت أمرن جملي فوضعت رجلي على بيض حية فأصابت بصري، فنفث النبي صلى الله عليه وسلم في عينيه فأبصر، فرأيته يدخل الخيط في الأبرة وأنه ابن ثمانين سنة وأن عينيه لمبيضتان. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمان کے راہب کا تذکرہ
35387 ۔۔۔ حضرت عمروبن العاص (رض) سے روایت ہے فرمایا : مجھے رسول اللہ نے عمان پر والی بناکر بھیجا میں وہاں آیا تو میری طرف ان کے پادری اور راھب لوگ نکلے انھوں نے کہا : آپ کون ہیں ؟ میں عمرو بن العاص بن وائل السہمی قریش کا ایک شخص ہوں انھوں نے کہا اور آپ کو کسی نے بھیجا ہے ؟ میں نے کہا اللہ کے رسول اللہ نے انھوں نے کہا وہ کون ہیں ؟ میں نے کہا محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہم میں سے ایک شخص جو کو ہم پہچان لیا اور ان کے نسب کو جانالیا، ہمیں اچھے اخلاق کا حکم دیا اور بری عادتوں سے منع کیا اور ہمیں حکم دیا کہ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں فرمایا : انھوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو اپنا معاملہ حوالہ کردیا اس نے مجھ سے کہا کیا ان میں کوئی نشانی ہے میں کہا جی ہاں ان کے دونوں کندھوں کے درمیان جمع ہواگوشت ہے جسے نبوت کی مہرکہاجاتا ہے ، اس نے کہا کیا وہ صدقہ کھاتے ہیں میں نے کہا نہیں اس نے کہا تو کیا وہ ھدیہ قبول کرتے ہیں میں نے کہا : جی ہاں اور اس پر بدلہ دیتے ہیں اس نے کہا : تو لڑائی ان کے اور ان کی قوم کے درمیان کس طرح ہے ؟ میں نے کہا : ڈول ہے۔ (سجال) کبھی ان کے لیے فائدہ مند کبھی ان کے خلاف فرمایا : تو وہ مسلمان ہوگیا اور وہ لوگ بھی اسلام لے آئے پھر اس نے مجھ سے کہا : اللہ کی قسم اگر آپ نے مجھ سے سچ کہا ہی تو اس رات ان کا وصال ہوچکا ہے میں نے کہا : کیا کہتے ہو ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم اگر آپ نے سچ کہا ہے تو میں نے بھی سچ کہا : فرمایا : تو تھوڑے دن گذرے تو ایک سوار نے اپنا اونٹ بٹھایا پوچھ رہا تھا عمرو بن العاصری اللہ عنہ کے بارے میں تو میں اس کی طرف گھبرائے ہوئے اٹھا اس نے مجھے ایک خط دیا ، جس کا عنوان یہ تھا رسول اللہ کے خلیفہ ابوبکر (رض) کی طرف سے عمرو بن العاص (رض) کی طرف۔ تو میں خط لیا اور گھر میں داخل ہوگیا ، میں نے اس کو کھولاتو اس میں تھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ابوبکر (رض) کی طرف سے عمر بن العاص (رض) کے نام السلام علیکم امام بعد بیشک اللہ تعالیٰ نے جب چاہا اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبغوث فرمایا اور جب تک جاہا انھیں زندگی عطا فرمائی پھر جب ارادہ فرمایا تو انھیں موت دی اور تحقیق اللہ تعالیٰ اپنی سچی کتاب میں فرماچکا ہے کہ انک میت وانھم میتون اور بیشک مسلمانوں نے میری چاہت اور محبت کے بغیر ہی مجھے اس امت کی ذمہ داری سونپ دی ہے سو اب میں اللہ ہی سے مدد اور توفیق کی درخواست کرتا ہوں تو جب آپ کے پاس میرا خط پہنچ جائے تو جس اسی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باندھا ہے اس کو ہرگز نہ کھولنا اور جس رسی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھولا ہے اسے ہرگز نہ باندھنا فقط واسلام۔ سو میں بہت رویا پھر میں لوگوں کے پاس گیا اور ان کو خبردار کیا تو وہ بھی روتے اور مجھے تسلی دی۔ تو میں نے کہا کہ یہی ہے وہ شخص جو رسول اللہ کے بعد ہمارا ولی (سرپرست ) ہے اس کے بارے میں تم اپنی کتاب میں کیا پاتے ہو۔ کہنے لگا یہ بھی اپنے نرم دل دوست کے طریقہ پر عمل کرے گا پھر اسے بھی موت آئے گی میں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا ۔ کہنے لگا : پھر لوہے کا پہاڑاتمہارا والی بنے گا تو وہ مشرق اور مغرب کو عدل اور انصاف سے بھر دے گا اللہ کے دین کے بارے میں کسی علامت کرنے والے کی ملامت اس پر اثر انداز نہ ہوگی۔ میں عرض کیا : پھر کیا ہوگا ؟ کہنے لگا پھر قتل کردیا جائے میں نے حیرت سے پوچھا کیا : قتل کردیا جائے گا، کہنے لگاجی ہاں اللہ کی قسم قتل کیا جائے گا۔ میں نے عرض کیا روبروقتل کیا جائے گا یا کہ دھوکا سے کہنے لگا کہ نہیں بلکہ دھوکا سے تو یہ صورت مجھے ہ کی لگی پھر میں نے عرض کیا کہ کیا ہوگا۔ (اس کے بعد شیخ کی کتاب میں عبارت منقطع ہے) ابن عساکر
35387- عن عمرو بن العاص قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم واليا على عمان فأتيتها، فخرج إلي أساقفتهم ورهبانهم فقالوا: من أنت؟ فقلت: أنا عمرو بن العاص بن وائل السهمي رجل من قريش، قالوا: ومن بعثك؟ قلت: رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالوا: ومن هو؟ قلت: محمد بن عبد الله بن عبد المطلب رجل منا قد عرفناه وعرفنا نسبه، قد أمرنا بمكارم الأخلاق ونهانا عن مساويها، وأمرنا أن نعبد الله وحده، قال: فصيروا أمرهم إلى رجل منهم فقال لي: هل به من علامة؟ قلت: نعم، لحم متراكب بين كتفيه يقال له خاتم النبوة، قال: فهل يأكل الصدقة؟ قلت: لا، قال: فهل يقبل الهدية؟ قلت: نعم، ويثيب عليها، قال: فكيف الحرب بينه وبين قومه؟ قلت: سجال، مرة له ومرة عليه. قال: فأسلم وأسلموا ثم قال لي: والله! لإن كنت صدقتني لقد مات في هذه الليلة، قلت: ما تقول؟ قال: والله! لئن كنت صدقتني لقد صدقتك، قال: فمكث أياما فإذا راكب قد أناخ يسأل عن عمرو بن العاص! فقمت إليه مفزوعا، فناولني كتابا فإذا عنوانه: من أبي بكر خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى عمرو بن العاص، فأخذت الكتاب ودخلت البيت ففككته فإذا به:

بسم الله الرحمن الرحيم

من أبي بكر خليفة رسول الله إلى عمرو بن العاص

سلام عليك! أما بعد فإن الله عز وجل بعث نبيه صلى الله عليه وسلم حين شاء وأحياه ما شاء ثم توفاه حين شاء وقد قال في كتابه الصادق {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} وإن المسلمين قلدوني أمر هذه الأمة من غير إرادة مني ولا محبة، فأسأل الله العون والتوفيق! فإذا أتاك كتابي فلا تحلن عقالا عقله رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا تعقلن عقالا حله رسول الله صلى الله عليه وسلم - والسلام.

فبكيت بكاء طويلا ثم خرجت عليهم فأعلمتهم فبكوا وعزوني، فقلت: هذا الذي ولينا بعده، ما تجدونه في كتابكم؟ قال: يعمل بعمل صاحبه اليسير ثم يموت، قلت: ثم ماذا؟ قال: ثم يليكم قرن الحديد فيملأ مشارق الأرض ومغاربها قسطا وعدلا، لا يأخذه في الله لومة لائم ثم ماذا؟ قال: ثم يقتل قلت يقتل؟ قال: إي والله يقتل، قلت: ومن ملأ أم من غيلة ؟ قال: بل

من غيلة، فكانت أهون علي، قلت. ثم ماذا؟ ... وانقطع من كتاب الشيخ. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمان کے راہب کا تذکرہ
35388 ۔۔۔ حبان بن بح صداتی سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میری قوم کافر ہوگئی تو میں نے انھیں بنایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے لڑنے کے لیے ایک لشکر تیار فرمادیا ہے پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض یا کہ بیشک میری قوم اسلام پر قائم ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا واقعہ یوں ہی ہے میں نے عرض کیا جی ہاں اور میں پوری رات صبح تک آپ کے پاس رہا پھر میں نے صبح کی اذان دی پھر صبح کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک برتن دیاتو میں نے اس سے وضو کرلیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی مبارک انگلیاں اس برتن میں ڈال دیں تو ان سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم میں سے جو وضو کرنا ہے تو وہ وضو کرلے تو میں نے وضو کرلے نماز پڑھ لی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنی قوم پر والی مقرر فرمایا اور مجھے ہی ان کے صدقات کے وصول کی ذمہ داری عطا فرمائی پھر ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا ہو اور عرض کیا کہ فلاں مجھ پر ظلم زیادتی کرتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کسی مسلم مرد کے لیے امارت میں کوئی بھلائی نہیں پھر ایک شخص صدقہ مانگے کیلئے حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ صدقہ پیٹ کا درد اور آگ اور مرض ہے تو میں نے آپ اپنی امارت اور صدقات کی صحیفے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے کردئیے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آپ کو کیا ہوگا ؟ تو میں نے عرض کیا کہ میں کیسے اس عہدہ کو قبول کرسکتا ہوں حالانکہ میں آپ سے اس بارے ایسی سخت سخت وعید بن سن رہاہوں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہاں یہ بات ایسی ہے جیسا کہ آپ نے سنا۔ (طبرانی و ابونعیم)
35388- عن حبان بن بح الصدائي قال: كفر قومي فأخبرت أن النبي صلى الله عليه وسلم جهز لهم جيشا، فأتيته فقلت: إن قومي على الإسلام، قال: كذلك؟ قلت: نعم، واتبعته ليلتي إلى الصباح، فأذنت بالصلاة، فلما أصبحت أعطاني إناء فتوضأت منه، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم أصابعه في الإناء فنبع عيون، فقال: من أراد منكم أن يتوضأ فليتوضأ، فتوضأت وصليت، وأمرني عليهم وأعطاني صدقتهم، فقام رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن فلانا ظلمني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا خير في الإمارة لرجل مسلم، ثم جاء رجل يسأل صدقة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الصدقة صداع وحريق في البطن وداء، فأعطيته صحيفة إمرتي وصدقتي، فقال: ما شأنك؟ فقلت: وكيف أقبلها وقد سمعت منك ما سمعت؟ فقال: هو ما سمعت. "طب وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمان کے راہب کا تذکرہ
35389 ۔۔۔ مسندحذیفہ بن ایسد الغفاری میں ابوطفیل سی اور وہ حذیفہ بن اسید سی روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آج کی رات اس درخت کی قریب مجھ پر میری پوری امت شروع سے لے کر آخر تک پیش کی گئی تو ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو امت پیدا ہوچکی اس کا پیش کیا جاناتومعقول ہی لیکن جوا بھی تک پیداہی نہیں ہوتے انھیں کسی پیش کیا گیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مٹی کے گارے میں میری سامنے ان سب کی تصویرین بنادی گئیں لہٰذا اب میں لوگوں میں سے ہر ایک کو اس کے ساتھی سے زیادہ اچھی طرح جانتاہوں۔ (حسن بن صفیان طبرانی ضیاء مقدسی و ابونعیم)
35389- "مسند حذيفة بن أسيد الغفاري" عن أبي الطفيل عن حذيفة بن أسيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " عرضت علي أمتي البارحة أدنى هذه الشجرة أولها إلى آخرها، فقال رجل: يا رسول الله! هذا عرض عليك من خلق فكيف عرض عليك من لم يخلق؟ قال: صوروا لي في الطين حتى لأنا أعرف بالإنسان منهم من أحدكم بصاحبه. " الحسن بن سفيان، طب، ض وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35390 ۔۔۔ غبلان بن سلمة الثقفی سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے تو ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عجیب اور دیکھے ہمارا گزر ایک ایسی سرزمین پر ہوا جس میں کھجور کے چھوٹے چھوٹے بہت سے متفرق درخت تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے غبلان ان دو درختوں کی قریب آؤ اور ان میں سے ایک کو حکم دو کہ وہ ساتھ والے دوسرے درخت سے مل جائے تامیة ان کی اور میں ہو کر وضو بناسکوں ۔ تو میں چلا گیا اور ان دونوں درختوں کی درمیان کھڑا ہوگیا پھر میں نے کہا کہ اللہ کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم دونوں میں سے ایک کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ والے دوسرے درخت سے مل جائے تو میں سے ایک درخت دراز ہو کر زمین کو شق کرتے ہوئے اکھڑ کر دوسرے درخت کے ساتھ مل گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیچے اترے اور ان کے پیچھے وضو بنایا پھر دوبارہ سواری پر سوار ہوئے اور وہ درخت زمین کو شق کرتے ہوئی دوبارہ اپنی جگہ پر لوٹ آیا راوی فرماتے ہیں کہ پھر کچھ مسافت کے بعد ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو ایک عورت دینار جیسے اپنے ایک نیچے کو لے کر آئی اور کہنے لگی اے اللہ کے نبی کہ پورے قبیلہ میں میری بچے سے زیادہ محبوب بچہ میرے نزدیک کوئی نہیں اور اب اسے مرگی کا دورہ پڑتا ہے تو میں مجبوراً اس کے موت کی تمنا کرتی ہوں تو آپ اللہ تعالیٰ سے اس کی شفایابی کے لیے دعا فرمائیں اے اللہ کے نبی راوی کہتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بچے کو اپنی قریب فرمایا پھر بسم اللہ نارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خرج عود اللہ تین دفعہ پڑھ کر فرمایا اپنے بچے اب لے جاؤ انشاء اللہ آئندہ کبھی کوئی تکلیف نہ دیکھ پاؤ گی پھر آگے کو چلی اور ایک جگہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پڑاؤ ڈالاتو ایک شخص حاضر خدمت ہو اور عرض کیا اے اللہ کے نبی میرا ایک باغ تھا جس سے میرا اور میرے اہل و عیال گزار اوقات ہوتا تھا اور پس باغ میں میرے دو اونٹ بھی تھی جو اب مست ہوچکے ہیں اور نہ تو اپنی آپ پر اور نہ ہی میرے باغ پر اور جو کچھ اس میں ہی اس پر قدرت دینے ہیں اور کوئی بھی ان کے قریب جانے کی قدرت بھی نہیں رکھتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے صحابہ کرام (رض) کے ساتھ جلدی سے اٹھ کر باغ ہر پہنچے اور باغ کے مالک سے مفریا : کہ دروازہ کھولو۔ تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ان دونوں اونٹوں کا معاملہ نہایت خطرناک سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آپ دروازہ کھولدیں تو جب مالک باغ نے چابی کے ذریعہ دروازہ کو کھولنے کے لیے ہلا یا تو وہ دونوں اونٹ ان کی طرف سامنے سے آئی اور ان کی رفتار ہلکی ہوا جیسی تھی تو جب باغ کے مالک نے دروازہ کھول کروا کردیا اور ان دونوں اونتوں کی نظر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پڑگئی تو وہ دونوں بیٹھ گئے پھر انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سجدہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کے سروں کو پکڑ آ پھر انھیں ان کی مالک کی حوالہ کردیا اور فرمایا کہ ان سے کام لو اور ان کی چارے کا خوب خیال رکھو تو ایک جماعت نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی جانور آپ کو سجدہ کرتے تو اللہ کی جو نعمتیں آپ کی بدولت ہم پر ہیں وہ اس سے کی گنا زیادہ ہیں آپ نے ہمیں گمراہی سے بچالیا اور ہلاکت سے ہمیں چھڑالیا تو ہمیں اپنے آپ کو سجدہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دیتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قسم اپنے بھائی سے یہ معاملہ کیسے کروگے جب وہ فوت ہوجائے گا کیا تم اس کے قبر کو سجدہ کروگے وہ کہنے لگی اے اللہ کے نبی ہم آپ کے حکم پیروی کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بیشک سجدہ صرف اس ذات کیا جاسکتا ہے جو ہمیشہ زندہ ہے اور جسے موت نہیں آئے گی اگر میں اس امت میں سے کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کر سجدہ کرے وادی کہتا ہے پھر ہم واپس لوٹے تو وہی عورت اپنے اس بچے کو لے کر خدمت ہوئی اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی اس ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث فرمایا اب میرا وہ بچہ قبلیہ کے بچوں میں مل کر رہتا ہے اور آپ کی خدمت میں گھی اور دودھ اور گاجر پیش کئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھی اور گاجر انھیں واپس لوٹادیا اور اپنے صحابہ کرام رضی عنہم کو دودھ پینے کا حکم دیا ۔ (ابن عساکر)
35390- عن غيلان بن سلمة الثقفي قال: خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فرأينا منه عجبا، مررنا بأرض فيها أشاء متفرق فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم: يا غيلان! ايت هاتين الاشاءتين، فمر إحداهما تنضم إلى صاحبتها حتى أستتر بهما فأتوضأ، فانطلقت فقمت بينهما، فقلت: إن نبي الله صلى الله عليه وسلم يأمر إحداكما أن تنضم إلى صاحبتها، قال: فمادت إحداهما ثم انقلعت تخد في الأرض حتى انضمت إلى صاحبتها، فنزل نبي الله صلى الله عليه وسلم فتوضأ خلفهما ثم ركب، وعادت تخد في الأرض إلى موضعها، قال: ثم نزلنا معه منزلا فأقبلت امرأة بابن لها كأنه الدينار فقالت: يا نبي الله! ما كان في الحي غلام أحب إلي من ابني هذا فأصابته الموتة ، فأنا أتمنى موته فادع الله له يا نبي الله! قال: فأدناه نبي الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: "بسم الله، أنا رسول الله، أخرج عدو الله - ثلاثا،" قال: "اذهبي بابنك لن تري بأسا إن شاء الله"، ثم مضينا فنزلنا منزلا فجاء رجل فقال: يا نبي الله! إنه كان لي حائط فيه عيشي وعيش عيالي ولي فيه ناضحان فاغتلما، ومنعاني أنفسهما وحائطي وما فيه، ولا يقدر أحد على الدنو منهما، فنهض النبي صلى الله عليه وسلم بأصحابه حتى أتى الحائط فقال لصاحبه: "افتح"، فقال: يا نبي الله! أمرهما أعظم من ذلك، قال: فافتح، فلما حرك الباب بالمفتاح أقبلا، لهما جلبة كخفيف الريح، فلما أفرج الباب ونظرا إلى النبي صلى الله عليه وسلم بركا ثم سجدا، فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم رؤسهما ثم دفعهما إلى صاحبهما فقال: " استعملهما وأحسن علفهما"، فقال القوم يا نبي الله! تسجد لك البهائم! فما لله عندنا بك أحسن من هذا، آجرتنا من الضلالة وا ستنقذتنا من الهلكة، أفلا تأذن لنا بالسجود لك؟ فقال: كيف كنتم صانعين بأخيكم إذا مات؟ أتسجدون لقبره؟ قالوا: يا نبي الله! نتبع أمرك، قال النبي صلى الله عليه وسلم: "إن السجود ليس إلا للحي الذي لا يموت، لو كنت آمر أحدا بالسجود من هذه الأمة لأمرت المرأة بالسجود لبعلها "، قال: ثم رجعنا، فجاءت المرأة أم الغلام فقالت: يا نبي الله! والذي بعثك بالحق ما زال من غلمان الحي، وجاءت بسمن ولبن وجزر، فرد عليها السمن والجزر وأمرهم بشرب اللبن. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35391 ۔۔۔ قباث بن آشیم سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ جنت بدر کے موقع پر مجھے شکست ہوئی تو میں نے اپنے دل ہی میں خیال کیا کہ اس جیسادن تو میں نے کبھی نہیں دیکھا پھر جب لوگوں کو اماں دیاجانے لگا تو میں بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے امان طلب کرسکوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قباث میں نے عرض کیا کہ اللہ کے اس فیصلے جیسا معاملہ میں نے کبھی نہیں دیکھا جس سوائے عورتوں کے سب بھاگ گئی پھر میں گواہی دیتاہوں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں میرے دونوں نے یہ گواہی محض ایک کی وجہ سے دی جو دل میں پہلے سے ہی آچکی تھی۔ (ابن مندہ ابن عساکر)
35391- عن قباث بن أشيم قال؛ انهزمت يوم بدر فقلت في نفسي: لم أر مثل هذا اليوم قط، فلما أومن الناس أتيت النبي صلى الله عليه وسلم لأستأمنه، فقال: قباث! قلت: لم أر مثل أمر الله قط فر منه إلا النساء، فقلت: أشهد أنك رسول الله ما ترمرمت به شفتاي وما كان إلا شيئا عرض في نفسي. "ابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35392 ۔۔۔ قباث بن آشیم سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ جنگ بدر کے موقع ہر میں مشرکین کے ساتھ تھا اور میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسلم کے اصحاب کی قلت اور اپنی جماعت کے گھوڑوں اور افراد کی کثرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا پھر ایک دم میں نے شکست کھانے والوں کے ساتھ شکست کھائی تو میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں مشرکین کی طرف مرلحاظ سے دیکھ رہا تھا اور میں اپنی دل ہی دل میں کہہ رہا تھا کہ میں نے اس جیسا معاملہ پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ جس سے سوائی عورتوں کے باقی سب بھاگ گئے پھر جب جنگ خندق کے بعدک اوقت ہوا تو میں نے کہا کہ اگر میں مدینہ کیا تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمدودات کا مشاہد کروں گا فور میرے دل میں اسلام کی محبت جگہ کی کرچکی تھی پھر میں مدینہ آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے کہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ مسجد کے سایہ میں اپنے صحابہ کرام (رض) کے جماعت کے ساتھ میں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاس آیا اور اب تک میں ان حاضرین میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچانتانہ تھا۔ پھر میں نے سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے قباث بن اشیم آپ ہی نے بدر کے موقع ہر کہا تھا کہ میں نے اس جیسا معاملہ پہلے کبھی نہ دیکھا جس سے سوائے عورتوں باقی سب بھاگ نکلے تو میں نے کہا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں اور میرے اس معاملہ کی کسی کو بھی کبھی خبر نہ ہوئی اور میں نے شہادت محض ایک بات کی وجہ سے دی ہے جو میں اپنے دل میں پاتا ہوں کہ اگر آپ اللہ کے نبی نہ ہوتے تو اللہ آپ کو میرے دل کے اس خیال کی اللہ اطلاع نہ دیتاہاتھ بڑھا ہے تاکہ میں آپ سے بیعت کرسکوں پس اس طرح مجھ ہر سلما پیش کیا گیا اور میں مسلمان ہوگیا۔ (الواقدی ابن عساکر)
35392- عن قباث بن أشيم قال: شهدت بدرا مع المشركين وإني لأنظر إلى قلة أصحاب محمد في عيني وكثرة من معنا من الخيل والرجال فانهزمت فيمن انهزم، فقد رأيتني وإني لأنظر إلى المشركين في كل وجه وإني لأقول في نفسي: ما رأيت مثل هذا الأمر فر منه إلا النساء، فلما كان بعد الخندق قلت، لو قدمت المدينة فنظرت ما يقول محمد وقد وقع في قلبي الإسلام، فقدمت المدينة فسألت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالوا: هو ذاك في ظل المسجد مع ملأ من أصحابه، فأتيته وأنا لا أعرفه من بينهم فسلمت، فقال: "يا قباث بن أشيم! أنت القائل يوم بدر: ما رأيت مثل هذا الأمر فر منه إلا النساء؟ " فقلت: أشهد أنك رسول الله وإن هذا الأمر ما خرج مني إلى أحد قط وما ترمرمت به إلا شيئا حدثت به نفسي، فلولا أنك نبي الله ما أطلعك الله عليه، هلم حتى أبايعك، فعرض علي الإسلام، فأسلمت. "الواقدي، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35393 ۔۔۔ اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروة نے عباس بن عبداللہ بن سعدبن ابی سرح سے اور انھوں نی قتادة بن نعمان سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں ایک تاریک رات کو باہر نکلا پھر مجھے خیال آیا کہ کاش میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوتا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز میں ساتھ رہتا اور خود آپ کی اقتدلہ کرتا تو میں نے یہ کام کرنے کا فیصلہ کرلیا تو جب میں مسجد میں داخل ہوا تو آسمان پر بجلی چمکی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھ لیا پھر فرمایا ای قتادة کیا جلدی ہے آپ کو تو میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں آپ کو مانوس کرنا چاہتاہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کھجور کی یہ شاخ ہاتھ میں لو اور اسے اپنے پہلو کے قریب رکھو اس لیے کہ جب آپ یہاں سی نکلو گے تو یہ دس قدم تمہارے آگے اور دس قدم تمہارے پیچھے روشنی کرے پھر فرمایا کہ جب اپنے گھر میں داخل ہوجاؤ تو گھر کے ہرون میں موجود سخت کھردرے پتھر کی صورت کو اس سے مارو اس لیے کہ درحقیقت وہ شیطان ہے تو میں وہاں سے نکلا تو اس شاخ میرے واسطے روشنی کی پھر میں نے اس شاخ کھردرے پتھر کی صورت کو مارا لہٰذا وہ میرے گھر سے نکل گیا ۔ (ٕرواہ ابن عساکر)
35393- عن إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة عن عياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح عن قتادة بن النعمان قال: خرجت ليلة من الليالي مظلمة فقلت: لو أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وشهدت معه الصلاة وأسيته بنفسي، ففعلت، فلما دخلت المسجد برقت السماء فرآني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "يا قتادة؛ ما هاج عليك؟ " فقلت: أردت بأبي أنت وأمي أؤنسك، قال: "خذ هذا العرجون فتخصر به فإنك إذا خرجت أضاء لك عشرا أمامك وعشرا خلفك، ثم قال: إذا دخلت بيتك فاضرب به مثل الحجر الأخشن في أستار البيت فإن ذلك الشيطان "، فخرجت فأضاء لي ثم ضربت مثل الحجر الأخشن حتى خرج من بيتي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35394 ۔۔۔ عاصلم بن عمر بن قتادہ اپنے والد سے اور وہگ ان کے داداقتادہ بن نعمان سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی آنکھ جنگ بدر کے موقع پر زخمی ہوگی تو ان کی آنکھ کی سیاہی ان کے رخسار ہر بہہ بڑی تو ساتھیوں نے چاہا کہ اس کو کاٹ دیں تو انھوں نے اس بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت فرمایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بلایا اور ان کے آنکھ کی سیاہی کو اپنے دست مبارک سی ٹٹولاتو اس کی بعد پتہ نہ چلتا تھا کہ ان کی کونسی آنکھ زخمی تھی۔ (ابویعلی ابن عدی بغوی بیہقی فی الدلد تل ابن عساکر)
35394- عن عاصم بن عمر بن قتادة عن أبيه عن جده قتادة ابن النعمان أنه أصيبت عينه يوم بدر فسالت حدقته على وجنته، فأرادوا أن يقطعوها فسألوا النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: "لا"، فدعا به فغمز حدقته براحته، فكان لا يدري أي عينيه أصيبت. "ع، عد والبغوي، ق في الدلائل، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35395 ۔۔۔ قتادہ بن نعمان سے مروی ہی کہ ان کی آنکھ جنگ بدر کی موقع ہر ان کی رخسار پر بہہ رہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اپنے جگہ دوبارہ لگادیاتو پھر وہ آنکھ دونوں آنکھوں میں سی زیادہ صحیح آنکھ بنی۔ (البغوی ابن عساکر)
35395- عن قتادة بن النعمان أنه سالت عينه على خده يوم بدر، فردها رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكانت أصح عينيه. "البغوي، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35396 ۔۔۔ مسنگ۔ کتاب کے اندر ترجمہ نہیں ہے
35396- عن الفضل بن عاصم بن عمر بن قتادة بن النعمان حدثني أبي عن أبيه عمر عن أبيه قتادة بن النعمان قال: أهدي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قوس فدفعها رسول الله صلى الله عليه وسلم إلي يوم أحد، فرميت بها بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اندقت من سنتها ولم أزل عن مقامي نصب وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ألقى السهام بوجهي، كلما مال سهم منها إلى وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ميلت رأسي لأقي وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم بلا رمي أرميه، فكان آخرها سهما ندرت منه حدقتي على خدي وافترق الجمع، فأخذت حدقتي بكفي فسعيت بها في كفي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما رآها رسول الله صلى الله عليه وسلم دمعت عيناه فقال: "اللهم! إن قتادة فدى وجه نبيك بوجهه فاجعلها أحسن عينيه وأحدهما نظرا "، فكانت أحسن عينيه وأحدهما نظرا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35397 ۔۔۔ مسند حکم بن ابی العاص بن امیہ میں قیس بن جبیر سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ بنت حکم کہتی ہیں کہ میں نے اپنے دادا حکم سے کہا اے بنوامیہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معاملہ میں تم سے زیادہ کسی اور قوم کو زیادہ غالے ہمت اور بری لاتے والد نہیں دیکھا کہنے لگے اے بیٹی ہمیں ملامت نہ کرو اس لیے کہ میں تجھ سے صرف رہی بیان کرتا ہوں جو میں نے اپنی ان دوآنکھوں سے خود دیکھا ہم نے کہا اللہ کی قسم ہم برابر قریش سے سنتے رہے کہ یہ مذہب سے پھر ہوا شخص ہماری مسجد میں نماز پڑھتا ہے اس کے واسطی ایک وقت طی کرلوتا کہ اس کو پکڑ سکو تم ہم نے اس کے پکڑنے کے لیے وقت مقرر کرلیا پھر جب ہم نے اس کو دیکھو تو ہم نے ایک آواز سنی جس سے ہمیں خیال ہوا کہ تہامہ میں کوئی پہاڑ نہ رہا مگر یہ کہو وہ ہم پر۔ پھر ہمارے جو اس وقت درست ہوئے جب کہ وہ اپنی نماز پڑھ کر اپنے گھر جا چکا تھا پھر ہم نے ایک دوسری رات آپس کے مشورہ سے طے کی پھر جب وہ نماز پڑھنے کے لیے آیا تو ہم اس کی طرف جانے لگے تو میں نے صفا اور مروہ دیکھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے آپس میں مل گئے اور ہمارے اور ان کے درمیان حائل ہوگئے سو اللہ کی قسم اس معاملہ نے ہمیں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ (طبرانی و ابونعیم)
35397- "مسند الحكم بن أبي العاص بن أمية" عن قيس ابن جبير قال قالت بنت الحكم قلت لجدي الحكم: ما رأيت قوما كانوا أعجز ولا أسوأ رأيا في أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم منكم يا بني أمية! قال: لا تلومينا يا بنية! إني لا أحدثك إلا ما رأيت بعيني هاتين، قلنا: والله! ما نزال نسمع قريشا: يصلي هذا الصابئ في مسجدنا تواعدوا له حتى تأخذوه، فتواعدنا إليه، فلما رأيناه سمعنا صوتا ظننا أنه ما بقي بتهامة جبل إلا تفتت علينا، فما عقلنا حتى قضى صلاته ورجع إلى أهله، ثمن تواعدنا ليلة أخرى، فلما جاء نهضنا إليه فرأيت الصفا والمروة التقتا إحداهما بالأخرى فحالتا بيننا وبينه، فوالله! ما نفعنا ذلك. "طب وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35398 ۔۔۔ ابوطفیل سے مروی ہے کہ معاذ جبل انھیں خبر دی کہ وہ صحابہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تبوک کی طرف نکلے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر اور عصر اور نوب اور عشاہ میں جمع فرماتے تھے سو ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز موخر فرماتی پھر ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھا پھر دخل ہوگئے پھر نکلے پھر تو مقرب اور عشاء کو ایک ساتھ پڑھا پھر فرمایا : کل ان شاء اللہ تم تبوک کے چشمے پر پہنچوگے اور تم اس چشمہ ہرجاشت کے وقت پہنچو گے تو جو اس چشمہ پر آئے تو وہ میرے آنے تک اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے سو ہم اس چشمے پر پہنچ گئے اور ہم سے پہلے اس پر دو آدمی پہنچ چکے تھے اور وہ چشمہ تسبہ جتنا تھا اور تھوڑے سے پانی کے ساتھ سفیدی دکھارہا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آن دونوں سے پوچھا کیا تم نے اس چشمہ کے پانی کو ہاتھ لگایا ہے ؟ وہ دونوں بولے ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں برابھلا کہا اور ان سے کہا کہ اللہ وج چاہتا ہے وہی فرما دیتا ہے پھر لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے اس چشمہ سے چلو بھرے یہاں تک کہ وہ پانی کسی چیز میں جمع ہوگیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آ س سے اپنا چہرة انور اور اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر اس پانی کو اس چشمہ میں دوبارہ ڈال دیاتو اس چشمہ سے بہت زیادہ پانی بہنے لگا تو تمام لوگ سیراب ہوگئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا معاذ اگر تیری زندگی دراز ہوئی تو قریب ہے کہ تو دیکھے گا کہ اس چشمہ کے پانی سے کی باغ سیراب کئے جائیں گے۔ (مالک وعبدالرراق)
35398- عن أبي الطفيل أن معاذ بن جبل أخبره أنهم خرجوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى تبوك، فكان النبي صلى الله عليه وسلم يجمع بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء، فأخر الصلاة يوما ثم خرج فصلى الظهر والعصر جميعا، ثم دخل ثم خرج فصلى المغرب والعشاء جميعا، ثم قال: إنكم ستأتون إن شاء الله عدا عين تبوك وإنكم تأتونها بضحى النهار، فمن جاءها فلا يمس من مائها شيئا حتى آتي، فجئناها وقد سبق إليها رجلان والعين مثل الشراك تبض بشيء من ماء، فسألهما رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هل مسستما من مائها شيئا؟ " قالا: نعم، فشتمهما وقال لهما ما شاء الله أن يقول، ثم غرفوا من العين بأيديهم قليلا حتى اجتمع في شيء، ثم غسل رسول اله صلى الله عليه وسلم فيه وجهه ويديه ثم أعاده فيه فجرت العين بماء كثير فاستقى الناس، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يوشك يا معاذ إن تطاول بك حياة أن ترى ماءها هنا قد ملئ جنانا. " مالك، عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35399 ۔۔۔ مسند جناب بن ارت میں ہے کہ مجھے نبی علیہ السلام نے مال عنیمت کے بارے میں کسی جگہ بھیجا پھر مجھ پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ہو جب کہ میری اونٹنی بلد وجہ راستے میں بیٹھ گئی تھی اور میں اسے ماررہا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اسے مت مارو اور فرمایا اسے آزاد کردو تو وہ اونٹنی کھڑے ہوگئی اور قافلہ کے لوگوں کے ساتھ چلنے گی۔ (طبرانی)
35399- "مسند خباب بن الأرت" بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم في السلب فمر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد خلأت لي ناقتي وأنا أضربها فقال: لا تضربها، وقال صلى الله عليه وسلم خل، فقامت فسارت مع الناس. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35400 ۔۔۔ حکم بن حارث سلکمی ضاجی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا کہ ہم معاویہ بن ابی سفیان کی خدمت میں حاضر تھے تو لوگوں نے دیج کا تذکرہ شروع کردیا تو ایک جماعت کہنے لگی کہ اسماعیل (علیہ السلام) ہی ذبیح ہیں اور دوسری جماعت کہنے لگی کہ ذبیح حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہی تھے تو حضرت معاویہ (رض) فرمایا کہ اس بارے میں تمہارے واسطہ ایک باخبر شخص سے پڑا ہے ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خدمت میں ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا اے دوذبیحوں کے بیٹے فرماتے ہیں کہ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسکراہٹ فرماتے اور اس اعرابی پر کوئی لکیر نہیں فرماتی ۔ پھر ہم نے کہا اے امیر المومنین دو ذبیح کون ہیں ؟ فرمانے لگے کہ عبدالمطلب نے جب زمزم کے کھدائی کا حکم دیا تو اللہ کے واسطے انھوں نے منت مائی کہ اگر اس کنویں کی کھدائی کا کام آسانی کے ساتھ سرانجام پایا تو اپنے کسی ایک بیٹے کی قربانی دینگے پھر انھوں نے اپنے بیٹوں کو باہر نکالا اور ان کے درمیان قرعہ اندازی کی توقرعہ عبداللہ کے نام نکلا اتو انھوں نے ان کے ذبح کا ارادہ فرمایا تو بنومخزوم میں سے ان کے ماموں نے انھیں روک دیا اور کہنے لگے کہ اپنے رب کو راضی کرلو اور اپنی بیٹے کا فدیہ دے دو تو عبدالمطلب نے آس کا فدیہ سو اونٹ دیا لہٰذا ایک ذبیح تو یہی (عبداللہ ) ہوتے اور دوسرے ذة بح اسماعیل ہیں (ابن عساکر)
35400- عن الحكم بن الحارث السلمي عن الصنابحي قال: حضرنا معاوية بن أبي سفيان فتذاكر القوم الذبيح، فقال بعض القوم: إسماعيل الذبيح، وقال بعضهم: بل إسحاق الذبيح، فقال معاوية: سقطتم على الخبير، كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتاه أعرابي فقال: يا ابن الذبيحين! قال فتبسم النبي صلى الله عليه وسلم ولم ينكره عليه فقلنا: يا أمير المؤمنين! وما الذبيحان؟ قال: إن عبد المطلب لما أمر بحفر زمزم نذر لله إن سهل له أمرها أن ينحر بعض ولده فأخرجهم فأسهم بينهم، فخرج السهم على عبد الله، فأراد ذبحه، فمنعه أخواله من بني مخزوم فقالوا: أرض ربك وافد ابنك، ففداه بمائة ناقة؛ فهو الذبيح وإسماعيل الذبيح. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35401 ۔۔۔ مصرض بن عبداللہ بن مصرض بن معقیب یمانی اپنے والد سے اور وہ اپنے ولاد مصرض بن معقیب سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے حجة الوداع کا حج کیا پھر میں مکہ میں ایک گھر میں داخل ہوا تو میں نے اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ کا چہرہ گویا کہ چاند کا ہالہ تھا اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک عجیب بات سنی اہل یمامہ میں سے ایک شخص نے ایک بچہ کو اس کے پیدائش کے دن ہی ایک کپڑے میں لپٹا ہوا لایاتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے لڑکے میں کون ہو کہنے لگا آپ اللہ کے رسول ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تو نے سچ کہا اللہ تجھے مبارک فرمائے راوی کہتا ہے کہ پھر وہ بچہ جواں ہونے سے پہلے نہیں بولاراوی کہتا ہے کہ میرے والد نے کہا کہ پھر ہم اس بچہ کو مبارک الحانہ کے نام سے پکارتے تھے ۔ (ابن البخارا واسمین محمد بن یولس کدیلمی راوی ہے)
35401- عن معرض بن عبد الله بن معرض بن معيقيب اليمامي عن أبيه عن جده معرض بن معيقيب قال: حججت حجة الوداع فدخلت دارا بمكة فرأيت فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم كأن وجهه دارة القمر وسمعت منه عجبا، جاءه رجل من أهل اليمامة بصبي يوم ولد قد لفه في خرفة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا غلام! من أنا! قال: أنت رسول الله، قال صدقت، بارك الله فيك! قال: ثم إن الغلام لم يتكلم بعدها حتى شب، قال قال أبي: فكنا نسميه مبارك اليمامة. "ابن النجار؛ وفيه محمد بن يونس الكديمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک عورت کے بچہ کا تذکرہ
35402 ۔۔۔ واثلة بن الاسقع سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ صفہ کے بیس محافظین میں سے ایک میں بھی تھا اور ہمیں بھوک ستارہی تھی اور پوری جماعت میں کم عمر تھا تو مجھے ساتھیوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس حالت کی شکایت کے بھیجا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر تشریف لے گئے اور پوچھا کہ کھانے کی کوئی چیز ہے انھوں نے ہاں اے اللہ کے نبی یہاں تھوڑے سی روٹی اور کچھ دودھ ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے میرے پاس لے آؤ تو وہ آپ کی خدمت میں پیش کردیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روٹی کے ٹکڑے کو ریزہ ریزہ کردیا پھر اس پر دودھ کو انڈیل دیا پھر اس کو اپنے دست مبارک سے ملتے رہے یہاں تک کہ اسے مکھن کی طرح کردیا اور میں کھڑا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھتا رہا پھر مجھ سے فرمایا اے واثلہ میرے پاس اپنے ساتھیوں میں سے دس کو لے آؤ اور باقی دس مقررہ دیکھ کی جگہ پر رہیں تو مجھے دودھ کی قلت کی وجہ سے اس پر تعجب ہواپھر میں حفاظت گاہ آیا اور دس ساتھیوں کو میں نے بلایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اس کھانے پر بٹھا دیا پھر ثرید (کے برتن) کا ایک سرا اپنے ہاتھ سے پکڑا پھر فرمایا شروع کرو اور ایک روایت میں ہے کہ کھاؤ اللہ کا نام لے کر اطراف اور کناروں سے اور اس کی درمیان سے درگزر کرو اس لیے کہ برکت اس میں اس کے اوہر سے آتی ہے آور بیشک یہ کھانا بڑھتا ہے راوی کہتا ہے کہ میں دیکھا اپنے ساتھیوں کو کہ وہ کھا رہے اور اپنی انگلیوں کو چاٹ رہے ہیں یہاں تک وہ سب خوب تن کر سیر ہوگئے اور ثیر میرے خیال میں اب بھی اتنا ہی تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اب اللہ کا نام لے کر اپنے حفاظت گاہوں کو جاؤ اور اپنے ساتھیوں کو بھیجو تو وہ چلے گئے آور میں اپنی آنکھوں سے دیکھے اس معاملہ ہر حڑیت کرتے ہوتے کھڑا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسرے دس اصحاب کی طرف متوجہ ہوتے اور انھیں کہتے وہی فرمایا جو ان کے سابقہ ساتھیوں سے فرمایا تھا اور ان سے بھی وہی باتیں فرمائیں جو ان کے ساتھیوں سے فرمائیں تھیں سو ان سب نے بھی خوبسیر ہو کر کھایا یہاں تک سب فارغ ہوگئے اور اب بھی برتن میں کچھ ثرید بچی ہوئی تھی۔ ( ابن عساکر وابن النحار)
35402- عن واثلة بن الأسقع قال: كنت أحد العشرين حرسا في الصفة وإنه أصابنا جوع وكنت أحدث القوم سنا، فبعثني القوم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أشكو له ذلك، فالتفت في بيته فقال: " هل من شيء؟ " قالوا: نعم يا نبي الله! ههنا شيء من كسر وشيء من لبن، قال: "ايتوني به"، فأتي به ففت الكسر فتا دقيقا ثم صب عليه اللبن ثم دلكه بيده حتى جعله كالزبد وأنا قائم أنظر إليه، ثم قال لي: " يا واثلة! فائتني بعشرة من أصحابك وليجلس في المحرس عشرة،" فتعجبت لذلك لقلة الثريد، فأتيت المحرس فدعوت عشرة، فأجلسهم رسول الله صلى الله عليه وسلم على ذلك الطعام، ثم أخذ برأس الثريد بيده ثم قال: "خذوا" - وفي لفظ: " كلوا - بسم الله من جوانبها واعفوا رأسها فإن البركة تأتيها من فوقها وإنها تمد"، قال: فرأيتهم يأكلون ويتخللون أصابعه حتى تضلعوا شبعا وإن الثريد ليخيل لي أنها كما هي، وقال: "اذهبوا بسم الله إلى محرسكم وابعثوا أصحابكم،فانصرفوا وقمت متعجبا لما رأيت، واقبل على العشرة وأمرهم بمثل الذي كان أمر به أصحابهم وقال لهم مثل الذي قال لهم، فأكلوا منها حتى تملؤا شبعا وحتى انتهوا وإن فيها لفضلة. " كر وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক: