কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৫৩৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات اور دلائل نبوت
35363 ۔۔۔ عبدالرحمن بن عوف (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا تو انھوں نے فرمایا اے عبدالرحمن ! کیا آپ اس بات کا اندیشہ کرتے ہیں کہ لوگ اسلام کو چھوڑ دیں گے اور اس سے نکل جائیں گے میں نے کہا : مگر اگر اللہ چاہیں وہ لوگ کیسے چھوڑیں گے حالانکہ ان میں اللہ کی کتاب اور رسول اللہ کی سنت موجود ہے ، تو پھر فرمایا : اتر اس میں سے کچھ ہو تو وہ ضرور بنوفلاں ہوں گے۔ (طبرانی اوسط حافظہ ابن حجر نے انرة میں فرمایا : اس کی سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس طرح کی بات عمر (رض) اپنی طرف سے نہیں رمایا سکتے تو اس کا حکم مرفوع کا ہے)
35363- عن عبد الرحمن بن عوف قال: دخلت على عمر بن الخطاب فقال: يا عبد الرحمن! أتخشى أن يترك الناس الإسلام ويخرجوا منه؟ قلت: إلا إن شاء الله، وكيف يتركونه وفيهم كتاب وسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: لئن كان من ذلك شيء ليكونن بنو فلان. "طس؛ قال الحافظ ابن حجر في الإنارة: إسناده صحيح على شرط "م" ومثل هذا لا يقوله عمر من قبله فحكمه حكم المرفوع - انتهى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلم وبردباری کا تذکرہ
35364 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کرام (رض) کی محفل میں تھے توبنو سلیم کا ایک دیہاتی آیا اس نے ایک گوشکار کی تھی اور اس کو اپنی آستیں رکھا ہوا تھا تاکہ اپنے کی طرف لے جائے اور بھون کر کھالے جب اس نے جماعت کو دیکھا تو اس نے کہا : یہ کیا ہے لوگوں نے کہا : یہ وہ ہے جس کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے کہ وہ نبی ہے پھر وہ لوگوں کو چیرتاہو آیا اور کہا : لات اور عزی کی قسم عورتوں نے جتنوں کو جنا ان میں آپ سے زیادہ ناپسندید اور مبغوض نہیں اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری قوم مجھے جلد با ز کہے گی تو میں جلدی کرتا ہے اور آپ کو قتل کردیتاتو میں سرخ سیاہ اور ان کے علاوہ لوگوں کو آپ کے قتل سے خوش کردیتاتو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے چھوڑیں میں کھڑ آ ہوں اور اس کو قتل کردوں ! تو فرمایا : اے عمر ! کیا آپ نے یہ نہیں سنا کہ بردبار قریب ہے کہ نبی بن جائے ، پھر اعرابی کی طرف متوجہ ہوئے فرمایا : آپ کو کس نے ان باتوں پر ابھار جو آپ نے کہیں اور آپ نے درست نہ کہا اور مجلس کا اکرام نہ کیا ؟ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ استخفاف اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پھینک دیا اور کہا : یہ گو اگر آپ پر ایمان لے آئے تو میں بھی ایمان لے آؤں گا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے گو ! تو گونے واضح عبی زمین میں جواب دیا سارے لوگ سن رہے تھے میں حاضر ہوں اور آپ سے نیک سبق چاہتی ہوں اے قیامت کو پورا کرنے والے کی زنیت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے گو ! تو کس کی عبادت کرتی ہے ؟ تو اس نے کہا : اس ذات کی جس کا عرش آسمان میں ہے اور جس کی بادشاہت زمین میں اور جس راستہ سمندر میں ہے جس کی رحمت جنت میں ہے جس کا عذاب جہنم میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو میں کون ہوں اے گو آپ تمام جہانوں کے رب کے پیغمبر اور خاتم النبیین ہیں اور وہ شخص کامیاب ہے جس نے آپ کی تصدیق کی اور وہ شخص نقصان میں ہے جس نے آپ کی تکذیب کی دیہاتی نے کہا : مشاہدہ کے بعدپیچھے نہیں ہٹوں گا اللہ کی قسم ! میں آپ کے پاس اس حال میں آیا کہ روئے زمین پر مجھے آپ سے زیادہ مبغوض کوئی نہ تھا اور آپ آج مجھے میرے والد اور میرے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں میں آپ سے زندہ باہر پوشیدہ اور ظاہر(ہر طرح ) محبت رکھتا ہوں میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے آپ کو اس دین کی طرف ہدایت دی جو دین غالب ہوگا مغلوب نہیں، اور اس دین کو اللہ نماز نے بغیر قبول نہیں کرتا اور نماز بغیر قرآن کے قبول نہیں کرتا تو اس نے عرض کیا : آپ نے مجھے سکھا دیں پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو الحمد اور قل ھو اللہ احد سکھائی اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول اور سکھائیں میں مفصل اور مجمل کلام میں اس سے خوبصورت کلام کوئی نہیں سناتو فرمایا اے دیہائی یہ تمام جہانوں کے رب کا کلام ہے اور شعر نہیں ہے اور جب آپ قل ھو اللہ احد ایک مرتبہ پڑھیں گے تو آپ کے لیے اس شخص کے اجر کے مثل ہے جو قران کا تہائی پڑھے، اور اگر قل ھو اللہ احد دو مرتبہ پڑھیں تو آپ کے لیے اس شخص کے اج کے مثل ہے جو قرآن کے دوتہائی قرآن پڑھے اور اگر آپ قل ھو اللہ احدتین مرتبہ پڑھیں تو آپ کے لیے اس شخص کے اجر کے مثل ہے جو پورا قرآن پڑھے ، تو دیہاتی نے کہا جی ہاں ! معبود تو ہمارا معبود ہے تھوڑا عمل قول کرتا ہے اور عطاء کثیر دیتے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا آپ کے پاس مال ہے ؟ اس نے عرض کیا : پورے نبی سلیم میں کوئی شخص مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہٹے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کرام (رض) سے فرمایا ان کو دو تو انھوں نے ان کو دیا یہاں تک کہ ان کو حیران کردیا عبدالرحمن بن عوف (رض) اٹھے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس اس سالہ اونٹنی ہے نجتی سے کم اور اعرابی سے اوپر خود ملتی ہے ملایا نہیں جاتا مجھے تبوک کے دن حد یہ کی گئی، اس کے ذریعہ میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہوں اور دیہاتی کو دیتا ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ نے اپنی اونٹنی کی صفات بیان کیں : میں آپ کو اس اجر کے۔ اوصاف بیان کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کے دن آپ کے لیے ہوگا عرض کیا : جی ہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ کے لیے ایک اونٹنی ہے جو کشادہ خوف والی موٹے کی جس کی ٹانگیں سبز زمزد کی گردن زرد نر برجد کی اس پر ایک ہودہ ہے اور ہودہ پر بار یک اور موٹا ریشم ہے جو آپ کو پلک جھپکتی بجلی کی طرح صراط سے لے کر گذرے گی قیامت ہر دیکھنے والا اس کی وجہ سے آپ رشک کرے گا تو عبدالرحمن بن عوف نے عرض کیا : میں راضی ہوچکا پھر دیہاتی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے نکلا اس کو نبی سلیم کے ایک ہزار دیہاتی ہزار سوار پر ملے جن کے پاس ہزار تلواریں اور ہزار نیزے تھے اس نے اس سے کہا : کہا جانے کا ارادہ رکھتے ہو ؟ انھوں نے کہا ہم اس کے پاس جارہے ہیں جس نے ہمارے معبودوں براکہا ہے ہم اس کو قتل کریں گے تو اس نے کہا مت کرو ! میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور مجھ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، انھوں نے اس سے کہا : تو صابی ہوگیا اس نے کہا : میں صابی نہیں ہوا اور انکوسارا قصہ سنایا تو سب نے اکٹھے کہا : لہ الہ الا اللہ محمدرسول اللہ یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی پھر آپ نے ان سے رداء میں ملاقات کی وہ اپنے جانوروں سے اترگئے اس بات کو قبول کرتے ہوئے جو انھوں نے اس سے دیکھی اور وہ کہہ رہے تھے : لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں امراء کے بارے میں حکم دیں : تو آپ نے فرمایا : تم سب خالد بن الولید (رض) کے جھنڈے کے نیچے ہوجاؤ عرب میں سے کوئی بھی بنوسلیم کے علاوہ پورے ہزار ایک ساتھ ایمان نہ لائے (طبرانی اوسط اس حدیث کے ساتھ محمد بن علی بن لولید اسلمی متفرد ہے ابن عدی کامل مستدرک حاکم معجزات ابونعیم بیہقی اکٹھے ابالدئل میں تاریخ ابن عساکر اور کہا حق نے اس کا حمل اسلمی پر ہے فرمایا یہ حدیث عائشہ (رض) اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث سے بھی مروی ہے اور اس میں امثل ان سانید ہے خصائص میں ابن وحیہ نے فرمایا : یہ خبر موضوع ہے اور میزان میں ذھبی نے فرمایا : یہ خبرباطل ہے لسان میں حافظ ابن الحجر نے فرمایا : الاسماعیلی نے اپنی معجم میں سلمی سے روایت کیا اور کہا منکرالحدیث ہے)
35364- عن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في محفل من أصحابه إذ جاء أعرابي من بني سليم قد صاد ضبا وجعله في كمه ليذهب به إلى رحله فيشويه ويأكله، فلما رأى الجماعة قال: ما هذه؟ قالوا: هذا الذي يذكر أنه نبي فجاء حتى شق الناس، فقال: واللات والعزى! ما اشتملت النساء على ذي لهجة أبغض إلي منك ولا أمقت، ولولا أن تسميني قومي عجولا لعجلت إليك فقتلتك فسررت بقتلك الأحمر والأسود والأبيض وغيرهم، فقلت: يا رسول الله! دعني فأقوم فأقتله! فقال: يا عمر! أما علمت أن الحليم كاد أن يكون نبيا؟ ثم أقبل على الأعرابي فقال: ما حملك على أن قلت ما قلت - وقلت غير الحق ولم تكرم مجلسي؟ قال: وتكلمني أيضا - استخفافا برسول الله صلى الله عليه وسلم؟ واللات والعزى!. لا أومن بك أو يؤمن بك هذا الضب، فأخرج الضب من كمه وطرحه بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: إن آمن بك هذا الضب آمنت بك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم يا ضب! فأجابه الضب بلسان عربي مبين يسمعه القوم جميعا: لبيك وسعديك يا زين من وافى القيامة! قال: من تعبد يا ضب؟ قال: الذي في السماء عرشه، وفي الأرض سلطانه وفي البحر سبيله وفي الجنة رحمته وفي النار عذابه، قال: فمن أنا يا ضب؟ قال: أنت رسول رب العالمين وخاتم النبيين، وقد أفلح من صدقك وقد خاب من كذبك، قال الأعرابي: لا أتبع أثرا بعد عين، والله لقد جئتك وما على ظهر الأرض أحد أبغض إلي منك وإنك اليوم أحب إلي من والدي ونفسي وإني لأحبك بداخلي وخارجي وسري وعلانيتي، أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحمد لله الذي هداك إلى هذا الدين الذي يعلو ولا يعلى، ولا يقبله الله إلا بصلاة ولا يقبل الصلاة إلا بقرآن، قال: فعلمني، فعلمه رسول الله صلى الله عليه وسلم {الْحَمْدُ} و {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ، قال: زدني يا رسول الله! فما سمعت في البسيط ولا في الرجز أحسن من هذا، قال: يا أعرابي! إن هذا كلام رب العالمين وليس بشعر، وإنك إذا قرأت {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} مرة كان لك كأجر من قرأ ثلث القرآن، وإن قرأت: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} مرتين كان لك كأجر من قرأ ثلثي القرآن؛ وإن قرأت: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ثلاث مرات كان كان لك كأجر من قرأ القرآن كله، فقال الأعرابي: نعم الإله إلهنا، يقبل اليسير ويعطي الجزيل، فقال: رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألك مال؟ قال: ما في بني سليم قاطبة رجل هو أفقر مني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأصحابه: أعطوه، فأعطوه حتى أبطروه، فقام عبد الرحمن بن عوف فقال: يا رسول الله! إن عندي ناقة عشراء دون البختي وفوق الأعرابي تلحق ولا تلحق، أهديت إلي يوم تبوك، أتقرب بها إلى الله وأدفعها إلى الأعرابي؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قد وصفت ناقتك، وأصف لك ما عند الله جزاء يوم القيامة، قال: نعم، قال: لك ناقة من درة جوفاء قوائمها من زمرد أخضر وعنقها من زبرجد أصفر، عليها هودج وعلى الهودج السندس والإستبرق تمر بك على الصراط كالبرق الخاطف يغبطك بها كل من رآك يوم القيامة، فقال عبد الرحمن: قد رضيت. فخرج الأعرابي من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فلقيه ألف أعرابي من بني سليم على ألف دابة معهم ألف سيف وألف رمح، فقال لهم: أين تريدون؟ فقالوا: نذهب إلى هذا الذي سفه آلهتنا فنقتله، فقال: لا تفعلوا، أنا أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، فقالوا له: صبوت، فقال: ما صبوت - وحدثهم الحديث، فقالوا بأجمعهم: لا إله إلا الله محمد رسول الله، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فتلقاهم في رداء فنزلوا عن ركابهم يقبلون ما رأوه منه وهم يقولون: لا إله إلا الله محمد رسول الله، ثم قالوا: يا رسول الله مرنا بأمراء قال: كونوا تحت راية خالد بن الوليد، فليس أحد من العرب آمن منهم ألف جميعا إلا بنو سليم. "طس وقال: تفرد به محمد بن علي بن الوليد السلمى، عد، ك في المعجزات وأبو نعيم، ق معا في الدلائل، كر؛ وقال هق: الحمل فيه على السلمى، قال: وروى ذلك من حديث عائشة وأبي هريرة وهذا أمثل الأسانيد فيه، قال ابن دحية في الخصائص: هذا خبر موضوع، وقال الذهبي في الميزان: هذا خبر باطل، وقال الحافظ ابن حجر في اللسان: السلمى روى عنه الإسماعيلي في معجمه وقال: منكر الحديث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ
35365 ۔۔۔ (مسندعمر (رض)) عبداللہ بن عمر (رض) سے مروی ہے حضرت عمربن الخطاب (رض) نے سعد بن ابی وقاص (رض) جب وہ قادسیہ میں تھے لکھا کہ نصلہ بن معاویہ کو حلوان العراق کی طرف بھیجیں کہ وہ اس کے کناروں پر حملہ کریں تو سعد (رض) نے نصلہ کو متوجہ کردیا تین سوشہسواروں کے ساتھ تو وہ لوگ نکلے یہاں تک حلوان پہنچ گئے اور اس کے کناروں پر حملہ کردیا اور ان کو غنیمت اور قیدی ملے تو وہ لوگ غنیمت اور قیدیوں کو لے کر چلنے لگے یہاں تک کہ عصر ختم ہونے لگا اور سورج غروب کے قریب ہوگیا تو نصلہ نے غنیمت اور قیدیوں کو پہاڑ کے دامن میں کردیا اور کھڑے ہو کر اذان دی جب انھوں نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہا تو پہاڑ سے ایک جو ابد ینے والے نے جواب دینا شروع کیا : اے نصلہ ! تو بڑی ذات کی بڑھائی بیان کی انھوں نے کہا : اشھدن لاالہ الا اللہ اس نے کہا : اے نصلہ : یہ اخلاص ہے انھوں نے کہا : اشھد ان محمد رسول اللہ ! اس نے کہا ھوڈرانے والے ہیں آور وہ و ہیں جن کی خوشخبری ہمیں عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام ) نے دی اور ان کی امت پر قیامت قائم ہوگی انھوں نے کہا : حی علی ارصلاة اس نے کہا خوشخبری ہو اس کے لیے جس جو اس کی طرف چلا اور اس پر ہمیشگی کی ، انھوں نے کہا : حی علی الفلاح، اس نے کہا : وہ شخص کامیاب ہوا جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قبول کیا انھوں نے کہا : اللہ اکبر لاالہ الا اللہ اس نے کہا : اے نصلہ توپوراپورا خالص کردیا : اس کی وجہ سے اللہ نے تیرا جسم آگ پر حرام کردیا جب وہ اپنی اذان سے فارغ ہوئے ہم کھڑے ہوئے ہم نے اس سے کہا : آپ کون ہیں ؟ اللہ آپ پر رحم کرے ۔ کیا فرشتے ہیں ؟ یا جنوں میں سے رہنے والے یا اللہ کے بندوں میں طائف ؟ آپ نے اپنی آواز سنا دی آپ اپنی صورت بھی دکھائیں اس لیے کہ ہم وفد اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وفد اور عمر بن خطاب (رض) کے وفد ہیں تو اوپر سے پہاڑ پھٹا ین چکی کی طرح سفید سر اور ڈاڑھی والا اس پر اون کے دوپرانے کپڑے تھے اس نے کہا : السلام ورحمتہ اللہ اہم نے کہا : وعلیک السلام ورحمتہ اللہ ! آپ کون ہیں ؟ اللہ آپ پر رحم فرمائے اس نے کہا : میں زریب بن ترملہ نیک بندے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کا وصی ہوں انھوں نے مجھے اس پہاڑ میں ٹھہرایا اور میرے لیے درازی عمر کی دعا کی ان کے آسمان سے اترنے تک پھر وہ خنزیر کو قتل کریں اور صلیب کو توڑیں گے مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملاقات فوت ہوگئی تو میری طرف سے عمر (رض) کو سلام کہو اور ان سے کہو اے عمر ! درست رہیں اور ابں کے قریب رہیں اس لیے کہ قیامت قریب ہوگئی اور وہ باتیں بتادیں بتادو جو تم کو بتارہا ہوں اے عمر (رض) پر جب یہ باتیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت ظاہر ہوں گی تو فساد ہی فساد ہوگا جب مرد مرد سے عورتیں عورتوں سے مستغن ہوجائیں گے اور بغیر مناسبت کریں گے اور آپنے آباؤں کے علاوہ کی عرف نسبت کریں گے اور نہ ان کا بڑا چھوٹوں پر شفقت کرے گا اور نہ ان کا چھوٹا اپنے بڑوں کی عزت کرے گا اور نیکی کو چھوڑ دیا جائے اور اس کا حکم نہیں دیا جائے اور گناہ کو چھوڑ دیا جائے گا اور اس سے روکا نہ جائے اور ان کا علما علم دیناروں اور درھموں کے لیے علم حاصل کرے گا اور بارش ماند اور بچے ناتمام ہوں گے اور عمارتوں کو لمبا کریں گے اور مصاحف پرچاندیاں چڑھائیں گے اور مسجدوں میں سونا جڑیں گے اور رشوت کو ظاہر کریں گے اور عمارتوں کو بلند کریں گے اور خواہش کریں گے اور دین کو دینا کے بدلے بیچیں گے اور ناحق خون کرنے کو حقیر سمجھیں گے اور قطع رحمی ہوگی اور فیصلہ بیچا جائے گا اور فخر سے سودا کھایا جائے گا اور مالداری عزت ہوگی ایک شخص اپنے گھر سے نکلے اور اس سے بہتر اس کو کھڑا ہو کر سلام کرے گا اور عورتیں نرینوں پر سوار ہوں گی پھر وہ ہم سے غائب ہوگیا یہ باتیں نضلہ نے سعد (رض) کو لکھ کر بھیجیں پھر انھوں نے حضرت عمر (رض) اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھ کر بھیجیں حضرت عمر (رض) نے حضرت سعد (رض) کو لکھا آپ اور آپ کے ساتھ مہاجرین اور انصار جائیں اور اس پہاڑ پر اتریں آپ کی ملاقات ان سے ہو تو میری طرف سے ان کو سلام کہیں اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں بتایا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعض وصی اس پہاڑ پر اتڑے ہیں عراق کے نواح میں تو حضرت سعد (رض) 4 ہزار مہاجرین اور انصار کے ساتھ تھے اور اس پہاڑ پر اترے ایک دن اور ہر نماز کے وقت اذان دی تو کوئی جواب نہ آیا دارقطنی غرائب مالک اور فرمایا : یہ ثابت نہیں بیہقی الدلائل اور فرمایا یہ ضعیف ہے مرة سے خطیب بغداد ۔ مالک اور فرمایا یہ منکر ہے اللآلی :771 ۔ 178 التنزیة :2391 ۔ 240
35365- "مسند عمر" عن ابن عمر قال: كتب عمر بن الخطاب إلى سعد بن أبي وقاص وهو بالقادسية أن وجه نضلة بن معاوية إلى حلوان العراق فليغر على ضواحيها فوجه سعد نضلة في ثلاثمائة فارس، فخرجوا حتى أتوا حلوان فأغاروا على ضواحيها فأصابوا غنيمة وسبيا، فأقبلوا يسوقون الغنيمة والسبي حتى إذا رهقهم العصر وكادت الشمس أن تؤوب فألجأ نضلة الغنيمة والسبي إلى سفح جبل ثم قام فأذن فقال: الله أكبر الله أكبر، فإذا مجيب من الجبل يجيبه: كبرت كبيرا يا نضلة! قال: أشهد أن لا إله إلا الله، قال: كلمة الإخلاص يا نضلة! قال: أشهد أن محمدا رسول الله، قال: هو النذير وهو الذي بشرنا به عيسى ابن مريم وعلى رأس أمته تقوم الساعة، قال: حي على الصلاة، قال: طوبى لمن مشى إليها وواظب عليها قال: حي على الفلاح - قال: أفلح من أجاب محمدا، فلما قال: الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله - قال: أخلصت الإخلاص كله يا نضلة! فحرم الله بها جسدك على النار، فلما فرغ من أذانه قمنا فقلنا له: من أنت - يرحمك الله؟ أملك أنت أم ساكن من الجن أم طائف من عباد الله أسمعتنا صوتك؟ فأرنا صورتك فأنا وفد الله ووفد رسول الله ووفد عمر بن الخطاب، فانفلق الجبل عن هامة كالرحا أبيض الرأس واللحية، عليه طمران من صوف، فقال: السلام عليكم ورحمة الله، قلنا: وعليك السلام ورحمة الله، من أنت - يرحمك الله؟ قال: أنا زريب بن ثرملة وصي العبد الصالح عيسى ابن مريم، أسكنني هذا الجبل ودعا لي بطول البقاء إلى نزوله من السماء، فيقتل الخنزير ويكسر الصليب ويتبرأ مما نحلته النصارى، فأما إذ فاتني لقاء محمد فأقرؤا عمر مني السلام وقولوا له: يا عمر! سدد وقارب فقد دنا الأمر، وأخبروه بهذه الخصال التي أخبركم بها، يا عمر! إذا ظهرت هذه الخصال في أمة محمد فالهرب الهرب: إذا استغنى الرجال بالرجال والنساء بالنساء، وانتسبوا من غير مناسبة وانتموا إلى غير مواليهم، ولم يرحم كبيرهم صغيرهم، ولم يوقر صغيرهم كبيرهم، وترك المعروف فلم يؤمر به، وترك المنكر فلم ينه عنه، وتعلم عالمهم العلم فيجلب به الدنانير والدراهم، وكان المطر قيظا والولد غيضا وطولوا المنازل، وفضضوا المصاحف، وزخرفوا المساجد، وأظهروا الرشا وشيدوا البناء، واتبعوا الهوى، وباعوا الدين بالدنيا، واستخفوا بالدماء، وقطعت الأرحام، وبيع الحكم، وأكل الربوا فخرا، وصار الغنى عزا، وخرج الرجل من بيته فقام إليه من هو خير منه فسلم عليه، وركب النساء السروج. ثم غاب عنا، فكتب بذلك نضلة إلى سعد، فكتب سعد إلى عمر، فكتب عمر إلى سعد: لله أبوك! سر أنت ومن معك من المهاجرين والأنصار حتى تنزل هذا الجبل، فإن لقيته فأقرئه مني السلام، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخبرنا أن بعض
أوصياء عيسى ابن مريم نزل ذلك الجبل ناحية العراق فخرج سعد في أربعة آلاف من المهاجرين والأنصار حتى نزلوا ذلك الجبل أربعين يوما ينادي بالأذان وقت كل صلاة فلا جواب. "قط في غرائب مالك وقال: لا يثبت؛ وق في الدلائل وقال: ضعيف بمرة، خط في رواة مالك وقال: منكر".
أوصياء عيسى ابن مريم نزل ذلك الجبل ناحية العراق فخرج سعد في أربعة آلاف من المهاجرين والأنصار حتى نزلوا ذلك الجبل أربعين يوما ينادي بالأذان وقت كل صلاة فلا جواب. "قط في غرائب مالك وقال: لا يثبت؛ وق في الدلائل وقال: ضعيف بمرة، خط في رواة مالك وقال: منكر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35366 ۔۔۔ میں قریش کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچانے کو ناپسند سمجھتا تھا جب مجھے گمان ہوا کہ یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کردیں گے تو راہبوں کی جگہوں میں ایک جگہ چلا گیا تو وہ لوگ اپنے سردار کے پاس گئے اور اس کو بتایا تو اس نے کہا تین دین جوا س کا مناسب حق ہے اداء کرو ! تین دن گذ ر گئے تو انھوں نے دیکھا کہ گیا نہیں تو وہ اپنے سردار کے پاس گئے اور اس کو بتایا اس نے کہا اس سے کہو ! ہم نے آپ کا مناسب حق ادا کردیا اگر آپ کو بیماری تھی تو وہ ختم ہوگئی اگر آپ کسی سے ملنا چاہتے ہیں تو اس کے پاس چلے جائیں جس سے ملنا ہو اگر آپ تاجر ہیں تو آپ اپنی تجارت کے لیے چلے جائیں تو میں نے کہا : نہ میں تاجرہوں اور نہ کسی سے ملنا ہے نہ میں بیمارہوں پھر وہ اس کے پاس گئے اور اس کو بتایا تو اس نے کہا : اس کو کوئی معاملہ ہے اس سے پوچھا چھو کیا معاملہ ہے تو وہ میرے پاس آئے آور مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا مگر بات یہ ہے کہ ابراہیم کی بستی میں میرا چچازاد یہ کہت ا ہے کہ وہ نبی ہے اور اس کی قوم اس کو ستاتی ہے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ وہ اس کو قتل کریں گے تو نکل پڑا تاکہ میں یہ منظر نہ دیکھو تو وہ دینے سردار کے پاس گئے اور اس کو میری بات بتائی تو اس نے کہا : اس کو لے آؤ میں ان کے پاس آیا اور اپنا قصہ بیان کیا اس نے کہا : آپ کو یہ اندیشہ ہے کہ وہ اس کو قتل کردیں گے میں نے کہا جی ہاں اس نے کہا : اس شیبھ آپ پہنچان سکتے ہیں آگر ان کی تصویر دیکھیں ، میں نے کہا جی ہاں میرا زمانہ اس کے ساتھ نزدیک سے ہے تو اس نے مجھے ایک ڈھکی ہوئی صورتیں دکھائیں اور ایک ایک صورت کھولتا رہا پھر کہتا آپ پہنچانتے ہیں ؟ میں کہتا نہیں یہاں تک کہ الگ صورت اس نے کھولی تو میں نے کہا : کوئی چیز اس چیز سے اس کے ساتھ زیادہ مشابہ میں نے نہیں دیکھی ، گویا کہ اس کو لمبائی اور اس کا جسم اور اس کے کندھوں کے درمیان فاصلہ ( اس کے مشابہ ہے) ۔ اس نے کہا : آپ اس کے اندیشہ کرتے ہیں کہ وہ اس کو قتل کردیں گے ؟ میں نے کہا : میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ وہ قتل سے فارغ ہوگئے ہوں گے اس نے کہا : اللہ کی قسم وہ اس کو قتل نہ کریں گے اور وہ شخص ضرور قتل ہوگا جو اس کے قتل کا ارادہ کرے گا یہ تو نبی ہے اللہ اس کو ضرور غالب کرے گا اور لیکن آپ کا حق ہم پر ضروری ہوچکا توجتنا چاہیں آپ ٹھڑے رہیں اور جاجو چاہیں مانگیں پھر میں ان کے پس کچھ وقت رہا پھر میں نے کہا : اگر میں امانی اطاعت کروں تو میں مکہ آیا میں دیکھا انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدنیہ کی طرف نکال دیاتو جب میں پہنچا تو میرے پاس قریش کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے سامنے آپ کی بات ظاہر ہوچکی ہے اور آپ حالت ہم پہچان لی ہے تو آپ اس بچی کے مال ہم میں دیہ ہے جو آپ کے پاس ہے اور آپ کے والد نے وہ آپ امانت دی ہے ، تو میں نے کہا : میں ایساہرگز نہیں کروں گا حتی کہ وہ لوگ میرے سر اور میرے جسم کو جدا کردیں، لیکن مجھے چھوڑدو میں جاؤں گا اور ان وہ حوالے کروں گا تو انھوں نے کہا : آپ پر اللہ کا عہد اور وعدہ ہے کہ آپ اس کا کھانا نہ کھائیں گے تو میں مدینہ آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بات پہنچ گئی میں خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھ سے فرمایا ان باتوں میں جو آپ فرما رہے تھے میں آپ کو بھوکا سمجھ رہاہوں کھانا لے آؤ میں نے عرض کیا : میں کھاؤں گا نہیں یہاں تک کہ آپ کو پوری بات بتادوں پھر ا کر آپ مناسب سمجھیں تو میں کھالوں گا فرمایا کہ میں نے آپ کو وہ عہد بتادیں جو انھوں نے مجھ سے لیا تھا تو آپ نے فرمایا : اللہ کے وعدے کو پورا کرو ! اور دمارعا کھانا نہ کھائیں اور نہ ہمارا پانی پئیں ۔ (طبرانی)
35366- "مسند جبير بن مطعم" كنت أكره أذى قريش رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما ظننت أنهم سيقتلونه خرجت حتى لحقت بدير من الديرات فذهب أهل الدير إلى رأسهم فأخبروه، فقال: أقيموا له حقه الذي ينبغي له ثلاثا، فلما مرت ثلاث رأوه لم يذهب، فانطلقوا إلى صاحبهم فأخبروه، فقال: قولوا له: قد أقمنا لك بحقك الذي ينبغي لك، فإن كنت وصبا فقد ذهب وصبك، وإن كنت واصلا فقد نالك أن تذهب إلى من تصل، وإن كنت تاجرا فقد نالك أن تخرج إلى تجارتك، فقلت: ما كنت تاجرا ولا واصلا وما أنا بنصب، فذهبوا إليه فأخبروه، فقال: إن له لشأنا فسلوه ما شأنه، فأتوني فسألوني، فقلت: لا والله! إلا أن في قرية إبراهيم ابن عمي يزعم أنه نبي وآذوه قومه وتخوفت أن يقتلوه فخرجت لئلا أشهد ذلك، فذهبوا إلى صاحبهم فأخبروه بقولي، قال: هلموا، فأتيته فقصصت عليه قصصي، فقال: تخاف أن يقتلوه؟ قلت: نعم، قال: وتعرف شبهه لو تراه مصورا؟ قلت: نعم، عهدي به منذ قريب، فأراني صورا مغطاة فجعل يكشف صورة صورة ثم يقول: أتعرف؟ فأقول: لا، حتى كشف صورة مغطاة، فقلت: ما رأيت شيئا أشبه بشيء من هذه الصورة به كأنه طوله وجسمه وبعد ما بين منكبيه، قال: فتخاف أن يقتلوه؟ قلت: أظنهم قد فرغوا من قتله، قال: والله! لا يقتلوه وليقتلن من يريد قتله: وإنه لنبي وليظهرنه الله، ولكن قد وجب حقك علينا فامكث ما بدا لك وادع بما شئت: فمكثت عندهم حينا ثم قلت: لو أطعتهم! فقدمت مكة فوجدتهم قد أخرجوا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى المدينة، فلما قدمت قامت إلي قريش فقالوا: قد تبين لنا أمرك وعرفنا شأنك فهلم أموال الصبية التي عندك التي استودعكها أبوك، فقلت: ما كنت لأفعل هذا حتى تفرقوا بين رأسي وجسدي ولكن دعوني أذهب فأدفعها إليهم، فقالوا: إن عليك عهد الله وميثاقه أن لا تأكل من طعامه، فقدمت المدينة وقد بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم الخبر، فدخلت عليه فقال لي فيما يقول: إني لأراك جائعا، هلموا طعاما، قلت: لا آكل حتى أخبرك، فإن رأيت أن آكل أكلت، قال فحدثته بما أخذوا علي، قال: فأوف بعهد الله ولا تأكل من طعامنا ولا تشرب من شرابنا. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35367 ۔۔۔ حضرت جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے وہ ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا میں نے عمر بن خطاب (رض) سے کوئی بات نہیں سنی جس کے بارے میں وہ کہتے ہوں میں اس طرح گمان کرتا ہوں مگر وہ اسی طرح ہوئی جس طرح انھوں نے فرمایا : ایک دفعہ عمر (رض) بیٹھے ہوئے تھے ان کے پاس سے ایک خوبصورت آدمی گذرا تو انھوں نے آس سے فرمایا : میرا گمان غلط ہے : کیا آپ جاہلیت میں اپنے دین پر تھے یا آپ ان کے کاھن تھے ؟ اور میں نے آج کے دن کی طرح کوئی دن نہ دیکھا جس میں کوئی مسلمان آدمی آیاہو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں آپ کو تم دیتا ہوں اگر آپ نہ بتائیں ! اس نے کہ کہا : جاہلیت میں ان کا کاھن تھا فرمایا : آپ کے پس جو جنیہ آتی تھی اس کی کونسی بات عجیب لگی ؟ اس نے کہا : اسی دوران میں چبوترے پر سویا ہوا تھا وہ میرے پاس آئی اور گھبراہٹ ظاہر تھی اس نے ہاتھ کیا آپ نے جنوں کے حقر اور ان کے واپس آنے کے بعد کی مایوسی کو اور ان کے اونیوں اور اس کی چادر سے منے کو نہ دیکھاعمر (رض) نے فرمایا : سچ کہا ایک دفہع میں اپنے الہیہ کے پاس سو رہا تھا تو ایک آدمی بچھڑا لے کر آیا پھر اس کو ذبح کیا پھر ایک چیخنے والے نے چیخ لگائی میں نے کبھی بھی اس سے سخت آواز چیخنے والے کی نہیں سنی کہہ رہا تھا اے خلیج کامیاب کام ہے وضاحت والا آدمی کہتا ہے : لا الہ الا اللہ تو لوگ گود پرے تو میں نے کہا : میں اسی طرح رہوں گا یہاں تک میں وہ جان لوں جو کچھ آواز کے پیچھے ہے پھر اس طرح دوسری اور تیسری مرتبہ پکارا تو میں کھڑا ہوا تو نیچے نہیں ہوا کہ کہا گیا یہ بہتی ہے بخاری مستدرک خاکم بیہقی الدلدئل۔
35367- عن جبير بن مطعم عن ابن عمر قال: ما سمعت عمر ابن الخطاب يقول لشيء قط: إني لأظن كذا وكذا، إلا كان كما يظن، بينا عمر جالس إذ مر به رجل جميل، فقال له: أخطأ ظني أو أنك على دينك في الجاهلية أو لقد كنت كاهنهم؟ وما رأيت كاليوم استقبل به رجل مسلم، قال عمر: فإني أعزم عليك إلا أخبرتني، قال: كنت كاهنهم في الجاهلية، قال: فما أعجبك ما جاءتك به جنيتك؟ قال: بينا أنا يوما في شرف جاءتني أعرف فيها الفزع قالت:ألم تر الجن وإبلاسها ... ويأسها من بعد انكاسها ولحوقها بالقلاص وأحلاسها
قال عمر: صدق، بينا أنا نائم عند آلهتهم إذ جاء رجل بعجل فذبحه فصرخ به صارخ لم أسمع صارخا قط أشد صوتا منه يقول: يا جليح! أمر نجيح رجل فصيح يقول: لا إله إلا الله؛ فوثب القوم، قلت: لا أبرح حتى أعلم ما وراء هذا، ثم نادى كذلك الثانية والثالثة، فقمت فما نشبت أن قيل: هذا نبي. "خ، ك، ق في الدلائل".
قال عمر: صدق، بينا أنا نائم عند آلهتهم إذ جاء رجل بعجل فذبحه فصرخ به صارخ لم أسمع صارخا قط أشد صوتا منه يقول: يا جليح! أمر نجيح رجل فصيح يقول: لا إله إلا الله؛ فوثب القوم، قلت: لا أبرح حتى أعلم ما وراء هذا، ثم نادى كذلك الثانية والثالثة، فقمت فما نشبت أن قيل: هذا نبي. "خ، ك، ق في الدلائل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35368 ۔۔۔ ابراہیم نخعی سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ عبداللہ کے ساتھیوں کی ایک جماعت حج کے ارادہ سے نقل یہاں تک کہ جب وہ راستے کے بعض حصے ہی تھے تو ان کو ایک سانپ ملا جو راستے پر بل رکھا تھا سفید رنگ کا جس سے شک کی میک پھوٹ رہی تھی تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا چلو میں جاؤں گا یہاں تک کہ میں اس بات کو دیکھ لوں جس کی طرف اس سانپ کا معاملہ پھرتا ہے پھر میں ویں رہا کہ وہ مرگیا پھر میں نے سفید کپڑا لیا اس کو اس میں لپیٹا پھر میں نے اس کو رستے سے ہٹایا پھر میں نے اس کو دفن کردیا تو میں نے اپنے ساتھیوں کو پالیا تو اللہ کی قسم ہم بیٹھے ہوئے تھے تو چار عورتیں مغرب کی جانب سے آئیں تو ان میں سے ایک نے کہا تم میں سے کس نے عمروکودفن کیا ؟ تو ہم نے کہا عمروکون ہے ؟ تو اس نے کہا تم میں سے کس نے سانپ کو دفن کیا میں نے کہا میں نے اس سے کہا اللہ کی قسم آپ نے بہت زیادہ روزہ رکھنے والے بہت زیادہ شب بیدار کو دفن کیا جو اس بات کا حکم دیتا تھا جس کو اللہ نے اتارا اور وہ تمہارے نبی پر ایم ن لاچکا تھا اور وہ ان کے اوصاف آسمان میں بعثت سے چار سو سال قبل سن چکا تھا تو ہم نے اللہ کی تعریف کی بھر ہم نے اپنا حج ادا کیا پھر میں مدینہ میں عمربن خطاب کے پاس سے گزراتو میں نے ان کو سانپ کا معاملہ بتایا تو انھوں نے فرمایا آپ نے سچ کہا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ مجھ پر میری بعثت سے چار سو سال قبل ایمان لاچکا ہے۔ (ابونعیم الدلائل)
35368- عن إبراهيم النخعي قال: خرج نفر من أصحاب عبد الله يريدون الحج حتى إذا كانوا ببعض الطريق إذا هم بحية تنثني على الطريق أبيض تنفخ منه ريح المسك، فقلت لأصحابي: امضوا فلست ببارح حتى أنظر إلى ما يصير أمر هذه الحية، فما لبثت أن ماتت، فعمدت إلى خرقة بيضاء فلففتها فيها، ثم نحيتها عن الطريق فدفنتها وأدركت أصحابي، فوالله! إنا لقعود إذ أقبل أربع نسوة من قبل المغرب فقالت واحدة منهن: أيكم دفن عمرا؟ قلنا: ومن عمرو؟ قالت: أيكم دفن الحية؟ قلت: أنا، قالت: أما والله! لقد دفنت صواما قواما يأمر بما أنزل الله، ولقد آمن بنبيكم، وسمع صفته في السماء قبل أن يبعث بأربعمائة سنة، فحمدنا الله ثم قضينا حجنا، ثم مررت بعمر بن الخطاب بالمدينة فأنبأته بأمر الحية، فقال: صدقت، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لقد آمن بي قبل أن أبعث بأربعمائة سنة. "أبو نعيم في الدلائل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35369 ۔۔۔ (مسندعمر ر (رض)) حضرت سلمان (رض) سے روایت ہے کہ عمربن الخطاب (رض) نے کعب الاحبار سے کہا آپ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت سے قبل آپ کی فضائل کے بارے جس بتایا انھوں نے کہا جی ہاں، امیر المومنین پڑھا میں نے ان میں جن میں نے پڑھا کہ ابراہیم خلیل (علیہ السلام) سے ایک پتھر پایاجس پر چار سطریں لکھی ہوئی تھیں پہلی یہ کہ جس اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تو میری عبوادت کر اور دوسری یہ کہ میں اللہ ہوں میرا اے سوا کوئی معبود نہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے کے پیغمبر ہیں اس شخص کے لیے خوشخبری ہو جو اس پر ایمان لائے اور اس کی پیرو ی کرکے اور تیری یہ میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں جس نے مجھے ہاتھ سے پکڑ لیا وہ نجات پا گیا اور چوتھی یہ کہ میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں حرم میرا ہے اور کعبہ میرا گھر ہے جو میرے گھر میں داخل ہوا وہ میرے عذاب سے محفوظ رہا۔ ( تاریخ ابن عساکر)
35369- "مسند عمر" عن سلمان قال قال عمر بن الخطاب لكعب الأحبار: أخبرنا عن فضائل رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل مولده، قال: نعم يا أمير المؤمنين! قرأت فيما قرأت أن إبراهيم الخليل وجد حجرا مكتوبا عليه أربعة أسطر: الأول أنا الله لا إله إلا أنا فاعبدني، والثاني أنا الله لا إله إلا أنا، محمد رسولي، طوبى لمن آمن به واتبعه والثالث إني أنا الله لا إله إلا أنا، من اعتصم بي نجا، والرابع إني أنا الله لا إله إلا أنا، الحرم لي والكعبة بيتي، من دخل بيتي أمن عذابي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35370 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت مکہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا تو ہم مکہ کے بعض اردگر علاقوں کی طرف نکلے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے نہ کوئی پہاڑ آیا نہ کوئی ریت کاٹیلہ اور نہ کوئی درخت مگر وہ کہتا تھا السلام علیک یارسول اللہ ۔ (الدارمی ترمذی اور فرمایا کہ یہ حسن غریب ہے الرورقی مستدرک حاکم بیہقی الدلائل ضیاء مقدسی)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الترمذی :747
35370- عن علي قال: كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم بمكة فخرجنا في بعض نواحيها، فما استقبله جبل ولا مدر ولا شجر إلا وهو يقول: السلام عليك يا رسول الله. "الدارمي، ت وقال: حسن غريب، والدورقي، ك، ق في الدلائل، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35371 ۔۔۔ حضرت بلال بن الحارث (رض) سے روایت ہے کہ میں زمانہ جاہلیت میں شام کی طرف تجارت کے لیے نکلا تو جب میں شام کے قریب ہوا تو مجھے اہل کتاب کا ایک شخص ملاتو اس نے کہا تمہارے پاس کوئی ایسا شخص ہے جس نے نبوت کا دعوی کیا ہو میں نے کہا جی ہاں تو اس نے کہا کہ آپ اس کی طرف پہنچالیں گے اگر آپ اس کو دیکھیں میں نے کہا جی ہاں تو مجھے ایک کمرے میں داخل کیا جس میں تصویریں تھیں تو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصویر نہ دیکھی اس دوران میں اسی طرح تھا کر ان میں سے ایک شخص ہم پر داخل ہوا تم کس چیز میں پرے ہوئے ہو تو ہم نے اس کو بتادیا تو وہ ہم کو اپنے گھر میں لے گیا سو جس گھڑی میں داخل ہوا تھا میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصویر کی طرف دیکھا اور ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیچھے کی جانب سے پکڑا ہوا تھا تو میں نے کہا وہ شخص کون ہے جو ان کے پیچھے کھڑا ہوا ہے اس نے کہا کوئی نبی ایسا نہیں مگر اس کے بعد نبی ہوتا ہے سوائے اس کے اس کے بعد کوئی نبی نہیں نہ اس کا خلیفہ ہے تو وہ ابوبکر (رض) (رح) کی صفت تھی۔ (طبرانی)
35371- عن بلال بن الحارث: خرجت تاجرا إلى الشام في الجاهلية، فلما كنت بأدنى الشام لقيني رجل من أهل الكتاب فقال: هل عندكم رجل تنبأ؟ قلنا: نعم، قال: هل تعرف صورته إذا رأيتها؟ قلت: نعم، فأدخلني بيتا فيه صور، فلم أر صورة النبي صلى الله عليه وسلم، فبينما أنا كذلك إذ دخل رجل منهم علينا فقال: فيم أنتم؟ فأخبرناه، فذهب بنا إلى منزله فساعة ما دخلت نظرت إلى صورة النبي صلى الله عليه وسلم، وإذا رجل آخذ بعقب النبي صلى الله عليه وسلم، قلت: من هذا الرجل القائم على عقبه؟ قال: إنه لم يكن نبي إلا كان بعده نبي إلا هذا فإنه لا نبي بعده، وهذا الخليفة بعده، وإذا صفة أبي بكر. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35372 ۔۔۔ (مسند ثابت بن زید (رض)) عبدالرحمن بن عائذ سے روایت ہے ثابت بن زید (رض) نے فرمایا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میری ٹانک لنگڑی تھی زمین کونہ چھوسکتی تھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے دعا کی تو وہ ٹھیک ہوگئی یہاں کہ دودوسرے کی طرح برابر ہوگئی (الباوردی ابن مندہ اور فرمایا اس حدیث کو ہم اس طرق سے جانتے ہیں اور اس بات کا اجتمال ہے کہ وہ انجا ذریعہ ہے برائی مسند الشامن نے ابونعیم اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اس طرح طریق سے محفوظ ہے)
35372- "مسند ثابت بن يزيد" عن عبد الرحمن بن عائذ قال قال ثابت بن يزيد؛ أتيت النبي صلى الله عليه وسلم ورجلي عرجاء لا تمس الأرض، فدعا لي، فبرئت حتى استوت مثل الأخرى "الباوردي وابن منده؛ وقال: لا نعرفه إلا من هذا الوجه ويحتمل أن يكون هو ابن وديعة؛ طب في مسند الشاميين وأبو نعيم وقال: غريب لا يحفظ إلا من هذا الوجه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35373 ۔۔۔ حضرت جرہد اسلمی (رض) سے روایت ہے کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے کھانا تھا تو فرمایا اے جرہد کھاؤ تو انھوں نے اپنا بایاں ہاتھ کھانے کے لیے لمبارکن اور دائیں میں تکلیف تھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمایا دائیں ہاتھ سے کھائے تو انھوں نے عرض کیا کہ اس میں تکلیف ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر پھونکا پھر اس کے بعد ان کو اس کی شکانت نہیں کی ابونعیم)
35373- عن جرهد الأسلمي أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم وبين يديه طعام؛ فقال: يا جرهد! كل، فمد يده الشمال ليأكل وكانت اليمين مصابة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كل باليمين"، قال: إنها مصابة، فنفث عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم، فما اشتكيتها بعد. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35374 ۔۔۔ حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بکر میں ایک پتھر ہے ایک پتھر ہے جو مجھ پر ان راتوں میں سلام کرتا تھا جن میں میں مبغوث ہوا جس اس کو پہچانتاہوں جب میں اس کے پاس گزروں۔ (طحاوی ابونعیم)
35374- عن جابر بن سمرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إن بمكة لحجرا كان يسلم علي ليالي بعثت، إني لأعرفه إذا مررت عليه. " ط وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35375 ۔۔۔ حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اس پتھر کو جانتاہوں جو میری بعثت سے قبل مجھ پر سلام کرتا تاکہ بیشک میں اس کو پہنچ جاتا ہوں۔ (ابونعیم)
35375- عن جابر بن سمرة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "إني لأعرف حجرا كان يسلم علي قبل أن أبعث، إني لأعرفه. " أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35376 ۔۔۔ حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز پڑھائی پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے آگے اپنے ہاتھوں کے ساتھ اور وہ نماز میں تھے پس لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا جب وہ فارغ ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شیطان مچھ پر آگ کی چنگاریاں ڈال رہا تھا کہ مجھ کر نماز سے غافل کردے تو میں نے آس کو پکڑ لیا تو اگر میں اس کو پڑآلیتا تو وہ مجھ سے نہ بھاگتا یہاں تک کہ اس مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیاجاتا اور مدینے والوں کے بچے اس کی طرف دیکھتے رہتے ۔ (عب)
35376- "أيضا" صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الفجر فجعل يهوي بيديه قدامه وهو في الصلاة، فسأله القوم حين انصرف فقال: إن الشيطان كان يلقي علي شرر النار ليفتنني عن الصلاة فتناولته، فلو أخذته ما انفلت مني حتى يربط إلى سارية من سواري المسجد وينظر إليه ولدان أهل المدينة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35377 ۔۔۔ (مسند جابر بن عبداللہ (رض)) جب کعبہ بنایا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عباس (رض) پتھرمنتقل کررہے تھے تو عباس (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرض کیا پتھروں کی وجہ سے آپ اپنی ازار اپنی گردن پر رکھ لیں تو آپ نے ایسا کیا اور زمین پر گرگئے اور آپ کی آنکھیں آسمان کی طرف دیکھنے لگیں پھر کھڑے ہوئے فرمایا میری ازارا میری ازار ! تو آپ پر آپ کی ازاد باندھ دی گئی عب۔
35377- "مسند جابر بن عبد الله" لما بنيت الكعبة ذهب النبي صلى الله عليه وسلم وعباس ينقلان حجارة، فقال عباس للنبي صلى الله عليه وسلم: اجعل إزارك على رقبتك من الحجارة، ففعل فخر على الأرض وطمحت عيناه إلى السماء، ثم قام فقال: إزاري إزاري! فشد عليه إزاره. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35378 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے حدیبیہ کے دن لوگوں کو سخت پیاسی لگی تو لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف تو آپ نے اپنا ہاتھ چھوٹے برتن میں رکھا تو میں نے پانی کو چشموں کی طرف دیکھا عرض کیا گیا تم کتنے تھی تو انھوں نے کہا کہ ہم اگر ایک لاکھ بھی ہوتے تو یہ ہمیں کافی ہوجاتاہم پندرہ سو تھے۔ (ابن ابی شیبة)
35378- عن جابر قال: أصاب الناس عطش يوم الحديبية فهش الناس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فوضع يده في الركوة فرأيت الماء مثل العيون، قيل: كم كنتم؟ قال: لو كنا مائة ألف لكفانا، كنا خمس عشرة مائة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35379 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے ساتھ کعبہ کے لیے پتھر منتقل کررہے تھے اور اپنی پر راز تھی تو آپ کے چچا عباس نے آپ ہہ کہی بھیجتے اگر آپ اپنی ازار کھول لیں اور اپنے دونوں پر اس کو پتھروں کے نیچے رکھ دیں تو فرمایا تو آپ نے اس کو کھول اور اپنے کندھے پر ڈال لیا پس آپ بےہوش ہو کر گرپڑے اس دن کے بعد آپ کو بھی عریاں نہیں دیکھا۔ (ابونعیم)
35379- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ينقل معهم الحجارة للكعبة وعليه إزاره فقال له العباس عمه: يا ابن أخي! لو حللت إزارك فجعلته على منكبيك دون الحجارة، قال: فحله فجعله على منكبه فسقط مغشيا عليه، فما رئي بعد ذلك اليوم عريانا. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35380 ۔۔۔ اہل قباء میں سے بدیح بن سررہ بن علی السلمی اپنے والد سے اور ان کے والد ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم نے قاحہ میں پڑاؤ ڈالا یہ وہ جگہ جسے آج سقیا کہا جاتا ہے جہاں پانی نہ تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک میل پر نبی غفار کے پانی کی طرف بھیجا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مسجد میں داخل ہوگئے جو کھیت میں ہے اور آپ کے بعض صحابہ کرام (رض) وادی کے درمیان میں لیٹ گئے پھر اپنے سای کمشادہ نالے کو کھودا سو وہ تر ہوگیا ۔ پھر پانی ابلنے لگا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا گیا پس وہ سیراب ہوئے اور ان کے ساتھ جتنے لوگ تھے سارے میرا ب ہوگئے پھر فرمایا پہ پن نا ہے جس سے اللہ عزوجل نے تم کو پلایا اس وقت سے اس کا سقیانام رکھا دیا گیا۔ (الدیلمی)
35380- عن بديح بن سدرة بن علي السلمى من أهل قباء عن أبيه عن جده قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى نزلنا القاحة وهي التي تسمى اليوم السقيا لم يكن بها ماء فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى مياه بني غفار على ميل من القاحة، ودخل النبي صلى الله عليه وسلم المسجد الذي في الكهف، واضطجع بعض أصحابه ببطن الوادي 1 فبحث بيده بالبطحاء فنديت ففحص الماء فأخبر النبي صلى الله عليه وسلم، فسقى واستسقى جميع من معه، فقال: هذه سقيا سقاكموها الله عز وجل، فسميت السقيا. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35381 ۔۔۔ جدھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ کے سامنے کھایا تھا تو انھوں نے بایاں ہاتھ کھانے کے لیے قریب کیا اور دائیں ہاتھ میں تکلیف تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دائیں داتھ سے کھاؤ تو انھوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس میں تکلیف ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پھونکا پھر ان کو موت تک یہ شکایت نہیں ہوئی (طبرانی بروایت جریر)
35381- أتى جرهد النبي صلى الله عليه وسلم وبين يديه طعام فأدنى يده الشمال ليأكل وكانت اليمنى مصابة، فقال: كل باليمين، فقال: يا رسول الله! إنها مصابة، فنفث عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ فما شكى حتى مات. "طب - عن جرهد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسند جبیر بن مطعم (رض)
35382 ۔۔۔ (مسندجعدة بن خالہ الجشعی) ابواسرائیل سے روایت ہے جو جعدة سے روایت کرتے ہیں فرمایا میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو اور ایک شخص کو لایا گیا پس عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہے تو اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گھبرا نا نہیں گھبرانا نہیں اگر آپ نے یہ ارادہ کہا تو آپ کو اللہ میرے قتل یہ مسلط نہیں کرے گا۔ (طحاوی احمد بن حنبل طبرانی ابونعیم)
35382- "مسند جعدة بن خالد الجشمي" عن أبي إسرائيل عن جعدة قال: شهدت النبي صلى الله عليه وسلم وأني برجل فقيل: يا رسول الله! هذا أراد أن يقتلك، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: لم ترع لم ترع، لو أردت ذلك لم يسلطك الله على قتلي. "ط، حم، ز، طب وأبو نعيم".
তাহকীক: