কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৩৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال
35343 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تمہیں فرشتوں میں سے افضل نہ بتاؤں ؟ جبرائیل (علیہ السلام) ہیں اور انبیاء (علیہم السلام) میں افضل آدم (علیہ السلام) ہیں اور دنوں میں افضل جمعہ کا دن ہے اور مہینوں میں افضل رمضان کا مہینہ ہے اور راتوں میں افضل لیلة القدر ہے اور عورتوں میں افضل مریم بنت عمران ۔ (رض)) ہیں۔ (طبرانی بروایت ابن عباس)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :2157 العضیفہ :446
35343- " ألا أخبركم بأفضل الملائكة؟ جبريل، وأفضل النبيين آدم، وأفضل الأيام يوم الجمعة، وأفضل الشهور شهر رمضان، وأفضل الليالي ليلة القدر، وأفضل النساء مريم بنت عمران. " طب - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکمال
35344 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں کے سردار آدم (علیہ السلام) ہیں اور عرب کے سردار محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور روم کے سردار صہیب ہیں فار س کے سردار سلمان ہیں اور حبشہ کے شروار بلال ہیں اور پہاڑوں کا سردار طور سیناء ہے اور درختوں کا سردار بیری کا درخت ہے اور مہینوں کا سردار محرم ہے اور دونوں کا سردار جمعہ ہے اور کلام کا سردار قرآن ہے اور قرآن کا سردار بقرہ ہے اور بقرہ کا سردار آیت الکرسی ہے خبردار اس میں پانچ کلمات ہیں ہر کلمہ میں پچاس برکتیں ہیں۔ (مسندالفردوس بروایت علی )۔ کلام :۔۔۔ ضعیفہ ہے ضعیفہ الجامع 3326 کشف الخفاء 1504
35344- " سيد الناس آدم، وسيد العرب محمد، وسيد الروم صهيب، وسيد الفرس سلمان، وسيد الحبشة بلال؛ وسيد الجبال طور سيناء وسيد الشجر السدر، وسيد الأشهر المحرم، وسيد الأيام الجمعة، وسيد الكلام القرآن، وسيد القرآن البقرة، وسيد البقرة آية الكرسي؛ أما إن فيها خمس كلمات في كل كلمة خمسون بركة. " فر - عن علي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم افعال میں فضائل کی کتاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فضائل کا باب اس میں رسول اللہ کے معجزات اور عیب کی خبریں بتانے کا ذکر
35345 ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) شفاء بنت عبداللہ حضرت عمر (رض) سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسری کے دو قاصدوں سے نے فرمایا : جب کسری نے ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا میرے رب عزوجل نے رات کے پانچ گھنٹے گذرنے کے بعد تمہارے خدا کو ماردیا اس کے بیٹے شیرویہ نے اس کو قتل کیا ہے اللہ نے اس کو ان پر غلبہ دیاتم اپنے ساتھی سے جاکرکہو اگر اسلام لے آئیں تو میں آپ کو وہ (علاقے) دے دوں گا جو آپ شہر میں آپ کے ساتحت ہیں ، اور اگر آپ ایسا نہ کریں تو اللہ تعالیٰ آپ ایسانہ کریں تو اللہ تعالیٰ سے بے پرواہی کرے گا ۔ اس کی طرف لوٹ جاؤ اس دیہ بتادو ! (دیلمی)
35345- "مسند عمر" عن الشفاء - بنت عبد الله عن عمر ابن الخطاب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لرسولي كسرى لما بعثهما إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن ربي عز وجل قد قتل ربكما الليلة في خمس ساعات مضين منها، قتله ابنه شيرويه، سلطه الله عليه، فقولا لصاحبكما: إن تسلم أعطك ما تحت يديك في بلادك، وإن لا تفعل يغن الله عنك، ارجعا إليه فأخبراه. "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسندبراء بن عازب (رض)
35346 ۔۔۔ اس دوران کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف فرما تھے ایک شخص کھڑا ہوا اس نے کہا اے اللہ کے رسول اللہ سے دعاکریں کہ اللہ قریش پر بارش برسائے وہ تو ہلاک ہوچکے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے اللہ ان پر بارش نازل فرما سو ان پر بارش برسائی گئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر ابوطالب زندہ ہوتے تو وہ اس بات سے ہم سے خوش ہوجائے خو وہ دیکھتے ۔ تو ایک شخص نے کہا ، اے اللہ کے رسول گو کہ آپ ان کا یہ قول مراد لے رہے ہیں وہ سفید کہ جس کے چہرے کی ذریعہ بادل سے بارش مانگی جاتی ہے وہ یتیموں کا فریاد رس اور مسکینوں کی عزت تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں۔ (الخطیب المتفق المتفرق)
35346- "مسند البراء بن عازب" بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر قام رجل فقال: يا رسول الله! أدع الله أن يسقي قريشا فقد هلكوا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "اللهم اسقهم! " فسقوا. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لو أن أبا طالب حي لسر بنا لما يرى"، فقال الرجل: يا رسول الله! كأنك تريد بذلك قوله:

وأبيض يستسقى الغمام بوجهه ... ثمال اليتامى عصمة للأرامل

فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "نعم". "الخطيب في المتفق والمفترق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسندبراء بن عازب (رض)
35347 ۔۔۔ ( ایضا ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم جب لڑائی سر ہوجاتی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پچتے اور بہادر وہی ہے جس کے ذریعہ۔ (ابن ابی شیبة)
35347- "أيضا" كنا إذا احمر البأس نتقي برسول الله صلى الله عليه وسلم، وإن الشجاع للذي يحاذي به. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسندبراء بن عازب (رض)
35348 ۔۔۔ (ایضا) براء (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ساتھ ایک سفر میں تھے اور اہم ایک کم پانی والے کنویں کے پاس آئے سلمان کنویں کے پاس آئے سلمان بن مغیرہ نے کہا کنواں کم ہے اور دمتہ کم پانی والے کو کہتے ہیں تو ہم سے چھ وہاں اترے میں ان میں چھا تھا یا فرمایا سات اور میں ان میں سے ساتواں تھا پانی لینے کے لیے سلیمان نے کہا : مامتہ وہ لوگ جو پیالے میں پانی پیتے ہیں ہم نے ڈول ڈالا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنویں کے کنارے پر تھے تو ہم نے اس میں آدھا یا فرمایا اس کے دوتہائی کے قریب یا اس کے برابر تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا، آپ نے اس میں اپنا ہاتھ ڈالا اور جو اللہ نے چاہا کہ فرمائیں آپ نے فرمایا ، پھر دوبارہ اس کنویں میں وہ ڈول اور جو پانی اس میں تھا ڈالدیا تو میں نے ہم میں سے کو دیکھا کہ وہ دوبنے کے خوف سے اس نے کپڑے سے نکالا پھر نہر جاری ہوگئی ساحت کے الفاظ یا ساخت کے الفاظ بیان فرمائے۔ (طبرانی مجمع الزوائد 3008)
35348- عن البراء قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسير فأتينا على ركي ذمة - قال سليمان بن المغيرة: والدمة القليلة الماء - فنزل منا ستة أنا سادسهم - أو قال: سبعة أنا سابعهم - ماحة - قال سليمان: الماحة الذين يقدحون الماء - فأدلينا دلوا ورسول الله صلى الله عليه وسلم على شفة الركية فجعلنا فيها نصفها - أو قال: قراب ثلثيها أو نحو ذلك - فرفعت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فغمس يده فيها وقال: ما شاء الله أن يقول، فأعيدت إليها الدلو وما فيها من الماء، فقد رأيت أحدنا أخرج بثوب رهبة الغرق، ثم ساحت - أو قال: ساخت. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسندبراء بن عازب (رض)
35349 ۔۔۔ حضرت عمار بن یاسر (رض) سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ آپ نے زمانہ جاہلیت میں کوئی حرام کام کیا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں لیکن میں دوعدوں کی جگہ پر تھا ان میں سے ایک تو مجھ پر نیند غالب ہوگئی تھی اور رہا دوسرا توقصہ گونے مجھ پر غلبہ پالیا تھا۔ (تاریخ ابن عساکر)
35349- عن عمار بن ياسر أنهم سألوا رسول الله صلى الله عليه وسلم: هل أتيت في الجاهلية شيئا حراما؟ قال: " لا، وكنت على ميعادين: أما أحدهما فغلبتني عيني، وأما الآخر فشغلني عنه سامر قوم. " كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسندبراء بن عازب (رض)
35350 ۔۔۔ (مسندعلی (رض)) حضرت زیدبن وھب سے روایت ہے انھوں نے فرمایا : میرے پاس یمن سے ایک وفد آیا، ان میں سے ایک شخص نے بیان کیا اپنے بیان میں اس نے کہا : اس شخص کی فرمان برداری رب تعالیٰ کی فرمان برداری ہے اور اس کی نافرمانی رب تعالیٰ کی نافرمانی ہے تو حضرت علی (رض) نے اس سے فرمایا : آپ نے جھوٹ بولا یہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جن کی فرمان برداری رب تعالیٰ کی فرمان برداری ہے آور ان کی نافرمانی رب تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ (تاریخ ابن عساکر)
35350- "مسند علي" عن زيد بن وهب قال: قدم على علي وفد من اليمن فخطب رجل منهم فقال في خطبته: إن طاعة هذا طاعة الرب ومعصيته معصية الرب، فقال له علي: كذبت، إنما ذاك رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي طاعته طاعة الرب ومعصيته معصية الرب. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسندبراء بن عازب (رض)
35351 ۔۔۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ، آپ نے اپنے بال کپڑے ہوئے تھے فرما رہے تھے جس نے میرے بالوں میں سے ایک بال کو (بھی) تکلیف پہنچائی اس پر جنت حرام ہے۔ ( ابوالحسن بن المفضل نے مسلسلات میں بیان فرمایا)
35351- عن علي قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو آخذ شعره يقول: " من آذى شعرة من شعري فالجنة عليه حرام. " أبو الحسن بن المفضل في مسلسلاته".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسندبراء بن عازب (رض)
35352 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا اور آپ نے اپنا ایک بان پکڑا ہوا تھا تو فرمایا جس نے میرے ایک بال کو تکلیف پہنچائی اسنے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی اور جس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ نے اس پر آسمانوں کے برابر اور زمین کے برابر لعنت فرمائی اللہ تعالیٰ اس سے نہ مال خرچ کرنا نہ انصاف قبول فرمائیں گے۔ (تاریخ ابن عساکر ابن الفضل نے اپنی مسلسلات میں اس کو ذکر فرمایا)
35352- عن علي قال حدثني رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو آخذ بشعرة فقال: "من آذى شعرة مني فقد آذاني ومن آذاني فقد آذى الله ومن آذى الله لعنه الله ملء السماوات وملء الأرض، لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا. " كر وابن المفضل في مسلسلاته".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسندبراء بن عازب (رض)
35353 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایات ہے فرمایا : جب ہم خیبر میں تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین سے قتال کی وجہ سے بیدار رہے جب کل کا دن ہوا اور عصر کی نماز کا وقت ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سرمیری گود میں رکھا اور سوگئے نیند گہری ہوگئی تو آپ بیدار نہیں ہوئے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو جب سورج غروب ہونے کے ساتگ آپ بیدار ہوئے تو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول میں نے عصر کی نماز اس بات کو ناپسند کرتے ہوتے نہیں پڑھی کہ میں آپ کو آپ کی نیند سے بیدار کردوں گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا اے اللہ آپ کے بندے نے ابن ذات کا آپ نے نبی پر صدقہ کیا ہاتھ اس پر آپ سورج کے طلوع کو لوٹا دیں تو میں نے سورج کو دیکھا فورا ً عصر کے وقت میں واض : روشن ہوگیا یہاں تک میں اٹھا پھر وضوء کیا پھر نماز پڑھی پھر وہ غروب ہوگیا۔ (ابوالحسن سادان الفضلی العرقی نے کتاب دوالشمس میں بروایت ہارون بن سعدروایت کیا)
35353- عن علي قال: لما كنا بخيبر سهر رسول الله صلى الله عليه وسلم في قتال المشركين، فلما كان من الغد وكان مع صلاة العصر فوضع رأسه في حجري فنام فاستثقل فلم يستيقظ حتى غربت الشمس، فلما استيقظ مع غروب الشمس قلت: يا رسول الله! ما صليت صلاة العصر كراهية أن أوقظك من نومك، فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده وقال: "اللهم! إن عبدك تصدق بنفسه على نبيك فاردد عليه شروقها "، فرأيتها في الحال في وقت العصر بيضاء نقية حتى قمت ثم توضأت ثم صليت ثم غابت. "أبو الحسن سادان الفضلي العراقي في كتاب رد الشمس - عن هارون بن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز فرض ہونے کا تذکرہ
35354 ۔۔۔ حضرت زید بن علی اپنے آباء سے روایت کرتے ہیں اور وہ حضرت علی (رض) سے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس رات اذان سکھائی گئی اور آپ پر نماز فرض کی گئی جس میں آپ کو مصراج پر لے جانا کیا۔ (ابن معردویہ)
35354- عن زيد بن علي عن آبائه عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم علم الأذان ليلة أسرى به وفرضت عليه الصلاة. "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز فرض ہونے کا تذکرہ
35355 ۔۔۔ (مسند اسماء بن عمیر (رض)) بنی معاویہ میں دشمنی تھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے درمیان صلح کرنے تشریف لے گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک قبر کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا : تو نے نہیں جاتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا تو فرمایا : اس سے میرے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے کہا : مجھے معلوم نہیں۔ (طبرانی بروایت بشیر الحارثی ذخیرة الخفا : ظ 4203)
35355- "مسند أسامة بن عمير" كانت نائرة في بني معاوية فذهب النبي صلى الله عليه وسلم يصلح بينهم فالتفت إلى قبر فقال: لا دريت، فقيل له، فقال: إن هذا يسأل عني فقال: لا أدري. "طب - عن بشير الحارثي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز فرض ہونے کا تذکرہ
35356 ۔۔۔ حضرت قتادة سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی ام کلثوم (رض) سے عتبیہ بن عبدالعزی ابولھب نے شادی کی اس نے ان کے ساتھ رفاف نہیں کیا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت مل گئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی رقیہ (رض) عتیبہ کے بھائی عتبہ کے نکاح میں تھیں، جب اللہ تعالیٰ نے سورة لھب ( تبت یدابی لھب) نازل فرمائی تو ابولھب نے اپنے دونوں بیٹوں عتبہ اور عتبیہ سے کہا : میرا سر تم دونوں کے سر سے حرام ہے اگر تم دونوں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹیوں طلاق نہ دو۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عتبہ نے رقیہ (رض) کو طلاق کا پوچھا اور رقیہ (رض) نے ان سے اس کا سوال کیا اس سے عتبہ سے اس کی ماں جوحمالة الحطب کا مصداق ہے نے کہا : اے بیٹے اس کو طلاق دے اس لیے کہ یہ صابی ہوگئے تو اسنے ان کو طلاق دے دی اور عتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا جس وقت وہ ام کلثوم (رض) سے علیحدہ ہوگیا اور کہا : میں نے آپ کے دین کا انکار کیا اور آپ کی بیٹی سے علیحدہ ہوگیا آپ مجھے سے محبت نہ کریں اور نہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں پھر آپ پر حملہ کیا اور ان کی قمیص پھاڑ دی اور وہ شام تجارت کے لیے جارہا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خبردار میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے کتے کو تجھ پر مسلط کرے پھر وہ قریش کی ایک جماعت کے ساتھ نکل گیا یہاں تک انھوں نے شام کی ایک جگہ جسے زرقاء کہا جاتا ہے رات کے وقت پڑاؤ ڈالا تو ان پر شیر نے اس رات چکر لگا عتیبہ کہنے لگا اے میری مال کی ہلاکت وہ اللہ کی قسم مجھے کھائے گا جس طرح محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بددعا کی خبردار میرا قاتل ابوکبشہ کا بیٹا ہے اور وہ مکہ میں ہے اور میں شام میں ہوں تو لوگوں کے سامنے شیرنے اس پر حملہ کیا اور اس کے سر کو پکڑا اور سخت چبایا اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا پھر حضرت عثمان بن عفان (رض) نے رقیہ (رض) سے نکاح کیا اور ان کے ہاں وفات پائی اور ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی ۔ (تاریخ ابن عساکر)
35356- عن قتادة قال: تزوج أم كلثوم ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم عتيبة بن عبد العزى أبي لهب فلم يبن بها حتى بعث النبي صلى الله عليه وسلم وكانت رقية ابنة النبي صلى الله عليه وسلم تحت عتبة أخي عتيبة، فلما انزل الله {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} قال أبو لهب لابنيه عتيبة وعتبة: رأسي من رأسكما حرام إن لم تطلقا ابنتي محمد! وسأل النبي صلى الله عليه وسلم عتبة طلاق رقية وسألته رقية ذلك، فقالت له أمه - وهي حمالة الحطب -: طلقها يا بني! فإنها قد صبت ، فطلقها وطلق عتيبة أم كلثوم وجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم حيث فارق أم كلثوم وقال: كفرت بدينك، وفارقت ابنتك، لا تحبني ولا أحبك؛ ثم سطا عليه فشق قميص النبي صلى الله عليه وسلم وهو خارج نحو الشام تاجرا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أما أني أسأل الله أن يسلط عليك كلبه"! فخرج في نفر من قريش حتى نزلوا بمكان من الشام يقال له الزرقاء ليلا، فأطاف بهم الأسد تلك الليلة، فجعل عتيبة يقول: يا ويل أمي! هو والله آكلي كما دعا محمد علي، ألا! قاتلي ابن أبي كبشة وهو بمكة وأنا بالشام، فعدا عليه الأسد من بين القوم فأخذ برأسه فضغمه ضغمة فمزعه. فتزوج عثمان بن عفان رقية فتوفيت عنده ولم تلد له. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات اور دلائل نبوت
35357 ۔۔۔ عیسیٰ بن یزید سے روایت ہے انھوں نے کہا حضرت ابوبکر الصدیق (رض) نے فرمایا میں کعبہ کے صحن میں بیٹھا ہوا تھا اور عمروبن نفیل بیٹھے ہوئے تھے امیہ بن الصلت ان کے پاس سے گذرا اور کہا اے خیر کی متلاشی آپ نے کیسے صبح کی انھوں نے کہا خیریت سے تو اس نے کہا آپ نے پالیا ؟ اس نے کہا نہیں پھر اس نے کہا : قیامت کے دن سارے دین ہلاکت کا ذریعہ ہوں گے سوائے اس دین حنفیت کے جس کا اللہ نے فیصلہ فرمایا ہے وہ نبی جس کا ہم سے یا تم میں سے (ہونے کا) انتظار کیا جارہا ہے اور میں نے اس سے پہلے کبھی کسی نبی کے بارے میں نہیں سنا جس کا انتظار کیا جارہا ہے جس کو بھیجا جائے گا تو میں نکلا ورقہ بن نوفل کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا تھا وہ بہت آسمان کے طرف دیکھتے تھے اور ان کے سینے سے بہت غم کی آواز آتی تھی پھر میں نے ان سے کھڑے ہونے کا کہا اور ان کو سارا قصہ بیان کیا تو انھوں نے کہا جی ہاں اے میرے بھیجتے ہم اہل کتاب اور علماء ہیں مگر یہ نبی جس کا انتظار کیا جارہا ہے عرب کے درمیانے نسب والے قبیلے سے ہوگا اور مجھے نسب کا علم ہے آور آپ کی قوم درمیانی نسب والی ہے۔ میں نے کہا اے میرے چچا نبی کیا کہے گا تو انھوں نے کہا کہ وہ باتیں کہے گا جو اسے کہی جائے گی نہ تو وہ ظلم کرے گا پس جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے تو میں ان پر ایمان لایا اور ان کی تصدیق کی ۔ (تاریخ ابن عساکر یہ حدیث منقطع ہے)
35357- عن عيسى بن يزيد قال: قال أبو بكر الصديق: كنت جالسا بفناء الكعبة وكان زيد بن عمرو بن نفيل قاعدا فمر به أمية بن الصلت فقال: كيف أصبحت يا باغي الخير؟ قال: بخير، قال: وجدت؟ قال: لا، فقال: كل دين يوم القيامة إلا ما قضى الله في الحنيفية بور ، أما! إن هذا النبي الذي ينتظر منا أو منكم ولم أكن سمعت قبل ذلك بنبي ينتظر ولا يبعث، فخرجت أريد ورقة بن نوفل وكان كثير النظر إلى السماء، كثير همهمة الصدر، فاستوقفته ثم قصصت عليه الحديث، فقال: نعم يا ابن أخي! إنا أهل الكتب والعلماء إلا أن هذا النبي الذي ينتظر من أوسط العرب نسبا ولي علم بالنسب وقومك أوسط العرب نسبا، قلت: يا عم! وما يقول النبي؟ قال: يقول ما قيل له إلا أنه لا يظلم ولا يظالم؛ فلما بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم آمنت به وصدقت. "كر؛ وهو منقطع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات اور دلائل نبوت
35358 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) سے عرض کیا گیا کہ آپ ہمیں تنگی کے وقت کی حالت کے بارے میں بتائیں تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا ہم سخت گرمی کے عالم میں تبوک کی طرف نکلے ہم نے ایک جگہ میں پڑاو ڈالا تو ہمیں وہاں اتنی سخت پیاس لگی کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ ہماری گردنیں کٹ جائیں گی یہاں تک ایک شخص پانی تلاش کرنے جاتا تو وہ واپس نہ آتا یہاں تک یہ گمان کیا جاتا کہ اس کی گردن منقطع ہوگئی اور کوئی اپنا اونٹ ذبح کرتا اور پھر اس کی اوجڑی کا گویر نچوڑتا اور پھر اس پینا اور جو بچ جاتا اس کو اپنی پہلو پر رکھتا ابوبکر (رض) نے یہ عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ تعالیٰ نے آپ سے دعا میں بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے تو آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا کیجئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آپ یہ پسند کرتے ہیں تو انھوں نے کہا جی ہاں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور پھر واپس نہ کیسے یہاں تک آسمان مائل ہوا اور پھر ابرآلود ہوا اور پھر برساتو سب نے جو کچھ ان کے پاس تھا بھرلیا پھر ہم چلے گئے دیکھ رہے تھے۔ تو ہم نے اس کو نہ پایا۔ (البزار ابن جریرجعفر الفریابی دلائل النبوة ابن خزیمہ ابن حبان مستدرک حاکم ابو نعیم بیہقی اکٹھے دلائل میں سعید بن منصور )
35358- عن ابن عباس أنه قيل لعمر بن الخطاب حدثنا عن شأن ساعة العسرة، فقال عمر: خرجنا إلى تبوك في قيظ شديد

فنزلنا منزلا أصابنا فيه عطش شديد حتى ظننا أن رقابنا ستنقطع حتى إن كان الرجل ليذهب يلتمس الرجل فلا يرجع حتى يظن أن رقبته ستنقطع حتى أن الرجل لينحر بعيره فيعصر فرثه فيشربه ويجعل ما بقي على كبده، فقال أبو بكر: يا رسول الله! إن الله قد عودك في الدعاء خيرا فادع الله لنا، قال: "أتحب ذلك"؟ قال: نعم، فرفع يديه فلم يرجعهما حتى قالت السماء فأظلت ثم سكبت فملؤا ما معهم، ثم ذهبنا ننظر فلم نجدها جاوزت العسكر. "البزار وابن جرير وجعفر الفريابي في دلائل النبوة وابن خزيمة، حب، ك وأبو نعيم، ق معا في الدلائل، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات اور دلائل نبوت
35359 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک میں تھے اس میں سخت بھوک لگی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول دشمن آئے ہیں اور وہ شکم سیر بیں اور لوگ بھوکے ہیں تو ایضاء نے کہا کیا ہم اپنے اونٹ ذبح کرکے لوگوں کو نہ کھلائیں ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ تم میں سے ہر شخص جو کچھ اس کے کجاوے میں اور ایک روایت کے مطابق جو کچھ بچاہواکھانا ہے وہ اس کو لے آئے اور دسترخوان بچھایا پھر ہر شخص لائے گا مرصاع زیادہ اور کم تو جو کچھ لشکر کے پاس تھا وہ 2423 صاع کے قریب تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پہلو کی طرف بیٹھ گئے اور برکت کی دعا کی اور لوگوں کو بلایا پھر فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ لو اور چکو نہیں پھر ہر شخص اپنے مشکیزے اور ہاتھ میں لینے لگا اور لوگوں نے اپنے برتنوں میں لے لیا حتی کہ ایک شخص اپنی قمیص کی آستیں باندھ لیتا اور اس کو بھر دیں تو لوگ فارغ ہوگئے اور کھانا اسی طرح رہا جیسا کہ تھا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں کہا گواہی دینا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ان کے پاس کوئی حق والا بندہ نہ آئے گا مگر اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کی گرہن سے بچائیں گے ۔ (ابن راھویہ العدنی ابویعلی الحاکم الکنی جعفر الفریانی دلائل النبوة)
35359- عن عمر قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزاة تبوك أصابنا جوع شديد فقلنا: يا رسول الله! إن العدو قد حضروهم شباع والناس جياع، فقالت الأنصار: ألا ننحر نواضحنا فنطعمها الناس؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لا، بل يجيء كل رجل منكم بما في رحله" - وفي لفظ: من كان معه فضل طعام فليجيء به وبسط نطعما فجعل الرجل يجيء بالمد والصاع وأكثر وأقل، فكان جميع ما في الجيش بضعا وعشرين صاعا، فجلس النبي صلى الله عليه وسلم إلى جنبه ودعا بالبركة؛ ثم دعا الناس فقال: "بسم الله خذوا ولا تنتبهوا"، فجعل الرجل يأخذ في جرابه وفي غرارته، وأخذوا في أوعيتهم، حتى أن الرجل ليربط كم قميصه فيملؤه، ففرغوا والطعام كما هو، ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم: أشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، لا يأتي بهما عبد محق إلا وقاه الله حر النار. "ابن راهويه والعدني، ع والحاكم في الكنى وجعفر الفريابي في دلائل النبوة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات اور دلائل نبوت
35360 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجوں (مقام) میں تھے اور بہت غمزدہ تھے جب مشرکین نے ان کو تکلیف پہنچائی پھر فرمایا اے اللہ تجھے آج کوئی نشانی دکھا دیں پھر میں اس شخص کی کوئی پر اہ نہیں کروں گا جو میری قوم میں سے مجھے جھٹلائے سو کہا گیا آپ پکاریں تو آپ نے مدینہ کی گھاٹی کی جانب سے ایک درخت کو پکار وہ زمین پھار کر آیا یہاں تک کہ آپ تک پہنچ پھر اس نے سلام کیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو حکم دیا پھر وہ اپنی جگہ واپس لوٹ گیا فرمایا : میں اس شخص کی پروا نہیں کروں گا جو میری قوم میں سے آس کے بعد مجھے جھٹلائے ۔ (البزار ابویعلی بیہقی لادلائل اور اس کی سند حسن ہے)
35360- عن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان بالحجون وهو كئيب حزين لما آذاء المشركون، فقال: "اللهم أرني اليوم آية فلا أبالي من كذبني بعدها من قومي"، فقيل: ناد، فنادى شجرة من قبل عقبة أهل المدينة، فجاءت تشق الأرض حتى انتهت إليه فسلمت عليه، ثم أمرها فرجعت إلى موضعها، فقال: ما أبالي من كذبني بعدها من قومي. "البزار، ع، ق في الدلائل، وسنده حسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات اور دلائل نبوت
35361 ۔۔۔ ابوعذیہ الخصرمی سے روایت ہے فرمایا ایک شخص حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ن کو بتایا کہ عراق والوں نے اپنے امام کو پتھر مارے اور حضرت عمر (رض) نے ان کو اس امام کی جگہ جو اس سے پہلے تھا بدلہ میں بھیجا تھا تو حضرت عمر (رض) کی حالت میں نکلے نماز پڑھی اور اپنی نماز میں پھول گئے جب سلام پھیرا فرمایا اے شام والو عراق والوں کے لیے تیار ہوجاؤ اس لیے کہ شیطان ان میں گھس آیا ہے اے اللہ انھوں نے مجھ پر معاملہ مثتبہ کیا آپ بھی ان پر ان کا معاملہ مشتبہ کردیں اور ان پر ثقفی غلام جلدی بھیج دیں جو ان پر جاہلیت کے فیصلے کرے اور نہ ان کی اچھائیاں قبول کرے اور نہ ان کی برائیوں سے درگذر نہ کرے ابن لھیعہ نے کہا اس دن حجاپیدا نہیں ہوا تھا۔(ابن سعدالدلائل اور فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے یہ بات توفیقا فرمائی ہے)
35361- عن أبي عذبة الحضرمي قال: جاء رجل إلى عمر بن الخطاب فأخبره أن أهل العراق قد حصبوا إمامهم وكان عوضهم به مكان إمام كان قبله، فخرج غضبان فصلى فسها في صلاته، فلما سلم قال: يا أهل الشام! استعدوا لأهل العراق فإن الشيطان قد باض فيهم، اللهم! إنهم قد ألبسوا علي فألبس عليهم وعجل عليهم بالغلام الثقفي الذي يحكم بحكم الجاهلية، لا يقبل من محسنهم ولا يتجاوز عن مسيئهم، قال ابن لهيعة: وما ولد الحجاج يومئذ. "ابن سعد في الدلائل. وقال: لا يقول ذلك عمر إلا توقيفا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات اور دلائل نبوت
35362 ۔۔۔ حضرت نافع سے روایت ہے فرمایا ہمیں یہ بات پہنچی کہ عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : میری اولاد میں ایک شخ داغدار چہر والا ہوگا وہ زمین کو انصاف سے بھردے غانافع نے فرمایا : میں عمر بن عبدالعزیز کرے بارے میں یہ ہی گمان کرتا ہوں کہ وہ ہیں۔ (نعیم بن حماد الفتن ترمذی تاریخ بیہقی دلائل تاریخ ابن عساکر)
35362- عن نافع قال: بلغنا أن عمر بن الخطاب قال: يكون رجل من ولدي بوجه شين فيملأ الأرض عدلا، قال نافع: ولا أحسبه إلا عمر بن عبد العزيز. "نعيم بن حماد في الفتن، ت في التاريخ، ق في الدلائل، كر".
tahqiq

তাহকীক: